اتوار15 دسمبر، 2019 |

اتوار15 دسمبر، 2019



مضمون۔ خدا محافظِ انسان

SubjectGod the Preserver of Man

سنہری متن:سنہری متن: متی 5باب 8 آیت

’’مبارک ہیں وہ جو پاکدل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔‘‘



Golden Text: Matthew 5 : 8

Blessed are the pure in heart: for they shall see God.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور24: 1تا6آیات


1۔ زمین اور اْس کی معموری خداوند ہی کی ہے۔ جہاں اور اْس کے باشندے بھی۔

2۔ کیونکہ اْس نے سمندروں پر اْس کی بنیاد رکھی اور سیلابوں پر اْسے قائم کیا۔

3۔ خداوند کے پہاڑ پر کون چڑھے گا اور اْس کے مقدس مقام پر کون کھڑا ہوگا۔

4۔ وہی جس کے ہاتھ صاف ہیں اور جس کا دل پاک ہے۔ جس نے بطالت پر دل نہیں لگایا اور مکر سے قسم نہیں کھائی۔

5۔وہ خداوندکی طرف سے برکت پائے گا۔ ہاں اپنے نجات دینے والے کی طرف سے صداقت۔

6۔ یہی اْس کے طالبوں کی پشت ہے۔ یہی تیرے دیدار کے خواہاں ہیں۔ یعنی یعقوب۔

Responsive Reading: Psalm 24 : 1-6

1.     The earth is the Lord’s, and the fulness thereof; the world, and they that dwell therein.

2.     For he hath founded it upon the seas, and established it upon the floods.

3.     Who shall ascend into the hill of the Lord? or who shall stand in his holy place?

4.     He that hath clean hands, and a pure heart; who hath not lifted up his soul unto vanity, nor sworn deceitfully.

5.     He shall receive the blessing from the Lord, and righteousness from the God of his salvation.

6.     This is the generation of them that seek him, that seek thy face, O Jacob.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 2تمیتھیس 4باب 18 (دی) (تا۔) آیت

18۔ ۔۔۔خداوند مجھے ہر برے کام سے چھڑائے گا اور اپنی آسمانی بادشاہی میں صحیح سلامت پہنچا دے گا۔اْس کی تمجید ابد الا باد ہوتی رہے۔

1. II Timothy 4 : 18 (the) (to .)

18     …the Lord shall deliver me from every evil work, and will preserve me unto his heavenly kingdom: to whom be glory for ever and ever.

2۔ زبور 86: 2 آیت

2۔ میری جان کی حفاظت کر کیونکہ میں دیندار ہوں۔ اے میرے خدا! اپنے بندہ کو جس کا توکل تجھ پر ہے بچا لے۔

2. Psalm 86 : 2

2     Preserve my soul; for I am holy: O thou my God, save thy servant that trusteth in thee.

3۔ 1پطرس 3باب11تا14 آیات

11۔ بدی سے کنارہ کرے اور نیکی کو عمل میں لائے۔ صلح کا طالب ہو اور اْس کی کوشش میں رہے۔

12۔ کیونکہ خداوند کی نظر راستبازوں کی طرف ہے اور اْس کے کان اْن کی دعاؤں پر لگے ہیں۔ مگر بدکار خداوند کی نگاہ میں ہیں۔

13۔ اگر تم نیکی کرنے میں سر گرم ہو تو تم سے بدی کرنے والا کون ہے؟

14۔ اگر راستبازی کی خاطر دْکھ سہو بھی تو تم مبارک ہو۔ نہ اْن کے ڈرانے سے ڈرو نہ گھبراؤ۔

3. I Peter 3 : 11-14

11     Let him eschew evil, and do good; let him seek peace, and ensue it.

12     For the eyes of the Lord are over the righteous, and his ears are open unto their prayers: but the face of the Lord is against them that do evil.

13     And who is he that will harm you, if ye be followers of that which is good?

14     But and if ye suffer for righteousness’ sake, happy are ye: and be not afraid of their terror, neither be troubled;

4۔ زبور 5: 12 آیات

12۔ کیونکہ تْو صادق کو برکت بخشے گا۔ اے خداوند! تْو اْسے کرم سے سِپر کی طرح ڈھانک لے گا۔

4. Psalm 5 : 12

12     For thou, Lord, wilt bless the righteous; with favour wilt thou compass him as with a shield.

5۔ پیدائش 6باب1(تا دوسرا،)، 5 (خدا)، 8، 9 (نوح تھا)، 13 (تا پہلا)، 14، 17تا19، 22 آیات

1۔ جب روئے زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے

5۔ اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اْس کے دل کے تصور اور خیال سدا بْرے ہی ہوتے ہیں۔

8۔ مگر نوح خداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔

9۔ نوح مردِ راستباز اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بے عیب تھا اور نوح خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔

13۔ اور خدا نے نوح سے کہا۔

14۔ تْو گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی اپنے لئے بنا۔ اْس کشتی میں کوٹھڑیاں تیار کرنا اور اْس کے اندر اور باہر رال لگانا۔

17۔ اور دیکھ مَیں خود زمین پر پانی کا طوفان لانے والا ہوں تاکہ ہر بشر کو جس میں زندگی کا دم ہے دنیا سے ہلاک کر ڈالوں اور سب جو زمین پر ہیں مر جائیں۔

18۔ پر تیرے ساتھ میں اپنا عہد قائم کروں گا اور تْو کشتی میں جانا۔ تْو اور تیرے ساتھ تیرے بیٹے اورتیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔

19۔ اور جانوروں کی ہر قسم میں سے دو دو اپنے ساتھ کشتی میں لے لینا کہ وہ تیرے ساتھ جیتے بچیں۔

22۔ اور نوح نے یوں ہی کیا۔ جیسا خدا نے اْسے حکم دیا تھا ویسا ہی عمل کیا۔

5. Genesis 6 : 1 (to 2nd ,), 5 (God), 8, 9 (Noah was), 13 (to 1st ,), 14, 17-19, 22

1     And it came to pass, when men began to multiply on the face of the earth,

5     God saw that the wickedness of man was great in the earth, and that every imagination of the thoughts of his heart was only evil continually.

8     But Noah found grace in the eyes of the Lord.

9     Noah was a just man and perfect in his generations, and Noah walked with God.

13     And God said unto Noah,

14     Make thee an ark of gopher wood; rooms shalt thou make in the ark, and shalt pitch it within and without with pitch.

17     And, behold, I, even I, do bring a flood of waters upon the earth, to destroy all flesh, wherein is the breath of life, from under heaven; and every thing that is in the earth shall die.

18     But with thee will I establish my covenant; and thou shalt come into the ark, thou, and thy sons, and thy wife, and thy sons’ wives with thee.

19     And of every living thing of all flesh, two of every sort shalt thou bring into the ark, to keep them alive with thee; they shall be male and female.

22     Thus did Noah; according to all that God commanded him, so did he.

6۔ پیدائش 7باب1، 7، 17، 23 آیات

1۔ اور خداوند نے نوح سے کہا کہ تْو اپنے پورے خاندان کے ساتھ کشتی میں آ کیونکہ میں نے تجھی کو اپنے سامنے اِس زمانہ میں راستباز دیکھا ہے۔

7۔ تب نوح اور اْس کے بیٹے اور اْس کی بیوی اور اْس کے بیٹوں کی بیویاں اْس کے ساتھ طوفان کے پانی سے بچنے کے لئے کشتی میں گئے۔

17۔ اور چالیس دن تک زمین پر طوفان رہا اور پانی بڑھا اور اْس نے کشتی کو اوپر اٹھا دیا۔ سو کشتی زمین پر سے اٹھ گئی۔

23۔ ہر جاندار شے جو زمین پر تھی مر مٹی۔کیا انسان کیا حیوان۔ کیا رینگنے والا جاندار کیا ہوا کا پرندہ یہ سب کے سب مٹی پر سے مر گئے۔ فقط ایک نوح اور جو اْس کے ساتھ کشتی میں تھے بچ گئے۔

6. Genesis 7 : 1, 7, 17, 23

1 And the Lord said unto Noah, Come thou and all thy house into the ark; for thee have I seen righteous before me in this generation.

7     And Noah went in, and his sons, and his wife, and his sons’ wives with him, into the ark, because of the waters of the flood.

17     And the flood was forty days upon the earth; and the waters increased, and bare up the ark, and it was lift up above the earth.

23     And every living substance was destroyed which was upon the face of the ground, both man, and cattle, and the creeping things, and the fowl of the heaven; and they were destroyed from the earth: and Noah only remained alive, and they that were with him in the ark.

7۔ پیدائش 8باب14تا17 (تا پہلا)آیات

14۔ اور دوسرے مہینے کی ستائیسویں تاریخ کو زمین بالکل سوکھ گئی۔

15۔ تب خدا نے نوح سے کہا کہ

16۔ کشتی سے باہر نکل آ۔ تْو اور تیرے بیٹے اور تیری بیوی اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔

17۔ اور اْن جانداروں کو بھی باہر نکال لا جو تیرے ساتھ ہیں۔

7. Genesis 8 : 14-17 (to 1st ,)

14     And in the second month, on the seven and twentieth day of the month, was the earth dried.

15     And God spake unto Noah, saying,

16     Go forth of the ark, thou, and thy wife, and thy sons, and thy sons’ wives with thee.

17     Bring forth with thee every living thing that is with thee,

8۔ پیدائش 9باب1، 8، 11 (میں)، 12 آیات

1۔ اور خدا نے نوح اور اْس کے بیٹوں کو برکت دی اور اْن کو کہا کہ بارور ہو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو۔

8۔ اور خدا نے نوح اور اْس کے بیٹوں سے کہا۔

11۔ مَیں اِس عہد کو تمہارے ساتھ قائم رکھوں گا سب جاندار پانی کے طوفان سے پھر ہلاک نہ ہوں گے اور نہ کبھی زمین کو تباہ کرنے کے لئے پھر طوفان آئے گا۔

12۔ اور خدا نے کہا کہ جو عہد میں اپنے اور تمہارے درمیان اور سب جانداروں کے درمیان جو تمہارے ساتھ ہیں پشت در پشت ہمیشہ کے لئے کرتا ہوں اْس کا نشان یہ ہے

8. Genesis 9 : 1, 8, 11 (I), 12

1     And God blessed Noah and his sons, and said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth.

8     And God spake unto Noah, and to his sons with him, saying,

11     I will establish my covenant with you; neither shall all flesh be cut off any more by the waters of a flood; neither shall there any more be a flood to destroy the earth.

12     And God said, This is the token of the covenant which I make between me and you and every living creature that is with you, for perpetual generations:

9۔ عبرانیوں 11باب 1تا3، 6، 7 آیات

1۔ اب ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔

2۔ کیونکہ اِس کی بابت بزرگوں کے حق میں اچھی گواہی دی گئی۔

3۔ ایمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ عالم خدا کے کہنے سے بنے ہیں۔ یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ظاہری چیزوں سے بنا ہے۔

6۔ اور بغیر ایمان کے اْس کو پسند آنا ناممکن ہے۔ اِس لئے کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔

7۔ ایمان ہی کے سبب سے نوح نے اْن چیزوں کی بابت جو اْس وقت تک نظر نہ آتی تھیں ہدایت پا کر خدا کے خوف سے اپنے گھرانے کے بچاؤ کے لئے کشتی بنائی جس سے اْس نے دنیا کو مجرم ٹھہرایا اور اْس راستبازی کا وارث ہوا جو ایمان سے ہے۔

9. Hebrews 11 : 1-3, 6, 7

1     Now faith is the substance of things hoped for, the evidence of things not seen.

2     For by it the elders obtained a good report.

3     Through faith we understand that the worlds were framed by the word of God, so that things which are seen were not made of things which do appear.

6     But without faith it is impossible to please him: for he that cometh to God must believe that he is, and that he is a rewarder of them that diligently seek him.

7     By faith Noah, being warned of God of things not seen as yet, moved with fear, prepared an ark to the saving of his house; by the which he condemned the world, and became heir of the righteousness which is by faith.

10۔ 2تمیتھیس 2باب19(دی) تا 21 آیات

19۔۔۔۔خدا کی مضبوط بنیاد قائم رہتی ہے اور اْس پر یہ مہر ہے کہ خداوند اپنوں کو پہچانتا ہے اور جو کوئی خداوند کا نام لیتا ہے ناراستی سے باز رہے۔

20۔ بڑے گھر میں نہ صرف سونے چاندی ہی کے برتن ہوتے ہیں بلکہ لکڑی اور مٹی کے بھی۔ بعض عزت اور بعض ذلت کے لئے۔

21۔ پس جو کوئی اِن سے الگ ہو کر اپنے تئیں پاک کرے وہ عزت کا برتن اور مقدس بنے گا اور مالک کے کام کے لائق اور ہر نیک کام کے لئے تیار رہے گا۔

10. II Timothy 2 : 19 (the)-21

19     …the foundation of God standeth sure, having this seal, The Lord knoweth them that are his. And, Let every one that nameth the name of Christ depart from iniquity.

20     But in a great house there are not only vessels of gold and of silver, but also of wood and of earth; and some to honour, and some to dishonour.

21     If a man therefore purge himself from these, he shall be a vessel unto honour, sanctified, and meet for the master’s use, and prepared unto every good work.

11۔ ایوب 22باب21، 30 آیات

21۔ اْس سے ملا رہ تو سلامت رہے گا اور اِس سے تیرا بھلا ہوگا۔

30۔ وہ اْس کو بھی چھڑالے گا جو بے گناہ نہیں ہے۔ ہاں وہ تیرے ہاتھوں کی پاکیزگی کے سبب سے چھڑایا جائے گا۔

11. Job 22 : 21, 30

21     Acquaint now thyself with him, and be at peace: thereby good shall come unto thee.

30     He shall deliver the island of the innocent: and it is delivered by the pureness of thine hands.

12۔ ایوب 11باب18 آیت

18۔ تْو مطمین رہے گا اور اپنے چوگرد دیکھ دیکھ کر سلامتی سے آرام کرے گا۔

12. Job 11 : 18

18     And thou shalt be secure, because there is hope; yea, thou shalt dig about thee, and thou shalt take thy rest in safety.



سائنس اور صح


1۔ 232 :7۔8

ہم آہنگ اور ابدی ہستی کے دعووں کی ضمانت صرف کرسچن سائنس میں ملتی ہے۔

1. 232 : 7-8

Security for the claims of harmonious and eternal being is found only in divine Science.

2۔ 203 :3۔6

مسیحت کی سائنس میں، عقل، قادر مطلق، پوری طاقت رکھتے ہوئے، راستبازی کا اجر تفویض کرتا ہے، اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مادہ نہ بیمار کو شفا دے سکتا ہے نہ ہی اْسے تخلیق یا تباہ کر سکتا ہے۔

2. 203 : 3-6

In the Science of Christianity, Mind — omnipotence — has all-power, assigns sure rewards to righteousness, and shows that matter can neither heal nor make sick, create nor destroy.

2۔ 203 :3۔6

مسیحت کی سائنس میں، عقل، قادر مطلق، پوری طاقت رکھتے ہوئے، راستبازی کا اجر تفویض کرتا ہے، اور اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مادہ نہ بیمار کو شفا دے سکتا ہے نہ ہی اْسے تخلیق یا تباہ کر سکتا ہے۔

3. 254 : 10-12

When we wait patiently on God and seek Truth righteously, He directs our path.

4۔ 183 :21۔25

الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔

4. 183 : 21-25

Divine Mind rightly demands man’s entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.

5۔ 19 :26۔28

اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔

5. 19 : 26-28

If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.

6۔ 91 :5۔8

آئیے ہم اِس عقیدے سے پیچھا چھڑائیں کہ انسان خدا سے الگ ہے اور صرف الٰہی اصول، زندگی اور محبت کی فرمانبرداری کریں۔ یہاں پوری حقیقی روحانی ترقی کے لئے روانگی کا بڑا نقطہ آتا ہے۔

6. 91 : 5-8

Let us rid ourselves of the belief that man is separated from God, and obey only the divine Principle, Life and Love. Here is the great point of departure for all true spiritual growth.

7۔ 241 :23۔30

ایمان سے آگے، کسی شخص کا مقصد سچائی کے نقش قدم کو ڈھونڈنا ہونا چاہئے جو صحت اور پاکیزگی کی راہ ہے۔ ہمیں حوریب کی چوٹی تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے جہاں خدا ظاہر ہوتا ہے؛ اور روحانی عمارت کے کونے کے سِرے کا پتھر پاکیزگی ہے۔روح کا بپتسمہ، بدن کی ساری ناپاکی کو دھونا، اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ پاک دل خدا کو دیکھتے ہیں اور وہ روحانی زندگی اور اْس کے اظہار تک پہنچ رہے ہیں۔

7. 241 : 23-30

One’s aim, a point beyond faith, should be to find the footsteps of Truth, the way to health and holiness. We should strive to reach the Horeb height where God is revealed; and the corner-stone of all spiritual building is purity. The baptism of Spirit, washing the body of all the impurities of flesh, signifies that the pure in heart see God and are approaching spiritual Life and its demonstration.

8۔ 337 :14 (مسیحی)۔19

کرسچن سائنس بیان کرتی ہے، جیسا کہ بائبل سکھاتی ہے، کہ پاکدل کے علاوہ کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۔ اس پاکیزگی کے تناسب میں انسان کامل ہے، اور کاملیت آسمانی ہستی کی ترتیب ہے جو مسیح میں زندگی کو ظاہر کرتی ہے، جو زندگی کا روحانی نمونہ ہے۔

8. 337 : 14 (Christian)-19

Christian Science demonstrates that none but the pure in heart can see God, as the gospel teaches. In proportion to his purity is man perfect; and perfection is the order of celestial being which demonstrates Life in Christ, Life’s spiritual ideal.

9۔ 272 :19۔27

یہ مادی وجودیت کے بھیانک نقلی نتائج کے مقابلے میں خیالات کی روحانیت اور روز مرہ کی مسیحت پسندی ہے؛ یہ نچلے رجحانات اور ناپاکی اور شہوت پرستی کی زمینی کشش کے مقابلے میں پاکیزگی اور صداقت ہے، جو حقیقتاً کرسچن سائنس کی الٰہی ابتدا اور کام کی تصدیق کرتی ہے۔ کرسچن سائنس کی کامیابیاں غلطی اور بدی کی تباہی سے ریکارڈ کی جاتی ہیں، جس سے گناہ، بیماری اور موت کے ناپاک عقائد کی ترویج ہوتی ہے۔

9. 272 : 19-27

It is the spiritualization of thought and Christianization of daily life, in contrast with the results of the ghastly farce of material existence; it is chastity and purity, in contrast with the downward tendencies and earthward gravitation of sensualism and impurity, which really attest the divine origin and operation of Christian Science. The triumphs of Christian Science are recorded in the destruction of error and evil, from which are propagated the dismal beliefs of sin, sickness, and death.

10۔ 91 :9۔15

گناہگار کے لئے کرسچن سائنس کو قبول کرنا خاصا مشکل ہے، کیونکہ سائنس اْس کے ادنیٰ پن کو عیاں کرتی ہے؛ لیکن جتنی جلدی غلطی اپنے آبائی ادنیٰ پن کی جانب کم ہوگی اتنی ہی جلدی انسان کی عظیم حقیقت ظاہر ہوگی اور اْس کی اصل ہستی سمجھ میں آئے گی۔ غلطی کی تباہی کسی صورت سچائی یا زندگی کی تباہی نہیں ہے، بلکہ یہ اْن کا اعتراف ہے۔

10. 91 : 9-15

It is difficult for the sinner to accept divine Science, because Science exposes his nothingness; but the sooner error is reduced to its native nothingness, the sooner man’s great reality will appear and his genuine being will be understood. The destruction of error is by no means the destruction of Truth or Life, but is the acknowledgment of them.

11۔ 540 :5۔16

یسعیاہ میں ہم پڑھتے ہیں: ”مَیں ہی روشنی کا موجد اور تاریکی کا خالق ہوں۔ مَیں ہی خداوند یہ سب کچھ کرنے والا ہوں؛“ لیکن نبی نے جب اسے منظر عام پر لاتے ہوئے اور اِس کی خاصیت کی جانب اِسے کم کرتے ہوئے، بدی کے انتہائی عدم پر ایمان کو بھڑکاتے ہوئے الٰہی قانون کا حوالہ دیا ہے۔ندی کو صاف کرنے کے لئے گدلی دریائی تہہ کو ہلانا پڑے گا۔ اخلاقی کیمیائی مادے کے استعمال میں، جب بدی، فریب نظری کی علامات کو بھڑکا دیا جاتا ہے، ہم اپنی لاعلمی میں یہ سوچ سکتے ہیں کہ خدا نے بدی کو جنم دیا ہے؛ لیکن ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ خدا کی شریعت نام نہاد گناہ اور اِس کے اثرات کو عیاں کرتی ہے، محض اِس لئے کہ سچائی بدی کے تمام تر حواس کو اور گناہ کرنے کے لئے اِس کی طاقت کو فنا کر سکے۔

11. 540 : 5-16

In Isaiah we read: “I make peace, and create evil. I the Lord do all these things;” but the prophet referred to divine law as stirring up the belief in evil to its utmost, when bringing it to the surface and reducing it to its common denominator, nothingness. The muddy river-bed must be stirred in order to purify the stream. In moral chemicalization, when the symptoms of evil, illusion, are aggravated, we may think in our ignorance that the Lord hath wrought an evil; but we ought to know that God’s law uncovers so-called sin and its effects, only that Truth may annihilate all sense of evil and all power to sin.

12۔ 581 :8۔14

کشتی۔ حفاظت،سچائی کا خیال یا عکاسی، اس قدر لافانی ثابت شدہ جتنا اِس کا اصول ہے؛مادے پر یقین کو نیست کرتے ہوئے روح کا ادراک۔

سائنس یہ دکھاتے ہوئے کہ سب چیزوں کے روحانی حقائق صرف اْسی کے وسیلہ خلق ہوئے اور ہمیشہ کے لئے موجود ہیں، خدا اور انسان ایک ساتھ وجود رکھتے اور ابدی ہیں۔

12. 581 : 8-14

Ark. Safety; the idea, or reflection, of Truth, proved to be as immortal as its Principle; the understanding of Spirit, destroying belief in matter.

God and man coexistent and eternal; Science showing that the spiritual realities of all things are created by Him and exist forever. The ark indicates temptation overcome and followed by exaltation.

13۔ 407 :6۔16

انسان کی نہایت ہمدردی، خودغرضی، حسد، نفرت اور بدلے جیسے بے رحم آقاؤں کے ہاتھوں انسان کی غلامی کو محض ایک مضبوط جدوجہد سے ہی فتح کیا جا تا ہے۔ تاخیر کا ہر لمحہ اس جدوجہد کو اور شدید بنا دیتا ہے۔ اگر انسان احساسات پر فتح مند نہیں ہوتا، تو وہ خوشی، صحت اور مردانگی کو کچل دیتے ہیں۔یہاں بشری عقل کی کمزوری کو طاقت مہیا کرتے ہوئے، یعنی وہ طاقت جو لافانی اور قادر مطلق عقل سے ملتی ہے، اور انسانیت کو پاکیزہ ترین خواہشات میں، حتیٰ کہ روحانی طاقت اور انسان کے لئے خیر سگالی میں بھی، خود سے بلند درجہ دیتے ہوئے کرسچن سائنس خود مختار اکسیرِ اعظم ہے۔

13. 407 : 6-16

Man’s enslavement to the most relentless masters — passion, selfishness, envy, hatred, and revenge — is conquered only by a mighty struggle. Every hour of delay makes the struggle more severe. If man is not victorious over the passions, they crush out happiness, health, and manhood. Here Christian Science is the sovereign panacea, giving strength to the weakness of mortal mind, — strength from the immortal and omnipotent Mind, — and lifting humanity above itself into purer desires, even into spiritual power and good-will to man.

14۔ 201 :7 (سچ)۔2

سچائی ایک نیا مخلوق بناتی ہے، جس میں سب پرانی چیزیں جاتی رہتی ہیں اور ”سب چیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔“ جذبات، خود غرضی، نفرت، خوف، ہر سنسنی خیزی، روحانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہستی کی افراط خدا، یعنی اچھائی کی طرف ہے۔

14. 201 : 7 (Truth)-12

Truth makes a new creature, in whom old things pass away and “all things are become new.” Passions, selfishness, false appetites, hatred, fear, all sensuality, yield to spirituality, and the superabundance of being is on the side of God, good.

15۔ 458 :23۔31

پس خود میں ایک قانون کی شکل اختیار کرتے ہوئے مسیحی سائنسی انسان الٰہی شریعت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کسی انسان پر تشدد نہیں کرتا۔ نہ ہی وہ جھوٹا الزام تراش ہے۔ کرسچن سائنسدان بڑی دانائی سے اپنی راہ ہموار کرتا ہے، اور وہ الٰہی عقل کی ہدایات کی پیروی کرنے میں متواتر اور ایماندار ہوتا ہے۔زندگی گزارنے اور اس کے ساتھ شفا دینے اور تعلیم دینے کے وسیلہ سے اسے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ مسیح کی راہ ہی وہ واحد راہ ہے جس کی بدولت بشر یکسر گناہ اور بیماری سے نجات پاتے ہیں۔

15. 458 : 23-31

The Christianly scientific man reflects the divine law, thus becoming a law unto himself. He does violence to no man. Neither is he a false accuser. The Christian Scientist wisely shapes his course, and is honest and consistent in following the leadings of divine Mind. He must prove, through living as well as healing and teaching, that Christ’s way is the only one by which mortals are radically saved from sin and sickness.

16۔ 371 :26۔32

انسانیت سائنس اور مسیحت کے وسیلہ فروغ پائے گی۔ دوڑ کو تیز کرنے کی ضرورت اس حقیقت کا باپ ہے کہ عقل یہ کر سکتی ہے؛ کیونکہ عقل آلودگی کی بجائے پاکیزگی، کمزوری کی بجائے طاقت، اور بیماری کی بجائے صحتمندی بخش سکتی ہے۔ یہ پورے نظام میں قابل تبدیل ہے، اور اسے ”ہر ذرے تک“ بنا سکتی ہے۔

16. 371 : 26-32

Mankind will improve through Science and Christianity. The necessity for uplifting the race is father to the fact that Mind can do it; for Mind can impart purity instead of impurity, strength instead of weakness, and health instead of disease. Truth is an alterative in the entire system, and can make it “every whit whole.”

17۔ 324 :4۔5

سمجھ اور خودکی پاکیزگی ترقی کا ثبوت ہے۔

17. 324 : 4-5

The purification of sense and self is a proof of progress.

18۔ 323 :6۔12

محبت کی صحت بخش تادیب کے وسیلہ راستبازی، امن اور پاکیزگی کی جانب ہماری پیش قدمی میں مدد کی جاتی ہے، جو کہ سائنس کے امتیازی نشانات ہیں۔ سچائی کے لامتناہی کاموں کو دیکھتے ہوئے، ہم رْکتے ہیں، خدا کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر ہم اْس وقت تک آگے بڑھتے ہیں جب تک لامحدود خیال وجد میں نہیں آتا، اور غیر مصدقہ نظریے کو الٰہی جلال تک اونچا نہیں اڑایا جاتا۔

18. 323 : 6-12

Through the wholesome chastisements of Love, we are helped onward in the march towards righteousness, peace, and purity, which are the landmarks of Science. Beholding the infinite tasks of truth, we pause, — wait on God. Then we push onward, until boundless thought walks enraptured, and conception unconfined is winged to reach the divine glory.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████