اتوار 9 جون ، 2019 |

اتوار 9 جون ، 2019



مضمون۔ خدا واحد وجہ اور خالق

SubjectGod the Only Cause and Creator

سنہری متن:سنہری متن: یوحنا 1باب3آیت

’’سب چیزیں اْس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔‘‘



Golden Text: John 1 : 3

All things were made by him; and without him was not any thing made that was made.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████



جوابی مطالعہ: یسعیاہ 43باب1 آیت یسعیاہ 45باب 5، 8، 10، 12، 13، 22 آیات


1۔اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اورجس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ میں نے تیرا نام لیکر تجھے بلایا ہے تومیرا ہے۔

5۔ میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ میں نے تیری کمر باندھی اگرچہ تو نے مجھے نہ پہچانا۔

8۔ اے آسمان اوپر سے ٹپک پڑ! ہاں بادل راستبازی برسائیں۔ زمین کھل جائے اورنجات اورصداقت کا پھل لائے۔ وہ انکو اکٹھے اگائے۔ میں خداوند اسکا پیدا کرنے والا ہوں۔

10۔ اْس پر افسوس جو باپ سے کہے کہ تو کس چیز کا والد ہے؟ اور ماں سے کہے کہ تو کس چیز کی والدہ ہے؟

12۔ میں نے زمین بنائی اْس پر انسان کو پیدا کیا اورمیں ہی نے آسمان کو تانا اور اسکے سب لشکروں پر میں نے حکم کیا۔

13۔ رب الاافواج فرماتا ہے میں نے اسکو صداقت میں برپا کیا ہے اور میں اسکی تمام راہوں کو ہموار کرونگا وہ میرا شہر بنائے گا اور میرے اسیروں کو بغیر قیمت اور عوض لئے آزاد کر دے گا۔

22۔ اے انتہایِ زمین کے سب رہنے والو تم میری طرف متوجہ ہو اور نجات پاؤ کیونکہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔

Responsive Reading: Isaiah 43 : 1; Isaiah 45 : 5, 8, 10, 12, 13, 22

1.     But now thus saith the Lord that created thee, O Jacob, and he that formed thee, O Israel, Fear not: for I have redeemed thee, I have called thee by thy name; thou art mine.

5.     I am the Lord, and there is none else, there is no God beside me.

8.     Drop down, ye heavens, from above, and let the skies pour down righteousness: let the earth open, and let them bring forth salvation, and let righteousness spring up together; I the Lord have created it.

10.     Woe unto him that saith unto his father, What begettest thou? or to the woman, What hast thou brought forth?

12.     I have made the earth, and created man upon it: I, even my hands, have stretched out the heavens, and all their host have I commanded.

13.     I have raised him up in righteousness, and I will direct all his ways.

22.     Look unto me, and be ye saved, all the ends of the earth: for I am God, and there is none else.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب 1، 10، 12، 16، 18 (اور خدا)، 21، 25، 26 (تا؛)، 27، 31 آیات (تا پہلا)۔

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

10۔ اور خُدا نے خشکی کو زمین کہا اور جو پانی جمع ہوگیا تھا اُسکو سمندر اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

12۔ تب زمین نے گھاس اور بوٹیوں کو جو اپنی اپنی جنس کے موافق بیج رکھیں اورپھلدار درختوں کو جن کے بیج اُنکی جنس کے موافق اُن میں ہیں اُگایا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

16۔ خدا نے دو بڑے نیر بنائے۔ ایک نیر اکبر کہ دن کو حکم کرے اور ایک نیر اصغرکہ رات پر حکم کرے اور اُس نے ستاروں کو بھی بنایا۔

18۔۔۔۔ اور خُدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

21۔ اور خدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قسم کے جاندار کو جو پانی سے بکثرت پیدا ہوئے تھے اُنکی جنس کے موافق اور ہر قسم کے پرندوں کو اُنکی جنس کے موافق پیدا کیا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

25۔ اور خدا نے جنگلی جانوروں اور چوپایوں کو اُنکی جنس کے موافق بنایا اور خدا نے دیکھا کہ اچھا ہے۔

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صور ت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اسکو پیدا کیا۔ نر و ناری انکو پیدا کیا۔

31۔اور خدا نے سب پر جو اس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے

1. Genesis 1 : 1, 10, 12, 16, 18 (and God), 21, 25, 26 (to :), 27, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

10     And God called the dry land Earth; and the gathering together of the waters called he Seas: and God saw that it was good.

12     And the earth brought forth grass, and herb yielding seed after his kind, and the tree yielding fruit, whose seed was in itself, after his kind: and God saw that it was good.

16     And God made two great lights; the greater light to rule the day, and the lesser light to rule the night: he made the stars also.

18     …and God saw that it was good.

21     And God created great whales, and every living creature that moveth, which the waters brought forth abundantly, after their kind, and every winged fowl after his kind: and God saw that it was good.

25     And God made the beast of the earth after his kind, and cattle after their kind, and every thing that creepeth upon the earth after his kind: and God saw that it was good.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness:

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ پیدائش 2باب6تا9، 19، 21تا23آیات

6۔بلکہ زمین سے کہر اٹھتی تھی اور تمام روی زمین کو سیراب کرتی تھی۔

7۔ اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اسکے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔

8۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا۔

9۔ اور خدا وند خدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اگایا اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک وبد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔

19۔ اور خداوند خدا نے کل دشتی جانور اور ہوا کے کل پرندے مٹی سے بنائے اور انکو آدم کے پاس لایا کہ دیکھے کہ ان کے کیا نام رکھتا ہے اور آدم نے جس جانور کو جو کہا وہی اُسکا نام ٹھہرا۔

21۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اُس نے اُس کی پسلیوں میں ایک کو نکال لیا اور اُس کی جگہ گوشت بھر دیا۔

22۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم سے نکلالی تھی ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا۔

23۔ اور آدم نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور مِیرے گوشت میں سے گوشت ہے اس لئے ناری کہلائے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔

2. Genesis 2 : 6-9, 19, 21-23

6     But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

7     And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul.

8     And the Lord God planted a garden eastward in Eden; and there he put the man whom he had formed.

9     And out of the ground made the Lord God to grow every tree that is pleasant to the sight, and good for food; the tree of life also in the midst of the garden, and the tree of knowledge of good and evil.

19     And out of the ground the Lord God formed every beast of the field, and every fowl of the air; and brought them unto Adam to see what he would call them: and whatsoever Adam called every living creature, that was the name thereof.

21     And the Lord God caused a deep sleep to fall upon Adam, and he slept: and he took one of his ribs, and closed up the flesh instead thereof;

22     And the rib, which the Lord God had taken from man, made he a woman, and brought her unto the man.

23     And Adam said, This is now bone of my bones, and flesh of my flesh: she shall be called Woman, because she was taken out of Man.

3۔ پیدائش 6باب1، 5 آیات(خدا)

1۔ جب رویِ زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور اْن کے بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

5۔اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی ہے اور اْس کے دل کے تصور اور خیال سدا برے ہی ہوتے ہیں۔

3. Genesis 6 : 1, 5 (God)

1     And it came to pass, when men began to multiply on the face of the earth, and daughters were born unto them,

5     God saw that the wickedness of man was great in the earth, and that every imagination of the thoughts of his heart was only evil continually.

4۔ یسعیاہ 60 باب 2، 4 آیات (تا پہلا:)

2۔ کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی اْمتوں پر لیکن خداوند تجھ پر طالع ہوگا اور اْس کا جلال تجھ پر نمایاں ہوگا۔

4۔ اپنی آنکھیں اٹھا کر چاروں طرف دیکھ۔

4. Isaiah 60 : 2, 4 (to 1st :)

2     For, behold, the darkness shall cover the earth, and gross darkness the people: but the Lord shall arise upon thee, and his glory shall be seen upon thee.

4     Lift up thine eyes round about, and see:

5۔ یسعیاہ 11باب9 آیت

9۔ وہ میرے تمام کوہِ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہے۔

5. Isaiah 11 : 9

9     They shall not hurt nor destroy in all my holy mountain: for the earth shall be full of the knowledge of the Lord, as the waters cover the sea.

6۔ استثنا 4باب7 (دی) (چیزیں)، 15 (تا؛)، 16تا19، 32 (چونکہ) (تاتیسرا،)، 35، 36، (تا:)، 39 آیات

7۔۔۔۔جیسا خداوند ہمارا خدا۔۔۔

15۔ سو تم اپنی خوب احتیاط رکھنا

16۔ تا نہ ہو کہ تم بگڑ کر کسی شکل یا صورت کی کھودی ہوئی مورت اپنے لئے بنا لو جس کی شبیہ کسی مرد یا عورت۔

17۔ یا زمین کے کسی حیوان یا ہوا میں اڑنے والے پرندے۔

18۔ یا زمین کے رینگنے والے جاندار یا مچھلی سے جو زمین کے نیچے پانی میں رہتی ہے ملتی ہو۔

19۔ یا جب تو آسمان کی طرف نظر کرے اور تمام اجرامِ فلک یعنی سورج اور چاند اور تاروں کو دیکھے تو گمراہ ہو کر اُن ہی کو سجدہ اور اُن کی عبادت کرنے لگے جن کو خداوند تیرے خدا نے رویِ زمین کی سب قوموں کے لیے رکھا ہے۔

32۔۔۔۔ جب سے انسان کو زمین پر پیدا کیا تب سے شروع کر کے تو اُن گذرے ایام کا حال جو تجھ سے پہلے ہو چکے پوچھ اور آسمان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دریافت کر کہ اتنی بڑی واردار کی طرح کبھی کوئی بات ہوئی یا سننے میں بھی آئی۔

35۔ یہ سب کچھ تجھ کو دکھایا گیا تا کہ تو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے اور اُس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔

36۔ اُس نے اپنی آواز آسمان میں سے تجھ کو سنائی تاکہ تجھ کو تربیت کرے۔

39۔ پس آج کے دن تو جان لے اور اِس بات کو اپنے دل میں جما لے کہ اوپر آسمان میں اور نیچے زمین پر خداوند ہی خدا ہے اور کوئی دوسرا نہیں۔

6. Deuteronomy 4 : 7 (the) (to things), 15 (to ;), 16-19, 32 (since) (to 3rd ,), 35, 36 (to :), 39

7     …the Lord our God is in all things…

15     Take ye therefore good heed unto yourselves;

16     Lest ye corrupt yourselves, and make you a graven image, the similitude of any figure, the likeness of male or female,

17     The likeness of any beast that is on the earth, the likeness of any winged fowl that flieth in the air,

18     The likeness of any thing that creepeth on the ground, the likeness of any fish that is in the waters beneath the earth:

19     And lest thou lift up thine eyes unto heaven, and when thou seest the sun, and the moon, and the stars, even all the host of heaven, shouldest be driven to worship them, and serve them, which the Lord thy God hath divided unto all nations under the whole heaven.

32     …since the day that God created man upon the earth, and ask from the one side of heaven unto the other, whether there hath been any such thing as this great thing is,

35     Unto thee it was shewed, that thou mightest know that the Lord he is God; there is none else beside him.

36     Out of heaven he made thee to hear his voice, that he might instruct thee:

39     Know therefore this day, and consider it in thine heart, that the Lord he is God in heaven above, and upon the earth beneath: there is none else.

7۔ یوحنا 8باب1، 2، 12، 19، 38، 42تا44، 46، 47 آیات(تا:)

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑپر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اُس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہِیں تعلیم دینے لگا۔

12۔یسوع نے پھر اْن سے مخاطب ہو کر کہا دنیا کا نور میں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔

19۔انہوں نے اْس سے کہا تیرا باپ کہاں ہے؟ یسوع نے جواب دیا نہ تم مجھے جانتے ہو نہ میرے باپ کو۔ اگر مجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔

38۔میں نے جو اپنے باپ کے ہاں دیکھا وہ کہتا ہوں اور تم نے جو اپنے باپ سے سنا ہے وہ کرتے ہو۔

42۔یسوع نے اْن سے کہا اگر خدا تمہارا باپ ہوتا تو تم مجھ سے محبت رکھتے اس لئے کہ میں خدا میں سے نکلا اور آیا ہوں کیونکہ میں آپ سے نہیں آیا بلکہ اْسی نے مجھے بھیجا۔

43۔تم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟ اس لئے کہ میرا کلام سن نہیں سکتے۔

44۔تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اْس میں سچائی ہے نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔

46۔تم میں کون مجھ پر گناہ ثابت کرتا ہے؟ اگر میں سچ بولتا ہوں تو میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟

47۔جو خدا سے ہوتا ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے۔ تم اس لئے نہیں سْنتے کہ خدا سے نہیں ہو۔

7. John 8 : 1, 2, 12, 19, 38, 42-44, 46, 47 (to :)

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

12     Then spake Jesus again unto them, saying, I am the light of the world: he that followeth me shall not walk in darkness, but shall have the light of life.

19     Then said they unto him, Where is thy Father? Jesus answered, Ye neither know me, nor my Father: if ye had known me, ye should have known my Father also.

38     I speak that which I have seen with my Father: and ye do that which ye have seen with your father.

42     Jesus said unto them, If God were your Father, ye would love me: for I proceeded forth and came from God; neither came I of myself, but he sent me.

43     Why do ye not understand my speech? even because ye cannot hear my word.

44     Ye are of your father the devil, and the lusts of your father ye will do. He was a murderer from the beginning, and abode not in the truth, because there is no truth in him. When he speaketh a lie, he speaketh of his own: for he is a liar, and the father of it.

46     Which of you convinceth me of sin? And if I say the truth, why do ye not believe me?

47     He that is of God heareth God’s words:

8۔ 1یوحنا 4باب4 (تا دوسرا،)، 6 آیات (تا؛)

4۔اے بچو! تم خدا سے ہو۔

6۔ہم خدا سے ہیں۔ جو خدا کو جانتا ہے وہ ہماری سنتا ہے۔

8. I John 4 : 4 (to 2nd ,), 6 (to ;)

4     Ye are of God, little children,

6     We are of God: he that knoweth God heareth us;

9۔ 1یوحنا 5باب4 (تا:)، 18 آیات

4 ۔ جو خدا سے پیدا ہوا ہے وہ دنیا پر غالب آتا ہے۔

18۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ گناہ نہیں کرتا بلکہ اْس کی حفاظت وہ کرتا ہے جو خدا سے پیدا ہوااور وہ شریر اْسے چھونے نہیں پاتا۔

9. I John 5 : 4 (to :), 18

4     For whatsoever is born of God overcometh the world:

18     We know that whosoever is born of God sinneth not; but he that is begotten of God keepeth himself, and that wicked one toucheth him not.

10۔ عبرانیوں 1باب8 (تیری)، 10 آیات

8۔ اے خدا تیرا تخت ابدالا ٓباد رہے گا اور تیری بادشاہی کا عصا راستی کا عصا ہے۔

10۔اور یہ کہ اے خداوند تْو نے ابتدا میں زمین کی نیو ڈالی اور آسمان تیری ہاتھ کی کاریگری ہیں۔

10. Hebrews 1 : 8 (Thy), 10

8     Thy throne, O God, is for ever and ever: a sceptre of righteousness is the sceptre of thy kingdom.

10     And, Thou, Lord, in the beginning hast laid the foundation of the earth; and the heavens are the works of thine hands:



سائنس اور صح


1۔ 331: 11 (خدا) صرف، 18 (وہ)۔22 (تا،)

خدا حاکم کل ہے۔

وہ الٰہی اصول، محبت، عالمگیر وجہ، واحد خالق ہے، اور کوئی دوسرا خود کار موجود نہیں ہے۔ وہ شاملِ کْل ہے، اور سب جو کچھ ابدی اور حقیقی ہے اْس کے وسیلہ وہ منعکس ہوتا ہے کسی اور چیز سے نہیں۔ وہ سارا خلا پْر کرتا ہے۔

1. 331 : 11 (God) only, 18 (He)-22 (to ,)

God is All-in-all.

He is divine Principle, Love, the universal cause, the only creator, and there is no other self-existence. He is all-inclusive, and is reflected by all that is real and eternal and by nothing else. He fills all space,

2۔ 339: 7 (چونکہ)۔8

چونکہ خدا ہی سب کچھ ہے، تو اْس کے عدم احتمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

2. 339 : 7 (Since)-8

Since God is All, there is no room for His unlikeness.

3۔ 525: 17۔29

یوحنا کی انجیل میں، یہ واضح کیا گیا ہے کہ سبھی چیزیں خدا کے کلمہ سے وجود میں آئیں، ”اور جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس (لوگوس، کلمہ)کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔“ہر اچھی اور قابل قدر چیز خدا نے بنائی۔ جو کچھ بھی فالتو اور نقصان دہ چیز ہے، وہ اْس نے نہیں بنائی، لہٰذہ وہ غیر حقیقی ہے۔ پیدائش کی سائنس میں ہم پڑھتے ہیں کہ جو کچھ اْس نے بنایا تھا اْس پر نظر کی ”اور دیکھا کہ اچھا ہے۔“ دوسری صورت میں جسمانی حواس یہ واضح کرتے ہیں، اگر ہم غلطی کی تاریخ کو سچائی کے ریکارڈ کی مانند توجہ دیتے ہیں،تو گناہ اور بیماری کا روحانی ریکارڈ مادی حواس کے جھوٹے نتیجے کی حمایت کرتا ہے۔ گناہ، بیماری اور موت کو حقیقت سے خالی تصور کیا جانا چاہئے جیسے کہ وہ اچھائی، یعنی خدا سے خالی ہیں۔

3. 525 : 17-29

In the Gospel of John, it is declared that all things were made through the Word of God, "and without Him [the logos, or word] was not anything made that was made." Everything good or worthy, God made. Whatever is valueless or baneful, He did not make, — hence its unreality. In the Science of Genesis we read that He saw everything which He had made, "and, behold, it was very good." The corporeal senses declare otherwise; and if we give the same heed to the history of error as to the records of truth, the Scriptural record of sin and death favors the false conclusion of the material senses. Sin, sickness, and death must be deemed as devoid of reality as they are of good, God.

4۔ 262: 27۔ 28 (تا دوسرا)، 30۔32

فانی مخالفت کی بنیاد انسانی ابتداء کا جھوٹا فہم ہے۔ درست طور پر شروع کرنا درست طور پر آخر ہونا ہے۔ ۔۔۔الٰہی عقل ہی وجودیت کی واحدوجہ یا اصول ہے۔ وجہ مادے میں، فانی عقل میں یا جسمانی شکل میں موجود نہیں ہے۔

4. 262 : 27-28 (to 2nd .), 30-32

The foundation of mortal discord is a false sense of man's origin. To begin rightly is to end rightly.      Divine Mind is the only cause or Principle of existence. Cause does not exist in matter, in mortal mind, or in physical forms.

5۔ 521: 26۔2

پیدائش کے دوسرے باب میں خدا اور کائنات کے اس مادی نظریے کا بیان پایا جاتا ہے، وہ بیان جو جیسے پہلے ریکارڈ ہوئی اْسی سائنسی سچائی کے عین متضاد ہے۔ مادے یا غلطی کی تاریخ، اگر اصلی ہے تو، قادرِ مطلق کی روح کو ایک طرف کر دے گی، لیکن یہ حقیقت کے خلاف جھوٹی تاریخ ہے۔

5. 521 : 26-2

The second chapter of Genesis contains a statement of this material view of God and the universe, a statement which is the exact opposite of scientific truth as before recorded. The history of error or matter, if veritable, would set aside the omnipotence of Spirit; but it is the false history in contradistinction to the true.

6۔ 119: 1۔16

جب ہم مبہم روحانی قوت کو وقف کر دیتے ہیں، یعنی کہ، جب ہم ایسا اپنے نظریات میں کرتے ہیں، تو بے شک ہم مادے کو جو کچھ یہ نہیں رکھتا یا نہیں رکھ سکتا اْس کے ساتھ حقیقتاً وقف نہیں کر سکتے، ہم قادر مطلق کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ ایسے نظریات دونوں میں سے ایک کی جانب گامزن کرتے ہیں۔ یاتو یہ مادے کے خود کار ارتقا اور خود کار حکمرانی کی پیش قدمی کرتے ہیں یا پھر یہ فرض کرتے ہیں کہ ماداروح کی پیداوار ہے۔ اس دوہری مشکل کی پہلی شاخ کو ترک کرنا اور خود کی اور خود میں مادے کو بطور طاقت تصور کرنا، خالق کو اْسی کی کائنات سے خارج کرنے کے مترادف ہے؛ جبکہ اس دوہری مشکل کی دوسری شاخ کو اپنانا اور خدا کو مادے کے خالق کے طور پر اہمیت دینا، نہ صر ف اْسے تمام تر تباہ کاریوں، جسمانی اور اخلاقی، کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے، بلکہ اْسے اِن کے منبع کے طور پر مشہور کرنا بھی ہے، اور اس طرح اْسے قدرتی قانون کے تحت اور شکل میں مسلسل بدنظمی کو جاری رکھنے کا قصور وار بنانا ہے۔

6. 119 : 1-16

When we endow matter with vague spiritual power, — that is, when we do so in our theories, for of course we cannot really endow matter with what it does not and cannot possess, — we disown the Almighty, for such theories lead to one of two things. They either presuppose the self-evolution and self-government of matter, or else they assume that matter is the product of Spirit. To seize the first horn of this dilemma and consider matter as a power in and of itself, is to leave the creator out of His own universe; while to grasp the other horn of the dilemma and regard God as the creator of matter, is not only to make Him responsible for all disasters, physical and moral, but to announce Him as their source, thereby making Him guilty of maintaining perpetual misrule in the form and under the name of natural law.

7۔ 522: 30۔ 31، 32۔1

کیا خالق اپنی ہی مخلوق کو ہلاک کرتا ہے؟۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔

7. 522 : 30-31, 32-1

Does the creator condemn His own creation? ...It cannot be so.

8۔ 230: 11۔18

یہ خدا سے متعلق ہمارے اِن اعلیٰ خیالات کے الٹ ہوگا کہ اْسے پہلے قانون اور وجہ بننے کے قابل تصور کرنا کہ بدکار نتائج پیدا ہوں اور پھر لوگ جو کام کرنے سے باز نہیں آسکتے وہ کرتے ہوئے اْس کی حکم عدولی کرنے والے لاچاروں کووہ سزا دیتا ہے۔اچھائی تجرباتی گناہ کی مصنف نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ خدا، اچھائی بیماری پیدا نہیں کر سکتا جیسے بھلائی بدی کا موجب اور صحت بیماری نہیں لا سکتی۔

8. 230 : 11-18

It would be contrary to our highest ideas of God to suppose Him capable of first arranging law and causation so as to bring about certain evil results, and then punishing the helpless victims of His volition for doing what they could not avoid doing. Good is not, cannot be, the author of experimental sins. God, good, can no more produce sickness than goodness can cause evil and health occasion disease.

9۔ 207: 9۔ 14، 20۔26

ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ بدی ہولناک فریب اور غیر حقیقی وجودیت ہے۔ بدی اعلیٰ نہیں ہے؛ اچھائی لاچار نہیں ہے؛ نہ ہی مادے کے نام نہاد قوانین پہلے اور روح کے قوانین دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس سبق کے بغیر، ہم کامل باپ یا انسان کے الٰہی اصول سے اپنی نظر ہٹا دیتے ہیں۔

یہاں صرف ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس لئے کسی اور وجہ کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا، اور یہاں صفر میں کوئی حقیقت نہیں ہو سکتی جو اس اعلیٰ اور واحد وجہ سے ماخوذ نہیں ہو سکتی۔گناہ، بیماری اور موت ہستی کی سائنس سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ غلطیاں ہیں، جو سچائی، زندگی یا محبت کا قیاس کرتی ہیں۔

9. 207 : 9-14, 20-26

We must learn that evil is the awful deception and unreality of existence. Evil is not supreme; good is not helpless; nor are the so-called laws of matter primary, and the law of Spirit secondary. Without this lesson, we lose sight of the perfect Father, or the divine Principle of man.

There is but one primal cause. Therefore there can be no effect from any other cause, and there can be no reality in aught which does not proceed from this great and only cause. Sin, sickness, disease, and death belong not to the Science of being. They are the errors, which presuppose the absence of Truth, Life, or Love.

10۔ 356: 19۔23

خدا ایسے ہی گناہ، بیماری اور موت پیدا کرنے کے قابل نہیں جیسے وہ ان غلطیوں کا تجربہ کرنے کے قابل نہیں۔ پھر اْس کے لئے اس غلطیوں کے ترازو کے ماتحت رہنے والا انسان بنانا کیسے ممکن تھا، یعنی وہ انسان جسے الٰہی صورت پر بنایا گیا ہے؟

10. 356 : 19-23

God is as incapable of producing sin, sickness, and death as He is of experiencing these errors. How then is it possible for Him to create man subject to this triad of errors, -— man who is made in the divine likeness?

11۔ 357: 7۔13 (تا؛)

یسوع نے مجسم بدی سے متعلق کہا کہ یہ ”جھوٹا ہے، اور جھوٹ کا باپ ہے۔“ سچ نہ جھوٹ کو، جھوٹ کی لیاقت کو پیدا کرتا ہے نہ جھوٹے کو پیدا کرتاہے۔ اگر انسان یہ یقین رکھنا چھوڑ دے کہ خدا بیماری، گناہ اور موت کو بناتا ہے یا انسان کو اس دروہی ترازو کی تکلیفوں کے قابل بناتا ہے تو غلطی کی بنیادیں زائل ہو جائیں گی اور غلطی کی تباہی یقینی ہو گی۔

11. 357 : 7-13 (to ;)

Jesus said of personified evil, that it was "a liar, and the father of it." Truth creates neither a lie, a capacity to lie, nor a liar. If mankind would relinquish the belief that God makes sickness, sin, and death, or makes man capable of suffering on account of this malevolent triad, the foundations of error would be sapped and error's destruction ensured;

12۔ 554: 24 (یسوع)۔ 28

یسوع نے یہ کبھی نہیں کہا کہ خدا نے شیطان کو بنایا بلکہ اْس نے کہا، ”تم اپنے باپ ابلیس سے ہو۔“ ان سب اقوال کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ مادے میں عقل خود کی مصنف ہے، اور سادہ طور پر جھوٹ اور فریب ہے۔

12. 554 : 24 (Jesus)-28

Jesus never intimated that God made a devil, but he did say, "Ye are of your father, the devil." All these sayings were to show that mind in matter is the author of itself, and is simply a falsity and illusion.

13۔ 469: 13 (دی)۔ 17

غلطی کو نیست کرنے والی اعلیٰ سچائی خدا یعنی اچھائی واحد عقل ہے اور یہ کہ لامحدود عقل کی جعلی مخالف، جسے شیطان یا بدی کہا جاتا ہے، عقل نہیں، سچائی نہیں بلکہ غلطی ہے، جو حقیقت اور ذہانت سے عاری ہے۔

13. 469 : 13 (The)-17

The exterminator of error is the great truth that God, good, is the only Mind, and that the supposititious opposite of infinite Mind — called devil or evil — is not Mind, is not Truth, but error, without intelligence or reality.

14۔ 513: 27۔6

نام نہاد فانی عقل، غیر موجود ہوتے ہوئے اور مسلسل لافانی وجود کے دائرہ میں نہ ہوتے ہوئے، مصنوعی طاقت کی نقل کرتے ہوئے الٰہی تخلیق کو تبدیل نہیں کر سکتی، اور اس کے بعد خود کی سطح پر اشخاص یا چیزوں کو دوبارہ خلق نہیں کر سکتی، کیونکہ شامل ِکْل لامحدودیت کے دائرہ سے کچھ بھی باہر نہیں، جس میں اور جس کا خدا ہی واحد خالق ہے۔

14. 513 : 27-6

So-called mortal mind — being non-existent and consequently not within the range of immortal existence — could not by simulating deific power invert the divine creation, and afterwards recreate persons or things upon its own plane, since nothing exists beyond the range of all-inclusive infinity, in which and of which God is the sole creator.

15۔ 583: 20 (تا)، 24۔25

خالق۔ ۔۔۔خدا جس نے وہ سب کچھ خلق کیا جو خلق ہوا ہے اور جو خود کے مخالف ایک بھی ایٹم یا ایک بھی عنصر خلق نہ کر سکا۔

15. 583 : 20 (to .), 24-25

Creator. …God, who made all that was made and could not create an atom or an element the opposite of Himself.

16۔ 264: 13۔20

جب بشر خدا اور انسان، جو تخلیق کی کثیر چیزیں ہیں، ان سے متعلق مزید درست خیالات پا لیتے ہیں، تو جو پہلے پوشیدہ تھا اب نموداربن جائے گا۔ جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی روح ہے، نہ مادے میں اور نہ مادے سے، یہ فہم، خدا، یعنی اچھائی میں سب کچھ ڈھونڈتے ہوئے اور کسی اور شعور کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے، خود کار تکمیل میں وسعت پائے گا۔

روح اور اْس کی اشکال ہی ہستی کی واحد حقیقتیں ہیں۔

16. 264 : 13-20

As mortals gain more correct views of God and man, multitudinous objects of creation, which before were invisible, will become visible. When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.

Spirit and its formations are the only realities of being.

17۔ 521: 5۔6

وہ سب کچھ جو خلق ہوا خدا کا کام ہے اور سب اچھا ہے۔

17. 521 : 5-6

All that is made is the work of God, and all is good.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████