اتوار یکم مارچ، 2026
کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔
“For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.”
1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔
16۔ اور وہ ناصرت میں آیا جہاں اْس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادتخانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔
17۔ اور یسعیا ہ نبی کی کتاب اْس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اْس نے وہ مقام نکالا جہاں لکھا تھا کہ۔
18۔ خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اِس لئے کہ اْس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لئے مسح کیا۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔
19۔ اور خداوند کے سال مقبول کی منادی کروں۔
20۔ پھر وہ کتاب بند کر کے اور خادم کو واپس دے کر بیٹھ گیا اور جتنے عبادتخانہ میں تھے سب کی آنکھیں اْس پر لگی تھیں۔
21۔ وہ اْن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا۔
1. And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,
16. And he came to Nazareth, where he had been brought up: and, as his custom was, he went into the synagogue on the sabbath day, and stood up for to read.
17. And there was delivered unto him the book of the prophet Esaias. And when he had opened the book, he found the place where it was written,
18. The Spirit of the Lord is upon me, because he hath anointed me to preach the gospel to the poor; he hath sent me to heal the brokenhearted, to preach deliverance to the captives, and recovering of sight to the blind, to set at liberty them that are bruised,
19. To preach the acceptable year of the Lord.
20. And he closed the book, and he gave it again to the minister, and sat down. And the eyes of all them that were in the synagogue were fastened on him.
21. And he began to say unto them, This day is this scripture fulfilled in your ears.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
1۔ دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہوتا ہے۔ مَیں نے اپنی روح اْس پر ڈالی۔وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔
5۔ جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اْس میں سے نکلتا ہے پھیلایا اور جو اْس کے باشندوں کو سانس اور اْس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔
6۔ مَیں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا مَیں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا۔
7۔ کہ تْو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور اْن کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔
1 Behold my servant, whom I uphold; mine elect, in whom my soul delighteth; I have put my spirit upon him: he shall bring forth judgment to the Gentiles.
5 Thus saith God the Lord, he that created the heavens, and stretched them out; he that spread forth the earth, and that which cometh out of it; he that giveth breath unto the people upon it, and spirit to them that walk therein:
6 I the Lord have called thee in righteousness, and will hold thine hand, and will keep thee, and give thee for a covenant of the people, for a light of the Gentiles;
7 To open the blind eyes, to bring out the prisoners from the prison, and them that sit in darkness out of the prison house.
6۔ایک آدمی یوحنا نام آموجود ہوا جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔
7۔ یہ گواہی کے لئے آیا کہ نور کی گواہی دے تاکہ سب اُس کے وسیلہ سے ایمان لائیں۔
8۔وہ خود تو نور نہ تھا مگرنور کی گواہی دینے آیا تھا۔
9۔حقیقی نور جو ہر ایک آدمی کو روشن کرتا ہے دنیا میں آنے کو تھا۔
10۔وہ دنیا میں تھا اور دنیا اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئی اور دنیا نے اُسے نہ پہچانا۔
11۔وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہ کیا۔
12۔لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔
13۔ وہ نہ خون سے جسم کی خواہش سے نہ انسان کے ارادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے۔
14۔ اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا (اور ہم نے اْس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال)۔
16۔ کیونکہ اْس کی معموری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل۔
17۔ اس لئے کہ شریعت تو موسیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سچائی یسوع مسیح کی معرفت پہنچی۔
6 There was a man sent from God, whose name was John.
7 The same came for a witness, to bear witness of the Light, that all men through him might believe.
8 He was not that Light, but was sent to bear witness of that Light.
9 That was the true Light, which lighteth every man that cometh into the world.
10 He was in the world, and the world was made by him, and the world knew him not.
11 He came unto his own, and his own received him not.
12 But as many as received him, to them gave he power to become the sons of God, even to them that believe on his name:
13 Which were born, not of blood, nor of the will of the flesh, nor of the will of man, but of God.
14 And the Word was made flesh, and dwelt among us, (and we beheld his glory, the glory as of the only begotten of the Father,) full of grace and truth.
16 And of his fulness have all we received, and grace for grace.
17 For the law was given by Moses, but grace and truth came by Jesus Christ.
13۔ اْس وقت یسوع گلیل سے یردن کے کنارے یوحنا کے پاس اْس سے بپتسمہ لینے آیا۔
14۔ مگر یوحنا یہ کہہ کر اْسے منع کرنے لگا کہ مَیں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تْو میرے پاس آیا ہے؟
15۔ یسوع نے اْسے جواب دیا اب تْو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔ اِس پر اْس نے ہونے دیا۔
16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اْس کے لئے آسمان کھْل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اْترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔
17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔
13 Then cometh Jesus from Galilee to Jordan unto John, to be baptized of him.
14 But John forbad him, saying, I have need to be baptized of thee, and comest thou to me?
15 And Jesus answering said unto him, Suffer it to be so now: for thus it becometh us to fulfil all righteousness. Then he suffered him.
16 And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:
17 And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.
23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔
24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بد روحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔
23 And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.
24 And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.
1۔ وہ اِس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔
2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔
3۔ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اْن ہی کی ہے۔
4۔ مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔
5۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔
6۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہوں گے۔
7۔ مبارک ہیں وہ جو رحم دل ہیں کیونکہ اْن پر رحم کیا جائے گا۔
8۔ مبارک ہیں وہ جو پاکدل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔
9۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔
10۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب سے ستائے گئے کیونکہ آسمان کی بادشاہی اْن ہی کی ہے۔
11۔ جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہو گے۔
12۔ خوشی کرنا اور نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے اِس لئے کہ لوگوں نے اْن نبیوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔
17۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔
18۔ کیونکہ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔
1 And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:
2 And he opened his mouth, and taught them, saying,
3 Blessed are the poor in spirit: for theirs is the kingdom of heaven.
4 Blessed are they that mourn: for they shall be comforted.
5 Blessed are the meek: for they shall inherit the earth.
6 Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness: for they shall be filled.
7 Blessed are the merciful: for they shall obtain mercy.
8 Blessed are the pure in heart: for they shall see God.
9 Blessed are the peacemakers: for they shall be called the children of God.
10 Blessed are they which are persecuted for righteousness’ sake: for theirs is the kingdom of heaven.
11 Blessed are ye, when men shall revile you, and persecute you, and shall say all manner of evil against you falsely, for my sake.
12 Rejoice, and be exceeding glad: for great is your reward in heaven: for so persecuted they the prophets which were before you.
17 Think not that I am come to destroy the law, or the prophets: I am not come to destroy, but to fulfil.
18 For verily I say unto you, Till heaven and earth pass, one jot or one tittle shall in no wise pass from the law, till all be fulfilled.
2۔ اور یوحنا نے قید خانہ میں مسیح کے کاموں کا حال سن کر اپنے دو شاگردوں کی معرفت اْس سے پْچھوا بھیجا۔
3۔ کہ آنے والا تْو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں؟
4۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا کہ جو کچھ تم سنتے اور دیکھتے ہو جا کر یوحنا سے بیان کرو۔
5۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سنتے اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔
6۔ اور مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔
2 Now when John had heard in the prison the works of Christ, he sent two of his disciples,
3 And said unto him, Art thou he that should come, or do we look for another?
4 Jesus answered and said unto them, Go and shew John again those things which ye do hear and see:
5 The blind receive their sight, and the lame walk, the lepers are cleansed, and the deaf hear, the dead are raised up, and the poor have the gospel preached to them.
6 And blessed is he, whosoever shall not be offended in me.
30۔میں تم سے سچ کہتا ہوں،
31۔آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں نہ ٹلیں گی۔
32۔ لیکن اْس دن یا اْس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے، نہ بیٹا مگر باپ۔
33۔ خبردار! جاگتے اور دعا کرتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔
34۔ اْس آدمی کا سا حال ہے جو پردیس گیا اور اْس نے گھر سے رخصت ہوتے وقت اپنے نوکروں کو اِختیار دیا یعنی ہر ایک کو اْس کا کام بتا دیا اور دربان کو حکم دیا کہ جاگتا رہے۔
35۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا۔ شام کو یا آدھی رات کو یا مرغ کے بانگ دیتے وقت یا صبح کو۔
36۔ ایسا نہ ہوکہ اچانک آکر وہ تم کو سوتے پائے۔
37۔اور جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں وہی سب سے کہتا ہوں کہ جاگتے رہو۔
30 Verily I say unto you,
31 Heaven and earth shall pass away: but my words shall not pass away.
32 But of that day and that hour knoweth no man, no, not the angels which are in heaven, neither the Son, but the Father.
33 Take ye heed, watch and pray: for ye know not when the time is.
34 For the Son of man is as a man taking a far journey, who left his house, and gave authority to his servants, and to every man his work, and commanded the porter to watch.
35 Watch ye therefore: for ye know not when the master of the house cometh, at even, or at midnight, or at the cockcrowing, or in the morning:
36 Lest coming suddenly he find you sleeping.
37 And what I say unto you I say unto all, Watch.
20۔۔۔۔اور دیکھو میں دنیا کے آ خر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔ آمین۔
20 …and, lo, I am with you alway, even unto the end of the world. Amen.
یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔یسوع نے دلیری سے حواس کے تسلیم شْدہ ثبوت کے خلاف، منافقانہ عقائد اور مشقوں کے خلاف کام کیا، اور اْس نے اپنی شفائیہ طاقت کی بدولت اپنے سبھی حریفوں کی تردید کی۔
Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility. Jesus acted boldly, against the accredited evidence of the senses, against Pharisaical creeds and practices, and he refuted all opponents with his healing power.
سچائی کے انفرادی نمونے کے طور پر، یسوع مسیح ربونی غلطی اور تمام گناہ، بیماری اور موت کو رد کرنے آیا، تاکہ سچائی اور زندگی کی راہ ہموار کرے۔روح کے پھلوں اور مادی فہم، سچائی اور غلطی کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے، یہ نمونہ یسوع کی پوری زمینی زندگی کے دوران ظاہر ہوتا رہا۔
As the individual ideal of Truth, Christ Jesus came to rebuke rabbinical error and all sin, sickness, and death, — to point out the way of Truth and Life. This ideal was demonstrated throughout the whole earthly career of Jesus, showing the difference between the offspring of Soul and of material sense, of Truth and of error.
یسوع کے روحانی اصل اور سمجھ نے اْسے ہستی کے حقائق کو ظاہر کرنے کے، ناقابلِ تردید طور پر یہ ثابت کرنے کے قابل بنایا کہ کیسے روحانی سچائی مادی غلطی کو تباہ کرتی، بیماری کو ٹھیک کرتی اور موت پر فتح پاتی ہے۔ یسوع کے خدائی تصور نے اِس سچائی کی طرف اشارہ کیا اور تخلیق کی ایک مثال پیش کی۔ یسوع کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ وہ دیگر تمام زمینی شخصیات سے زیادہ روحانی تھا۔
انسانی شبیہ اپناتے ہوئے (یعنی جیسا کہ فانی نظر کو دکھائی دیتا ہے)، انسانی ماں کے پیٹ میں حمل لیتے ہوئے، یسوع روح اور جسم کے مابین، سچائی اور غلطی کے مابین درمیانی تھا۔ الٰہی سائنس کی راہ کو واضح کرتے اور ظاہر کرتے ہوئے، وہ اْن سب کے لئے نجات کی راہ بن گیا جنہوں نے اْس کے کلام کو قبول کیا۔ بشر اْس سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ بدی سے کیسے بچا جائے۔ حقیقی انسان کا سائنس کی بدولت اپنے خالق سے تعلق استوار کرتے ہوئے، بشر کو صرف گناہ سے دور ہونے اور مسیح، یعنی حقیقی انسان اور خدا کے ساتھ اْس کے تعلق کو پانے اور الٰہی فرزندگی کو پہچاننے کے لئے فانی خودی سے نظر ہٹانے کی ضرورت ہے۔ یسوع کے ذریعے بدن پر روح کی طاقت کو ثابت کرنے کے لئے مسیح یعنی سچائی کو ظاہر کیا گیا تھا، یہ دکھانے کے لئے کہ انسانی عقل اور بدن پر اِس کے اثرات کی بدولت سچائی کو،بیماری سے شفا دیتے اور گناہ کو نیست کرتے ہوئے، ظاہر کیا جاتا ہے۔
Jesus' spiritual origin and understanding enabled him to demonstrate the facts of being, — to prove irrefutably how spiritual Truth destroys material error, heals sickness, and overcomes death. The divine conception of Jesus pointed to this truth and presented an illustration of creation. The history of Jesus shows him to have been more spiritual than all other earthly personalities.
Wearing in part a human form (that is, as it seemed to mortal view), being conceived by a human mother, Jesus was the mediator between Spirit and the flesh, between Truth and error. Explaining and demonstrating the way of divine Science, he became the way of salvation to all who accepted his word. From him mortals may learn how to escape from evil. The real man being linked by Science to his Maker, mortals need only turn from sin and lose sight of mortal selfhood to find Christ, the real man and his relation to God, and to recognize the divine sonship. Christ, Truth, was demonstrated through Jesus to prove the power of Spirit over the flesh, — to show that Truth is made manifest by its effects upon the human mind and body, healing sickness and destroying sin.
اپنے کاموں کو اپنے الفاظ کی نسبت زیادہ ترجیح دیتے ہوئے یسوع نے جو کہا اْسے اظہار کی بدولت پورا کیا۔جو اْس نے سکھایا اْسے ثابت کیا۔ یہی مسیحت کی سائنس ہے۔ یسوع نے اْس اصول کو، جو بیمار کو شفا دیتا اور غلطی کو باہر نکالتا ہے، الٰہی ثابت کیا۔تاہم اْس کے چند طالب علم ہی اْس کی تعلیمات اور اْن کے جلالی ثبوتوں کو سمجھ پائے، جیسے کہ، زندگی، حق اور محبت (اِس غیر تسلیم شدہ سائنس کا اصول) ساری غلطی، بدی، بیماری اور موت کو نیست کرتا ہے۔
Jesus established what he said by demonstration, thus making his acts of higher importance than his words. He proved what he taught. This is the Science of Christianity. Jesus proved the Principle, which heals the sick and casts out error, to be divine. Few, however, except his students understood in the least his teachings and their glorious proofs, — namely, that Life, Truth, and Love (the Principle of this unacknowledged Science) destroy all error, evil, disease, and death.
یسوع ناصری دنیا میں قدم رکھنے والا سب سے زیادہ سائنسی شخص تھا۔ اْس نے مادی چیزوں کے نیچے غوطہ لگایا اور روحانی وجہ کو پایا۔
Jesus of Nazareth was the most scientific man that ever trod the globe. He plunged beneath the material surface of things, and found the spiritual cause.
پہاڑ پر خطاب اس سائنس کا نچوڑ ہے، اور ابدی زندگی، نہ کہ یسوع کی موت، اس کا نتیجہ ہے۔
The Sermon on the Mount is the essence of this Science, and the eternal life, not the death of Jesus, is its outcome.
ہمارے مالک نے محض نظریے، عقیدے یا ایمان کی تعلیم نہیں دی۔یہ الٰہی اصول کی مکمل ہستی تھی جس کی اْس نے تعلیم دی اور مشق کی۔ مسیحیت کے لئے اْس کا ثبوت مذہب اور عبادت کا کوئی نظام یا شکل نہیں تھی، بلکہ یہ کرسچن سائنس تھی جو زندگی اور محبت کی ہم آہنگی پر عمل کرتی ہے۔ یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کے لئے ایک پیغام بھیجا جس کا مقصد ایک سوال سے کہیں بڑھ کر یہ ثابت کرنا تھا کہ مسیح آچکا تھا: ”جو کچھ تم دیکھتے اور سْنتے ہو جا کر یوحنا سے بیان کردو۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سْنتے ہیں اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔“دوسرے الفاظ میں: یوحنا کو بتا دو کہ الٰہی قوت کا اظہار کیا ہے؛ تو وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ مسیحائی کام میں خدا ایک طاقت ہے۔
Our Master taught no mere theory, doctrine, or belief. It was the divine Principle of all real being which he taught and practised. His proof of Christianity was no form or system of religion and worship, but Christian Science, working out the harmony of Life and Love. Jesus sent a message to John the Baptist, which was intended to prove beyond a question that the Christ had come: "Go your way, and tell John what things ye have seen and heard; how that the blind see, the lame walk, the lepers are cleansed, the deaf hear, the dead are raised, to the poor the gospel is preached." In other words: Tell John what the demonstration of divine power is, and he will at once perceive that God is the power in the Messianic work.
اگرچہ گناہ اور بیماری پر اپنا اختیار ظاہر کرتے ہوئے، عظیم معلم نے کسی صورت دوسروں کو اْن کے تقویٰ کے مطلوبہ ثبوت دینے میں مدد نہیں کی۔ اْس نے اْن کی ہدایت کے لئے کام کیا، کہ وہ اِس طاقت کا اظہار اْسی طرح کریں جیسے اْس نے کیا اور اِس کے الٰہی اصول کو سمجھیں۔ استاد پر مکمل ایمان اور وہ سارا جذباتی پیار جو ہم اْس پر نچھاور کر سکتے ہیں، صرف یہی ہمیں اْس کی تقلید کرنے والے نہیں بنائیں گے۔ ہمیں جا کر اْسی کی مانند کام کرنا چاہئے، وگرنہ ہم اْن بڑی برکات کو فروغ نہیں دے رہے جو ہمارے مالک نے ہمیں عطا کرنے کے لئے کام کیا اور تکلیف اٹھائی۔
Though demonstrating his control over sin and disease, the great Teacher by no means relieved others from giving the requisite proofs of their own piety. He worked for their guidance, that they might demonstrate this power as he did and understand its divine Principle. Implicit faith in the Teacher and all the emotional love we can bestow on him, will never alone make us imitators of him. We must go and do likewise, else we are not improving the great blessings which our Master worked and suffered to bestow upon us.
اْس کا کامل نمونہ ہم سب کی نجات کے لئے تھا، مگر صرف وہ کام کرنے کے وسیلہ سے جو اْس نے کئے اور دوسروں کو اْن کی تعلیم دی۔شفا کے لئے اْس کا مقصد صرف صحت کو بحال کرنا نہیں تھا بلکہ اپنا الٰہی اصول ظاہر کرنا بھی تھا۔ جو کچھ اْس نے کیا اور کہا اْس میں وہ خدا سے، سچائی اور محبت سے متاثر تھا۔
His consummate example was for the salvation of us all, but only through doing the works which he did and taught others to do. His purpose in healing was not alone to restore health, but to demonstrate his divine Principle. He was inspired by God, by Truth and Love, in all that he said and did.
یسوع نے کہا (یوحنا 8 باب51 آیت)، ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابدتک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ یہ بیان روحانی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وجودیت کا کرشمہ بھی شامل ہے۔ یسوع نے اس کا اظہار مرنے والے کو شفا دیتے اور مردہ کو زندہ کرتے ہوئے کیا۔ فانی عقل کو غلطی سے دور ہونا چاہئے، خود کو اس کے کاموں سے الگ رکھنا چاہئے تو لافانی جوان مردی، مثالی مسیح، غائب ہو جائے گا۔ مادے کی بجائے روح پر انحصار کرتے ہوئے ایمان کو اپنی حدود کو وسیع کرنا اور اپنی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہئے۔ جب انسان موت پر اپنے یقین کو ترک کر دیتا ہے،وہ مزید تیزی سے خدا، زندگی اور محبت کی جانب بڑھے گا۔
Jesus said (John viii. 51), "If a man keep my saying, he shall never see death." That statement is not confined to spiritual life, but includes all the phenomena of existence. Jesus demonstrated this, healing the dying and raising the dead. Mortal mind must part with error, must put off itself with its deeds, and immortal manhood, the Christ ideal, will appear. Faith should enlarge its borders and strengthen its base by resting upon Spirit instead of matter. When man gives up his belief in death, he will advance more rapidly towards God, Life, and Love.
یسوع کا اقرار کرنے والے اْس کے پیروکار اْس کی راہوں کی پیروی کرنا اور اْس کے بڑے کاموں کی نقل کرنا کب سیکھیں گے؟وہ لوگ جنہوں نے اْس راستباز شخص کی شہادت حاصل کی وہ خوش دلی سے اْس کے پاک مستقبل کو ایک مسخ شدہ نظریاتی مقام میں تبدیل کردیں گے۔خدا کرے کہ آج کے مسیحی اِس چال چلن کی مزید عملی اہمیت کو قبول کریں!یہ ممکن ہے، ہاں یہ ہر بچے، مرد اور عورت کی ذمہ داری اور استحقاق ہے کہ وہ زندگی اور سچائی، صحت اور پاکیزگی کے اظہار کے وسیلہ مالک کے نمونے کی کسی حد تک پیروی کریں۔ مسیحی لوگ اْس کے پیروکار ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر کیا وہ اْس کی پیروی اْسی طرح کرتے ہیں جیسے اْس نے حکم دیا ہے؟اِن ناگزیر احکامات کو سنیں: ”پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے!“”تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو!“ ”بیمار کو شفا دو!“
When will Jesus' professed followers learn to emulate him in all his ways and to imitate his mighty works? Those who procured the martyrdom of that righteous man would gladly have turned his sacred career into a mutilated doctrinal platform. May the Christians of to-day take up the more practical import of that career! It is possible, — yea, it is the duty and privilege of every child, man, and woman, — to follow in some degree the example of the Master by the demonstration of Truth and Life, of health and holiness. Christians claim to be his followers, but do they follow him in the way that he commanded? Hear these imperative commands: "Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect!" "Go ye into all the world, and preach the gospel to every creature!" "Heal the sick!"
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔