اتوار 8 ستمبر، 2019 |

اتوار 8 ستمبر، 2019



مضمون۔ انسان

SubjectMan

سنہری متن:سنہری متن: 1 کرنتھیوں 15باب10 آیت

’’لیکن جو کچھ ہوں خدا کے فضل سے ہوں اور اْس کا فضل جو مجھ پر ہوا وہ بے فائدہ نہیں ہوا بلکہ مَیں نے اْن سب سے زیادہ محنت کی اور یہ میری طرف سے نہیں ہوئی بلکہ خدا کے فضل سے جو مجھ پر تھا۔‘‘



Golden Text: I Corinthians 15 : 10

But by the grace of God I am what I am: and his grace which was bestowed upon me was not in vain; but I laboured more abundantly than they all: yet not I, but the grace of God which was with me.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 8: 1تا6 آیات


1۔ اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تْو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا۔

2۔ تْو نے اپنے مخالفوں کے سبب سے بچوں اور شیر خواروں کے منہ سے قدرت کو قائم کیا تاکہ تْو دشمن اور انتقام لینے والے کو خاموش کر دے۔

3۔ جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جنہیں تْو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔

4۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تْو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تْو اْس کی خبر لے؟

5۔ کیونکہ تْو نے اْسے خدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اْسے تاجدار کرتا ہے۔

6۔ تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔

Responsive Reading: Psalm 8 : 1-6

1.     O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth! who hast set thy glory above the heavens.

2.     Out of the mouth of babes and sucklings hast thou ordained strength because of thine enemies, that thou mightest still the enemy and the avenger.

3.     When I consider thy heavens, the work of thy fingers, the moon and the stars, which thou hast ordained;

4.     What is man, that thou art mindful of him? and the son of man, that thou visitest him?

5.     For thou hast made him a little lower than the angels, and hast crowned him with glory and honour.

6.     Thou madest him to have dominion over the works of thy hands; thou hast put all things under his feet.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 1باب18 آیت

18۔ خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حْجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چند اور ارغوانی ہوں

1. Isaiah 1 : 18

18     Come now, and let us reason together, saith the Lord: though your sins be as scarlet, they shall be as white as snow; though they be red like crimson, they shall be as wool.

2۔ یسعیاہ 55باب1تا3، 6، 7 آیات

1۔ اے سب پیاسو پانی کے پاس آؤ اور وہ بھی جس کے پاس پیسہ نہ ہو۔ آؤ مول لو اور کھاؤ۔ ہا ں آؤ اور دودھ بے زر اور بے قیمت خریدو۔

2۔ تم کس لئے اپنا روپیہ اْس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اْس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرتے ہو؟ تم غور سے میری سنو اور ہر وہ چیز جو اچھی ہے کھاؤ اور تمہاری جان فربہی سے لذت اٹھائے۔

3۔ کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ اور سنو اور تمہاری جان زندہ رہے گی اور مَیں تم کو ابدی عہد یعنی داؤد کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔

6۔ جب تک خداوند مل سکتا ہے اْس کے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اْسے پکارو۔

7۔ شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکار اپنے خیالوں کو اور وہ خداوند کی طرف پھرے اور وہ اْس پر رحم کرے گا اور ہمارے خداوند کی طرف کیونکہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔

2. Isaiah 55 : 1-3, 6, 7

1     Ho, every one that thirsteth, come ye to the waters, and he that hath no money; come ye, buy, and eat; yea, come, buy wine and milk without money and without price.

2     Wherefore do ye spend money for that which is not bread? and your labour for that which satisfieth not? hearken diligently unto me, and eat ye that which is good, and let your soul delight itself in fatness.

3     Incline your ear, and come unto me: hear, and your soul shall live; and I will make an everlasting covenant with you, even the sure mercies of David.

6     Seek ye the Lord while he may be found, call ye upon him while he is near:

7     Let the wicked forsake his way, and the unrighteous man his thoughts: and let him return unto the Lord, and he will have mercy upon him; and to our God, for he will abundantly pardon.

3۔ یوحنا 3باب16تا18 (تا:)

16۔ کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلا ک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

17۔ کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اْس کے وسیلہ سے نجات پائے۔

18۔ جو اْس پر ایمان لاتا ہے اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔

3. John 3 : 16-18 (to :)

16     For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.

17     For God sent not his Son into the world to condemn the world; but that the world through him might be saved.

18     He that believeth on him is not condemned:

4۔ لوقا7باب36تا50 آیات

36۔ پھر کسی فریسی نے اْس سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پس وہ اْس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بیٹھا۔

37۔ تو دیکھو ایک بد چلن عورت جو اْس شہر کی تھی یہ جان کر کہ وہ اْس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے سنگِ مرمر کے عطر دان میں عطر لائی۔

38۔ اور اْس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر آنسوؤں سے اْس کے پاؤں بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے انہیں پونچھا اور اْس کے پاؤں بہت چومے اور اْن پر عطر ڈالا۔

39۔ اْس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اْسے چھوتی ہے وہ کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔

40۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا اے شمعون مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔ اْس نے کہا اے استاد کہہ۔

41۔ کسی ساہوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانچ سو دینارکا دوسرا پچاس کا۔

42۔ جب اْن کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اْس نے دونوں کو بخش دیا۔ پس اْن میں سے کون اْس سے زیادہ محبت رکھے گا؟

43۔ شمعون نے جواب دیا میری دانست میں وہ جسے اْس نے زیادہ بخشا۔ اْس نے اْس سے کہا تْو نے ٹھیک فیصلہ کیا۔

44۔ اور اْس عورت کی طرف پھر کر اْس نے شمعون سے کہا کیا تْو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر میں آیا تْو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دیئے اور اپنے بالوں سے پونچھا۔

45۔ تْو نے مجھے بوسہ نہ دیا مگر اِس نے جب سے آیا ہوں میرے پاؤں چومنا نہ چھوڑے۔

46۔ تْو نے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا۔

47۔ اسی لئے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اِس نے بہت محبت کی مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔

48۔ اور اْس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔

49۔ اِس پر وہ جو اْس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟

50۔ مگر اْس نے عورت سے کہا تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔ سلامت چلی جا۔

4. Luke 7 : 36-50

36     And one of the Pharisees desired him that he would eat with him. And he went into the Pharisee’s house, and sat down to meat.

37     And, behold, a woman in the city, which was a sinner, when she knew that Jesus sat at meat in the Pharisee’s house, brought an alabaster box of ointment,

38     And stood at his feet behind him weeping, and began to wash his feet with tears, and did wipe them with the hairs of her head, and kissed his feet, and anointed them with the ointment.

39     Now when the Pharisee which had bidden him saw it, he spake within himself, saying, This man, if he were a prophet, would have known who and what manner of woman this is that toucheth him: for she is a sinner.

40     And Jesus answering said unto him, Simon, I have somewhat to say unto thee. And he saith, Master, say on.

41     There was a certain creditor which had two debtors: the one owed five hundred pence, and the other fifty.

42     And when they had nothing to pay, he frankly forgave them both. Tell me therefore, which of them will love him most?

43     Simon answered and said, I suppose that he, to whom he forgave most. And he said unto him, Thou hast rightly judged.

44     And he turned to the woman, and said unto Simon, Seest thou this woman? I entered into thine house, thou gavest me no water for my feet: but she hath washed my feet with tears, and wiped them with the hairs of her head.

45     Thou gavest me no kiss: but this woman since the time I came in hath not ceased to kiss my feet.

46     My head with oil thou didst not anoint: but this woman hath anointed my feet with ointment.

47     Wherefore I say unto thee, Her sins, which are many, are forgiven; for she loved much: but to whom little is forgiven, the same loveth little.

48     And he said unto her, Thy sins are forgiven.

49     And they that sat at meat with him began to say within themselves, Who is this that forgiveth sins also?

50     And he said to the woman, Thy faith hath saved thee; go in peace.

5۔ یوحنا 1باب12(جتنوں نے) تا14، 16 آیات

12۔۔۔۔جتنوں نے اْسے قبول کیا اْس نے انہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی انہیں جو اْس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔

13۔ وہ نہ خون سے، نہ جسم کی خواہش سے نہ انسان کے ارادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے۔

14۔ اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اْس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا۔

16۔ کیونکہ اْس کی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔

5. John 1 : 12 (as many)-14, 16

12     …as many as received him, to them gave he power to become the sons of God, even to them that believe on his name:

13     Which were born, not of blood, nor of the will of the flesh, nor of the will of man, but of God.

14     And the Word was made flesh, and dwelt among us, (and we beheld his glory, the glory as of the only begotten of the Father,) full of grace and truth.

16     And of his fulness have all we received, and grace for grace.

6۔ افسیوں 2باب4(خدا)، 5آیات

4۔ مگر خدا نے اپنے رحم کی دولت سے اْس بڑی محبت کے سبب سے جو اْس نے ہم سے کی۔

5۔ جب قصوروں کے سبب مردہ ہی تھے تو ہم کومسیح کے ساتھ زندہ کیا (تم کو فضل ہی سے نجات ملی ہے)۔

6. Ephesians 2 : 4 (God), 5

4     God, who is rich in mercy, for his great love wherewith he loved us,

5     Even when we were dead in sins, hath quickened us together with Christ, (by grace ye are saved;)

7۔ رومیوں 8باب1تا4آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

3۔ اس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خدا نے کیا یعنی اْس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلودہ جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا۔

4۔ تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پورا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

7. Romans 8 : 1-4

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

3     For what the law could not do, in that it was weak through the flesh, God sending his own Son in the likeness of sinful flesh, and for sin, condemned sin in the flesh:

4     That the righteousness of the law might be fulfilled in us, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

8۔ طیطس 2باب11تا14آیات

11۔ کیونکہ خدا کا وہ فضل ظاہر ہو اہے جو سب آدمیوں کی نجات کا باعث ہے۔

12۔ اور ہمیں تربیت دیتا ہے کہ بے دینی اور دنیوی خواہشوں کا انکار کر کے اس موجودہ جہان میں پرہیز گاری اور راستبازی اور دینداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔

13۔ اور اْس مبارک امید یعنی اپنے بزرگ خدا اور منجی یسوع مسیح کے جلال کے ظاہر ہونے کے منتظر رہیں۔

14۔ جس نے اپنے آپ کو ہمارے واسطے دے دیا تاکہ فدیہ ہو کر ہمیں ہر طرح کی بے دینی سے چھڑا لے اور پاک کر کے اپنی خاص ملکیت کے لئے ایک ایسی امت بنائے جو نیک کاموں میں سر گرم ہو۔

8. Titus 2 : 11-14

11     For the grace of God that bringeth salvation hath appeared to all men,

12     Teaching us that, denying ungodliness and worldly lusts, we should live soberly, righteously, and godly, in this present world;

13     Looking for that blessed hope, and the glorious appearing of the great God and our Saviour Jesus Christ;

14     Who gave himself for us, that he might redeem us from all iniquity, and purify unto himself a peculiar people, zealous of good works.

9۔ 2کرنتھیوں 12باب9 (تا پہلا) آیت

9۔ اْس نے مجھ سے کہا میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔

9. II Corinthians 12 : 9 (to 1st .)

9     And he said unto me, My grace is sufficient for thee: for my strength is made perfect in weakness.



سائنس اور صح


1۔ 589: 9 (خدا)۔10 (تا اور)، 10 (انسان)۔11

خدا ساری وجودیت کا الٰہی اصول ہے، اور۔۔۔انسان اْس کا خیال، اْس کی حفاظت کا بچہ ہے۔

1. 589 : 9 (God)-10 (to and), 10 (man)-11

God is the divine Principle of all existence, and … man is His idea, the child of His care.

2۔ 475 :7۔9، 14۔16(تا؛)

کلام ہمیں بتاتا ہے کہ انسان خدا کی صورت اور شبیہ پر بنایا گیاہے۔۔۔۔وہ خدا کا ایک مرکب خیال ہے،جس میں تمام تر درست خیالات شامل ہیں، ایسی عمومی اصطلاح جو خدا کی صورت اور شبیہ کی عکاسی کرتی ہے؛

2. 475 : 7-9, 14-16 (to ;)

The Scriptures inform us that man is made in the image and likeness of God. … He is the compound idea of God, including all right ideas; the generic term for all that reflects God's image and likeness;

3۔ 332 :4 (باپ)۔5

الوہیت کے لئے مادر پدر نام ہے، جو اْس کی روحانی مخلوق کے ساتھ اْس کے شفیق تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

3. 332 : 4 (Father)-5

Father-Mother is the name for Deity, which indicates His tender relationship to His spiritual creation.

4۔ 6 :17۔18

”خدا محبت ہے۔“ اس سے زیادہ ہم مانگ نہیں سکتے، اِس سے اونچا ہم دیکھ نہیں سکتے اور اس سے آگے ہم جا نہیں سکتے۔

4. 6 : 17-18

"God is Love." More than this we cannot ask, higher we cannot look, farther we cannot go.

5۔ 333 :19۔23

مسیحی دورسے پیشتر اور بعد ازاں نسل در نسل مسیح بطور روحانی خیال، بطور خدا کے سایہ، اْن لوگوں کے لئے کچھ خاص طاقت اور فضل کے ساتھ آیا جو مسیح، یعنی سچائی کو حاصل کرنے کے لئے تیار تھے۔

5. 333 : 19-23

Throughout all generations both before and after the Christian era, the Christ, as the spiritual idea, — the reflection of God, — has come with some measure of power and grace to all prepared to receive Christ, Truth.

6۔ 42 :1۔2 (تا،)

یسوع کی زندگی نے الٰہی طور پر اور سائنسی طور پر یہ ثابت کیا کہ خدا محبت ہے،

6. 42 : 1-2 (to ,)

Jesus' life proved, divinely and scientifically, that God is Love,

7۔ 35 :30صرف

محبت کا نمونہ گناہگار کی اصلاح ہے۔

7. 35 : 30 only

The design of Love is to reform the sinner.

8۔ 494 :15(دی)۔19

فضل کا معجزہ محبت کے لئے کوئی معجزہ نہیں ہے۔ یسوع نے مادیت کی نااہلیت کو اس کے ساتھ ساتھ روح کی لامحدود قابلیت کو ظاہر کیا، یوں غلطی کرنے والے انسانی فہم کو خود کی سزاؤں سے بھاگنے اور الٰہی سائنس میں تحفظ تلاش کرنے میں مدد کی۔

8. 494 : 15 (The)-19

The miracle of grace is no miracle to Love. Jesus demonstrated the inability of corporeality, as well as the infinite ability of Spirit, thus helping erring human sense to flee from its own convictions and seek safety in divine Science.

9۔ 362 :1۔7

یہ لوقا کی انجیل کے ساتویں باب میں اس سے منسلک کیا گیا ہے کہ ایک بار یسوع کسی فریسی، بنام شمعون،کے گھر کا مہمانِ خصوصی بنا، وہ شمعون شاگردبالکل نہیں تھا۔ جب وہ کھانا کھا رہے تھے، ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جیسے کہ یہ مشرقی مہمان نوازی کے فہم میں رکاوٹ بناہو۔ایک ”اجنبی عورت“ اندر آئی۔

9. 362 : 1-7

It is related in the seventh chapter of Luke's Gospel that Jesus was once the honored guest of a certain Pharisee, by name Simon, though he was quite unlike Simon the disciple. While they were at meat, an unusual incident occurred, as if to interrupt the scene of Oriental festivity. A "strange woman" came in.

10۔ 363 :1۔24، 31۔7

اْس نے سفید سنگ مرمر کا مرتبان اٹھایا ہوا تھا جس میں بیش قیمت اور خوشبودار تیل تھا، صندل کا تیل، شاید، جس کا استعمال مشرق میں عام ہے۔اپنا مرتبان توڑ کر اْس نے یسوع کے پاؤں کو تیل سے خوشبو دی، اپنے لمبے بالوں سے انہیں پونچھتے ہوئے، جو اْس کے کندھوں پر لٹک رہے تھے، جیسا کہ عام طور پر اْس عمر کی عورتوں کے ہوتے تھے۔

کیا یسوع نے اْس عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھا؟ کیا اْس نے اْس کی عقیدت کو روک دیا؟ نہیں! اْس نے نہایت شفقت کے ساتھ اْس کی تعریف کی۔ اور ایسا کچھ نہیں ہو اتھا۔ وہ سب جانتے ہوئے جو اْس کے ارد گرد کھڑے لوگ اپنے دلوں میں سوچ رہے تھے، خاص طور پر میزبان کے دل میں، وہ پریشان ہو رہے تھے کہ ایک نبی ہوتے ہوئے مہمان خصوصی ایک دم سے اس عورت کے اخلاقی درجے کو نہیں جانچ پایا اور اْسے دور ہٹنے کو نہیں کہا، یہ سب جانتے ہوئے، یسوع نے انہیں ایک مختصر تمثیل یا کہانی کے ساتھ ملامت کیا۔ اْس نے دو مقروضوں کا ذکر کیا ایک نے بڑی رقم ادا کرنا تھی اور دوسرے نے تھوڑی، جنہیں اپنے مشترکہ ساہوکار کی جانب سے اس ذمہ داری سے بری کیا گیا تھا۔ ”اْن میں سے کون اْس سے زیادہ محبت رکھے گا؟“ یہ مالک کا سوال شمعون فریسی سے تھا اور شمعون نے جواب دیا، ”وہ جسے اْس نے زیادہ قرض معاف کیا۔“ یسوع نے اس جواب کی تصدیق کی، اور یوں سب کے لئے ایک سبق دیا، جس کے بعد اْس عورت کے لئے یہ شاندار اعلان دیا، ”تیرے گناہ معاف ہوئے۔“

اْس نے اْس کے الٰہی محبت کے قرض کو کیوں معاف کر دیا؟۔۔۔ یقیناً اس حقیقت میں حوصلہ افزائی پائی جاتی تھی کہ وہ ایک یقینی اچھائی اور پاکیزگی والے انسان کے لئے اپنا پیار ظاہر کر رہی تھی، جسے آج تک زمین کے سیارے پر پاؤں رکھنے والے سب سے بہترین آدمی کے طور پر جانا گیا ہے۔ اْس کی عقیدت بے تصنع تھی، اور اِس کا اظہار اْس شخص کے لئے ہوا جو جلد ہی سب گناہگاروں کی طرف سے اپنی فانی وجودیت کو لْٹانے والاتھا، اگرچہ وہ اس سے واقف نہیں تھے، تاکہ اْس کے کلام اور اعمال کے وسیلہ وہ ہوس پرستی اور گناہ سے آزاد ہو جائیں۔

10. 363 : 1-24, 31-7

She bore an alabaster jar containing costly and fragrant oil, — sandal oil perhaps, which is in such common use in the East. Breaking the sealed jar, she perfumed Jesus' feet with the oil, wiping them with her long hair, which hung loosely about her shoulders, as was customary with women of her grade.

Did Jesus spurn the woman? Did he repel her adoration? No! He regarded her compassionately. Nor was this all. Knowing what those around him were saying in their hearts, especially his host, — that they were wondering why, being a prophet, the exalted guest did not at once detect the woman's immoral status and bid her depart, — knowing this, Jesus rebuked them with a short story or parable. He described two debtors, one for a large sum and one for a smaller, who were released from their obligations by their common creditor. "Which of them will love him most?" was the Master's question to Simon the Pharisee; and Simon replied, "He to whom he forgave most." Jesus approved the answer, and so brought home the lesson to all, following it with that remarkable declaration to the woman, "Thy sins are forgiven."

Why did he thus summarize her debt to divine Love? … Certainly there was encouragement in the mere fact that she was showing her affection for a man of undoubted goodness and purity, who has since been rightfully regarded as the best man that ever trod this planet. Her reverence was unfeigned, and it was manifested towards one who was soon, though they knew it not, to lay down his mortal existence in behalf of all sinners, that through his word and works they might be redeemed from sensuality and sin.

11۔ 364 :17۔31

جیسے شمعون نے مادی اعتدال پسندی اور ذاتی عقیدت کے وسیلہ نجات دہندہ کو پایا کیا مسیحی سائنسدانوں کو بھی سچائی کی ویسے ہی تلاش کرنی چاہئے؟ یسوع نے شمعون کو ان متلاشیوں سے متعلق تب بتایا جب اْس نے روحانی صاف دلی کے بدلے میں اْسے ایک چھوٹا سا انعام دیا جو مسیحا کی طرف سے تھا۔ اگر مسیحی سائنسدان شمعون کی مانند ہیں، تو یہ اْن سے متعلق بھی کہا گیا ہو سکتا ہے کہ وہ تھوڑا پیار کرتے ہیں۔

دوسری جانب، کیا وہ اپنی اصل معافی، اپنے خستہ دلوں کی بدولت جن سے فروتنی اور انسانی ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے، سچائی یا مسیح سے اپنی واقفیت کو ایاں کرتے ہیں، جیسے اس عورت نے کیا؟ اگر ایسا ہے، تو یہ شاید اْن کے لئے کہا گیا ہو، جیسے یسوع نے بِن بلائے مہمان سے متعلق کہا، کہ یقیناً وہ زیادہ پیار کرتے ہیں کیونکہ انہیں زیادہ معاف کیا گیا ہے۔

11. 364 : 17-31

Do Christian Scientists seek Truth as Simon sought the Saviour, through material conservatism and for personal homage? Jesus told Simon that such seekers as he gave small reward in return for the spiritual purgation which came through the Messiah. If Christian Scientists are like Simon, then it must be said of them also that they love little.

On the other hand, do they show their regard for Truth, or Christ, by their genuine repentance, by their broken hearts, expressed by meekness and human affection, as did this woman? If so, then it may be said of them, as Jesus said of the unwelcome visitor, that they indeed love much, because much is forgiven them.

12۔ 67 :23۔24

فضل اور سچائی دیگر سبھی ذرائع اور طریقہ کاروں سے زیادہ قوی ہیں۔

12. 67 : 23-24

Grace and Truth are potent beyond all other means and methods.

13۔ 365 :15۔24

اگر سائنسدان االٰہی محبت کے وسیلہ اپنے مریض تک پہنچتا ہے، تو شفائیہ کام ایک ہی آمد میں مکمل ہو جائے گا، اور بیماری اپنے آبائی عدم میں غائب ہو جائے گی جیسے کہ صبح کے وقت سورج کی روشنی سے پہلے اوس ہوتی ہے۔ اگر سائنسدان میں اپنی خود کی معافی جیتنے کے لئے کافی مسیحی محبت اور ایسی تعریف پائی جاتی ہے جیسی مگدلینی نے یسوع سے پائی، تو سائنسی طور پر عمل کرنے کے لئے اور ہمدردی سے مریضوں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے لئے وہ اچھا مسیحی ہے، اور نتیجہ روحانی ارادے کے ساتھ مطابقت رکھے گا۔

13. 365 : 15-24

If the Scientist reaches his patient through divine Love, the healing work will be accomplished at one visit, and the disease will vanish into its native nothingness like dew before the morning sunshine. If the Scientist has enough Christly affection to win his own pardon, and such commendation as the Magdalen gained from Jesus, then he is Christian enough to practise scientifically and deal with his patients compassionately; and the result will correspond with the spiritual intent. 

14۔ 455 :3۔6

خود کار ہلاکت اور غلطی کی ذہنی حالت یا لڑکھڑاتا اورسچائی پر شک کرنے والا بھروسہ بیماری کی شفا یابی کے لئے غیر موزوں حالتیں ہیں۔ ایسی ذہنی حالتیں طاقت کی بجائے کمزوری کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

14. 455 : 3-6

A mental state of self-condemnation and guilt or a faltering and doubting trust in Truth are unsuitable conditions for healing the sick. Such mental states indicate weakness instead of strength.

15۔ 292 :27۔31

یہ جسمانی مادی ذہنیت، عقل کے نام کا غلط استعمال، فانی ہے۔اس لئے انسان فنا ہو جائے گا، جو حقیقی روحانی انسان کے اپنے خدا کے ساتھ ناقابل تسخیر رابطے کی جانب اشارہ ہے جسے یسوع روشنی میں لایا۔

15. 292 : 27-31

This carnal material mentality, misnamed mind, is mortal. Therefore man would be annihilated, were it not for the spiritual real man's indissoluble connection with his God, which Jesus brought to light.

16۔ 476 :28۔5

خدا کے لوگوں سے متعلق، نہ کہ انسان کے بچوں سے متعلق، بات کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے؛“ یعنی سچائی اور محبت حقیقی انسان پر سلطنت کرتی ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ انسان خدا کی صورت پر بے گناہ اور ابدی ہے۔ یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔ لہٰذہ یسوع نے تعلیم دی کہ خدا برقرار اور عالمگیر ہے اور یہ کہ انسان پاک اور مقدس ہے۔

16. 476 : 28-5

When speaking of God's children, not the children of men, Jesus said, "The kingdom of God is within you;" that is, Truth and Love reign in the real man, showing that man in God's image isunfallen and eternal. Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick. Thus Jesus taught that the kingdom of God is intact, universal, and that man is pure and holy.

17۔ 4 :12۔16

ہمیشہ اچھے بنے رہنے کی عادتاً جدوجہد دائمی دعا ہے۔اس کے مقاصد اْن برکات سے ظاہر ہوتے ہیں جو یہ لاتی ہے، وہ برکات جنہیں اگر ناقابل سماعت الفاظ میں بھی نہ سْنا جائے، محبت کے ساتھ حصہ دار بننے کے لئے ہماری قابلیت کی تصدیق کرتی ہے۔

17. 4 : 12-16

The habitual struggle to be always good is unceasing prayer. Its motives are made manifest in the blessings they bring, — blessings which, even if not acknowledged in audible words, attest our worthiness to be partakers of Love.

18۔ 26 :1۔9

جب ہم یسوع کی تمجید کرتے ہیں، اور جو کچھ اْس نے بشر کے لئے کیا ہے اْس کے باعث ہمارا دل شکر سے بھر جاتا ہے، جلال کے تخت پر اْس کے شفیق راستے پر اکیلے پاؤں رکھتے ہوئے، ہمارے لئے ناقابل بیان اذیت میں راہ ہموار کرتے ہوئے، یسوع ہمارے لئے صرف ایک انفرادی تجربہ محفوظ نہیں رکھتا، اگر ہم وفاداری کے ساتھ اْس کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں، اور سب غمگین جدوجہد کا پیالہ لیتے ہیں تاکہ اْس کے ساتھ اپنی محبت کے اظہار کے تناسب میں پئیں، جب تک کہ سب الٰہی محبت کے وسیلہ نجات نہ پا لیں۔

18. 26 : 1-9

While we adore Jesus, and the heart overflows with gratitude for what he did for mortals, — treading alone his loving pathway up to the throne of glory, in speechless agony exploring the way for us, — yet Jesus spares us not one individual experience, if we follow his commands faithfully; and all have the cup of sorrowful effort to drink in proportion to their demonstration of his love, till all are redeemed through divine Love.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████