اتوار 12 اپریل، 2026



مضمون۔ کیا گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں؟

SubjectAre Sin, Disease, And Death Real?

سنہری متن: زبور 42:11 آیت

خدا سے اْمید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رونق اور میرا خدا ہے، میں پھر اْس کی ستائش کروں گا۔



Golden Text: Psalm 42 : 11

Hope thou in God: for I shall yet praise him, who is the health of my countenance, and my God.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: زبور103: 2 تا6، 10، 11، 17، 18 آیات


2۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

5۔ وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔ تْو عْقاب کی مانند از سرِ نو جوان ہوتا ہے۔

6۔ خداوند سب مظلوموں کے لئے صداقت اور عدل کے کام کرتا ہے۔

10۔ اْس نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کیا اور ہماری بدکاریوں کے مطابق ہمیں بدلہ نہیں دیا۔

11۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اْسی قدر اْس کی شفقت اْن پر ہے جو اْس سے ڈرتے ہیں۔

17۔ لیکن خداوند کی شفقت اْس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک اور اْس کی صداقت نسل در نسل ہے۔

18۔ یعنی اْن پر جو اْس کے عہد پر قائم رہتے ہیں۔ اور اْس کے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔

Responsive Reading: Psalm 103 : 2-6, 10, 11, 17, 18

2.     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3.     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4.     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

5.     Who satisfieth thy mouth with good things; so that thy youth is renewed like the eagle’s.

6.     The Lord executeth righteousness and judgment for all that are oppressed.

10.     He hath not dealt with us after our sins; nor rewarded us according to our iniquities.

11.     For as the heaven is high above the earth, so great is his mercy toward them that fear him.

17.     The mercy of the Lord is from everlasting to everlasting upon them that fear him, and his righteousness unto children’s children;

18.     To such as keep his covenant, and to those that remember his commandments to do them.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ خروج 15 باب 26 آیت (میں ہوں)

26۔میں خداوند تیرا شافی ہوں۔

1. Exodus 15 : 26 (I am)

26     I am the Lord that healeth thee.

2 . ۔ امثال 4 باب 20 تا 22 آیات

20۔ اے میرے بیٹے! میری باتوں پر توجہ کر۔ میرے کلام پر کان لگا۔

21۔ اْس کو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دے۔ اْس کو اپنے دل میں رکھ۔

22۔ کیونکہ جو اْس کو پالیتے ہیں یہ اْن کی حیات اور اْن کے سارے جسم کی صحت ہے۔

2. Proverbs 4 : 20-22

20     My son, attend to my words; incline thine ear unto my sayings.

21     Let them not depart from thine eyes; keep them in the midst of thine heart.

22     For they are life unto those that find them, and health to all their flesh.

3 . ۔ امثال 3 باب1 (بھول) تا 8 آیات

1۔ اے میرے بیٹے!میری تعلیم کو فراموش نہ کربلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔

2۔ کیونکہ تْو اِن سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کرے گا۔

3۔ شفقت اور سچائی تجھ سے جدا نہ ہوں تْو اْن کو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا۔

4۔ یوں تْو خدا اور انسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کرے گا۔

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

6۔ خداوند سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ میں پست ہو گیا تھا اْسی نے بچالیا۔

7۔ اے میری جان پھر مطمئن ہو کیونکہ خداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔

8۔اس لئے کہ تْو نے میری جان کو موت سے،میری آنکھوں کو آنسوبہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔

3. Proverbs 3 : 1 (forget)-8

1 …forget not my law; but let thine heart keep my commandments:

2     For length of days, and long life, and peace, shall they add to thee.

3     Let not mercy and truth forsake thee: bind them about thy neck; write them upon the table of thine heart:

4     So shalt thou find favour and good understanding in the sight of God and man.

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

7     Be not wise in thine own eyes: fear the Lord, and depart from evil.

8     It shall be health to thy navel, and marrow to thy bones.

4 . ۔ لوقا 4 باب 1 (تا پہلی،) آیت

1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔

4. Luke 4 : 1 (to 1st ,)

1     And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,

5 . ۔ لوقا 7 باب 2 تا 16، 36 تا50 آیات

2۔ اور کسی صوبیدار کا نوکر جو اْس کو عزیز تھا بیماری سے مرنے کو تھا۔

3۔ اور اْس نے یسوع کی خبر سن کر یہودیوں کے کئی بزرگوں کو اْس کے پاس بھیجا اور اْس سے درخواست کی کہ آکر میرے نوکر کو اچھا کر۔

4۔ وہ یسوع کے پاس آئے اور اْس کی بڑی مِنت کر کے کہنے لگے کہ وہ اِس لائق ہے کہ تو اْس کی خاطر یہ کرے۔

5۔کیونکہ وہ ہماری قوم سے محبت رکھتا ہے اور ہمارے عبادت خانہ کو اْسی نے بنوایا۔

6۔ یسوع اْس کے ساتھ چلا مگر جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو صوبیدار نے بعض دوستوں کی معرفت اْسے یہ کہلا بھیجا کہ اے خداوند تکلیف نہ کر کیونکہ مَیں اِس لائق نہیں کہ تْو میری چھت کے نیچے آئے۔

7۔ اسی سبب سے مَیں نے اپنے آپ کو تیرے پاس آنے کے لائق نہ سمجھا بلکہ زبان سے کہہ دے تو میرا خادم شفا پائے گا۔

8۔ کیونکہ مَیں بھی دوسروں کے اختیار میں ہوں اور سپاہی میرے ماتحت ہیں اور جب ایک سے کہتا ہوں جا تو وہ جاتا ہے اور دوسرے سے کہ آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔

9۔ یسوع نے یہ سن کر اْس پر تعجب کیا اور پھر کر بھیڑ سے جو اْس کے پیچھے آتی تھی کہا مَیں تم سے کہتا ہوں کہ مَیں نے ایسا ایمان اسرائیل میں بھی نہیں پایا۔

10۔ اور بھیجے ہوئے لوگوں نے واپس آکر اْس نوکر کو تندرست پایا۔

11۔ تھوڑے عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ وہ نائین نام کے ایک شہر کو گیا اور اْس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اْس کے ہمراہ تھے۔

12۔ جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھو ایک مردے کو باہر لئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھااور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اْس کے ساتھ تھے۔

13۔ اْسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اور اْس سے کہا مت رو۔

14۔ پھر اْس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اْس نے کہا اے جوان! مَیں تجھ سے کہتا ہوں اْٹھ۔

15۔ وہ مردہ اْٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اْس نے اْسے اْس کی ماں کو سونپ دیا۔

16۔ اور سب پر دہشت چھا گئی اور خدا کی تمجید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہوا ہے اور خدا نے اپنی امت پر توجہ کی ہے۔

36۔ اورکسی فریسی نے اُس سے دخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پس وہ اُس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بیٹھا۔

37۔ تو دیکھو ایک بدچلن عورت جو اُس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے سنگ مر مر کے عطردان میں عطر لائی۔

38۔ اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہوکر اُس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بہت چومے اور ان پر عطر ڈالا۔

39۔ اس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چھوتی ہے وہ کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔

40۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اے شمعون مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا اے استاد کہہ۔

41۔ کسی ساہوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانچ سو دینار کا دوسرا پچاس کا۔

42۔ جب ان کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اس نے دونوں کو بخش دیا۔ پس اُن میں سے کون اُس سے زیادہ محبت رکھے گا؟

43۔ شمعون نے جواب میں اُس سے کہا میری دانست میں وہ جسے اُس نے زیادہ بخشا۔ اُس نے اُس سے کہا تو نے ٹھیک فیصلہ کیا۔

44۔ اور اُس عورت کی طرف پھر کر اُس نے شمعون سے کہا کیا تو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ میں تیرے گھر میں آیا۔ تونے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دئے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔

45۔ تونے مجھ کو بوسہ نہ دیا مگر اِس نے جب سے میں آیا ہوں میرے پاؤں چومنا نہ چھوڑا۔

46۔ تونے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا ہے۔

47۔ اسی لئے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اِس نے بہت محبت کی مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔

48۔ اور اُس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔

49۔ اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟

50۔ مگر اُس نے عورت سے کہا تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔ سلامت چلی جا۔

5. Luke 7 : 2-16, 36-50

2     And a certain centurion’s servant, who was dear unto him, was sick, and ready to die.

3     And when he heard of Jesus, he sent unto him the elders of the Jews, beseeching him that he would come and heal his servant.

4     And when they came to Jesus, they besought him instantly, saying, That he was worthy for whom he should do this:

5     For he loveth our nation, and he hath built us a synagogue.

6     Then Jesus went with them. And when he was now not far from the house, the centurion sent friends to him, saying unto him, Lord, trouble not thyself: for I am not worthy that thou shouldest enter under my roof:

7     Wherefore neither thought I myself worthy to come unto thee: but say in a word, and my servant shall be healed.

8     For I also am a man set under authority, having under me soldiers, and I say unto one, Go, and he goeth; and to another, Come, and he cometh; and to my servant, Do this, and he doeth it.

9     When Jesus heard these things, he marvelled at him, and turned him about, and said unto the people that followed him, I say unto you, I have not found so great faith, no, not in Israel.

10     And they that were sent, returning to the house, found the servant whole that had been sick.

11     And it came to pass the day after, that he went into a city called Nain; and many of his disciples went with him, and much people.

12     Now when he came nigh to the gate of the city, behold, there was a dead man carried out, the only son of his mother, and she was a widow: and much people of the city was with her.

13     And when the Lord saw her, he had compassion on her, and said unto her, Weep not.

14     And he came and touched the bier: and they that bare him stood still. And he said, Young man, I say unto thee, Arise.

15     And he that was dead sat up, and began to speak. And he delivered him to his mother.

16     And there came a fear on all: and they glorified God, saying, That a great prophet is risen up among us; and, That God hath visited his people.

36     And one of the Pharisees desired him that he would eat with him. And he went into the Pharisee’s house, and sat down to meat.

37     And, behold, a woman in the city, which was a sinner, when she knew that Jesus sat at meat in the Pharisee’s house, brought an alabaster box of ointment,

38     And stood at his feet behind him weeping, and began to wash his feet with tears, and did wipe them with the hairs of her head, and kissed his feet, and anointed them with the ointment.

39     Now when the Pharisee which had bidden him saw it, he spake within himself, saying, This man, if he were a prophet, would have known who and what manner of woman this is that toucheth him: for she is a sinner.

40     And Jesus answering said unto him, Simon, I have somewhat to say unto thee. And he saith, Master, say on.

41     There was a certain creditor which had two debtors: the one owed five hundred pence, and the other fifty.

42     And when they had nothing to pay, he frankly forgave them both. Tell me therefore, which of them will love him most?

43     Simon answered and said, I suppose that he, to whom he forgave most. And he said unto him, Thou hast rightly judged.

44     And he turned to the woman, and said unto Simon, Seest thou this woman? I entered into thine house, thou gavest me no water for my feet: but she hath washed my feet with tears, and wiped them with the hairs of her head.

45     Thou gavest me no kiss: but this woman since the time I came in hath not ceased to kiss my feet.

46     My head with oil thou didst not anoint: but this woman hath anointed my feet with ointment.

47     Wherefore I say unto thee, Her sins, which are many, are forgiven; for she loved much: but to whom little is forgiven, the same loveth little.

48     And he said unto her, Thy sins are forgiven.

49     And they that sat at meat with him began to say within themselves, Who is this that forgiveth sins also?

50     And he said to the woman, Thy faith hath saved thee; go in peace.

6 . ۔ زبور 67 باب 1 (تا دوسری؛)، 2 آیات

1۔ خدا ہم پر رحم کرے اور ہم کو برکت بخشے اور اپنے چہرے کو ہم پر جلوہ گر کرے۔

2۔تاکہ تیری راہ زمین پر ظاہر ہو جائے اور تیری نجات سب قوموں پر۔

6. Psalm 67 : 1 (to 2nd ;), 2

1     God be merciful unto us, and bless us; and cause his face to shine upon us;

2     That thy way may be known upon earth, thy saving health among all nations.



سائنس اور صح


1 . ۔ 472: 24 (ساری)۔ 3

خدا اور اْس کی تخلیق میں پائی جانے والی ساری حقیقت ہم آہنگ اور ابدی ہے۔ جو کچھ وہ بناتا ہے اچھا بناتا ہے، اور جو کچھ بنا ہے اْسی نے بنایاہے۔اس لئے گناہ، بیماری اور موت کی حقیقت یہ ہولناک اصلیت ہے کہ غیر واقعیات انسانی غلط عقائد کو تب تک حقیقی دکھائی دیتے ہیں جب تک کہ خدا اْن کے بہروپ کو اتار نہیں دیتا۔وہ سچ نہیں ہیں کیونکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔کرسچن سائنس میں ہم سیکھتے ہیں مادی سوچ یا جسم کی تمام خارج از آہنگی فریب نظری ہے جو اگرچہ حقیقی اور یکساں دکھائی دیتی ہے لیکن وہ نہ حقیقت کی نہ ہی یکسانیت کی ملکیت رکھتی ہے۔

1. 472 : 24 (All)-3

All reality is in God and His creation, harmonious and eternal. That which He creates is good, and He makes all that is made. Therefore the only reality of sin, sickness, or death is the awful fact that unrealities seem real to human, erring belief, until God strips off their disguise. They are not true, because they are not of God. We learn in Christian Science that all inharmony of mortal mind or body is illusion, possessing neither reality nor identity though seeming to be real and identical.

2 . ۔ 127: 16۔ 22

کرسچن سائنس خدا کو ظاہر کرتی ہے، بطور گناہ، بیماری اور موت کے مصنف نہیں، بلکہ بطور الٰہی اصول، اعلیٰ ہستی، عقل، بدی سے مبرا۔یہ ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ وجودیت کا مادا غلطی ہے نہ کہ حقیقت ہے، کہ نسیں، دماغ، معدہ، پھیپھڑے، اور باقی سب میں، بطور مادا، کوئی ذہانت، زندگی نہیں اور نہ ہی احساس ہے۔

2. 127 : 16-22

Christian Science reveals God, not as the author of sin, sickness, and death, but as divine Principle, Supreme Being, Mind, exempt from all evil. It teaches that matter is the falsity, not the fact, of existence; that nerves, brain, stomach, lungs, and so forth, have — as matter — no intelligence, life, nor sensation.

3 . ۔ 120: 15۔ 24

صحت مادے کی حالت نہیں بلکہ عقل کی حالت ہے؛اور نہ ہی مادی حواس صحت کے موضوع پر قابل یقین گواہی پیش کر سکتے ہیں۔ شفائیہ عقل کی سائنس کسی کمزور کے لئے یہ ہونا ناممکن بیان کرتی ہے جبکہ عقل کے لئے اِس کی حقیقتاً تصدیق کرنا یا انسان کی اصلی حالت کو ظاہر کرنا ممکن پیش کرتی ہے۔اس لئے سائنس کا الٰہی اصول جسمانی حواس کی گواہی کو تبدیل کرتے ہوئے انسان کو بطور سچائی میں ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہوتا ظاہر کرتا ہے، جو صحت کی واحد بنیاد ہے؛ اور یوں سائنس تمام بیماری سے انکار کرتی، بیمار کو شفا دیتی، جھوٹی گواہی کو برباد کرتی اور مادی منطق کی تردید کرتی ہے۔

3. 120 : 15-24

Health is not a condition of matter, but of Mind; nor can the material senses bear reliable testimony on the subject of health. The Science of Mind-healing shows it to be impossible for aught but Mind to testify truly or to exhibit the real status of man. Therefore the divine Principle of Science, reversing the testimony of the physical senses, reveals man as harmoniously existent in Truth, which is the only basis of health; and thus Science denies all disease, heals the sick, overthrows false evidence, and refutes materialistic logic.

4 . ۔ 1: 1۔ 4

وہ دعا جو گناہگار کو ٹھیک کرتی اور بیمار کو تندرست کرتی ہے وہ مکمل طور پر یہ ایمان ہے کہ خدا کے لئے سب کچھ ممکن ہے، جو اْس سے متعلق ایک روحانی فہم، ایک بے لوث محبت ہے۔

4. 1 : 1-4

The prayer that reforms the sinner and heals the sick is an absolute faith that all things are possible to God, — a spiritual understanding of Him, an unselfed love.

5 . ۔ 395: 6۔ 14

ایک بڑے نمونے کی مانند،روح کو جسمانی حواس کی جھوٹی گواہیوں پر حکومت کرنے اور بیماری اور فانیت پر دعووں کو جتانے کے لئے آزاد کرتے ہوئے، شفا دینے والے کو بیماری کے ساتھ بات کرنی چاہئے کیونکہ اْسے اْس پر اختیا رحاصل ہے۔ یہی اصول گناہ اور بیماری کو شفا دیتا ہے۔ جب الٰہی سائنس نفسانی سوچ کے ایمان پر اور اس ایمان پر قابو پا لیتی ہے کہ خدا پر یقین گناہ اور مادی شفائیہ طریقوں پر یقین کو نیست کردیتا ہے، تو گناہ، بیماری اور موت غائب ہو جائیں گے۔

5. 395 : 6-14

Like the great Exemplar, the healer should speak to disease as one having authority over it, leaving Soul to master the false evidences of the corporeal senses and to assert its claims over mortality and disease. The same Principle cures both sin and sickness. When divine Science overcomes faith in a carnal mind, and faith in God destroys all faith in sin and in material methods of healing, then sin, disease, and death will disappear.

6 . ۔ 11: 9۔ 21

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔ اْس وقت کی طرح، اب بھی یہ قادر کام مافوق الفطرتی نہیں بلکہ انتہائی فطرتی ہیں۔ یہ اعمانوئیل، یا ”خدا ہمارے ساتھ ہے“ کا نشان ہیں، ایک الٰہی اثر جو انسانی شعور میں ہمیشہ سے موجود ہے اور خود کو دوہراتے ہوئے، ابھی آرہا ہے جیسے کہ ماضی میں اس کا وعدہ کیا گیا تھاکہ،

(شعور کے)قیدیوں کو رہائی

اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر پانے کے لئے

اور کچلے ہوؤں کو آزاد کرنے کے لئے

6. xi : 9-21

The physical healing of Christian Science results now, as in Jesus' time, from the operation of divine Principle, before which sin and disease lose their reality in human consciousness and disappear as naturally and as necessarily as darkness gives place to light and sin to reformation. Now, as then, these mighty works are not supernatural, but supremely natural. They are the sign of Immanuel, or "God with us," — a divine influence ever present in human consciousness and repeating itself, coming now as was promised aforetime,

To preach deliverance to the captives [of sense],

And recovering of sight to the blind,

To set at liberty them that are bruised.

7 . ۔ 135: 11۔ 15، 21۔ 32

وہی طاقت جو گناہ سے شفا دیتی ہے وہ بیماری سے بھی شفا دیتی ہے۔ یہ ”پاکیزگی کی خوبصورتی“ ہے، کہ جب سچائی بیما ر کو شفا دیتی ہے،تو یہ بدیوں کو باہر نکالتی ہے، اور جب سچائی بیماری کہلانے والی بدی کو باہر نکالتی ہے، تویہ بیمار کو شفا دیتی ہے۔

یہ کہا گیا ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ مسیحت سائنس ہونی چاہئے اور سائنس مسیحت ہونی چاہئے، وگرنہ یا اِس کے برعکس دوسرا کوئی بھی جھوٹ اور بیکار ہی ہے؛ مگر کوئی بھی غیر ضروری یا غیر حقیقی نہیں ہے، وہ اظہار میں یکساں ہی ہیں۔یہ دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتا ثابت ہوتا ہے۔مسیحت جیسے کہ یسوع نے اس کی تعلیم دی کوئی بھید یا تقریبات کا ایک نظام نہیں اور نہ ہی ایک رسمی یہواہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے؛ بلکہ یہ غلطی کو رفع کرنے اور بیمار کو شفا دینے کے لئے الٰہی محبت کا اظہار تھا، محض مسیح یا سچائی کے نام سے نہیں، بلکہ سچائی کے اظہار میں، جیسا معاملہ الٰہی روشنی کے سلسلہ کا ہواہوگا۔

7. 135 : 11-15, 21-32

The same power which heals sin heals also sickness. This is "the beauty of holiness," that when Truth heals the sick, it casts out evils, and when Truth casts out the evil called disease, it heals the sick.

It has been said, and truly, that Christianity must be Science, and Science must be Christianity, else one or the other is false and useless; but neither is unimportant or untrue, and they are alike in demonstration. This proves the one to be identical with the other. Christianity as Jesus taught it was not a creed, nor a system of ceremonies, nor a special gift from a ritualistic Jehovah; but it was the demonstration of divine Love casting out error and healing the sick, not merely in the name of Christ, or Truth, but in demonstration of Truth, as must be the case in the cycles of divine light.

8 . ۔ 476: 5۔ 32

یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔ لہٰذہ یسوع نے تعلیم دی کہ خدا برقرار اور عالمگیر ہے اور یہ کہ انسان پاک اور مقدس ہے۔

8. 476 : 32-5

Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick. Thus Jesus taught that the kingdom of God is intact, universal, and that man is pure and holy.

9 . ۔ 136: 1۔ 14

یسوع نے مسیح کی شفا کی روحانی بنیاد پر اپنا چرچ قائم کیا اور اپنے مشن کو برقرار رکھا۔ اْس نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ اْس کا مذہب الٰہی اصول تھا، جو خطا کو خارج کرتا اور بیمار اور گناہگار دونوں کو شفا دیتا تھا۔ اْس نے خدا سے جدا کسی دانش، عمل اور نہ ہی زندگی کا دعویٰ کیا۔ باوجود اْس ایذا کے جو اِسی کے باعث اْس پر آئی، اْس نے الٰہی قوت کو انسان کو بدنی اور روحانی دونوں لحاظ سے نجات دینے کے لئے استعمال کیا۔

اب کی طرح اْس وقت بھی سوال یہ تھا، یسوع نے بیمار کو شفا کیسے دی؟ اس سوال پر اْس کے جواب کو دنیا نے رد کر دیا۔ اْس نے اپنے طالب علموں سے سوال کیا: ”لوگ ابنِ آدم کو کیا کہتے ہیں؟“یعنی: بدروحوں کونکالنے اور بیماروں کو شفا دینے سے کس کی یا کیا شناخت ہوتی ہے؟

9. 136 : 1-14

Jesus established his church and maintained his mission on a spiritual foundation of Christ-healing. He taught his followers that his religion had a divine Principle, which would cast out error and heal both the sick and the sinning. He claimed no intelligence, action, nor life separate from God. Despite the persecution this brought upon him, he used his divine power to save men both bodily and spiritually.

The question then as now was, How did Jesus heal the sick? His answer to this question the world rejected. He appealed to his students: "Whom do men say that I, the Son of man, am?" That is: Who or what is it that is thus identified with casting out evils and healing the sick?

10 . ۔ 138: 6 (الٰہی)۔ 22

۔۔۔ الٰہی زندگی، سچائی اور محبت، اور انسانی ذاتیات نہیں، بیمار کا مشفی تھا اور وہ ہم آہنگی کی سلطنت میں ایک چٹان، ایک مضبوط بنیاد تھا۔اس روحانی طور پر سائنسی بنیاد پر یسوع نے علاج کی وضاحت کی جو غیروں کے لئے معجزاتی ظاہر ہوا۔ فانی عقل کی غلطیوں کو باہر نکالتے ہوئے اْس نے یہ ظاہر کیا کہ جن بیماریوں کو باہر نکالا گیا وہ نہ تو جسمانیت، مادی طب کے وسیلہ اور نہ اصولِ صحت کے وسیلہ بلکہ الٰہی روح کے وسیلہ نکالی گئیں۔ روح کی بالادستی وہ بنیاد تھی جس پر یسوع بنا ہے۔ محبت کے مذہب سے متعلق اپنا شاندار خلاصہ تعمیر کیا۔

یسوع نے مسیحی دور میں تمام تر مسیحت، الٰہیات اور شفا کی مثال قائم کی۔مسیحی لوگ اب بھی براہ راست اِن حکموں کے ماتحت ہیں، جیسے وہ پہلے تھے، کہ مسیح جیسی روح کی ملکیت رکھنا، مسیح کے نمونے کی پیروی کرنا اور بیماروں کے ساتھ ساتھ گناہگاروں کو شفا دینا۔

10. 138 : 6 (divine)-22

…divine Life, Truth, and Love, and not a human personality, was the healer of the sick and a rock, a firm foundation in the realm of harmony. On this spiritually scientific basis Jesus explained his cures, which appeared miraculous to outsiders. He showed that diseases were cast out neither by corporeality, by materia medica, nor by hygiene, but by the divine Spirit, casting out the errors of mortal mind. The supremacy of Spirit was the foundation on which Jesus built. His sublime summary points to the religion of Love.

Jesus established in the Christian era the precedent for all Christianity, theology, and healing. Christians are under as direct orders now, as they were then, to be Christlike, to possess the Christ-spirit, to follow the Christ-example, and to heal the sick as well as the sinning.

11 . ۔ 393: 8۔ 15

عقل جسمانی حواس کامالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔ اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں، اور اِس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔

11. 393 : 8-15

Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔