اتوار 14 جون ، 2026
خداوند کی شفقت اْس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک ہے۔ جو اْس کے عہد پر قائم رہتے ہیں۔ اور اْس کے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔
“The mercy of the Lord is from everlasting to everlasting upon them that fear him, To such as keep his covenant, and to those that remember his commandments to do them.”
9۔ پر تْو اے خداوند!میری پناہ ہے! تْو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔
10۔ تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ اور کوئی وبا تیرے خیمہ کے نزدیک نہ پہنچے گی۔
11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔
12۔ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے تاکہ ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔
14۔ چونکہ اْس نے مجھ سے دل لگایا ہے۔ اِس لئے مَیں اْسے چھڑاؤں گا۔ مَیں اْسے سرفراز کروں گا۔ کیونکہ اْس نے میرا نام پہچانا ہے۔
9. Because thou hast made the Lord, which is my refuge, even the most High, thy habitation;
10. There shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.
11. For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.
12. They shall bear thee up in their hands, lest thou dash thy foot against a stone.
14. Because he hath set his love upon me, therefore will I deliver him: I will set him on high, because he hath known my name.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
23۔ خداوند سے محبت رکھو اے اْس کے سب مقدسو! خداوند ایمانداروں کو سلامت رکھتا ہے۔ اور مغروروں کو خوب ہی بدلہ دیتا ہے۔
24۔اے خداوند پر آس رکھنے والو! سب مضبوط ہو اور تمہارا دل قوی رہے۔
23 O love the Lord, all ye his saints: for the Lord preserveth the faithful,
24 Be of good courage, and he shall strengthen your heart, all ye that hope in the Lord.
7۔میری جوانی کی خطاؤں اور میرے گناہوں کو یاد نہ کر۔ اے خداوند! اپنی نیکی کی خاطر اپنی شفقت کے مطابق مجھے یاد فرما۔
8۔ خداوند نیک اور راست ہے۔ اِس لئے وہ گناہگاروں کو راہِ حق کی تعلیم دے گا۔
14۔ خداوند کے راز کو وہی جانتے ہیں جو اْس سے ڈرتے ہیں اور وہ اپنا عہد اْن کو بتائے گا۔
7 Remember not the sins of my youth, nor my transgressions: according to thy mercy remember thou me for thy goodness’ sake, O Lord.
8 Good and upright is the Lord: therefore will he teach sinners in the way.
14 The secret of the Lord is with them that fear him; and he will shew them his covenant.
1۔ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مْستعد مددگار۔
2۔ اس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اْلٹ جائے۔ اور پہاڑ سمندر کی تہہ میں ڈال دئیے جائیں۔
5۔ خدا اْس میں ہے۔ اْسے کبھی جْنبش نہ ہوگی۔ خدا صبح سویرے اْس کی کْمک کرے گا۔
10۔ خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خدا ہوں۔ مَیں قوموں کے درمیان سر بلند ہوں گا۔
1 God is our refuge and strength, a very present help in trouble.
2 Therefore will not we fear, though the earth be removed, and though the mountains be carried into the midst of the sea;
5 God is in the midst of her; she shall not be moved: God shall help her, and that right early.
10 Be still, and know that I am God:
29۔ اور شاہ یہوداہ آسا کے اڑتیس سال سے عمری کا بیٹا اخی اب اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا۔
29 And in the thirty and eighth year of Asa king of Judah began Ahab the son of Omri to reign over Israel:
1۔ اور ایلیاہ تشبی نے جو جلعاد کے پردیسیوں میں سے تھا اخی اب سے کہا کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کی حیات کی قسم جسکے سامنے میں کھڑا ہوں اِن برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ مینہ برسیگا جب تک میں نہ کہوں۔
2۔ اور خداوند کا یہ کلام اْس پر نازل ہوا کہ
3۔ یہاں سے چل دے اور مشرق کی طرف اپنا رْخ کر اور کریت کے نالے کے پاس جو یردن کے سامنے ہے جا چھْپ۔
4۔ اور تْو اْسی نالے میں سے پینا اور مَیں نے کووں کو حکم کیا ہے کہ وہ تیری پرورش کریں۔
7 ۔ اور کچھ عرصہ کے بعد وہ نالہ سوکھ گیا اس لئے کہ اْس ملک میں بارش نہیں ہوئی تھی۔
8۔ تب خُداوند کا یہ کلام اُس پر نازل ہوا۔
9۔کہ اٹھ اور صیدا کے صارپت کو جا اور وہیں رہ۔ دیکھ میں نے ایک بیوہ کو وہاں حکم دیا ہے کہ تیری پرورش کرے۔
10۔ سو وہ اٹھ کر صارپت کو گیا اور جب وہ شہر کے پھاٹک پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک بیوہ وہاں لکڑیاں چن رہی ہے۔ سو اُس نے اُسے پکار کر کہا ذرا مجھے تھوڑا سا پانی کسی برتن میں لادے کہ میں پیوں۔
11۔ اور جب وہ لینے چلی تو اُس نے پکار کر کہا ذرا اپنے ہاتھ میں ایک ٹکڑا روٹی میرے واسطے لیتی آنا۔
12۔ اُس نے کہا خداوند تیرے خدا کی حیات کی قسم میر ے ہاں روٹی نہیں۔ صرف مُٹھی بھر آٹا ایک مٹکے میں اور تھوڑا سا تیل ایک کُپی میں ہے اور دیکھ میں دو ایک لکڑیاں چُن رہی ہوں تاکہ گھر جا کر اپنے اور اپنے بیٹے کے لئے اُسے پکاوں اور ہم اُسے کھائیں۔ اور پھر مر جائیں۔
13۔ اور ایلیاہ نے اُس سے کہا مت ڈر۔ جا اور جیسا کہتی ہے کر پر پہلے میرے لئے ایک ٹکیا اْس میں سے بنا کر میرے پاس لے آ۔ اْس کے بعد اپنے اور اپنے بیٹے کے لئے بنا لینا۔
14۔ کیونکہ خُداوند اسرائیل کا خُدا یوں فرماتا ہے کہ اُس دن تک جب تک خُداوند زمین پر مینہ نہ برسائے نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہو گا اور نہ تیل کی کپی میں کمی ہو گی۔
15۔ سو اُس نے جا کر ایلیاہ کے کہنے کے مطابق کیا اور یہ اور وہ اور اُسکا کنبہ بہت دنوں تک کھاتے رہے۔
16۔ اور خُداوند کے کلام کے مطابق جو اُس نے ایلیاہ کی معرفت فرمایا تھا نہ تو آٹے کا مٹکا خالی ہُوا اور نہ تیل کی کُپی میں کمی ہوئی۔
17۔ اْن باتوں کے بعد اْس عورت کا بیٹا جو اْس گھر کی مالک تھی بیمار پڑا اور اْس کی بیماری ایسی سخت ہو گئی کہ اْس میں دم باقی نہ رہا۔
19۔ اْس نے اْس سے کہا اپنا بیٹا مجھ کو دے اور وہ اْس کو اْس کی گود سے لے کر اْس کو بالا خانہ پر جہاں وہ رہتا تھا لے گیا اور اْسے اپنے پلنگ پر لٹایا۔
20۔ اور اْس نے خداوند سے فریاد کی۔
21۔ اور اْس نے اپنے آپ کو تین بار اْس لڑکے پر پسار کر خداوند سے فریاد کی اور کہا اے خداوند میرے خدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ اِس لڑکے کی جان اْس میں پھر آجائے۔
22۔ اور خداوند نے ایلیاہ کی فریاد سنی اور اْس لڑکے کی جان اْس میں پھر آگئی اور وہ جی اٹھا۔
23۔ تب ایلیاہ اْس لڑکے کو اٹھا کر بالا خانہ پر سے نیچے گھر کے اندر لے گیا اور اْسے اس کی ماں کے سپرد کیا اور ایلیاہ نے کہا دیکھ تیرا بیٹا جیتا ہے۔
24۔ تب اْس عورت نے ایلیاہ سے کہا اب میں جان گئی کہ تْو مردِ خداہے اور خداوند کا جو کلام تیرے منہ میں ہے وہ حق ہے۔
1 And Elijah the Tishbite, … said unto Ahab, As the Lord God of Israel liveth, before whom I stand, there shall not be dew nor rain these years, but according to my word.
2 And the word of the Lord came unto him, saying,
3 Get thee hence, and turn thee eastward, and hide thyself by the brook Cherith,
4 And it shall be, that thou shalt drink of the brook; and I have commanded the ravens to feed thee there.
7 And it came to pass after a while, that the brook dried up,
8 And the word of the Lord came unto him, saying,
9 Arise, get thee to Zarephath, which belongeth to Zidon, and dwell there: behold, I have commanded a widow woman there to sustain thee.
10 And when he came to the gate of the city, behold, the widow woman was there gathering of sticks: and he called to her, and said, Fetch me, I pray thee, a little water in a vessel, that I may drink.
11 And as she was going to fetch it, he called to her, and said, Bring me, I pray thee, a morsel of bread in thine hand.
12 And she said, As the Lord thy God liveth, I have not a cake, but an handful of meal in a barrel, and a little oil in a cruse: and, behold, I am gathering two sticks, that I may go in and dress it for me and my son, that we may eat it, and die.
13 And Elijah said unto her, Fear not; go and do as thou hast said: but make me thereof a little cake first, and bring it unto me, and after make for thee and for thy son.
14 For thus saith the Lord God of Israel, The barrel of meal shall not waste, neither shall the cruse of oil fail, until the day that the Lord sendeth rain upon the earth.
15 And she went and did according to the saying of Elijah: and she, and he, and her house, did eat many days.
16 And the barrel of meal wasted not, neither did the cruse of oil fail,
17 And it came to pass after these things, that the son of the woman, the mistress of the house, fell sick; and his sickness was so sore, that there was no breath left in him.
18 And she said unto Elijah, What have I to do with thee, O thou man of God? art thou come unto me to call my sin to remembrance, and to slay my son?
19 And he said unto her, Give me thy son. And he took him out of her bosom, and carried him up into a loft, where he abode, and laid him upon his own bed.
21 And he stretched himself upon the child three times, and cried unto the Lord, and said, O Lord my God, I pray thee, let this child’s soul come into him again.
22 And the Lord heard the voice of Elijah; and the soul of the child came into him again, and he revived.
23 And Elijah took the child, and brought him down out of the chamber into the house, and delivered him unto his mother: and Elijah said, See, thy son liveth.
24 And the woman said to Elijah, Now by this I know that thou art a man of God, and that the word of the Lord in thy mouth is truth.
7۔ خداوند ہر بلا سے تجھے محفوظ رکھے گا۔اور تیری جان کو محفوط رکھے گا۔
8۔ خداوند تیری آمد و رفت میں اب سے ہمیشہ تک تیری حفاظت کرے گا۔
7 The Lord shall preserve thee from all evil: he shall preserve thy soul.
8 The Lord shall preserve thy going out and thy coming in from this time forth, and even for evermore.
1۔ خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہو گی۔
2۔ وہ مجھے ہری ہری چراہگاہوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔
3۔ وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔
4۔ بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا کیونکہ تْو میرے ساتھ ہے۔ تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔
5۔ تْو میرے دشمنوں کے روبرو میرے آگے دستر خوان بچھاتا ہے۔ تْو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔
6۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا۔
1 The Lord is my shepherd; I shall not want.
2 He maketh me to lie down in green pastures: he leadeth me beside the still waters.
3 He restoreth my soul: he leadeth me in the paths of righteousness for his name’s sake.
4 Yea, though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil: for thou art with me; thy rod and thy staff they comfort me.
5 Thou preparest a table before me in the presence of mine enemies: thou anointest my head with oil; my cup runneth over.
6 Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.
الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔۔۔ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔
فضل کا معجزہ محبت کے لئے کوئی معجزہ نہیں ہے۔۔۔مناسب ہدایت کی گئی وجہ جسمانی حس کی غلطی کو سدھارنے کا کام کرتی ہے، لیکن جب تک انسان کی ابدی ہم آہنگی کی سائنس سائنسی ہستی کی مْتصل حقیقت کے ذریعے اْن کی فریب نظری کو ختم نہیں کرتی گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہی نظر آتے رہیں گے (جیسا کہ سوتے ہوئے خوابوں کے تجربات حقیقی دکھائی دیتے ہیں)۔
Divine Love always has met and always will meet every human need. … to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.
The miracle of grace is no miracle to Love. … Reason, rightly directed, serves to correct the errors of corporeal sense; but sin, sickness, and death will seem real (even as the experiences of the sleeping dream seem real) until the Science of man's eternal harmony breaks their illusion with the unbroken reality of scientific being.
مشکلات بشر کو مادی عصا، ایک خستہ نرسل پر نہ جھکناسکھاتی ہیں، جو دل میں چھِید جاتا ہے۔خوشی اور خوشحالی کی دھوپ میں ہم اس کی نیم خیالی نہیں رکھتے۔ غم صحت بخش ہیں۔ بڑی مصیبتوں کے وسیلہ ہم بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔ آزمائشیں خدا کی حفاظت کا ثبوت ہیں۔ روحانی ترقی مادی امیدوں کی مٹی میں پیدا ہونے والے بیج سے نمو نہیں پاتی، بلکہ جب یہ فنا ہوجاتے ہیں، محبت نئے سرے سے روح کی بلند تر خوشیوں کو پروان چڑھاتی ہے، جس پر زمین کا کوئی داغ نہیں ہوتا۔ تجربے کا ہر کامیاب مرحلہ الٰہی اچھائی اور محبت کے نئے نظریات کو کھولتا ہے۔
Trials teach mortals not to lean on a material staff, — a broken reed, which pierces the heart. We do not half remember this in the sunshine of joy and prosperity. Sorrow is salutary. Through great tribulation we enter the kingdom. Trials are proofs of God's care. Spiritual development germinates not from seed sown in the soil of material hopes, but when these decay, Love propagates anew the higher joys of Spirit, which have no taint of earth. Each successive stage of experience unfolds new views of divine goodness and love.
اچھائی انسان کے ہر لمحے کا مطالبہ کرتی ہے جس میں ہستی کے مسئلے کا حل نکا لنا ہوتا ہے۔اچھائی کی تقدیس خدا پر انسان کے انحصار کوکم نہیں کرتی بلکہ اْسے بلند کرتی ہے۔نہ ہی تقدیس خدا کے لئے انسان کے فرائض کو ختم کرتی ہے، بلکہ اْنہیں پورا کرنے کے لئے بڑی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔کرسچن سائنس خدا کی کاملیت سے کچھ نہیں لیتی، مگر پورا جلال یہ اْسی کو منسوب کرتی ہے۔”اپنے چال چلن کی پرانی انسانیت“اتارتے ہوئے انسان ”لافانیت کو پہن لیتے ہیں“۔
ہم فانی عقیدے کی کھائیوں میں غوطہ لگانے سے خدا کی تخلیق کے معیار اور فطرت کو نہیں ناپ سکتے۔ہمیں مادے میں سچائی اور زندگی کو تلاش کرنے کے لئے ہمارے کمزور اضطراب کو الٹانا چاہئے، اور مادی حواس کی شہادت سے اونچا، فانی خیال سے خدا کے لافانی خیال تک اونچا اٹھنا چاہئے۔یہ واضح تراور بلند تر خیالات خدا کے بندے کو اپنی ہستی کے احاطے اور مکمل مرکز تک پہنچنے کے لئے حوصلہ افزائی دیتے ہیں۔
Good demands of man every hour, in which to work out the problem of being. Consecration to good does not lessen man's dependence on God, but heightens it. Neither does consecration diminish man's obligations to God, but shows the paramount necessity of meeting them. Christian Science takes naught from the perfection of God, but it ascribes to Him the entire glory. By putting "off the old man with his deeds," mortals "put on immortality."
We cannot fathom the nature and quality of God's creation by diving into the shallows of mortal belief. We must reverse our feeble flutterings — our efforts to find life and truth in matter — and rise above the testimony of the material senses, above the mortal to the immortal idea of God. These clearer, higher views inspire the Godlike man to reach the absolute centre and circumference of his being.
انسانیت کو یہ سیکھنا چاہئے کہ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔اس کی نام نہاد جبری حکومت عدم کے سوا کچھ نہیں۔کرسچن سائنس بدی کی سلطنت کو لوٹ لیتی ہے اور خاندانوں اسی طرح معاشرے میں امتیازی طور پر محبت اور نیکی کو فروغ دیتی ہے۔
Mankind must learn that evil is not power. Its so-called despotism is but a phase of nothingness. Christian Science despoils the kingdom of evil, and pre-eminently promotes affection and virtue in families and therefore in the community.
ہر دور اور ہر حال میں، بدی پر اچھائی کے ساتھ قابو پائیں۔ خود کو جانیں تو خدا بدی پر فتح مندی کے لئے حکمت اور موقع فراہم کرے گا۔ محبت کے لباس میں ملبوس ہوں، تو انسانی نفرت آپ تک پہنچ نہیں سکتی۔
At all times and under all circumstances, overcome evil with good. Know thyself, and God will supply the wisdom and the occasion for a victory over evil. Clad in the panoply of Love, human hatred cannot reach you.
انسانوں کو دھندلانے والی، متناہی اشکال سے آگے دیکھنا چاہئے، اگر وہ چیزوں کے حقیقی فہم کو حاصل کر سکیں۔ عقل کے نا قابلِ تلاش دائرے کے علاوہ ہم آرام کہاں دیکھ سکتے ہیں؟ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ہم کہاں چلتے ہیں، اور ہمیں اْس سے وہ تمام طاقتیں لیتے ہوئے عمل کرنا چاہئے جس میں ہمارا وجودہے۔
Mortals must look beyond fading, finite forms, if they would gain the true sense of things. Where shall the gaze rest but in the unsearchable realm of Mind? We must look where we would walk, and we must act as possessing all power from Him in whom we have our being.
ابتدا سے آخر تک، پورا کلام پاک مادے پر روح، عقل کی فتح کے واقعات سے بھرپور ہے۔ موسیٰ نے عقل کی طاقت کو اس کے ذریعے ثابت کیا جسے انسان معجزات کہتا ہے؛ اسی طرح یشوع، ایلیاہ اور الیشع نے بھی کیا۔ مسیحی دور کو علامات اور عجائبات کی مدد سے بڑھایا گیا۔
From beginning to end, the Scriptures are full of accounts of the triumph of Spirit, Mind, over matter. Moses proved the power of Mind by what men called miracles; so did Joshua, Elijah, and Elisha. The Christian era was ushered in with signs and wonders.
مسیحت کی تاریخ اْس آسمانی باپ، قادرِمطلق فہم، کے عطا کردہ معاون اثرات اور حفاظتی قوت کے شاندار ثبوتوں کو مہیا کرتی ہے جو انسان کو ایمان اور سمجھ مہیا کرتا ہے جس سے وہ خود کو بچا سکتا ہے نہ صرف آزمائش سے بلکہ جسمانی دْکھوں سے بھی۔
The history of Christianity furnishes sublime proofs of the supporting influence and protecting power bestowed on man by his heavenly Father, omnipotent Mind, who gives man faith and understanding whereby to defend himself, not only from temptation, but from bodily suffering.
معجزہ۔ وہ جو الٰہی طور پر فطری ہو، مگر اْسے انسانی طور پر سمجھا گیا ہو؛ایک سائنسی رجحان۔
Miracle. That which is divinely natural, but must be learned humanly; a phenomenon of Science.
ایک معجزہ خدا کے قانون کو پورا کرتا ہے، لیکن اْس قانون کو توڑتا نہیں۔ یہ حقیقت خود معجزے کی نسبت زیادہ پْر اسرار لگتی ہے۔ زبور نویس نے یہ گایا: ”اے سمندرتجھے کیا ہواکہ تُو بھاگتا ہے؟ اے یردن!تجھے کیا ہوا کہ تو پیچھے ہٹتا ہے؟ اَے پہاڑو! تمکو کیا ہوا کہ تُم مینڈھوں کی طرح اچھلتے ہو؟ اے پہاڑیو! تمکو کیا ہواکہ تُم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتی ہو؟اَے زمین تُو رب کے حضور۔ یعقوب کے خدا کے حضور تھرتھرا۔“ یہ معجزہ کوئی اختلاف متعارف نہیں کراتا، بلکہ خدا کے ناقابل تبدیل قانون کی سائنس کو قائم کرتے ہوئے بنیادی ترتیب کو واضح کرتا ہے۔
A miracle fulfils God's law, but does not violate that law. This fact at present seems more mysterious than the miracle itself. The Psalmist sang: "What ailed thee, O thou sea, that thou fleddest? Thou Jordan, that thou wast driven back? Ye mountains, that ye skipped like rams, and ye little hills, like lambs? Tremble, thou earth, at the presence of the Lord, at the presence of the God of Jacob." The miracle introduces no disorder, but unfolds the primal order, establishing the Science of God's unchangeable law.
روح کے حواس محبت میں بستے ہیں اور وہ سچائی اور زندگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذہ مسیحت اور سائنس جو اِسے بیان کرتے ہیں وہ روحانی فہم پر بنیاد رکھتے ہیں اور وہ مادے کے نام نہاد قوانین پر فوقیت رکھتے ہیں۔
The senses of Spirit abide in Love, and they demonstrate Truth and Life. Hence Christianity and the Science which expounds it are based on spiritual understanding, and they supersede the so-called laws of matter.
اسرائیل کے مقدس کو محدود کرتے ہوئے اور یہ پوچھتے ہوئے یہودیوں کے جرم کو دوہرانا آج خطرناک ہے کہ: ”کیا خدا بیابان میں دستر خوان بچھا سکتا ہے؟“خدا کیا نہیں کر سکتا؟
There is to-day danger of repeating the offence of the Jews by limiting the Holy One of Israel and asking: "Can God furnish a table in the wilderness?" What cannot God do?
کرسچن سائنس کے الٰہی اصول پر عمل پیرا ہوں اورثابت قدمی کے ساتھ حکمت، محبت اور سچائی پر قائم رہتے ہوئے خدا کے احکامات کی پیروی کریں۔
Adhere to the divine Principle of Christian Science and follow the behests of God, abiding steadfastly in wisdom, Truth, and Love.
عقل جسمانی حواس کامالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔۔۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔
Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. … Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.
سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال، کے تعلقات لازوال ہیں؛ اور سائنس بھول چوک جانتی ہے نہ ہم آہنگی کی جانب واپسی، لیکن یہ الٰہی ترتیب یا روحانی قانون رکھتی ہے جس میں خدا اور جو کچھ وہ خلق کرتا ہے کامل اور ابدی ہیں، جو اس کی پوری تاریخ میں غیر متغیر رہے ہیں۔
The relations of God and man, divine Principle and idea, are indestructible in Science; and Science knows no lapse from nor return to harmony, but holds the divine order or spiritual law, in which God and all that He creates are perfect and eternal, to have remained unchanged in its eternal history.
روحانی زندگی اور برکت ہی واحد ثبوت ہیں جن کے وسیلہ ہم حقیقی وجودیت کو پہچان سکتے اور ناقابل بیان امن کو محسوس کرتے ہیں جو سب جذب کرنے والی روحانی محبت سے نکلتا ہے۔
جب ہم کرسچن سائنس میں راستہ جانتے ہیں اور انسان کی روحانی ہستی کو پہچانتے ہیں، ہم خدا کی تخلیق کو سمجھیں اور دیکھیں گے،سارا جلال زمین اور آسمان اور انسان کے لئے۔
Spiritual living and blessedness are the only evidences, by which we can recognize true existence and feel the unspeakable peace which comes from an all-absorbing spiritual love.
When we learn the way in Christian Science and recognize man's spiritual being, we shall behold and understand God's creation, — all the glories of earth and heaven and man.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔