اتوار 8 نومبر، 2020 |

اتوار 8 نومبر، 2020



مضمون۔ آدم اور گناہگار انسان

SubjectAdam and Fallen Man

سنہری متن: افسیوں 5باب14آیت

”اِس لئے وہ فرماتا ہے اے سونے والے! جاگ اور مردوں میں سے جی اْٹھ تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے



Golden Text: Ephesians 5 : 14

Wherefore he saith, Awake thou that sleepest, and arise from the dead, and Christ shall give thee light.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 کرنتھیوں 15 باب 34، 47، 49، 51، 53، 57 آیات


34۔ راستباز ہونے کے لئے ہوش میں آؤ اور گناہ نہ کرو کیونکہ بعض خدا سے ناواقف ہیں۔

47۔ پہلا آدمی زمین سے یعنی خاکی تھا۔ دوسرا آدمی آسمانی ہے۔

49۔ اور جس طرح ہم اِس خاکی کی صورت پر ہوئے اْسی طرح اْس آسمانی کی صورت پر بھی ہوں گے۔

51۔ دیکھو مَیں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

57۔ مگر خدا کا شکر ہے جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔

Responsive Reading: I Corinthians 15 : 34, 47, 49, 51, 53, 57

34.     Awake to righteousness, and sin not; for some have not the knowledge of God.

47.     The first man is of the earth, earthy: the second man is the Lord from heaven.

49.     And as we have borne the image of the earthy, we shall also bear the image of the heavenly.

51.     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed.

53.     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

57.     But thanks be to God, which giveth us the victory through our Lord Jesus Christ.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب1، 2، 26تا28، 31 آیات(تا پہلا)۔

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

2۔ اور زمین ویران اور سْنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپائیوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر اور ناری اْن کو پیدا کیا۔

28۔ خدا نے اْن کو برکت دی اور کہا پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور ومحکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 2, 26-28, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

2     And the earth was without form, and void; and darkness was upon the face of the deep. And the Spirit of God moved upon the face of the waters.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

28     And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it: and have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over every living thing that moveth upon the earth.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ پیدائش 2باب6، 7، 21، 22 آیات

6۔ بلکہ زمین سے کْہر اْٹھتی تھی اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔

7۔ اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اْس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔

21۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اْس نے اْس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا اور اْس کی جگہ گوشت بھر دیا۔

22۔ اور خداوند خدا اْس پسلی سے جو اْس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اْسے آدم کے پاس لایا۔

2. Genesis 2 : 6, 7, 21, 22

6     But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

7     And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul.

21     And the Lord God caused a deep sleep to fall upon Adam, and he slept: and he took one of his ribs, and closed up the flesh instead thereof;

22     And the rib, which the Lord God had taken from man, made he a woman, and brought her unto the man.

3۔ یسعیاہ 43 باب1(یوں)، 2 (تادوسرا؛)، 3 (تا:) آیات

1۔۔۔۔اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اور جس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ مَیں نے تیرا نام لے کر تجھ کو بلایا ہے تْو میرا ہے۔

2۔ جب تْو سیلاب میں سے گزرے تو مَیں تیرے ساتھ ہوں گا اور جب تْو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھ کو نہ ڈبائیں گی۔جب تْو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگے گی اور شعلہ تجھے نہ جلائے گا۔

3۔ کیونکہ مَیں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔

3. Isaiah 43 : 1 (thus), 2 (to 2nd ;), 3 (to :)

1     …thus saith the Lord that created thee, O Jacob, and he that formed thee, O Israel, Fear not: for I have redeemed thee, I have called thee by thy name; thou art mine.

2     When thou passest through the waters, I will be with thee; and through the rivers, they shall not overflow thee: when thou walkest through the fire, thou shalt not be burned;

3     For I am the Lord thy God, the Holy One of Israel, thy Saviour:

4۔ زبور 49: 20 آیت

20۔آدمی جو عزت کی حالت میں رہتا ہے پر خرِد نہیں کرتا جانوروں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔

4. Psalm 49 : 20

20     Man that is in honour, and understandeth not, is like the beasts that perish.

5۔ متی 9 باب35(تا تیسرا،) آیت

35۔ اور یسوع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا رہا۔

5. Matthew 9 : 35 (to 3rd ,)

35     And Jesus went about all the cities and villages, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom,

5۔ متی 9 باب35(تا تیسرا،) آیت

35۔ اور یسوع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا رہا۔

6. Matthew 14 : 35 (they sent) only, 35 (and), 36

35     …they sent …and brought unto him all that were diseased;

36     And besought him that they might only touch the hem of his garment: and as many as touched were made perfectly whole.

7۔ یوحنا 11باب1، 4، 11، 41تا44 آیات

1۔ مریم اور اْس کی بہن مارتھا کے گاؤں بیت عنیاہ کا لعذر نام ایک آدمی بیمار تھا۔

4۔ یسوع نے یہ سْن کر کہا یہ بیماری موت کی نہیں بلکہ خدا کے جلال کے لئے ہے تاکہ اْس کے وسیلہ سے خدا کے بیٹے کا جلال ظاہر ہو۔

11۔ اْس نے یہ باتیں کہیں اور اْس کے بعد اْن سے کہنے لگا کہ ہمارا دوست لعذر سو گیا ہے لیکن مَیں اْسے جگانے جاتا ہوں۔

41۔ پس اْنہوں نے اْس پتھر کو ہٹا دیا۔ پھر یسوع نے آنکھیں کھول کر کہا اے باپ مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تْو نے میری سْن لی۔

42۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تْو ہمیشہ میری سنتا ہے مگر اِن لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں مَیں نے یہ کہا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔

43۔ اور یہ کہہ کر اْس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعذر نکل آ۔

44۔ جو مر گیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اْس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔یسوع نے اْن سے کہا اْسے کھول کر جانے دو۔

7. John 11 : 1, 4, 11, 41-44

1     Now a certain man was sick, named Lazarus, of Bethany, the town of Mary and her sister Martha.

4     When Jesus heard that, he said, This sickness is not unto death, but for the glory of God, that the Son of God might be glorified thereby.

11     These things said he: and after that he saith unto them, Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep.

41     Then they took away the stone from the place where the dead was laid. And Jesus lifted up his eyes, and said, Father, I thank thee that thou hast heard me.

42     And I knew that thou hearest me always: but because of the people which stand by I said it, that they may believe that thou hast sent me.

43     And when he thus had spoken, he cried with a loud voice, Lazarus, come forth.

44     And he that was dead came forth, bound hand and foot with graveclothes: and his face was bound about with a napkin. Jesus saith unto them, Loose him, and let him go.

8۔ ایوب 33باب4 آیت

4۔ خدا کی روح نے مجھے بنایا ہے اور قادر مطلق کا دم مجھے زندگی بخشتا ہے۔

8. Job 33 : 4

4     The Spirit of God hath made me, and the breath of the Almighty hath given me life.

9۔ رومیوں 8 باب9 (تم)، 11 (اگر) آیات

9۔۔۔۔تم جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہو بشرطیکہ خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے۔ مگر جس میں مسیح کا روح نہیں وہ اْس کا نہیں۔

11۔ اگر اْسی کا روح تم میں بسا ہوا ہے جس نے یسوع کو مردوں میں سے جلایا تو جس نے مسیح یسوع کو مردوں میں سے جلایا وہ تمہارے فانی بدنوں کو بھی اپنے اْس روح کے وسیلہ زندہ کرے گا جو تم میں بسا ہوا ہے۔

9. Romans 8 : 9 (ye), 11 (if)

9     …ye are not in the flesh, but in the Spirit, if so be that the Spirit of God dwell in you. Now if any man have not the Spirit of Christ, he is none of his.

11     …if the Spirit of him that raised up Jesus from the dead dwell in you, he that raised up Christ from the dead shall also quicken your mortal bodies by his Spirit that dwelleth in you.

10۔ افسیوں 4باب4تا7، 13تا15، 21تا24 آیات

4۔ ایک ہی بدن ہے اور ایک ہی روح ہے۔ چنانچہ تمہیں جو بلائے گئے تھے اپنے بلائے جانے سے امید بھی ایک ہی ہے۔

5۔ ایک ہی خداوند ہے۔ ایک ہی ایمان۔ ایک ہی بپتسمہ۔

6۔ اور سب کا خدا اور باپ ایک ہی ہے جو سب کے اوپر اور سب کے درمیان اور سب کے اندر ہے۔

7۔ اور ہم میں سے ہر ایک پرمسیح کی بخشش کے اندازہ کے موافق فضل ہوا ہے۔

13۔ جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں۔

14۔ تاکہ ہم آگے کو بچے نہ رہیں اور آدمیوں کی بازیگری اور مکاری کے سبب سے اْن کے گمراہ کرنے والے منصوبوں کی طرف ایک تعلیم کے جھوکے سے موجوں کی طرح اْچھلتے بہتے نہ پھریں۔

15۔ بلکہ محبت کے ساتھ سچائی پر قائم رہ کر اور اْس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسیح کے ساتھ پیوستہ ہو کر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔

21۔ بلکہ تم نے اْس سچائی کے مطابق جو یسوع میں ہے اْس کی سنی اور اْس میں یہ تعلیم پائی ہوگی۔

22۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی اْس پرانی انسانیت کو اْتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔

23۔ اور اپنی عقل کی روحانیت میں نئے بنتے جاؤ۔

24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔

10. Ephesians 4 : 4-7, 13-15, 21-24

4     There is one body, and one Spirit, even as ye are called in one hope of your calling;

5     One Lord, one faith, one baptism,

6     One God and Father of all, who is above all, and through all, and in you all.

7     But unto every one of us is given grace according to the measure of the gift of Christ.

13     Till we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ:

14     That we henceforth be no more children, tossed to and fro, and carried about with every wind of doctrine, by the sleight of men, and cunning craftiness, whereby they lie in wait to deceive;

15     But speaking the truth in love, may grow up into him in all things, which is the head, even Christ:

21     If so be that ye have heard him, and have been taught by him, as the truth is in Jesus:

22     That ye put off concerning the former conversation the old man, which is corrupt according to the deceitful lusts;

23     And be renewed in the spirit of your mind;

24     And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.

11۔ 1یوحنا 3 باب2، 3 آیات

2۔ عزیزو! ہم جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو ہم بھی اْس کی مانند ہوں گے۔ کیونکہ اْس کو ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے۔

3۔ اور جو کوئی اْس سے یہ امید رکھتا ہے اپنے آپ کو ویسا ہی پاک کرتا ہے جیسا وہ پاک ہے۔

11. I John 3 : 2, 3

2     Beloved, now are we the sons of God, and it doth not yet appear what we shall be: but we know that, when he shall appear, we shall be like him; for we shall see him as he is.

3     And every man that hath this hope in him purifieth himself, even as he is pure.

12۔ احبار 19باب2(تم) آیت

2۔ تم پاک رہو کیونکہ مَیں جو خداوند تمہارا خدا ہوں پاک ہوں۔

12. Leviticus 19 : 2 (Ye)

2     Ye shall be holy: for I the Lord your God am holy.



سائنس اور صح


1۔ 516 :24۔29

پیدائش 1باب27 آیت: اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر وناری اْن کو پیدا کیا۔

اِس یاد گارلمحاتی خیال پر زور دینے کے لئے یہ بار بار دوہرایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا تاکہ الٰہی روح کی عکاسی کرے۔

1. 516 : 24-29

Genesis i. 27. So God created man in His own image, in the image of God created He him; male and female created He them.

To emphasize this momentous thought, it is repeated that God made man in His own image, to reflect the divine Spirit.

2۔ 521 :21۔22، 26۔29

پیدائش 2باب6 آیت: بلکہ زمین سے کْہر اٹھتی تھی اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔

پیدائش کے دوسرے باب میں خدا اور کائنات کے اس مادی نظریے کا بیان پایا جاتا ہے، وہ بیان جو جیسے پہلے ریکارڈ ہوئی اْسی سائنسی سچائی کے عین متضاد ہے۔

2. 521 : 21-22, 26-29

Genesis ii. 6. But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

The second chapter of Genesis contains a statement of this material view of God and the universe, a statement which is the exact opposite of scientific truth as before recorded.

3۔ 522 :3۔16 (تا،)

پہلے ریکارڈ کی سائنس دوسرے ریکارڈ کے جھوٹ کو ثابت کرتی ہے۔ اگر ایک حقیقی ہے تو دوسرا جھوٹا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔پہلاریکارڈ ساری طاقت اور حکمرانی خدا کو سونپتا ہے، اور انسان کو خدا کی کاملیت اور قوت سے شبیہ دیتا ہے۔دوسرا ریکارڈ انسان کو قابل تغیر اور لافانی، بطور اپنے دیوتا سے الگ ہوا اور اپنے ہی مدار میں گھومتا ہوا، تحریر کرتا ہے۔وجودیت کو، الوہیت سے الگ، سائنس بطور ناممکن واضح کرتی ہے۔

یہ دوسرا ریکارڈ بے تکلفی کے ساتھ اْس کی اْن ٹھوس اشکال میں غلطی کی تاریخ بیان کرتا ہے جنہیں مادے میں ذہانت اور زندگی کہا جاتا ہے۔یہ الٰہی روح کی بالادستی کے مخالف، شرک کو بیان کرتا ہے؛ مگر اِس صورت حال کوعارضی اور انسان کو فانی واضح کیا گیا ہے۔

3. 522 : 3-16 (to ,)

The Science of the first record proves the falsity of the second. If one is true, the other is false, for they are antagonistic. The first record assigns all might and government to God, and endows man out of God's perfection and power. The second record chronicles man as mutable and mortal, — as having broken away from Deity and as revolving in an orbit of his own. Existence, separate from divinity, Science explains as impossible.

This second record unmistakably gives the history of error in its externalized forms, called life and intelligence in matter. It records pantheism, opposed to the supremacy of divine Spirit; but this state of things is declared to be temporary and this man to be mortal,

4۔ 292 :31 (یسوع)۔2

یسوع نے یہ دکھایا کہ فانی انسان انسانیت کا حقیقی جوہر نہیں ہے، اور یہ غیر حقیقی مادی فانیت حقیقی کی موجودگی میں غائب ہو جاتی ہے۔

4. 292 : 31 (Jesus)-2

Jesus showed that a mortal man is not the real essence of manhood, and that this unreal material mortality disappears in presence of the reality.

5۔ 493 :28۔2

اگر یسوع نے لعزر کو موت کے خواب، بھرم سے جگایا ہوتا تو اس سے ثابت ہوجاتا کہ مسیح ایک جھوٹے فہم کو فروغ دیتا تھا۔ الٰہی عقل کی رضا اور قوت کی اس طے شْدہ آزمائش پر کون شک کرنے کی جسارت کرتا ہے تاکہ انسان کو ہمیشہ اْس کی حالت میں برقرار رکھے اور انسان کے تمام تر کاموں کی نگرانی کرے؟

5. 493 : 28-2

If Jesus awakened Lazarus from the dream, illusion, of death, this proved that the Christ could improve on a false sense. Who dares to doubt this consummate test of the power and willingness of divine Mind to hold man forever intact in his perfect state, and to govern man's entire action?

6۔ 345 :21۔25، 28۔30

کوئی بھی شخص جو خدا کے خیال اور بیچاری انسانیت کے مابین عدم مطابقت کو سمجھنے کے قابل ہے، اْسے خدا کے انسان، جو اْس کی صورت پر بنایا گیا ہے، اور آدم کی گناہ کرنے والی نسل کے مابین امتیاز کو(جو کرسچن سائنس نے کیا) سمجھنے کے قابل ہونا چاہئے۔

انسان کا یہ تصور، مادی عدم، جس کی سائنس تعلیم دیتی ہے، جسمانی عقل کو مشتعل کرتا ہے اور جسمانی عقل کی مخالفت کا مرکزی سبب ہے۔

6. 345 : 21-25, 28-30

Anybody, who is able to perceive the incongruity between God's idea and poor humanity, ought to be able to discern the distinction (made by Christian Science) between God's man, made in His image, and the sinning race of Adam.

This thought of human, material nothingness, which Science inculcates, enrages the carnal mind and is the main cause of the carnal mind's antagonism.

7۔ 151 :18 (دی)۔24

خون، دل، پھیپھڑوں وغیرہ کا زندگی، خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقی انسان کا ہر عمل الٰہی فہم کی نگرانی میں ہے۔ انسانی سوچ قتل کرنے یا علاج کرنے کی کوئی قوت نہیں رکھتی، اور اس کا خدا کے بشر پر کوئی ختیار نہیں ہے۔ وہ الٰہی فہم جس نے انسان کو خلق کیا اپنی صورت اور شبیہ کو برقرار رکھتا ہے۔

7. 151 : 18 (The)-24

The blood, heart, lungs, brain, etc., have nothing to do with Life, God. Every function of the real man is governed by the divine Mind. The human mind has no power to kill or to cure, and it has no control over God's man. The divine Mind that made man maintains His own image and likeness.

8۔ 470 :11۔5

الٰہی سائنس درج ذیل خود عیاں تجویز کے ذریعے اِس خیالی بیان کو واضح کرتی ہے کہ عقل ایک ہے: اگر خدا، یا نیکی حقیقی ہے تو بدی، خدا کی غیر مشابہت بھی غیر حقیقی ہے۔ اور بدی محض غیر حقیقی کو حقیقت کا روپ دینے سے ہی حقیقی دکھائی دے سکتی ہے۔ خدا کے فرزندوں کے پاس ایک عقل کے علاوہ کچھ نہیں۔جب خدا، انسان کی عقل، کبھی گناہ نہیں کرتا تو اچھائی بدی میں کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ بنیادی طور پر کاملیت کا معیار خدا اور انسان تھا۔ کیا خدا نے اپنا خود کا معیار گرا لیا ہے اور انسان گناہ میں گر گیا ہے؟

خدا انسان کا خالق ہے، اور انسان کا الٰہی اصول کامل ہونے سے الٰہی خیال یا عکس یعنی انسان کامل ہی رہتا ہے۔ انسان خدا کی ہستی کا ظہور ہے۔ اگر کوئی ایسا لمحہ تھا جب انسان نے الٰہی کاملیت کا اظہار نہیں کیا تو یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے خدا کو ظاہر نہیں کیا، اور نتیجتاً یہ ایک ایسا وقت تھا جب الوہیت یعنی وجود غیر متوقع تھا۔ اگر انسان نے اپنی کاملیت کھو دی ہے تو اْس نے اپنا کامل اصول، الٰہی عقل کھو دی ہے۔ اگر انسان اس کامل اصول یا عقل کے بغیر کبھی وجود رکھتا تھا تو پھر انسان کی وجودیت ایک فرضی داستان ہی تھی۔

سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال، کے تعلقات لازوال ہیں؛ اور سائنس بھول چوک جانتی ہے نہ ہم آہنگی کی جناب واپسی، لیکن یہ الٰہی ترتیب یا روحانی قانون رکھتی ہے جس میں خدا اور جو کچھ وہ خلق کرتا ہے کامل اور ابدی ہیں، جو اس کی پوری تاریخ میں غیر متغیر رہے ہیں۔

8. 470 : 11-5

Divine Science explains the abstract statement that there is one Mind by the following self-evident proposition: If God, or good, is real, then evil, the unlikeness of God, is unreal. And evil can only seem to be real by giving reality to the unreal. The children of God have but one Mind. How can good lapse into evil, when God, the Mind of man, never sins? The standard of perfection was originally God and man. Has God taken down His own standard, and has man fallen?

God is the creator of man, and, the divine Principle of man remaining perfect, the divine idea or reflection, man, remains perfect. Man is the expression of God's being. If there ever was a moment when man did not express the divine perfection, then there was a moment when man did not express God, and consequently a time when Deity was unexpressed — that is, without entity. If man has lost perfection, then he has lost his perfect Principle, the divine Mind. If man ever existed without this perfect Principle or Mind, then man's existence was a myth.

The relations of God and man, divine Principle and idea, are indestructible in Science; and Science knows no lapse from nor return to harmony, but holds the divine order or spiritual law, in which God and all that He creates are perfect and eternal, to have remained unchanged in its eternal history.

9۔ 475 :7۔14، 28۔31

کلام پاک ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ انسان خدا کی شبیہ اور صورت پر خلق کیا گیا ہے۔ یہ مادے کی شبیہ نہیں ہے۔ روح کی شبیہ اس قدر غیر روحانی نہیں ہوسکتی۔ انسان روحانی اور کامل ہے؛ اور چونکہ وہ روحانی اور کامل ہے اس لئے اْسے کرسچن سائنس میں ایسا ہی سمجھا جانا چاہئے۔انسان محبت کا خیال، شبیہ ہے؛ وہ بدن نہیں ہے۔

انسان گناہ، بیماری اور موت سے عاجز ہے۔ حقیقی انسان پاکیزگی سے الگ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خدا، جس سے انسان نشوونما پاتا ہے، گناہ کے خلاف قوت یا آزادی پیدا کرسکتا ہے۔

9. 475 : 7-14, 28-31

The Scriptures inform us that man is made in the image and likeness of God. Matter is not that likeness. The likeness of Spirit cannot be so unlike Spirit. Man is spiritual and perfect; and because he is spiritual and perfect, he must be so understood in Christian Science. Man is idea, the image, of Love; he is not physique.

Man is incapable of sin, sickness, and death. The real man cannot depart from holiness, nor can God, by whom man is evolved, engender the capacity or freedom to sin.

10۔ 302 :3۔9، 19۔24

مادی بدن اور عقل عارضی ہیں، مگر حقیقی انسان روحانی اور ابدی ہے۔حقیقی انسان کی شناخت کھو نہیں جاتی، بلکہ اِس وضاحت کے وسیلہ پائی جاتی ہے؛ کیونکہ ہستی اور پوری شناخت کی شعوری لامحدودیت غیر ترمیم شْدہ سمجھی جاتی اورقائم رہتی ہے۔جب خدا مکمل اور ابدی طور پر اْس کا ہے، تو یہ ناممکن ہے کہ انسان ایسا کچھ گوا بیٹھے جو حقیقی ہے۔

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

10. 302 : 3-9, 19-24

The material body and mind are temporal, but the real man is spiritual and eternal. The identity of the real man is not lost, but found through this explanation; for the conscious infinitude of existence and of all identity is thereby discerned and remains unchanged. It is impossible that man should lose aught that is real, when God is all and eternally his.

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

11۔ 304 :14۔18

کامل انسان، خدایعنی اپنے کامل اصول کے ماتحت، گناہ سے پاک اور ابدی ہے۔

ہم آہنگی خود کے اصول کے وسیلہ پیدا ہوتی، اِس کے وسیلہ کنٹرول ہوتی اور اِس میں قائم رہتی ہے۔الٰہی اصول انسان کی زندگی ہے۔

11. 304 : 14-18

The perfect man — governed by God, his perfect Principle — is sinless and eternal.

Harmony is produced by its Principle, is controlled by it and abides with it. Divine Principle is the Life of man.

12۔ 476 :28۔32

خدا کے لوگوں سے متعلق، نہ کہ انسان کے بچوں سے متعلق، بات کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے؛“ یعنی سچائی اور محبت حقیقی انسان پر سلطنت کرتی ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ انسان خدا کی صورت پر بے گناہ اور ابدی ہے۔

12. 476 : 28-32

When speaking of God's children, not the children of men, Jesus said, "The kingdom of God is within you;" that is, Truth and Love reign in the real man, showing that man in God's image is unfallen and eternal.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████