اتوار 15 مارچ، 2026



مضمون۔ مواد

SubjectSubstance

سنہری متن: امثال 10 باب 22 آیت

خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اس کے ساتھ دْکھ نہیں ملاتا۔



Golden Text: Proverbs 10 : 22

The blessing of the Lord, it maketh rich, and he addeth no sorrow with it.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: عبرانیوں 11 باب 3، 8، 10، 24 تا 27 آیات


3۔ ایمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ عالم خدا کے کہنے سے بنے ہیں۔ یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ظاہری چیزوں سے بنا ہے۔

8۔ ایمان ہی کے سبب سے ابراہام جب بلایا گیاتو حکم مان کر اْس جگہ چلا گیا جسے میراث میں لینے والا تھا اور اگرچہ جانتا نہ تھا کہ مَیں کہاں جاتا ہوں تو بھی روانہ ہوا۔

10۔ کیونکہ اْس پائیدار شہر کا اْمیدوار تھا جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے۔

24۔ ایمان ہی سے موسیٰ نے بڑے ہو کر فرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے انکار کیا۔

25۔اس لئے کہ اْس نے گناہ کا چند روزہ لطف اْٹھانے کی نسبت خدا کی اْمت کے ساتھ بد سلوکی برداشت کرنا زیادہ پسند کیا۔

26۔اور مسیح کے لئے لعن طعن اْٹھانے کو مصر کے خزانوں سے بڑی دولت جانا کیونکہ اْس کی نگاہ اجر پانے پر تھی۔

27۔ ایمان ہی سے اْس نے بادشاہ کے غصے کا خوف نہ کر کے مصر کو چھوڑ دیا۔ اِس لئے کہ وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم رہا۔

Responsive Reading: Hebrews 11 : 3, 8, 10, 24-27

3.     Through faith we understand that the worlds were framed by the word of God, so that things which are seen were not made of things which do appear.

8.     By faith Abraham, when he was called to go out into a place which he should after receive for an inheritance, obeyed; and he went out, not knowing whither he went.

10.     For he looked for a city which hath foundations, whose builder and maker is God.

24.     By faith Moses, when he was come to years, refused to be called the son of Pharaoh’s daughter;

25.     Choosing rather to suffer affliction with the people of God, than to enjoy the pleasures of sin for a season;

26.     Esteeming the reproach of Christ greater riches than the treasures in Egypt: for he had respect unto the recompence of the reward.

27.     By faith he forsook Egypt, not fearing the wrath of the king: for he endured, as seeing him who is invisible.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 ۔ زبور 36 باب 7 تا 9 آیات

7۔ اے خداوند تیری شفقت کیا ہی بیش قیمت ہے بنی آدم تیرے بازوؤں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔

8۔ وہ تیرے گھر کی نعمتوں سے خوب آسودہ ہوں گے۔ تْو اْن کو اپنی خوشنودی کے دریا سے پلائے گا۔

9۔ کیونکہ زندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے۔تیرے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھیں گے۔

1. Psalm 36 : 7-9

7     How excellent is thy lovingkindness, O God! therefore the children of men put their trust under the shadow of thy wings.

8     They shall be abundantly satisfied with the fatness of thy house; and thou shalt make them drink of the river of thy pleasures.

9     For with thee is the fountain of life: in thy light shall we see light.

2 ۔ زبور 139 باب 14، 15، 17 آیات

14۔ مَیں تیرا شکر کروں گا کیونکہ مَیں عجیب و غریب طور سے بنا ہوں۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دل اِسے خوب جانتا ہے۔

15۔ جب مَیں پوشیدگی میں بن رہا تھا اور زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مرتب ہو رہا تھا تو میرا قالب تجھ سے چھِپا نہ تھا۔

17۔ اے خدا! تیرے خیال میرے لئے کیسے بیش بہا ہیں۔ اْن کا مجموعہ کیسا بڑا ہے؟

2. Psalm 139 : 14, 15, 17

14     I will praise thee; for I am fearfully and wonderfully made: marvellous are thy works; and that my soul knoweth right well.

15     My substance was not hid from thee, when I was made in secret, and curiously wrought in the lowest parts of the earth.

17     How precious also are thy thoughts unto me, O God! how great is the sum of them!

3 ۔ 2 سلاطین 4 باب 1 تا 7 آیات

1۔ اور انبیاء زادوں کی بیویوں میں سے ایک عورت نے الیشع سے فریاد کی اور کہنے لگی کہ تیرا خادم میرا شوہر مر گیا ہے اور تو جانتاہے کہ تیرا خادم خداوند سے ڈرتا تھا۔ سو اب قرض خواہ آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے تاکہ وہ غلام بنیں۔

2۔ الیشع نے اْس سے کہا مَیں تیرے لئے کیا کروں؟مجھے بتا تیرے پاس گھر میں کیا ہے؟ اْس نے کہا تیری لونڈی کے پاس گھر میں ایک پیالہ تیل کے سوا کچھ نہیں۔

3۔ تب اْس نے کہا تْو جا اور باہر سے اپنے سب ہمسائیوں سے برتن رعایت لے۔ وہ برتن خالی ہوں اور تھوڑے برتن نہ لینا۔

4۔ پھر تْو اپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر اندر جانا اور پیچھے سے دروازہ بند کر لینا اور اْن سب برتنوں میں تیل ڈالنا اور جو بھر جائے اْسے اٹھا کر الگ رکھنا۔

5۔ سو وہ اْس کے پاس سے گئی اور اْس نے اپنے بیٹوں کو اندر ساتھ لے کر دروازہ بند کر لیااور وہ اْس کے پاس لاتے جاتے تھے اور وہ انڈیلتی جاتی تھی۔

6۔ جب وہ برتن بھر گئے تو اْس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے پاس ایک اور برتن لا۔اْس نے اْس سے کہا اور تو کوئی برتن رہا نہیں۔تب تیل موقوف ہوگیا۔

7۔ تب اْس نے آکر مردِ خدا کو بتایا۔ اْس نے کہا جا تیل بیچ اور قرض ادا کر اور جو باقی بچ رہے اْس سے تْو اور تیرے بیٹے گْذران کریں۔

3. II Kings 4 : 1-7

1     Now there cried a certain woman of the wives of the sons of the prophets unto Elisha, saying, Thy servant my husband is dead; and thou knowest that thy servant did fear the Lord: and the creditor is come to take unto him my two sons to be bondmen.

2     And Elisha said unto her, What shall I do for thee? tell me, what hast thou in the house? And she said, Thine handmaid hath not any thing in the house, save a pot of oil.

3     Then he said, Go, borrow thee vessels abroad of all thy neighbours, even empty vessels; borrow not a few.

4     And when thou art come in, thou shalt shut the door upon thee and upon thy sons, and shalt pour out into all those vessels, and thou shalt set aside that which is full.

5     So she went from him, and shut the door upon her and upon her sons, who brought the vessels to her; and she poured out.

6     And it came to pass, when the vessels were full, that she said unto her son, Bring me yet a vessel. And he said unto her, There is not a vessel more. And the oil stayed.

7     Then she came and told the man of God. And he said, Go, sell the oil, and pay thy debt, and live thou and thy children of the rest.

4 ۔ امثال 3 باب 9، 10 آیات

9۔ اپنے مال سے اور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھلوں سے خداوند کی تعظیم کر۔

10۔ یوں تیرے کھتے خوب بھرے رہیں گے اور تیرے حوض نئی مے سے لبریز ہونگے۔

4. Proverbs 3 : 9, 10

9     Honour the Lord with thy substance, and with the firstfruits of all thine increase:

10     So shall thy barns be filled with plenty, and thy presses shall burst out with new wine.

5 ۔ متی 4 باب 23 آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

5. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

6 ۔ متی 5 باب 1 (اور جب،)، 2 آیات

1۔۔۔۔ اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان ہوکر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

6. Matthew 5 : 1 (and when), 2

1 …     and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

7 ۔ متی 6 باب 19 تا 21، 24، 25،30 تا 34 (تا پہلی۔) آیات

19۔ اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگا کر چراتے ہیں۔

20۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔

21۔ کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا۔

24۔ کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محبت، یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیزجانے گا۔تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔

25۔ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟

30۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟

31۔ اِس لئے فکر مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے؟

32۔ کیونکہ اِن سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم اِن سب چیزوں کے محتاج ہو۔

33۔ بلکہ تم پہلے اْس کی بادشاہی اور اْس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔

34۔ پس کل کے لئے فکر نہ کرو۔ کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ آج کے لئے آج ہی کا دْکھ کافی ہے۔

7. Matthew 6 : 19-21, 24, 25, 30-34 (to 1st .)

19     Lay not up for yourselves treasures upon earth, where moth and rust doth corrupt, and where thieves break through and steal:

20     But lay up for yourselves treasures in heaven, where neither moth nor rust doth corrupt, and where thieves do not break through nor steal:

21     For where your treasure is, there will your heart be also.

24     No man can serve two masters: for either he will hate the one, and love the other; or else he will hold to the one, and despise the other. Ye cannot serve God and mammon.

25     Therefore I say unto you, Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink; nor yet for your body, what ye shall put on. Is not the life more than meat, and the body than raiment?

30     Wherefore, if God so clothe the grass of the field, which to day is, and to morrow is cast into the oven, shall he not much more clothe you, O ye of little faith?

31     Therefore take no thought, saying, What shall we eat? or, What shall we drink? or, Wherewithal shall we be clothed?

32     (For after all these things do the Gentiles seek:) for your heavenly Father knoweth that ye have need of all these things.

33     But seek ye first the kingdom of God, and his righteousness; and all these things shall be added unto you.

34     Take therefore no thought for the morrow: for the morrow shall take thought for the things of itself.

8 ۔ 2 کرنتھیوں 5 باب 1 تا 9 آیات

1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

2۔ چنانچہ ہم اس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے ملبس ہو جائیں۔

3۔ تاکہ ملبس ہونے کے باعث ننگے نہ پائے جائیں۔

4۔ کیونکہ ہم اس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ لباس اتارنا چاہتے ہیں بلکہ اس پر اور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔

5۔ اور جس نے ہم کو اِس بات کے لئے تیار کیا وہ خدا ہے اور اسی نے ہمیں روح بیعانہ میں دیا۔

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔

7۔ (کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔)

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہوکر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

9۔ اِسی واسطے ہم یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وطن میں ہوں خواہ جلاوطن اْس کو خوش کریں۔

8. II Corinthians 5 : 1-9

1     For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.

2     For in this we groan, earnestly desiring to be clothed upon with our house which is from heaven:

3     If so be that being clothed we shall not be found naked.

4     For we that are in this tabernacle do groan, being burdened: not for that we would be unclothed, but clothed upon, that mortality might be swallowed up of life.

5     Now he that hath wrought us for the selfsame thing is God, who also hath given unto us the earnest of the Spirit.

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

9     Wherefore we labour, that, whether present or absent, we may be accepted of him.

9 ۔ کْلسیوں 3 باب 1، 2 آیات

1۔ پس جب تم مسیح کے ساتھ جِلائے گئے تو عالم بالا کی چیزوں کی تلاش میں رہو جہاں مسیح موجود ہے اور خدا کی دہنی طرف بیٹھا ہے۔

2۔ عالم بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین کی چیزوں کے۔

9. Colossians 3 : 1, 2

1     If ye then be risen with Christ, seek those things which are above, where Christ sitteth on the right hand of God.

2     Set your affection on things above, not on things on the earth.

10 ۔ رومیوں 8 باب 28 آیت

28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

10. Romans 8 : 28

28     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.



سائنس اور صح


1 ۔ 468: 16۔24

سوال۔ مواد کیا ہے؟

جواب۔ مواد وہ ہے جو ابدی ہے اور نیست ہونے اور مخالفت سے عاجز ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت مواد ہیں، جیسے کہ کلام عبرانیوں میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہے: ”ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“روح، جو فہم،جان، یا خدا کا مترادف لفظ ہے، واحد حقیقی مواد ہے۔ روحانی کائنات، بشمول انفرادی انسان، ایک مشترک خیال ہے، جو روح کے الٰہی مواد کی عکاسی کرتا ہے۔

1. 468 : 16-24

Question. — What is substance?

Answer. — Substance is that which is eternal and incapable of discord and decay. Truth, Life, and Love are substance, as the Scriptures use this word in Hebrews: "The substance of things hoped for, the evidence of things not seen." Spirit, the synonym of Mind, Soul, or God, is the only real substance. The spiritual universe, including individual man, is a compound idea, reflecting the divine substance of Spirit.

2 ۔ 516 :4۔8

مواد، زندگی، ذہانت، سچائی اور محبت جو خدائے واحد کو متعین کرتے ہیں، اْس کی مخلوق سے منعکس ہوتے ہیں؛ اور جب ہم جسمانی حواس کی جھوٹی گواہی کو سائنسی حقائق کے ماتحت کر دیتے ہیں، تو ہم اس حقیقی مشابہت اور عکس کوہرطرف دیکھیں گے۔

2. 516 : 4-8

The substance, Life, intelligence, Truth, and Love, which constitute Deity, are reflected by His creation; and when we subordinate the false testimony of the corporeal senses to the facts of Science, we shall see this true likeness and reflection everywhere.

3 ۔ 124: 14۔19، 25۔ 26 (تا پہلی۔)

کائنات کو، انسان کی مانند، اس کے الٰہی اصول، خدا، کی طرف سے سائنس کے ذریعے واضح کیا جانا چاہئے، تو پھر اسے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب اسے جسمانی حواس کی بنیاد پر واضح کیا جاتا ہے اور نشوونما، بلوغت اور زوال کے ماتحت ہوتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے،تو کائنات، انسان کی مانند، ایک معمہ بن جاتا ہے اوریہ جاری رکھنا چاہئے۔

روح تمام چیزوں کی زندگی، مواد اور تواتر ہے۔

3. 124 : 14-19, 25-26 (to 1st .)

The universe, like man, is to be interpreted by Science from its divine Principle, God, and then it can be understood; but when explained on the basis of physical sense and represented as subject to growth, maturity, and decay, the universe, like man, is, and must continue to be, an enigma.

Spirit is the life, substance, and continuity of all things.

4 ۔ 278: 4۔ 22

روح الٰہی سائنس کا تسلیم شْدہ واحد مواد اور شعور ہے۔مادی حواس اِس کی مخالفت کرتے ہیں، مگر یہاں کوئی مادی حواس ہیں ہی نہیں کیونکہ مادے میں عقل نہیں ہے۔ روح میں کوئی مادا نہیں ہے، حتیٰ کہ جیسے سچائی میں کوئی غلطی نہیں، اور اچھائی میں کوئی بدی نہیں ہے۔ یہ ایک جھوٹا مفروضہ، تصور ہے کہ یہاں کوئی مادی مواد، روح کا مخالف ہے۔روح، خدا، لامحدود، سب کچھ ہے۔ روح کا کوئی مخالف نہیں ہوسکتا۔

بشر کے جھوٹے عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ مادا اصلی ہے یا اِس میں احساس اور زندگی ہے، اور یہ عقیدہ صرف ایک فرضی فانی شعور میں موجود ہوتا ہے۔ لہٰذہ، جب ہم روح اور سچائی تک رسائی پاتے ہیں ہم مادے کا شعور کھو دیتے ہیں۔اس بات کے اعتراف کے لئے کہ فانی مواد ہوسکتا ہے ایک اور اعتراف کی ضرورت ہے، یعنی، کہ روح لامحدود نہیں اور کہ مادہ خود تخلیقی، خود موجود، اور ابدی ہے۔اِس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہاں دو ابدی وجوہات ہیں، جو ہمیشہ ایک دوسرے کی متحارب رہتی ہیں؛ تاہم پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ روح اعلیٰ اور ہر جا موجود ہے۔

4. 278 : 4-22

Spirit is the only substance and consciousness recognized by divine Science. The material senses oppose this, but there are no material senses, for matter has no mind. In Spirit there is no matter, even as in Truth there is no error, and in good no evil. It is a false supposition, the notion that there is real substance-matter, the opposite of Spirit. Spirit, God, is infinite, all. Spirit can have no opposite.

That matter is substantial or has life and sensation, is one of the false beliefs of mortals, and exists only in a supposititious mortal consciousness. Hence, as we approach Spirit and Truth, we lose the consciousness of matter. The admission that there can be material substance requires another admission, — namely, that Spirit is not infinite and that matter is self-creative, self-existent, and eternal. From this it would follow that there are two eternal causes, warring forever with each other; and yet we say that Spirit is supreme and all-presence.

5 ۔ 301 :17۔ 29

جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔ مادی انسان خود کو مادی مواد دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسان ”شبیہ“ (خیال) ہے۔فریب نظری، گناہ، بیماری اور موت مادی فہم کی جھوٹی گواہی سے جنم لیتے ہیں، جو لا محدود روح کے مرکزی فاصلے سے باہر ایک فرضی نظریے سے، عقل اور اصل کی پلٹی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے، جس میں ہر چیز اوپر سے نیچے اْلٹ ہوئی ہوتی ہے۔

5. 301 : 17-29

As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind. Mortal man seems to himself to be material substance, while man is "image" (idea). Delusion, sin, disease, and death arise from the false testimony of material sense, which, from a supposed standpoint outside the focal distance of infinite Spirit, presents an inverted image of Mind and substance with everything turned upside down.

6 ۔ 530: 5۔ 12

الٰہی سائنس میں، انسان خدایعنی ہستی کے الٰہی اصول کے وسیلہ قائم رہتا ہے۔ زمین، خدا کے حکم پر، انسان کے استعمال کے لئے خوراک پیدا کرتی ہے۔یہ جانتے ہوئے، یسوع نے ایک بار کہا، ”اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے اورکیا پئیں گے،“اپنے خالق کا استحقاق فرض کرتے ہوئے نہیں بلکہ خدا جو سب کا با پ اور ماں ہے، اْسے سمجھتے ہوئے کہ وہ ایسے ہی انسان کو خوراک اور لباس فراہم کرنے کے قابل ہے جیسے وہ سوسن کے پھولوں کو کرتا ہے۔

6. 530 : 5-12

In divine Science, man is sustained by God, the divine Principle of being. The earth, at God's command, brings forth food for man's use. Knowing this, Jesus once said, "Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink," — presuming not on the prerogative of his creator, but recognizing God, the Father and Mother of all, as able to feed and clothe man as He doth the lilies.

7 ۔ 494: 10۔ 19

الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔ اس بات کا تصور کرنا مناسب نہیں کہ یسوع نے محض چند مخصوص تعداد میں یا محدود عرصے تک شفا دینے کے لئے الٰہی طاقت کا مظاہرہ کیا، کیونکہ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔

فضل کا معجزہ محبت کے لئے کوئی معجزہ نہیں ہے۔ یسوع نے مادیت کی نااہلیت کو اس کے ساتھ ساتھ روح کی لامحدود قابلیت کو ظاہر کیا، یوں غلطی کرنے والے انسانی فہم کو خود کی سزاؤں سے بھاگنے اور الٰہی سائنس میں تحفظ تلاش کرنے میں مدد کی۔

7. 494 : 10-19

Divine Love always has met and always will meet every human need. It is not well to imagine that Jesus demonstrated the divine power to heal only for a select number or for a limited period of time, since to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.

The miracle of grace is no miracle to Love. Jesus demonstrated the inability of corporeality, as well as the infinite ability of Spirit, thus helping erring human sense to flee from its own convictions and seek safety in divine Science.

8 ۔ 204: 30 (عقیدہ)۔ 6

یہ عقیدہ کہ خدا مادے میں رہتا ہے شِرک ہے۔ وہ غلطی جو کہتی ہے کہ روح بدن میں ہے، عقل مادے میں ہے، اور اچھائی بدی میں ہے اْسے اپنے یہ الفاظ واپس لینے چاہئیں اور ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے؛ وگرنہ خدا انسانیت سے پوشیدہ رہنا جاری رکھے گا اور بشر یہ جانے بغیر کہ وہ گناہ کر رہے ہیں گناہ کرتے رہیں گے، روح کی بجائے مادے کی طرف رجوح کریں گے، لنگڑے پن سے لڑکھڑائیں گے، نشے میں گریں گے، بیماری سے فنا ہوں گے، یہ سب اْن کے اندھے پن، خدا اور انسان سے متعلق اْن کے جھوٹے فہم کے سبب ہوگا۔

8. 204 : 30 (The belief)-6

The belief that God lives in matter is pantheistic. The error, which says that Soul is in body, Mind is in matter, and good is in evil, must unsay it and cease from such utterances; else God will continue to be hidden from humanity, and mortals will sin without knowing that they are sinning, will lean on matter instead of Spirit, stumble with lameness, drop with drunkenness, consume with disease, — all because of their blindness, their false sense concerning God and man.

9 ۔ 60 :3۔ 29

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔ صرف بلند لطف ہی لافانی انسان کے نقوش کو تسلی بخش بنا سکتے ہیں۔ ہم ذاتی فہم کی حدود میں خوشی کو محدود نہیں کر سکتے۔حواس کوئی حقیقی لطف عطا نہیں کرتے۔

9. 60 : 29-3

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul. Higher enjoyments alone can satisfy the cravings of immortal man. We cannot circumscribe happiness within the limits of personal sense. The senses confer no real enjoyment.

10 ۔ 280: 1 صرف، 6۔ 8، 4۔ 30

عقل کی لامحدودیت میں، مادہ یقیناً گمنام ہوگا۔۔۔ تمام تر خوبصورت اور بے ضرر چیزیں عقل کے خیالات ہیں۔ عقل انہیں خلق کرتی اور انہیں بڑھاتی ہے، اور یہ پیداوار ذہنی ہوتی ہے۔

انسانی خیالات پر غور کرنے اور ہستی کی سائنس کو رد کرنے کا صرف ایک عْذر روح سے متعلق ہماری لا علمی ہے، وہ لاعلمی جو صرف الٰہی سائنس کے ادراک کو تسلیم کرتی ہے، ایسا ادراک جس کے وسیلہ ہم زمین پر سچائی کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں اور یہ سیکھتے ہیں کہ روح لامحدود اور نہایت اعلیٰ ہے۔

10. 280 : 1 only, 6-8, 30-4

In the infinitude of Mind, matter must be unknown. … All things beautiful and harmless are ideas of Mind. Mind creates and multiplies them, and the product must be mental.

The only excuse for entertaining human opinions and rejecting the Science of being is our mortal ignorance of Spirit, — ignorance which yields only to the understanding of divine Science, the understanding by which we enter into the kingdom of Truth on earth and learn that Spirit is infinite and supreme.

11 ۔ 519: 11۔ 21

انسانی صلاحیت، اِس کی روحانی ابتدا کو ظاہر کرتے ہوئے، خدا کی تخلیق اور اْس قوت اور حضوری کوسمجھنے اور جاننے کے لئے دھیمی ہے جو اِس کے ساتھ چلتی ہے۔ انسان لامحدود کو کبھی نہیں جان سکتے جب تک کہ وہ پرانی انسانیت کو اتارتے نہیں اور روحانی شبیہ اور صورت تک نہیں پہنچتے۔لامحدودیت کو کون ناپ سکتا ہے! رسول کی زبانی، ہم اْس کا اقرار کیسے کر سکتے ہیں جب تک ”ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں“؟

11. 519 : 11-21

Human capacity is slow to discern and to grasp God's creation and the divine power and presence which go with it, demonstrating its spiritual origin. Mortals can never know the infinite, until they throw off the old man and reach the spiritual image and likeness. What can fathom infinity! How shall we declare Him, till, in the language of the apostle, "we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ"?

12 ۔ 265: 3۔ 15

جیسے جیسے سچائی اور محبت کی دولت وسعت پاتے ہیں انسان اسی تناسب سے روحانی وجودیت کو سمجھتا ہے۔ بشر کو خدا کی جانب راغب ہونا چاہئے، تو اْن کے مقاصد اور احساسات روحانی ہوں گے، انہیں ہستی کی تشریحات کو وسعت کے قریب تر لانا چاہئے، اور لامتناہی کا مناسب ادراک پانا چاہئے، تاکہ گناہ اور فانیت کو ختم کیا جا سکے۔

ہستی کا یہ سائنسی فہم، روح کے لئے مادے کو ترک کرتے ہوئے، کسی وسیلہ کے بغیر الوہیت میں انسان کے سوکھے پن اوراْس کی شناخت کی گمشْدگی کی تجویز دیتا ہے، لیکن انسان پر ایک وسیع تر انفرادیت نچھاور کرتا ہے،یعنی اعمال اور خیالات کا ایک بڑا دائرہ، وسیع محبت اور ایک بلند اورمزید مستقل امن عطا کرتا ہے۔

12. 265 : 3-15

Man understands spiritual existence in proportion as his treasures of Truth and Love are enlarged. Mortals must gravitate Godward, their affections and aims grow spiritual, — they must near the broader interpretations of being, and gain some proper sense of the infinite, — in order that sin and mortality may be put off.

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man's absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

13 ۔ 264: 15۔ 19

جب ہمیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی روح ہے، نہ کبھی مادے کا اور نہ کبھی مادے میں، یہ ادراک خدا میں سب کچھ اچھا پاتے ہوئے اور کسی دوسرے شعور کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے، خود کاملیت کی طرف وسیع ہو گا۔

13. 264 : 15-19

When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔