اتوار3 نومبر، 2019 |

اتوار3 نومبر، 2019



مضمون۔ دائمی سزا

SubjectEverlasting Punishment

سنہری متن:سنہری متن: رومیوں 13باب10 آیت

’’محبت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی اس واسطے محبت شریعت کی تعمیل ہے۔‘‘



Golden Text: Romans 13 : 10

Love worketh no ill to his neighbour: therefore love is the fulfilling of the law.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: رومیوں 13باب1، 2، 7تا9 آیات


1۔ ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔

2۔ پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے وہ خدا کے انتظار کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں وہ سزا پائیں گے۔

7۔ سب کا حق ادا کرو۔ جس کو خِراج چاہئے اْس کو خِراج دو۔ جس کو محصول چاہئے محصول۔ جس سے ڈرنا چاہئے اْس سے ڈرو۔ جس کی عزت کرنا چاہئے اْس کی عزت کرو۔

8۔ آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو کیونکہ جو دوسرے سے محبت رکھتا ہے اْس نے شریعت پرپورا عمل کیا۔

9۔ کیونکہ یہ باتیں کہ زنا نہ کر۔ خون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ لالچ نہ کر اور اِن کے سوا اور جو کوئی حکم ہو اْن سب کا خلاصہ اِس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔

Responsive Reading: Romans 13 : 1, 2, 7-9

1.     Let every soul be subject unto the higher powers. For there is no power but of God: the powers that be are ordained of God.

2.     Whosoever therefore resisteth the power, resisteth the ordinance of God: and they that resist shall receive to themselves damnation.

7.     Render therefore to all their dues: tribute to whom tribute is due; custom to whom custom; fear to whom fear; honour to whom honour.

8.     Owe no man any thing, but to love one another: for he that loveth another hath fulfilled the law.

9.     For this, Thou shalt not commit adultery, Thou shalt not kill, Thou shalt not steal, Thou shalt not bear false witness, Thou shalt not covet; and if there be any other commandment, it is briefly comprehended in this saying, namely, Thou shalt love thy neighbour as thyself.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 1پطرس 3باب10 تا (وہ)13آیات

10۔۔۔۔جو کوئی زندگی سے خوش ہونا اور اچھے دن دیکھنا چاہے وہ زبان کو بدی سے اور ہونٹوں کو مکر کی بات کرنے سے باز رکھے۔

11۔ بدی سے کنارہ کرے اور نیکی کو عمل میں لائے۔ صلح کا طالب ہو اور اْس کی کوشش میں رہے۔

12۔ کیونکہ خداوند کی نظر راستبازوں کی طرف ہے اور اْس کے کان اْن کی دعا پر لگے ہیں۔ مگر بدکار خداوند کی نگاہ میں ہیں۔

13۔ اگر تم نیکی کرنے میں سرگرم ہو تو تم سے بدی کرنے والا کون ہے؟

1. I Peter 3 : 10 (he)-13

10     …he that will love life, and see good days, let him refrain his tongue from evil, and his lips that they speak no guile:

11     Let him eschew evil, and do good; let him seek peace, and ensue it.

12     For the eyes of the Lord are over the righteous, and his ears are open unto their prayers: but the face of the Lord is against them that do evil.

13     And who is he that will harm you, if ye be followers of that which is good?

2۔ 1 سیموئیل 25 باب 2، 3 (تا دوسرا)، 4 تا6 (تا تیسرا)، 9، 10 (تا دوسرا؟)، 11تا13 (تا پہلا۔)، 13 (اور یہاں) (تا)، 14، 17 تا 19، 21، 23، 24 (تا دوسرا،)، 25 (تا پہلا؛)، 26، 32، 33، 38، 39 آیات

2۔ اورمعون میں ایک شخص رہتا تھا جسکی ملکیت کرمل میں تھی۔ یہ شخص بہت بڑا تھا اور اُسکے پاس تین ہزار بھیڑیں اور ایک ہزار بکریاں تھیں اور یہ کرمل میں اپنی بھڑیوں کے بال کاٹ رہاتھا۔

3 ۔ اِس شخص کا نام نابال اور اُسکی بیوی کا نام ابیجیل تھا۔ یہ عورت بڑی سمجھدار اورخوبصورت تھی پر وہ مرد بڑا بے ادب اور بدکار تھا اور کالب کے خاندان سے تھا۔

4۔ اور داؤد نے بیابان میں سنا کہ نابال اپنی بھیڑوں کے بال کتر رہا ہے۔

5۔ سو داؤد نے دس جوان روانہ کئے اور اُس نے اُن جوانوں سے کہا کہ کرمل پر چڑھ کر نابال کے پاس جاؤ اور میرا نام لیکر اُسے سلام کہو۔

6۔اور اُس کشھال آدمی سے یوں کہو کہ تیری اور تیرے گھر کی اور تیرے مال اسباب کی سلامتی ہو۔

9۔ سو داؤد کے جوانوں نے جا کر نابال سے داؤد کا نام لیکر یہ باتیں کہیں اور چپ ہو رہے۔

10۔ نابال نے داؤد کے خادموں کو جواب دیا کہ داؤد کون ہے؟ اور یسی کا بیٹا کون ہے؟

11۔ کیا میں اپنی روٹی اور پا نی اور ذبیحے جو میں نے اپنے کترنے والوں کے لئے ذبح کئے ہیں لیکر اُن لوگوں کو دوں جن کو میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں کے ہیں

12۔ سو داؤد کے جوان الٹے پاؤں پھرے اور لوٹ گئے اور آکر یہ سب باتیں اُسے بتائیں۔

13۔ تب داؤد نے اپنے لوگوں سے کہا اپنی اپنی تلوار باندھ لو۔۔۔ سو قریباً چار سو جوان داؤد کے پیچھے چلے اور دو سو اسباب کے پاس رہے۔

14۔اور جوانوں میں سے ایک نے نابال کی بیوہ ابیجیل سے کہا کہ دیکھ داؤد نے بیابان سے ہمارے آقا کو مبارکباد دینے کو قاصد بھیجے تو وہ ان پر جُھنجھلایا۔

17۔ سو اب سوچ سمجھ لے کہ توکیا کرے گی کیونکہ ہمارے آقا اور اُسکے سب گھرانے کے خلاف بدی کا منصوبہ باندھا گیا ہے کیونکہ یہ ایسا خبیث آدمی ہے کہ کوئی اِس سے بات نہیں کر سکتا۔

18۔ تب ابیجیل نے جلدی کی اور دو سو روٹیاں اور مے کے دو مشکیزے اور پانچ پکی پکائی بھیڑیں اور بھنے ہوئے اناج کے پانچ پیمانے اور کشمش کے ایک سو خوشے اور انجیر کی دو سو ٹیکیاں ساتھ لیں اور اُن کو گدھوں پر لاد لیا۔ اور اپنے چاکروں سے کہا تم مجھ سے آگے جاؤ دیکھو مَیں تمہارے پیچھے پیچھے آتی ہوں اور اُس نے اپنے شوہر نابال کو خبر نہ کی۔

21۔اور داؤد نے کہا تھا کہ مَیں نے اِس پاجی کے سب مال کی جو بیابان میں تھا بے فائدہ اِس طرح نگہبانی کی کہ اُس کی چیزوں میں سے کوئی چیز گم نہ ہوئی کیونکہ اُس نے نیکی کے بدلے مجھ سے بدی کی۔

23۔اور ابی جیل نے جو داؤد کو دیکھا تو جلدی کی اور گدھے سے اتری اور داؤد کے آگے اوندھی گری اور زمین پر سرنگوں ہو گئی۔

24۔اور وہ اُسکے پاؤں پر گر کر کہنے لگی۔

25۔ مَیں تیری منت کرتی ہوں کہ میرا مالک اُس خبیث آدمی نابال کا کچھ خیال نہ کرے۔

26۔اور اب اے میرے مالک! خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان ہی کی سوگند خداوند نے جو تجھے خونریزی سے اور اپنے ہی ہاتھوں اپنا انتقام لینے سے باز رکھا ہے اسلئے تیرے دُشمن اور میرے مالک کے بدخواہ نابال کی مانند ٹھہریں۔

32۔داؤد نے ابی جیل سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے تجھے آج کے دن مجھ سے ملنے کو بھیجا۔

33۔ اور تیری عقلمندی مبارک تو خدا بھی مبارک ہو جس نے مجھ کو آج کے دن خونریزی اور اپنے ہاتھوں اپنا انتقام لینے سے باز رکھا۔

38۔ اور دس دن کے بعد ایسا ہوا کہ خداوند نے نابال کو مارا ور وہ مر گیا۔

39۔ جب داؤد نے سنا کہ نابال مرگیا تو وہ کہنے لگا کہ خداوند مبارک ہو جو نابال سے میری رسوائی کا مقدمہ لڑا اور اپنے بندہ کو بدی سے باز رکھا اور خداوند نے نابال کی شرارت کو اُسی کے سر پر لادا اور داؤد نے ابی جیل کے بارے میں پیغام بھیجا تاکہ اُس سے بیاہ کرے۔

2. I Samuel 25 : 2, 3 (to 2nd ;), 4-6 (to 3rd ,), 9, 10 (to 2nd ?), 11-13 (to 1st .), 13 (and there) (to ;), 14, 17-19, 21, 23, 24 (to 2nd ,), 25 (to 1st :), 26, 32, 33, 38, 39

2     And there was a man in Maon, whose possessions were in Carmel; and the man was very great, and he had three thousand sheep, and a thousand goats: and he was shearing his sheep in Carmel.

3     Now the name of the man was Nabal; and the name of his wife Abigail: and she was a woman of good understanding, and of a beautiful countenance: but the man was churlish and evil in his doings;

4     And David heard in the wilderness that Nabal did shear his sheep.

5     And David sent out ten young men, and David said unto the young men, Get you up to Carmel, and go to Nabal, and greet him in my name:

6     And thus shall ye say to him that liveth in prosperity, Peace be both to thee, and peace be to thine house,

9     And when David’s young men came, they spake to Nabal according to all those words in the name of David, and ceased.

10     And Nabal answered David’s servants, and said, Who is David? and who is the son of Jesse?

11     Shall I then take my bread, and my water, and my flesh that I have killed for my shearers, and give it unto men, whom I know not whence they be?

12     So David’s young men turned their way, and went again, and came and told him all those sayings.

13     And David said unto his men, Gird ye on every man his sword. … and there went up after David about four hundred men;

14     But one of the young men told Abigail, Nabal’s wife, saying, Behold, David sent messengers out of the wilderness to salute our master; and he railed on them.

17     Now therefore know and consider what thou wilt do; for evil is determined against our master, and against all his household: for he is such a son of Belial, that a man cannot speak to him.

18     Then Abigail made haste, and took two hundred loaves, and two bottles of wine, and five sheep ready dressed, and five measures of parched corn, and an hundred clusters of raisins, and two hundred cakes of figs, and laid them on asses.

19     And she said unto her servants, Go on before me; behold, I come after you. But she told not her husband Nabal.

21     Now David had said, Surely in vain have I kept all that this fellow hath in the wilderness, so that nothing was missed of all that pertained unto him: and he hath requited me evil for good.

23     And when Abigail saw David, she hasted, and lighted off the ass, and fell before David on her face, and bowed herself to the ground,

24     And fell at his feet, and said,

25     Let not my lord, I pray thee, regard this man of Belial, even Nabal:

26     Now therefore, my lord, as the Lord liveth, and as thy soul liveth, seeing the Lord hath withholden thee from coming to shed blood, and from avenging thyself with thine own hand, now let thine enemies, and they that seek evil to my lord, be as Nabal.

32     And David said to Abigail, Blessed be the Lord God of Israel, which sent thee this day to meet me:

33     And blessed be thy advice, and blessed be thou, which hast kept me this day from coming to shed blood, and from avenging myself with mine own hand.

38     And it came to pass about ten days after, that the Lord smote Nabal, that he died.

39     And when David heard that Nabal was dead, he said, Blessed be the Lord, that hath pleaded the cause of my reproach from the hand of Nabal, and hath kept his servant from evil: for the Lord hath returned the wickedness of Nabal upon his own head. And David sent and communed with Abigail, to take her to him to wife.

3۔ رومیوں 12باب1، 2، 9تا21 آیات

1۔ پس اے بھائیو۔ مَیں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔

9۔ محبت بے ریا ہو۔ بدی سے نفرت رکھو نیکی سے لپٹے رہو۔

10۔ برادرانہ نہ محبت سے آپس میں ایک دوسرے کو پیار کرو۔ عزّت کے رو سے ایک دوسرے کو بہتر سَمجھو۔

11۔ کوشش میں سستی نہ کرو۔ روحانی جوش میں بھرے رہو۔ خداوند کی خدمت کرتے رہو۔

12۔امید میں خوش۔ مصیبت میں صابر۔ دعا کرنے میں مشغول رہو۔

13۔ مقدسوں کی احتیاجیں رفع کرو۔ مسافر پروری میں لگے رہو۔

14۔ جوتمہیں ستاتے ہیں اُن کے واسطے برکت چاہو۔ برکت چاہو۔ لعنت نہ کرو۔

15۔خوشی کرنے والوں کے ساتھ خوشی کرو۔ رونے والوں کے ساتھ روؤ۔

16۔ آپس میں یکدل رہو۔ اونچے اونچے خیال نہ باندھو بلکہ ادنیٰ لوگوں کی طرف متوجہ ہو۔ اپنے آپ کو عقلمند نہ سَمجھو۔

17۔ بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں ان کی تدبیر کرو۔

18۔ جہاں تک ہوسکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کے ساتھ میل ملاپ رکھو۔

19۔ اے عزیرو! اپنا انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ مَیں ہی دوں گا۔

20۔ بلکہ اگر تیرا دشمن بھوکا ہوتو اُس کو کھانا کھلا۔ اگر پیاسا ہوتو اسے پانی پلا کیونکہ ایسا کرنے سے تو اس کے سر پر آگ کے انگاروں کا ڈھیر لگائے گا۔

21۔ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب آؤ۔

3. Romans 12 : 1, 2, 9-21

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

9     Let love be without dissimulation. Abhor that which is evil; cleave to that which is good.

10     Be kindly affectioned one to another with brotherly love; in honour preferring one another;

11     Not slothful in business; fervent in spirit; serving the Lord;

12     Rejoicing in hope; patient in tribulation; continuing instant in prayer;

13     Distributing to the necessity of saints; given to hospitality.

14     Bless them which persecute you: bless, and curse not.

15     Rejoice with them that do rejoice, and weep with them that weep.

16     Be of the same mind one toward another. Mind not high things, but condescend to men of low estate. Be not wise in your own conceits.

17     Recompense to no man evil for evil. Provide things honest in the sight of all men.

18     If it be possible, as much as lieth in you, live peaceably with all men.

19     Dearly beloved, avenge not yourselves, but rather give place unto wrath: for it is written, Vengeance is mine; I will repay, saith the Lord.

20     Therefore if thine enemy hunger, feed him; if he thirst, give him drink: for in so doing thou shalt heap coals of fire on his head.

21     Be not overcome of evil, but overcome evil with good.



سائنس اور صح


1۔ 35 :30 صرف

محبت کا نمونہ گناہگار کی اصلاح ہے۔

1. 35 : 30 only

The design of Love is to reform the sinner.

2۔ 11 :9۔14

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔

2. xi : 9-14

The physical healing of Christian Science results now, as in Jesus' time, from the operation of divine Principle, before which sin and disease lose their reality in human consciousness and disappear as naturally and as necessarily as darkness gives place to light and sin to reformation.

3۔ 5: 3۔15 (تا پہلا)، 18۔21

غلط کام پر شرمندگی اصلاح کی جانب ایک قدم ہے لیکن بہت آسان قدم ہے۔ عقل کے باعث جو گلا اور بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے وہ وفاداری کی آزمائش ہے، یعنی اصلاح۔ یہاں تک ہمیں حالات کے دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ آزمائش ہمیں جرم کو دوہرانے کی دعوت دیتی ہے، اورجو کچھ ہوا ہوتا ہے اس کے عوض غم و الم ملتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہوگا، جب تک ہم یہ نہیں سیکھتے کہ عدل کے قانون میں کوئی ریایت نہیں ہے اور ہمیں ”کوڑی کوڑی“ ادا کرنا ہوگی۔جس پیمانے سے تم ناپتے ہو ”اسی سے تمہارے لئے ناپا جائے گا“، اور یہ لبریز ہوگا اور ”باہر چھلکے گا۔“

مقدسین اور گناہگار اپنا مکمل اجر پاتے ہیں، لیکن ہمیشہ اس دنیا میں ہی نہیں۔۔۔۔گناہگار ”کسی ہرے درخت کی مانند“ پھلتے ہیں، لیکن دور اندیش ہوتے ہوئے زبور نویس اْن کا اختتام یعنی دْکھوں کی بدولت گناہ کی تباہی دیکھتا ہے۔

3. 5 : 3-15 (to 1st .), 18-21

Sorrow for wrong-doing is but one step towards reform and the very easiest step. The next and great step required by wisdom is the test of our sincerity, — namely, reformation. To this end we are placed under the stress of circumstances. Temptation bids us repeat the offence, and woe comes in return for what is done. So it will ever be, till we learn that there is no discount in the law of justice and that we must pay "the uttermost farthing." The measure ye mete "shall be measured to you again," and it will be full "and running over."

Saints and sinners get their full award, but not always in this world. … Sinners flourish "like a green bay tree;" but, looking farther, the Psalmist could see their end, — the destruction of sin through suffering. 

4۔ 22 :11۔22، 30۔4

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“ اگر آپ کی کوششیں خوف و ہراس کی مشکلات میں گھِری ہیں، اور آپ کو موجودہ کوئی اجر نہیں مل رہا، واپس غلطی پر مت جائیں، اور نہ ہی اس دوڑ میں کاہل ہو جائیں۔

جب جنگ کا دھواں چھٹ جاتا ہے، آپ اْس اچھائی کو جان جائیں گے جو آپ نے کی ہے، اور آپ کے حق کے مطابق آپ کو ملے گا۔ خدا ہمیں آزمائش سے نکالنے کے لئے جلد باز نہیں ہے، کیونکہ محبت کا مطلب ہے کہ آپ کو آزمایا اور پاک کیا جائے گا۔

عدل کے لئے گناہگار کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ رحم صرف تبھی قرض بخشتا ہے جب عدل تصدیق کرتا ہے۔ انتقام ناقابل تسخیر ہوتا ہے۔وہ غضب جو محض اطمینان بخشتا ہے نیست نہیں ہوتا، بلکہ جْزوی طور پر خوش کرتا ہے۔ ہمیں گناہ سے بچانے کے لئے حکمت اور محبت خود کی بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ایک قربانی، خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

4. 22 : 11-22, 30-4

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing." If your endeavors are beset by fearful odds, and you receive no present reward, go not back to error, nor become a sluggard in the race.

When the smoke of battle clears away, you will discern the good you have done, and receive according to your deserving. Love is not hasty to deliver us from temptation, for Love means that we shall be tried and purified.

Justice requires reformation of the sinner. Mercy cancels the debt only when justice approves. Revenge is inadmissible. Wrath which is only appeased is not destroyed, but partially indulged. Wisdom and Love may require many sacrifices of self to save us from sin. One sacrifice, however great, is insufficient to pay the debt of sin.

5۔ 327 :1۔16، 22۔13

اصلاح اس سمجھ سے پیدا ہوتی ہے کہ بدی میں کوئی قائم رہنے والا اطمینان نہیں ہے، اوریہ اطمینان سائنس کے مطابق اچھائی کے لئے ہمدردی رکھنے سے پیدا ہوتا ہے، جو اِس لافانی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ نہ خوشی نہ درد، نہ بھوک نہ جذبہ مادے سے یا مادے میں وجود رکھ سکتا ہے، جبکہ الٰہی عقل خوشی، درد یا خوف اور انسانی عقل کی تمام تر گناہ آلود بھوک کے جھوٹے عقائد کو نیست کر سکتا ہے۔

انتقام میں اطمینان پانا، کس قدر قابل رحم بدنیتی کا منظر ہے!بعض اوقات بدی انسان کا سب سے زیادہ درست تصور ہوتا ہے، جب تک کہ اچھائی پر اْس کی گرفت مضبوط نہیں ہوجاتی۔ پھر وہ بدی پر اپنا دباؤ کھو دیتا ہے، اور یہ اْس کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔ گناہ کی تکلیف سے بچنے کا طریقہ گناہ کو ترک کرنا ہے۔ اور کوئی راہ نہیں ہے۔ گناہ اْس حیوان کی تصویر ہے جسے جانکنی کے پیسنے کی بدولت فنا کیا جاتا ہے۔یہ اخلاقی پاگل پن ہے جو آدھی رات اور طوفان کے ساتھ ہنگامہ آرائی کے لئے آگے بڑھتا ہے۔

سزا کے خوف نے انسان کو حقیقی ایماندار کبھی نہیں بنایا۔ غلط کے ساتھ ملنے اور درست کی تشہیر کرنے کے لئے اخلاقی جراٗت کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم اس انسان کی اصلاح کیسے کریں گے جس میں اخلاقی حوصلے سے زیادہ حیوانی حوصلہ ہے، اور جسے اچھائی کا حقیقی تصور تک نہیں؟ انسانی شعور کے وسیلہ سے، مادے کی تلاش میں اس کی غلطی کی فانیت کو قائل کرنے سے مراد شادمانی حاصل کرنا ہے۔ وجہ سب سے زیادہ فعل انسانی ذہنی صلاحیت ہے۔ اسے جذبات کو آگاہ کرنے دیں اور انسان کی اخلاقی ذمہ داری کے احساس کو بیدار ہونے دیں، اور درجات کے ذریعے وہ خوشی کے انسانی احساس کے عدم وجود اورروحانی احساس کی عظمت اورفرحت کو سیکھے گا، جو مادی یاجسمانی چیزوں کو خاموش کر دیتی ہے۔پھر وہ نہ صرف نجات یافتہ ہوگا بلکہ وہ نجات یافتہ ہے۔

بشر سمجھتے ہیں کہ وہ اچھائی کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں، جبکہ خدا اچھائی اورواحد حقیقی زندگی ہے۔ تو اِس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اْس الٰہی اصول سے متعلق کم فہم رکھتے ہوئے جو نجات اور شفا دیتا ہے، بشر صرف ایمان کے ساتھ گناہ، بیماری اور موت سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔ یہ غلطیاں حقیقت میں یوں تباہ نہیں ہوتیں، اور انہیں تب تک،یہاں یا اس کے بعد، انسانوں کے ساتھ جْڑے رہنا چاہئے جب تک وہ سائنس میں خدا کے حقیقی ادراک کو نہیں پا لیتے جس سے خدا کے متعلق انسان کی غلط فہمیاں ہوتی ہیں اور یہ اْس کی کاملیت سے متعلق بڑے حقائق کو ظاہر کرتا ہے۔

5. 327 : 1-16, 22-13

Reform comes by understanding that there is no abiding pleasure in evil, and also by gaining an affection for good according to Science, which reveals the immortal fact that neither pleasure nor pain, appetite nor passion, can exist in or of matter, while divine Mind can and does destroy the false beliefs of pleasure, pain, or fear and all the sinful appetites of the human mind.

What a pitiful sight is malice, finding pleasure in revenge! Evil is sometimes a man's highest conception of right, until his grasp on good grows stronger. Then he loses pleasure in wickedness, and it becomes his torment. The way to escape the misery of sin is to cease sinning. There is no other way. Sin is the image of the beast to be effaced by the sweat of agony. It is a moral madness which rushes forth to clamor with midnight and tempest.

Fear of punishment never made man truly honest. Moral courage is requisite to meet the wrong and to proclaim the right. But how shall we reform the man who has more animal than moral courage, and who has not the true idea of good? Through human consciousness, convince the mortal of his mistake in seeking material means for gaining happiness. Reason is the most active human faculty. Let that inform the sentiments and awaken the man's dormant sense of moral obligation, and by degrees he will learn the nothingness of the pleasures of human sense and the grandeur and bliss of a spiritual sense, which silences the material or corporeal. Then he not only will be saved, but is saved.

Mortals suppose that they can live without goodness, when God is good and the only real Life. What is the result? Understanding little about the divine Principle which saves and heals, mortals get rid of sin, sickness, and death only in belief. These errors are not thus really destroyed, and must therefore cling to mortals until, here or hereafter, they gain the true understanding of God in the Science which destroys human delusions about Him and reveals the grand realities of His allness.

6۔ 19 :24۔28

وہ جو، کم از کم کسی حد تک، ہمارے مالک کی تعلیمات اور مشق کے الٰہی اصول کا اظہار نہیں کر سکتے اْن کی خدا میں کوئی شرکت نہیں ہے۔ اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔

6. 19 : 24-28

Those who cannot demonstrate, at least in part, the divine Principle of the teachings and practice of our Master have no part in God. If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.

7۔ 404 :9۔25

بدعنوان سوچ بد عنوان جسم میں ظاہر ہوتی ہے۔ شہوت، بْغض اور ہر طرح کی بدکاری بیمارکے عقائد ہیں، اور آپ انہیں صرف اْن بدکار مقاصد کو ختم کرنے سے تباہ کر سکتے ہیں جن سے یہ جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی معاف کئے گئے انسانی فہم سے بدی ختم ہو چکی ہے، حالانکہ اس کے اثرات ابھی بھی اْس شخص پر ہوں گے، تو آپ اس بے ترتیبی کو ختم کر سکتے ہیں جیسے خدا کی شریعت مکمل ہو جاتی ہے اور اصلاح جرم کو ختم کر دیتی ہے۔ صحتمند گناہگار سخت ترین گناہگار ہوتا ہے۔

معتدل اصلاح، جسے ہماری پوری دھرتی پر محسوس کیا گیا ہے، مابعد الطبعیاتی شفا کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے،جو ہر اْس درخت کو کاٹ پھینکتی ہے جو اچھا پھل نہیں لاتا۔ یہ احساس کہ گناہ میں حقیقی خوشی نہیں ہے، کرسچن سائنس کی الٰہیات کے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہے۔ گناہ کے اس نئے اور حقیقی منظر کو گناہگار پر اجاگر کریں، اْس پر ظاہر کریں کہ گناہ کوئی اطمینان نہیں بخشتا، اور یہ علم اْس کی اخلاقی ہمت کو مضبوط کرتا ہے اور بدی پر فتح پانے اور اچھائی سے محبت کرنے کی اْس کی قابلیت کو فروغ دیتا ہے۔

7. 404 : 9-25

A corrupt mind is manifested in a corrupt body. Lust, malice, and all sorts of evil are diseased beliefs, and you can destroy them only by destroying the wicked motives which produce them. If the evil is over in the repentant mortal mind, while its effects still remain on the individual, you can remove this disorder as God's law is fulfilled and reformation cancels the crime. The healthy sinner is the hardened sinner.

The temperance reform, felt all over our land, results from metaphysical healing, which cuts down every tree that brings not forth good fruit. This conviction, that there is no real pleasure in sin, is one of the most important points in the theology of Christian Science. Arouse the sinner to this new and true view of sin, show him that sin confers no pleasure, and this knowledge strengthens his moral courage and increases his ability to master evil and to love good.

8۔ 405 :29۔32

گناہ آلود سوچ کے درد اس کی تسکین سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ مادی تکلیف پر یقین انسان کے لئے اپنی غلطیوں سے پیچھے ہٹنے، بدن سے روح کی جانب پرواز کرنے اور خود سے الگ الٰہی وسائل سے التماس کرنے کا موجب بنتا ہے۔

8. 405 : 29-32

The pains of sinful sense are less harmful than its pleasures. Belief in material suffering causes mortals to retreat from their error, to flee from body to Spirit, and to appeal to divine sources outside of themselves.

9۔ 239 :18۔22

اگر الٰہی محبت ہمارے نزدیک تر، عزیز تر اور زیادہ حقیقی ہوتی جاتی ہے، تو مادا روح کے حوالے ہو رہا ہے۔ تو جن مقاصد کا ہم تعاقب کرتے ہیں ارو جس روح کو ہم ظاہر کرتے ہیں وہ ہمارے نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے، اور دکھاتی ہے کہ ہم کیا فتح کر رہے ہیں۔

9. 239 : 18-22

If divine Love is becoming nearer, dearer, and more real to us, matter is then submitting to Spirit. The objects we pursue and the spirit we manifest reveal our standpoint, and show what we are winning.

10۔ 252 :7۔14

جب جھوٹے انسانی عقائد اپنی بد دیانتی کےمتعلق تھوڑا بہت جان لیتے ہیں، تو وہ غائب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ غلطی اور اِس کے اعمال کے بارے میں علم کو یہ تقدیم کرنی چاہئے کہ سچائی کا فہم جو غلطی کو تباہ کرتا ہے، جب تک کہ ساری لافانی، مادی غلطی بالا آخر غائب ہو جاتی ہے،اور ابدی حقیقت، یعنی انسان روح سے اور روح کے وسیلہ پیدا ہوا ہے، اسے اپنے خالق کی حقیقی شبیہ کے طور پرسمجھا اور پہچانا جاتا ہے۔

10. 252 : 7-14

When false human beliefs learn even a little of their own falsity, they begin to disappear. A knowledge of error and of its operations must precede that understanding of Truth which destroys error, until the entire mortal, material error finally disappears, and the eternal verity, man created by and of Spirit, is understood and recognized as the true likeness of his Maker.

11۔ 248 :29۔32

ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔

11. 248 : 29-32

Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████