اتوار 19 اپریل، 2026
بیماروں کو اچھا کرنا۔ مردوں کو جلانا۔ کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا۔ بدروحوں کو نکالنا۔ مفت تم نے پایا مفت دینا۔
“Heal the sick, cleanse the lepers, raise the dead, cast out devils: freely ye have received, freely give.”
1۔ اْس زندگی کے کلام کی بابت جو ابتدا سے تھا اور جسے ہم نے سْنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ غور سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے چھوا۔
3۔ جو کچھ ہم نے دیکھا اور سنا ہے تمہیں بھی اْس کی خبر دیتے ہیں تاکہ تم بھی ہمارے شریک ہو اور ہماری شراکت باپ کے ساتھ اور اْس کے بیٹے یسوع مسیح کے ساتھ ہو۔
4۔ اور یہ باتیں ہم اس لئے لکھتے ہیں کہ ہماری خوشی پوری ہو جائے۔
5۔ اْس سے سن کر جو پیغام ہم تمہیں دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا نور ہے اور اْس میں ذرا بھی تاریکی نہیں۔
1۔ دیکھو باپ نے ہم سے کیسی محبت کی ہے کہ ہم خدا کے فرزند کہلائے اور ہم ہیں بھی۔ دنیا ہمیں اِس لئے نہیں جانتی کہ اْس نے اْسے بھی نہیں جانا۔
2۔ عزیزو! ہم جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو ہم بھی اْس کی مانند ہوں گے۔ کیونکہ اْس کو ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے۔
3۔ اور جو کوئی اْس سے یہ امید رکھتا ہے اپنے آپ کو ویسا ہی پاک کرتا ہے جیسا وہ پاک ہے۔
1. That which was from the beginning, which we have heard, which we have seen with our eyes, which we have looked upon, and our hands have handled, of the Word of life;
3. That which we have seen and heard declare we unto you, that ye also may have fellowship with us: and truly our fellowship is with the Father, and with his Son Jesus Christ.
4. And these things write we unto you, that your joy may be full.
5. This then is the message which we have heard of him, and declare unto you, that God is light, and in him is no darkness at all.
1. Behold, what manner of love the Father hath bestowed upon us, that we should be called the sons of God: therefore the world knoweth us not, because it knew him not.
2. Beloved, now are we the sons of God, and it doth not yet appear what we shall be: but we know that, when he shall appear, we shall be like him; for we shall see him as he is.
3. And every man that hath this hope in him purifieth himself, even as he is pure.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔
24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بد روحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔
25۔ اور گلیل اور دکپْلس اور یروشلیم اور یہودیہ اور یردن کے پار بڑی بھیڑ اْس کے پیچھے ہو لی۔
23 And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.
24 And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.
25 And there followed him great multitudes of people from Galilee, and from Decapolis, and from Jerusalem, and from Judæa, and from beyond Jordan.
1۔ وہ اِس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔
2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔
3۔ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اْن ہی کی ہے۔
4۔ مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔
5۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔
6۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہوں گے۔
7۔ مبارک ہیں وہ جو رحم دل ہیں کیونکہ اْن پر رحم کیا جائے گا۔
8۔ مبارک ہیں وہ جو پاکدل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔
9۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔
10۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب سے ستائے گئے کیونکہ آسمان کی بادشاہی اْن ہی کی ہے۔
11۔ جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہو گے۔
12۔ خوشی کرنا اور نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے اِس لئے کہ لوگوں نے اْن نبیوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔
48۔ پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔
1 And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:
2 And he opened his mouth, and taught them, saying,
3 Blessed are the poor in spirit: for theirs is the kingdom of heaven.
4 Blessed are they that mourn: for they shall be comforted.
5 Blessed are the meek: for they shall inherit the earth.
6 Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness: for they shall be filled.
7 Blessed are the merciful: for they shall obtain mercy.
8 Blessed are the pure in heart: for they shall see God.
9 Blessed are the peacemakers: for they shall be called the children of God.
10 Blessed are they which are persecuted for righteousness’ sake: for theirs is the kingdom of heaven.
11 Blessed are ye, when men shall revile you, and persecute you, and shall say all manner of evil against you falsely, for my sake.
12 Rejoice, and be exceeding glad: for great is your reward in heaven: for so persecuted they the prophets which were before you.
48 Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.
22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔
23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟
24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔
25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔
26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟
27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔
28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشای تمہارے پاس آ پہنچی۔
46۔ جب وہ بھیڑ سے یہ کہہ رہا تھا اْس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اْس سے بات کرنا چاہتے تھے۔
47۔ کسی نے اْس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
48۔ اْس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہاکون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟
49۔ اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔
50۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور میری ماں ہے۔
22 Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.
23 And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?
24 But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.
25 And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:
26 And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?
27 And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.
28 But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.
46 While he yet talked to the people, behold, his mother and his brethren stood without, desiring to speak with him.
47 Then one said unto him, Behold, thy mother and thy brethren stand without, desiring to speak with thee.
48 But he answered and said unto him that told him, Who is my mother? and who are my brethren?
49 And he stretched forth his hand toward his disciples, and said, Behold my mother and my brethren!
50 For whosoever shall do the will of my Father which is in heaven, the same is my brother, and sister, and mother.
23۔ اور یسوع ہیکل کے اندر سلیمانی برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔
24۔ پس یہودیوں نے اْس کے گرد جمع ہو کر اْس سے کہا تْو کب تک ہمارے دلوں کو ڈانواں ڈول رکھے گا؟ اگر تْو مسیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔
25۔ یسوع نے اْن سے کہا میں نے تو تم سے کہہ دیا مگر تم یقین نہیں کرتے۔ جو کام میں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں وہی میرے گواہ ہیں۔
26۔ لیکن تم اس لئے یقین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو۔
27۔ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔
28۔ اور میں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔
29۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔
30۔ میں اور باپ ایک ہیں۔
31۔ یہودیوں نے اْسے سنگسار کرنے کے لئے پھر پتھر اٹھائے۔
23 And Jesus walked in the temple in Solomon’s porch.
24 Then came the Jews round about him, and said unto him, How long dost thou make us to doubt? If thou be the Christ, tell us plainly.
25 Jesus answered them, I told you, and ye believed not: the works that I do in my Father’s name, they bear witness of me.
26 But ye believe not, because ye are not of my sheep, as I said unto you.
27 My sheep hear my voice, and I know them, and they follow me:
28 And I give unto them eternal life; and they shall never perish, neither shall any man pluck them out of my hand.
29 My Father, which gave them me, is greater than all; and no man is able to pluck them out of my Father’s hand.
30 I and my Father are one.
31 Then the Jews took up stones again to stone him.
1۔ عیدِ فسح سے پہلے جب یسوع نے جان لیا کہ میرا وہ وقت آ پہنچا کہ دنیا سے رخصت ہو کر باپ کے پاس جاؤں تو اپنے اْن لوگوں سے جو دنیا میں تھے جیسی محبت رکھتا تھا آخر تک محبت رکھتا رہا۔
1 Now before the feast of the passover, when Jesus knew that his hour was come that he should depart out of this world unto the Father, having loved his own which were in the world, he loved them unto the end.
1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اوراپنی آنکھیں آسمان کی طرف اْٹھا کر کہا اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔
3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔
4۔ جو کام تْو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اْس کو تمام کر کے مَیں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا ہے۔
13۔ لیکن اب میں تیرے پاس آتا ہوں اور یہ باتیں دنیا میں کہتا ہوں تاکہ میری خوشی اْنہیں پوری پوری حاصل ہو۔
19۔ اور اْن کی خاطر مَیں اپنے آپ کو مقدس کرتا ہوں تاکہ وہ بھی سچائی کے وسیلہ سے مقدس کئے جائیں۔
20۔ مَیں صرف انہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اْن کے لئے بھی جو اِن کے کلام کے وسیلہ سے مجھ پر ایمان لائیں گے۔
22۔ اور وہ جلال جو تْو نے مجھے دیا ہے مَیں نے اْنہیں دیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔
25۔ اے عادل باپ! دنیا نے تو مجھے نہیں جانا مگر میں نے تجھے جانا اور انہوں نے بھی جانا کہ تو نے مجھے بھیجا۔
26۔ اور مَیں نے اْنہیں تیرے نام سے واقف کیا اور کرتارہوں گا تاکہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اْن میں ہو اور مَیں اْن میں ہوں۔
1 These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:
3 And this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.
4 I have glorified thee on the earth: I have finished the work which thou gavest me to do.
13 And now come I to thee; and these things I speak in the world, that they might have my joy fulfilled in themselves.
19 And for their sakes I sanctify myself, that they also might be sanctified through the truth.
20 Neither pray I for these alone, but for them also which shall believe on me through their word;
22 And the glory which thou gavest me I have given them; that they may be one, even as we are one:
25 O righteous Father, the world hath not known thee: but I have known thee, and these have known that thou hast sent me.
26 And I have declared unto them thy name, and will declare it: that the love wherewith thou hast loved me may be in them, and I in them.
13۔ کیونکہ بادشاہی اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین۔
13 For thine is the kingdom, and the power, and the glory, for ever. Amen.
کفارہ خدا کے ساتھ انسانی اتحاد کی مثال ہے، جس کے تحت انسان الٰہی سچائی، زندگی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔ یسوع نے دلیری سے حواس کے تسلیم شْدہ ثبوت کے خلاف، منافقانہ عقائد اور مشقوں کے خلاف کام کیا، اور اْس نے اپنی شفائیہ طاقت کی بدولت اپنے سبھی حریفوں کی تردید کی۔
مسیح کا کفارہ انسان کی خدا کے ساتھ نہ کہ خدا کی انسان کے ساتھ مفاہمت کرواتا ہے؛ کیونکہ مسیح کا الٰہی اصول خدا ہے،
Atonement is the exemplification of man's unity with God, whereby man reflects divine Truth, Life, and Love. Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility. Jesus acted boldly, against the accredited evidence of the senses, against Pharisaical creeds and practices, and he refuted all opponents with his healing power.
The atonement of Christ reconciles man to God, not God to man; for the divine Principle of Christ is God,
یسوع نے مسیح کی شفا کی روحانی بنیاد پر اپنا چرچ قائم کیا اور اپنے مشن کو برقرار رکھا۔ اْس نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ اْس کا مذہب الٰہی اصول تھا، جو خطا کو خارج کرتا اور بیمار اور گناہگار دونوں کو شفا دیتا تھا۔ اْس نے خدا سے جدا کسی دانش، عمل اور نہ ہی زندگی کا دعویٰ کیا۔ باوجود اْس ایذا کے جو اِسی کے باعث اْس پر آئی، اْس نے الٰہی قوت کو انسان کو بدنی اور روحانی دونوں لحاظ سے نجات دینے کے لئے استعمال کیا۔
سوال آج کی طرح تب بھی تھا، کہ یسوع نے بیمار کو کیسے شفا دی؟ اِس سوال پر اْس کے جواب کودنیا نے رد کر دیا۔
Jesus established his church and maintained his mission on a spiritual foundation of Christ-healing. He taught his followers that his religion had a divine Principle, which would cast out error and heal both the sick and the sinning. He claimed no intelligence, action, nor life separate from God. Despite the persecution this brought upon him, he used his divine power to save men both bodily and spiritually.
The question then as now was, How did Jesus heal the sick? His answer to this question the world rejected.
مالک کے اِس قول نے کہ ”میں اور باپ ایک ہیں“ اْسے ربیوں کے روایتی نظریے سے منفرد بنایا۔خدا سے متعلق اْس کی بہتر سمجھ اْن کے لئے ڈانٹ ڈپٹ تھی۔ وہ صرف ایک عقل سے واقف تھا اور کسی دوسرے پر اْس نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ جانتا تھا کہ انا عقل تھی نہ کہ بدن تھا اور یہ کہ مادا، گناہ اور بدی عقل نہیں تھے؛ اور الٰہی سائنس کا یہ فہم اْس پر زمانے کی پھٹکار لانے کا موجب بنا۔
لوگوں کے مخالف اور جھوٹے نظریات نے مسیح کی خدا کے ساتھ فرزندگی کو اْن کے فہم سے چھپائے رکھا۔ وہ اْس کی روحانی وجودیت کا شعور نہ پا سکے۔ اْن کے جسمانی ذہن اِس کے ساتھ عداوت رکھتے تھے۔ اْن کے خیالات خدا کے اْس روحانی نظریے کی بجائے جسے مسیح یسوع نے پیش کیا فانی غلطی سے بھر پور تھے۔خدا کی شبیہ جسے ہم گناہ کی بدولت نظر انداز کر دیتے ہیں، جو سچائی کے روحانی فہم پر پردہ ڈالتی ہے، اور ہم اِس شبیہ کو صرف تبھی سمجھتے ہیں جب ہم گناہ کے زیر اثر ہوتے ہیں اور اِسے انسان کی وراثت ثابت کرتے ہیں، یعنی خدا کے فرزندوں کی آزادی مانتے ہیں۔
That saying of our Master, "I and my Father are one," separated him from the scholastic theology of the rabbis. His better understanding of God was a rebuke to them. He knew of but one Mind and laid no claim to any other. He knew that the Ego was Mind instead of body and that matter, sin, and evil were not Mind; and his understanding of this divine Science brought upon him the anathemas of the age.
The opposite and false views of the people hid from their sense Christ's sonship with God. They could not discern his spiritual existence. Their carnal minds were at enmity with it. Their thoughts were filled with mortal error, instead of with God's spiritual idea as presented by Christ Jesus. The likeness of God we lose sight of through sin, which beclouds the spiritual sense of Truth; and we realize this likeness only when we subdue sin and prove man's heritage, the liberty of the sons of God.
یسوع مادی قوانین کی براہ راست مخالفت میں پانی کی لہروں پر چلا، بھیڑ کو کھانا کھِلایا، بیمار کو شفا دی اور مردوں کو زندہ کیا۔ اْس کے اعمال مادی حس یا قانون کے جھوٹے دعووں پر حاوی ہوتے ہوئے سائنس کا اظہار تھے۔
Jesus walked on the waves, fed the multitude, healed the sick, and raised the dead in direct opposition to material laws. His acts were the demonstration of Science, overcoming the false claims of material sense or law.
مسیح روح تھا جسے یسوع نے اپنے خود کے بیانات میں تقویت دی: ”راہ، حق اور زندگی مَیں ہوں“؛ ”مَیں اور میرا باپ ایک ہیں۔“ یہ مسیح، یا انسان یسوع کی الوہیت اْس کی فطرت، خدائی تھی جس نے اْسے متحرک رکھا۔الٰہی حق، زندگی اور محبت نے یسوع کو گناہ، بیماری اور موت پر اختیار دیا۔ اْس کا مقصد آسمانی ہستی کی سائنس کو ظاہر کرنا تھا تاکہ اِسے ثابت کرے جو خدا ہے اور جو وہ انسان کے لئے کرتا ہے۔
The Christ was the Spirit which Jesus implied in his own statements: "I am the way, the truth, and the life;" "I and my Father are one." This Christ, or divinity of the man Jesus, was his divine nature, the godliness which animated him. Divine Truth, Life, and Love gave Jesus authority over sin, sickness, and death. His mission was to reveal the Science of celestial being, to prove what God is and what He does for man.
حقیقی خوشی کے لئے انسان کو اپنے اصول، الٰہی محبت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے؛ بیٹے کو باپ کے ساتھ،مسیح میں مطابقت کے ساتھ متحد ہونا چاہئے۔
For true happiness, man must harmonize with his Principle, divine Love; the Son must be in accord with the Father, in conformity with Christ.
ہمارا آسمانی باپ، الٰہی محبت، یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہمیں ہمارے مالک اور اْس کے شاگردوں کے نمونے کی پیروی کرنی چاہئے اور صرف اْس کی شخصیت کی عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ الٰہی خدمت کا جملہ عام طور پر روز مرہ کے اعمال کی بجائے عوامی عبادت کے معنوں کے ساتھ آیا ہے۔
مسیحت کی فطرت پْر امن اور بابرکت ہے، لیکن بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے، امید کا لنگر اْس شکینہ کے اندر مادے کے پردے سے آگے ڈالنا ضروری ہے جس میں سے یسوع ہم سے قبل گز رچکا ہے، اور مادے سے آگے کی یہ ترقی راستباز کی خوشیوں اور فتح مندی اور اِس کے ساتھ ساتھ اْن کے دْکھوں اور تکالیف کے وسیلہ آتی ہے۔ ہمارے مالک کی طرح، ہمیں بھی مادی فہم سے ہستی کے روحانی فہم کی جانب رْخصت ہونا چاہئے۔
Our heavenly Father, divine Love, demands that all men should follow the example of our Master and his apostles and not merely worship his personality. It is sad that the phrase divine service has come so generally to mean public worship instead of daily deeds.
The nature of Christianity is peaceful and blessed, but in order to enter into the kingdom, the anchor of hope must be cast beyond the veil of matter into the Shekinah into which Jesus has passed before us; and this advance beyond matter must come through the joys and triumphs of the righteous as well as through their sorrows and afflictions. Like our Master, we must depart from material sense into the spiritual sense of being.
توبہ اور دْکھوں کا ہر احساس، اصلاح کی ہر کوشش، ہر اچھی سوچ اور کام گناہ کے لئے یسوع کے کفارے کو سمجھنے میں مدد کرے گا اور اِس کی افادیت میں مدد کرے گا؛ لیکن اگر گناہگار دعا کرنا اور توبہ کرنا، گناہ کرنا اور معافی مانگنا جاری رکھتا ہے، تو کفارے میں، خدا کے ساتھ یکجہتی میں اْس کا بہت کم حصہ ہوگا، کیونکہ اْس میں عملی توبہ کی کمی ہے، جو دل کی اصلاح کرتی اور انسان کو حکمت کی رضا پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔وہ جو، کم از کم کسی حد تک، ہمارے مالک کی تعلیمات اور مشق کے الٰہی اصول کا اظہار نہیں کر سکتے اْن کی خدا میں کوئی شرکت نہیں ہے۔ اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔
Every pang of repentance and suffering, every effort for reform, every good thought and deed, will help us to understand Jesus' atonement for sin and aid its efficacy; but if the sinner continues to pray and repent, sin and be sorry, he has little part in the atonement, — in the at-one-ment with God, — for he lacks the practical repentance, which reforms the heart and enables man to do the will of wisdom. Those who cannot demonstrate, at least in part, the divine Principle of the teachings and practice of our Master have no part in God. If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.
یسوع نے کہا: ”ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے؛۔۔۔وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔“کون اْس پر ایمان لاتا ہے؟وہ اپنے شاگردوں سے مخاطب تھا، تاہم اْس نے یہ نہیں کہا، ”تمہارے درمیان یہ معجزے ہوں گے“، بلکہ اْن کے درمیان، ”وہ ایمان لاتے ہیں“ آنے والے وقت میں۔۔۔ ایک اور موقع پر یسوع نے دعا کی، صرف بارہ شاگردوں کے لئے نہیں، بلکہ اْن کے لئے بھی جو ”اِن کے کلام کے وسیلہ“ ایمان لائیں گے۔
Jesus said: "These signs shall follow them that believe; ... they shall lay hands on the sick, and they shall recover." Who believes him? He was addressing his disciples, yet he did not say, "These signs shall follow you," but them— "them that believe" in all time to come. … At another time Jesus prayed, not for the twelve only, but for as many as should believe "through their word."
ہم سب کو یہ سیکھنا چاہئے کہ زندگی خدا ہے۔ خود سے سوال کریں: کیا میں ایسی زندگی جی رہا ہوں جو اعلیٰ اچھائی تک رسائی رکھتی ہے؟ کیا میں سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت کا اظہار کر رہاہوں؟ اگر ہاں، تو ”دوپہر تک“ راستہ روشن ہوتا جائے گا۔آپ کے پھل و ہ سب کچھ ثابت کریں جو خدا کا ادراک انسان کے لئے مہیا کرتا ہے۔اِس خیال کو ہمیشہ کے لئے اپنالیں کہ یہ روحانی خیال، روح القدس اور مسیح ہی ہے جو آپ کو سائنسی یقین کے ساتھ اْس شفا کے قانون کا اظہار کرنے کے قابل بناتا ہے جوپوری حقیقی ہستی کو بنیادی طور پر، ضرورت سے زیادہ اور گھیرے میں لیتے ہوئے الٰہی اصول، محبت پر بنیاد رکھتی ہے۔
We all must learn that Life is God. Ask yourself: Am I living the life that approaches the supreme good? Am I demonstrating the healing power of Truth and Love? If so, then the way will grow brighter "unto the perfect day." Your fruits will prove what the understanding of God brings to man. Hold perpetually this thought, — that it is the spiritual idea, the Holy Ghost and Christ, which enables you to demonstrate, with scientific certainty, the rule of healing, based upon its divine Principle, Love, underlying, overlying, and encompassing all true being.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔