اتوار11اگست، 2019 |

اتوار11اگست، 2019



مضمون۔ روح

SubjectSpirit

سنہری متن:سنہری متن: ایوب 32 باب8 آیت

’’انسان میں روح ہے اور قادر مطلق کا دم خرد بخشتا ہے۔‘‘



Golden Text: Job 32 : 8

There is a spirit in man: and the inspiration of the Almighty giveth them understanding.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1کرنتھیوں 2 باب9تا15آیات


9۔ لیکن جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہوا کہ جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں نہ آدمی کے دل میں آئیں۔ وہ سب خدا نے اپنے محبت رکھنے والوں کے لئے تیار کر دیں۔

10۔ لیکن ہم پر خدا نے اْن کو روح کے وسیلہ سے ظاہر کیا کیونکہ روح سب باتوں بلکہ خدا کی تہہ کی باتیں بھی دریافت کر لیتا ہے۔

11۔ کیونکہ انسانوں میں کون کسی کی باتیں جانتا ہے سوا انسان کی اپنی روح کے جو اْس میں ہے؟ اسی طرح خدا کے روح کے سوا کوئی خدا کی باتیں نہیں جانتا۔

12۔ مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہیں۔

13۔ اور ہم اْن باتوں کو اْن الفاظ میں بیان نہیں کرتے جو انسانی حکمت نے ہم کو سکھائے ہوں بلکہ اْن الفاظ میں جو روح نے ہمیں سکھائے ہیں اور روحانی باتوں کا روحانی باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔

14۔ مگر نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتاکیونکہ وہ اْس کے نزدیک بیوقوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ انہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر سمجھی جاتی ہیں۔

15۔ لیکن روحانی شخص سب باتوں کو پرکھ لیتا ہے مگر خود کسی سے پرکھا نہیں جاتا۔

Responsive Reading: I Corinthians 2 : 9-15

9.     As it is written, Eye hath not seen, nor ear heard, neither have entered into the heart of man, the things which God hath prepared for them that love him.

10.     But God hath revealed them unto us by his Spirit: for the Spirit searcheth all things, yea, the deep things of God.

11.     For what man knoweth the things of a man, save the spirit of man which is in him? even so the things of God knoweth no man, but the Spirit of God.

12.     Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.

13.     Which things also we speak, not in the words which man’s wisdom teacheth, but which the Holy Ghost teacheth; comparing spiritual things with spiritual.

14.     But the natural man receiveth not the things of the Spirit of God: for they are foolishness unto him: neither can he know them, because they are spiritually discerned.

15.     But he that is spiritual judgeth all things, yet he himself is judged of no man.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 42باب1، 5تا7 آیات

1۔ دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اْس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔

5۔ جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اْس میں سے نکلتا ہے پھیلایا اور جو اْس کے باشندوں کو سانس اور اْس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔

6۔ مَیں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا مَیں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا۔

7۔ کہ تْو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور اْن کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔

1. Isaiah 42 : 1, 5-7

1     Behold my servant, whom I uphold; mine elect, in whom my soul delighteth; I have put my spirit upon him: he shall bring forth judgment to the Gentiles.

5     Thus saith God the Lord, he that created the heavens, and stretched them out; he that spread forth the earth, and that which cometh out of it; he that giveth breath unto the people upon it, and spirit to them that walk therein:

6     I the Lord have called thee in righteousness, and will hold thine hand, and will keep thee, and give thee for a covenant of the people, for a light of the Gentiles;

7     To open the blind eyes, to bring out the prisoners from the prison, and them that sit in darkness out of the prison house.

2۔ اعمال 3باب1تا8آیات

1۔ پطرس اور یوحنا دعا کے وقت یعنی تیسرے پہر ہیکل کو جارہے تھے۔

2۔ اور لوگ ایک جنم کے لنگڑے کو لا رہے تھے جس کو ہر روز ہیکل کے اْس دروازے پر بٹھا دیتے تھے جو خوبصورت کہلاتا ہے تاکہ ہیکل میں جانے والوں سے بھیک مانگے۔

3۔ جب اْس نے پطرس اور یوحنا کو ہیکل میں جاتے دیکھا تو اْن سے بھیک مانگی۔

4۔ پطرس اور یوحنا نے اْس پر غور سے نظر کی اور پطرس نے کہا ہماری طرف دیکھ۔

5۔ وہ اْن سے کچھ ملنے کی امید سے اْن کی طرف متوجہ ہوا۔

6۔ پطرس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تجھے دئیے دیتا ہوں۔ یسوع مسیح ناصری کے نام سے چل پھر۔

7۔ اور اْس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اْس کو اٹھایا اور اْسی دم اْس کے پاؤں اور ٹخنے مضبوط ہوگئے۔

8۔ اور وہ کود کر کھڑا ہو گیا اور چلنے پھرنے لگا اور چلتا اورکودتا اور خدا کی حمد کرتا ہوا اْن کے ساتھ ہیکل میں گیا۔

2. Acts 3 : 1-8

1     Now Peter and John went up together into the temple at the hour of prayer, being the ninth hour.

2     And a certain man lame from his mother’s womb was carried, whom they laid daily at the gate of the temple which is called Beautiful, to ask alms of them that entered into the temple;

3     Who seeing Peter and John about to go into the temple asked an alms.

4     And Peter, fastening his eyes upon him with John, said, Look on us.

5     And he gave heed unto them, expecting to receive something of them.

6     Then Peter said, Silver and gold have I none; but such as I have give I thee: In the name of Jesus Christ of Nazareth rise up and walk.

7     And he took him by the right hand, and lifted him up: and immediately his feet and ancle bones received strength.

8     And he leaping up stood, and walked, and entered with them into the temple, walking, and leaping, and praising God.

3۔ اعمال 4باب5، 6 (جمع تھے)تا 14، 18، 23، 24، 29، 30، 31 (اور وہ تھے) آیات

5۔ دوسرے دن یوں ہوا کہ ان کے سردار اور بزرگ اور فقیہ۔

6۔ ۔۔۔ یروشلیم میں جمع ہوئے۔

7۔ اور اُن کو بیچ میں کھڑا کر کے پوچھنے لگے کہ تم نے یہ کام کس قدرت اور کس نام سے کیا؟۔

8۔اس وقت پطرس نے روح القدس سے معمور ہوکر اُن سے کہا۔

9۔اے امت کے سردار اور بزرگو! اگر آج ہم سے اُس احسان کی بابت باز پرس کی جاتی ہے جو ایک ناتوان آدمی پر ہوا کہ وہ کیونکر اچھا ہوگیا۔

10۔تو تم سب اور اسرائیل کی ساری امت کو معلوم ہوکہ یسوع مسِیح ناصری جس کو تم نے مردوں میں سے جلایا اسی کے نام سے یہ شخص تمہارے سامنے تندرست کھڑا ہے۔

11۔یہ وہی پتھر ہے جسے تم معماروں نے حقیر جانا اور وہ کونے کے سرے کا پتھر ہوگیا۔

12۔اور کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پاسکیں۔

13۔ جب انہوں نے پطرس اور یوحنا کی دلیری دیکھی اور معلوم کیا کہ یہ ان پڑھ اور ناواقف آدمی ہیں تو تعجب کیا۔ پھر انہیں پہچانا کہ یہ یسوع کے ساتھ رہے ہیں۔

14۔اور اس آدمی کو جو اچھا ہوا تھا ان کے ساتھ کھڑا دیکھ کر کچھ خلاف نہ کہہ سکے۔

18۔پس انہیں بلاکر تاکید کی کہ یسوع کا نام لے کر ہرگز بات نہ کرنا اور نہ تعلیم دینا۔

23۔وہ چھوٹ کر اپنے لوگوں کے پاس گئے اور جو کچھ سردار کاہنوں اور بزرگوں نے ان سے کہا تھا بیان کیا۔

24۔ جب انہوں نے یہ سنا تو ایک دل ہوکر بلند آواز سے خدا سے التجا کی کہ اے مالک تو وہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ اُن میں ہے پیدا کیا۔

29۔اب اے خداوند! اُن کی دھمکیوں کو دیکھ اور اپنے بندوں کو یہ توفیق دے کہ وہ تیرا کلام کمال دلیری کے ساتھ سنائیں۔

30۔اور تو اپنا ہاتھ شفا دینے کو بڑھا اور تیرے پاک خادم یسوع کے نام سے معجزے اور عجیب کام ظہور میں آئیں۔

31۔ ۔۔۔ اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور خدا کا کلام دلیری سے سناتے رہے۔

3. Acts 4 : 5, 6 (were gathered)-14, 18, 23, 24, 29, 30, 31 (and they were)

5     And it came to pass on the morrow, that their rulers, and elders, and scribes,

6     …were gathered together at Jerusalem.

7     And when they had set them in the midst, they asked, By what power, or by what name, have ye done this?

8     Then Peter, filled with the Holy Ghost, said unto them, Ye rulers of the people, and elders of Israel,

9     If we this day be examined of the good deed done to the impotent man, by what means he is made whole;

10     Be it known unto you all, and to all the people of Israel, that by the name of Jesus Christ of Nazareth, whom ye crucified, whom God raised from the dead, even by him doth this man stand here before you whole.

11     This is the stone which was set at nought of you builders, which is become the head of the corner.

12     Neither is there salvation in any other: for there is none other name under heaven given among men, whereby we must be saved.

13     Now when they saw the boldness of Peter and John, and perceived that they were unlearned and ignorant men, they marvelled; and they took knowledge of them, that they had been with Jesus.

14     And beholding the man which was healed standing with them, they could say nothing against it.

18     And they called them, and commanded them not to speak at all nor teach in the name of Jesus.

23     And being let go, they went to their own company, and reported all that the chief priests and elders had said unto them.

24     And when they heard that, they lifted up their voice to God with one accord, and said, Lord, thou art God, which hast made heaven, and earth, and the sea, and all that in them is:

29     And now, Lord, behold their threatenings: and grant unto thy servants, that with all boldness they may speak thy word,

30     By stretching forth thine hand to heal; and that signs and wonders may be done by the name of thy holy child Jesus.

31     …and they were all filled with the Holy Ghost, and they spake the word of God with boldness.

4۔ رومیوں 8باب1، 2، 6تا9 آیات(تا پہلا)

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کر دیا۔

6۔ اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

7۔ اس لئے کہ جسمانی نیت خدا کی دشمنی ہے کیونکہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔

8۔ اور جو جسمانی ہیں وہ خدا کو خوش نہیں کر سکتے۔

9۔ لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہو بشرطیکہ خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے۔

4. Romans 8 : 1, 2, 6-9 (to 1st .)

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

6     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.

7     Because the carnal mind is enmity against God: for it is not subject to the law of God, neither indeed can be.

8     So then they that are in the flesh cannot please God.

9     But ye are not in the flesh, but in the Spirit, if so be that the Spirit of God dwell in you.

5۔ 2کرنتھیوں 4باب6 آیت

6۔ اس لئے کہ خدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا تاکہ خدا کے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرہ سے جلوہ گر ہو۔

5. II Corinthians 4 : 6

6     For God, who commanded the light to shine out of darkness, hath shined in our hearts, to give the light of the knowledge of the glory of God in the face of Jesus Christ.

6۔ گلتیوں 5باب1، 13 (تا؛)، 16، 22، 23 آیات

1۔ مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لئے آزاد کیا ہے پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جوئے میں نہ جتو۔

13۔ اے بھائیو! تم آزادی کے لئے بلائے گئے ہو۔

16۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ اگر روح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہر گز پورا نہ کرو گے۔

22۔ مگر روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری۔

23۔ حلم، پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔

6. Galatians 5 : 1, 13 (to ;), 16, 22, 23

1     Stand fast therefore in the liberty wherewith Christ hath made us free, and be not entangled again with the yoke of bondage.

13     For, brethren, ye have been called unto liberty;

16     This I say then, Walk in the Spirit, and ye shall not fulfil the lust of the flesh.

22     But the fruit of the Spirit is love, joy, peace, longsuffering, gentleness, goodness, faith,

23     Meekness, temperance: against such there is no law.



سائنس اور صح


1۔ 594: 19 (تا پہلا)، 20 (خدا)۔21

روح۔ الٰہی مواد؛۔۔۔ خدا؛ وہ جو واحد کامل، ابدی، قادر مطلق، ہر جاموجود، لامتناہی ہے۔

1. 594 : 19 (to 1st ;), 20 (God)-21

Spirit. Divine substance; … God; that only which is perfect, everlasting, omnipresent, omnipotent, infinite.

2۔ 93 :22۔25

کرسچن سائنس میں روح، بطور اسم خاص، اعلیٰ ترین ہستی کا نام ہے۔اس کا مطلب ہے مقدار اور معیار، اور یہ خصوصاً خدا کے لئے لاگو ہوتا ہے۔

2. 93 : 22-25

In Christian Science, Spirit, as a proper noun, is the name of the Supreme Being. It means quantity and quality, and applies exclusively to God.

3۔ 124 :25۔26 (تاپہلا۔)

روح زندگی، مواد اور سب چیزوں کا تسلسل ہے۔

3. 124 : 25-26 (to 1st .)

Spirit is the life, substance, and continuity of all things.

4۔ 487 :25۔29

یعقوب رسول نے کہا، ”تْو اپنا ایمان بغیر اعمال کے مجھے دکھا اور میں اپنا ایمان اعمال سے تجھے دکھاؤں گا۔“زندگی کی لازوال حقیقت، اس کی قدرت اور لافانیت پر ہمارے بھروسے کو مضبوط کرتے ہوئے یہ فہم کہ خدا، روح، زندگی ہے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

4. 487 : 25-29

The Apostle James said, "Show me thy faith without thy works, and I will show thee my faith by my works." The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

5۔ 26 :10۔18

مسیح روح تھا جسے یسوع نے اپنے خود کے بیانات میں تقویت دی: ”راہ، حق اور زندگی مَیں ہوں“؛ ”مَیں اور میرا باپ ایک ہیں۔“ یہ مسیح، یا انسان یسوع کی الوہیت اْس کی فطرت، خدائی تھی جس نے اْسے متحرک رکھا۔الٰہی حق، زندگی اور محبت نے یسوع کو گناہ، بیماری اور موت پر اختیار دیا۔ اْس کا مقصد آسمانی ہستی کی سائنس کو ظاہر کرنا تھا تاکہ اِسے ثابت کرے جو خدا ہے اور جو وہ انسان کے لئے کرتا ہے۔

5. 26 : 10-18

The Christ was the Spirit which Jesus implied in his own statements: "I am the way, the truth, and the life;" "I and my Father are one." This Christ, or divinity of the man Jesus, was his divine nature, the godliness which animated him. Divine Truth, Life, and Love gave Jesus authority over sin, sickness, and death. His mission was to reveal the Science of celestial being, to prove what God is and what He does for man.

6۔ 141 :13۔21

بیمار اور گناہ کرنے والے کو شفا دیتے ہوئے، یسوع نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ شفا کے اثر نے الٰہی اصول اور مسیح کی روح کے فہم کی پیروی کی جس نے جسمانی یسوع پر حکمرانی کی۔ اس اصول کے لئے کوئی شاہی گھرانہ، کوئی متبرک اجارہ داری نہیں ہے۔ اس کا واحد تاجدار فانی اقتدار ہے۔ اس کا واحد کاہن روحانی انسان ہے۔ بائبل یہ واضح کرتی ہے کہ سب ایمانداروں کو ”خدا کے لئے بادشاہ اور کاہن“ بنا دیاگیا ہے۔

6. 141 : 13-21

In healing the sick and sinning, Jesus elaborated the fact that the healing effect followed the understanding of the divine Principle and of the Christ-spirit which governed the corporeal Jesus. For this Principle there is no dynasty, no ecclesiastical monopoly. Its only crowned head is immortal sovereignty. Its only priest is the spiritualized man. The Bible declares that all believers are made "kings and priests unto God."

7۔ 232 :9۔12، 16۔25

کلام ہمیں یہ معلومات دیتا ہے کہ ”خدا سے سب کچھ ہوسکتا ہے“، روح کے لئے ساری اچھائی ممکن ہے؛ لیکن ہمارے موجودہ نظریات عملی طور پر اس سے انکار کرتے ہیں، اور صرف مادے کی بدولت شفا کو ممکن بناتے ہیں۔

ہمارے دور میں مسیحت دوبارہ الٰہی اصول کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے، جیسا اس نے بیمار کو شفا دیتے ہوئے اور موت پر فتح مند ہوتے ہوئے انیس سو سال قبل کیا تھا۔ یسوع نے یہ تعلیم کبھی نہیں دی کہ ادویات، خوراک، ہوا اور ورزش انسان کو صحتمند رکھتے ہیں یا ان سے انسانی زندگی تباہ ہوسکتی ہے؛ نہ ہی اْس نے ان غلطیوں کو اپنے عمل سے بیان کیا۔ اْس نے انسان کی ہم آہنگی کا عقل کے ساتھ حوالہ دیا نہ کہ مادے کے ساتھ، اور کبھی بھی خدا کے فرمان کو غیر موثر نہیں بنایا، جس نے گناہ، بیماری اور موت کی خدا کی طرف سے ہلاکت پر مہر کی۔

7. 232 : 9-12, 16-25

Scripture informs us that "with God all things are possible," — all good is possible to Spirit; but our prevalent theories practically deny this, and make healing possible only through matter.

In our age Christianity is again demonstrating the power of divine Principle, as it did over nineteen hundred years ago, by healing the sick and triumphing over death. Jesus never taught that drugs, food, air, and exercise could make a man healthy, or that they could destroy human life; nor did he illustrate these errors by his practice. He referred man's harmony to Mind, not to matter, and never tried to make of none effect the sentence of God, which sealed God's condemnation of sin, sickness, and death.

8۔ 284 :21 (دی)۔32

جسمانی حواس خدا کا کوئی ثبوت حاصل نہیں کر سکتیں۔ وہ نہ تو آنکھ سے روح کو دیکھ سکتے ہیں نہ کان سے سْن سکتے ہیں، نہ ہی وہ روح کو محسوس کر سکتے، چکھ سکتے یا سونگھ سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ بہت ہلکے اور غلط استعمال ہونے والے مادے کے عناصر ان حواس کی آگاہی سے دور ہیں، اور صرف اْن تاثرات کے وسیلہ جانے جاتے ہیں جو عموماً ان سے منسوب کئے گئے ہوتے ہیں۔

کرسچن سائنس کے مطابق، انسان کے صرف وہی حواس روحانی ہیں، جو الٰہی عقل سے ظاہر ہوتے ہیں۔ خیالات خدا سے انسان میں منتقل ہوتے ہیں، لیکن نہ احساس اور نہ ہی رپورٹ مادی جسم سے عقل میں جاتے ہیں۔ باہمی رابطہ ہمیشہ خدا سے ہوکر اْس کے خیال، یعنی انسان تک جاتا ہے۔

8. 284 : 21 (The)-32

The physical senses can obtain no proof of God. They can neither see Spirit through the eye nor hear it through the ear, nor can they feel, taste, or smell Spirit. Even the more subtile and misnamed material elements are beyond the cognizance of these senses, and are known only by the effects commonly attributed to them.

According to Christian Science, the only real senses of man are spiritual, emanating from divine Mind. Thought passes from God to man, but neither sensation nor report goes from material body to Mind. The intercommunication is always from God to His idea, man.

9۔ 505 :16۔17، 20۔28

روح اْس فہم سے آگاہ کرتی ہے جو شعور کو بلند کرتا اور سچائی کی جانب راہنمائی دیتا ہے۔۔۔۔روحانی حس روحانی نیکی کا شعور ہے۔ فہم حقیقی اورغیر حقیقی کے مابین حد بندی کی لکیر ہے۔ روحانی فہم عقل -یعنی زندگی، سچائی اور محبت، کو کھولتا ہے اور الٰہی حس کو، کرسچن سائنس میں کائنات کا روحانی ثبوت فراہم کرتے ہوئے، ظاہر کرتا ہے۔

یہ فہم شعوری نہیں ہے،محققانہ حاصلات کا نتیجہ نہیں ہے؛ یہ نور میں لائی گئی سب چیزوں کی حقیقت ہے۔

9. 505 : 16-17, 20-28

Spirit imparts the understanding which uplifts consciousness and leads into all truth. … Spiritual sense is the discernment of spiritual good. Understanding is the line of demarcation between the real and unreal. Spiritual understanding unfolds Mind, — Life, Truth, and Love, — and demonstrates the divine sense, giving the spiritual proof of the universe in Christian Science.

This understanding is not intellectual, is not the result of scholarly attainments; it is the reality of all things brought to light.

10۔ 241 :13۔14، 24۔30

روح کی تجدید کی بدولت بائبل بدن کی تبدیلی کی تعلیم دیتی ہے۔

ہمیں حوریب کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے جہاں خدا ظاہر ہوتا ہے؛ اور روحانی عمارت کے کونے کے سِرے کا پتھر پاکیزگی ہے۔روح کا بپتسمہ، بدن کی ساری ناپاکی کو دھونا، اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ پاک دل خدا کو دیکھتے ہیں اور وہ روحانی زندگی اور اْس کے اظہار تک پہنچ رہے ہیں۔

10. 241 : 13-14, 24-30

The Bible teaches transformation of the body by the renewal of Spirit.

We should strive to reach the Horeb height where God is revealed; and the corner-stone of all spiritual building is purity. The baptism of Spirit, washing the body of all the impurities of flesh, signifies that the pure in heart see God and are approaching spiritual Life and its demonstration.

11۔ 264 :15۔27

جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی روح ہے،سب کچھ خدایعنی اچھائی میں پاتے ہوئے اور کسی دوسرے شعور کی ضروت کو محسوس نہ کرتے ہوئے، مادے میں اورنہ مادے سے، یہ فہم خود کاملیت میں کبھی وسعت نہیں پائے گا۔

روح اور اْس کی اصلاحات ہستی کے واحد حقائق ہیں۔مادا روح کی خورد بین تلے غائب ہوجاتا ہے۔ گناہ سچائی کے وسیلہ ناگزیر ہے، اور بیماری اور موت پر یسوع نے فتح پائی، جس نے اِنہیں غلطی کی اشکال ثابت کیا۔ روحانی زندگی اور برکت ہی واحد ثبوت ہیں جن کے وسیلہ ہم حقیقی وجودیت کو پہچان سکتے اور ناقابل بیان امن کو محسوس کرتے ہیں جو سب جذب کرنے والی روحانی محبت سے نکلتا ہے۔

11. 264 : 15-27

When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.

Spirit and its formations are the only realities of being. Matter disappears under the microscope of Spirit. Sin is unsustained by Truth, and sickness and death were overcome by Jesus, who proved them to be forms of error. Spiritual living and blessedness are the only evidences, by which we can recognize true existence and feel the unspeakable peace which comes from an all-absorbing spiritual love.

12۔ 265 :10۔15

ہستی کا سائنسی فہم، مادے کی روح کو ترک کرتے ہوئے، کسی صورت خدا میں انسان کے انجزاب اور اْس کی شناخت کے گمشدگی کی تجاویز نہیں دیتا، لیکن انسان پر ایک وسیع انفرادیت، اعمال اور خیال کا کھْلا دائرہ،مزید قیمتی محبت، ایک بلند اور مزید مستقل امن عطاکرتا ہے۔

12. 265 : 10-15

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man's absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

13۔ 324 :13 (ہونا)۔18

ہوشیار، سادہ اور چوکس رہیں۔ جو رستہ اس فہم کی جانب لے جاتا ہے کہ واحد خدا ہی زندگی ہے وہ رستہ سیدھا اور تنگ ہے۔یہ بدن کے ساتھ ایک جنگ ہے، جس میں گناہ، بیماری اور موت پر ہمیں فتح پانی چاہئے خواہ یہاں یا اس کے بعد، یقیناً اس سے قبل کہ ہم روح کے مقصد، یا خدا میں زندگی حاصل کرنے تک پہنچیں پائیں۔

13. 324 : 13 (Be)-18

Be watchful, sober, and vigilant. The way is straight and narrow, which leads to the understanding that God is the only Life. It is a warfare with the flesh, in which we must conquer sin, sickness, and death, either here or hereafter, — certainly before we can reach the goal of Spirit, or life in God.

14۔ 390 :12۔18، 32۔2

جب بیماری کی پہلی علامات سامنے آتی ہیں، الٰہی سائنس کے ساتھ مادی حواس کی گواہی پر بحث کریں۔ عدل سے متعلق آپ کے بلند فہم کو مادی آراء کا جھوٹا مرحلہ تباہ کرنے دیں جسے آپ قانون کا نام دیتے ہیں، پھر آپ بیماری والے کمرے تک محدود نہیں رہیں گے نہ ہی آپ آخری سکہ ادا کرنے تک، غلطی کی طلب کردہ سزاء تک، درد کے بستر پر لیٹے رہیں گے۔

فانی عقل، فرضی مادے، روح کی عظمت کے خلاف صف بندی کے خلاف التجا کو رد کرنے کے لئے سچائی کی روح والی شعوری طاقت میں اٹھ کھڑے ہوں۔

14. 390 : 12-18, 32-2

When the first symptoms of disease appear, dispute the testimony of the material senses with divine Science. Let your higher sense of justice destroy the false process of mortal opinions which you name law, and then you will not be confined to a sick-room nor laid upon a bed of suffering in payment of the last farthing, the last penalty demanded by error.

Rise in the conscious strength of the spirit of Truth to overthrow the plea of mortal mind, alias matter, arrayed against the supremacy of Spirit.

15۔ 391 :29۔32

بدن کی جانب سے ہر شکایت کی ذہنی طور پر مخالف کریں، محبت کی طرح زندگی کے حقیقی شعور میں آگے بڑھیں، اْن سب کی مانند جو پاک ہیں اور روح کا پھل پیدا کر رہے ہیں۔

15. 391 : 29-32

Mentally contradict every complaint from the body, and rise to the true consciousness of Life as Love, — as all that is pure, and bearing the fruits of Spirit.

16۔ 393 :10 (مشق)۔15

اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں اور اس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی طاقت میں بلند ہوں تاکہ وہ سب جو اچھائی کی مانند نہیں ہے اْسے ترک کر سکیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اْس قابلیت اور طاقت کو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا جو قدرت کی طرف سے انسان کو عطا کی گئی ہے۔

16. 393 : 10 (Exercise)-15

Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████