اتوار24 نومبر، 2019 |

اتوار24 نومبر، 2019



مضمون۔ جان اور جسم

SubjectSoul and Body

سنہری متن:سنہری متن: افسیوں 5باب23 آیت

’’مسیح کلیسیا کا سر ہے اور وہ خود بدن کا بچانے والا ہے۔‘‘



Golden Text: Ephesians 5 : 23

Christ is the head of the church: and he is the saviour of the body.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 55باب 3، 6، 8تا11 آیات


3۔ کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ سنو اور تمہاری جان زندہ رہے گی۔

6۔ جب تک خداوند مل سکتا ہے اْس کے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اْسے پکارو۔

8۔ خداوند فرماتا ہے میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔

9۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اْسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔

10۔ کیونکہ جس طرح آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے اور پھر وہاں واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے اور اْس کی شادابی اور روئیدگی کا کا باعث ہوتی ہے تاکہ بونے والے کو بیج اور کھانے والے کو روٹی دے۔

11۔ اسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ انجام میرے پاس واپس نہ آئے گا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اْسے پورا کرے گا اور اْس کام میں جس کے لئے میں نے اْسے بھیجا ہے موثر ہوگا۔

Responsive Reading: Isaiah 55 : 3, 6, 8-11

3.     Incline your ear, and come unto me: hear, and your soul shall live.

6.     Seek ye the Lord while he may be found, call ye upon him while he is near.

8.     For my thoughts are not your thoughts, neither are your ways my ways, saith the Lord.

9.     For as the heavens are higher than the earth, so are my ways higher than your ways, and my thoughts than your thoughts.

10.     For as the rain cometh down, and the snow from heaven, and returneth not thither, but watereth the earth, and maketh it bring forth and bud, that it may give seed to the sower, and bread to the eater:

11.     So shall my word be that goeth forth out of my mouth: it shall not return unto me void, but it shall accomplish that which I please, and it shall prosper in the thing whereto I sent it.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 34:22 آیت

22۔ خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا۔

1. Psalm 34 : 22

22     The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.

2۔ زبور 107: 8، 9 آیات

8۔ کاش لوگ خداوند کی شفقت کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اْس کے عجائب کی خاطر اْس کی ستائش کرتے!

9۔ کیونکہ وہ ترستی جان کو سیر کرتا ہے۔ اور بھوکی جان کو نعمتوں سے مالا مال کرتا ہے۔

2. Psalm 107 : 8, 9

8     Oh that men would praise the Lord for his goodness, and for his wonderful works to the children of men!

9     For he satisfieth the longing soul, and filleth the hungry soul with goodness.

3۔ دانی ایل 1باب 1، 3تا6، 8 (تا؛)، 11تا15، 18 (پھر)تا 20 آیات

1۔ شاہ یہوداہ یہو یقیم کی سلطنت کے تیسرے سال میں شاہ بابل نبوکد نضر نے یروشلیم پر چڑاھائی کر کے اُس کا محاصرہ کیا۔

3۔اور بادشاہ نے اپنے خواجہ سراوں کے سردار اسپنز کو حکم کیا بنی اسرائیل میں سے اور بادشاہ کی نسل میں سے اور شرفا میں سے لوگوں کو خاضر کرے۔

4۔وہ بے عیب جوان بلکہ خوب صورت اور حکمت میں ماہر اور ہرطرح سے دانش ور اور صاحب علم ہوں جن میں یہ لیاقت ہو کہ شاہی قصر میں کھڑے رہیں اور وہ اُن کو کسدیوں کے علم اور اُن کی زبان کی تعلیم دے۔

5۔ اور بادشاہ نے اُن کے لے شاہی خوراک سے اور اپنے بیٹے کی مے میں سے روزانہ و ظیفہ مقرر کیا کہ تین سال تک اُن کی پرورش ہو تاکہ اس کے بعد وہ بادشاہ کے حضور کھڑے ہو سکیں۔

6۔ اور میں اُن میں بنی یہوداہ میں سے دانی ایل اور حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ تھے۔

8۔ لیکن دانی ایل نے اپنے دل میں ارادہ کیا کہ اپنے آپ کو شاہی خوراک سے اور اُس کی مے سے جو وہ پیتا تھا ناپاک نہ کرے اس لے اُس نے خواجہ سراوں کے سردار سے درخواست کی کہ وہ اپنے آپ کو ناپاک کرنے سے معذور رکھا جائے۔

11۔ تب دانی ایل نے داروغہ سے جس کو خواجہ سراوں کے سردار نے دانی ایل اور حننیاہ اور میسا ایل اور عزریاہ پر مقرر کیا تھا کہا۔

12۔ میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو دس روز تک اپنے خادموں کوزما کر دیکھ اور کھانے کو ساگ پات اور پینے کو پانی ہم کودلوا۔

13۔ تب ہمارے چہرے اور اُن لوگوں کے چہرے جو شاہی کھانا کھاتے ہیں تیرے حضور دیکھے جائیں۔ پھر اپنے خادموں سے جو تو مناسب سمجھے سو کر۔

14۔ چنانچہ اُس نے اُن کی یہ بات قبول کی اور دس روز تک اُن کو آزمایا۔

15۔ اور دس روز کے بعد اُن کے چہروں پر اُن سب جوانوں کے چہروں کی نسبت جو شاہی کھانا کھاتے تھے زیادہ رونق اور تازگی نظر آئی۔

18۔ تو خواجہ سراوں کا سردار اُن کو نبوکد نضر کے حضور لے گیا۔

19۔ اور بادشاہ نے اُن سے گفتگو کی اور اُن میں سے دانی ایل اور حننیاہ اور میساایل اور عزریاہ کی مانند کوئی نہ تھا۔ اس لے وہ بادشاہ کے حضور کھڑے رہنے لگے۔

20۔ اور ہر طرح کی خرد مندی اور دانش وری کے باب میں جو کچھ بادشاہ نے اُن سے پوچھا اُن کو تمام فالگیروں اور نجومیوں سے جو اُس کے تمام ملک میں تھے دس درجہ بہتر پایا۔

3. Daniel 1 : 1, 3-6, 8 (to :), 11-15, 18 (then)-20

1     In the third year of the reign of Jehoiakim king of Judah came Nebuchadnezzar king of Babylon unto Jerusalem, and besieged it.

3     And the king spake unto Ashpenaz the master of his eunuchs, that he should bring certain of the children of Israel, and of the king’s seed, and of the princes;

4     Children in whom was no blemish, but well favoured, and skilful in all wisdom, and cunning in knowledge, and understanding science, and such as had ability in them to stand in the king’s palace, and whom they might teach the learning and the tongue of the Chaldeans.

5     And the king appointed them a daily provision of the king’s meat, and of the wine which he drank: so nourishing them three years, that at the end thereof they might stand before the king.

6     Now among these were of the children of Judah, Daniel, Hananiah, Mishael, and Azariah:

8     But Daniel purposed in his heart that he would not defile himself with the portion of the king’s meat, nor with the wine which he drank:

11     Then said Daniel to Melzar, whom the prince of the eunuchs had set over Daniel, Hananiah, Mishael, and Azariah,

12     Prove thy servants, I beseech thee, ten days; and let them give us pulse to eat, and water to drink.

13     Then let our countenances be looked upon before thee, and the countenance of the children that eat of the portion of the king’s meat: and as thou seest, deal with thy servants.

14     So he consented to them in this matter, and proved them ten days.

15     And at the end of ten days their countenances appeared fairer and fatter in flesh than all the children which did eat the portion of the king’s meat.

18     …then the prince of the eunuchs brought them in before Nebuchadnezzar.

19     And the king communed with them; and among them all was found none like Daniel, Hananiah, Mishael, and Azariah: therefore stood they before the king.

20     And in all matters of wisdom and understanding, that the king enquired of them, he found them ten times better than all the magicians and astrologers that were in all his realm.

4۔ 1کرنتھیوں 6باب19، 20 آیات

19۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

20۔ کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔

4. I Corinthians 6 : 19, 20

19     What? know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

20     For ye are bought with a price: therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.

5۔ متی 12باب1(یسوع) (تا؛)، 22تا28 آیات

1۔ اْس وقت یسوع سبت کے دن کھیتوں میں ہو کر گیا۔

22۔ اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا۔ چنانچہ وہ گونگا بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد نہیں؟

24۔ فریسیوں نے کہا کہ یہ بدروحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بد روحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کر کہا جس بادشاہی میں پھْوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھْوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے بد روحوں کو نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آپہنچی۔

5. Matthew 12 : 1 (Jesus) (to ;), 22-28

1     Jesus went on the sabbath day through the corn;

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

6۔ رومیوں 8باب1، 2، 22،23آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کر دیا۔

22۔ کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ ساری مخلوقات مل کر اب تک کراہتی ہے اور دردِ زہ میں پڑی تڑپتی ہے۔

23۔ اور نہ فقط وہی بلکہ ہم بھی جنہیں روح کے پہلے پھل ملے ہیں آپ اپنے بدن میں کراہتے ہیں اور لے پالک ہونے یعنی اپنے بدن کی مخلصی کی راہ دیکھتے ہیں۔

6. Romans 8 : 1, 2, 22, 23

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

22     For we know that the whole creation groaneth and travaileth in pain together until now.

23     And not only they, but ourselves also, which have the firstfruits of the Spirit, even we ourselves groan within ourselves, waiting for the adoption, to wit, the redemption of our body.

7۔ 2 کرنتھیوں 5باب1تا8 آیات

1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

2۔ چنانچہ ہم اس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے ملبس ہو جائیں۔

3۔ تاکہ ملبس ہونے کے باعث ننگے نہ پائے جائیں۔

4۔ کیونکہ ہم اس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ لباس اتارنا چاہتے ہیں بلکہ اس پر اور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔

5۔ اور جس نے ہم کو اِس بات کے لئے تیار کیا وہ خدا ہے اور اسی نے ہمیں روح بیعانہ میں دیا۔

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔

7۔ کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہوکر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

7. II Corinthians 5 : 1-8

1     For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.

2     For in this we groan, earnestly desiring to be clothed upon with our house which is from heaven:

3     If so be that being clothed we shall not be found naked.

4     For we that are in this tabernacle do groan, being burdened: not for that we would be unclothed, but clothed upon, that mortality might be swallowed up of life.

5     Now he that hath wrought us for the selfsame thing is God, who also hath given unto us the earnest of the Spirit.

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

8۔ 1 تھسلینکیوں 5باب23 آیت

23۔ خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بالکل پاک کرے اور تمہاری روح اور جان اور بدن ہمارے خداوند یسوع مسیح کے آنے تک پورے پورے اور بے عیب محفوظ رہیں۔

8. I Thessalonians 5 : 23

23     And the very God of peace sanctify you wholly; and I pray God your whole spirit and soul and body be preserved blameless unto the coming of our Lord Jesus Christ.



سائنس اور صح


1۔ 477 :26 صرف

انسان روح کا اظہار۔

1. 477 : 26 only

Man is the expression of Soul.

2۔ 335 :16 (خدا)۔ 18،20۔21، 22۔24

خدا اور روح ایک ہیں، اور یہ اتحاد کبھی بھی محدود عقل یا ایک محدود بدن میں شامل نہیں ہوتا۔ ۔۔۔کیونکہ روح لافانی ہے، اس لئے یہ لافانیت میں وجود نہیں رکھتی۔ ۔۔۔روح سے متعلق جھوٹے فہم کو کھونے سے ہم زندگی کے ابدی راز پا سکتے ہیں جیسے لافانیت کو روشنی میں لایا جاتا ہے۔

2. 335 : 16 (God)-18, 20-21, 22-24

God and Soul are one, and this one never included in a limited mind or a limited body. … Because Soul is immortal, it does not exist in mortality. … Only by losing the false sense of Soul can we gain the eternal unfolding of Life as immortality brought to light.

3۔ 427 :2۔7، 9۔12

زندگی جان کا قانون ہے، حتیٰ کہ سچائی کی روح کا قانون بھی، اور جان کسی نمائندہ کارکے بغیر کبھی نہیں ہوتی۔ انسان کی انفرادیت اپنے ضمیر میں کبھی مر سکتی ہے نہ غائب ہو سکتی ہے جیسے کہ جان ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں لافانی ہیں۔ ۔۔۔اس سے قبل کی زندگی کو سمجھا اور ہم آہنگی کو حاصل کیا جا سکے، اس یقین پر سائنس کی بدولت مہارت حاصل ہونی چاہئے کہ وجودیت مادے کا عارضی حصہ ہے۔

3. 427 : 2-7, 9-12

Life is the law of Soul, even the law of the spirit of Truth, and Soul is never without its representative. Man's individual being can no more die nor disappear in unconsciousness than can Soul, for both are immortal. … The belief that existence is contingent on matter must be met and mastered by Science, before Life can be understood and harmony obtained. 

4۔ 119 :25۔9

طلوعِ آفتاب کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ مانتا ہے کہ یہ منظر ہماری حواس کے لئے اس یقین کی مخالفت کرتا ہے کہ زمین حرکت میں ہے اور سورج ساکت ہے۔جیسے علم فلکیات نظام شمسی کی حرکت سے متعلق انسانی نظریے کو تبدیل کرتا ہے، اسی طرح کرسچن سائنس جان اور بدن کے دیدنی تعلق کو تبدیل کرتی ہے اور بدن کو عقل کے لئے معاون بناتی ہے۔پس یہ انسان پر منحصر کرتا ہے جو آرام دہ عقل کا حلیم خادم ہونے کے علاوہ کچھ نہیں، اگر چہ دوسری صورت میں یہ فہم کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔لیکن ہم اسے کبھی سمجھ نہیں پائیں گے جب تک کہ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ جان مادے کی بدولت بدن یا عقل میں ہے اور یہ کہ انسان کم عقلی میں شامل ہے۔جان یا روح خدا ہے،ناقابل تبدیل اور ابدی؛ اور انسان جان، خدا کے ساتھ وجودیت رکھتا اور اس کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ انسان خدا کی شبیہ ہے۔

سائنس جسمانی حواس کی جھوٹی گواہی کو تبدیل کرتی ہے، اور اس تبدیلی کے باعث بشر ہستی کے بنیادی حقائق تک پہنچتے ہیں۔

4. 119 : 25-9

In viewing the sunrise, one finds that it contradicts the evidence before the senses to believe that the earth is in motion and the sun at rest. As astronomy reverses the human perception of the movement of the solar system, so Christian Science reverses the seeming relation of Soul and body and makes body tributary to Mind. Thus it is with man, who is but the humble servant of the restful Mind, though it seems otherwise to finite sense. But we shall never understand this while we admit that soul is in body or mind in matter, and that man is included in non-intelligence. Soul, or Spirit, is God, unchangeable and eternal; and man coexists with and reflects Soul, God, for man is God's image.

Science reverses the false testimony of the physical senses, and by this reversal mortals arrive at the fundamental facts of being.

5۔ 120 :15 (تا؛)

صحت مادے کی حالت نہیں بلکہ عقل کی حالت ہے؛

5. 120 : 15 (to ;)

Health is not a condition of matter, but of Mind;

6۔ 388 :12۔24

ان مفروضوں کو تسلیم کریں کہ خوراک زندگی کی غذائیت ہے؛ اور اس کے بعد مخالف سمت میں ایک اور اعتراف کی ضرورت پڑتی ہے، یہ کہ خوراک میں کسی کمی یا زیادتی، معیار یا مقدار کے ذریعے زندگی، خدا، کوتباہ کرنے کی طاقت پائی جاتی ہے۔صحت سے متعلق تمام تر مادی مفروضوں کی مبہم فطرت کا یہ ایک نمونہ ہے۔یہ خود مخالف اور خود کْش ہیں، جو قائم کرتے ہیں ایک ایسی ”سلنطت جس میں پھوٹ پڑ جائے“تو وہ ”ویران ہوجاتی ہے“۔ اگر اپنے شاگردوں کے لئے کھانا یسوع کی طرف سے تیار کیا گیا ہو تو یہ زندگی کو تباہ نہیں کر سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ خوراک انسان کی مکمل زندگی کو متاثر نہیں کرتی، اور جب ہم یہ سیکھتے ہیں کہ خدا ہماری زندگی ہے تو یہ خود عیاں ہو جاتی ہے۔

6. 388 : 12-24

Admit the common hypothesis that food is the nutriment of life, and there follows the necessity for another admission in the opposite direction, — that food has power to destroy Life, God, through a deficiency or an excess, a quality or a quantity. This is a specimen of the ambiguous nature of all material health-theories. They are self-contradictory and self-destructive, constituting a "kingdom divided against itself," which is "brought to desolation." If food was prepared by Jesus for his disciples, it cannot destroy life.

The fact is, food does not affect the absolute Life of man, and this becomes self-evident, when we learn that God is our Life.

7۔ 220 :26۔30

یہ یقین کہ روزہ یا دعوت انسان کو اخلاقی یا جسمانی طور پر بہتر بناتے ہیں ”نیکی اور بدی کی پہچان کے درخت“ کے پھلوں میں سے ایک ہے جس کے متعلق خدا نے کہا، ”تم اسے ہر گز نہ کھانا۔“

7. 220 : 26-30

The belief that either fasting or feasting makes men better morally or physically is one of the fruits of "the tree of the knowledge of good and evil," concerning which God said, "Thou shalt not eat of it."

8۔ 442 :22۔25

مسیح، سچائی بشر کو اْس وقت تک عارضی خوراک اور لباس فراہم کرتا ہے جب تک مادا، نمونے کے ساتھ تبدیل ہوکر، غائب نہیں ہوجاتا، اور روحانی طور پر ملبوس اور سیر ہوتا ہے۔

8. 442 : 22-25

Christ, Truth, gives mortals temporary food and clothing until the material, transformed with the ideal, disappears, and man is clothed and fed spiritually.

9۔ 176 :7۔10

خوراک سے متعلق خیالات کو نہ جاننے کی تاریخی رسم نے پیٹ اور پیالوں کو فطرت کی فرمانبرداری کرنے کے لئے آزاد کیا اور انجیل کو بدن پر اپنے جلالی اثرات ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا۔

9. 176 : 7-10

The primitive custom of taking no thought about food left the stomach and bowels free to act in obedience to nature, and gave the gospel a chance to be seen in its glorious effects upon the body.

10۔ 168 :15۔23

کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے نظام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خدا کے قوانین کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتے ہوئے انسان بیمار اور ناکارہ ہوجاتا، تکلیف اٹھاتا اور مر جاتا ہے، کیا ہمیں اس پر یقین کرنا چاہئے؟ کیا ہمیں ایسے اختیار پر یقین رکھنا چاہئے جو کاملیت سے متعلق خدا کے روحانی حکم سے انکاری ہے، ایسا اختیار جسے یسوع نے غلط ثابت کیا؟اْس نے باپ کی مرضی کو پورا کیا۔ اْس نے اْس کے انحراف میں بیماری سے شفا بخشی جسے مادی شریعت کہا جاتا ہے،لیکن خدا کی شریعت، عقل کی شریعت کے مطابق۔

10. 168 : 15-23

Because man-made systems insist that man becomes sick and useless, suffers and dies, all in consonance with the laws of God, are we to believe it? Are we to believe an authority which denies God's spiritual command relating to perfection, — an authority which Jesus proved to be false? He did the will of the Father. He healed sickness in defiance of what is called material law, but in accordance with God's law, the law of Mind.

11۔ 390 :4۔18، 23۔26

ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ زندگی خود پرور ہے، اور ہمیں روح کی ابدی ہم آہنگی سے منکر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ، بظاہر فانی احساسات میں اختلاف ہیں۔ یہ خدا، الٰہی اصول، سے ہماری نا واقفیت ہے جو ظاہری اختلاف کو جنم دیتی ہے، اور اس سے متعلق بہتر سوچ ہم آہنگی کو بحال کرتی ہے۔ سچائی تفصیل میں ہمیں مجبور کرے گی کہ ہم سب خوشیوں اور دْکھوں کے فہم کا زندگی کی خوشیوں کے ساتھ تبادلہ کریں۔

جب بیماری کی پہلی علامات سامنے آتی ہیں، الٰہی سائنس کے ساتھ مادی حواس کی گواہی پر بحث کریں۔ عدل سے متعلق آپ کے بلند فہم کو مادی آراء کا جھوٹا مرحلہ تباہ کرنے دیں جسے آپ قانون کا نام دیتے ہیں، پھر آپ بیماری والے کمرے تک محدود نہیں رہیں گے نہ ہی آپ آخری سکہ ادا کرنے تک، غلطی کی طلب کردہ سزاء تک، درد کے بستر پر لیٹے رہیں گے۔ ۔۔۔ آپ کے پاس گناہ یا بیماری میں سے کسی ایک کی ضرورت کو حمایت کے لئے اْس کا کوئی قانون نہیں ہے، لیکن آپ کے پاس اس ضرورت کا انکار کرنے اور بیمار کو شفا دینے کا اختیار ضرور ہے۔

11. 390 : 4-18, 23-26

We cannot deny that Life is self-sustained, and we should never deny the everlasting harmony of Soul, simply because, to the mortal senses, there is seeming discord. It is our ignorance of God, the divine Principle, which produces apparent discord, and the right understanding of Him restores harmony. Truth will at length compel us all to exchange the pleasures and pains of sense for the joys of Soul.

When the first symptoms of disease appear, dispute the testimony of the material senses with divine Science. Let your higher sense of justice destroy the false process of mortal opinions which you name law, and then you will not be confined to a sick-room nor laid upon a bed of suffering in payment of the last farthing, the last penalty demanded by error. … You have no law of His to support the necessity either of sin or sickness, but you have divine authority for denying that necessity and healing the sick.

12۔ 391 :29۔2

بدن کی جانب سے ہر شکایت کی ذہنی طور پر مخالف کریں، محبت کی طرح زندگی کے حقیقی شعور میں آگے بڑھیں، اْن سب کی مانند جو پاک ہیں اور روح کا پھل پیدا کر رہے ہیں۔خوف بیماری کا سر چشمہ ہے اور آپ خوف اور گناہ پر الٰہی عقل کے وسیلہ حکومت کرتے ہیں، لہٰذہ یہ الٰہی عقل ہی ہے جس کے وسیلہ آپ بیماری پرقابو پاتے ہیں۔

12. 391 : 29-2

Mentally contradict every complaint from the body, and rise to the true consciousness of Life as Love, — as all that is pure, and bearing the fruits of Spirit. Fear is the fountain of sickness, and you master fear and sin through divine Mind; hence it is through divine Mind that you overcome disease.

13۔ 393 :4۔18

بدن محض اس لئے خود کار دکھائی دیتا ہے کیونکہ مادی عقل خود سے، اپنے کاموں سے اور اْن کے نتائج سے بے خبر ہوتی ہے، اس بات سے بے خبر کہ تمام تر بْرے اثرات کی مائل کرنے والی، الگ قسم کی اور پر جوش وجہ نام نہاد مادی عقل، نہ کہ مادے کا قانون ہے۔عقل جسمانی حواس کی مالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔ اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں، اور اِس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔

اپنے اس فہم میں مضبوط رہیں کہ الٰہی عقل حکومت کرتی ہے اور یہ کہ سائنس میں انسان خدا کی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔

13. 393 : 4-18

The body seems to be self-acting, only because mortal mind is ignorant of itself, of its own actions, and of their results, — ignorant that the predisposing, remote, and exciting cause of all bad effects is a law of so-called mortal mind, not of matter. Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.

Be firm in your understanding that the divine Mind governs, and that in Science man reflects God's government.

14۔ 302 :14 (اجازت دیں)۔18، 19۔24

۔۔۔ آئیے یاد کریں کہ ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔ ۔۔۔ ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

14. 302 : 14 (let)-18, 19-24

…let us remember that harmonious and immortal man has existed forever, and is always beyond and above the mortal illusion of any life, substance, and intelligence as existent in matter. … The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████