اتوار 12 جولائی ، 2026



مضمون۔ ساکرامنٹ

SubjectSacrament

سنہری متن: میکاہ 6 باب8 آیت

خداوند تجھ سے اِس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو انصاف کرے اور رحمدلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟



Golden Text: Micah 6 : 8

What doth the Lord require of thee, but to do justly, and to love mercy, and to walk humbly with thy God?





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: عبرانیوں 9 باب 11تا15 آیات


11۔ لیکن جب مسیح آئندہ کی اچھی چیزوں کا سردار کاہن ہو کر آیا تو اْس بزرگ تر اور کامل تر خیمہ کی راہ سے جو ہاتھوں کا بنا ہوا یعنی اس دنیا کا نہیں

12۔ اور بکروں اور بچھڑوں کا خون لے کر نہیں بلکہ اپنا ہی خون لے کر پاک مکان میں ایک ہی بار داخل ہو گیا اور ابدی خلاصی کرائی۔

13۔ کیونکہ جب بکروں اور بیلوں کے خون اور گائے کی راکھ ناپاکوں پر چھڑکے جانے سے ظاہری پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔

14۔ تو مسیح کا خون جس نے اپنے آپ کو ازلی روح کے وسیلہ سے خدا کے سامنے بے عیب قربان کر دیا تمہارے دلوں کو مردہ کاموں سے کیوں نہ پاک کرے گا تاکہ زندہ خدا کی عبادت کریں۔

15۔ اور اسی سبب سے وہ نئے عہد کا بانی ہے تاکہ اْس موت کے وسیلہ سے جو پہلے عہد کے وقت قصوروں کی معافی کے لئے ہوئی ہے بلائے ہوئے لوگ وعدہ کے مطابق ابدی میراث کو حاصل کریں۔

Responsive Reading: Hebrews 9 : 11-15

11.     Christ being come an high priest of good things to come, by a greater and more perfect tabernacle, not made with hands, that is to say, not of this building;

12.     Neither by the blood of goats and calves, but by his own blood he entered in once into the holy place, having obtained eternal redemption for us.

13.     For if the blood of bulls and of goats, and the ashes of an heifer sprinkling the unclean, sanctifieth to the purifying of the flesh:

14.     How much more shall the blood of Christ, who through the eternal Spirit offered himself without spot to God, purge your conscience from dead works to serve the living God?

15.     And for this cause he is the mediator of the new testament, that by means of death, for the redemption of the transgressions that were under the first testament, they which are called might receive the promise of eternal inheritance.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ متی 4 باب23 آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

1. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

2 . ۔ متی 5 باب1، 2، 7 آیات

1۔ وہ اِس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

7۔ مبارک ہیں وہ جو رحم دل ہیں کیونکہ اْن پر رحم کیا جائے گا۔

2. Matthew 5 : 1, 2, 7

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

7     Blessed are the merciful: for they shall obtain mercy.

3 . ۔ متی 12 باب1 (یسوع) تا 13 آیات

1۔ اْس وقت یسوع سبت کے دن کھیتوں میں ہو کر گیا اور اْس کے شاگردوں کو بھوک لگی اور وہ بالیں توڑ توڑ کر کھانے لگے۔

2۔ فریسیوں نے دیکھ کر اْس سے کہا کہ دیکھ تیرے شاگرد وہ کام کرتے ہیں جو سبت کے دن کرنا روا نہیں۔

3۔ اْس نے اْن سے کہا کیا تم نے یہ نہیں پڑھا کہ جب داؤد اور اْس کے ساتھی بھوکے تھے تو اْس نے کیا کِیا؟

4۔ وہ کیونکر خدا کے گھر گیا اور نذر کی روٹیاں کھائیں جن کو کھانا نہ اْس کو روا تھا نہ اْس کے ساتھیوں کو مگر صرف کاہنوں کو؟

5۔ یا تم نے توریت میں نہیں پڑھا کہ کاہن سبت کے دن ہیکل میں سبت کی بے حرمتی کرتے ہیں اور بے قصور رہتے ہیں؟

6۔ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ یہاں وہ ہے جو ہیکل سے بھی بڑا ہے۔

7۔ لیکن اگر تم اِس کے معنی جانتے کہ مَیں قربانی نہیں رحم پسند کرتا ہوں تو بے قصوروں کو قصور وار نہ ٹھہراتے۔

8۔ کیونکہ ابنِ آدم سبت کا مالک ہے۔

9۔اور وہ و ہاں سے چل کر اْن کے عبادت خانہ میں گیا۔

10۔ اور دیکھو وہاں ایک آدمی تھا جس کا ایک ہاتھ سوکھا ہوا تھا۔ اْنہوں نے اْس پر الزام لگانے کے ارادہ سے یہ پوچھا کہ کیا سبت کے دن شفا دینا روا ہے؟

11۔ اْس نے اْن سے کہا تم میں ایسا کون ہے جس کی ایک بھیڑ ہو اور وہ سبت کے دن گڑھے میں گر جائے تو وہ اْسے پکڑ کر نہ نکالے؟

12۔ پس آدمی کی قدر تو بھیڑ سے بہت ہی زیادہ ہے اِس لئے سبت کے دن نیکی کرنا روا ہے۔

13۔ تب اْس نے اْس آدمی سے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھا۔ اْس نے بڑھایا اور وہ دوسرے ہاتھ کی مانند درست ہوگیا۔

3. Matthew 12 : 1 (Jesus)-13

1     Jesus went on the sabbath day through the corn; and his disciples were an hungred, and began to pluck the ears of corn, and to eat.

2     But when the Pharisees saw it, they said unto him, Behold, thy disciples do that which is not lawful to do upon the sabbath day.

3     But he said unto them, Have ye not read what David did, when he was an hungred, and they that were with him;

4     How he entered into the house of God, and did eat the shewbread, which was not lawful for him to eat, neither for them which were with him, but only for the priests?

5     Or have ye not read in the law, how that on the sabbath days the priests in the temple profane the sabbath, and are blameless?

6     But I say unto you, That in this place is one greater than the temple.

7     But if ye had known what this meaneth, I will have mercy, and not sacrifice, ye would not have condemned the guiltless.

8     For the Son of man is Lord even of the sabbath day.

9     And when he was departed thence, he went into their synagogue:

10     And, behold, there was a man which had his hand withered. And they asked him, saying, Is it lawful to heal on the sabbath days? that they might accuse him.

11     And he said unto them, What man shall there be among you, that shall have one sheep, and if it fall into a pit on the sabbath day, will he not lay hold on it, and lift it out?

12     How much then is a man better than a sheep? Wherefore it is lawful to do well on the sabbath days.

13     Then saith he to the man, Stretch forth thine hand. And he stretched it forth; and it was restored whole, like as the other.

4 . ۔ مرقس 1 باب39تا42 آیات

39۔ اور وہ تمام گلیل میں اْن کے عبادت خانوں میں جا جا کر منادی کرتا اور بدروحوں کو نکالتا رہا۔

40۔ اور ایک کوڑھی نے اْس کے پاس آکر اْس کی منت کی اور اْس کے سامنے گھْٹنے ٹیک کر اْس سے کہا اگر تْو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔

41۔ اْس نے اْس پر ترس کھا کر ہاتھ بڑھایا اور اْسے چھْو کر اْس سے کہا مَیں چاہتا ہوں تْو پاک صاف ہوجا۔

42۔ اور فی الفور اْس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہوگیا۔

4. Mark 1 : 39-42

39     And he preached in their synagogues throughout all Galilee, and cast out devils.

40     And there came a leper to him, beseeching him, and kneeling down to him, and saying unto him, If thou wilt, thou canst make me clean.

41     And Jesus, moved with compassion, put forth his hand, and touched him, and saith unto him, I will; be thou clean.

42     And as soon as he had spoken, immediately the leprosy departed from him, and he was cleansed.

5 . ۔ لوقا 10 باب25تا37 آیات

25۔ اور دیکھو ایک عالمِ شرع اْٹھا اور یہ کہہ کراْس کی آزمائش کرنے لگا کہ اے اْستاد! مَیں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟

26۔ اْس نے اْس سے کہا توریت میں کیا لکھا ہے؟ تْو کس طرح پڑھتا ہے؟

27۔ اْس نے جواب میں اْس سے کہا کہ تْو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔

28۔ اْس نے اْس سے کہا تْو نے ٹھیک جواب دیا۔ یہی کر تو تْو جئے گا۔

29۔ مگر اْس نے اپنے تئیں راستباز ٹھہرانے کی غرض سے یسوع سے پوچھا پھر میرا پڑوسی کون ہے؟

30۔ یسوع نے جواب میں کہا ایک آدمی یروشلیم سے یریحو کی طرف جا رہا تھا کہ ڈاکوؤں میں گھِر گیا۔انہوں نے اْس کے کپڑے اْتار لئے اور مارا بھی اور ادھ موا چھوڑ کر چلے گئے۔

31۔ اتفاقاً ایک کاہن اْس راہ سے جا رہا تھا اور اْسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔

32۔ اِسی طرح ایک لاوی اْس جگہ آیا۔ وہ بھی اْسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔

33۔ لیکن ایک سامری سفر کرتے کرتے وہاں آنکلا اور اْسے دیکھ کر اْس نے ترس کھایا۔

34۔ اور اْس کے پاس آکر اْس کے زخموں کو تیل اور مے لگا کر باندھا اور اپنے جانور پر سوار کر کے سرائے میں لے گیا اور اْس کی خبر گیری کی۔

35۔ دوسرے دن دو دینار نکال کر بھٹیارے کو دئیے اور کہا کہ اِس کی خبر گیری کرنا اور جو کچھ اِس سے زیادہ خرچ ہوگا مَیں پھر آکر تجھے ادا کر دوں گا۔

36۔ اِن تینوں میں سے اْس شخص کا جو ڈاکوؤں میں گھِر گیا تھا تیری دانست میں کون پڑوسی ٹھہرا؟

37۔اْس نے کہا وہ جس نے اْس پر رحم کیا۔ یسوع نے اْس سے کہا جا۔ تْو بھی ایسا ہی کر۔

5. Luke 10 : 25-37

25     And, behold, a certain lawyer stood up, and tempted him, saying, Master, what shall I do to inherit eternal life?

26     He said unto him, What is written in the law? how readest thou?

27     And he answering said, Thou shalt love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy strength, and with all thy mind; and thy neighbour as thyself.

28     And he said unto him, Thou hast answered right: this do, and thou shalt live.

29     But he, willing to justify himself, said unto Jesus, And who is my neighbour?

30     And Jesus answering said, A certain man went down from Jerusalem to Jericho, and fell among thieves, which stripped him of his raiment, and wounded him, and departed, leaving him half dead.

31     And by chance there came down a certain priest that way: and when he saw him, he passed by on the other side.

32     And likewise a Levite, when he was at the place, came and looked on him, and passed by on the other side.

33     But a certain Samaritan, as he journeyed, came where he was: and when he saw him, he had compassion on him,

34     And went to him, and bound up his wounds, pouring in oil and wine, and set him on his own beast, and brought him to an inn, and took care of him.

35     And on the morrow when he departed, he took out two pence, and gave them to the host, and said unto him, Take care of him; and whatsoever thou spendest more, when I come again, I will repay thee.

36     Which now of these three, thinkest thou, was neighbour unto him that fell among the thieves?

37     And he said, He that shewed mercy on him. Then said Jesus unto him, Go, and do thou likewise.

6 . ۔ متی 26باب 17تا20، 26تا28 آیات

17۔ اور عیدِ فطیر کے پہلے دن شاگردوں نے یسوع کے پاس آکر کہا تْو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لئے فسح کھانے کی تیاری کریں؟

18۔ اْس نے کہا شہر میں فلاں شخص کے پاس جا کر کہنا اْستاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ میں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عید فسح کروں گا۔

19۔ اور جیسا یسوع نے شاگردوں کو حکم دیا تھا اْنہوں نے ویسا ہی کیا اور فسح تیار کیا۔

20۔ جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا۔

26۔ جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔

27۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور اْن سے کہا تم سب اِس میں سے پیو۔

28۔ کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروں کے لئے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔

6. Matthew 26 : 17-20, 26-28

17     Now the first day of the feast of unleavened bread the disciples came to Jesus, saying unto him, Where wilt thou that we prepare for thee to eat the passover?

18     And he said, Go into the city to such a man, and say unto him, The Master saith, My time is at hand; I will keep the passover at thy house with my disciples.

19     And the disciples did as Jesus had appointed them; and they made ready the passover.

20     Now when the even was come, he sat down with the twelve.

26     And as they were eating, Jesus took bread, and blessed it, and brake it, and gave it to the disciples, and said, Take, eat; this is my body

27     And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them, saying, Drink ye all of it;

28     For this is my blood of the new testament, which is shed for many for the remission of sins.

7 . ۔ رومیوں 12باب1، 2آیات

1۔ پس اے بھائیو۔ مَیں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔

7. Romans 12 : 1, 2

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.



سائنس اور صح


1 . ۔ 241: 19۔22

ساری جانثاری کا مادا الٰہی محبت، بیماری کی شفا اور گناہ کی تباہی کا عکس اور اظہار ہے۔ہمارے مالک نے کہا، ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

1. 241 : 19-22

The substance of all devotion is the reflection and demonstration of divine Love, healing sickness and destroying sin. Our Master said, "If ye love me, keep my commandments."

2 . ۔ 4: 5۔9

اپنے استاد کے حکموں پر عمل کرنا اور اْس کے نمونے کی پیروی کرناہم پر اْس کا مناسب قرض ہے اور جو کچھ اْس نے کیا ہے اْس کی شکر گزاری کا واحد موزوں ثبوت ہے۔

2. 4 : 5-9

To keep the commandments of our Master and follow his example, is our proper debt to him and the only worthy evidence of our gratitude for all that he has done.

3 . ۔ 25: 22۔31

اگرچہ گناہ اور بیماری پر اپنا اختیار ظاہر کرتے ہوئے، عظیم معلم نے کسی صورت دوسروں کو اْن کے تقویٰ کے مطلوبہ ثبوت دینے میں مدد نہیں کی۔ اْس نے اْن کی ہدایت کے لئے کام کیا، کہ وہ اِس طاقت کا اظہار اْسی طرح کریں جیسے اْس نے کیا اور اِس کے الٰہی اصول کو سمجھیں۔ استاد پر مکمل ایمان اور وہ سارا جذباتی پیار جو ہم اْس پر نچھاور کر سکتے ہیں، صرف یہی ہمیں اْس کی تقلید کرنے والے نہیں بنائیں گے۔ ہمیں جا کر اْسی کی مانند کام کرنا چاہئے، وگرنہ ہم اْن بڑی برکات کو فروغ نہیں دے رہے جو ہمارے مالک نے ہمیں عطا کرنے کے لئے کام کیا اور تکلیف اٹھائی۔

3. 25 : 22-31

Though demonstrating his control over sin and disease, the great Teacher by no means relieved others from giving the requisite proofs of their own piety. He worked for their guidance, that they might demonstrate this power as he did and understand its divine Principle. Implicit faith in the Teacher and all the emotional love we can bestow on him, will never alone make us imitators of him. We must go and do likewise, else we are not improving the great blessings which our Master worked and suffered to bestow upon us.

4 . ۔ 27: 22۔27

یسوع نے ایک ہی وقت میں ستر لوگوں کو بھیجا، لیکن صرف بارہ ہی مطلوبہ تاریخی ریکارڈ بنا سکے۔ روایت اْس کے سر پر دو یا تین سو شاگردوں کا سہرا باندھتی ہے جن کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ ”بلائے ہوئے توبہت ہیں مگر برگزیدہ تھوڑے ہیں۔“وہ فضل سے دور ہو گئے کیونکہ انہوں نے حقیقت میں اپنے مالک کی ہدایت کو نہیں سمجھا تھا۔

4. 27 : 22-27

Jesus sent forth seventy students at one time, but only eleven left a desirable historic record. Tradition credits him with two or three hundred other disciples who have left no name. "Many are called, but few are chosen." They fell away from grace because they never truly understood their Master's instruction.

5 . ۔ 135: 26۔32

مسیحت جیسے کہ یسوع نے اس کی تعلیم دی کوئی بھید یا تقریبات کا ایک نظام نہیں اور نہ ہی ایک رسمی یہواہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے؛ بلکہ یہ غلطی کو رفع کرنے اور بیمار کو شفا دینے کے لئے الٰہی محبت کا اظہار تھا، محض مسیح یا سچائی کے نام سے نہیں، بلکہ سچائی کے اظہار میں، جیسا معاملہ الٰہی روشنی کے سلسلہ کا ہواہوگا۔

5. 135 : 26-32

Christianity as Jesus taught it was not a creed, nor a system of ceremonies, nor a special gift from a ritualistic Jehovah; but it was the demonstration of divine Love casting out error and healing the sick, not merely in the name of Christ, or Truth, but in demonstration of Truth, as must be the case in the cycles of divine light.

6 . ۔ 54: 1۔4، 13۔17

اْس کی انسانی زندگی کی عظمت کے وسیلہ اْس نے الٰہی زندگی کو ظاہر کیا۔ اْس کے خالص خلوص کی وسعت کے وسیلہ اْس نے محبت کی وضاحت کی۔

اْس کے الٰہی اختیار کی گواہی میں، اْس نے یہ ثبوت فراہم کیا کہ زندگی، سچائی اور محبت بیماری اور گناہگار کو شفا دیتے ہیں اور عقل کے وسیلہ نہ کہ مادے کے وسیلہ موت پر فتح پاتے ہیں۔الٰہی محبت کا یہ سب سے بلند ترین ثبوت تھا جو وہ پیش کر سکتا تھا۔

6. 54 : 1-4, 13-17

Through the magnitude of his human life, he demonstrated the divine Life. Out of the amplitude of his pure affection, he defined Love.

In witness of his divine commission, he presented the proof that Life, Truth, and Love heal the sick and the sinning, and triumph over death through Mind, not matter. This was the highest proof he could have offered of divine Love.

7 . ۔ 51: 19۔24

اْس کا کامل نمونہ ہم سب کی نجات کے لئے تھا، مگر صرف وہ کام کرنے کے وسیلہ سے جو اْس نے کئے اور دوسروں کو اْن کی تعلیم دی۔شفا کے لئے اْس کا مقصد صرف صحت کو بحال کرنا نہیں تھا بلکہ اپنا الٰہی اصول ظاہر کرنا بھی تھا۔ جو کچھ اْس نے کیا اور کہا اْس میں وہ خدا سے، سچائی اور محبت سے متاثر تھا۔

7. 51 : 19-24

His consummate example was for the salvation of us all, but only through doing the works which he did and taught others to do. His purpose in healing was not alone to restore health, but to demonstrate his divine Principle. He was inspired by God, by Truth and Love, in all that he said and did.

8 . ۔ 40: 25۔30

ہمارا آسمانی باپ، الٰہی محبت، یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہمیں ہمارے مالک اور اْس کے شاگردوں کے نمونے کی پیروی کرنی چاہئے اور صرف اْس کی شخصیت کی عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ الٰہی خدمت کا جملہ عام طور پر روز مرہ کے اعمال کی بجائے عوامی عبادت کے معنوں کے ساتھ آیا ہے۔

8. 40 : 25-30

Our heavenly Father, divine Love, demands that all men should follow the example of our Master and his apostles and not merely worship his personality. It is sad that the phrase divine service has come so generally to mean public worship instead of daily deeds.

9 . ۔ 487: 25۔2

یعقوب رسول نے کہا، ”تْو اپنا ایمان بغیر اعمال کے مجھے دکھا اور میں اپنا ایمان اعمال سے تجھے دکھاؤں گا۔“زندگی کی لازوال حقیقت، اس کی قدرت اور لافانیت پر ہمارے بھروسے کو مضبوط کرتے ہوئے یہ فہم کہ خدا، روح، زندگی ہے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

ایمان ایک سمجھے گئے اصول پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اصول بیمار کو شفایاب کرتا ہے اور برداشت اور چیزوں کے ہم آہنگ مراحل ظاہر کرتاہے۔ ہماری تعلیمات کا نتیجہ اْن کی حسبِ ضرورت تصدیق ہے۔

9. 487 : 25-2

The Apostle James said, "Show me thy faith without thy works, and I will show thee my faith by my works." The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

This faith relies upon an understood Principle. This Principle makes whole the diseased, and brings out the enduring and harmonious phases of things. The result of our teachings is their sufficient confirmation.

10 . ۔ 32: 15۔27

”جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور اْن کو دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو۔“

اگر اس ساکرامنٹ کو روٹی اور مے کے استعمال پر محدود کر دیا جائے تو حقیقی جوہرروحانی طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ شاگردوں نے روٹی کھا لی تھی، تاہم یسوع نے دعا کر کے انہیں روٹی دی۔ ظاہری لحاظ سے یہ شاید احمقانہ ہو، لیکن اس کے روحانی مفہوم میں یہ فطری اور خوبصورت بات تھی۔ یسوع نے دعا کی، اْس نے مزید روشن، مزید روحانی خیالات کے ساتھ اپنے دل کو تازہ دم کرنے کے لئے مادی حواس سے لیا۔

10. 32 : 15-27

"As they were eating, Jesus took bread, and blessed it and brake it, and gave it to the disciples, and said, Take, eat; this is my body. And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them saying, Drink ye all of it."

The true sense is spiritually lost, if the sacrament is confined to the use of bread and wine. The disciples had eaten, yet Jesus prayed and gave them bread. This would have been foolish in a literal sense; but in its spiritual signification, it was natural and beautiful. Jesus prayed; he withdrew from the material senses to refresh his heart with brighter, with spiritual views.

11 . ۔ 35: 19 (ہمارا بپتسمہ)۔29

ہمارا بپتسمہ ساری غلطی سے ہماری پاکیزگی ہے۔ہماری کلیسیا الٰہی اصول، محبت پر قائم ہے۔ ہم اِس کلیسیا میں صرف روح میں نومولود ہوتے ہوئے متحد ہو سکتے ہیں، جب ہم محبت کے پھل لاتے ہوئے، غلطی کو نکالتے ہوئے اور بیماروں کو شفا دیتے ہوئے اْس زندگی تک پہنچتے ہیں جو سچائی ہے اور اْس سچائی تک پہنچتے ہیں جو زندگی ہے۔ ہمارا یوخرست ایک خدا کے ساتھ روحانی شراکت ہے۔ ہماری روٹی ”جو آسمان سے اترتی ہے،“ سچائی ہے۔ ہمارا پیالہ صلیب ہے۔ ہماری مے، یعنی وہ مے جو ہمارے مالک نے پی اور اپنے پیروکاروں کو بھی اِس کا حکم دیا، محبت کا الہام ہے۔

11. 35 : 19 (Our baptism)-29

Our baptism is a purification from all error. Our church is built on the divine Principle, Love. We can unite with this church only as we are newborn of Spirit, as we reach the Life which is Truth and the Truth which is Life by bringing forth the fruits of Love, — casting out error and healing the sick. Our Eucharist is spiritual communion with the one God. Our bread, "which cometh down from heaven," is Truth. Our cup is the cross. Our wine the inspiration of Love, the draught our Master drank and commended to his followers.

12 . ۔ 33: 27 (مسیحی)۔17

مسیحیو! کیا آپ اْس کا پیالہ پی رہے ہیں؟ کیا آپ نے نئے عہد کا خون بانٹا ہے، یعنی وہ ایذائیں جو خدا سے متعلق ایک نئے اور بلند فہم کو پیش کرتی ہیں؟اگر نہیں تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے اْس کے پیالے میں یسوع کی یادگاری منائی ہے؟وہ سب جو یسوع کی یاد گاری میں روٹی کھاتے اور مے پیتے ہیں وہ حقیقت میں اْس کے پیالے اور اْس کی صلیب میں سے بانٹنے کی اور اصول ِمسیح کی خاطر سب کچھ چھوڑنے کے لئے رضا مند ہیں؟ تو پھر اس الہام کو ایک مردہ رسم کے ساتھ کیوں منسوب کیا جاتا ہے بجائے غلطی کو دور کرتے ہوئے اور بدن کو ”پاک اور خدا کے لئے قابل قبول“ بناتے ہوئے، یہ دکھایا جائے سچائی کا فہم فراہم ہوا ہے؟ اگر مسیح، سچائی اظہار میں ہمارے پاس آیا، تو کسی دوسری یاد گاری کی ضرورت نہیں، کیونکہ اظہار اعمانوئیل یا خدا ہمارے ساتھ ہے؛ اور اگر کوئی دوسرا ہمارے ساتھ ہے تو اْس کی یادگاری منانے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر وہ سب جنہوں نے ساکرامنٹ میں حصہ لیا یسوع کے دکھوں کی حقیقتاً یادگاری منائی تھی اور اْس کے پیالے میں سے پیا تھا تو وہ دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے۔ وہ سب جومادی علامات کے وسیلہ اْس کی یادگاری کے متلاشی ہیں وہ صلیب اٹھائیں گے، بیماروں کو شفا دیں گے، بدروحوں کو نکالیں گے اور مسیح، سچائی کی خوشخبری غریبوں، منفی سوچ والوں،کو دیں گے، وہ ہزار سالہ دور لائیں گے۔

12. 33 : 27 (Christians)-17

Christians, are you drinking his cup? Have you shared the blood of the New Covenant, the persecutions which attend a new and higher understanding of God? If not, can you then say that you have commemorated Jesus in his cup? Are all who eat bread and drink wine in memory of Jesus willing truly to drink his cup, take his cross, and leave all for the Christ-principle? Then why ascribe this inspiration to a dead rite, instead of showing, by casting out error and making the body "holy, acceptable unto God," that Truth has come to the understanding? If Christ, Truth, has come to us in demonstration, no other commemoration is requisite, for demonstration is Immanuel, or God with us; and if a friend be with us, why need we memorials of that friend?

If all who ever partook of the sacrament had really commemorated the sufferings of Jesus and drunk of his cup, they would have revolutionized the world. If all who seek his commemoration through material symbols will take up the cross, heal the sick, cast out evils, and preach Christ, or Truth, to the poor, — the receptive thought, — they will bring in the millennium.

13 . ۔ 55: 16۔26

میری خستہ حال امید اْس خوشی کے دن کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے، جب انسان مسیح کی سائنس کو سمجھے گا اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھے گا، جب وہ یہ جانے گا کہ خدا قادر مطلق ہے اور جو کچھ اْس نے انسان کے لئے کیا ہے اور کر رہا ہے اْس میں الٰہی محبت کی شفائیہ طاقت کو جانے گا۔ وعدے پورے کئے جائیں گے۔ الٰہی شفا کے دوبارہ ظاہر ہونے کا وقت ہمہ وقت ہوتا ہے؛ اور جو کوئی بھی اپنازمینی سب کچھ الٰہی سائنس کی الطار پر رکھتا ہے، وہ اب مسیح کے پیالے میں سے پیتا ہے، اور وہ روح اور مسیحی شفا کی طاقت سے ملبوس ہوتا ہے۔

13. 55 : 16-26

My weary hope tries to realize that happy day, when man shall recognize the Science of Christ and love his neighbor as himself, — when he shall realize God's omnipotence and the healing power of the divine Love in what it has done and is doing for mankind. The promises will be fulfilled. The time for the reappearing of the divine healing is throughout all time; and whosoever layeth his earthly all on the altar of divine Science, drinketh of Christ's cup now, and is endued with the spirit and power of Christian healing.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔