اتوار4 اگست، 2019 |

اتوار4 اگست، 2019



مضمون۔ محبت

SubjectLove

سنہری متن:سنہری متن: رومیوں 8باب28آیت

’’سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں ۔‘‘



Golden Text: Romans 8 : 28

All things work together for good to them that love God.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1یوحنا 4باب7تا12آیات


7۔ اے عزیزو! آﺅ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں، کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے۔

8۔جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔

9۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اْس کے سبب سے زندہ رہیں۔

10۔ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اس میں ہے کہ اْس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارے کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔

11۔ اے عزیزو! جب خدانے ہم سے ایسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنا فرض ہے۔

12۔ خدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ہم میں رہتا ہے اور اْس کی محبت ہمارے دل میں کامل ہو گئی ہے۔

Responsive Reading: I John 4 : 7-12

7.     Beloved, let us love one another: for love is of God; and every one that loveth is born of God, and knoweth God.

8.     He that loveth not knoweth not God; for God is love.

9.     In this was manifested the love of God toward us, because that God sent his only begotten Son into the world, that we might live through him.

10.     Herein is love, not that we loved God, but that he loved us, and sent his Son to be the propitiation for our sins.

11.     Beloved, if God so loved us, we ought also to love one another.

12.     No man hath seen God at any time. If we love one another, God dwelleth in us, and his love is perfected in us.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 31باب3آیت

31۔ خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا کہ میں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اس لئے میں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی۔

1. Jeremiah 31 : 3

3     The Lord hath appeared of old unto me, saying, Yea, I have loved thee with an everlasting love: therefore with lovingkindness have I drawn thee.

2۔ زبور 36: 7آیت

7۔اے خدا! تیری شفقت کیا ہی بیش قیمت ہے بنی آدم تیرے بازوﺅں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔

2. Psalm 36 : 7

7     How excellent is thy lovingkindness, O God! therefore the children of men put their trust under the shadow of thy wings.

3۔ 1سیموئیل 17باب57 (جیسا کہ ) (ساﺅل تک)، 58 آیت

57۔ ۔۔۔جب داﺅد اْس فلستی کو قتل کر کے پھِرا تو تو آبینر اْسے لے کر ساﺅل کے پاس آیا۔۔۔

58۔ تب ساﺅل نے اْس سے کہا اے جوان تو کس کا بیٹا ہے؟ داﺅد نے جواب دیا میں تیرے خادم بیت لحمی یسی کا بیٹا ہوں۔

3. I Samuel 17 : 57 (as) (to Saul), 58

57     …as David returned from the slaughter of the Philistine, Abner took him, and brought him before Saul…

58     And Saul said to him, Whose son art thou, thou young man? And David answered, I am the son of thy servant Jesse the Beth-lehemite.

4۔ 1سیموئیل 18باب1، 3، 4، 6 (ہوا)، 6 (کہ) تا 9 آیات

1۔ جب وہ ساﺅل سے باتیں کر چکا تو یونتن کا دل داﺅد کے دل سے ایسا مل گیا کہ یونتن اْس سے اپنی جان کے برابر محبت کرنے لگا۔

3۔ اور یونتن اور داﺅد نے باہم عہد کیا کیونکہ وہ اْس سے اپنی جان کے برابر محبت رکھتا تھا۔

4۔ تب یونتن نے وہ قبا جو وہ پہنے ہوئے تھا اْتار کر داﺅد کو دی اور اپنی پوشاک بلکہ اپنی تلوار اور اپنی کمان اور اپنا کمر بند تک دے دیا۔

6۔ اور ایسا ہوا۔۔۔کہ اسرائیل کے سب شہروں سے عورتیں گاتی اور ناچتی ہوئیں دفوں اور خوشی کے نعروں کے اور باجوں کے ساتھ ساﺅل بادشاہ کے استقبال کو نکلیں۔

7۔ اور وہ عورتیں ناچتی ہوئی آپس میں گاتی جاتی تھیں کہ ساﺅل نے تو ہزاروں کو پر داﺅد نے لاکھوں کو مارا۔

8۔ اور ساﺅل نہایت خفا ہوا کیونکہ وہ بات اْسے بْری لگی اور وہ کہنے لگا کہ انہوں نے داﺅد کے لئے تو لاکھوں اور میرے لئے فقط ہزاروں ہی ٹھہرائے۔ سو بادشاہی کے سوا اْسے اور کیا ملنا باقی ہے؟

9۔ سوا ْس دن سے آگے کو ساﺅل داﺅد بدگمانی سے دیکھنے لگا۔

4. I Samuel 18 : 1, 3, 4, 6 (to pass), 6 (that)-9

1     And it came to pass, when he had made an end of speaking unto Saul, that the soul of Jonathan was knit with the soul of David, and Jonathan loved him as his own soul.

3     Then Jonathan and David made a covenant, because he loved him as his own soul.

4     And Jonathan stripped himself of the robe that was upon him, and gave it to David, and his garments, even to his sword, and to his bow, and to his girdle.

6     And it came to pass … that the women came out of all cities of Israel, singing and dancing, to meet king Saul, with tabrets, with joy, and with instruments of musick.

7     And the women answered one another as they played, and said, Saul hath slain his thousands, and David his ten thousands.

8     And Saul was very wroth, and the saying displeased him; and he said, They have ascribed unto David ten thousands, and to me they have ascribed but thousands: and what can he have more but the kingdom?

9     And Saul eyed David from that day and forward.

5۔ 1سیموئیل 19باب1، 2 آیات

1۔ اور ساﺅل نے اپنے بیٹے یونتن اور اپنے سب خادموں سے کہا کہ داﺅدکو مار ڈالو۔

2۔ لیکن ساﺅل کا بیٹا یونتن داﺅد سے بہت خوش تھا۔ سو یونتن نے داﺅد سے کہا میرا باپ تیرے قتل کی فکر میں ہے اس لئے تو صبح کو اپنا خیال کر رکھنا اور کسی پوشیدہ جگہ میں چھِپے رہنا۔

5. I Samuel 19 : 1, 2

1     And Saul spake to Jonathan his son, and to all his servants, that they should kill David.

2     But Jonathan Saul’s son delighted much in David: and Jonathan told David, saying, Saul my father seeketh to kill thee: now therefore, I pray thee, take heed to thyself until the morning, and abide in a secret place, and hide thyself:

6۔ 1سیموئیل 23باب14، 16 تا18 (تا؛ ) آیات

14۔ اور داﺅد نے بیابان کے قلعوں میں سکونت کی اوردشتِ زِیف کے کوہستانی ملک میںرہا اور ساﺅل ہر روز اْس کی تلاش میں رہا پر خدا نے اْس کو اقس کے ہاتھ میں حوالہ نہ کیا۔

16۔ اور ساﺅل کا بیٹا یونتن اٹھ کر داﺅد کے پاس بن میں گیا، اور خدا میں اْس کا ہاتھ مضبوط کیا۔

17۔ اْس نے اْس سے کہا تْو مت ڈر کیونکہ تْو میرے باپ ساﺅل کے ہاتھ میں نہیں پڑے گا اور تْو اسرائیل کا بادشاہ ہوگا اور میں تجھ سے دوسرے درجے پر ہوں گا، یہ میرے باپ ساﺅل کو بھی معلوم ہے۔

18۔ اْن دونوں نے خداوند کے آگے عہد و پیماں کیا۔

6. I Samuel 23 : 14, 16-18 (to :)

14     And David abode in the wilderness in strong holds, and remained in a mountain in the wilderness of Ziph. And Saul sought him every day, but God delivered him not into his hand.

16     And Jonathan Saul’s son arose, and went to David into the wood, and strengthened his hand in God.

17     And he said unto him, Fear not: for the hand of Saul my father shall not find thee; and thou shalt be king over Israel, and I shall be next unto thee; and that also Saul my father knoweth.

18     And they two made a covenant before the Lord:

7۔ متی 4باب23 (یسوع) (تیسرے تک،) آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْس کے عبادخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

7. Matthew 4 : 23 (Jesus) (to 3rd ,)

23     Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom,

8۔ متی 5باب1، 2، 43تا48 آیات

1۔ وہ اس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر یوں اْن کو تعلیم دینے لگا۔

43۔ تم سْن چکے ہو کہ ہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دْشمن سے عداوت۔

44۔ لیکن مَیں تم سے کہتاہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اوراپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو۔

45۔ تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔

46۔ کیونکہ اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارا کیا اجر ہے؟ کیا محصول لینے والا بھی ایسا نہیں کرتے؟

47۔ اور اگر تم فقط اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرتے ہو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟ کیا غیر قوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے؟

48۔ پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔

8. Matthew 5 : 1, 2, 43-48

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

43     Ye have heard that it hath been said, Thou shalt love thy neighbour, and hate thine enemy.

44     But I say unto you, Love your enemies, bless them that curse you, do good to them that hate you, and pray for them which despitefully use you, and persecute you;

45     That ye may be the children of your Father which is in heaven: for he maketh his sun to rise on the evil and on the good, and sendeth rain on the just and on the unjust.

46     For if ye love them which love you, what reward have ye? do not even the publicans the same?

47     And if ye salute your brethren only, what do ye more than others? do not even the publicans so?

48     Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.

9۔ متی 20 باب30تا34 آیات

30۔ اور دیکھو دو اندھوں نے جو راہ کے کنارے بیٹھے تھے یہ سْن کر کہ یسوع جا رہا ہے چلا کر کہا اے خداوند ابنِ داﺅد ہم پر رحم کر۔

31۔ لوگوں نے انہیں ڈانٹا کہ چْپ رہیں۔لیکن وہ اور بھی چلائے کہ اے خداوند ابن داﺅد ہم پر رحم کر۔

32۔یسوع نے کھڑے ہو کر انہیں بلایا اور کہا تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے کروں؟

33۔ انہوں نے کہا اے خداوند یہ کہ ہماری آنکھیں کھْل جائیں۔

34۔ یسوع کو ترس آیا اور اْس نے اْن کی آنکھوں کو چھْوا ۔ اور وہ فوراً بینا ہو گئے اوراْس کے پیچھے ہو لئے۔

9. Matthew 20 : 30-34

30     And, behold, two blind men sitting by the way side, when they heard that Jesus passed by, cried out, saying, Have mercy on us, O Lord, thou Son of David.

31     And the multitude rebuked them, because they should hold their peace: but they cried the more, saying, Have mercy on us, O Lord, thou Son of David.

32     And Jesus stood still, and called them, and said, What will ye that I shall do unto you?

33     They say unto him, Lord, that our eyes may be opened.

34     So Jesus had compassion on them, and touched their eyes: and immediately their eyes received sight, and they followed him.

10۔ یوحنا 15باب8، 9، 12 آیات

8۔ میرے باپ کا جلال اسی سے ہوتا ہے کہ تم بہت سا پھل لاﺅ ۔ جب ہی تم میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

9۔ جیسے باپ نے مجھ سے محبت رکھی ہے ویسے ہی میں نے تم سے بھی محبت رکھی تم میری محبت میں قائم رہو۔

12۔ میرا حکم یہ ہے کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔

10. John 15 : 8, 9, 12

8     Herein is my Father glorified, that ye bear much fruit; so shall ye be my disciples.

9     As the Father hath loved me, so have I loved you: continue ye in my love.

12     This is my commandment, That ye love one another, as I have loved you.

11۔ رومیوں 8باب35، 37 تا39 آیات

35۔ کون ہم کو مسیح کی محبت سے جْدا کرے گا؟ مصیبت یا تنگی، یا ظلم یا کال یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار؟

37۔ مگر ان سب حالتوں میں مسیح کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

38۔ کیونکہ مجھ کو یقین ہے خدا کی محبت جو ہمارے خداوند مسیح یسوع میں ہے اْس سے نہ ہمیں موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔

39۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں،نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔

11. Romans 8 : 35, 37-39

35     Who shall separate us from the love of Christ? shall tribulation, or distress, or persecution, or famine, or nakedness, or peril, or sword?

37     Nay, in all these things we are more than conquerors through him that loved us.

38     For I am persuaded, that neither death, nor life, nor angels, nor principalities, nor powers, nor things present, nor things to come,

39     Nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God, which is in Christ Jesus our Lord.



سائنس اور صح


1۔ 243: 4۔ 13

الٰہی محبت، جس نے زہریلے سانپ کو بے ضرر بنایا، جس نے آدمیوں کو اْبلتے ہوئے تیل سے، بھڑکتے ہوئے تندور سے ، شیر کے پنجوں سے بچایا، وہ ہر دور میں بیمار کو شفا ے سکتی اور گناہ اور موت پر فتح مند ہو سکتی ہے۔اس نے یسوع کے اظہاروں کو بلا سبقت طاقت اور محبت سے سرتاج کیا۔ لیکن ”وہی عقل۔۔۔ جو مسیح یسوع کی بھی ہے“ سائنس کے خط کے ہمراہ ہونی چاہئے تاکہ نبیوں اور رسولوں کے پرانے اظہاروں کو دوہرائے اور تصدیق کرے۔

1. 243 : 4-13

The divine Love, which made harmless the poisonous viper, which delivered men from the boiling oil, from the fiery furnace, from the jaws of the lion, can heal the sick in every age and triumph over sin and death. It crowned the demonstrations of Jesus with unsurpassed power and love. But the same “Mind … which was also in Christ Jesus” must always accompany the letter of Science in order to confirm and repeat the ancient demonstrations of prophets and apostles.

2۔ 112: 32۔6

خدا الٰہی مابعد الطبیعات کو اصول ہے۔جیسا کہ صرف ایک واحد خدا ہے، تو پوری سائنس کا صرف ایک ہی الٰہی اصول ہے؛ اور اس الٰہی اصول کے اظہار کے لئے بھی طے شدہ قوانین ہونے چاہئیں۔ سائنس کا خط آج کثرت کے ساتھ انسانیت تک پہنچ رہا ہے، لیکن ا س کی روح بہت چھوٹے درجات میں آتی ہے ۔ کرسچن سائنس کا لازمی حصہ، دل اور جان محبت ہے۔

2. 112 : 32-6

God is the Principle of divine metaphysics. As there is but one God, there can be but one divine Principle of all Science; and there must be fixed rules for the demonstration of this divine Principle. The letter of Science plentifully reaches humanity to-day, but its spirit comes only in small degrees. The vital part, the heart and soul of Christian Science, is Love.

3۔ 285: 23۔31

خدا کی بطور بچانے والے اصول یا الٰہی محبت کی بجائے جسمانی نجات دہندہ کے طور پر تشریح کرتے ہوئے ، ہم اصلاحات کی بجائے معافی کے وسیلہ نجات کو تلاش کرنا جاری رکھتے اور روح کی بجائے مادے کی جانب رجوح کرتے ہوئے بیماری کا اعلاج کرتے ہیں۔ جیسا کہ کرسچن سائنس کے علم کے وسیلہ بشر بلند فہم تک پہنچتے ہیں وہ مادے کی بدولت نہیں بلکہ اصول، خدا سے سیکھتے ہیں کہ مسیح یعنی سچائی کو نجات دینے والی اور شفا دینے والی طاقت کے طور پر کیسے ظاہر کیا جائے۔

3. 285 : 23-31

By interpreting God as a corporeal Saviour but not as the saving Principle, or divine Love, we shall continue to seek salvation through pardon and not through reform, and resort to matter instead of Spirit for the cure of the sick. As mortals reach, through knowledge of Christian Science, a higher sense, they will seek to learn, not from matter, but from the divine Principle, God, how to demonstrate the Christ, Truth, as the healing and saving power.

4۔ 454: 17۔23

شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی ، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے ، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔محبت سچائی کی الطار پر بڑی راہبہ ہے۔ فانی عقل کے پانیوں پر چلنے اور کامل نظریہ تشکیل دینے کے لئے صبر کے ساتھ الٰہی محبت کا انتظار کریں ۔

4. 454 : 17-23

Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action. Love is priestess at the altar of Truth. Wait patiently for divine Love to move upon the waters of mortal mind, and form the perfect concept.

5۔ 230: 1۔10

اگر بیماری حقیقی ہے تو یہ لافانیت سے تعلق رکھتی ہے؛ اگر سچی ہے تو یہ سچائی کا حصہ ہے۔ منشیات کے ساتھ یا بغیر کیاآپ سچائی کی حالت یا خصوصیت کو تباہ کریں گے؟ لیکن اگر گناہ اور بیماری بھرم ہیں ، اس فانی خواب یا بھرم سے بیدار ہونا ہمیں صحتمندی، پاکیزگی اور لافانیت مہیا کرتا ہے۔یہ بیداری مسیح کی ہمیشہ آمد ہے، سچائی کا پیشگی ظہور، جو غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے۔ یہ وہ نجات ہے جو خدا، الٰہی اصول،اْس محبت کے وسیلہ ملتی ہے جسے یسوع نے ظاہر کیا ۔

5. 230 : 1-10

If sickness is real, it belongs to immortality; if true, it is a part of Truth. Would you attempt with drugs, or without, to destroy a quality or condition of Truth? But if sickness and sin are illusions, the awakening from this mortal dream, or illusion, will bring us into health, holiness, and immortality. This awakening is the forever coming of Christ, the advanced appearing of Truth, which casts out error and heals the sick. This is the salvation which comes through God, the divine Principle, Love, as demonstrated by Jesus.

6۔ 366: 12۔19

وہ طبیب جو اپنے ساتھی انسان کے لئے ہمدردی کی کمی رکھتا ہے انسانی احساس میں نامکمل ہے، اور یہ کہنے کے لئے ہمارے پاس رسولی فرمان ہے کہ : ”جو اپنے بھائی سے جسے اْس نے دیکھا ہے محبت نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی جسے اْس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا۔“اس روحانی احساس کے نہ ہوتے ہوئے، طبیب الٰہی عقل پر یقین کی کمی رکھتا ہے اور اْسے لامتناہی محبت سے شناسائی نہیں ہے جو اکیلا شفائیہ طاقت عطا کرتا ہے۔

6. 366 : 12-19

The physician who lacks sympathy for his fellow-being is deficient in human affection, and we have the apostolic warrant for asking: “He that loveth not his brother whom he hath seen, how can he love God whom he hath not seen?” Not having this spiritual affection, the physician lacks faith in the divine Mind and has not that recognition of infinite Love which alone confers the healing power.

7۔ 248: 26۔32

ہمیں خیالات میںکامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔ ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔

7. 248 : 26-32

We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives. Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.

8۔ 326 :3۔11

اگر ہم مسیح یعنی سچائی کی پیروی کرنے کے خواہاں ہیں، تو یہ خدا کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہئے۔ یسوع نے کہا، ” جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا۔“ وہ جو منبع تک پہنچے اور ہر بیماری کا الٰہی اعلاج پائے گا اْسے کسی اور راستے سے سائنس کی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ساری فطرت انسان کے ساتھ خدا کی محبت کی تعلیم دیتی ہے، لیکن انسان خدا سے بڑھ کر اْسے پیار نہیں کر سکتا اورروحانیت کی بجائے مادیت سے پیار کرتے اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے احساس کو روحانی چیزوں پر مرتب نہیں کرسکتا۔

8. 326 : 3-11

If we wish to follow Christ, Truth, it must be in the way of God’s appointing. Jesus said, “He that believeth on me, the works that I do shall he do also.” He, who would reach the source and find the divine remedy for every ill, must not try to climb the hill of Science by some other road. All nature teaches God’s love to man, but man cannot love God supremely and set his whole affections on spiritual things, while loving the material or trusting in it more than in the spiritual.

9۔ 304 :3۔15

یہ مادی فہم کی چیزوں کی بنیاد پر قائم جہالت اور جھوٹا عقیدہ ہے جو روحانی خوبصورتی اور اچھائی کو چھپاتا ہے۔ اسے سمجھتے ہوئے پولوس نے کہا، ”خدا کی محبت سے ہم کو نہ موت ، نہ زندگی۔۔۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں، نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق جدا کرسکے گی۔“یہ کرسچن سائنس کا عقیدہ ہے: کہ الٰہی محبت اپنے اظہار یا موضوع سے عاری نہیں ہوسکتی، کہ خوشی غم میں تبدیل نہیں ہو سکتی کیونکہ غمی خوشی کی مالک نہیں ہے؛ کہ اچھائی بدی کو کبھی پیدا نہیں کرسکتی؛ کہ مادا کبھی عقل کو پیدا نہیں کر سکتا نہ ہی زندگی کبھی موت کا نتیجہ موت ہو سکتی ہے۔ کامل انسان، خدایعنی اپنے کامل اصول کے ماتحت، گناہ سے پاک اور ابدی ہے۔

9. 304 : 3-15

It is ignorance and false belief, based on a material sense of things, which hide spiritual beauty and goodness. Understanding this, Paul said: “Neither death, nor life, … nor things present, nor things to come, nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God.” This is the doctrine of Christian Science: that divine Love cannot be deprived of its manifestation, or object; that joy cannot be turned into sorrow, for sorrow is not the master of joy; that good can never produce evil; that matter can never produce mind nor life result in death. The perfect man — governed by God, his perfect Principle — is sinless and eternal.

10۔ 410 :14۔21

خدا پر ہمارے ایمان کی ہر آزمائش ہمیں مضبوط کرتی ہے۔ مادی حالت کا روح کے باعث زیر ہونا جتنا زیادہ مشکل لگے گا اْتنا ہی ہمار ایمان مضبوط تر اور ہماری محبت پاک ترین ہونی چاہئے۔ پولوس رسول کہتا ہے: ”محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کردیتی ہے۔۔۔ کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیں ہوا۔“ یہاں کرسچن سائنس کی حتمی اور الہامی اشاعت ہے۔

10. 410 : 14-21

Every trial of our faith in God makes us stronger. The more difficult seems the material condition to be overcome by Spirit, the stronger should be our faith and the purer our love. The Apostle John says: “There is no fear in Love, but perfect Love casteth out fear. … He that feareth is not made perfect in Love.” Here is a definite and inspired proclamation of Christian Science.

11۔ 286 :9۔15

مالک نے کہا، ”کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ(ہستی کے الٰہی اصول) کے پاس نہیں آتا،“ یعنی مسیح، زندگی، حق اور محبت کے بغیر؛ کیونکہ مسیح کہتا ہے، ”راہ مَیں ہوں۔“ اس اصلی انسان، یسوع، کی بدولت طبیب کے اسباب کو پہلے درجے سے آخری تک کر دیا گیاتھا۔ وہ جانتا تھا کہ الٰہی اصول یعنی محبت اْس سب کو خلق کرتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے جو حقیقی ہے۔

11. 286 : 9-15

The Master said, “No man cometh unto the Father [the divine Principle of being] but by me,” Christ, Life, Truth, Love; for Christ says, “I am the way.” Physical causation was put aside from first to last by this original man, Jesus. He knew that the divine Principle, Love, creates and governs all that is real.

12۔ 265 :3۔15

جیسے جیسے سچائی اور محبت کی دولت وسعت پاتے ہیں انسان اسی تناسب سے روحانی وجودیت کو سمجھتا ہے۔ بشر کو خدا کی جانب راغب ہونا چاہئے، تو اْن کے مقاصد اور احساسات روحانی ہوں گے، انہیں ہستی کی تشریحات کو وسعت کے قریب تر لانا چاہئے، اور لامتناہی کا مناسب ادراک پانا چاہئے، تاکہ گناہ اور فانیت کو ختم کیا جا سکے۔

ہستی کا یہ سائنسی فہم ، روح کے لئے مادے کو ترک کرتے ہوئے، کسی وسیلہ کے بغیر الوہیت میں انسان کے سوکھے پن اوراْس کی شناخت کی گمشْدگی کی تجویز دیتا ہے، لیکن انسان پر ایک وسیع تر انفرادیت نچھاور کرتا ہے،یعنی اعمال اور خیالات کا ایک بڑا دائرہ، وسیع محبت اور ایک بلند اورمزید مستقل امن عطا کرتا ہے۔

12. 265 : 3-15

Man understands spiritual existence in proportion as his treasures of Truth and Love are enlarged. Mortals must gravitate Godward, their affections and aims grow spiritual, — they must near the broader interpretations of being, and gain some proper sense of the infinite, — in order that sin and mortality may be put off.

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man’s absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

13۔ 225 :21۔22

محبت آزادی دلانے والی ہے۔

13. 225 : 21-22

Love is the liberator.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████