اتوار یکم فروری، 2026
’ہم کو اْس کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے۔
“This commandment have we from him, That he who loveth God love his brother also.”
7۔ اے عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں، کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے۔
8۔جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔
9۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اْس کے سبب سے زندہ رہیں۔
10۔ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اس میں ہے کہ اْس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارے کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔
11۔ اے عزیزو! جب خدانے ہم سے ایسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنا فرض ہے۔
12۔ خدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ہم میں رہتا ہے اور اْس کی محبت ہمارے دل میں کامل ہو گئی ہے۔
18۔ محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے۔
7. Beloved, let us love one another: for love is of God; and every one that loveth is born of God, and knoweth God.
8. He that loveth not knoweth not God; for God is love.
9. In this was manifested the love of God toward us, because that God sent his only begotten Son into the world, that we might live through him.
10. Herein is love, not that we loved God, but that he loved us.
11. Beloved, if God so loved us, we ought also to love one another.
12. If we love one another, God dwelleth in us, and his love is perfected in us.
18. There is no fear in love; but perfect love casteth out fear.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
1۔ خداوند میری روشنی اور میری نجات ہے۔ مجھے کس کی دہشت؟ خداوند میری زندگی کا پشتہ ہے۔ مجھے کس کی ہیبت؟
5۔ کیونکہ مصیبت کے دن وہ مجھے اپنے شامیانہ میں پوشیدہ رکھے گا وہ مجھے اپنے خیمہ کے پردہ میں چھپا لے گا۔ وہ مجھے چٹان پر چڑھا دے گا۔
6۔ اب مَیں اپنے چاروں طرف کے دشمنوں پر سرفراز کیا جاؤں گا۔ مَیں اْس کے خیمہ میں خوشی کی قربانیاں گزرانوں گا۔ مَیں گاؤں گا۔ مَیں خداوند کی مدح سرائی کروں گا۔
11۔ اے خداوند مجھے اپنی راہ بتا اور میرے دشمنوں کے سبب سے مجھے ہموار راستے پر چلا۔
14۔ خداوند کی آس رکھ۔ مضبوط ہو اور تیرا دل قوی ہو۔ ہاں خداوند ہی کی آس رکھ۔
1 The Lord is my light and my salvation; whom shall I fear? the Lord is the strength of my life; of whom shall I be afraid?
5 For in the time of trouble he shall hide me in his pavilion: in the secret of his tabernacle shall he hide me; he shall set me up upon a rock.
6 And now shall mine head be lifted up above mine enemies round about me: therefore will I offer in his tabernacle sacrifices of joy; I will sing, yea, I will sing praises unto the Lord.
11 Teach me thy way, O Lord, and lead me in a plain path, because of mine enemies.
14 Wait on the Lord: be of good courage, and he shall strengthen thine heart: wait, I say, on the Lord.
41۔ اور عیسو نے یعقوب سے اْس برکت کے سبب جو اْس کے باپ نے اْسے بخشی کینہ رکھا اور عیسو نے اپنے دل میں کہا کہ میرے باپ کے ماتم کے دن نزدیک ہیں۔ پھر مَیں اپنے بھائی یعقوب کو مار ڈالوں گا۔
42۔ اور رِبقہ کو اْس کے بڑے بیٹے عیسو کی یہ باتیں بتائی گئیں۔ تب اْس نے اپنے چھوٹے بیٹے یعقوب کو بلوا کر اْس سے کہا کہ،
43۔۔۔۔ میرے بیٹے توْ میری بات مان اور اْٹھ کر حاران کو میرے بھائی لبن کے پاس بھاگ جا۔
41 And Esau hated Jacob because of the blessing wherewith his father blessed him: and Esau said in his heart, The days of mourning for my father are at hand; then will I slay my brother Jacob.
42 And these words of Esau her elder son were told to Rebekah: and she sent and called Jacob her younger son, and said unto him,
43 … my son, obey my voice; and arise, flee thou to Laban my brother to Haran;
3۔ اور خداوند نے یعقوب سے کہا کہ تو اپنے باپ دادا اور اپنے رشتہ داروں کے پاس لوٹ جا اور میں تیرے ساتھ رہوں گا۔
3 And the Lord said unto Jacob, Return unto the land of thy fathers, and to thy kindred; and I will be with thee.
1۔ اور یعقوب نے بھی اپنی راہ لی اور خدا کے فرشتے اُسے ملے۔
3۔ اور یعقوب نے اپنے آگے آگے قاصدوں کو ادوم کے ملک کو جو شعیر کی سر زمین میں ہے اپنے بھائی عیسو کے پاس بھیجا۔
6۔ پس قاصد یعقوب کے پاس لوٹ کر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تیرے بھائی عیسو کے پاس گئے تھے۔ وہ چار سو آدمیوں کو ساتھ لے کر تیری ملاقات کو آرہا ہے۔
7۔ تب یعقوب نہایت ڈر گیا اور پریشان ہوا۔
24۔ اور یعقوب اکیلا رہ گیا اور پوپھٹنے کے وقت تک ایک شخص وہاں اُس سے کشتی لڑتا رہا۔
25۔ اُس نے دیکھا کہ وہ اُس پر غالب نہیں ہوتا تو اسکی ران کو اندر کی طرف چھوا اور یعقوب کی ران کی نس اُسکے ساتھ کشتی کرنے پر چڑھ گئی۔
26۔ اور اُس نے کہا مجھے جانے دے کیونکہ پوپھٹ چلی۔ یعقوب نے کہا کہ جب تک تُو مجھے برکت نہ دے میں تجھے جانے نہیں دونگا۔ 27۔تب اُس نے اُس سے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے جواب دیا یعقوب۔
28۔اُس نے کہا کہ تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہوگا کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب ہوا۔
29۔ تب یعقوب نے اُس سے کہا کہ میں تیری منت کرتا ہوں تو مجھے اپنا نام بتا دے۔ اُس نے کہا کہ تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اور اُس نے اُسے وہاں برکت دی۔
1 And Jacob went on his way,
3 And Jacob sent messengers before him to Esau his brother …
6 And the messengers returned to Jacob, saying, We came to thy brother Esau, and also he cometh to meet thee, and four hundred men with him.
7 Then Jacob was greatly afraid and distressed:
24 And Jacob was left alone; and there wrestled a man with him until the breaking of the day.
25 And when he saw that he prevailed not against him, he touched the hollow of his thigh; and the hollow of Jacob’s thigh was out of joint, as he wrestled with him.
26 And he said, Let me go, for the day breaketh. And he said, I will not let thee go, except thou bless me.
27 And he said unto him, What is thy name? And he said, Jacob.
28 And he said, Thy name shall be called no more Jacob, but Israel: for as a prince hast thou power with God and with men, and hast prevailed.
29 And Jacob asked him, and said, Tell me, I pray thee, thy name. And he said, Wherefore is it that thou dost ask after my name? And he blessed him there.
1۔ اور یعقوب نے اپنی آنکھیں اْٹھا کر نظر کی اورکیا دیکھتا ہے کہ عیسو چار سو آدمی ساتھ لئے چلا آرہا ہے۔
3۔ اور وہ اْن کے آگے آگے چلا اور اپنے بھائی کے پاس پہنچتے پہنچتے سات بار زمین تک جھکا۔
4۔ اور عیسو اْسے ملنے کو دوڑا اور اْس سے بغل گیر ہوا اور اْسے گلے لگایا اور چْوما اور وہ دنوں روئے۔
1 And Jacob lifted up his eyes, and looked, and, behold, Esau came, and with him four hundred men.
3 And he passed over before them, and bowed himself to the ground seven times, until he came near to his brother.
4 And Esau ran to meet him, and embraced him, and fell on his neck, and kissed him: and they wept.
23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوش خبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہرطرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔
23 And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.
1۔ وہ اِس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔
2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔
21۔ تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خون نہ کرنا اور جو کوئی خون کرے گا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا۔
22۔ لیکن مَیں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنے بھائی پر غصے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہے گا وہ صدرِ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا اور جو اْس کو احمق کہے گا وہ آتشِ جہنم کا سزا وار ہوگا۔
23۔ پس اگر تْو قربانگاہ پر اپنی نذر گزرانتا ہو اور وہاں تجھے یاد آئے کہ میرے بھائی کو مجھ سے کچھ شکایت ہے۔
24۔ تو وہیں قربانگاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جاکر پہلے اپنے بھائی سے ملاپ کر تب آکر اپنی نذر گزران۔
43۔ تم سْن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دْشمن سے عداوت۔
44۔ لیکن مَیں تم سے کہتاہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اوراپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو۔
45۔ تاکہ تم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مینہ برساتا ہے۔
48۔ پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔
1 And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:
2 And he opened his mouth, and taught them, saying,
21 Ye have heard that it was said by them of old time, Thou shalt not kill; and whosoever shall kill shall be in danger of the judgment:
22 But I say unto you, That whosoever is angry with his brother without a cause shall be in danger of the judgment:
23 Therefore if thou bring thy gift to the altar, and there rememberest that thy brother hath ought against thee;
24 Leave there thy gift before the altar, and go thy way; first be reconciled to thy brother, and then come and offer thy gift.
43 Ye have heard that it hath been said, Thou shalt love thy neighbour, and hate thine enemy.
44 But I say unto you, Love your enemies, bless them that curse you, do good to them that hate you, and pray for them which despitefully use you, and persecute you;
45 That ye may be the children of your Father which is in heaven:
48 Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.
31۔ اور جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اْن کے ساتھ ویسا ہی کرو۔
36۔ جیسا تمہارا باپ رحیم ہے تم بھی رحمدل ہو۔
37۔ عیب جوئی نہ کرو۔تو تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے گی۔ مجرم نہ ٹھہراؤ۔تو تم بھی مجرم نہ ٹھہرائے جاؤ گے۔ خلاصی دو تو تم بھی خلاصی پاؤ گے۔
31 And as ye would that men should do to you, do ye also to them likewise.
36 Be ye therefore merciful, as your Father also is merciful.
37 Judge not, and ye shall not be judged: condemn not, and ye shall not be condemned: forgive, and ye shall be forgiven:
14۔ اس لئے کہ اگر تم آدمیوں کے قصور معاف کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تم کو معاف کرے گا۔
15۔ اور اگر تم آدمیوں کے قصور معاف نہ کرو گے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تمہارے قصور معاف نہ کرے گا۔
14 For if ye forgive men their trespasses, your heavenly Father will also forgive you:
15 But if ye forgive not men their trespasses, neither will your Father forgive your trespasses.
21۔ اْس وقت پطرس نے پاس آکر اْس سے کہا اے خداوند اگر میرا بھائی گناہ کرتا رہے تو مَیں کتنی دفعہ اْسے معاف کروں؟ کیا سات بار تک؟
22۔ یسوع نے اْس سے کہا مَیں تجھ سے یہ نہیں کہتا کہ سات بار بلکہ سات دفعہ کے ستر بار۔
21 Then came Peter to him, and said, Lord, how oft shall my brother sin against me, and I forgive him? till seven times?
22 Jesus saith unto him, I say not unto thee, Until seven times: but, Until seventy times seven.
1۔ جس کا یہ ایمان ہے کہ یسوع ہی مسیح ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے۔
2۔ جب ہم خدا سے محبت رکھتے اور اْس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں تو اِس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خدا کے فرزندوں سے بھی محبت رکھتے ہیں۔
3۔اور خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اْس کے حکموں پرعمل کریں اور اْس کے حکم سخت نہیں۔
4۔ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ دنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے۔
1 Whosoever believeth that Jesus is the Christ is born of God:
2 By this we know that we love the children of God, when we love God, and keep his commandments.
3 For this is the love of God, that we keep his commandments: and his commandments are not grievous.
4 For whatsoever is born of God overcometh the world: and this is the victory that overcometh the world, even our faith.
الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔
۔۔۔ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔
فضل کا معجزہ محبت کے لئے کوئی معجزہ نہیں ہے۔
Divine Love always has met and always will meet every human need.
… to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.
The miracle of grace is no miracle to Love.
مادے کی فرضی زندگی پر عقیدے کے تیز ترین تجربات، اِس کے علاوہ ہماری مایوسیاں اور نہ ختم ہونے والی پریشانیاں ہمیں الٰہی محبت کی بانہوں میں تھکے ہوئے بچوں کی مانند پہنچاتے ہیں۔
بشر کرسچن سائنس کے فہم کی تلاش کر سکتے ہیں، مگر وہ کرسچن سائنس میں سے ہستی کے حقائق کو جدوجہد کے بغیر چننے کے قابل نہیں ہوں گے۔
The sharp experiences of belief in the supposititious life of matter, as well as our disappointments and ceaseless woes, turn us like tired children to the arms of divine Love.
Mortals may seek the understanding of Christian Science, but they will not be able to glean from Christian Science the facts of being without striving for them.
یعقوب تنہا، غلطی کے ساتھ لڑ رہا تھا، زندگی، مواد اور ذہانت کی فانی حس کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا، جیسے کہ یہ سب مادے کے ساتھ اِس کی جھوٹی تسکینوں اور تکالیف کے ساتھ موجود ہوتے ہیں،جب ایک فرشتہ، سچائی اور محبت کی جانب سے ایک پیغام، اْس پر ظاہر ہوا اور اْس نے اْسے، یا اْس کی طاقت کو یا اپنی غلطی کو مارا، جب تک کہ اْس نے اِس کی غیر حقیقت کو نہ دیکھا، اور وہاں ادراک میں آتے ہوئے، سچائی نے الٰہی سائنس کے اِس فنی ایل میں اْسے روحانی قوت بخشی۔پھر روحانی مبشر نے کہا: ”مجھے جانے دے کہ پو پھٹ چلی“؛ یعنی، تجھ پر سچائی اور محبت کی روشنی پڑے۔ مگر اجداد نے، اْسکی غلطی کو سمجھتے ہوئے اور اْس کی مدد کی ضرورت کو جانتے ہوئے، اِس جلالی نور پر اْس کی گرفت کو ڈھیلا نہیں کیا جب تک کہ اْس کی فطرت بدل نہ گئی۔ جب یعقوب سے پوچھا گیا، ”تیرا نام کیا ہے؟“تو اْس نے سیدھا جواب دیا؛ اور پھر اْس کا نام اسرائیل میں تبدیل ہوگیا، کیونکہ ”ایک شہزادہ ہوتے ہوئے“ اْس نے ”آدمیوں اور خدا کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب آیا۔“پھر یعقوب نے اپنے چھڑانے والے سے سوال کیا، ”مَیں تیری منت کرتا ہوں تْو مجھے اپنا نام بتا دے؛“ مگر اِس استدعا کو روک دیا گیا، کیونکہ قاصد بدنی ہستی نہیں، بلکہ ایک بے نام، انسان کے ساتھ الٰہی محبت کی غیر جسمانی تفویض تھا، زبور نویس کے الفاظ کے مطابق، جس نے اْس کی روح کو بحال کیا، اْسے ہستی کا روحانی فہم بخشا اور اْس کے جسمانی فہم کو رد کیا۔
پس یعقوب کی جدوجہد کا نتیجہ نکلا۔ اْس نے روح اور روحانی قوت کے فہم کے ساتھ مادی غلطی کو فتح کیا۔ اس نے اْس آدمی کو بدل کر رکھ دیا۔ اْسے مزید یعقوب نہ کہا گیا، بلکہ اسرائیل، خدا کا شہزادہ، یا خدا کا سپاہی کہا گیا جس نے اچھی لڑائی لڑی تھی۔
Jacob was alone, wrestling with error, — struggling with a mortal sense of life, substance, and intelligence as existent in matter with its false pleasures and pains, — when an angel, a message from Truth and Love, appeared to him and smote the sinew, or strength, of his error, till he saw its unreality; and Truth, being thereby understood, gave him spiritual strength in this Peniel of divine Science. Then said the spiritual evangel: "Let me go, for the day breaketh;" that is, the light of Truth and Love dawns upon thee. But the patriarch, perceiving his error and his need of help, did not loosen his hold upon this glorious light until his nature was transformed. When Jacob was asked, "What is thy name?" he straightway answered; and then his name was changed to Israel, for "as a prince" had he prevailed and had "power with God and with men." Then Jacob questioned his deliverer, "Tell me, I pray thee, thy name;" but this appellation was withheld, for the messenger was not a corporeal being, but a nameless, incorporeal impartation of divine Love to man, which, to use the word of the Psalmist, restored his Soul, — gave him the spiritual sense of being and rebuked his material sense.
The result of Jacob's struggle thus appeared. He had conquered material error with the understanding of Spirit and of spiritual power. This changed the man. He was no longer called Jacob, but Israel, — a prince of God, or a soldier of God, who had fought a good fight.
خدا پر ہمارے ایمان کی ہر آزمائش ہمیں مضبوط کرتی ہے۔ مادی حالت کا روح کے باعث زیر ہونا جتنا زیادہ مشکل لگے گا اْتنا ہی ہمار ایمان مضبوط تر اور ہماری محبت پاک ترین ہونی چاہئے۔ پولوس رسول کہتا ہے: ”محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کردیتی ہے۔۔۔ کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیں ہوا۔“
Every trial of our faith in God makes us stronger. The more difficult seems the material condition to be overcome by Spirit, the stronger should be our faith and the purer our love. The Apostle John says: "There is no fear in Love, but perfect Love casteth out fear. ... He that feareth is not made perfect in Love."
ہر دور اور ہر حال میں، بدی پر اچھائی کے ساتھ قابو پائیں۔ خود کو جانیں تو خدا بدی پر فتح مندی کے لئے حکمت اور موقع فراہم کرے گا۔ محبت کے لباس میں ملبوس ہوں، تو انسانی نفرت آپ تک پہنچ نہیں سکتی۔
At all times and under all circumstances, overcome evil with good. Know thyself, and God will supply the wisdom and the occasion for a victory over evil. Clad in the panoply of Love, human hatred cannot reach you.
صبر، حلیمی، محبت اور نیک کاموں میں ظاہر ہونے والے فضل میں ترقی کرنے کی پْر جوش خواہش کے لئے ہمیں سب سے زیادہ دعا کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے استاد کے حکموں پر عمل کرنا اور اْس کے نمونے کی پیروی کرناہم پر اْس کا مناسب قرض ہے اور جو کچھ اْس نے کیا ہے اْس کی شکر گزاری کا واحد موزوں ثبوت ہے۔باوفا اور دلی شکرگزاری کو ظاہر کرنے کے لئے بیرونی عبادت خود میں ہی کافی نہیں ہے، کیونکہ اْس نے کہا، ”اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو۔“
ہمیشہ اچھے بنے رہنے کی عادتاً جدوجہد دائمی دعا ہے۔اس کے مقاصد اْن برکات سے ظاہر ہوتے ہیں جو یہ لاتی ہے، وہ برکات جنہیں اگر ناقابل سماعت الفاظ میں بھی نہ سْنا جائے، محبت کے ساتھ حصہ دار بننے کے لئے ہماری قابلیت کی تصدیق کرتی ہیں۔
محض یہ کہنے سے کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں ہمیں خدا سے محبت نہیں ہوجائے گی؛ بلکہ بہتر اور پاک تر ہونے کی خواہش کرنے سے، روزانہ کی چوکسی اور الٰہی کردار میں مزید ضم ہونے کی کوشش کرنے سے ہم خود کو نئی انسانیت میں تبدیل کریں گے اور ڈھالیں گے، جب تک کہ ہم اْس کی شبیہ میں بیدار نہیں ہوجاتے۔
What we most need is the prayer of fervent desire for growth in grace, expressed in patience, meekness, love, and good deeds. To keep the commandments of our Master and follow his example, is our proper debt to him and the only worthy evidence of our gratitude for all that he has done. Outward worship is not of itself sufficient to express loyal and heartfelt gratitude, since he has said: "If ye love me, keep my commandments."
The habitual struggle to be always good is unceasing prayer. Its motives are made manifest in the blessings they bring, — blessings which, even if not acknowledged in audible words, attest our worthiness to be partakers of Love.
Simply asking that we may love God will never make us love Him; but the longing to be better and holier, expressed in daily watchfulness and in striving to assimilate more of the divine character, will mould and fashion us anew, until we awake in His likeness.
خود پرستی ایک مضبوط جسم سے زیادہ غیر شفاف ہے۔ صابر خدا کی صابر تابعداری میں آئیے غلطی، خود ارادی، خود جوازی اور خود پرستی کے سخت پتھر کو محبت کے محلول کے ساتھ تحلیل کرنے کے لئے جدو جہد کریں، جو روحانیت کے خلاف جنگ کرتا اوروہ گناہ اور موت کا قانون ہے۔
Self-love is more opaque than a solid body. In patient obedience to a patient God, let us labor to dissolve with the universal solvent of Love the adamant of error, — self-will, self-justification, and self-love, — which wars against spirituality and is the law of sin and death.
اگر خود غرضی نے ہمدردی کو جگہ دے دی ہے، تو ہم ہمارے پڑوسی کے ساتھ بے غرضی سے سلوک رکھیں گے، اور اپنے لعنت بھیجنے والوں کے لئے برکت چاہیں گے؛ لیکن ہم اِس عظیم فرض تک محض یہ مانگنے سے کبھی نہیں پہنچ سکتے کہ یہ بس ہو جائے۔ ہمارے ایمان اور امید کے پھل کا مزہ لینے سے پہلے ہمیں ایک صلیب کو اْٹھانا ہوگا۔
If selfishness has given place to kindness, we shall regard our neighbor unselfishly, and bless them that curse us; but we shall never meet this great duty simply by asking that it may be done. There is a cross to be taken up before we can enjoy the fruition of our hope and faith.
انسانی فہم کے لئے ایک بڑا معجزہ الٰہی محبت ہے، اور وجودیت کی سب سے بڑی ضرورت اْس چیز کا حقیقی تصور پانا ہے جو انسان کے اندر آسمان کی بادشاہی کو تعمیر کرتی ہے۔یہ مقصد تب تک حاصل نہیں کیا جاتا جب تک ہم اپنے پڑوسی سے نفرت کرتے یا کسی ایسے شخص سے متعلق جھوٹے اندازے کو قبول کرتے ہیں جسے خدا کے کلام کی آواز بننے کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔
The great miracle, to human sense, is divine Love, and the grand necessity of existence is to gain the true idea of what constitutes the kingdom of heaven in man. This goal is never reached while we hate our neighbor or entertain a false estimate of anyone whom God has appointed to voice His Word.
کرسچن سائنس انسان کو خواہشات کا مالک بننے، شفقت کے ساتھ نفرت کو ایک تعطل میں روکنے، پاکیزگی کے ساتھ شہوت پر، خیرات کے ساتھ بدلے پرفتح پانے اور ایمانداری کے ساتھ فریب پر قابو پانے کا حکم دیتی ہے۔اگر آپ صحت، خوشی اور کامیابی کے خلاف سازشیوں کی ایک فوج نہیں لانا چاہتے تو اِن غلطیوں کو ابتدائی مراحل میں ہی تلف کر دیں۔
Christian Science commands man to master the propensities, — to hold hatred in abeyance with kindness, to conquer lust with chastity, revenge with charity, and to overcome deceit with honesty. Choke these errors in their early stages, if you would not cherish an army of conspirators against health, happiness, and success.
اگر ہم نے روح کو پورا اختیار سنبھالنے کی اجازت دینے کے لئے مادی فہم کی غلطیوں پر مناسب طور سے فتح پا لی ہے تو ہم گناہ سے نفرت کریں گے اور اِسے ہر صورت میں رد کریں گے۔صرف اسی طرح سے ہم ہمارے دشمنوں کے لئے برکت چاہ سکتے ہیں، اگرچہ ہوسکتا ہے وہ ہمارے الفاظ کو نہ سمجھیں۔
If we have triumphed sufficiently over the errors of material sense to allow Soul to hold the control, we shall loathe sin and rebuke it under every mask. Only in this way can we bless our enemies, though they may not so construe our words.
شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔محبت سچائی کی الطار پر بڑی راہبہ ہے۔ فانی عقل کے پانیوں پر چلنے اور کامل نظریہ تشکیل دینے کے لئے صبر کے ساتھ الٰہی محبت کا انتظار کریں۔
Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action. Love is priestess at the altar of Truth. Wait patiently for divine Love to move upon the waters of mortal mind, and form the perfect concept.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔