اتوار12 اپریل ، 2020 |

اتوار12 اپریل ، 2020



مضمون۔ کیا گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں؟

SubjectAre Sin, Disease, and Death Real?

سنہری متن:سنہری متن: حبقوق 1باب12، 13 آیات

’’اے خداوند! تیری آنکھیں ایسی پاک ہیں کہ تو بدی کو دیکھ نہیں سکتا اور کج رفتاری پر نگاہ نہیں کر سکتا۔‘‘



Golden Text: Habakkuk 1 : 12, 13

O Lord, Thou art of purer eyes than to behold evil, and canst not look on iniquity.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 103 زبور2، 3آیات • 19 زبور 12، 13 آیات • 116 زبور 3، 4، 5 آیات


2۔ اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

12۔ کون اپنی بھول چْوک کو جان سکتا ہے؟ تْو مجھے پوشیدہ عیبوں سے پاک کر۔

13۔ تْو اپنے بندے کو بے باکی کے گناہوں سے بھی باز رکھ۔ وہ مجھ پر غالب نہ آئیں تو میں کامل ہوں گا۔ اور بڑے گناہ سے بچا رہوں گا۔

3۔ موت کی رسیوں نے مجھے جکڑ لیا اور پاتال کے درد مجھ پر آپڑے۔ میں دْکھ اور غم میں گرفتار ہوا۔

4۔ تب میں نے خداوند سے دعا کی کہ اے خداوند! میں تیری منت کرتا ہوں میری جان کو رہائی بخش۔

5۔ خداوند صادق اور کریم ہے۔ ہمارا خدا رحیم ہے۔

Responsive Reading: Psalm 103 : 2, 3 • Psalm 19 : 12, 13 • Psalm 116 : 3-5

2.     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3.     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases.

12.     Who can understand his errors? cleanse thou me from secret faults.

13.     Keep back thy servant also from presumptuous sins; let them not have dominion over me: then shall I be upright, and I shall be innocent from the great transgression.

3.     The sorrows of death compassed me, and the pains of hell gat hold upon me: I found trouble and sorrow.

4.     Then called I upon the name of the Lord; O Lord, I beseech thee, deliver my soul.

5.     Gracious is the Lord, and righteous; yea, our God is merciful.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 3 باب1تا13 آیات

1۔سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟۔

2۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔

3۔پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُس کے پھل کی بابت خدانے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھا نا اور نہ چھوناورنہ مر جاؤ گے۔

4۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے۔

5۔ بلکہ خداجانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانندنیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔

6۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہرکو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔

7۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُن کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔

8۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سنی اور آدم اور اُس کی بیوی نےاپنے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا۔

9۔ تب خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور اُس سے کہا کہ تو کہاں ہے؟

10۔ اُس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔

11۔ اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟ کیا تونے اُس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کوحکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟

12۔ آدم نے کہا جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔

13۔ تب خداوند خدا نے عورت سے کہا کہ تونے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔

1. Genesis 3 : 1-13

1     Now the serpent was more subtil than any beast of the field which the Lord God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall not eat of every tree of the garden?

2     And the woman said unto the serpent, We may eat of the fruit of the trees of the garden:

3     But of the fruit of the tree which is in the midst of the garden, God hath said, Ye shall not eat of it, neither shall ye touch it, lest ye die.

4     And the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die:

5     For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil.

6     And when the woman saw that the tree was good for food, and that it was pleasant to the eyes, and a tree to be desired to make one wise, she took of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her; and he did eat.

7     And the eyes of them both were opened, and they knew that they were naked; and they sewed fig leaves together, and made themselves aprons.

8     And they heard the voice of the Lord God walking in the garden in the cool of the day: and Adam and his wife hid themselves from the presence of the Lord God amongst the trees of the garden.

9     And the Lord God called unto Adam, and said unto him, Where art thou?

10     And he said, I heard thy voice in the garden, and I was afraid, because I was naked; and I hid myself.

11     And he said, Who told thee that thou wast naked? Hast thou eaten of the tree, whereof I commanded thee that thou shouldest not eat?

12     And the man said, The woman whom thou gavest to be with me, she gave me of the tree, and I did eat.

13     And the Lord God said unto the woman, What is this that thou hast done? And the woman said, The serpent beguiled me, and I did eat.

2۔ متی 9باب35 آیت

35۔ اور یسوع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری دور کرتا رہا۔

2. Matthew 9 : 35

35     And Jesus went about all the cities and villages, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing every sickness and every disease among the people.

3۔ متی 8 باب 5تا 10، 13 آیات

5۔ اور جب وہ کفر نحوم میں داخل ہوا تو ایک صوبہ دار اْس کے پاس آیا اور اْس کی منت کر کے کہا۔

6۔ اے خداوند میرا خادم فالج کا مارا گھر میں پڑا ہے اور نہایت تکلیف میں ہے۔

7۔ اْس نے اْس سے کہامَیں آکر اْس کو شفا دوں گا۔

8۔ صوبہ دار نے جواب میں کہا اے خداوند میں اِس لائق نہیں کہ تو میری چھت کے نیچے آئے بلکہ صرف زبان سے کہہ ہی دے تو میرا خادم شفا پا جائے گا۔

9۔ کیونکہ مَیں بھی دوسروں کے اختیار میں ہوں اور سپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہوں کہ جا تو وہ جاتا ہے اور دوسرے سے کہ آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔

10۔ یسوع نے یہ سْن کر تعجب کیا اور پیچھے آنے والوں سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے اسرائیل میں بھی ایسا ایمان نہیں پایا۔

13۔ اور یسوع نے صوبہ دار سے کہا جا جیسا تْو نے اعتقاد کیا تیرے لئے ویسا ہی ہو۔ اور اْسی گھڑی خادم نے شفا پائی۔

3. Matthew 8 : 5-10, 13

5     And when Jesus was entered into Capernaum, there came unto him a centurion, beseeching him,

6     And saying, Lord, my servant lieth at home sick of the palsy, grievously tormented.

7     And Jesus saith unto him, I will come and heal him.

8     The centurion answered and said, Lord, I am not worthy that thou shouldest come under my roof: but speak the word only, and my servant shall be healed.

9     For I am a man under authority, having soldiers under me: and I say to this man, Go, and he goeth; and to another, Come, and he cometh; and to my servant, Do this, and he doeth it.

10     When Jesus heard it, he marvelled, and said to them that followed, Verily I say unto you, I have not found so great faith, no, not in Israel.

13     And Jesus said unto the centurion, Go thy way; and as thou hast believed, so be it done unto thee. And his servant was healed in the selfsame hour.

4۔ متی 27 باب 1، 33 (تا پہلا،)، 35 (وہ) (تا پہلا،)، 57 تا60 آیات

1۔ جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اْسے مار ڈالیں۔

33۔ اور اْس جگہ جو گْلگتا کی جگہ کہلاتی ہے پہنچ کر۔

35۔۔۔۔ انہوں نے اْسے مصلوب کیا۔

57۔ جب شام ہوئی تو یوسف نام ارمتیاہ کا ایک دولت مند آدمی جو خود بھی یسوع کا شاگرد تھا۔

58۔ اْس نے پلاطوس کے پاس جا کر یسوع کی لاش مانگی۔ اِس پر پلاطوس نے دے دینے کا حکم دیا۔

59۔ اور یوسف نے لاش کو لے کر صاف مہین چادر میں لپیٹا۔

60۔ اور اپنی نئی قبر میں جو اْس نے چٹان میں کھْدوائی تھی رکھا۔ پھر وہ ایک بڑا پتھر قبر کے منہ پر لْڑھکا کر چلا گیا۔

4. Matthew 27 : 1, 33 (to 1st ,), 35 (they) (to 1st ,), 57-60

1     When the morning was come, all the chief priests and elders of the people took counsel against Jesus to put him to death:

33     And when they were come unto a place called Golgotha,

35     …they crucified him.

57     When the even was come, there came a rich man of Arimathæa, named Joseph, who also himself was Jesus’ disciple:

58     He went to Pilate, and begged the body of Jesus. Then Pilate commanded the body to be delivered.

59     And when Joseph had taken the body, he wrapped it in a clean linen cloth,

60     And laid it in his own new tomb, which he had hewn out in the rock: and he rolled a great stone to the door of the sepulchre, and departed.

5۔ متی 28 باب1تا10 آیات

1۔ اور سبت کے بعد ہفتہ کے پہلے دن پو پھٹتے وقت مریم مگدلینی اور دوسری مریم قبر کو دیکھنے آئیں۔

2۔ اور دیکھو ایک بڑا بھونچال آیا کیونکہ خداوند کا فرشتہ آسمان سے اترا اور پاس آ کر پتھر کو لُڑھکا دیا اور اُس پر بیٹھ گیا۔

3۔ اُس کی صورت بجلی کی مانند تھی اور اُس کی پوشاک برف کی مانند سفید تھی۔

4۔ اور اُس کے ڈر سے نگہبان کانپ اٹھے اور مردہ سے ہوگئے۔

5۔ فرشتہ نے عورتوں سے کہا تم نہ ڈرو کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ تم یسوع کو ڈھونڈتی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔

6۔ وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ اپنے کہنے کے مطابق جی اٹھا ہے۔ آؤ یہ جگہ دیکھو جہاں خداوندپڑا تھا۔

7۔ اور جلد جا کر اُس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور دیکھو وہ تم سے پہلے گلیل کو جاتا ہے۔ وہاں تم اُس کو دیکھو گے۔ دیکھو مَیں نے تم سے کہہ دیا ہے۔

8۔ اور وہ خوف اور بڑی خوشی کے ساتھ قبر سے روانہ ہوکر اُس کے شاگردوں کو خبر دینے دوڑیں۔

9۔ اور دیکھو یسوع اُن سے ملا اور اُس نے کہا سلام! انہوں نے پاس آ کر اُس کے قدم پکڑے اور اُسے سجدہ کیا۔

10۔ اِس پر یسوع نے اُن سے کہا ڈرو نہیں۔ جاؤ میرے بھائیوں کو خبر دو تاکہ گلیل کو چلے جائیں۔ وہاں مجھے دیکھیں گے۔

5. Matthew 28 : 1-10

1     In the end of the sabbath, as it began to dawn toward the first day of the week, came Mary Magdalene and the other Mary to see the sepulchre.

2     And, behold, there was a great earthquake: for the angel of the Lord descended from heaven, and came and rolled back the stone from the door, and sat upon it.

3     His countenance was like lightning, and his raiment white as snow:

4     And for fear of him the keepers did shake, and became as dead men.

5     And the angel answered and said unto the women, Fear not ye: for I know that ye seek Jesus, which was crucified.

6     He is not here: for he is risen, as he said. Come, see the place where the Lord lay.

7     And go quickly, and tell his disciples that he is risen from the dead; and, behold, he goeth before you into Galilee; there shall ye see him: lo, I have told you.

8     And they departed quickly from the sepulchre with fear and great joy; and did run to bring his disciples word.

9     And as they went to tell his disciples, behold, Jesus met them, saying, All hail. And they came and held him by the feet, and worshipped him.

10     Then said Jesus unto them, Be not afraid: go tell my brethren that they go into Galilee, and there shall they see me.

6۔ مکاشفہ 21باب4، 5 آیات

4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا اِس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

5۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اْس نے کہا دیکھ مَیں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اْس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔

6. Revelation 21 : 4, 5

4     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.

5     And he that sat upon the throne said, Behold, I make all things new. And he said unto me, Write: for these words are true and faithful.



سائنس اور صح


1۔ 475 :28۔31

انسان گناہ، بیماری اور موت سے عاجز ہے۔ حقیقی انسان پاکیزگی سے الگ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خدا، جس سے انسان نشوونما پاتا ہے، گناہ کے خلاف قوت یا آزادی پیدا کرسکتا ہے۔

1. 475 : 28-31

Man is incapable of sin, sickness, and death. The real man cannot depart from holiness, nor can God, by whom man is evolved, engender the capacity or freedom to sin.

2۔ 472 :24 (سب)۔15

تمام حقیقت خدا اور اْس کی مخلوق میں ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا ہے اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایا ہے۔ اسی لئے گناہ، بیماری یا موت کی واحد سچائی یہ ہولناک حقیقت ہے کہ غیر واقعیات، غلط عقائد کے ساتھ، انسان کو حقیقی لگتے ہیں، جب تک کہ خدا اْن کا پردہ فاش نہ کردے۔ وہ حقیقی نہیں ہیں کیونکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔کرسچن سائنس میں ہم سیکھتے ہیں مادی سوچ یا جسم کی تمام خارج از آہنگی فریب نظری ہے جو اگرچہ حقیقی اور یکساں دکھائی دیتی ہے لیکن وہ نہ حقیقت کی نہ ہی یکسانیت کی ملکیت رکھتی ہے۔

عقل کی سائنس ساری بدی سے عاری ہوتی ہے۔ سچائی، خدا غلطی کا باپ نہیں ہے۔گناہ، بیماری اور موت کی بطور غلطی کے اثرات درجہ بندی کی جانی چاہئے۔ مسیح گناہ کے عقیدے کو نیست کرنے آیا۔ الٰہی اصول ہر جا موجود اور قادرِمطلق ہے۔خدا ہر جگہ موجود ہے اور اْس سے جْدا کوئی موجود نہیں ہے یا کوئی طاقت نہیں ہے۔ مسیح ایک مثالی سچائی ہے، جو کرسچن سائنس کے وسیلہ بیماری اور گناہ سے شفا دینے کو آتی ہے، اور ساری طاقت خدا کو منسوب کرتی ہے۔یسوع مسیح اْس شخص کا نام ہے جس نے بیماراور گناہگار کو شفا دینے سے اور موت کی طاقت کو تباہ کرنے سے مسیح کو دوسرے آدمیوں کی نسبت زیادہ پیش کیا۔

2. 472 : 24 (All)-15

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made. Therefore the only reality of sin, sickness, or death is the awful fact that unrealities seem real to human, erring belief, until God strips off their disguise. They are not true, because they are not of God. We learn in Christian Science that all inharmony of mortal mind or body is illusion, possessing neither reality nor identity though seeming to be real and identical.

The Science of Mind disposes of all evil. Truth, God, is not the father of error. Sin, sickness, and death are to be classified as effects of error. Christ came to destroy the belief of sin. The God-principle is omnipresent and omnipotent. God is everywhere, and nothing apart from Him is present or has power. Christ is the ideal Truth, that comes to heal sickness and sin through Christian Science, and attributes all power to God. Jesus is the name of the man who, more than all other men, has presented Christ, the true idea of God, healing the sick and the sinning and destroying the power of death.

3۔ 394 :28۔14

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ زندگی خدا ہے او ر یہ کہ خدا قادر مطلق ہے۔ کرسچن سائنس کو نہ سمجھتے ہوئے عموماً بیمار اِس پر کم ایمان رکھتے ہیں جب تک کہ وہ اِس کے موثر فائدے کو محسوس نہیں کر لیتے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان ایسے معاملات میں مشفی نہیں ہے۔ بیمار لوگ لاشعوری طور پر تکلیفوں کی مخالفت کی بجائے اِن پر بحث کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ اِس کی حقیقت کو قبول کرتے ہیں، جبکہ اْنہیں اِس سے انکار کرنا چاہئے۔ انہیں مکار حواس کی گواہی کے اْلٹ التجا کرنی چاہئے اور انسان کی لافانیت اور خدا کی ابدی شبیہ کو قائم رکھنا چاہئے۔

ایک بڑے نمونے کی مانند،روح کو جسمانی حواس کی جھوٹی گواہیوں پر حکومت کرنے اور بیماری اور فانیت پر دعووں کو جتانے کے لئے آزاد کرتے ہوئے، شفا دینے والے کو بیماری کے ساتھ بات کرنی چاہئے کیونکہ اْسے اْس پر اختیا رحاصل ہے۔ یہی اصول گناہ اور بیماری کو شفا دیتا ہے۔ جب الٰہی سائنس نفسانی سوچ کے ایمان پر اور اس ایمان پر قابو پا لیتی ہے کہ خدا پر یقین گناہ اور مادی شفائیہ طریقوں پر یقین کو نیست کردیتا ہے، تو گناہ، بیماری اور موت غائب ہو جائیں گے۔

3. 394 : 28-14

We should remember that Life is God, and that God is omnipotent. Not understanding Christian Science, the sick usually have little faith in it till they feel its beneficent influence. This shows that faith is not the healer in such cases. The sick unconsciously argue for suffering, instead of against it. They admit its reality, whereas they should deny it. They should plead in opposition to the testimony of the deceitful senses, and maintain man's immortality and eternal likeness to God.

Like the great Exemplar, the healer should speak to disease as one having authority over it, leaving Soul to master the false evidences of the corporeal senses and to assert its claims over mortality and disease. The same Principle cures both sin and sickness. When divine Science overcomes faith in a carnal mind, and faith in God destroys all faith in sin and in material methods of healing, then sin, disease, and death will disappear.

4۔ 400 :20۔23

جب ہم پریشان عقل کو مخاطب کر کے بدن پر توجہ نہ دیتے ہوئے بیماری کو دور کرتے ہیں، تو ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ صرف سوچ ہی تکلیف پیدا کرتی ہے۔فانی عقل اْس سب پر حکمرانی کرتی ہے جو فانی ہے۔

4. 400 : 20-23

When we remove disease by addressing the disturbed mind, giving no heed to the body, we prove that thought alone creates the suffering. Mortal mind rules all that is mortal.

5۔ 184 :3۔5

سچائی بیماری، گناہ اور موت کو درست کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں بناتی کیونکہ یہ سچائی سے انجان ہیں اور انہیں بطور حقیقت نہیں جاننا چاہئے۔

5. 184 : 3-5

Truth makes no laws to regulate sickness, sin, and death, for these are unknown to Truth and should not be recognized as reality.

6۔ 533 :21۔5

خدا کے لئے نہایت ناقابل برداشت مادیت حوا کو بنانے کے لئے آدم سے لئے گئے گوشت اور ہڈی کے تیز بگاڑ میں پہلے ہی پائی جا چکی ہے۔ مادی زندگی اور ذہانت پر یقین ہر قدم پر بد تر ہوتا جا رہا ہے، مگر غلطی کا اپنا ایک فرضی دن ہے اور یہاں سے یہ آخرت تک بڑھتی جاتی ہے۔

اْس کی غلطی سے متعلق جراح کرتے ہوئے، سچائی نے سب سے پہلے عورت کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پایا۔ وہ کہتی ہے، ”سانپ نے مجھے فریب دیا، اور میں نے کھایا؛“ جہاں تک حلیم ندامت کا تعلق ہے، ”نہ انسان نہ ہی خدا میری غلطی کا ذمہ دار ہے۔“ وہ پہلے ہی سمجھ چکی تھی کہ جسمانی حس سانپ تھا۔ لہٰذہ انسان کی مادی اصلیت پر یقین کو سب سے پہلے وہی ترک کرنے والی اور روحانی تخلیق کو سمجھنے والی تھی۔اس نے بعد ازیں عورت کو یسوع کی ماں بننے قبر سے جی اٹھنے والے نجات دہندہ کو دیکھنے کے قابل بنایا، جو جلد ہی خدا کی تخلیق کا نا مرنے والا انسان بن کر ظاہر ہونے کو تھا۔

6. 533 : 21-5

Materiality, so obnoxious to God, is already found in the rapid deterioration of the bone and flesh which came from Adam to form Eve. The belief in material life and intelligence is growing worse at every step, but error has its suppositional day and multiplies until the end thereof.

Truth, cross-questioning man as to his knowledge of error, finds woman the first to confess her fault. She says, "The serpent beguiled me, and I did eat;" as much as to say in meek penitence, "Neither man nor God shall father my fault." She has already learned that corporeal sense is the serpent. Hence she is first to abandon the belief in the material origin of man and to discern spiritual creation. This hereafter enabled woman to be the mother of Jesus and to behold at the sepulchre the risen Saviour, who was soon to manifest the deathless man of God's creating.

7۔ 45 :13۔21

اْس کی جسمانی تدفین کے تین دن بعد اْس نے اپنے شاگردوں سے بات کی۔ اْس پر ظلم ڈھانے والے لافانی سچائی اور محبت کو قبر کے اندر پوشیدہ رکھنے میں ناکام ہو چکے تھے۔خدا کی تمجید ہو اور جدوجہد کرنے والے دلوں کے لئے سلامتی ہو! مسیح نے انسانی امید اور ایمان کے درواز ے سے پتھر ہٹا دیا ہے، اور خدا میں زندگی کے اظہار اور مکاشفہ کی بدولت اْس نے انسان کے روحانی خیال اور اْس کے الٰہی اصول، یعنی محبت کے ساتھ ممکنہ کفارے سے انہیں بلند کیا۔

7. 45 : 13-21

Three days after his bodily burial he talked with his disciples. The persecutors had failed to hide immortal Truth and Love in a sepulchre.

Glory be to God, and peace to the struggling hearts! Christ hath rolled away the stone from the door of human hope and faith, and through the revelation and demonstration of life in God, hath elevated them to possible at-one-ment with the spiritual idea of man and his divine Principle, Love.

8۔ 34 :20۔28

اْس کا جی اٹھنا اْن کا جی اٹھنا بھی تھا۔ اس نے اْن کی اور دیگر لوگوں کی روحانی بے حسی اور لامتناہی امکانات کے خیالات میں خدا پر اندھے توکل سے بیدار کیا۔ انہیں اس ارتکاز کی ضرورت تھی کیونکہ جلد ہی اْن کا مالک حقیقت کے روحانی دائرے میں دوبارہ جی اٹھنے، اور اْن کے تصور سے کہیں اونچا اٹھایا جانے والا ہوگا۔ اْس کی وفاداری کے اجر میں، وہ مادی حس کے لئے اِس تبدیلی میں غائب ہوجائے گا جسے معراج کہا جاتا رہا ہے۔

8. 34 : 20-28

His resurrection was also their resurrection. It helped them to raise themselves and others from spiritual dulness and blind belief in God into the perception of infinite possibilities. They needed this quickening, for soon their dear Master would rise again in the spiritual realm of reality, and ascend far above their apprehension. As the reward for his faithfulness, he would disappear to material sense in that change which has since been called the ascension.

9۔ 426 :16۔32

جب یہ سیکھ لیا جاتا ہے کہ بیماری زندگی کو نیست نہیں کر سکتی، اور یہ کہ بشر موت کے وسیلہ گناہ یا بیماری سے نہیں بچائے جا سکتے تو یہ ادراک زندگی کی جدت میں تیزی لائے گا۔ اس سے یہ موت کی خواہش یا قبر کے خوف میں مہارت لائے گا اور یوں یہ اْس بڑے ڈر کوتباہ کرے گا جو فانی وجود کا گھیراؤ کرتا ہے۔

موت کے یقین اور اِ س کے ڈنگ کے خوف کاضیاع صحت اور اخلاقیات کے معیار کو اس کی موجودہ بلندی سے کہیں اونچا کرے گا اور خدا، ابدی زندگی، پر غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ہمیں مسیحیت کے علم کو اونچا رکھنے کے قابل بنائے گا۔ گناہ موت کو لایا اور موت گناہ کے غائب ہونے پر خود بھی غائب ہوجائے گی۔ انسان لافانی ہے اور بدن مر نہیں سکتا کیونکہ مادے میں سپرد کرنے کو زندگی موجود نہیں ہے۔ انسانی نظریات جن میں مادا، موت، بیماری، عارضہ اور گناہ شمار ہوتے ہیں سب فنا ہو سکتے ہیں۔

9. 426 : 16-32

When it is learned that disease cannot destroy life, and that mortals are not saved from sin or sickness by death, this understanding will quicken into newness of life. It will master either a desire to die or a dread of the grave, and thus destroy the great fear that besets mortal existence.

The relinquishment of all faith in death and also of the fear of its sting would raise the standard of health and morals far beyond its present elevation, and would enable us to hold the banner of Christianity aloft with unflinching faith in God, in Life eternal. Sin brought death, and death will disappear with the disappearance of sin. Man is immortal, and the body cannot die, because matter has no life to surrender. The human concepts named matter, death, disease, sickness, and sin are all that can be destroyed.

10۔ 248 :29۔32

ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔

10. 248 : 29-32

Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████