اتوار 9 مئی،2021



مضمون۔ آدم اور گناہگار انسان

SubjectAdam and Fallen Man

سنہری متن: یعقوب 1باب18آیت

”اْس نے اپنی مرضی سے ہمیں اپنے کلامِ حق کے وسیلہ سے پیدا کیا تاکہ اْس کی مخلوقات میں سے ہر ایک طرح کے پہلے پھل ہوں۔“



Golden Text: James 1 : 18

Of his own will begat he us with the word of truth, that we should be a kind of firstfruits of his creatures.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 65باب18، 19، 21تا24 آیات


18۔ بلکہ تم میری اِس نئی نسل سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو۔ کیونکہ دیکھو مَیں یروشلیم کو خوشی اور اْس کے لوگوں کو خرمی بناؤں گا۔

19۔ اور مَیں یروشلیم سے خوش اور اپنے لوگوں سے مسرور ہوں گا اور اْس میں رونے کی صدا اور نالے کی آواز پھر کبھی نہ دے گی۔

21۔ وہ گھر بنائیں گے اور اْن میں بسیں گے۔ تاکستان لگائیں گے اوراْن کے میوے کھائیں گے۔

22۔ نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرے کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت کے ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مدتوں تک فائدہ اٹھائیں گے۔

23۔ اْن کی محنت بے سود نہ ہوگی اور اْن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہوگی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوند کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔

24۔ اور یوں ہوگا کہ مَیں اْن کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکے گے کہ مَیں سن لوں گا۔

Responsive Reading: Isaiah 65 : 18, 19, 21-24

18.     Be ye glad and rejoice for ever in that which I create: for, behold, I create Jerusalem a rejoicing, and her people a joy.

19.     And I will rejoice in Jerusalem, and joy in my people: and the voice of weeping shall be no more heard in her, nor the voice of crying.

21.     And they shall build houses, and inhabit them; and they shall plant vineyards, and eat the fruit of them.

22.     They shall not build, and another inhabit; they shall not plant, and another eat: for as the days of a tree are the days of my people, and mine elect shall long enjoy the work of their hands.

23.     They shall not labour in vain, nor bring forth for trouble; for they are the seed of the blessed of the Lord, and their offspring with them.

24.     And it shall come to pass, that before they call, I will answer; and while they are yet speaking, I will hear.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 8: 1، 3تا6 آیات

1۔ اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تْو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا۔

3۔ جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تْو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔

4۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تْو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تْو اْس کی خبر لے؟

5۔ کیونکہ تْو نے اْسے خدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اْسے تاجدار کرتا ہے۔

6۔ تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔

1. Psalm 8 : 1, 3-6

1     O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth! who hast set thy glory above the heavens.

3     When I consider thy heavens, the work of thy fingers, the moon and the stars, which thou hast ordained;

4     What is man, that thou art mindful of him? and the son of man, that thou visitest him?

5     For thou hast made him a little lower than the angels, and hast crowned him with glory and honour.

6     Thou madest him to have dominion over the works of thy hands; thou hast put all things under his feet:

2۔ پیدائش 1باب26، 28 (تا:)، 31 (تا پہلا) آیات

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

28۔ خدا نے اْن کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور ومحکوم کرو۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

2. Genesis 1 : 26, 28 (to :), 31 (to 1st .)

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

28     And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it:

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

3۔ پیدائش 2باب6تا9، 16، 17 آیات

6۔ بلکہ زمین سے کہر اْٹھتی تھی اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔

7۔ اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اْس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔

8۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو جسے اْس نے بنایا تھا وہاں رکھا۔

9۔ اور خداوند خدا نے ہر درخٹ کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اگایا اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔

16۔ اور خداوند نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تْو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔

17۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تْو نے اْس میں سے کھایا تْو مرا۔

3. Genesis 2 : 6-9, 16, 17

6     But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

7     And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul.

8     And the Lord God planted a garden eastward in Eden; and there he put the man whom he had formed.

9     And out of the ground made the Lord God to grow every tree that is pleasant to the sight, and good for food; the tree of life also in the midst of the garden, and the tree of knowledge of good and evil.

16     And the Lord God commanded the man, saying, Of every tree of the garden thou mayest freely eat:

17     But of the tree of the knowledge of good and evil, thou shalt not eat of it: for in the day that thou eatest thereof thou shalt surely die.

4۔ پیدائش 3 باب 1تا7، 9تا13، 23، 24 آیات

1۔سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اْس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کاپھل تم نہ کھانا؟

2۔ عور ت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔

3۔ پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اْس کے پھل کی بابت خدا نے کہا کہ تم نہ تو اْسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جاؤ گے۔

4۔ تب سانپ نے عورت سے کہا تم ہر گز نہ مرو گے۔

5۔ بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اْسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔

6۔عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اْس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اْس نے کھایا۔

7۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اْن کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور اْنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لْنگیاں بنائیں۔

9۔تب خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور اُس سے کہا کہ تْو کہاں ہے؟

10۔ اُس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔

11۔ اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تُو ننگا ہے؟ کیا تُو نے اُس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کو حکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟

12۔ آدم نے کہا جس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔

13۔ تب خدا وند خدا نے عورت سے کہا کہ تُو نے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔

23۔ اِس لئے خداوند خدا نے اْس کو باغِ عدن سے باہر کر دیا تاکہ وہ اْس زمین کی جس میں سے وہ لیا گیا تھا کھیتی کرے۔

24۔ چنانچہ اُس نے آدم کو نکال دیا اور باغِ عدن کے مشرق کی طرف کروبیون کو اور چوگرد گھومنے والی شعلہ زن تلوار کو رکھا کہ وہ زندگی کے درخت کی راہ کی حفاظت کریں۔

4. Genesis 3 : 1-7, 9-13, 23, 24

1     Now the serpent was more subtil than any beast of the field which the Lord God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall not eat of every tree of the garden?

2     And the woman said unto the serpent, We may eat of the fruit of the trees of the garden:

3     But of the fruit of the tree which is in the midst of the garden, God hath said, Ye shall not eat of it, neither shall ye touch it, lest ye die.

4     And the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die:

5     For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil.

6     And when the woman saw that the tree was good for food, and that it was pleasant to the eyes, and a tree to be desired to make one wise, she took of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her; and he did eat.

7     And the eyes of them both were opened, and they knew that they were naked; and they sewed fig leaves together, and made themselves aprons.

9     And the Lord God called unto Adam, and said unto him, Where art thou?

10     And he said, I heard thy voice in the garden, and I was afraid, because I was naked; and I hid myself.

11     And he said, Who told thee that thou wast naked? Hast thou eaten of the tree, whereof I commanded thee that thou shouldest not eat?

12     And the man said, The woman whom thou gavest to be with me, she gave me of the tree, and I did eat.

13     And the Lord God said unto the woman, What is this that thou hast done? And the woman said, The serpent beguiled me, and I did eat.

23     Therefore the Lord God sent him forth from the garden of Eden, to till the ground from whence he was taken.

24     So he drove out the man; and he placed at the east of the garden of Eden Cherubims, and a flaming sword which turned every way, to keep the way of the tree of life.

5۔ امثال 30باب5، 6 آیات

5۔ خدا کا ہر ایک سخن پاک ہے جن کا توکل اْس پر ہے۔

6۔تْو اْس کے کلام میں کچھ نہ بڑھانا۔ مبادا وہ تجھ کو تنبیہ کرے اور تو جھوٹا ٹھہرے۔

5. Proverbs 30 : 5, 6

5     Every word of God is pure: he is a shield unto them that put their trust in him.

6     Add thou not unto his words, lest he reprove thee, and thou be found a liar.

6۔ زبور 51: 1، 2، 10تا12 آیات

1۔اے خدا اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق میری خطائیں مٹادے۔

2۔ میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔

10۔ اے خدا میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

11۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر اور اپنی پاک روح کو مجھ سے جدا نہ کر۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

6. Psalm 51 : 1, 2, 10-12

1     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

2     Wash me throughly from mine iniquity, and cleanse me from my sin.

10     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

11     Cast me not away from thy presence; and take not thy holy spirit from me.

12     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.

7۔ افسیوں 4باب17، 18، 23، 24 آیات

17۔ اِس لئے مَیں یہ کہتا ہوں اور خداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیر قومیں اپنے بیہودہ خیالات کے مطابق چلتی ہے تم آیندہ کو اْس طرح نہ چلنا۔

18۔ کیونکہ اْن کی عقل تاریک ہو گئی ہے اور وہ اْس نادانی کے سبب سے جو اْن میں ہے اور اپنے دلوں کی سختی کے باعث خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔

23۔ اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔

24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔

7. Ephesians 4 : 17, 18, 23, 24

17     This I say therefore, and testify in the Lord, that ye henceforth walk not as other Gentiles walk, in the vanity of their mind,

18     Having the understanding darkened, being alienated from the life of God through the ignorance that is in them, because of the blindness of their heart:

23     And be renewed in the spirit of your mind;

24     And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.

8۔ 2کرنتھیوں 5باب1، 6تا8 آیات

1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلا وطن ہیں۔

7۔ کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

8. II Corinthians 5 : 1, 6-8

1     For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

9۔ 1 کرنتھیوں 15باب22 آیت

22۔ اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔

9. I Corinthians 15 : 22

22     For as in Adam all die, even so in Christ shall all be made alive.



سائنس اور صح


1۔ 516 :9۔13، 19۔23

خدا تمام چیزوں کو اپنی شبیہ پر بناتا ہے۔ زندگی وجودیت سے، سچ راستی سے، خدا نیکی سے منعکس ہوتا ہے، جو خود کی سلامتی اور استقلال عنایت کرتے ہیں۔ محبت، بے غرضی سے معطر ہو کر، سب کو خوبصورتی اور روشنی سے غسل دیتی ہے۔۔۔ انسان، اْس کی شبیہ پر خلق کئے جانے سے پوری زمین پر خدا کی حاکمیت کی عکاسی کرتا اور ملکیت رکھتا ہے۔آدمی اور عورت بطور ہمیشہ کے لئے خدا کے ساتھ ابدی اور ہم عصر، جلالی خوبی میں، لامحدود مادر پدر خدا کی عکاسی کرتے ہیں۔

1. 516 : 9-13, 19-23

God fashions all things, after His own likeness. Life is reflected in existence, Truth in truthfulness, God in goodness, which impart their own peace and permanence. Love, redolent with unselfishness, bathes all in beauty and light.… Man, made in His likeness, possesses and reflects God's dominion over all the earth. Man and woman as coexistent and eternal with God forever reflect, in glorified quality, the infinite Father-Mother God.

2۔ 517 :31۔4 (تا پہلا)

انسان مٹی جوتنے کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔ اْس کا پیدائشی حق محکومی نہیں حکمرانی ہے۔وہ زمین اور آسمان پر عقیدے کا حاکم ہے، جو خود صرف اپنے خالق کے ماتحت ہے۔

2. 517 : 31-4 (to 1st .)

Man is not made to till the soil. His birthright is dominion, not subjection. He is lord of the belief in earth and heaven, — himself subordinate alone to his Maker.

3۔ 200 :9۔13

زندگی ہمیشہ مادے سے آزاد ہے، تھی اور ہمیشہ رہے گی،کیونکہ زندگی خدا ہے اور انسان خدا کا تصور ہے، جسے مادی طور پر نہیں بلکہ روحانی طور پر خلق کیا گیا، اور وہ فنا ہونے اور نیست ہونے سے مشروط نہیں۔

3. 200 : 9-13

Life is, always has been, and ever will be independent of matter; for life is God, and man is the idea of God, not formed materially but spiritually, and not subject to decay and dust.

4۔ 519 :3۔6

خدا اپنے کام سے مطمین تھا۔ وہ اپنی لافانی خود ساختگی اور لافانی حکمت کا اجرا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ روحانی تخلیق اِس کا شاخسانہ تھی؟

4. 519 : 3-6

Deity was satisfied with His work. How could He be otherwise, since the spiritual creation was the outgrowth, the emanation, of His infinite self-containment and immortal wisdom?

5۔ 216 :18۔21

بشر کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ انسان، یعنی خدا کی شبیہ اور صورت، کو مادہ اور روح، اچھائی اور بدی دونوں فرض کرتا ہے۔

5. 216 : 18-21

The great mistake of mortals is to suppose that man, God's image and likeness, is both matter and Spirit, both good and evil.

6۔ 521 :21۔22، 26۔29

پیدائش 2باب6 آیت: بلکہ زمین سے کْہر اٹھتی تھی اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔

پیدائش کے دوسرے باب میں خدا اور کائنات کے اس مادی نظریے کا بیان پایا جاتا ہے، وہ بیان جو جیسے پہلے ریکارڈ ہوئی اْسی سائنسی سچائی کے عین متضاد ہے۔

6. 521 : 21-22, 26-29

Genesis ii. 6. But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

The second chapter of Genesis contains a statement of this material view of God and the universe, a statement which is the exact opposite of scientific truth as before recorded.

7۔ 522 :5۔17

پہلے ریکارڈ کی سائنس دوسرے ریکارڈ کے جھوٹ کو ثابت کرتی ہے۔ اگر ایک حقیقی ہے تو دوسرا جھوٹا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔پہلاریکارڈ ساری طاقت اور حکمرانی خدا کو سونپتا ہے، اور انسان کو خدا کی کاملیت اور قوت سے شبیہ دیتا ہے۔دوسرا ریکارڈ انسان کو قابل تغیر اور لافانی، بطور اپنے دیوتا سے الگ ہوا اور اپنے ہی مدار میں گھومتا ہوا، تحریر کرتا ہے۔وجودیت کو، الوہیت سے الگ، سائنس بطور ناممکن واضح کر تی ہے۔

یہ دوسرا ریکارڈ بے تکلفی کے ساتھ اْس کی اْن ٹھوس اشکال میں غلطی کی تاریخ بیان کرتا ہے جنہیں مادے میں ذہانت اور زندگی کہا جاتا ہے۔یہ الٰہی روح کی بالادستی کے مخالف، شرک کو بیان کرتا ہے؛ مگر اِس صورت حال کوعارضی اور انسان کو فانی واضح کیا گیا ہے۔

7. 522 : 5-17

The first record assigns all might and government to God, and endows man out of God's perfection and power. The second record chronicles man as mutable and mortal, — as having broken away from Deity and as revolving in an orbit of his own. Existence, separate from divinity, Science explains as impossible.

This second record unmistakably gives the history of error in its externalized forms, called life and intelligence in matter. It records pantheism, opposed to the supremacy of divine Spirit; but this state of things is declared to be temporary and this man to be mortal, — dust returning to dust.

8۔ 580 :21۔27

آدم نام اِس جھوٹے عقیدے کو پیش کرتا ہے کہ زندگی ابدی نہیں ہے، بلکہ اِس کا آغاز اور انجام ہے؛ کہ لامتناہی متناہی میں شامل ہوتا ہے، کہ ذہانت غیر ذہانت میں سے گزرتی ہے، اور کہ روح مادی فہم میں بستی ہے؛ کہ فانی عقل مادے کو اور مادا فانی عقل سے ماخوذ ہوتا ہے؛ کہ واحد خدا اور خالق اْس میں شامل ہوا جسے اْس نے خلق کیا اور پھر مادے کی غیر مذہبیت میں غائب ہوا۔

8. 580 : 21-27

The name Adam represents the false supposition that Life is not eternal, but has beginning and end; that the infinite enters the finite, that intelligence passes into non-intelligence, and that Soul dwells in material sense; that immortal Mind results in matter, and matter in mortal mind; that the one God and creator entered what He created, and then disappeared in the atheism of matter.

9۔ 307 :7۔16، 26۔13

بدی ابھی بھی خود کو عقل ثابت کرتی ہے، اور یہ وضاحت کرتی ہے کہ ایک سے زیادہ ذہانت یا خدا موجود ہے۔ یہ کہتی ہے: ”یہاں بہت خداوند اور بہت سے خدا ہوں گے۔ میں یہ واضح کرتی ہوں کہ خدا بدکار عقلیں اور بدروحیں بناتا ہے اور میں اْس کی مدد کرتی ہوں۔ سچائی سمتیں بدلے گی اور روح کے برعکس ہوگی۔ جسے میں مادا کہتی ہوں اْس میں مَیں روح ڈالوں گی، اور اْس مادے میں ویسے ہی زندگی دکھائی دے گی جیسے خدا یعنی اْس روح میں ہے جو واحد زندگی ہے۔“

اِس غلطی نے خود کو غلطی ثابت کر دیا ہے۔ اِس کی زندگی،زندگی نہیں ہے، بلکہ اْس وجودیت کا عارضی، جھوٹا فہم ہے جس کا انجام موت ہوتا ہے۔

انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین، فہم کے بلند آئین میں ہے۔

غلطی کی زور دار گونج، سیاہی اور افراتفری سے ہٹ کر سچائی کی آواز ابھی بھی بلاتی ہے: ”آدم، تو کہاں ہے؟ شعور، تو کہاں ہے؟کیا تم اس یقین میں زندہ رہتے ہوکہ عقل مادے میں ہے، اور کہ بدی عقل ہے، یا کیا تم اس زندہ ایمان میں رہتے ہوکہ یہاں ماسوائے ایک خدا کے اور کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے، اور اْس کے حکموں پر عمل کر رہے ہو؟“جب تک یہ سبق نہیں سیکھ لیا جاتا کہ خدا ہی انسان پر حکومت کرنے والی واحد عقل ہے، فانی عقیدہ خوفزدہ ہی رہے گا جیسا کہ یہ ابتدا میں تھا اور یہ اس طلب سے چھپا رہے گا کہ، ”تْو کہاں ہے؟“یہ رعب زدہ مانگ کہ ”اے آدم، تْو کہاں ہے؟“ سر، دل، پیٹ، خون، اننتڑیوں وغیرہ کی باریابی سے پوری ہوتی ہے کہ: ”دیکھ، میں یہاں ہوں، بدن میں خوشی اور زندگی کو تلاش کرتا ہوا، مگر صرف ایک بھرم، جھوٹے دعوں، جھوٹی خوشی، درد، گناہ، بیماری اور موت کی ملاوٹ کو ہی پاتے ہوئے۔“

9. 307 : 7-16, 26-13

Evil still affirms itself to be mind, and declares that there is more than one intelligence or God. It says: "There shall be lords and gods many. I declare that God makes evil minds and evil spirits, and that I aid Him. Truth shall change sides and be unlike Spirit. I will put spirit into what I call matter, and matter shall seem to have life as much as God, Spirit, who is the only Life."

This error has proved itself to be error. Its life is found to be not Life, but only a transient, false sense of an existence which ends in death.

Man was not created from a material basis, nor bidden to obey material laws which Spirit never made; his province is in spiritual statutes, in the higher law of Mind.

Above error's awful din, blackness, and chaos, the voice of Truth still calls: "Adam, where art thou? Consciousness, where art thou? Art thou dwelling in the belief that mind is in matter, and that evil is mind, or art thou in the living faith that there is and can be but one God, and keeping His commandment?" Until the lesson is learned that God is the only Mind governing man, mortal belief will be afraid as it was in the beginning, and will hide from the demand, "Where art thou?" This awful demand, "Adam, where art thou?" is met by the admission from the head, heart, stomach, blood, nerves, etc.: "Lo, here I am, looking for happiness and life in the body, but finding only an illusion, a blending of false claims, false pleasure, pain, sin, sickness, and death."

10۔ 282 :28۔31

جو کچھ بھی انسان کے گناہ یا خدا کے مخالف یا خدا کی غیر موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ آدم کا خواب ہے، جو نہ ہی عقل ہے اورنہ انسان ہے، کیونکہ یہ باپ کا اکلوتا نہیں ہے۔

10. 282 : 28-31

Whatever indicates the fall of man or the opposite of God or God's absence, is the Adam-dream, which is neither Mind nor man, for it is not begotten of the Father.

11۔ 545 :27۔5

سچائی کا غلطی، گناہ، بیماری اور موت کو صرف ایک ہی جواب ہے:”تو خاک (عدم) ہے اور خاک(عدم) ہی میں لوٹ جائے گا۔“

”جیسے آدم]غلطی[ میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح ]سچائی[ میں سب زندہ کئے جائیں گے۔“ انسان کی فانیت ایک افسانہ ہے، کیونکہ انسان لافانی ہے۔ یہ جھوٹا عقیدہ کہ روح اب مادے میں ڈوبی ہوئی ہے، کہ آنے والے کسی بھی وقت میں یہ اِس سے آزاد ہوجائے گی، صرف یہ عقیدہ ہی فانی ہے۔ روح یعنی خدا کبھی جنم نہیں لیتا، بلکہ ”وہ کل اور آج بلکہ ابد تک یکساں ہے۔“

11. 545 : 27-5

Truth has but one reply to all error, — to sin, sickness, and death: "Dust [nothingness] thou art, and unto dust [nothingness] shalt thou return."

"As in Adam [error] all die, even so in Christ [Truth] shall all be made alive." The mortality of man is a myth, for man is immortal. The false belief that spirit is now submerged in matter, at some future time to be emancipated from it, — this belief alone is mortal. Spirit, God, never germinates, but is "the same yesterday, and to-day, and forever."

12۔ 265 :5۔15

بشر کو خدا کی جانب راغب ہونا چاہئے، تو اْن کے مقاصد اور احساسات روحانی ہوں گے، انہیں ہستی کی تشریحات کو وسعت کے قریب تر لانا چاہئے، اور لامتناہی کا مناسب ادراک پانا چاہئے، تاکہ گناہ اور فانیت کو ختم کیا جا سکے۔

ہستی کا یہ سائنسی فہم، روح کے لئے مادے کو ترک کرتے ہوئے، کسی وسیلہ کے بغیر الوہیت میں انسان کے سوکھے پن اوراْس کی شناخت کی گمشْدگی کی تجویز دیتا ہے، لیکن انسان پر ایک وسیع تر انفرادیت نچھاور کرتا ہے،یعنی اعمال اور خیالات کا ایک بڑا دائرہ، وسیع محبت اور ایک بلند اورمزید مستقل امن عطا کرتا ہے۔

12. 265 : 5-15

Mortals must gravitate Godward, their affections and aims grow spiritual, — they must near the broader interpretations of being, and gain some proper sense of the infinite, — in order that sin and mortality may be put off.

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man's absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

13۔ 470 :32۔5

سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال، کے تعلقات لازوال ہیں؛ اور سائنس بھول چوک جانتی ہے نہ ہم آہنگی کی جانب واپسی، لیکن یہ الٰہی ترتیب یا روحونی قانون رکھتی ہے جس میں خدا اور جو کچھ وہ خلق کرتا ہے کامل اور ابدی ہیں، جو اس کی پوری تاریخ میں غیر متغیر رہے ہیں۔

13. 470 : 32-5

The relations of God and man, divine Principle and idea, are indestructible in Science; and Science knows no lapse from nor return to harmony, but holds the divine order or spiritual law, in which God and all that He creates are perfect and eternal, to have remained unchanged in its eternal history.

14۔ 14 :25۔30

مادی زندگی کے عقیدے اور خواب سے مکمل طور پر منفرد، الٰہی زندگی ہے، جو روحانی فہم اور ساری زمین پر انسان کی حکمرانی کے شعور کو ظاہرکرتی ہے۔یہ فہم غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے، اوراِس کے ساتھ آپ ”صاحب اختیار کی مانند“ بات کر سکتے ہیں۔

14. 14 : 25-30

Entirely separate from the belief and dream of material living, is the Life divine, revealing spiritual understanding and the consciousness of man's dominion over the whole earth. This understanding casts out error and heals the sick, and with it you can speak "as one having authority."

15۔ 171 :4۔8 (تا چوتھا،)

مادیت کے روحانی مخالف کی فراست کے وسیلہ، حتیٰ کہ مسیح، سچائی کے وسیلہ، انسان بہشت کے دروازوں کو الٰہی سائنس کی چابیوں سے دوبارہ کھولے گا جن سے متعلق انسان سمجھتا ہے کہ وہ بند ہو چکے ہیں، اور خود کو بے گناہ، راست، پاک اور آزاد پائے گا۔

15. 171 : 4-8 (to 4th ,)

Through discernment of the spiritual opposite of materiality, even the way through Christ, Truth, man will reopen with the key of divine Science the gates of Paradise which human beliefs have closed, and will find himself unfallen, upright, pure, and free.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████