اتوار 9 اگست، 2020 

مضمون۔ روح


سنہری متن:سنہری متن: افسیوں 5 باب9 آیت

’’”اس لئے کہ نور کاپھل ہر طرح کی نیکی اور راستبازی اور سچائی ہے۔“‘‘

Golden Text: Ephesians 5 : 9

The fruit of the Spirit is in all goodness and righteousness and truth.

سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں


جوابی مطالعہ: زبور 139: 1، 2، 4، 7، 9، 10، 14 آیات>

1۔ اے خداوند! تْو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔

2۔ تْو میرا اْٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تْو میرے خیال کو دور سے سمجھ لیتا ہے۔

4۔ دیکھ! میری زبان پر کوئی ایسی بات نہیں جسے تْو اے خداوند! پورے طور پر نہ جانتا ہو۔

7۔ مَیں تیری روح سے بچ کر کہاں جاؤں۔ یا تیری حضوری سے کدھر بھاگوں؟

9۔ اگر میں صبح کے پر لگا کر سمندر کی انتہا میں بسوں۔

10۔تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کرے گا۔ اور تیرا داہنا ہاتھ مجھے سنبھالے گا۔

14۔مَیں تیرا شکر کروں گا کیونکہ مَیں عجیب و غریب طور سے بنا ہوں۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دل اِسے خوب جانتا ہے۔

Responsive Reading: Psalm 139 : 1, 2, 4, 7, 9, 10, 14

1.     O Lord, thou hast searched me, and known me.

2.     Thou knowest my downsitting and mine uprising, thou understandest my thought afar off.

4.     For there is not a word in my tongue, but, lo, O Lord, thou knowest it altogether.

7.     Whither shall I go from thy spirit? or whither shall I flee from thy presence?

9.     If I take the wings of the morning, and dwell in the uttermost parts of the sea;

10.     Even there shall thy hand lead me, and thy right hand shall hold me.

14.     I will praise thee; for I am fearfully and wonderfully made: marvellous are thy works; and that my soul knoweth right well.

درسی وعظ


درسی وعظ


1۔ زبور 51:10 آیت

10۔ اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

1. Psalm 51 : 10

10     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

2۔ 2 سلاطین 2 باب9 (الیشع) تا15 آیات

9۔ اور جب وہ پار ہو گئے تو ایلیاہ نے الیشع سے کہا کہ اس سے پیشتر میں تجھ سے لے لیا جاوں بتا کہ میں تیرے لئے کیا کروں؟ الیشع نے کہا میں تیری منت کرتا ہوں کہ تیری روح کا دگنا حصہ مجھ پر ہو۔

10۔ اُس نے کہا تو نے مشکل سوال کیا تو بھی اگر تو مجھے اپنے سے جدا ہوتے ہوئے دیکھے تو تیرے لیے ایسا ہی ہو گا۔ اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہو گا۔

11۔ اور وہ آگے چلتے اور باتیں کرتے جاتے تھے کہ دیکھو ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے ان دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاہ بگولے میں آسمان پر چلا گیا۔

12۔ الیشع یہ دیکھ کر چِلایا اے میرے باپ! میرے باپ! اسرائیل کے رتھ اور اُس کے سوار! اور اُس نے اُسے پھر نہ دیکھا۔ سو اُس نے اپنے کپڑوں کو پکڑ کر پھاڑ ڈالا اور دو حصے کر دیا۔

13۔ اور اُس نے ایلیاہ کی چادر کو بھی جو اُس پر سے گر پڑی تھی اٹھا لیا اور الٹا پھرا اور یردن کے کنارے کھڑا ہوا۔

14۔ اور اُس نے ایلیاہ کی چادر کو جو اُس پر سے گر پڑی تھی لے کر پانی پر مارا اور کہا کہ خداوند ایلیاہ کا خدا کہاں ہے؟ اور جب اُس نے بھی پانی پر مارا تو وہ ادھر اُدھر دو حصے ہو گیا اور الیشع پار ہوا۔

15۔ جب انبیا زادوں نے جو یریحو میں اُس کے مقابل تھے اُسے دیکھا تو وہ کہنے لگے ایلیاہ کی روح الیشع پر ٹھہری ہوئی ہے اور وہ اُس کے استقبال کو آئے اور اُس کے آگے زمین تک جھک کر اُسے سجدہ کیا۔

2. II Kings 2 : 9 (Elijah)-15

9     Elijah said unto Elisha, Ask what I shall do for thee, before I be taken away from thee. And Elisha said, I pray thee, let a double portion of thy spirit be upon me.

10     And he said, Thou hast asked a hard thing: nevertheless, if thou see me when I am taken from thee, it shall be so unto thee; but if not, it shall not be so.

11     And it came to pass, as they still went on, and talked, that, behold, there appeared a chariot of fire, and horses of fire, and parted them both asunder; and Elijah went up by a whirlwind into heaven.

12     And Elisha saw it, and he cried, My father, my father, the chariot of Israel, and the horsemen thereof. And he saw him no more: and he took hold of his own clothes, and rent them in two pieces.

13     He took up also the mantle of Elijah that fell from him, and went back, and stood by the bank of Jordan;

14     And he took the mantle of Elijah that fell from him, and smote the waters, and said, Where is the Lord God of Elijah? and when he also had smitten the waters, they parted hither and thither: and Elisha went over.

15     And when the sons of the prophets which were to view at Jericho saw him, they said, The spirit of Elijah doth rest on Elisha. And they came to meet him, and bowed themselves to the ground before him.

3۔ لوقا 4 باب14(یسوع)، 16تا21 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

16۔ اور وہ ناصرت میں آیا جہاں اْس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادتخانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔

17۔ اور یسعیاہ نبی کی کتاب اْس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اْس نے وہ مقام نکالا جہاں لکھا تھا کہ۔

18۔ خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اِس لئے کہ اْس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لئے مسح کیا۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔

19۔ اور خداوند کے سال مقبول کی منادی کروں۔

20۔ پھر وہ کتاب بند کر کے اور خادم کو واپس دے کر بیٹھ گیا اور جتنے عبادتخانہ میں تھے سب کی آنکھیں اْس پر لگی تھیں۔

21۔ وہ اْن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا۔

3. Luke 4 : 14 (Jesus), 16-21

14     Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

16     And he came to Nazareth, where he had been brought up: and, as his custom was, he went into the synagogue on the sabbath day, and stood up for to read.

17     And there was delivered unto him the book of the prophet Esaias. And when he had opened the book, he found the place where it was written,

18     The Spirit of the Lord is upon me, because he hath anointed me to preach the gospel to the poor; he hath sent me to heal the brokenhearted, to preach deliverance to the captives, and recovering of sight to the blind, to set at liberty them that are bruised,

19     To preach the acceptable year of the Lord.

20     And he closed the book, and he gave it again to the minister, and sat down. And the eyes of all them that were in the synagogue were fastened on him.

21     And he began to say unto them, This day is this scripture fulfilled in your ears.

4۔ متی 3 باب13تا17 آیات

13۔ اْس وقت یسوع گلیل سے یردن کے کنارے یوحنا کے پاس اْس سے بپتمہ لینے آیا۔

14۔ مگر یوحنا یہ کہہ کر اْسے منع کرنے لگا کہ مَیں آپ تجھ سے بپتمہ لینے کا محتاج ہوں اور تْو میرے پاس آیا ہے؟

15۔ یسوع نے اْسے جواب دیا اب تْو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔ اِس پر اْس نے ہونے دیا۔

16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اْس کے لئے آسمان کھْل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اْترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔

17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔

4. Matthew 3 : 13-17

13     Then cometh Jesus from Galilee to Jordan unto John, to be baptized of him.

14     But John forbad him, saying, I have need to be baptized of thee, and comest thou to me?

15     And Jesus answering said unto him, Suffer it to be so now: for thus it becometh us to fulfil all righteousness. Then he suffered him.

16     And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:

17     And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.

5۔ یوحنا 3باب1تا8 آیات

1۔ فریسیوں میں سے ایک شخص نیکودیمس نام یہودیوں کا سردار تھا۔

2۔ اْس نے رات کو یسوع کے پاس آکر اْس سے کہا اے ربی ہم جانتے ہیں کہ تْو خدا کی طرف سے اْستاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تْو دکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دکھا سکتا جب تک خدا اْس کے ساتھ نہ ہو۔

3۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو خدا کی بادشاہی کو نہیں دیکھ سکتا۔

4۔ نیکودیمس نے اْس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہوگیا تو کیونکر پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے؟

5۔ یسوع نے اْسے جواب دیا کہ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا۔

6۔ جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے۔

7۔ تعجب نہ کر کہ مَیں نے تجھ سے کہا کہ تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔

8۔ ہوا جِدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تْو اْس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی ہے اور کہاں کو جاتی ہے۔ جو کوئی روح سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی ہے۔

5. John 3 : 1-8

1     There was a man of the Pharisees, named Nicodemus, a ruler of the Jews:

2     The same came to Jesus by night, and said unto him, Rabbi, we know that thou art a teacher come from God: for no man can do these miracles that thou doest, except God be with him.

3     Jesus answered and said unto him, Verily, verily, I say unto thee, Except a man be born again, he cannot see the kingdom of God.

4     Nicodemus saith unto him, How can a man be born when he is old? can he enter the second time into his mother’s womb, and be born?

5     Jesus answered, Verily, verily, I say unto thee, Except a man be born of water and of the Spirit, he cannot enter into the kingdom of God.

6     That which is born of the flesh is flesh; and that which is born of the Spirit is spirit.

7     Marvel not that I said unto thee, Ye must be born again.

8     The wind bloweth where it listeth, and thou hearest the sound thereof, but canst not tell whence it cometh, and whither it goeth: so is every one that is born of the Spirit.

6۔ رومیوں 8 باب1، 2، 5، 6، 14تا16 آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے موت کی شریعت سے آزاد کر دیا۔

5۔ کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

6۔ اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

14۔ اِس لئے کہ جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بیٹے ہیں۔

15۔ کیونکہ تم کو غلامی کی روح نہیں ملی جس سے پھر ڈر پیدا ہو بلکہ لے پالک ہونے کی روح ملی جس سے ہم ابا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتے ہیں۔

16۔ روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔

6. Romans 8 : 1, 2, 5, 6, 14-16

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

5     For they that are after the flesh do mind the things of the flesh; but they that are after the Spirit the things of the Spirit.

6     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.

14     For as many as are led by the Spirit of God, they are the sons of God.

15     For ye have not received the spirit of bondage again to fear; but ye have received the Spirit of adoption, whereby we cry, Abba, Father.

16     The Spirit itself beareth witness with our spirit, that we are the children of God.

سائنس اور صح

1۔ 109 :32۔7

روح کی تین عظیم سچائیاں، قادر مطلق، ہر جا موجود، علام الغیوب، تمام طاقتیں رکھنے والا، ساری جگہ کو پر کرنے والا، ساری سائنس رکھنے والا روح ہمیشہ اِس عقیدے کی نفی کرتا ہے کہ مادہ اصل ہو سکتا ہے۔یہ ابدی سچائیاں خدا کی منور حقیقت کے طور پر ابتدائی وجودیت کا اظہار کرتی ہیں، جس میں وہ سب جو اْس نے بنایا ہے اْس کی نیک سیرت کے باعث واضح ہوتا ہے۔

1. 109 : 32-7

The three great verities of Spirit, omnipotence, omnipresence, omniscience, — Spirit possessing all power, filling all space, constituting all Science, — contradict forever the belief that matter can be actual. These eternal verities reveal primeval existence as the radiant reality of God's creation, in which all that He has made is pronounced by His wisdom good.

2۔ 316 :3۔11

حقیقی انسان کا سائنس کی بدولت اپنے خالق سے تعلق استوار کرتے ہوئے، بشر کو صرف گناہ سے دور ہونے اور مسیح، یعنی حقیقی انسان اور خدا کے ساتھ اْس کے تعلق کو پانے اور الٰہی فرزندگی کو پہچاننے کے لئے فانی خودی سے نظر ہٹانے کی ضرورت ہے۔ مسیح یعنی سچائی یسوع کے وسیلہ ظاہر ہوئی، بدن پر روح کی طاقت کو ثابت کرنے کے لئے اور یہ دکھانے کے لئے کہ سچائی بیمار کی کو شفا دیتے اور گناہ کو تباہ کرتے ہوئے انسانی عقل اور بدن پر اس کے اثرات کی بدولت ظاہر ہوتی ہے۔

2. 316 : 3 -11

The real man being linked by Science to his Maker, mortals need only turn from sin and lose sight of mortal selfhood to find Christ, the real man and his relation to God, and to recognize the divine sonship. Christ, Truth, was demonstrated through Jesus to prove the power of Spirit over the flesh, — to show that Truth is made manifest by its effects upon the human mind and body, healing sickness and destroying sin.

3۔ 324 :7۔18

جب تک ہم آہنگی اور انسان کی لافانیت زیادہ واضح نہیں ہوجاتے، تب تک ہم خدا کا حقیقی تصور نہیں پا سکتے، اور بدن اس کی عکاسی کرے گا جو اْس پر حکمرانی کرتا ہے خواہ یہ سچائی ہو یا غلطی، سمجھ ہو یا عقیدہ، روح ہو یا مادہ۔ لہٰذہ، ”اْس سے ملا رہ تو سلامت رہے گا۔“ ہوشیار، سادہ اور چوکس رہیں۔ جو رستہ اس فہم کی جانب لے جاتا ہے کہ واحد خدا ہی زندگی ہے وہ رستہ سیدھا اور تنگ ہے۔یہ بدن کے ساتھ ایک جنگ ہے، جس میں گناہ، بیماری اور موت پر ہمیں فتح پانی چاہئے خواہ یہاں یا اس کے بعد، یقیناً اس سے قبل کہ ہم روح کے مقصد، یا خدا میں زندگی حاصل کرنے تک پہنچ پائیں۔

3. 324 : 7-18

Unless the harmony and immortality of man are becoming more apparent, we are not gaining the true idea of God; and the body will reflect what governs it, whether it be Truth or error, understanding or belief, Spirit or matter. Therefore "acquaint now thyself with Him, and be at peace." Be watchful, sober, and vigilant. The way is straight and narrow, which leads to the understanding that God is the only Life. It is a warfare with the flesh, in which we must conquer sin, sickness, and death, either here or hereafter, — certainly before we can reach the goal of Spirit, or life in God.

4۔ 167 :22۔31

ساکن ہونا اور درمیانی راہ اپنانا یا روح اور مادے، سچائی اور غلطی سے اکٹھے کام کرنے کی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔ راہ ہے مگر صرف ایک، یعنی، خدا اور اْس کا خیال، جو روحانی ہستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ بدن پر سائنسی حکمرانی الٰہی عقل کے وسیلہ حاصل ہونی چاہئے۔ کسی دوسرے طریقے سے بدن پر قابو پانانا ممکن ہے۔ اِس بنیادی نقطہ پر، کمزورقدامت پسندی بالکل ناقابل تسلیم ہے۔ سچائی پر صرف انتہائی بھروسے کے وسیلہ ہی سائنسی شفائیہ قوت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

4. 167 : 22-31

It is not wise to take a halting and half-way position or to expect to work equally with Spirit and matter, Truth and error. There is but one way — namely, God and His idea — which leads to spiritual being. The scientific government of the body must be attained through the divine Mind. It is impossible to gain control over the body in any other way. On this fundamental point, timid conservatism is absolutely inadmissible. Only through radical reliance on Truth can scientific healing power be realized.

5۔ 264 :13۔27

جب بشر خدا اور انسان سے متعلق درست خیالات رکھتے ہیں، تخلیق کے مقاصد کی کثرت، جو اس سے قبل نادیدنی تھی، اب دیدنی ہو جائے گی۔ جب ہمیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی روح ہے، نہ کبھی مادے کا اور نہ کبھی مادے میں، یہ ادراک خدا میں سب کچھ اچھا پاتے ہوئے اور کسی دوسرے شعور کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے، خود کاملیت کی طرف وسیع ہو گا۔

روح اور اْس کی اصلاحات ہستی کے واحد حقائق ہیں۔مادا روح کی خورد بین تلے غائب ہوجاتا ہے۔ گناہ سچائی کے وسیلہ ناگزیر ہے، اور بیماری اور موت پر یسوع نے فتح پائی، جس نے اِنہیں غلطی کی اشکال ثابت کیا۔ روحانی زندگی اور برکت ہی واحد ثبوت ہیں جن کے وسیلہ ہم حقیقی وجودیت کو پہچان سکتے اور ناقابل بیان امن کو محسوس کرتے ہیں جو سب جذب کرنے والی روحانی محبت سے نکلتا ہے۔

5. 264 : 13-27

As mortals gain more correct views of God and man, multitudinous objects of creation, which before were invisible, will become visible. When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.

Spirit and its formations are the only realities of being. Matter disappears under the microscope of Spirit. Sin is unsustained by Truth, and sickness and death were overcome by Jesus, who proved them to be forms of error. Spiritual living and blessedness are the only evidences, by which we can recognize true existence and feel the unspeakable peace which comes from an all-absorbing spiritual love.

6۔ 252 :15۔8

مادے کی حِس کا جھوٹا ثبوت نہایت موثر انداز سے روح کی گواہی کی مخالفت کرتا ہے۔مادے کی حِس خود کی آواز کو حقیقت کی شدت کے ساتھ اونچا کرتی ہے اور کہتی ہے:

میں مکمل طور پر بے ایمان ہوں، اور انسان یہ جانتا ہے۔ میں دھوکہ دے سکتی، جھوٹ بول سکتی، زناکاری کر سکتی، چوری کر سکتی، قتل کر سکتی اور نرم لہجے کی کمینگی کے ذریعے میں سراغ رسانی سے بچ سکتی ہوں۔ خواہش میں حیوان، جذبے میں فریبی، مقصد میں مکار، میرا مطلب میری زندگی کے مختصر دورانیے کو ایک جشن کا دن بناتے ہوئے۔ گناہ کس قدر اچھی چیز ہے! جہاں نیک ارادہ منتظر ہوتا ہے وہاں گناہ کیسے کامیاب ہوتا ہے۔یہ دنیا میری بادشاہت ہے۔ میں مادے کی خوبصورتی پر تخت نشین ہوں۔ مگر خدا کی ایک چھوون، ایک حادثہ، خدا کی شریعت کسی بھی لمحے میرا سکون فنا کر سکتی ہے، کیونکہ میری سب خیالی خوشیاں مہلک ہیں۔ مگر میری بدقسمتی کھولتے لاوا کی مانند میں بڑھتا ہوں اور راکھ کرنے والی آگ کی عظمت کے ساتھ چمکتا ہوں۔

روح مخالف گواہی دیتے ہوئے، کہتی ہے:

میں روح ہوں۔ انسان، جس کے حواس روحانی ہیں، میری صورت پر ہے۔وہ لافانی فہم کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ میں لافانی ہوں۔ پاکیزگی کی خوبصورتی، وجود کی کاملیت، ناقابل تسخیر جلال، سب میرے ہیں، کیونکہ میں خدا ہوں۔ میں انسان کو لافانیت دیتا ہوں کیونکہ میں سچائی ہوں۔ میں تمام تر نعمتیں شامل کرتا اور عطا کرتا ہوں، کیونکہ میں محبت ہوں۔ میں، ازل اور ابد سے مبرا، زندگی دیتا ہوں کیونکہ میں زندگی ہوں۔ میں اعلیٰ ہوں اور سب کچھ عطا کرتا ہوں کیونکہ میں شعور ہوں۔ میں ہر چیز کا مواد ہوں، کیونکہ مَیں جو ہوں سومَیں ہوں۔

6. 252 : 15-8

The false evidence of material sense contrasts strikingly with the testimony of Spirit. Material sense lifts its voice with the arrogance of reality and says:

I am wholly dishonest, and no man knoweth it. I can cheat, lie, commit adultery, rob, murder, and I elude detection by smooth-tongued villainy. Animal in propensity, deceitful in sentiment, fraudulent in purpose, I mean to make my short span of life one gala day. What a nice thing is sin! How sin succeeds, where the good purpose waits! The world is my kingdom. I am enthroned in the gorgeousness of matter. But a touch, an accident, the law of God, may at any moment annihilate my peace, for all my fancied joys are fatal. Like bursting lava, I expand but to my own despair, and shine with the resplendency of consuming fire.

Spirit, bearing opposite testimony, saith:

I am Spirit. Man, whose senses are spiritual, is my likeness. He reflects the infinite understanding, for I am Infinity. The beauty of holiness, the perfection of being, imperishable glory, — all are Mine, for I am God. I give immortality to man, for I am Truth. I include and impart all bliss, for I am Love. I give life, without beginning and without end, for I am Life. I am supreme and give all, for I am Mind. I am the substance of all, because I am that I am.

7۔ 288 :31۔7

ابدی سچائی اِسے تباہ کرتی ہے جو بشر کو غلطی سے سیکھا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور بطور خدا کے فرزند انسان کی حقیقت روشنی میں آتی ہے۔ ظاہر کی گئی سچائی ابدی زندگی ہے۔ بشر جب تک یہ نہیں سیکھتا کہ خدا ہی واحد زندگی ہے، وہ غلطی کے عارضی ملبے، گناہ، بیماری اور موت کے عقیدے سے کبھی نہیں باہر آ سکتا۔بدن میں زندگی اور احساس اِس فہم کے تحت فتح کئے جانے چاہئیں جو انسان کو خدا کی شبیہ بناتا ہے۔پھر روح بدن پر فتح مند ہوگی۔

7. 288 : 31-7

The eternal Truth destroys what mortals seem to have learned from error, and man's real existence as a child of God comes to light. Truth demonstrated is eternal life. Mortal man can never rise from the temporal débris of error, belief in sin, sickness, and death, until he learns that God is the only Life. The belief that life and sensation are in the body should be overcome by the understanding of what constitutes man as the image of God. Then Spirit will have overcome the flesh.

8۔ 393 :8۔15

عقل جسمانی حواس کی مالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔ اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں، اور اِس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔

8. 393 : 8-15

Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.

روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔