اتوار 8 دسمبر، 2019 |

اتوار 8 دسمبر، 2019



مضمون۔ خدا واحد وجہ اور خالق

SubjectGod the only Cause and Creator

سنہری متن:سنہری متن: زبور 148: 11تا13 آیات

’’اے زمین کے بادشاہو اور سب اْمتو! اے اْمرااور زمین کے سب حاکمو! اے نوجوانو اور کنواریو! اے بوڑھو اور بچو! یہ سب خداوند کے نام کی حمد کریں۔ کیونکہ صرف اْسی کا نام ممتاز ہے۔ اْس کا جلال زمین و آسمان سے بلند ہے۔‘‘



Golden Text: Psalm 148 : 11-13

Kings of the earth, and all people; princes, and all judges of the earth: both young men, and maidens; old men, and children: let them praise the name of the Lord: for his name alone is excellent; his glory is above the earth and heaven.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 95: 1تا7آیات


1۔ آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں۔

2۔ شکر گزاری کرتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہوں۔ مزمور گاتے ہوئے اْس کے آگے خوشی سے للکاریں۔

3۔ کیونکہ خداوند خدائے عظیم ہے اور سب اِلہوں پر شاہ عظیم ہے۔

4۔ زمین کے گہراؤ اْس کے قبضہ میں ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اْسی کی ہیں۔

5۔ سمندر اْس کا ہے۔ اْسی نے اْس کو بنایا۔ اور اْس کے ہاتھوں نے خشکی کو بھی تیار کیا۔

6۔آؤ ہم جھکیں اور سجدہ کریں! اور اپنے خالقِ خداوند کے حضور گھْٹنے ٹیکیں۔

7۔ کیونکہ وہ ہمارا خدا ہے اور ہم اْس کی چراہگاہ کے لوگ اور اْس کے ہاتھ کی بھیڑیں۔

Responsive Reading: Psalm 95 : 1-7

1.     O come, let us sing unto the Lord: let us make a joyful noise to the rock of our salvation.

2.     Let us come before his presence with thanksgiving, and make a joyful noise unto him with psalms.

3.     For the Lord is a great God, and a great King above all gods.

4.     In his hand are the deep places of the earth: the strength of the hills is his also.

5.     The sea is his, and he made it: and his hands formed the dry land.

6.     O come, let us worship and bow down: let us kneel before the Lord our maker.

7.     For he is our God; and we are the people of his pasture, and the sheep of his hand.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 77: 13 آیت (کون)

13۔ ۔۔۔کون سا دیوتا خداکی مانند بڑا ہے؟

1. Psalm 77 : 13 (who)

13     …who is so great a God as our God?

2۔ پیدائش 1باب 1، 8 (تا پہلا)، 10 (تا:)، 11 (تا:)، 16، 21 (تا:)، 24 (تا:)، 27، 31 (تا پہلا) آیات

1۔ ابتدا میں خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

8۔ اور خدا نے فضا کو آسمان کہا۔

10۔ اور خدا نے خشکی کو زمین کہا اور جو پانی جمع ہو گیا تھا اْس کو سمندر۔

11۔ اور خدا نے کہا زمین گھاس اور بیج دار بوٹیوں کو اور پھلدار درختوں کو جو اپنی اپنی جنس کے موافق پھلیں اور زمین پر اپنے آپ ہی میں بیج رکھیں اْگائے اور ایسا ہی ہوا۔

16۔ خدا نے دو بڑے نیر بنائے۔ ایک نیر اکبر کہ دن کو حکم کرے اور دوسرا نیر اصغر کہ رات پر حکم کرے اور اْس نے ستاروں کو بھی بنایا۔

21۔ اور خدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قسم کے جاندار کو جوپانی سے بکثرت پیدا ہوئے تھے اْن کی جنس کے موافق اور ہر قسم کے پرندوں کو اْن کی جنس کے موافق پیدا کیا۔

24۔ اور خدا نے کہا کہ زمین جانداروں کو اْن کی جنس کے موافق چوپائے اور رینگنے والے جاندار اور جنگلی جانور اْن کی جنس کے موافق پیدا کرے۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر اور ناری اْن کو پیدا کیا۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

2. Genesis 1 : 1, 8 (to 1st .), 10 (to :), 11 (to :), 16, 21 (to :), 24 (to :), 27, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

8     And God called the firmament Heaven.

10     And God called the dry land Earth; and the gathering together of the waters called he Seas:

11     And God said, Let the earth bring forth grass, the herb yielding seed, and the fruit tree yielding fruit after his kind, whose seed is in itself, upon the earth:

16     And God made two great lights; the greater light to rule the day, and the lesser light to rule the night: he made the stars also.

21     And God created great whales, and every living creature that moveth, which the waters brought forth abundantly, after their kind, and every winged fowl after his kind:

24     And God said, Let the earth bring forth the living creature after his kind, cattle, and creeping thing, and beast of the earth after his kind:

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

3۔ یسعیاہ 40 باب 25، 26،28 آیات

25۔ وہ قدوس فرماتا ہے کہ تم مجھے کس سے تشبیہ دو گے؟ اور میں کس چیز سے مشابہ ہوں گا؟

26۔ اپنی آنکھیں اوپر اٹھاؤ اور دیکھو کہ اِن سب کا خالق کون ہے۔ وہی جو اْن کے لشکر کو شمار کر کے نکالتا ہے اور اْن سب کو نام بنام بلاتا ہے۔ اْس کی قدرت کی عظمت اْس کے بازو کی توانائی کے سبب سے ایک بھی غیر حاضر نہیں رہتا۔

28۔ کیا تْو نہیں جانتا؟ کیا تْو نے نہیں سْنا کہ خداوند خدائے ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندا نہیں ہوتا؟ اْس کی حکمت ادراک سے باہر ہے۔

3. Isaiah 40 : 25, 26, 28

25     To whom then will ye liken me, or shall I be equal? saith the Holy One.

26     Lift up your eyes on high, and behold who hath created these things, that bringeth out their host by number: he calleth them all by names by the greatness of his might, for that he is strong in power; not one faileth.

28     Hast thou not known? hast thou not heard, that the everlasting God, the Lord, the Creator of the ends of the earth, fainteth not, neither is weary? there is no searching of his understanding.

4۔ لوقا 1باب 26تا28، 30تا32 (تا پہلا:)، 33 (اور اْس کا) تا 35، 46، 47 آیات

26۔ چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرت تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا۔

27۔ جس کی منگنی داؤد کے گھرانے کے ایک مرد یوسف نام سے ہوئی تھی اور اْس کنواری کا نام مریم تھا۔

28۔ اور فرشتے نے اْس کے پاس اندر آکر کہا سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے! خداوند تیرے ساتھ ہے۔

30۔ فرشتے نے اْس سے کہا اے مریم! خوف نہ کر کیونکہ خداوند کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے۔

31۔ اور دیکھ تْو حاملہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اْس کا نام یسوع رکھنا۔

32۔ وہ بزرگ ہوگا اور خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔

33۔ ۔۔۔ اور اْس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا۔

34۔ مریم نے فرشتے سے کہا یہ کیونکر ہوگا جبکہ مَیں مرد کو نہیں جانتی؟

35۔ اور فرشتے نے جواب میں اْس سے کہا کہ روح القدس تجھ پر نازل ہوگا اور خدا تعالیٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مولودِ مقدس خدا کا بیٹا کہلائے گا۔

46۔ پھر مریم نے کہا میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے۔

47۔ اور میری روح میرے منجی خدا سے خوش ہوئی۔

4. Luke 1 : 26-28, 30-32 (to 1st :), 33 (and of)-35, 46, 47

26     And in the sixth month the angel Gabriel was sent from God unto a city of Galilee, named Nazareth,

27     To a virgin espoused to a man whose name was Joseph, of the house of David; and the virgin’s name was Mary.

28     And the angel came in unto her, and said, Hail, thou that art highly favoured, the Lord is with thee: blessed art thou among women.

30     And the angel said unto her, Fear not, Mary: for thou hast found favour with God.

31     And, behold, thou shalt conceive in thy womb, and bring forth a son, and shalt call his name JESUS.

32     He shall be great, and shall be called the Son of the Highest:

33     …and of his kingdom there shall be no end.

34     Then said Mary unto the angel, How shall this be, seeing I know not a man?

35     And the angel answered and said unto her, The Holy Ghost shall come upon thee, and the power of the Highest shall overshadow thee: therefore also that holy thing which shall be born of thee shall be called the Son of God.

46     And Mary said, My soul doth magnify the Lord,

47     And my spirit hath rejoiced in God my Saviour.

5۔ متی 4باب23 (تا پہلا،)

33۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا۔

5. Matthew 4 : 23 (to 1st ,)

23     And Jesus went about all Galilee,

6۔ لوقا 18باب35تا43 آیات

35۔ جب وہ چلتے چلتے یریحو کے نزدیک پہنچا تو ایسا ہوا کہ ایک اندھا راہ کے کنارے بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا۔

36۔ وہ بھیڑ کے جانے کی آواز سْن کر پوچھنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟

37۔ انہوں نے اْسے خبر دی کہ یسوع ناصری جا رہا ہے۔

38۔ اْس نے چِلا کر کہا اے یسوع ابن داؤد مجھ پر رحم کر۔

39۔ جو آگے جاتے تھے وہ اْسے ڈانٹنے لگے کہ چپ رہے مگر وہ اور بھی چلایا کہ اے ابنِ داؤد مجھ پر رحم کر۔

40۔ یسوع نے کھڑے ہو کر حکم دیا کہ اْس کو میرے پاس لاؤ۔ جب وہ نزدیک آیا تو اْس نے اْس سے پوچھا۔

41۔ تْو کیا چاہتا ہے کہ مَیں تیرے لئے کروں؟ اْس نے کہا اے خداوند یہ کہ مَیں بِینا ہو جاؤں۔

42۔ یسوع نے اْس سے کہا بِینا ہو جا۔ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا۔

43۔ وہ اْسی دم بِینا ہو گیا اور خدا کی تمجید کرتے ہوئے اْس کے پیچھے ہو لیا اور سب لوگوں نے دیکھ کر خدا کی حمد کی۔

6. Luke 18 : 35-43

35     And it came to pass, that as he was come nigh unto Jericho, a certain blind man sat by the way side begging:

36     And hearing the multitude pass by, he asked what it meant.

37     And they told him, that Jesus of Nazareth passeth by.

38     And he cried, saying, Jesus, thou Son of David, have mercy on me.

39     And they which went before rebuked him, that he should hold his peace: but he cried so much the more, Thou Son of David, have mercy on me.

40     And Jesus stood, and commanded him to be brought unto him: and when he was come near, he asked him,

41     Saying, What wilt thou that I shall do unto thee? And he said, Lord, that I may receive my sight.

42     And Jesus said unto him, Receive thy sight: thy faith hath saved thee.

43     And immediately he received his sight, and followed him, glorifying God: and all the people, when they saw it, gave praise unto God.

7۔ اعمال 17باب22تا28آیات

22۔ پولس نے اریوپْگس میں کھڑے ہو کر کہا کہ اے اتھینے والو! میں دیکھتا ہوں کہ تم ہر بات میں دیوتاؤں کے بڑے ماننے والے ہو۔

23۔ چنانچہ میں نے سیر کرتے اور تمہارے بتوں پر غور کرتے وقت ایک ایسی قربان گاہ بھی پائی جس پر لکھا تھا کہ نہ معلوم خدا کے لئے۔ پس جس کو تم بغیر معلوم کئے پوجتے ہو میں تم کو اْسی کی خبر دیتا ہو۔

24۔ جس خدا نے دنیا اور اْس کی سب چیزوں کو پیدا کیا وہ ا ٓسمان اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔

25۔ نہ کسی کا محتاج ہوکر آدمیوں کے ہاتھوں سے خدمت لیتا ہے کیونکہ وہ تو خود سب کو زندگی اور سانس اور سب کچھ دیتا ہے۔

27۔ تاکہ خدا کو ڈھونڈیں۔ شاید کہ ٹٹول کر اْسے پائیں ہر چند وہ ہم میں سے کسی سے دور نہیں۔

28۔کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔ جیسا تمہارے شاعروں میں سے بعض نے کہا کہ ہم تو اْس کی نسل بھی ہیں۔

7. Acts 17 : 22-28

22     Then Paul stood in the midst of Mars’ hill, and said, Ye men of Athens, I perceive that in all things ye are too superstitious.

23     For as I passed by, and beheld your devotions, I found an altar with this inscription, TO THE UNKNOWN GOD. Whom therefore ye ignorantly worship, him declare I unto you.

24     God that made the world and all things therein, seeing that he is Lord of heaven and earth, dwelleth not in temples made with hands;

25     Neither is worshipped with men’s hands, as though he needed any thing, seeing he giveth to all life, and breath, and all things;

26     And hath made of one blood all nations of men for to dwell on all the face of the earth, and hath determined the times before appointed, and the bounds of their habitation;

27     That they should seek the Lord, if haply they might feel after him, and find him, though he be not far from every one of us:

28     For in him we live, and move, and have our being; as certain also of your own poets have said, For we are also his offspring.

8۔ مکاشفہ 4باب11 آیت

11۔ اے ہمارے خداوند اور خدا تْو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تْو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔

8. Revelation 4 : 11

11     Thou art worthy, O Lord, to receive glory and honour and power: for thou hast created all things, and for thy pleasure they are and were created.

9۔ زبور 150: 1 (تا:)، 6آیات

1۔ خداوند کی حمد کرو۔ تم خداوند کے مقدس میں اْس کی حمد کرو۔

6۔ ہر ایک مْتنفس خداوند کی حمد کرے۔ خداوند کی حمد کرو۔

9. Psalm 150 : 1 (to :), 6

1     Praise ye the Lord. Praise God in his sanctuary:

6     Let every thing that hath breath praise the Lord. Praise ye the Lord.

10۔ زبور 34: 3 آیت

3۔ میرے ساتھ خداوند کی بڑائی کرو۔ ہم مل کر اْس کے نام کی تمجید کریں۔

10. Psalm 34 : 3

3     O magnify the Lord with me, and let us exalt his name together.



سائنس اور صح


1۔ 497 :5 (ہم)۔6

ہم ایک اعلیٰ اور لامتناہی خدا کو مانتے اور اْس کی ستائش کرتے ہیں۔

1. 497 : 5 (We)-6

We acknowledge and adore one supreme and infinite God.

2۔ 295 :5 صرف

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے،

2. 295 : 5 only

God creates and governs the universe, including man.

3۔ 331 :18 (خدا)۔25

خدا انفرادی، غیر مادی ہے۔ وہ الٰہی اصول، محبت، عالمگیر وجہ، واحد خالق ہے، اور کوئی دوسرا خود کار موجود نہیں ہے۔ وہ شاملِ کْل ہے، اور سب جو کچھ ابدی اور حقیقی ہے اْس کے وسیلہ وہ منعکس ہوتا ہے کسی اور چیز سے نہیں۔ وہ سارا خلا پْر کرتا ہے، اور ماسوائے بطور لامتناہی روح یا عقل کے ایسی ہمہ جائی اور انفردیت کو سمجھنا ناممکن ہوتا ہے۔ پس سب کچھ روح اور روحانیت ہے۔

3. 331 : 18 (God)-25

God is individual, incorporeal. He is divine Principle, Love, the universal cause, the only creator, and there is no other self-existence. He is all-inclusive, and is reflected by all that is real and eternal and by nothing else. He fills all space, and it is impossible to conceive of such omnipresence and individuality except as infinite Spirit or Mind. Hence all is Spirit and spiritual.

4۔ 263 :20۔28

یہاں صرف ایک خالق کے علاوہ کوئی نہیں، جس نے سب کچھ خلق کیا۔ جو کچھ بھی نئی تخلیق دکھائی دیتی ہے، سچائی کے سرد مہر خیال کی دریافت کے سوا کچھ نہیں، وگرنہ یہ فانی سوچ کی تقسیم در تقسیم یا خود کار بڑھوتری ہے، جیسے کہ محدودفہم حیرانگی کے ساتھ اپنا خانقائی جوڑا بناتا ہے اور لامحدود کے نقش پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک انسان کااور اشخاص اور اشیاء سے متعلق فہم کا بڑھنا تخلیق نہیں ہے۔

4. 263 : 20-28

There can be but one creator, who has created all. Whatever seems to be a new creation, is but the discovery of some distant idea of Truth; else it is a new multiplication or self-division of mortal thought, as when some finite sense peers from its cloister with amazement and attempts to pattern the infinite.

The multiplication of a human and mortal sense of persons and things is not creation.

5۔ 262 :27۔32

فانی مخالفت کی بنیاد انسانی ابتداء کا جھوٹا فہم ہے۔ درست طور پر شروع کرنا درست طور پر آخر ہونا ہے۔ ہر وہ نظریہ جو دماغ سے شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے وہ غلط شروع ہوتا ہے۔ الٰہی عقل ہی وجودیت کی واحدوجہ یا اصول ہے۔ وجہ مادے میں، فانی عقل میں یا جسمانی شکل میں موجود نہیں ہے۔

5. 262 : 27-32

The foundation of mortal discord is a false sense of man's origin. To begin rightly is to end rightly. Every concept which seems to begin with the brain begins falsely. Divine Mind is the only cause or Principle of existence. Cause does not exist in matter, in mortal mind, or in physical forms.

6۔ 286 :31۔8

گناہ، بیماری اور موت انسانی مادی عقیدے پر مبنی ہیں اور الٰہی عقل سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ یہ حقیقی ابتداء یا وجودیت سے مبرا ہیں۔ اْن کا نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی استقلال، بلکہ جو کچھ بھی مادی اور عارضی ہے اْس سب کے ساتھ یہ غلطی کے عدم سے تعلق رکھتے ہیں، جو سچائی کی مخلوقات کی نقل کرتے ہیں۔ روح کی تمام تر مخلوقات ابدی ہیں، مگر مادے کی مخلوقات کو خاک میں لوٹ جانا ہوگا۔ غلطی انسان سے ذہنی اور مادی دونوں ہونے کی توقع رکھتی ہے۔ الٰہی سائنس اس مفروضے کی مخالفت کرتی ہے اور انسان کی روحانی شناخت کو برقرار رکھتی ہے۔

6. 286 : 31-8

Sin, sickness, and death are comprised in human material belief, and belong not to the divine Mind. They are without a real origin or existence. They have neither Principle nor permanence, but belong, with all that is material and temporal, to the nothingness of error, which simulates the creations of Truth. All creations of Spirit are eternal; but creations of matter must return to dust. Error supposes man to be both mental and material. Divine Science contradicts this postulate and maintains man's spiritual identity.

7۔ 302 :31 (میں)۔10

۔۔۔کرسچن سائنس میں، روح کے انفرادی خیالات کے وسیلہ افزائش انہی خیالات کے الٰہی اصول کی تخلیقی قوت کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں۔ ذہنی اظہارات کے وسیلہ عقل کی کثیر اشکال کی عکاسی یعنی حقیقی سلطنت کے لوگوں پر عقل کا اختیار ہوتا ہے، اصول اِس عکاسی پر حکومت کرتا ہے۔ خدا کے لوگوں کا بڑھنا مادے کے پھیلاؤ والی کسی قوت سے نہیں ہوتا، یہ روح کی عکاسی ہے۔

کم انفرادیتوں کے چھوٹے سے ذرے ایک الٰہی انفرادیت کی عکاسی کرتے ہیں اور روح میں اور روح کے وسیلہ تشکیل پانے والے سمجھے جاتے ہیں، نہ کہ مادی احساس کے وسیلہ سے۔

7. 302 : 31 (in)-10

…in Christian Science, reproduction by Spirit's individual ideas is but the reflection of the creative power of the divine Principle of those ideas. The reflection, through mental manifestation, of the multitudinous forms of Mind which people the realm of the real is controlled by Mind, the Principle governing the reflection. Multiplication of God's children comes from no power of propagation in matter, it is the reflection of Spirit.

The minutiæ of lesser individualities reflect the one divine individuality and are comprehended in and formed by Spirit, not by material sensation.

8۔ 332 :23 (یسوع) (تا،)، 26۔29

یسوع ایک کنواری کا بیٹا تھا۔ ۔۔۔مریم کے اندر اْس کی پیدائش روحانی تھی، کیونکہ صرف پاکیزگی ہی سچائی اور محبت کی عکاسی کر سکتی تھی، جو واضح طور پر نیک اور پاک مسیح یسوع میں مجسم ہوئے تھے۔

8. 332 : 23 (Jesus) (to .), 26-29

Jesus was the son of a virgin. … Mary's conception of him was spiritual, for only purity could reflect Truth and Love, which were plainly incarnate in the good and pure Christ Jesus.

9۔ 539 :27۔4

یسوع کی الٰہی پیدائش نے اْسے تخلیق کے حقائق کو وسیع کرنے اور اْس واحد عقل کوجو انسان اور کائنات کو خلق کرتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے، ظاہر کرنے کے لئے انسانی طاقت کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا۔تخلیق کی سائنس نے، جو یسوع کی پیدائش میں بہت واضح تھی، اْس کے عاقل ترین اور کم سمجھے جانے والے اقوال کو الہامی بنایا۔ مسیح روح کی نسل ہے، اور روحانی وجودیت یہ دکھاتی ہے کہ روح بدکار پیدا کرتی ہے نہ فانی انسان، جو گناہ، بیماری اور موت میں بہہ رہا ہو۔

9. 539 : 27-4

The divine origin of Jesus gave him more than human power to expound the facts of creation, and demonstrate the one Mind which makes and governs man and the universe. The Science of creation, so conspicuous in the birth of Jesus, inspired his wisest and least-understood sayings, and was the basis of his marvellous demonstrations. Christ is the offspring of Spirit, and spiritual existence shows that Spirit creates neither a wicked nor a mortal man, lapsing into sin, sickness, and death.

10۔ 507 :15۔29

روح کی کائنات الٰہی اصول یا زندگی کی تخلیقی قوت کی عکاسی کرتی ہے، جو عقل کی کثیر صورتوں کو دوبارہ پیدا کرتی ہے اور مرکب خیال یعنی انسان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر حکمرانی کرتی ہے۔ درخت اور بوٹی خود کی کسی پیداواری طاقت کے سبب پھل پیدا نہیں کرتے، بلکہ اْس عقل کے باعث منعکس ہوتے ہیں جس میں سب کچھ شامل ہے۔ ایک مادی دنیا فانی عقل اور انسان کو خالق کا مفہوم دیتی ہے۔ سائنسی الٰہی تخلیق لافانی عقل اور خدا کی تخلیق کردہ کائنات کا اعلان کرتی ہے۔

لا متناہی عقل ابدیت کے ذہنی مالیکیول کی طرف سے سب کو خلق کرتی اور اْن پر حکومت کرتی ہے۔ سب کا یہ الٰہی اصول اْس کی تخلیق کی پوری سائنس اور آرٹ اور انسان اور کائنات کی لافانیت کو ظاہر کرتا ہے۔تخلیق ہمیشہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور اسے اپنے لازوال ذرائع کی فطرت کے باعث ظاہر ہونا جاری رکھنا چاہئے۔

10. 507 : 15-29

The universe of Spirit reflects the creative power of the divine Principle, or Life, which reproduces the multitudinous forms of Mind and governs the multiplication of the compound idea man. The tree and herb do not yield fruit because of any propagating power of their own, but because they reflect the Mind which includes all. A material world implies a mortal mind and man a creator. The scientific divine creation declares immortal Mind and the universe created by God.

Infinite Mind creates and governs all, from the mental molecule to infinity. This divine Principle of all expresses Science and art throughout His creation, and the immortality of man and the universe. Creation is ever appearing, and must ever continue to appear from the nature of its inexhaustible source.

11۔ 69 :13۔16

روحانی طور پر یہ سمجھنا کہ ماسوائے ایک خالق، خداکے اور کوئی نہیں، جو ساری مخلوق کو آشکار کرتا ہے،صحائف کی تصدیق کرتا ہے، نہ کوئی علیحدگی،نہ کوئی درد اور لازوال اور کامل اور ابدی انسان کی شیریں یقین دہانی لاتا ہے۔

11. 69 : 13-16

Spiritually to understand that there is but one creator, God, unfolds all creation, confirms the Scriptures, brings the sweet assurance of no parting, no pain, and of man deathless and perfect and eternal.

12۔ 268 :6۔9

مادی بنیادوں کا عقیدہ، جس سے ساری عقلیت جنم لیتی ہے، بطور ہر اثر کی وجہ کے مادے سے عقل تک غور کرتے ہوئے، آہستہ آہستہ مابعد الاطبعیات کی بنیادوں کے تصور کو تسلیم کرتا ہے۔

12. 268 : 6-9

Belief in a material basis, from which may be deduced all rationality, is slowly yielding to the idea of a metaphysical basis, looking away from matter to Mind as the cause of every effect.

13۔ 262 :5۔7

کرسچن سائنس خدا کی کاملیت سے کچھ نہیں لیتی، مگر پورا جلال یہ اْسی کو منسوب کرتی ہے۔

13. 262 : 5-7

Christian Science takes naught from the perfection of God, but it ascribes to Him the entire glory.

14۔ 207 :20۔26

یہاں صرف ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس لئے کسی اور وجہ کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا، اور یہاں صفر میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی جو اس اعلیٰ اور واحد وجہ سے ماخوذ نہیں ہو سکتی۔گناہ، بیماری اور موت ہستی کی سائنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ غلطیاں ہیں، جو سچائی، زندگی یا محبت کا قیاس کرتی ہیں۔

14. 207 : 20-26

There is but one primal cause. Therefore there can be no effect from any other cause, and there can be no reality in aught which does not proceed from this great and only cause. Sin, sickness, disease, and death belong not to the Science of being. They are the errors, which presuppose the absence of Truth, Life, or Love.

15۔ 415 :1۔5

غیر فانی عقل ہی واحد وجہ ہے؛ اس لئے بیماری وجہ ہے نہ اثر ہے۔ عقل ہر صورت ابدی خدایعنی اچھائی ہے۔ گناہ، بیماری اور موت سچائی میں کوئی بنیاد نہیں رکھتی۔

15. 415 : 1-5

Immortal Mind is the only cause; therefore disease is neither a cause nor an effect. Mind in every case is the eternal God, good. Sin, disease, and death have no foundations in Truth.

16۔ 521 :5۔11

جو کچھ بھی پیدا ہوا وہ خدا نے کیا اور سب بہت اچھا ہے۔ ہم روحانی تخلیق کی مختصر، جلالی تاریخ کو (جیسا کہ پیدائش کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے) مادے کی بجائے روح کی حفاظت میں دیتے ہوئے، خدا، قادر مطلق، ہر جا موجود کی بالادستی کو خوشی کے ساتھ اب اور ہمیشہ کے لئے تسلیم کرتے ہوئے،خدا کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔

16. 521 : 5-11

All that is made is the work of God, and all is good. We leave this brief, glorious history of spiritual creation (as stated in the first chapter of Genesis) in the hands of God, not of man, in the keeping of Spirit, not matter, — joyfully acknowledging now and forever God's supremacy, omnipotence, and omnipresence.

17۔ 143 :26۔31

عقل ہی سب سے بڑا خالق ہے، اور ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو عقل سے اخذ نہ کی گئی ہو۔ اگر عقل تاریخی طور پر پہلے تھی، طاقت کے اعتبار سے بھی پہلے ہے، ابدیت کے لحاظ سے بھی پہلے ہے، تو اْس کے پاک نام کے موافق عقل کو جلال، عزت، اقتدار اور طاقت دیں۔

17. 143 : 26-31

Mind is the grand creator, and there can be no power except that which is derived from Mind. If Mind was first chronologically, is first potentially, and must be first eternally, then give to Mind the glory, honor, dominion, and power everlastingly due its holy name.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████