اتوار 15 فروری، 2026



مضمون۔ جان

SubjectSoul

سنہری متن: زبور 25 باب 1 آیت

اے خداوند! مَیں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔



Golden Text: Psalm 25 : 1

Unto thee, O Lord, do I lift up my soul.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



>جوابی مطالعہ: رومیوں 12 باب 2، 9 تا 12، 14، 21 آیات


2۔اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔

9۔ محبت بے ریا ہو۔ بدی سے نفرت رکھو نیکی سے لپٹے رہو۔

10۔ برادرانہ محبت سے آپس میں ایک دوسرے کو پیار کرو۔ عزت کی رو سے ایک دوسرے کو بہتر سَمجھو۔

11۔ کوشش میں سستی نہ کرو۔ روحانی جوش میں بھرے رہو۔ خداوند کی خدمت کرتے رہو۔

12۔امید میں خوش۔ مصیبت میں صابر۔ دعا کرنے میں مشغول رہو۔

14۔ جوتمہیں ستاتے ہیں اُن کے واسطے برکت چاہو۔ برکت چاہو۔ لعنت نہ کرو۔

21۔ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب آؤ۔

Responsive Reading: Romans 12 : 2, 9-12, 14, 21

2.     Be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

9.     Let love be without dissimulation. Abhor that which is evil; cleave to that which is good.

10.     Be kindly affectioned one to another with brotherly love; in honour preferring one another;

11.     Not slothful in business; fervent in spirit; serving the Lord;

12.     Rejoicing in hope; patient in tribulation; continuing instant in prayer;

14.     Bless them which persecute you: bless, and curse not.

21.     Be not overcome of evil, but overcome evil with good.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 ۔ امثال 19 باب 16 (تا؛) آیت

16۔ جو فرمان بجا لاتا ہے اپنی جان کی محافظت کرتا ہے،

1. Proverbs 19 : 16 (to ;)

16     He that keepeth the commandment keepeth his own soul;

2 ۔ پیدائش 6باب 8 (نوح)، 13، 14 (تا؛)، 22 آیات

8۔ مگر نوح خداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔

13۔ اور خدا نے نوح سے کہا کہ تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آ پہنچا ہے کیوں کہ اْن کے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی۔ سو دیکھ میں زمین سمیت اْن کو ہلاک کروں گا۔

14۔ تْو گوپھر کی لکڑی کی ایک کشتی اپنے لئے بنا۔

22۔ اور نوح نے یوں ہی کیا۔ جیسا خدا نے اْسے حکم دیا تھا ویسا ہی عمل کیا۔

2. Genesis 6 : 8 (Noah), 13, 14 (to ;), 22

8     Noah found grace in the eyes of the Lord.

13     And God said unto Noah, The end of all flesh is come before me; for the earth is filled with violence through them; and, behold, I will destroy them with the earth.

14     Make thee an ark of gopher wood;

22     Thus did Noah; according to all that God commanded him, so did he.

3 ۔ پیدائش 7 باب 10، 13، 14 آیات

10۔ اور سات دن کے بعد ایسا ہوا کہ طوفان کا پانی زمین پر آگیا۔

13۔ اْسی روز نوح اور نوح کے بیٹے سَم اور حام اور یافت اور نوح کی بیوی اور اْس کے بیٹوں کی تینوں بیویاں۔

14۔اور ہر قسم کا جانور اور ہر قسم کا چوپایہ اور ہر قسم کا زمین پر رینگنے والا جاندار اور ہر قسم کا پرندہ اور ہر قسم کی چڑیا یہ سب کشتی میں داخل ہوئے۔

3. Genesis 7 : 10, 13, 14

10     And it came to pass after seven days, that the waters of the flood were upon the earth.

13     In the selfsame day entered Noah, and Shem, and Ham, and Japheth, the sons of Noah, and Noah’s wife, and the three wives of his sons with them, into the ark;

14     They, and every beast after his kind, and all the cattle after their kind, and every creeping thing that creepeth upon the earth after his kind, and every fowl after his kind, every bird of every sort.

4 ۔ پیدائش 8 باب 1، 4، 15، 16، 18، 20 (تا؛) آیات

1۔ پھر خدا نے نوح کو اور کْل جانداروں اور کْل چوپایوں کو جو اْس کے ساتھ کشتی میں تھے یاد کیا اور خدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی رْک گیا۔

4۔ اور ساتویں مہینے کی سترھویں تاریخ کو کشتی ارارط کے پہاڑوں پر ٹِک گئی۔

15۔ تب خدا نے نوح سے کہا کہ۔

16۔کشتی سے باہر نکل آ۔ تْو، اور تیرے ساتھ تیری بیوی اور تیرے بیٹے اور تیرے بیٹوں کی بیویاں۔

18۔تب نوح اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں اور اپنے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ باہر نکلا۔

20۔تب نوح نے خداوند کے لئے ایک مذبح بنایا۔

4. Genesis 8 : 1, 4, 15, 16, 18, 20 (to ;)

1     And God remembered Noah, and every living thing, and all the cattle that was with him in the ark: and God made a wind to pass over the earth, and the waters asswaged;

4     And the ark rested in the seventh month, on the seventeenth day of the month, upon the mountains of Ararat.

15     And God spake unto Noah, saying,

16     Go forth of the ark, thou, and thy wife, and thy sons, and thy sons’ wives with thee.

18     And Noah went forth, and his sons, and his wife, and his sons’ wives with him:

20     And Noah builded an altar unto the Lord;

5 ۔ پیدائش 9 باب 1، 8، 9،13، 16 آیات

1۔اور خدا نے نوح اور اْس کے بیٹوں کو برکت دی اور اْن کو کہا کہ بارور ہو اور بڑھو اور زمین کو معمور کرو۔

8۔ اور خدا نے نوح اور اْس کے بیٹوں سے کہا،

9۔دیکھو میں خود تم سے اور تمہارے بعد تمہاری نسل سے۔

13۔ اپنی کمان کو بادل میں رکھتا ہوں۔ وہ میری اور زمین کے درمیان عہد کا نشان ہو گا۔

16۔اور کمان بادل میں ہو گی اور میں اْس پر نگاہ کروں گا تاکہ اْس ابدی عہد کو یاد کروں جو خدا کے اور زمین کے سب طرح کے جانداروں کے درمیان ہے۔

5. Genesis 9 : 1, 8, 9, 13, 16

1     And God blessed Noah and his sons, and said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth.

8     And God spake unto Noah, and to his sons with him, saying,

9     And I, behold, I establish my covenant with you, and with your seed after you;

13     I do set my bow in the cloud, and it shall be for a token of a covenant between me and the earth.

16     And the bow shall be in the cloud; and I will look upon it, that I may remember the everlasting covenant between God and every living creature of all flesh that is upon the earth.

6 ۔ زبور 24 باب 1 تا 6 (تا پہلی۔)، 9، 10 (تا پہلی۔) آیات

1۔ زمین اور اْس کی معموری خداوند ہی کی ہے۔ جہان اور اْس کے باشندے بھی۔

2۔ کیونکہ اْس نے سمندروں پر اْس کی بنیاد رکھی اور سیلابوں پر اْسے قائم کیا۔

3۔ خداوند کے پہاڑ پر کون چڑھے گا اور اْس کے مقدس مقام پر کون کھڑا ہوگا۔

4۔ وہی جس کے ہاتھ صاف ہیں اور جس کا دل پاک ہے۔ جس نے بطالت پر دل نہیں لگایا اور مکر سے قسم نہیں کھائی۔

5۔ وہ خداوند اپنے خدا سے برکت پائے گا۔ ہاں اپنے نجات دینے والے کی طرف سے صداقت۔

6۔ یہی اْس کے طالبوں کی پشت ہے۔ یہی تیرے دیدار کے خواہاں ہیں۔ یعنی یعقوب۔

9۔ اے پھاٹکو!اپنے سر بلند کرو۔اے ابدی دروازو! اونچے ہو جاؤ اور جلال کا بادشاہ داخل ہو گا۔

10۔ یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ لشکروں کا خداوند۔وہی جلال کا بادشاہ ہے۔

6. Psalm 24 : 1-6 (to 1st .), 9, 10 (to 1st .)

1     The earth is the Lord’s, and the fulness thereof; the world, and they that dwell therein.

2     For he hath founded it upon the seas, and established it upon the floods.

3     Who shall ascend into the hill of the Lord? or who shall stand in his holy place?

4     He that hath clean hands, and a pure heart; who hath not lifted up his soul unto vanity, nor sworn deceitfully.

5     He shall receive the blessing from the Lord, and righteousness from the God of his salvation.

6     This is the generation of them that seek him, that seek thy face, O Jacob.

9     Lift up your heads, O ye gates; even lift them up, ye everlasting doors; and the King of glory shall come in.

10     Who is this King of glory? The Lord of hosts, he is the King of glory.

7 ۔ 1 پطرس 2 باب 9 (تم ہو) آیت

9۔لیکن تم ہر ایک برگزیدہ نسل۔ شاہی کاہنوں کا فرقہ۔ مقدس قوم اور ایسی امت ہو جو خدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ اْس کی خوبیاں ظاہر کرو جس نے تمہیں تاریکی سے اپنی عجیب روشنی میں بلایا۔

7. I Peter 2 : 9 (ye are)

9     … ye are a chosen generation, a royal priesthood, an holy nation, a peculiar people; that ye should shew forth the praises of him who hath called you out of darkness into his marvellous light:

8 ۔ اعمال 2 باب 1 تا 8، 12 تا 14 (تا چوتھی،)، 15 (تا دوسری)، 16، 17 (تا پہلی:)، 18 (تا؛)، 19 (تا؛)، 21 آیات

1۔ جب عیدِ پیتیکوست کا وقت آیا تو وہ سب ایک جگہ جمع تھے۔

2۔ کہ یکا یک آسمان سے ایسی آواز آئی جیسے زور کی آندھی کا سناٹا ہوتا ہے اور اْس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گونج گیا۔

3۔ اور اْنہیں آگ کے شعلہ کی سی پھٹتی ہوئی زبانیں دکھائی دیں اور اْن میں سے ہر ایک پر آ ٹھہریں۔

4۔ اور وہ سب روح القدس سے بھر گئے اور غیر زبانیں بولنے لگے جس طرح روح نے اْنہیں بولنے کی طاقت بخشی۔

5۔ اور ہر قوم میں سے جو آسمان کے تلے ہے خدا ترس یہودی یروشلم میں رہتے ہیں۔

6۔ جب یہ آواز آئی تو بھیڑ لگ گئی اور لوگ دنگ ہو گئے کیونکہ ہر ایک کو یہی سنائی دیتا تھا کہ یہ میری ہی بولی بول رہے ہیں۔

7۔ اور سب حیران اور متعجب ہو کر کہنے لگے۔ دیکھو۔ یہ بولنے والے کیا سب گلیلی نہیں؟

8۔ پھر کیونکر ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے وطن کی بولی سنتا ہے؟

12۔ اور سب حیران ہوئے اور گھبرا کر ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے؟

13۔اور بعض نے ٹھٹھا مارکر کہا کہ یہ تازہ مے کے نشہ میں ہیں۔

14۔ لیکن پطرس اْن گیارہ کے ساتھ کھڑا ہوا اور اپنی آواز بلند کر کے لوگوں سے کہا،

15۔ کہ جیسا تم سمجھتے ہو یہ نشہ میں نہیں۔

16۔بلکہ یہ وہ بات ہے جو یوئیل نبی کی معرفت کہی گئی ہے کہ۔

17۔ خدا فرماتا ہے کہ آخری دنوں میں ایسا ہو گا کہ میں اپنے روح میں سے ہر بشر پر ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹیاں نبوت کریں گی اور تمہارے جوان رویا اور تمہارے بْڈھے خواب دیکھیں گے۔

18۔ بلکہ میں اپنے بندوں اوراپنی بندیوں پر بھی اْن دِنوں میں اپنے روح میں سے ڈالوں گا۔

19۔ روح، اور میں اوپر آسمان پر عجیب کام اور نیچے زمین پر نشانیاں دِکھاؤں گا۔

21۔ اور یوں ہو گا کہ جو کوئی خداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔

8. Acts 2 : 1-8, 12-14 (to 4th ,), 15 (to 2nd ,), 16, 17 (to 1st :), 18 (to ;), 19 (to ;), 21

1     And when the day of Pentecost was fully come, they were all with one accord in one place.

2     And suddenly there came a sound from heaven as of a rushing mighty wind, and it filled all the house where they were sitting.

3     And there appeared unto them cloven tongues like as of fire, and it sat upon each of them.

4     And they were all filled with the Holy Ghost, and began to speak with other tongues, as the Spirit gave them utterance.

5     And there were dwelling at Jerusalem Jews, devout men, out of every nation under heaven.

6     Now when this was noised abroad, the multitude came together, and were confounded, because that every man heard them speak in his own language.

7     And they were all amazed and marvelled, saying one to another, Behold, are not all these which speak Galilæans?

8     And how hear we every man in our own tongue, wherein we were born?

12     And they were all amazed, and were in doubt, saying one to another, What meaneth this?

13     Others mocking said, These men are full of new wine.

14     But Peter, standing up with the eleven, lifted up his voice, and said unto them,

15     For these are not drunken, as ye suppose,

16     But this is that which was spoken by the prophet Joel;

17     And it shall come to pass in the last days, saith God, I will pour out of my Spirit upon all flesh:

18     And on my servants and on my handmaidens I will pour out in those days of my Spirit;

19     And I will shew wonders in heaven above, and signs in the earth beneath;

21     And it shall come to pass, that whosoever shall call on the name of the Lord shall be saved.

9 ۔ 1 تھسلنیکیوں 5 باب 9، 11 آیات

9۔ کیونکہ خدا نے ہمیں غضب کے لئے نہیں بلکہ اِس لئے مقرر کیا کہ ہم اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے نجات حاصل کریں۔

11۔ پس تم ایک دوسرے کو تسلی دو اور ایک دوسرے کی ترقی کا باعث بنو۔ چنانچہ تم ایسا کرتے بھی ہو۔

9. I Thessalonians 5 : 9, 11

9     For God hath not appointed us to wrath, but to obtain salvation by our Lord Jesus Christ,

11     Wherefore comfort yourselves together, and edify one another, even as also ye do.

10 ۔ کلسیوں 3 باب 23،24 آیات

23۔ جو کام کرو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ خداوند کے لئے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کے لئے۔

24۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ خداوند کی طرف سے اس کے بدلہ میں تم کو میراث ملے گی۔ تم خداوند مسیح کی خدمت کرتے ہو۔

10. Colossians 3 : 23, 24

23     And whatsoever ye do, do it heartily, as to the Lord, and not unto men;

24     Knowing that of the Lord ye shall receive the reward of the inheritance: for ye serve the Lord Christ.



سائنس اور صح


1 ۔ 482: 9۔ 11 (تا؛)

جیسے کہ کرسچن سائنس میں استعمال کیا گیا ہے،جان روح یا خدا کے لئے موزوں مترادف الفاظ ہیں؛

1. 482 : 9-11 (to ;)

As used in Christian Science, Soul is properly the synonym of Spirit, or God;

2 ۔ 70 :12۔ 16

الٰہی عقل سبھی شناختوں کو،بطور منفرد اور ابدی، گھاس کاٹنے والی تلوار تا ستارے تک، محفوظ رکھتا ہے۔سوالات یہ ہیں: خدا کی شناختیں کیا ہیں؟ جان کیا ہے؟ کیا زندگی یا جان بنائی گئی چیز میں موجود ہوتی ہے؟

2. 70 : 12-16

The divine Mind maintains all identities, from a blade of grass to a star, as distinct and eternal. The questions are: What are God's identities? What is Soul? Does life or soul exist in the thing formed?

3 ۔ 71 :7۔9

جان روح، خدا، خالق، حکمران محدود شکل سے باہر لامحدود اصول کا مترادف لفظ ہے، جو صرف عکس کی تشکیل کرتا ہے۔

3. 71 : 7-9

Soul is synonymous with Spirit, God, the creative, governing, infinite Principle outside of finite form, which forms only reflect.

4 ۔ 477: 22۔ 26

جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

انسان روح کا اظہار۔

4. 477 : 22-26

Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

Man is the expression of Soul.

5 ۔ 427 :2۔ 7

زندگی جان کا قانون ہے، حتیٰ کہ سچائی کی روح کا قانون بھی، اور جان کسی نمائندہ کارکے بغیر کبھی نہیں ہوتی۔ انسان کی انفرادیت اپنے ضمیر میں کبھی مر سکتی ہے نہ غائب ہو سکتی ہے جیسے کہ جان ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں لافانی ہیں۔

5. 427 : 2-7

Life is the law of Soul, even the law of the spirit of Truth, and Soul is never without its representative. Man's individual being can no more die nor disappear in unconsciousness than can Soul, for both are immortal.

6 ۔ 481: 28۔ 32

جان انسان کا الٰہی اصول ہے اور یہ کبھی گناہ نہیں کرتی، لہٰذہ جان لافانی ہے۔ سائنس میں ہم سیکھتے ہیں کہ یہ مادی فہم ہے نہ کہ جان ہے جو گناہ کرتی ہے اور یہ دیکھا جائے گا کہ یہ گناہ کا فہم ہی ہوتا ہے جو کھو جاتا ہے نہ کہ گناہ آلودہ جان ہے۔

6. 481 : 28-32

Soul is the divine Principle of man and never sins, — hence the immortality of Soul. In Science we learn that it is material sense, not Soul, which sins; and it will be found that it is the sense of sin which is lost, and not a sinful soul.

7 ۔ 322: 3۔ 15، 26۔ 32 اگلا صفحہ

جب مادی سے روحانی بنیادوں پر زندگی اور ذہانت کا فہم اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتا ہے،تو ہمیں زندگی کی حقیقت میسر آئے گی، یعنی فہم پر روح کا قابو، تو ہم مسیحت یا سچائی کو اس کے الٰہی اصول میں پائیں گے۔کسی ہم آہنگ اور فانی انسان کے حاصل ہونے اور اْس کی قابلیتوں کے اظہار سے قبل یہ ایک نقطۂ عروج ہونا چاہئے۔ الٰہی سائنس کی شناخت ہونے سے قبل اس عظیم کام کی تکمیل کو دیکھتے ہوئے، الٰہی اصول سے اپنے خیالات کو ہٹانا بہت اہم ہے، تاکہ محدود عقیدے کو اس کی غلطی سے دستبردار ہونے کے لئے تیار کیا جا سکے۔

انسان کی دانش گناہ میں تسکین نہیں پاتی،چونکہ خدا نے گناہ کو دْکھ سہنے کی سزا سنائی ہے۔

مادے کی فرضی زندگی پر عقیدے کے تیز ترین تجربات، اِس کے علاوہ ہماری مایوسیاں اور نہ ختم ہونے والی پریشانیاں ہمیں الٰہی محبت کی بانہوں میں تھکے ہوئے بچوں کی مانند پہنچاتے ہیں۔پھر ہم الٰہی سائنس میں زندگی کو سیکھنا شروع کرتے ہیں۔ رہائی کے اِس عمل کے بغیر، ”کیا تْو تلاش سے خدا کو پا سکتا ہے؟“کسی شخص کا خود کو غلطی سے بچانے کی نسبت سچائی کی خواہش رکھنا زیادہ آسان ہے۔بشر کرسچن سائنس کے فہم کی تلاش کر سکتے ہیں، مگر وہ کرسچن سائنس میں سے ہستی کے حقائق کو جدوجہد کے بغیر چننے کے قابل نہیں ہوں گے۔یہ اختلاف ہر قسم کی غلطی کو ترک کرنے اور اچھائی کے علاوہ کوئی دوسرا شعور نہ رکھنے کی کوشش کرنے پر مشتمل ہے۔

محبت کی صحت بخش تادیب کے وسیلہ راستبازی، امن اور پاکیزگی کی جانب ہماری پیش قدمی میں مدد کی جاتی ہے، جو کہ سائنس کے امتیازی نشانات ہیں۔ سچائی کے لامتنا ہی کاموں کو دیکھتے ہوئے، ہم رْکتے ہیں، خدا کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر ہم اْس وقت تک آگے نہیں بڑھتے ہیں جب تک لامحدود خیال وجد میں نہیں آتا، اور غیر مصدقہ نظریے کو الٰہی جلال تک اونچا نہیں اڑایا جاتا۔

مزید سمجھنے کے لئے، جو ہم پہلے سے جانتے ہیں اْسے اور عمل میں لانا ہوگا۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حق کو جب سمجھا جاتا ہے تو وہ قابل ا ثبات ہوگا، اور یہ کہ اچھائی تب تک نہیں سمجھی جا تی جب تک اْسے ظاہر نہ کیا جائے۔اگر ”تھوڑے میں دیانتدار ہیں“، تو ہمیں زیادہ کا مختار بنایا جائے گا؛ لیکن ایک غیر استعمال شدہ صلاحیت فنا ہوجاتی اور کھو جاتی ہے۔جب بیمار یا گناہگار اپنی ضرورت کی اْس چیز کے لئے خود کو بیدار محسوس کرتے ہیں جو اْن کے پاس نہیں ہوتی، تو وہ الٰہی سائنس کے قبول کرنے والے ہوں گے، جو روح کی جانب کشش رکھتی ہے اور مادی فہم سے دور ہوتی جاتی ہے، بدن سے خیالات کو ختم کرتی ہے، اور فانی عقل کو بیماری یا گناہ کی نسبت کسی بہتر چیز کی فکر کے لئے سر بلند کرتی ہے۔خدا کا حقیقی تصور زندگی اور محبت کی حقیقی سمجھ عطا کرتا ہے، فتح کی قبر چْرا لیتا ہے، تمام گناہوں اور اِس فریب نظری کو دور کردیتا ہے کہ یہاں اور عقلیں بھی موجود ہیں اور یہ فانیت کو نیست کرتا ہے۔

کرسچن سائنس کے اثرات اِس قدر دیکھے نہیں جا تے جتنے کہ یہ محسوس کئے جاتے ہیں۔ یہ سچائی کی ”دبی ہوئی ہلکی آواز“ ہے جو خود سے مخاطب ہے۔یا تو ہم اِس آواز سے دور بھاگ رہے ہیں یا ہم اِسے سْن رہے ہیں اور اْونچے ہو رہے ہیں۔

7. 322 : 3-15, 26-32 next page

When understanding changes the standpoints of life and intelligence from a material to a spiritual basis, we shall gain the reality of Life, the control of Soul over sense, and we shall perceive Christianity, or Truth, in its divine Principle. This must be the climax before harmonious and immortal man is obtained and his capabilities revealed. It is highly important — in view of the immense work to be accomplished before this recognition of divine Science can come — to turn our thoughts towards divine Principle, that finite belief may be prepared to relinquish its error.

Man's wisdom finds no satisfaction in sin, since God has sentenced sin to suffer.

The sharp experiences of belief in the supposititious life of matter, as well as our disappointments and ceaseless woes, turn us like tired children to the arms of divine Love. Then we begin to learn Life in divine Science. Without this process of weaning, "Canst thou by searching find out God?" It is easier to desire Truth than to rid one's self of error. Mortals may seek the understanding of Christian Science, but they will not be able to glean from Christian Science the facts of being without striving for them. This strife consists in the endeavor to forsake error of every kind and to possess no other consciousness but good.

Through the wholesome chastisements of Love, we are helped onward in the march towards righteousness, peace, and purity, which are the landmarks of Science. Beholding the infinite tasks of truth, we pause, — wait on God. Then we push onward, until boundless thought walks enraptured, and conception unconfined is winged to reach the divine glory.

In order to apprehend more, we must put into practice what we already know. We must recollect that Truth is demonstrable when understood, and that good is not understood until demonstrated. If "faithful over a few things," we shall be made rulers over many; but the one unused talent decays and is lost. When the sick or the sinning awake to realize their need of what they have not, they will be receptive of divine Science, which gravitates towards Soul and away from material sense, removes thought from the body, and elevates even mortal mind to the contemplation of something better than disease or sin. The true idea of God gives the true understanding of Life and Love, robs the grave of victory, takes away all sin and the delusion that there are other minds, and destroys mortality.

The effects of Christian Science are not so much seen as felt. It is the "still, small voice" of Truth uttering itself. We are either turning away from this utterance, or we are listening to it and going up higher.

8 ۔ 62: 11۔ 27

انسان کی بلند فطرت کمتر کی حکمرانی تلے نہیں ہوتی؛ اگر ایسا ہوتا، تو حکمت کی ترتیب اْلٹ ہوجاتی۔ زندگی سے متعلق ہمارے جھوٹے خیالات ابدی ہم آہنگی کو چھپاتے ہیں، اور وہ بیماری پیدا کرتے ہیں جس کی ہم شکایت کرتے ہیں۔چونکہ بشر مادی قوانین پر یقین رکھتے اور عقل کی سائنس کو رد کرتے ہیں، تو یہ مادیت کو اول اور جان کے اعلیٰ قانون کو آخر نہیں بنا تا۔ آپ کبھی نہیں سوچیں گے کہ پلمونری بیماری سے بچنے کے لیے فلالین کنڑول کرنے والی عقل سے بہتر ہے، اگر آپ ہستی کی سائنس کو سمجھتے ہیں۔

سائنس میں انسان روح کی اولاد ہے۔ اْس کا نسب خوبصورت، اچھائی اور پاکیزگی تشکیل دیتی ہے۔ اْس کا اصل، بشر کی مانند، وحشی جبلت میں نہیں اور نہ ہی وہ ذہانت تک پہنچنے سے پہلے مادی حالات سے گزرتا ہے۔ روح اْس کی ہستی کا ابتدائی اور اصلی منبع ہے؛ خدا اْس کا باپ ہے، اور زندگی اْس کی ہستی کا قانون ہے۔

8. 62 : 27-11

The higher nature of man is not governed by the lower; if it were, the order of wisdom would be reversed. Our false views of life hide eternal harmony, and produce the ills of which we complain. Because mortals believe in material laws and reject the Science of Mind, this does not make materiality first and the superior law of Soul last. You would never think that flannel was better for warding off pulmonary disease than the controlling Mind, if you understood the Science of being.

In Science man is the offspring of Spirit. The beautiful, good, and pure constitute his ancestry. His origin is not, like that of mortals, in brute instinct, nor does he pass through material conditions prior to reaching intelligence. Spirit is his primitive and ultimate source of being; God is his Father, and Life is the law of his being.

9 ۔ 67 :18۔ 29

جب ہم یہ یاد کرتے ہیں کہ روحانی عروج کے وسیلہ ہمارے خداوند یا مالک نے بیمار کو شفا دی، مردے کو زندہ کیا اور حتیٰ کہ ہواؤں اور لہروں کو اْس کی تابعداری کرنے کا حکم دیا تویہ عام تصور کہ حیوانی فطرت کسی کردار کو قوت فراہم کر سکتی ہے نہایت مضحکہ خیز ہے۔فضل اور سچائی دیگر سبھی ذرائع اور طریقہ کاروں سے زیادہ قوی ہیں۔

معروف مسیحت کے محدود اظہار میں روحانی طاقت میں کمی صدیوں کی محنت کو خاموش نہیں کرتی۔ جسمانی کی بجائے روحانی ضمیر کی ضرورت ہے۔گناہ، بیماری اور موت سے رہا شدہ انسان حقیقی شبیہ یا روحانی خیال کو پیش کرتا ہے۔

9. 67 : 18-29

The notion that animal natures can possibly give force to character is too absurd for consideration, when we remember that through spiritual ascendency our Lord and Master healed the sick, raised the dead, and commanded even the winds and waves to obey him. Grace and Truth are potent beyond all other means and methods.

The lack of spiritual power in the limited demonstration of popular Christianity does not put to silence the labor of centuries. Spiritual, not corporeal, consciousness is needed. Man delivered from sin, disease, and death presents the true likeness or spiritual ideal.

10 ۔ 9 :17۔ 23

”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔ اس میں زندگی کی سائنس شامل ہے اور یہ روح پر الٰہی قابو کی شناخت کرتی ہے، جس میں ہماری روح ہماری مالک بن جاتی ہے۔

10. 9 : 17-23 (to 2nd ,)

Dost thou "love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind"? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity. It involves the Science of Life, and recognizes only the divine control of Spirit, in which Soul is our master,


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔