اتوار28 نومبر، 2019 |

اتوار28 نومبر، 2019



مضمون۔ شکرگزاری

Subject

سنہری متن:سنہری متن: لوقا 12باب32 آیت

’’اے چھوٹے گلے نہ ڈر کیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔‘‘



Golden Text: Luke 12 : 32

Fear not, little flock; for it is your Father’s good pleasure to give you the kingdom.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 تواریخ 16باب 23 تا 30 آیات


23۔ اے سب اہلِ زمین! خداوند کے حضور گاؤ روز بروز اْس کی نجات کی بشارت دو۔

24۔ قوموں میں اْس کے جلال کا سب لوگوں میں اْس کے عجائب کا بیان کرو۔

25۔ کیونکہ خداوند بزرگ ہے اور نہایت ستائش کے لائق ہے۔وہ سب معبودوں سے زیادہ مہیب ہے۔

26۔ اس لئے کہ اور قوموں کے معبود محض بْت ہیں۔ لیکن خداوند نے آسمانوں کو بنایا۔

27۔ عظمت اور جلال اْس کے حضور میں ہیں اور اْس کے ہاں قدرت اور شادمانی ہیں۔

28۔ اے قوموں کے قبیلو! خداوند ہی کی تمجید و تعظیم کرو۔

29۔ خداوند کی ایسی تمجید کرو جو اْس کے نام کے شایان ہے۔ ہدیہ لاؤ اور اْس کے حضور آؤ۔ پاک آرائش کے ساتھ خداوند کو سجدہ کرو۔

30۔ اے سب اہلِ زمین! اْس کے حضور کانپتے رہو۔ جہان قائم ہے اور اْسے جنبش نہیں۔

Responsive Reading: I Chronicles 16 : 23-30

23.     Sing unto the Lord, all the earth; shew forth from day to day his salvation.

24.     Declare his glory among the heathen; his marvellous works among all nations.

25.     For great is the Lord, and greatly to be praised: he also is to be feared above all gods.

26.     For all the gods of the people are idols: but the Lord made the heavens.

27.     Glory and honour are in his presence; strength and gladness are in his place.

28.     Give unto the Lord, ye kindreds of the people, give unto the Lord glory and strength.

29.     Give unto the Lord the glory due unto his name: bring an offering, and come before him: worship the Lord in the beauty of holiness.

30.     Fear before him, all the earth: the world also shall be stable, that it be not moved.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 100: 1تا5آیات

1۔ اے اہلِ زمین! سب خداوند کے حضور خوشی کا نعرہ مار۔

2۔ خوشی سے خداوند کی عبادت کرو۔ گاتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہو۔

3۔ جان رکھو کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اْسی نے ہم کو بنایا اور ہم اْسی کے ہیں۔ ہم اْس کے لوگ اور اْس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔

4۔ شکر گزاری کرتے ہوئے اْس کے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اْس کی بارگاہوں میں داخل ہو۔ اْس کا شکر کرو اور اْس کے نام کو مبارک کہو۔

5۔ کیونکہ خداوند بھلا ہے۔ اْس کی شفقت ابدی ہے اور اْس کی وفاداری پشت در پشت رہتی ہے۔

1. Psalm 100 : 1-5

1     Make a joyful noise unto the Lord, all ye lands.

2     Serve the Lord with gladness: come before his presence with singing.

3     Know ye that the Lord he is God: it is he that hath made us, and not we ourselves; we are his people, and the sheep of his pasture.

4     Enter into his gates with thanksgiving, and into his courts with praise: be thankful unto him, and bless his name.

5     For the Lord is good; his mercy is everlasting; and his truth endureth to all generations.

2۔ 1تواریخ 16باب8، 10 آیات

8۔ خداوند کی شکر گزاری کرو۔ اْس سے دعا کرو۔ قوموں کے درمیان اْس کے نام کا اشتہار دو۔

10۔ اْس کے نام پر فخر کرو۔ جو خداوند کے طالب ہیں اْن کا دل خوش رہے۔

2. I Chronicles 16 : 8, 10

8     Give thanks unto the Lord, call upon his name, make known his deeds among the people.

10     Glory ye in his holy name: let the heart of them rejoice that seek the Lord.

3۔ یسعیاہ 58باب 11 آیت

11۔ اور خداوند سدا تیری راہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرے گا اور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔ پس تْو سیراب باغ کی مانند ہوگا اور اْس کے چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو۔

3. Isaiah 58 : 11

11     And the Lord shall guide thee continually, and satisfy thy soul in drought, and make fat thy bones: and thou shalt be like a watered garden, and like a spring of water, whose waters fail not.

4۔ لوقا 10 باب 1، 17تا21 آیات

1۔ اِن باتوں کے بعد خداوند نے ستر آدمی اور مقرر کئے اور جس جس شہر اور جگہ کو خود جانے والا تھا وہاں اْنہیں دو دو کر کے اپنے آگے بھیجا۔

17۔ وہ ستر خوش ہو کر پھر آئے اور کہنے لگے اے خداوند تیرے نام سے بد روحیں بھی ہمارے تابع ہیں۔

18۔ اْس نے اْن سے کہا مَیں شیطان کو بجلی کی طرح آسمان سے گرا ہوا دیکھ رہا تھا۔

19۔ دیکھو میں نے تمہیں اختیار دیا کہ سانپوں اور بچھوؤں کو کچلو اور دشمن کی ساری طاقت پر غالب آؤ اور تم کو ہرگز کسی چیز سے ضرر نہ پہنچے گا۔

20۔ تو بھی اِس سے خوش نہ ہو کہ روحیں تمہارے تابع ہیں بلکہ اِس سے خوش ہو کہ تمہارے نام آسمان پر لکھے ہوئے ہیں۔

21۔ اْسی گھری وہ روح القدس سے خوشی میں بھر گیا اور کہنے لگا کہ اے باپ آسمان اور زمین کے خداوند!مَیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تْو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چھپائیں اور بچوں پر ظاہر کیں۔ ہاں اے باپ کیوں ایسا ہی تجھے پسند آیا۔

4. Luke 10 : 1, 17-21

1     After these things the Lord appointed other seventy also, and sent them two and two before his face into every city and place, whither he himself would come.

17     And the seventy returned again with joy, saying, Lord, even the devils are subject unto us through thy name.

18     And he said unto them, I beheld Satan as lightning fall from heaven.

19     Behold, I give unto you power to tread on serpents and scorpions, and over all the power of the enemy: and nothing shall by any means hurt you.

20     Notwithstanding in this rejoice not, that the spirits are subject unto you; but rather rejoice, because your names are written in heaven.

21     In that hour Jesus rejoiced in spirit, and said, I thank thee, O Father, Lord of heaven and earth, that thou hast hid these things from the wise and prudent, and hast revealed them unto babes: even so, Father; for so it seemed good in thy sight.

5۔ لوقا 17باب11تا19 آیات

11۔ اور ایسا ہوا کہ یروشلم کو جاتے ہوئے وہ سامریہ اور گلیل کے بیچ سے ہو کر جا رہا تھا۔

12۔ اور ایک گاؤں میں داخل ہوتے وقت دس کوڑھی اْس کو ملے۔

13۔ اْنہوں نے دور کھڑے ہو کر بلند آواز سے کہا اے یسوع! اے صاحب! ہم پر رحم کر۔

14۔اْس نے انہیں دیکھ کر کہا جاؤ۔ اپنے تئیں کاہنوں کو دکھاؤ اور ایسا ہوا کہ جاتے جاتے وہ پاک صاف ہو گئے۔

15۔ پھر اْن میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ شفا پا گیا بلند آواز سے خدا کی تمجید کرتا ہوا لوٹا۔

16۔ اور منہ کے بل یسوع کے پاؤں پر گر کر اْس کا شکر کرنے لگا اور وہ سامری تھا۔

17۔ یسوع نے جواب میں کہا کیا دسوں پاک صاف نہ ہوئے؟ پھر وہ نَو کہاں ہیں؟

18۔ کیا اِس پردیسی کے سوا اور نہ نکلے جو لوٹ کر خدا کی تمجید کرتے؟

19۔ پھر اْس نے کہا اْٹھ کر چلا جا۔ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا۔

5. Luke 17 : 11-19

11     And it came to pass, as he went to Jerusalem, that he passed through the midst of Samaria and Galilee.

12     And as he entered into a certain village, there met him ten men that were lepers, which stood afar off:

13     And they lifted up their voices, and said, Jesus, Master, have mercy on us.

14     And when he saw them, he said unto them, Go shew yourselves unto the priests. And it came to pass, that, as they went, they were cleansed.

15     And one of them, when he saw that he was healed, turned back, and with a loud voice glorified God,

16     And fell down on his face at his feet, giving him thanks: and he was a Samaritan.

17     And Jesus answering said, Were there not ten cleansed? but where are the nine?

18     There are not found that returned to give glory to God, save this stranger.

19     And he said unto him, Arise, go thy way: thy faith hath made thee whole.

6۔ 1پطرس 5باب6، 7آیات

6۔ پس خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے فروتنی سے رہو تاکہ وہ تمہیں وقت پر سر بلند کرے۔

7۔ اور اپنی ساری فکر اْسی پر ڈال دو کیونکہ اْس کو تمہارا خیال ہے۔

6. I Peter 5 : 6, 7

6     Humble yourselves therefore under the mighty hand of God, that he may exalt you in due time:

7     Casting all your care upon him; for he careth for you.

7۔ 1تھسلنکیوں 5باب16تا18آیات

16۔ ہر وقت خوش رہو۔

17۔ بلا ناغہ دعا کرو۔

18۔ ہر ایک بات میں شکر گزاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خدا کی یہی مرضی ہے۔

7. I Thessalonians 5 : 16-18

16     Rejoice evermore.

17     Pray without ceasing.

18     In every thing give thanks: for this is the will of God in Christ Jesus concerning you.



سائنس اور صح


1۔ 151 :23۔24

الٰہی عقل جس نے انسان کو بنایا خود کی صورت اور شبیہ کو قائم رکھتی ہے۔

1. 151 : 23-24

The divine Mind that made man maintains His own image and likeness.

2۔ 7: 23 (دی)۔26

”الٰہی کان“ ایک سمعی اعصاب نہیں ہے۔ یہ سب کچھ سننے والی اور سب کچھ جاننے والی عقل ہے، جو انسا ن کی ہر ضرورت کو ہمیشہ جانتی ہے اور جس کے وسیلہ سے یہ ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

2. 7 : 23 (The)-26

The "divine ear" is not an auditory nerve. It is the all-hearing and all-knowing Mind, to whom each need of man is always known and by whom it will be supplied.

3۔ 2: 23۔25، 26 (ہوگا)۔28

خدا محبت ہے۔ کیا ہم اِس سے زیادہ اْ سے توقع کر سکتے ہیں؟ خدا ذہانت ہے۔ کیا ہم اْس لامتناہی عقل کو اس سے آگاہ کر سکتے ہیں جو وہ پہلے سے نہ جانتا ہو؟۔۔۔۔ کیا ہمیں کسی فوارے کے سامنے اور التجا کرنی چاہئے جو ہماری توقع سے زیادہ پانی انڈیل رہا ہو؟ اَن کہی خواہش ہمیں تمام وجودیت اور فضل کے منبع کے قریب تر لے جاتی ہے۔

3. 2 : 23-25, 26 (Shall)-28

God is Love. Can we ask Him to be more? God is intelligence. Can we inform the infinite Mind of anything He does not already comprehend? … Shall we plead for more at the open fount, which is pouring forth more than we accept?

4۔ 3 :17۔2

الوہیت سے متعلق ہمارے نظریات کس قدر کھوکھلے ہیں! ہم نظریاتی طور پر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا بھلا، قادر مطلق، ہر جا موجود، لامحدود ہے اور پھر ہم اس لامتناہی عقل کو معلومات دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم ناحق معافی کے لئے اور بھلائیوں کے ایک آزادبہاؤ کے لئے درخواست کرتے ہیں۔ جو بھلائی ہم پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں کیا ہم واقعی اْس کے لئے شکر گزار ہیں؟ پھر ہم خود کو ان برکات کے لئے دستیاب کریں گے اور یوں مزید پانے کے مستحق ٹھہریں گے۔ شکرگزاری شکریہ ادا کرنے کے لفظی اظہار کی نسبت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔الفاظ کی نسبت عمل زیادہ شکر گزاری کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر ہم زندگی، حق اور محبت کے لئے ناشکرگزار ہیں اورپھر بھی تمام تر نعمتوں کے لئے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں تو ہم منافق اور اْس شدید ملامت کو اپنے اوپر لیتے ہیں جو مالک ریاکاروں کے لئے بیان کرتا ہے۔ ایسی صورت میں، صرف ایک دعا قابل قبول ہے کہ اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ہماری نعمتوں کو یاد کیا جائے۔ جب دل الٰہی سچائی اور محبت سے کوسوں دور ہو تو ہم بنجر زندگیوں کی ناشکری کو چھْپا نہیں سکتے۔

4. 3 : 17-2

How empty are our conceptions of Deity! We admit theoretically that God is good, omnipotent, omnipresent, infinite, and then we try to give information to this infinite Mind. We plead for unmerited pardon and for a liberal outpouring of benefactions. Are we really grateful for the good already received? Then we shall avail ourselves of the blessings we have, and thus be fitted to receive more. Gratitude is much more than a verbal expression of thanks. Action expresses more gratitude than speech.

If we are ungrateful for Life, Truth, and Love, and yet return thanks to God for all blessings, we are insincere and incur the sharp censure our Master pronounces on hypocrites. In such a case, the only acceptable prayer is to put the finger on the lips and remember our blessings. While the heart is far from divine Truth and Love, we cannot conceal the ingratitude of barren lives.

5۔ 9 :17۔24

”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت بھی۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔ اس میں زندگی کی سائنس شامل ہے اور یہ روح پرصرف الٰہی قابو کی ہی شناخت کرتی ہے، جس میں روح ہماری مالک بن جاتی ہے اور مادی حس اور انسانی رضا کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔

5. 9 : 17-24

Dost thou "love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind"? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity. It involves the Science of Life, and recognizes only the divine control of Spirit, in which Soul is our master, and material sense and human will have no place.

6۔ 94 :17۔23

سچیائی کی ترقی اِس کے دعووں کو ظابت کرتی ہے، اور ہمارے مالک نے اپنے الفاظ کو اپنے کاموں سے ثابت کیا۔ اْس کی شفائیہ طاقت نے ہوس پرستی سے جنم لینے والے انکار، ناشکری اور دغا کو مشتعل کیا۔ جن دس کوڑھیوں کو یسوع نے شفا دی اْن میں سے صرف ایک خدا کا شکر یہ کرنے کے لئے لوٹا، یعنی اْس الٰہی اصول کو تسلیم کرنے کو لوٹا جس نے اْسے شفا دی۔

6. 94 : 17-23

The progress of truth confirms its claims, and our Master confirmed his words by his works. His healing-power evoked denial, ingratitude, and betrayal, arising from sensuality. Of the ten lepers whom Jesus healed, but one returned to give God thanks, — that is, to acknowledge the divine Principle which had healed him.

7۔ 54 :1۔7

اْس کی زنسانی زندگی کی عظمت کے وسیلہ اْس نے الٰہی زندگی کو ظاہر کیا۔ اْس کے خالص خلوص کی وسعت کے وسیلہ اْس نے محبت کی وضاحت کی۔ سچائی کی فراوانی سے اْس نے غلطی کو فتح کیا۔ دنیا نے، یہ نہ دیکھتے ہوئے، اْس کی راستبازی کو تسلیم نہ کیا، بلکہ زمین کو وہ ہم آہنگی نصیب ہوئی جسے اْس کے جلالی نمونے نے متعارف کیا تھا۔

7. 54 : 1-7

Through the magnitude of his human life, he demonstrated the divine Life. Out of the amplitude of his pure affection, he defined Love. With the affluence of Truth, he vanquished error. The world acknowledged not his righteousness, seeing it not; but earth received the harmony his glorified example introduced.

8۔ 47 :10۔13

یہوادہ نے یسوع کے خلاف سازش کی۔ اس راست شخص کی جانب دنیا کی ناشکری اور نفرت نے اْس کے دغا کو متاثر کیا۔ اْس غداری کی قیمت تیس چاندی کے سکے اور فریسیوں کی مسکراہٹیں تھی۔

8. 47 : 10-13

Judas conspired against Jesus. The world's ingratitude and hatred towards that just man effected his betrayal. The traitor's price was thirty pieces of silver and the smiles of the Pharisees.

9۔ 372 :26۔32

کرسچن سائنس میں، سچائی سے انکار جان لیوا ہے، جبکہ سچائی کا ایک عادل اعتراف اور جو کچھ اس سچائی نے ہمارے لئے کیا ہے ایک موثر مدد ہے۔ اگر تکبر،توہم پرستی یا کوئی بھی غلطی حاصل ہونے والے فوائد کی ایماندار پہچان کو روکتے ہیں تو یہ بیمار کی شفا یابی اور طالب علم کی کامیابی میں ایک رکاوٹ ہوگی۔

9. 372 : 26-32

In Christian Science, a denial of Truth is fatal, while a just acknowledgment of Truth and of what it has done for us is an effectual help. If pride, superstition, or any error prevents the honest recognition of benefits received, this will be a hindrance to the recovery of the sick and the success of the student.

10۔ 323 :32۔6

ایک چھوٹے بچے کی مانند بننے کی خواہش اور نئی سوچ کے لئے پرانی کو ترک کرنا اْس دانش کو جنم دیتا ہے جو جدید نظریے کو قبول کرنے والی ہو۔ غلط نشانیوں کو چھوڑنے کی خوشی اور انہیں غائب ہوتے دیکھنی کی شادمانی، یہ ترغیب مکمل ہم آہنگی کو تیزی سے عمل میں لانے میں مدد دیتی ہے۔سمجھ اور خودکی پاکیزگی ترقی کا ثبوت ہے۔ ”مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں؛ کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔“

10. 323 : 32-6

Willingness to become as a little child and to leave the old for the new, renders thought receptive of the advanced idea. Gladness to leave the false landmarks and joy to see them disappear, — this disposition helps to precipitate the ultimate harmony. The purification of sense and self is a proof of progress. "Blessed are the pure in heart: for they shall see God."

11۔ 52 :23۔28

خدا کے اعلیٰ ترین نمائندے نے، الٰہی اصول کی عکاسی کے لئے انسانی قابلیت سے متعلق بات کرتے ہوئے، اپنے شاگردوں سے پیشن گوئی کے طور پر، نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے لئے کہا: ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا؛“ اور ”ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔“

11. 52 : 23-28

The highest earthly representative of God, speaking of human ability to reflect divine power, prophetically said to his disciples, speaking not for their day only but for all time: "He that believeth on me, the works that I do shall he do also;" and "These signs shall follow them that believe."

12۔ 4 :5۔9

اپنے استاد کے حکموں پر عمل کرنا اور اْس کے نمونے کی پیروی کرناہم پر اْس کا مناسب قرض ہے اور جو کچھ اْس نے کیا ہے اْس کی شکر گزاری کا واحد موزوں ثبوت ہے۔

12. 4 : 5-9

To keep the commandments of our Master and follow his example, is our proper debt to him and the only worthy evidence of our gratitude for all that he has done.

13۔ 5 :15۔18

مسیح کے پیروکاروں نے اْس کا پیالہ پیا۔ ناشکری اور ایذا نے اسے لبالب بھر دیا؛ لیکن خدا، ہمارے دور کے مطابق ہمیں قوت دیتے ہوئے، فہم اور الفت میں اپنی محبت کی دولت انڈیلتا ہے۔

13. 5 : 15-18

The followers of Christ drank his cup. Ingratitude and persecution filled it to the brim; but God pours the riches of His love into the understanding and affections, giving us strength according to our day.

14۔ 451 :14۔18

انسانی اْسی جانب رواں رہتا ہے جہاں اْس کی نظر ہوتی ہو، اور جہاں اْس کا خزانہ ہو وہیں اْس کا دل بھی لگا رہتا ہے۔ اگر ہماری امیدیں اور احساس روحانی ہیں، تو وہ اوپر سے آتے ہیں نیچے سے نہیں، اور وہ ماضی کی طرح روح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔

14. 451 : 14-18

Man walks in the direction towards which he looks, and where his treasure is, there will his heart be also. If our hopes and affections are spiritual, they come from above, not from beneath, and they bear as of old the fruits of the Spirit.

15۔ 15 :25۔30

مسیحی لوگ مخفی خوبصورتی اور فضل سے شادمان ہوتے ہیں،جو دنیا سے پوچھیدہ مگر خدا سے ایاں ہوتا ہے۔ خودفراموشی، پاکیزگی اور احساس مسلسل دعائیں ہیں۔مشق نہ کہ پیشہ، فہم نہ کہ ایمان قادر مطلق کے کان اور دست راست حاصل کرتے ہیں اور بلاشبہ یہ بے انتہا نعمتیں نچھاور کرواتے ہیں۔

15. 15 : 25-30

Christians rejoice in secret beauty and bounty, hidden from the world, but known to God. Self-forgetfulness, purity, and affection are constant prayers. Practice not profession, understanding not belief, gain the ear and right hand of omnipotence and they assuredly call down infinite blessings.

16۔ 249 :8۔9

تو آئیں ہم شادمان ہوں کہ ہم ”ہونے والی الٰہی قوتوں“ کے تابع ہیں۔

16. 249 : 8-9

Let us rejoice that we are subject to the divine "powers that be."


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████