اتوار2 فروری، 2020 |

اتوار2 فروری، 2020



مضمون۔ محبت

SubjectLove

سنہری متن:سنہری متن: 1یوحنا 4باب 11 آیت

’’اے عزیزو! جب خدا نے ہم سے ایسی محبت رکھی تو ہم پر بھی ایک دوسرے محبت رکھنا فرض ہے۔‘‘



Golden Text: I John 4 : 11

Beloved, if God so loved us, we ought also to love one another.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1یوحنا 3باب18آیت • لوقا 6باب31 آیت • 1یوحنا 3باب17، 16 آیات • یوحنا 15باب13 آیت


18۔ اے بچو! ہم کلام اور زبان ہی سے نہیں بلکہ کام اور سچائی کے ذریعہ سے بھی محبت رکھیں۔

31۔اور جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اْن کے ساتھ ویسا ہی کرو۔

17۔جس کسی کے پاس دنیا کا مال ہو اور وہ اپنے بھائی کو محتاج دیکھ کر رحم کرنے میں دریغ کرے تو اْس میں خدا کی محبت کیونکر قائم رہ سکتی ہے؟

16۔ ہم نے محبت کو اسی سے جانا ہے کہ اْس نے ہمارے واسطے اپنی جان دے دی اور ہم پر بھی بھائیوں کے واسطے جان دینا فرض ہے۔

13۔ اس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دے دے۔

Responsive Reading: I John 3 : 18 ; Luke 6 : 31 ; I John 3 : 17, 16 ; John 15 : 13

18.     My little children, let us not love in word, neither in tongue; but in deed and in truth.

31.     And as ye would that men should do to you, do ye also to them likewise.

17.     But whoso hath this world’s good, and seeth his brother have need, and shutteth up his bowels of compassion from him, how dwelleth the love of God in him?

16.     Hereby perceive we the love of God, because he laid down his life for us: and we ought to lay down our lives for the brethren.

13.     Greater love hath no man than this, that a man lay down his life for his friends.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 5باب 1 آیت

1۔ اب یروشلیم کے چوکوں میں ادھر اْدھر گشت کرو اور دیکھو اور دریافت کرو اور اْس کے کوچوں میں ڈھونڈو اگر کوئی آدمی ملے جو انصاف کرنے والا اور سچائی کا طالب ہو تو میں اْسے معاف کروں گا۔

1. Jeremiah 5 : 1

1     Run ye to and fro through the streets of Jerusalem, and see now, and know, and seek in the broad places thereof, if ye can find a man, if there be any that executeth judgment, that seeketh the truth; and I will pardon it.

2۔ حزقی ایل 13باب1، 4، 5 آیات

1۔ اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا

4۔ اے اسرائیل تیرے نبی اْن لومڑیوں کی مانند ہیں جو ویرانوں میں رہتی ہیں۔

5۔ تم رخنوں پر نہیں گئے اور نہ ہی بنی اسرائیل کے لئے فصیل بنائی تاکہ وہ خداوند کے دن جنگ گاہ میں کھڑے ہوں۔

2. Ezekiel 13 : 1, 4, 5

1     And the word of the Lord came unto me, saying,

4     O Israel, thy prophets are like the foxes in the deserts.

5     Ye have not gone up into the gaps, neither made up the hedge for the house of Israel to stand in the battle in the day of the Lord.

3۔ حزقی ایل 22باب30 آیت

30۔ میں نے اْن کے درمیان تلاش کی کہ کوئی ایسا آدمی ملے جو فصیل بنائے اور اس سر زمین کے لئے اْس کے رخنہ میں میرے سامنے کھڑا ہو تاکہ میں اْسے ویران نہ کروں، پر کوئی نہ ملا۔

3. Ezekiel 22 : 30

30     And I sought for a man among them, that should make up the hedge, and stand in the gap before me for the land, that I should not destroy it: but I found none.

4۔ عاموس 9باب9،11 آیات

9۔ کیونکہ میں حکم کروں گا اور بنی اسرائیل کو سب قوموں میں جیسے چھلنی سے چھانتے ہیں چھانوں گا اور ایک دانہ بھی زمین پر گرنے نہ پائے گا۔

11۔ میں اْس روز داؤد کے گرے ہوئے مسکن کو کھڑا کر کے اْس کے رخنوں کو بند کروں گا اوراْس کے کھنڈروں کو بند کر کے اْسے پہلے کی طرح تعمیر کروں گا۔

4. Amos 9 : 9, 11

9     For, lo, I will command, and I will sift the house of Israel among all nations, like as corn is sifted in a sieve, yet shall not the least grain fall upon the earth.

11     In that day will I raise up the tabernacle of David that is fallen, and close up the breaches thereof; and I will raise up his ruins, and I will build it as in the days of old:

5۔ یسعیاہ 58باب12آیت

12۔ اور تیرے لوگ قدیم ویران مکانوں کو تعمیر کریں گے اور تو پشت در پشت کی بنیادوں کو برپا کرے گا۔ اور تْو رخنہ کا بند کرنے والا اور آبادی کے لئے راہ کا درست کرنے والا کہلائے گا۔

5. Isaiah 58 : 12

12     And they that shall be of thee shall build the old waste places: thou shalt raise up the foundations of many generations; and thou shalt be called, The repairer of the breach, The restorer of paths to dwell in.

6۔ متی 1باب1 آیت

1۔ یسوع مسیح ابنِ داؤد ابنِ ابراہا م کا نسب نامہ۔

6. Matthew 1 : 1

1     The book of the generation of Jesus Christ, the son of David, the son of Abraham.

7۔ متی 9باب35تا38آیات

35۔ اور یسوع سب گاؤں اور شہروں میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

36۔ اور جب اْس نے بھیڑ کو دیکھا تو اْس کو لوگوں پر ترس آیا کیونکہ وہ اْن بھیڑوں کی مانند جن کا چرواہا نہ ہو خستہ اور پراگندہ تھے۔

37۔ تب اْس نے اپنے شاگردوں سے کہا فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں۔

38۔ پس فصل کے مالک کی منت کرو کہ وہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیج دے۔

7. Matthew 9 : 35-38

35     And Jesus went about all the cities and villages, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing every sickness and every disease among the people.

36     But when he saw the multitudes, he was moved with compassion on them, because they fainted, and were scattered abroad, as sheep having no shepherd.

37     Then saith he unto his disciples, The harvest truly is plenteous, but the labourers are few;

38     Pray ye therefore the Lord of the harvest, that he will send forth labourers into his harvest.

8۔ متی 10 باب 5تا8 آیات

5۔ اِن بارہ کو یسوع نے بھیجا اور اْن کو حکم دے کر کہا غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔

6۔ بلکہ اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔

7۔ اور چلتے چلتے یہ منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے۔

8۔ بیماروں کواچھا کرنا۔ مردوں کا جلانا۔ کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا۔بدروحوں کو نکالنا۔ تم نے مفت پایا مفت دینا۔

8. Matthew 10 : 5-8

5     These twelve Jesus sent forth, and commanded them, saying, Go not into the way of the Gentiles, and into any city of the Samaritans enter ye not:

6     But go rather to the lost sheep of the house of Israel.

7     And as ye go, preach, saying, The kingdom of heaven is at hand.

8     Heal the sick, cleanse the lepers, raise the dead, cast out devils: freely ye have received, freely give.

9۔ متی 5باب38تا47آیات

38۔ تم سْن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔

39۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرو بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اْس کی طرف پھیر دے۔

40۔ اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کْرتا لینا چاہے تْو چوغہ بھی اْسے لینے دے۔

41۔ اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اْس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔

42۔ جو کوئی تجھ سے مانگے اْسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اْس سے منہ نہ موڑ۔

43۔ تم سْن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت۔

44۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو۔

45 ۔تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتاہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔

46۔ کیونکہ اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارا کیا اجر ہے؟ کیا محصول لینے والے بھی ایسا نہیں کرتے؟

47۔ اور اگر تم فقط اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟ کیا غیر قوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے؟

9. Matthew 5 : 38-47

38     Ye have heard that it hath been said, An eye for an eye, and a tooth for a tooth:

39     But I say unto you, That ye resist not evil: but whosoever shall smite thee on thy right cheek, turn to him the other also.

40     And if any man will sue thee at the law, and take away thy coat, let him have thy cloke also.

41     And whosoever shall compel thee to go a mile, go with him twain.

42     Give to him that asketh thee, and from him that would borrow of thee turn not thou away.

43     Ye have heard that it hath been said, Thou shalt love thy neighbour, and hate thine enemy.

44     But I say unto you, Love your enemies, bless them that curse you, do good to them that hate you, and pray for them which despitefully use you, and persecute you;

45     That ye may be the children of your Father which is in heaven: for he maketh his sun to rise on the evil and on the good, and sendeth rain on the just and on the unjust.

46     For if ye love them which love you, what reward have ye? do not even the publicans the same?

47     And if ye salute your brethren only, what do ye more than others? do not even the publicans so?

10۔ یوحنا 15باب12آیت

12۔ میر ا حکم یہ ہے کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔

10. John 15 : 12

12     This is my commandment, That ye love one another, as I have loved you.

11۔ یوحنا 17باب 1،6،9،10،20،26 آیات

1۔یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اْٹھا کر کہا اے باپ وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

6۔ مَیں نے تیرے نام کو اْن آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں تْو نے دنیا میں سے مجھے دیا۔ وہ تیرے تھے اور تْو نے انہیں مجھے دیا اور انہوں نے تیرے کلام پر عمل کیا۔

9۔ مَیں اْن کے لئے درخواست کرتا ہوں مَیں دنیا کے لئے درخواست نہیں کرتا ہوں بلکہ اْن کے لئے جنہیں تْو نے مجھے دیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں۔

10۔اور جو کچھ میرا ہے وہ سب تیرا ہے اور جو تیرا ہے وہ میرا ہے اور اْن سے میرا جلال ظاہر ہوا ہے۔

20۔ مَیں صرف انہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اْن کے لئے بھی جو اْن کے کلام کے وسیلہ مجھ پر ایمان لائیں گے۔

26۔ مَیں نے اْنہیں تیرے نام سے واقف کیا اور کرتا رہوں گا تاکہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اْن میں ہو اور مَیں اْن میں ہوں۔

11. John 17 : 1, 6, 9, 10, 20, 26

1     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:

6     I have manifested thy name unto the men which thou gavest me out of the world: thine they were, and thou gavest them me; and they have kept thy word.

9     I pray for them: I pray not for the world, but for them which thou hast given me; for they are thine.

10     And all mine are thine, and thine are mine; and I am glorified in them.

20     Neither pray I for these alone, but for them also which shall believe on me through their word;

26     And I have declared unto them thy name, and will declare it: that the love wherewith thou hast loved me may be in them, and I in them.

12۔ کلسیوں 1باب9تا11آیات

9۔ اِس لئے جس دن سے یہ سنا ہے ہم بھی تمہارے واسطے یہ دعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اْس کی مرضی کے علم سے معمور ہو جاؤ۔

10۔ تاکہ تمہارا چال چلن خداوند کے لائق ہو اور اْس کو ہر طرح سے پسند آئے اور تم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان میں بڑھتے جاؤ۔

11۔ اور اْس کے جلال کی قدرت کے موافق ہر طرح کی قوت سے قوی ہوتے جاؤ تاکہ خوشی کے ساتھ ہر صورت سے صبر اور تحمل کر سکو۔

12. Colossians 1 : 9-11

9     For this cause we also, since the day we heard it, do not cease to pray for you, and to desire that ye might be filled with the knowledge of his will in all wisdom and spiritual understanding;

10     That ye might walk worthy of the Lord unto all pleasing, being fruitful in every good work, and increasing in the knowledge of God;

11     Strengthened with all might, according to his glorious power, unto all patience and longsuffering with joyfulness;

13۔ 1تمیتھیس 2باب1تا4، 8 آیات

1۔ پس مَیں سب سے پہلے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ مناجاتیں اور دعائیں اور التجائیں اور شکر گزاریاں سب آدمیوں کے لئے کی جائیں۔

2۔ بادشاہوں اور سب بڑے مرتبہ والوں کے واسطے اِس لئے کہ ہم کمال دینداری اور سنجیدگی سے امن و امان کے ساتھ زندگی گزاریں۔

3۔ یہ ہمارے منجی خدا کے نزدیک عمدہ اور پسندیدہ ہے۔

4۔ وہ چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔

8۔ پس مَیں چاہتا ہوں کہ مرد ہر جگہ بغیر غصہ اور تکرار کے پاک ہاتھوں کو اْٹھا کر دعا کیا کریں۔

13. 1 Timothy 2 : 1-4, 8

1     I exhort therefore, that, first of all, supplications, prayers, intercessions, and giving of thanks, be made for all men;

2     For kings, and for all that are in authority; that we may lead a quiet and peaceable life in all godliness and honesty.

3     For this is good and acceptable in the sight of God our Saviour;

4     Who will have all men to be saved, and to come unto the knowledge of the truth.

8     I will therefore that men pray every where, lifting up holy hands, without wrath and doubting.

14۔ یعقوب 5باب16(دعاکرو) (تا)، 16 (دی) آیت

16۔۔۔۔ایک دوسرے کے لئے دعا کرو،۔۔۔راستباز کی دعا کے اثر سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

14. James 5 : 16 (pray) (to ,), 16 (The)

16     …pray one for another, … The effectual fervent prayer of a righteous man availeth much.



سائنس اور صح


1۔ 266 :18 (عالمگیر)۔9

عالمگیر محبت کرسچن سائنس میں الٰہی راہ ہے۔

1. 266 : 18 (Universal)-19

Universal Love is the divine way in Christian Science.

2۔ 454 :17۔24

شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔محبت سچائی کی الطار پر بڑی راہبہ ہے۔ فانی عقل کے پانیوں پر چلنے اور کامل نظریہ تشکیل دینے کے لئے صبر کے ساتھ الٰہی محبت کا انتظار کریں۔ صبر کو ”اپنا پورا کام کرنا چاہئے۔“

2. 454 : 17-24

Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action. Love is priestess at the altar of Truth. Wait patiently for divine Love to move upon the waters of mortal mind, and form the perfect concept. Patience must “have her perfect work.”

3۔ 192 :27۔29

الٰہی مابعدالطبعیات کے فہم میں ہمارے مالک کے نمونے پر چلتے ہوئے ہم سچائی اور محبت کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔

3. 192 : 27-29

We walk in the footsteps of Truth and Love by following the example of our Master in the understanding of divine metaphysics.

4۔ 31 :12۔17

مسیحی فرائض کی فہرست میں سب سے پہلا فرض اْس نے اپنے پیروکاروں کا سکھایا وہ سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت ہے۔ اْس نے بے جان رسموں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ زندہ مسیح، عملی سچائی ہی ہے جو مسیح کو اْن سب کے لئے ”قیامت اور زندگی“ بناتا ہے جو کاموں میں اْس کی پیروی کرتے ہیں۔

4. 31 : 12-17

First in the list of Christian duties, he taught his followers the healing power of Truth and Love. He attached no importance to dead ceremonies. It is the living Christ, the practical Truth, which makes Jesus “the resurrection and the life” to all who follow him in deed.

5۔ 4: 3۔9

صبر، حلیمی، محبت اور نیک کاموں میں ظاہر ہونے والے فضل میں ترقی کرنے کی پْر جوش خواہش کے لئے ہمیں سب سے زیادہ دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے استاد کے حکموں پر عمل کرنا اور اْس کے نمونے کی پیروی کرناہم پر اْس کا مناسب قرض ہے اور جو کچھ اْس نے کیا ہے اْس کی شکر گزاری کا واحد موزوں ثبوت ہے۔

5. 4 : 3-9

What we most need is the prayer of fervent desire for growth in grace, expressed in patience, meekness, love, and good deeds. To keep the commandments of our Master and follow his example, is our proper debt to him and the only worthy evidence of our gratitude for all that he has done.

6۔ 37 :22۔25

یہ ممکن ہے، ہاں یہ ہر بچے، مرد اور عورت کی ذمہ داری اور استحقاق ہے کہ وہ زندگی اور سچائی، صحت اور پاکیزگی کے اظہار کے وسیلہ مالک کے نمونے کی کسی حد تک پیروی کریں۔

6. 37 : 22-25

It is possible, — yea, it is the duty and privilege of every child, man, and woman, — to follow in some degree the example of the Master by the demonstration of Truth and Life, of health and holiness.

7۔ 271 :11۔19

لاطینی میں لفظ پیش کردہ نظم طالب علم کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ شفائیہ طاقت اْن سیکھنے والوں کے لئے مافق الفطری تحفہ نہیں تھی، بلکہ اْن کی حاصل کردہ الٰہی سائنس کی روحانی سمجھ تھی، جس کا اظہار اْن کے مالک نے بیمار اور گناہ کرنے والوں کو شفا دیتے ہوئے کیا۔ چنانچہ اْس کے قول کا عالمگیر اطلاق یہ ہے: ”مَیں صرف انہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اْن کے لئے بھی جو اْن کے کلام کے وسیلہ مجھ پر ایمان لائیں گے(مجھے سمجھیں گے)۔“

7. 271 : 11-19

In Latin the word rendered disciple signifies student; and the word indicates that the power of healing was not a supernatural gift to those learners, but the result of their cultivated spiritual understanding of the divine Science, which their Master demonstrated by healing the sick and sinning. Hence the universal application of his saying: “Neither pray I for these alone, but for them also which shall believe on me [understand me] through their word.”

8۔ 496 :5۔8

آپ یہ سیکھیں گے کہ کرسچن سائنس میں پہلا فرض خدا کی فرمانبرداری کرنا، ایک عقل کو تسلیم کرنا اور ایک دوسرے سے اپنی مانند پیار کرنا ہے۔

8. 496 : 5-8

You will learn that in Christian Science the first duty is to obey God, to have one Mind, and to love another as yourself.

9۔ 88 :18۔20

کسی شخص کا اپنے پڑوسی سے اپنی مانند پیار کرنا الٰہی خیال ہے؛ لیکن یہ خیال جسمانی فہم کے وسیلہ کبھی دیکھا، محسوس کیا اور نہ ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

9. 88 : 18-20

To love one’s neighbor as one’s self, is a divine idea; but this idea can never be seen, felt, nor understood through the physical senses.

10۔ 275 :12۔19

روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اْس کی خصوصیات ہیں، یعنی لامتناہی الٰہی اصول، محبت کے ابدی اظہار۔ کوئی حکمت عقلمند نہیں سوائے اْس کی؛ کوئی سچائی سچ نہیں، کوئی محبت پیاری نہیں، کوئی زندگی زندگی نہیں ماسوائے الٰہی کے، کوئی اچھائی نہیں ماسوائے اْس کے جو خدا بخشتا ہے۔

10. 275 : 12-19

Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God. These are His attributes, the eternal manifestations of the infinite divine Principle, Love. No wisdom is wise but His wisdom; no truth is true, no love is lovely, no life is Life but the divine; no good is, but the good God bestows.

11۔ 205 :22۔3

جب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ صرف ایک ہی عقل ہے تو ہمارے پڑوسی کے ساتھ اپنی مانند پیار کرنے کا الٰہی قانون سامنے آتا ہے؛ جبکہ بہت سے حکمران ذہنوں کا ایک عقیدہ واحد عقل، واحدخدا کی جانب انسان کے معمولی جھکاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے اور انسانی سوچ کو مخالف راہ کی جانب گامزن کرتا ہے جہاں خود غرضی حکومت کرتی ہے۔

خودغرضی انسانی وجود کے ستون کی نوک غلطی کی جانب پھیر دیتی ہے نہ کہ سچائی کی جانب۔ عقل کی وحدانیت سے انکار ہماراوزن روح، خدا، اچھائی کے پیمانے پر نہیں بلکہ مادے کے پیمانے پر ڈال دیتا ہے۔

جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔

11. 205 : 22-3

When we realize that there is one Mind, the divine law of loving our neighbor as ourselves is unfolded; whereas a belief in many ruling minds hinders man’s normal drift towards the one Mind, one God, and leads human thought into opposite channels where selfishness reigns.

Selfishness tips the beam of human existence towards the side of error, not towards Truth. Denial of the oneness of Mind throws our weight into the scale, not of Spirit, God, good, but of matter.

When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.

12۔ 113 :3۔8

سائنس کا خط آج کثرت کے ساتھ انسانیت تک پہنچ رہا ہے، لیکن ا س کی روح بہت چھوٹے درجات میں آتی ہے۔ کرسچن سائنس کا لازمی حصہ، دل اور جان محبت ہے۔ خط اِس کے بغیر سائنس کا مردہ جسم، بے جان، سرد، بے حس ہے۔

12. 113 : 3-8

The letter of Science plentifully reaches humanity to-day, but its spirit comes only in small degrees. The vital part, the heart and soul of Christian Science, is Love. Without this, the letter is but the dead body of Science, — pulseless, cold, inanimate.

13۔ 9: 5۔16

ہر دعا کی پرکھ اِس سوالات کے جواب میں پائی جاتی ہے: کیا ہم اپنے پڑوسی سے اِس حکم کی بنا پر بہتر پیار کرتے ہیں؟ اگرچہ ہم ہماری دعا کے ساتھ مسلسل زندگی گزارتے ہوئے ہماری التجاؤں کی تابعداری کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے، تو کیا کسی بہتر چیز کے لئے دعا کرنے پر مطمئن ہو کر ہم ہماری پرانی خودغرضی کا تعاقب کرتے ہیں؟ اگر خود غرضی نے ہمدردی کو جگہ دے دی ہے، تو ہم ہمارے پڑوسی کے ساتھ بے غرضی سے سلوک رکھیں گے، اور اپنے لعنت بھیجنے والوں کے لئے برکت چاہیں گے؛ لیکن ہم اِس عظیم فرض تک محض یہ مانگنے سے کبھی نہیں پہنچ سکتے کہ یہ بس ہو جائے۔ ہمارے ایمان اور امید کے پھل کا مزہ لینے سے پہلے ہمیں ایک صلیب کو اْٹھانا ہوگا۔

13. 9 : 5-16

The test of all prayer lies in the answer to these questions: Do we love our neighbor better because of this asking? Do we pursue the old selfishness, satisfied with having prayed for something better, though we give no evidence of the sincerity of our requests by living consistently with our prayer? If selfishness has given place to kindness, we shall regard our neighbor unselfishly, and bless them that curse us; but we shall never meet this great duty simply by asking that it may be done. There is a cross to be taken up before we can enjoy the fruition of our hope and faith.

14۔ 365 :15۔19، 31۔2

اگر سائنسدان االٰہی محبت کے وسیلہ اپنے مریض تک پہنچتا ہے، تو شفائیہ کام ایک ہی آمد میں مکمل ہو جائے گا، اور بیماری اپنے آبائی عدم میں غائب ہو جائے گی جیسے کہ صبح کے وقت سورج کی روشنی سے پہلے اوس ہوتی ہے۔

دْکھ اٹھانے والے غریب دل کو مناسب غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ سکون، مصیبت میں صبر اور عزیز باپ کی شفقت، ہمدردی کا انمول فہم۔

14. 365 : 15-19, 31-2

If the Scientist reaches his patient through divine Love, the healing work will be accomplished at one visit, and the disease will vanish into its native nothingness like dew before the morning sunshine.

The poor suffering heart needs its rightful nutriment, such as peace, patience in tribulation, and a priceless sense of the dear Father’s loving-kindness.

15۔ 518 :13۔23

خدا خود کا تصور بڑے کے ساتھ ایک رابطے کے لئے چھوٹے کو دیتا ہے، اور بدلے میں، بڑا ہمیشہ چھوٹے کو تحفظ دیتا ہے۔ روح کے امیراعلیٰ بھائی چارے میں،ایک ہی اصول یا باپ رکھتے ہوئے، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور مبارک ہے وہ شخص جودوسرے کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتے ہوئے، اپنے بھائی کی ضرورت دیکھتا اور پوری کرتا ہے۔ محبت کمزور روحانی خیال کو طاقت، لافانیت اور بھلائی عطا کرتی ہے جو سب میں ایسے ہی روشن ہوتی ہے جیسے شگوفہ ایک کونپل میں روشن ہوتا ہے۔ خدا سے متعلق تمام تر مختلف اظہارات صحت، پاکیزگی، لافانیت، لامحدود زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔

15. 518 : 13-23

God gives the lesser idea of Himself for a link to the greater, and in return, the higher always protects the lower. The rich in spirit help the poor in one grand brotherhood, all having the same Principle, or Father; and blessed is that man who seeth his brother’s need and supplieth it, seeking his own in another’s good. Love giveth to the least spiritual idea might, immortality, and goodness, which shine through all as the blossom shines through the bud. All the varied expressions of God reflect health, holiness, immortality — infinite Life, Truth, and Love.

16۔ 572 :6۔8، 12۔17

’’آپس میں محبت رکھیں“ (1یوحنا 3باب23 آیت)، الہامی مصنف کی سب سے سادہ اور گہری نصیحت ہے۔

محبت کرسچن سائنس کے قانون کو پورا کرتی ہے، اور اس الٰہی اصول کے بغیر کچھ بھی، سمجھا جانے والا اور ظاہر ہونے والا، آسمانی کتاب کی بصیرت کو آراستہ نہیں کرسکتا، یہ کتاب جو سچائی کے ساتھ غلطی کی سات مہریں کھولتی ہے، یا گناہ، بیماری اور موت کے ہزار ہا بھرموں کو بے نقاب کرتی ہے۔

16. 572 : 6-8, 12-17

“Love one another” (I John, iii. 23), is the most simple and profound counsel of the inspired writer.

Love fulfils the law of Christian Science, and nothing short of this divine Principle, understood and demonstrated, can ever furnish the vision of the Apocalypse, open the seven seals of error with Truth, or uncover the myriad illusions of sin, sickness, and death.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████