اتوار25اگست، 2019 |

اتوار25اگست، 2019

مضمون۔ عقل


سنہری متن:سنہری متن: 2 تمیتھیس 1باب7آیت

’’کیونکہ خدا نے ہمیں دہشت کی روح نہیں بلکہ قدرت اور تربیت کی روح دی ہے۔‘‘

Golden Text: II Timothy 1 : 7

For God hath not given us the spirit of fear; but of power, and of love, and of a sound mind.

سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 43باب1تا5، 7آیات

1۔ خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔میں نے تیرا نام لے کر تجھے بلایا ہے، تو میرا ہے۔

2۔ جب تْو سیلاب میں سے گزرے تو میں تیرے ساتھ ہوں گا اور جب تو ندیوں میں سے گزرے تو وہ تجھے نہ ڈْبائیں گی۔ جب تو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگے گی اور شعلہ تجھے نہ جلائے گا۔

3۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا اسرائیل کا قدوس تیرا نجات دینے والا ہوں۔

4۔ چونکہ تْو میری نگاہ میں بیش قیمت اور مکرم ٹھہرا اور میں نے تجھ سے محبت رکھی۔

5۔ خوف نہ کھا کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔

7۔ ہر ایک کو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور جس کو میں نے اپنے جلال کے لئے خلق کیا جسے میں نے پیدا کیا ہاں جسے میں نے ہی بنایا۔

Responsive Reading: Isaiah 43 : 1-5, 7

1.     Thus saith the Lord that created thee, Fear not: for I have redeemed thee, I have called thee by thy name; thou art mine.

2.     When thou passest through the waters, I will be with thee; and through the rivers, they shall not overflow thee: when thou walkest through the fire, thou shalt not be burned; neither shall the flame kindle upon thee.

3.     For I am the Lord thy God, the Holy One of Israel, thy Saviour:

4.     Since thou wast precious in my sight, thou hast been honourable, and I have loved thee:

5.     Fear not: for I am with thee:

7.     Even every one that is called by my name: for I have created him for my glory, I have formed him; yea, I have made him.

درسی وعظ


درسی وعظ


1۔ زبور 34: 17، 22 آیات

17۔ صادق چلائے اور خداوند نے سنا اور اْن کو اْن کے سب دْکھوں سے چھڑایا۔

22۔ خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا۔

1. Psalm 34 : 17, 22

17     The righteous cry, and the Lord heareth, and delivereth them out of all their troubles.

22     The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.

2۔ یرمیاہ 29باب11تا13 آیات

11۔ کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات۔ برائی کے نہیں بلکہ میں تم کو نیک انجام کی امید بخشوں۔

12۔ تب تم میرا نام لو گے اور مجھ سے دعا کرو گے اور میں تمہاری سنوں گا۔

13۔ اور تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔جب پورے دل سے میرے طالب ہو گے۔

2. Jeremiah 29 : 11-13

11     For I know the thoughts that I think toward you, saith the Lord, thoughts of peace, and not of evil, to give you an expected end.

12     Then shall ye call upon me, and ye shall go and pray unto me, and I will hearken unto you.

13     And ye shall seek me, and find me, when ye shall search for me with all your heart.

3۔ 1کرنتھیوں 10باب13آیت

13۔ تم کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑے جو انسان کی برداشت سے باہر ہواور خدا سچا ہے۔وہ تم کو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمائش میں نہ پڑنے دے گا بلکہ آزمائش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کرے گا تاکہ تم برداشت کر سکو۔

3. I Corinthians 10 : 13

13     There hath no temptation taken you but such as is common to man: but God is faithful, who will not suffer you to be tempted above that ye are able; but will with the temptation also make a way to escape, that ye may be able to bear it.

4۔ متی 4باب23 (تا پہلا،)، 24 آیات

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں اور مِرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

4. Matthew 4 : 23 (to 1st ,), 24

23     And Jesus went about all Galilee,

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

5۔ لوقا 8باب26(تا پہلا)، 27تا33، 35 (تا:)

26۔ پھروہ اسینیوں کے علاقہ میں جا پہنچے۔

27۔ جب وہ کنارے پر اترا تو اُس شہر کا ایک مرد اُسے ملا جس میں بد روحیں تھیں اور اُس نے بڑی مدت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔

28۔وہ یسوع کو دیکھ کر چلایا اور اُس کے آگے گر کر بلند آواز سے کہنے لگا اے یسوع! خدا تعالیٰ کے بیٹے مجھے تجھ سے کیا کام؟ تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے عذاب میں نہ ڈال۔

29۔ کیونکہ وہ اُس ناپاک روح کو حکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نکل جا۔ اِس لئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہرچند لوگ اُسے زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابو میں رکھتے تھے تو بھی وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بد روح اُس کو بِیابانوں میں بھگائے پھرتی تھی۔

30۔یسوع نے اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بہت سے بد روحیں تھیں۔

31۔اور وہ اُس کی منت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حکم نہ دے۔

32۔وہاں پہاڑ پر سواروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی منت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے۔ اُس نے اُنہیں جانے دیا۔

33۔اور بد روحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سواروں کے اندر گئیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جھیل میں جا پڑا اور ڈوب مرا۔

35۔ لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نکلے اور یسوع کے پاس آ کر اُس آدمی کو جس میں سے بد روحیں نکلی تھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یسوع کے پاؤں کے پاس بیٹھے پایا اور ڈر گئے۔

5. Luke 8 : 26 (to 1st ,), 27-33, 35 (to :)

26     And they arrived at the country of the Gadarenes,

27     And when he went forth to land, there met him out of the city a certain man, which had devils long time, and ware no clothes, neither abode in any house, but in the tombs.

28     When he saw Jesus, he cried out, and fell down before him, and with a loud voice said, What have I to do with thee, Jesus, thou Son of God most high? I beseech thee, torment me not.

29     (For he had commanded the unclean spirit to come out of the man. For oftentimes it had caught him: and he was kept bound with chains and in fetters; and he brake the bands, and was driven of the devil into the wilderness.)

30     And Jesus asked him, saying, What is thy name? And he said, Legion: because many devils were entered into him.

31     And they besought him that he would not command them to go out into the deep.

32     And there was there an herd of many swine feeding on the mountain: and they besought him that he would suffer them to enter into them. And he suffered them.

33     Then went the devils out of the man, and entered into the swine: and the herd ran violently down a steep place into the lake, and were choked.

35     Then they went out to see what was done; and came to Jesus, and found the man, out of whom the devils were departed, sitting at the feet of Jesus, clothed, and in his right mind:

6۔ متی 17باب21تا 24

14۔ اور جب وہ بھیڑ کے پاس پہنچے تو ایک آدمی اُس کے پاس آیا اور اُس کے آگے گھٹنے ٹیک کر کہنے لگا۔

15۔اے خداوند میرے بیٹے پر رحم کرکیونکہ اُس کو مرگی آتی ہے اور وہ بہت دکھ اٹھاتا ہے۔ اس لئے کہ اکثر آگ اور پانی میں گر پڑتا ہے۔

16۔اور میں اُس کو تیرے شاگردوں کے پاس لایا تھا مگر وہ اُسے اچھا نہ کرسکے۔

17۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اے بے اعتقاد اور کج رو نسل میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا؟ کب تک تمہاری برداشت کروں گا؟ اُسے یہاں میرے پاس لاؤ۔

18۔ یسوع نے اُسے جھڑکا اور بدروح اُس سے نکل گئی اور وہ لڑکا اُسی گھڑی اچھا ہوگیا۔

19۔ تب شاگردوں نے یسوع کے پاس آ کر خلوت میں کہا ہم اس کو کیوں نہ نکال سکے؟

20۔ اُس نے اُن سے کہا اپنے ایمان کی کمی کے سبب اور کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگرتم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو اس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہوگی۔

21۔ لیکن یہ قسم دعا کے سوا اور کسی طرح نہیں نکل سکتی۔

6. Matthew 17 : 14-21

14     And when they were come to the multitude, there came to him a certain man, kneeling down to him, and saying,

15     Lord, have mercy on my son: for he is lunatick, and sore vexed: for ofttimes he falleth into the fire, and oft into the water.

16     And I brought him to thy disciples, and they could not cure him.

17     Then Jesus answered and said, O faithless and perverse generation, how long shall I be with you? how long shall I suffer you? bring him hither to me.

18     And Jesus rebuked the devil; and he departed out of him: and the child was cured from that very hour.

19     Then came the disciples to Jesus apart, and said, Why could not we cast him out?

20     And Jesus said unto them, Because of your unbelief: for verily I say unto you, If ye have faith as a grain of mustard seed, ye shall say unto this mountain, Remove hence to yonder place; and it shall remove; and nothing shall be impossible unto you.

21     Howbeit this kind goeth not out but by prayer and fasting.

7۔ یوحنا 8باب31، 32 آیات

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

7. John 8 : 31, 32

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

8۔ 1کرنتھیوں 6باب19 (جانیں)، 20 آیات

19۔۔۔۔کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

20۔ کیونکہ قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔

8. I Corinthians 6 : 19 (know), 20

19     …know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

20     For ye are bought with a price: therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.

9۔ رومیوں 12باب1، 2 آیات

1۔ پس اے بھائیو! میں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔ اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اورکامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔

9. Romans 12 : 1, 2

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

10۔ 2 کرنتھیوں 5باب17آیت

17۔ اس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ پرانی چیزیں جاتی رہیں، دیکھو وہ نئی ہو گئیں۔

10. II Corinthians 5 : 17

17     Therefore if any man be in Christ, he is a new creature: old things are passed away; behold, all things are become new.

سائنس اور صح

1۔ 209 :5۔8

عقل، اپنی تمام تر اصلاحات پر برتر اور اِن سب پر حکمرانی کرنے والی، اپنے خود کے خیالات کے نظاموں کا ایک مرکزی شمس ہے، یعنی اپنی خود کی وسیع تخلیق کی روشنی اور زندگی؛ اور انسان الٰہی عقل کا معاون ہے۔

1. 209 : 5-8

Mind, supreme over all its formations and governing them all, is the central sun of its own systems of ideas, the life and light of all its own vast creation; and man is tributary to divine Mind.

2۔ 475 :5 صرف، 7۔9، 14۔22

سوال۔ انسان کیا ہے؟

کلام ہمیں بتاتا ہے کہ انسان خدا کی صورت اور شبیہ پر بنایا گیاہے۔۔۔۔وہ خدا کا ایک مرکب خیال ہے،جس میں تمام تر درست خیالات شامل ہیں، ایسی عمومی اصطلاح جو خدا کی صورت اور شبیہ کی عکاسی کرتی ہے؛ سائنس میں پائے جانے والی ہستی کی با خبر شناخت، جس میں انسان خدا یا عقل کی عکاسی ہے، اور اسی لئے وہ ابدی ہے،یعنی وہ جس کی خدا سے مختلف کوئی عقل نہیں ہے؛ وہ جس میں ایسی ایک بھی خاصیت نہیں جو خدا سے نہ لی گئی ہو؛ وہ جو خود سے اپنی کوئی زندگی، ذہانت اور نہ ہی کوئی تخلیقی قوت رکھتا ہے؛ مگر اْس سب کی روحانی طور پر عکاسی کرتا ہے جو اْس کے بنانے والے سے تعلق رکھتی ہے۔

2. 475 : 5 only, 7-9, 14-22

Question. — What is man?

The Scriptures inform us that man is made in the image and likeness of God. … He is the compound idea of God, including all right ideas; the generic term for all that reflects God’s image and likeness; the conscious identity of being as found in Science, in which man is the reflection of God, or Mind, and therefore is eternal; that which has no separate mind from God; that which has not a single quality underived from Deity; that which possesses no life, intelligence, nor creative power of his own, but reflects spiritually all that belongs to his Maker.

3۔ 429 :12۔13

سائنس واضح کرتی ہے کہ انسان عقل کے ماتحت ہے۔

3. 429 : 12-13

Science declares that man is subject to Mind.

4۔ 480 :10۔18

شعور، اس کے ساتھ ساتھ عمل بھی، عقل کی حکمرانی میں ہے،خدا میں ہے، جو اْس سب کا آغاز اور حکمران ہے جسے سائنس ظاہر کرتی ہے۔ غیر حقیقی سائنس کے علاوہ مادی فہم کی اپنی سلطنت ہے۔ ہم آہنگ عمل روح یعنی خداکی طرف سے آگے بڑھتے ہیں۔غیر ہم آہنگی میں کوئی اصول نہیں؛ اس کا عمل غلط ہے اور یہ انسان کے لئے مادے میں رہنا گمان کرتا ہے۔غیر ہم آہنگی مادے کو ذہانت یا روح کی وجہ اور اس کے ساتھ ساتھ اثر بناتی ہے، یوں یہ عقل کو خدا سے الگ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

4. 480 : 10-18

Consciousness, as well as action, is governed by Mind, — is in God, the origin and governor of all that Science reveals. Material sense has its realm apart from Science in the unreal. Harmonious action proceeds from Spirit, God. Inharmony has no Principle; its action is erroneous and presupposes man to be in matter. Inharmony would make matter the cause as well as the effect of intelligence, or Soul, thus attempting to separate Mind from God.

5۔ 400 :26۔28

نام نہاد فانی عقل کا عمل ہستی کی ہم آہنگی کو باہر نکالنے کے لئے الٰہی عقل کے وسیلہ نیست ہونا چاہئے۔

5. 400 : 26-28

The action of so-called mortal mind must be destroyed by the divine Mind to bring out the harmony of being.

6۔ 147 :32۔6

یسوع نے کبھی کسی بیماری سے متعلق بطور خطرناک یا شفا دینے میں مشکل قرار نہیں دیا۔ جب اْس کے طالب علم اْس کے پاس ایک معاملہ لے کر آئے جسے شفا دینے میں وہ ناکام رہے تھے، تو اْس نے اْن سے کہا، ”اے بے اعتقاد نسل،“اس بات کی تقلید کرتے ہوئے کہ شفا دینے کی مطلوبہ طاقت عقل میں تھی۔ اْس نے کسی دوا کا نسخہ تجویز نہیں کیا، مادی قوانین کی فرمانبرداری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بلکہ ان کیبراہ راست نافرمانی میں کام کئے۔

6. 147 : 32-6

Jesus never spoke of disease as dangerous or as difficult to heal. When his students brought to him a case they had failed to heal, he said to them, “O faithless generation,” implying that the requisite power to heal was in Mind. He prescribed no drugs, urged no obedience to material laws, but acted in direct disobedience to them.

7۔ 411 :13۔19

یہ بات اندراج میں ہے کہ ایک بار یسوع نے ایک بیماری کا نام پوچھا، ایسی بیماری جسے آج کے جدید دور میں ڈیمنشیا کہا جاتا ہے۔ شیطان یا بد روح نے جواب دیا کہ اْس کا نام لشکر تھا۔ وہیں یسوع نے اْس بدروح کو باہر نکالا، اور پاگل شخص تبدیل ہو گیا اور وہ تندرست ہوگیا۔ کلام یہ ظاہر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ یسوع شیطان کو خود ظاہر ہونے اور پھر نیست ہونے کا موجب بنا۔

7. 411 : 13-19

It is recorded that once Jesus asked the name of a disease, — a disease which moderns would call dementia. The demon, or evil, replied that his name was Legion. Thereupon Jesus cast out the evil, and the insane man was changed and straightway became whole. The Scripture seems to import that Jesus caused the evil to be self-seen and so destroyed.

8۔ 414 :4۔14

پاگل پن کا علاج خاص طور پر بہت دلچسپ ہے۔ تاہم معاملے میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے،یہ دوسری بیماریوں کی نسبت زیادہ آسانی سے سچائی کے صحت بخش کام کے لئے راضی ہوجاتا ہے، جو غلطی کی جوابی کاروائی ہوتا ہے۔پاگل پن کا علاج کرنے کے لئے جن دلائل کو استعمال کیا جاتا ہے یہ وہی ہیں جو دوسری بیماریوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، یعنی، وہ انہونی جسے مادا، ذہن، قابو کر سکتا ہے یا جو عقل کو بے ترتیب کر سکتا ہے،یہ دْکھ اٹھا سکتا یا دْکھوں کو موجب بن سکتا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت کہ سچائی اورمحبت ایک صحت مند حالت قائم کرتی ہے، فانی عقل یا مریض کے خیالات کی راہنمائی کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے، اور سب غلطیوں کو نیست کرتی ہے، خواہ اسے ڈیمنشیا، نفرت یا کوئی بھی دوسرا مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔

8. 414 : 4-14

The treatment of insanity is especially interesting. However obstinate the case, it yields more readily than do most diseases to the salutary action of truth, which counteracts error. The arguments to be used in curing insanity are the same as in other diseases: namely, the impossibility that matter, brain, can control or derange mind, can suffer or cause suffering; also the fact that truth and love will establish a healthy state, guide and govern mortal mind or the thought of the patient, and destroy all error, whether it is called dementia, hatred, or any other discord,

9۔ 143 :26۔27، 31۔4 (تا)،

عقل ہی سب سے بڑا خالق ہے، اور ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو عقل سے اخذ نہ کی گئی ہو۔ ۔۔۔کمتر یا غیر روحانی شفائیہ طریقہ کار عقل اور دوائی کو یکجا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن یہ دونوں سائنسی طور پر یکجا نہیں ہوں گے۔ہم اِن دونوں کے ساتھ ایسا کیوں کرنا چاہیں گے، جبکہ اس میں سے کوئی اچھائی نہیں نکلے گی؟

اگر عقل سب سے پہلے اور برتر ہے،تو آئیے ہم عقل پر انحصار کرتے ہیں،جسے نِچلی طاقتوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔

9. 143 : 26-27, 31-4 (to ,)

Mind is the grand creator, and there can be no power except that which is derived from Mind. … Inferior and unspiritual methods of healing may try to make Mind and drugs coalesce, but the two will not mingle scientifically. Why should we wish to make them do so, since no good can come of it?

If Mind is foremost and superior, let us rely upon Mind, which needs no cooperation from lower powers,

10۔ 408 :14۔27

یہ مفروضہ کہ ہم پاگل پن کو قبض کشاہ اور خواب آور ادویات سے ٹھیک کر سکتے ہیں یہ خود ہی پاگل پن کی ہلکی سی ایک قسم ہے۔ کیا ادویات خود بخود ذہن کے مطابق حل ہو کر نام نہاد خراب ہونے والے حصے کی سوجن کو ختم کر سکتی ہیں، یوں مادے کے وسیلہ فانی عقل تک پہنچتے ہوئے؟ادویات مردوں پر اثر نہیں کرتیں، اور سچائی خون کے وسیلہ ادویات کو تقسیم نہیں کرتا، اور یہاں سے ذہانت اور جذبات پر مطلوبہ اثر اخذ نہیں ہوتا۔ ٹخنے کے جوڑ کی ہڈی کا ٹوٹنا اتنا ہی پاگل پن پیدا کر ے گا جتنا دماغ کے جکڑنے سے ہوگا،ایسا اس لئی نہیں کہ فانی عقل سوچتی ہے کہ ٹخنے کا جوڑ دماغ کے ساتھ اس سے کم قربت رکھتا ہے جتنا کہ ہماری سوچ رکھتی ہے۔اس عقیدے کو الٹ کریں تو نتائج قابل فہم طور پر مختلف ہوں گے۔

10. 408 : 14-27

The supposition that we can correct insanity by the use of purgatives and narcotics is in itself a mild species of insanity. Can drugs go of their own accord to the brain and destroy the so-called inflammation of disordered functions, thus reaching mortal mind through matter? Drugs do not affect a corpse, and Truth does not distribute drugs through the blood, and from them derive a supposed effect on intelligence and sentiment. A dislocation of the tarsal joint would produce insanity as perceptibly as would congestion of the brain, were it not that mortal mind thinks that the tarsal joint is less intimately connected with the mind than is the brain. Reverse the belief, and the results would be perceptibly different.

11۔ 169 :18۔28

سائنس نہ صرف سب بیماریوں کا منبع دماغی قرار دیتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ سب بیماریاں الٰہی عقل سے شفا پاتی ہیں۔اس عقل کے علاوہ کسی اور چیز سے شفا نہیں ہوتی، خواہ ہم کتنا ہی کسی دوا یا اس حوالے سے کسی ذرائع پر بھروسہ کیوں نہ کرتے ہوں جس کی طرف انسانی کوشش یا ایمان راہنمائی دیتا ہے۔مادیت سے جو کچھ بھی بیمار کو حاصل ہوتا دکھائی دیتا ہے یہ فانی عقل ہی ہے جو اْس کے لئے لاتی ہے نہ کہ مادا لاتا ہے۔لیکن بیمار الٰہی طاقت کے عالوہ کسی اور چیز سے شفا نہیں پاتے۔ صرف سچائی، زندگی اور محبت کے کام ہم آہنگی لا سکتے ہیں۔

11. 169 : 18-28

Science not only reveals the origin of all disease as mental, but it also declares that all disease is cured by divine Mind. There can be no healing except by this Mind, however much we trust a drug or any other means towards which human faith or endeavor is directed. It is mortal mind, not matter, which brings to the sick whatever good they may seem to receive from materiality. But the sick are never really healed except by means of the divine power. Only the action of Truth, Life, and Love can give harmony.

12۔ 371 :27۔32

دوڑ کو تیز کرنے کی ضرورت اس حقیقت کا باپ ہے کہ عقل یہ کر سکتی ہے؛ کیونکہ عقل آلودگی کی بجائے پاکیزگی، کمزوری کی بجائے طاقت، اور بیماری کی بجائے صحتمندی بخش سکتی ہے۔ یہ پورے نظام میں قابل تبدیل ہے، اور اسے ”ہر ذرے تک“ بنا سکتی ہے۔

12. 371 : 27-32

The necessity for uplifting the race is father to the fact that Mind can do it; for Mind can impart purity instead of impurity, strength instead of weakness, and health instead of disease. Truth is an alterative in the entire system, and can make it “every whit whole.”

13۔ 201 :7 (حق)۔12

سچائی ایک نیا مخلوق بناتی ہے، جس میں سب پرانی چیزیں جاتی رہتی ہیں اور ”سب چیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔“ جذبات، خود غرضی، نفرت، خوف، ہر سنسنی خیزی، روحانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہستی کی افراط خدا، یعنی اچھائی کی طرف ہے۔

13. 201 : 7 (Truth)-12

Truth makes a new creature, in whom old things pass away and “all things are become new.” Passions, selfishness, false appetites, hatred, fear, all sensuality, yield to spirituality, and the superabundance of being is on the side of God, good.

14۔ 417 :10۔18

کرسچن سائنس کے حقائق کو برقرار کھیں، روح خدا ہے، اور اسی لئے بیمار نہیں ہو سکتی؛ یعنی جس کی اصطلاح مادا ہے وہ بیمار نہیں ہوسکتا؛ کہ اس کی ساری وجہ روحانی قانون کے وسیلہ عمل کرتے ہوئے عقل ہے۔ تو آپ اپنی زمین کو سچائی اور محبت کی غیر متزلزل سمجھ کے ساتھ تھامے رکھیں اور آپ فتح مند ہوں گے۔جب آپ اپنی درخواست کے خلاف گواہی کو خاموش کرتے ہیں، تو آپ گواہی کو تباہ کردیتے ہیں، کیونکہ بیماری غائب ہوجاتی ہے۔

14. 417 : 10-18

Maintain the facts of Christian Science, — that Spirit is God, and therefore cannot be sick; that what is termed matter cannot be sick; that all causation is Mind, acting through spiritual law. Then hold your ground with the unshaken understanding of Truth and Love, and you will win. When you silence the witness against your plea, you destroy the evidence, for the disease disappears.

15۔ 205 :32۔3

جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔

15. 205 : 32-3

When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.

روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔