اتوار 8 اگست،2021



مضمون۔ روح

SubjectSpirit

سنہری متن: استثناء 4 باب36 آیت

”اْس نے اپنی آواز آسمان میں سے تجھ کو سنائی تاکہ تجھ کو تربیت کرے۔“



Golden Text: Deuteronomy 4 : 36

Out of heaven he made thee to hear his voice, that he might instruct thee.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور91: 1، 9تا12، 15 آیات


1۔ جو حق تعالیٰ کے پردہ میں رہتا ہے وہ قادرِ مطلق کے سایہ میں سکونت کرے گا۔

9۔ پر تْو اے خداوند! میری پناہ ہے۔ تْو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔

10۔ تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ اور کوئی وبا تیرے خیمہ کے نزدیک نہ پہنچے گی۔

11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔

12۔ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔

15۔ وہ مجھے پکارے گا اور مَیں اْسے جواب دوں گا مَیں مصیبت میں اْس کے ساتھ رہوں گا۔ مَیں اْسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔

Responsive Reading: Psalm 91 : 1, 9-12, 15

1.     He that dwelleth in the secret place of the most High shall abide under the shadow of the Almighty.

9.     Because thou hast made the Lord, which is my refuge, even the most High, thy habitation;

10.     There shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.

11.     For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.

12.     They shall bear thee up in their hands, lest thou dash thy foot against a stone.

15.     He shall call upon me, and I will answer him: I will be with him in trouble; I will deliver him, and honour him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 143: 8، 10، 11 آیات

8۔ صبح کو مجھے اپنی شفقت کی خبر دے۔ کیونکہ میرا توکل تجھ پر ہے۔ مجھے وہ راہ بتا جس پر مَیں چلوں۔ کیونکہ مَیں اپنا دل تیری ہی طرف لگاتا ہوں۔

10۔ مجھے سکھا کہ تیری مرضی پرچلوں اِس لئے کہ تْو میرا خدا ہے۔ تیری نیک روح مجھے راستی کے ملک میں لے چلے۔

11۔ اے خداوند! اپنے نام کی خاطر مجھے زندہ کر۔ اپنی صداقت میں میری جان کو مصیبت سے نکال۔

1. Psalm 143 : 8, 10, 11

8     Cause me to hear thy lovingkindness in the morning; for in thee do I trust: cause me to know the way wherein I should walk; for I lift up my soul unto thee.

10     Teach me to do thy will; for thou art my God: thy spirit is good; lead me into the land of uprightness.

11     Quicken me, O Lord, for thy name’s sake: for thy righteousness’ sake bring my soul out of trouble.

2۔ زبور 34: 7، 8، 17،18 آیات

7۔ خداوند سے ڈرنے والوں کے چاروں طرف اْس کا فرشتہ خیمہ زن ہوتا ہے۔ اور اْن کو بچاتا ہے۔

8۔ آزما کر دیکھو کہ خداوند کیسا مہربان ہے۔ مبارک ہے وہ آدمی جو اْس پر توکل کرتا ہے۔

17۔ صادق چلائے اور خداوند نے سنا اور اْن کو اْن کے سب دْکھوں سے چھڑایا۔

18۔ خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔

2. Psalm 34 : 7, 8, 17, 18

7     The angel of the Lord encampeth round about them that fear him, and delivereth them.

8     O taste and see that the Lord is good: blessed is the man that trusteth in him.

17     The righteous cry, and the Lord heareth, and delivereth them out of all their troubles.

18     The Lord is nigh unto them that are of a broken heart; and saveth such as be of a contrite spirit.

3۔ پیدائش 15 باب18 (خداوند) (تا تیسرا) آیت

18۔۔۔۔خداوند نے ابرام سے عہد کیا اور فرمایا کہ یہ ملک مَیں نے تیری اولاد کو دیا ہے۔

3. Genesis 15 : 18 (the Lord) (to 3rd ,)

18     …the Lord made a covenant with Abram, saying, Unto thy seed have I given this land,

4۔ پیدائش 16باب1، 2 (میری)، 4، 6 (اور)تا 10 (تا دوسرا)، 15 آیات

1۔ اور ابرام کی بیوی سارائی کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اْس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔

2۔ تْو میری لونڈی کے پاس جا شاید اْس سے میرا گھر آباد ہو اور ابرام نے سارائی کی بات مان لی۔

4۔ اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوگئی تو اپنی بی بی کو حقیر جاننے لگی۔

6۔تب سارائی اْس پر سختی کرنے لگی اور وہ اْس کے پاس سے بھاگ گئی۔

7۔ اور وہ خداوند کے فرشتہ کو بیابان میں پانی کے ایک چشمہ کے پاس ملی۔ یہ وہی چشمہ ہے جو شور کی راہ پر ہے۔

8۔ اور اْس نے کہا اے سارائی کی لونڈی ہاجرہ تْو کہا ں سے آئی اور کدھر جاتی ہے؟ اْس نے کہا مَیں اپنی بی بی سارائی کے پاس سے بھاگ آئی ہوں۔

9۔ خداوند کے فرشتہ نے اْس سے کہا تْو اپنی بی بی کے پاس لوٹ جا اور اپنے کو اْس کے قبضہ میں کر دے۔

10۔ اور خداوند کے فرشتہ نے اْس سے کہا کہ مَیں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا۔

15۔ اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹا ہوا اور ابرام نے اپنے اْس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا اسمعٰیل کھا۔

4. Genesis 16 : 1, 2 (I), 4, 6 (And)-10 (to 2nd ,), 15

1     Now Sarai Abram’s wife bare him no children: and she had an handmaid, an Egyptian, whose name was Hagar.

2     I pray thee, go in unto my maid; it may be that I may obtain children by her. And Abram hearkened to the voice of Sarai.

4     And he went in unto Hagar, and she conceived: and when she saw that she had conceived, her mistress was despised in her eyes.

6     And when Sarai dealt hardly with her, she fled from her face.

7     And the angel of the Lord found her by a fountain of water in the wilderness, by the fountain in the way to Shur.

8     And he said, Hagar, Sarai’s maid, whence camest thou? and whither wilt thou go? And she said, I flee from the face of my mistress Sarai.

9     And the angel of the Lord said unto her, Return to thy mistress, and submit thyself under her hands.

10     And the angel of the Lord said unto her, I will multiply thy seed exceedingly,

15     And Hagar bare Abram a son: and Abram called his son’s name, which Hagar bare, Ishmael.

5۔ پیدائش 17 باب1 (خداوند) (تا دوسرا)، 5 (تا؛)، 15، 19 (تا:)، 20 (تا تیسرا)، 20 (اور مَیں)، 21 (تا پہلا) آیات

1۔۔۔۔خداوند ابرام کو نظر آیا اور اْس سے کہا۔

5۔ تیرا نام پھر ابرام نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابراہام ہوگا۔

15۔ اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ سارائی جو تیری بیوی ہے تْو اْس کا نام سارائی نہ پکارنا۔ اْس کا نام سارہ ہوگا۔

19۔خدا نے فرمایا کہ بیشک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تْو اْس کا نام اضحاق رکھنا۔

20۔ اور اسمعٰیل کے حق میں بھی مَیں نے تیری دعا سنی۔ دیکھ مَیں اْسے برکت دوں گا۔۔۔۔اور مَیں اْسے بڑی قوم بناؤں گا۔

21۔ لیکن مَیں عہد اضحاق سے باندھوں گا۔

5. Genesis 17 : 1 (the Lord) (to 2nd ,), 5 (to ;), 15, 19 (to :), 20 (to 3rd ,), 20 (and I), 21 (to 1st ,)

1     …the Lord appeared to Abram, and said unto him,

5     Neither shall thy name any more be called Abram, but thy name shall be Abraham;

15     And God said unto Abraham, As for Sarai thy wife, thou shalt not call her name Sarai, but Sarah shall her name be.

19     And God said, Sarah thy wife shall bear thee a son indeed; and thou shalt call his name Isaac:

20     And as for Ishmael, I have heard thee: Behold, I have blessed him, … and I will make him a great nation.

21     But my covenant will I establish with Isaac,

6۔ پیدائش 21 باب3، 8 (تا:)، 9، 10، 12 (تا دوسرا؛)، 14 (تا:)، 15، 17، 18 (تا؛)، 19، 20 (تا پہلا؛) آیات

3۔ اور ابراہام نے اپنے بیٹے کا نام جو اْس سے سارہ کے پیداہوا اضحاق رکھا۔

8۔ اور وہ لڑکا بڑھا اور اْس کا دودھ چھڑایا گیا۔

9۔ اور سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا جو اْس کے ابراہام سے پیدا ہوا تھا ٹھٹھے مارتا ہے۔

10۔ تب اْس نے ابراہام سے کہا کہ اِس لونڈی کو اور اْس کے بیٹے کو نکال دے کیونکہ اِس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اضحاق کے ساتھ وارث نہ ہوگا۔

12۔ اور خدا نے ابراہام سے کہا کہ تجھے اِس لڑکے اور اپنی لونڈی کے باعث برا نہ لگے۔ جو کچھ سارہ تجھ سے کہتی ہے تْو اْس کی بات مان کیونکہ اضحاق سے تیری نسل کا نام چلے گا۔

14۔ تب ابراہام نے صبح سویرے اٹھ کر روٹی اور پانی کی ایک مشک لی اور اِسے ہاجرہ کو دیا بلکہ اْسے اْس کے کندھے پر دھر دیا اور لڑکے کو بھی اْس کے حوالے کر کے اْسے رخصت کر دیا۔

15۔ اور جب مشک کا پانی ختم ہوگیا تو اْس نے لڑکے کو ایک جھاڑی کے نیچے ڈال دیا۔

17۔ اور خدا نے اْس لڑکے کی آواز سنی اور خدا کے فرشتہ نے آسمان سے ہاجرہ کو پکارا اور اْس سے کہا اے ہاجرہ تجھ کو کیا ہوا؟ مت ڈر کیونکہ خدا نے اْس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے اْس کی آواز سن لی ہے۔

18۔ اْسے اپنے ہاتھ سے سنبھال۔

19۔ پھر خدا نے اْس کی آنکھیں کھولیں اور اْس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا اور جا کر مشک کو پانی سے بھر لیا اور لڑکے کو پلایا۔

20۔ اور خدا اْس لڑکے کے ساتھ تھا۔

6. Genesis 21 : 3, 8 (to :), 9, 10, 12 (to 2nd ;), 14 (to :), 15, 17, 18 (to ;), 19, 20 (to 1st ;)

3     And Abraham called the name of his son that was born unto him, whom Sarah bare to him, Isaac.

8     And the child grew, and was weaned:

9     And Sarah saw the son of Hagar the Egyptian, which she had born unto Abraham, mocking.

10     Wherefore she said unto Abraham, Cast out this bondwoman and her son: for the son of this bondwoman shall not be heir with my son, even with Isaac.

12     And God said unto Abraham, Let it not be grievous in thy sight because of the lad, and because of thy bondwoman; in all that Sarah hath said unto thee, hearken unto her voice;

14     And Abraham rose up early in the morning, and took bread, and a bottle of water, and gave it unto Hagar, putting it on her shoulder, and the child, and sent her away:

15     And the water was spent in the bottle, and she cast the child under one of the shrubs.

17     And God heard the voice of the lad; and the angel of God called to Hagar out of heaven, and said unto her, What aileth thee, Hagar? fear not; for God hath heard the voice of the lad where he is.

18     Arise, lift up the lad, and hold him in thine hand;

19     And God opened her eyes, and she saw a well of water; and she went, and filled the bottle with water, and gave the lad drink.

20     And God was with the lad.

7۔ 1کرنتھیوں 2باب5 (تمہارا)، 9تا16 آیات

5۔۔۔۔تمہار ا ایمان انسان کی حکمت پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر موقوف ہو۔

9۔ بلکہ جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہوا جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں نہ آدمی کے دل میں آئیں۔ وہ سب خدا نے اپنے محبت رکھنے والوں کے لئے تیار کر دیں۔

10۔ لیکن ہم پر خدا نے اْن کو روح کے وسیلہ ظاہر کیا کیونکہ روح سب باتیں بلکہ خدا کی تہہ کی باتیں بھی دریافت کرلیتا ہے۔

11۔ کیونکہ انسانوں میں سے کون کسی انسان کی باتیں جانتا ہے سوا انسان کی اپنی روح کے جو اْس میں ہے؟ اِسی طرح خدا کے روح کے سوا کوئی خدا کے روح کی باتیں نہیں جانتا۔

12۔ مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔

13۔ اور ہم اْن باتوں کو اْن الفاظ میں بیان نہیں کرتے جو انسانی حکمت نے ہم کو سکھائے ہوں بلکہ اْن الفاظ میں جو روح نے سکھائے ہیں اور روحانی باتوں کا روحانی باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔

14۔ مگر نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اْس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اْنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں۔

15۔ لیکن روحانی شخص سب باتوں کو پرکھ لیتا ہے مگر خود کسی سے پرکھا نہیں جاتا۔

16۔ خدا کی عقل کو کس نے جانا ہے کہ اْس کو تعلیم دے سکے؟ مگر ہم میں مسیح کی عقل ہے۔

7. I Corinthians 2 : 5 (your), 9-16

5     …your faith should not stand in the wisdom of men, but in the power of God.

9     But as it is written, Eye hath not seen, nor ear heard, neither have entered into the heart of man, the things which God hath prepared for them that love him.

10     But God hath revealed them unto us by his Spirit: for the Spirit searcheth all things, yea, the deep things of God.

11     For what man knoweth the things of a man, save the spirit of man which is in him? even so the things of God knoweth no man, but the Spirit of God.

12     Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.

13     Which things also we speak, not in the words which man’s wisdom teacheth, but which the Holy Ghost teacheth; comparing spiritual things with spiritual.

14     But the natural man receiveth not the things of the Spirit of God: for they are foolishness unto him: neither can he know them, because they are spiritually discerned.

15     But he that is spiritual judgeth all things, yet he himself is judged of no man.

16     For who hath known the mind of the Lord, that he may instruct him? But we have the mind of Christ.



سائنس اور صح


1۔ 89 :20۔21

روح، یعنی خدا کو تب سنا جاتا ہے جب حواس خاموش ہوں۔

>

1. 89 : 20-21

Spirit, God, is heard when the senses are silent.

2۔ 210 :5۔6

مسیحت کا اصول اور ثبوت روحانی فہم کے وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔

2. 210 : 5-6

The Principle and proof of Christianity are discerned by spiritual sense.

3۔ 505 :16۔28

روح اْس فہم سے آگاہ کرتی ہے جو شعور کو بلند کرتا اور سچائی کی جانب راہنمائی دیتا ہے۔زبور نویس نے کہا: ”بحروں کی آواز سے۔ سمندر کی زبرددست موجوں سے بھی خداوند بلند و قادر ہے۔“روحانی حس روحانی نیکی کا شعور ہے۔ فہم حقیقی اورغیر حقیقی کے مابین حد بندی کی لکیر ہے۔ روحانی فہم عقل -یعنی زندگی، سچائی اور محبت، کو کھولتا ہے اور الٰہی حس کو، کرسچن سائنس میں کائنات کا روحانی ثبوت فراہم کرتے ہوئے، ظاہر کرتا ہے۔

یہ فہم شعوری نہیں ہے،محققانہ حاصلات کا نتیجہ نہیں ہے؛ یہ نور میں لائی گئی سب چیزوں کی حقیقت ہے۔

3. 505 : 16-28

Spirit imparts the understanding which uplifts consciousness and leads into all truth. The Psalmist saith: "The Lord on high is mightier than the noise of many waters, yea, than the mighty waves of the sea." Spiritual sense is the discernment of spiritual good. Understanding is the line of demarcation between the real and unreal. Spiritual understanding unfolds Mind, — Life, Truth, and Love, — and demonstrates the divine sense, giving the spiritual proof of the universe in Christian Science.

This understanding is not intellectual, is not the result of scholarly attainments; it is the reality of all things brought to light. 

4۔ 506 :18۔21

روح یعنی خدا، غیر تشکیل شدہ خیالات کو اْن کے مناسب مقام پر یکجا کرتا ہے، اور اِن خیالات کو ایاں کرتا ہے، جیسے وہ ایک پاک مقصد کی پتیاں اْسے ظاہر کرنے کی غرض سے کھولتا ہے۔

4. 506 : 18-21

Spirit, God, gathers unformed thoughts into their proper channels, and unfolds these thoughts, even as He opens the petals of a holy purpose in order that the purpose may appear.

5۔ 512 :8۔16

روح کو قوت، حضوری اور قدرت کی اور مقدس خیالات، محبت کے پروں کی بھی علامات دی جاتی ہیں۔اْس کی حضوری کے یہ فرشتے، جن کے پاس پاک ترین فرمان ہے، عقل کے روحانی ماحول سے منسلک ہوتے اور متواتر طور پر خود کی خصوصیات کو دوبارہ پیدا کرتے ہیں۔ہم اْن کی انفرادی اشکال کو نہیں جانتے، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اْن کی فطرت خدا کی فطرت اور روحانی برکات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے؛ یوں علامتی ہوتے ہوئے، خارجی ہیں، تاہم نفسی ہیں، ایمان اور روحانی فہم کو بیان کرتے ہیں۔

5. 512 : 8-16

Spirit is symbolized by strength, presence, and power, and also by holy thoughts, winged with Love. These angels of His presence, which have the holiest charge, abound in the spiritual atmosphere of Mind, and consequently reproduce their own characteristics. Their individual forms we know not, but we do know that their natures are allied to God's nature; and spiritual blessings, thus typified, are the externalized, yet subjective, states of faith and spiritual understanding.

6۔ 308 :14۔15

روح سے معمور بزرگوں نے سچائی کی آواز سنی، اور انہوں نے خدا کے ساتھ ویسے ہی بات کی جیسے انسان انسانوں کے ساتھ بات کرتا ہے۔

6. 308 : 14-15

The Soul-inspired patriarchs heard the voice of Truth, and talked with God as consciously as man talks with man.

7۔ 84 :3۔13

پرانے نبیوں نے اپنی پیش بینی ایک روحانی، غیر جسمانی نقطہ نظر سے حاصل کی نہ کہ بدی کی پیشن گوئی کرنے اور کسی افسانے کو غلط حقیقت بنانے سے کی، نہ ہی انسانی عقیدے اور مادے کے بنیادی کام سے مستقبل کی پیشنگوئی کرنے سے کی۔ جب ہستی کی سچائی کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے سائنس میں کافی ترقی کی، تو انسان غیر ارادی طور پر غیب دان اور نبی بن گیا، جو بھوتوں، بدروحوں یا نیم دیوتاؤں کے اختیار میں نہیں بلکہ واحد روح کے قابو میں تھا۔ یہ ہر وقت موجود، الٰہی عقل اور اْس خیال کا استحقاق ہے جو اِس عقل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تاکہ ماضی، حال اور مستقبل کو جانے۔

7. 84 : 3-13

The ancient prophets gained their foresight from a spiritual, incorporeal standpoint, not by foreshadowing evil and mistaking fact for fiction, — predicting the future from a groundwork of corporeality and human belief. When sufficiently advanced in Science to be in harmony with the truth of being, men become seers and prophets involuntarily, controlled not by demons, spirits, or demigods, but by the one Spirit. It is the prerogative of the ever-present, divine Mind, and of thought which is in rapport with this Mind, to know the past, the present, and the future.

8۔ 581 :4۔7

فرشتے۔ خدا کے خیالات انسان تک پہنچانے والے؛ روحانی الہام، پاک اور کامل؛ اچھائی، پاکیزگی اور لافانیت کا اثر، ساری بدی، ہوس پرستی اور فانیت کی مذمت کرنے والے۔

8. 581 : 4-7

Angels. God's thoughts passing to man; spiritual intuitions, pure and perfect; the inspiration of goodness, purity, and immortality, counteracting all evil, sensuality, and mortality.

9۔ 298 :25۔30

فرشتے قدرتی طور پر بنائے گئے انسان نہیں ہیں، جن کے پروں میں جانوروں کی خصوصیات شامل ہوں؛ بلکہ وہ آسمانی ملاقاتی ہیں جو مادی نہیں بلکہ روحانی پروں سے اْڑتے ہیں۔ فرشتے خدا کی طرف سے خالص خیالات ہیں، جنہیں سچائی اور محبت کے پر لگے ہوتے ہیں خواہ اْن کی انفرادیت کچھ بھی ہو۔

9. 298 : 25-30

Angels are not etherealized human beings, evolving animal qualities in their wings; but they are celestial visitants, flying on spiritual, not material, pinions. Angels are pure thoughts from God, winged with Truth and Love, no matter what their individualism may be.

10۔ 299 :7۔17

میرے فرشتے بلند پایہ خیالات ہیں، جو کسی قبر کے دروازے پر ظاہر ہوتے ہیں، جن میں انسانی عقیدے نے اپنی احمقانہ زمینی امیدیں دفن کر رکھی ہیں۔ سفید انگلیوں سے وہ اوپر کی جانب ایک نئے اور جلالی بھروسے، زندگی کے بلند بانگ نمونوں اور اِس کی خوشیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ فرشتے خدا کے نمائندہ کار ہیں۔ اوپر کی جانب بڑھنے والی یہ ہستیاں کبھی خودی، گناہ یا مادیت کی جانب راہنمائی نہیں کرتیں، بلکہ ساری اچھائی کے الٰہی اصول کی جانب ہدایت دیتی ہیں، جہاں ہر حقیقی انفرادیت، شبیہ اور خدا کی صورت اکٹھے ہوتے ہیں۔ ان روحانی ہدایات کو سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے وہ ہمارے ساتھ ٹھہرتے ہیں، اور ہم ”بے خبرفرشتوں“ کی خاطر داری کرتے ہیں۔

10. 299 : 7-17

My angels are exalted thoughts, appearing at the door of some sepulchre, in which human belief has buried its fondest earthly hopes. With white fingers they point upward to a new and glorified trust, to higher ideals of life and its joys. Angels are God's representatives. These upward soaring beings never lead towards self, sin, or materiality, but guide to the divine Principle of all good, whither every real individuality, image, or likeness of God, gathers. By giving earnest heed to these spiritual guides they tarry with us, and we entertain "angels unawares."

11۔ 95 :28۔3

بد بخت فریب النظری کے باعث خاموش رہ کر،کئی گھنٹوں تک خواب دیکھتے ہوئے، دنیا بچپن کے جھولے میں سو رہی ہے۔مادی فہم وجودیت کے حقائق کو اجاگر نہیں کرتا؛ بلکہ روحانی فہم انسانی شعور کو ابدی سچائی میں بلند کرتا ہے۔انسانیت روحانی سمجھ میں گناہ کے فہم سے آہستہ آہستہ باہر نکلتی ہے؛ سب باتوں کو بہتر سمجھنے کے لئے ناپسندیدگی مسیحی مملکت کو زنجیروں میں جکڑتی ہے۔

11. 95 : 28-3

Lulled by stupefying illusions, the world is asleep in the cradle of infancy, dreaming away the hours. Material sense does not unfold the facts of existence; but spiritual sense lifts human consciousness into eternal Truth. Humanity advances slowly out of sinning sense into spiritual understanding; unwillingness to learn all things rightly, binds Christendom with chains.

12۔ 265 :3۔9

جیسے جیسے سچائی اور محبت کی دولت وسعت پاتے ہیں انسان اسی تناسب سے روحانی وجودیت کو سمجھتا ہے۔ بشر کو خدا کی جانب راغب ہونا چاہئے، تو اْن کے مقاصد اور احساسات روحانی ہوں گے، انہیں ہستی کی تشریحات کو وسعت کے قریب تر لانا چاہئے، اور لامتناہی کا مناسب ادراک پانا چاہئے، تاکہ گناہ اور فانیت کو ختم کیا جا سکے۔

12. 265 : 3-9

Man understands spiritual existence in proportion as his treasures of Truth and Love are enlarged. Mortals must gravitate Godward, their affections and aims grow spiritual, — they must near the broader interpretations of being, and gain some proper sense of the infinite, — in order that sin and mortality may be put off.

13۔ 574 :25۔30

معزز قارئین! اِس پر غور کریں کیونکہ یہ آپ کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دے گا، اور آپ ایک نرم پروں والی فاختہ کو اپنے اوپر اْترتا دیکھیں گے۔ بلکہ وہی صورتِ حال جسے آپ کی دْکھ سہنے کی حس غضبناک اور تکلیف دہ سمجھتی ہے، محبت کسی فرشتے کے ذریعے اْسے آپ کے لئے غیر متعلقہ بنا سکتی ہے۔

13. 574 : 25-30

Think of this, dear reader, for it will lift the sackcloth from your eyes, and you will behold the soft-winged dove descending upon you. The very circumstance, which your suffering sense deems wrathful and afflictive, Love can make an angel entertained unawares.

14۔ 174 :9۔14

خیالات کے نقش ِ قدم، مادی نقطہ نظر سے بلند اْٹھتے ہوئے، بہت سست ہیں، اور مسافر کی لمبی رات کی جانب اشارہ کرتے ہیں؛ مگر اْس کی حضوری کے فرشتے، وہ روحانی الہام جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ”رات کب کی گزر گئی اور دن نکلنے کو ہے“، اْداسی میں ہمارے نگہبان ہوتے ہیں۔

14. 174 : 9-14

The footsteps of thought, rising above material standpoints, are slow, and portend a long night to the traveller; but the angels of His presence — the spiritual intuitions that tell us when "the night is far spent, the day is at hand" — are our guardians in the gloom.

15۔ 224 :22۔27

انصاف کو ظاہر کرتے ہوئے اور بیماری اور موت میں جکڑے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بلند پایہ اور عملی مسیحت اِس دور کے دروازے پر کھڑی اجازت کے لئے دستک دے رہی ہے۔ کیا آپ اِس نورانی ملاقاتی کے لئے دروازہ کھولیں گے یا بند کریں گے، جو حلیمی کے ساتھ آتا ہے، جیسے وہ وقتِ عروج کے اجداد کے زمانے میں آیا تھا؟

15. 224 : 22-27

A higher and more practical Christianity, demonstrating justice and meeting the needs of mortals in sickness and in health, stands at the door of this age, knocking for admission. Will you open or close the door upon this angel visitant, who cometh in the quiet of meekness, as he came of old to the patriarch at noonday?

16۔ 559 :8۔16

سائنسی خیال کی ”دبی ہوئی ہلکی آواز“ دنیا کے دور دراز سمندر اور بر اعظم تک پہنچتی ہے۔ سچائی کی ناقابل سماعت آواز انسانی عقل کے لئے ایسے ہے ”جیسے ببر دھاڑتا ہے۔“ یہ صحرا اور خوف کی تاریک جگہوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ بدی کی ”سات آوازوں“ کو ابھارتی ہے، اور پوشیدہ سروں کے مکمل احاطہ کو پکارنے کے لئے اْن کی قابلیت کو جنجھلاتی ہے۔تب سچائی کی طاقت کا اظہار ہوتا ہے، یعنی اسے غلطی کی تباہی کے لئے ظاہر کیا جاتا ہے۔

16. 559 : 8-16

The "still, small voice" of scientific thought reaches over continent and ocean to the globe's remotest bound. The inaudible voice of Truth is, to the human mind, "as when a lion roareth." It is heard in the desert and in dark places of fear. It arouses the "seven thunders" of evil, and stirs their latent forces to utter the full diapason of secret tones. Then is the power of Truth demonstrated, — made manifest in the destruction of error.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████