اتوار 19 جولائی ، 2026



مضمون۔ زندگی

SubjectLife

سنہری متن: یہوداہ1 باب 21 آیت

اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھواور ہمیشہ کی زندگی کے لئے ہمارے خداوند یسوع مسیح کی رحمت کے منتظر رہو۔



Golden Text: Jude : 21

Keep yourselves in the love of God, looking for the mercy of our Lord Jesus Christ unto eternal life.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: 1 تیمتھیس 6 باب 11 تا 16 آیات


11۔ راستبازی۔ دینداری۔ ایمان۔ محبت۔ صبر اور حلم کا طالب ہو۔

12۔ ایمان کی اچھی کشتی لڑ۔اْس ہمیشہ کی زندگی پرقبضہ کر لے جس کے لئے تْو بلایا گیا تھااور بہت سے گواہوں کے سامنے اچھا اقرار کیا تھا۔

13۔ میں اْس خدا کو جو سب چیزوں کو زندہ کرتا ہے اور مسیح یسوع کو جس نے پینطوس پلاطوس کے سامنے اچھا اقرار کیا تھا گواہ کر کے تجھے تاکید کرتا ہوں۔

14۔ کہ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے اْس ظہور تک حکم کو بے داغ اور بے الزام رکھ۔

15۔ جسے وہ مناسب وقت پر نمایاں کرے گاجو واحد اور مبارک حاکم ہے۔ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا ہے۔

16۔ بقا صرف اْسی کو ہے وہ اْس نور میں رہتا ہے جس تک کسی کی رسائی نہیں ہو سکتی۔ نہ اْسے کسی انسان نے دیکھا اور نہ دیکھ سکتا ہے۔ اْس کی عزت اور سلطنت ابد تک رہے۔ آمین۔

Responsive Reading: I Timothy 6 : 11-16

11.     Follow after righteousness, godliness, faith, love, patience, meekness.

12.     Fight the good fight of faith, lay hold on eternal life, whereunto thou art also called, and hast professed a good profession before many witnesses.

13.     I give thee charge in the sight of God, who quickeneth all things, and before Christ Jesus, who before Pontius Pilate witnessed a good confession;

14.     That thou keep this commandment without spot, unrebukeable, until the appearing of our Lord Jesus Christ:

15.     Which in his times he shall shew, who is the blessed and only Potentate, the King of kings, and Lord of lords;

16.     Who only hath immortality, dwelling in the light which no man can approach unto; whom no man hath seen, nor can see: to whom be honour and power everlasting. Amen.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زبور 118 باب 17 آیت

17۔ مَیں مروں گا نہیں بلکہ جیتا رہوں گا۔ اور خداوند کے کاموں کا بیان کروں گا۔

1. Psalm 118 : 17

17     I shall not die, but live, and declare the works of the Lord.

2 . ۔ لوقا 18 باب 18 تا 30 آیات

18۔اورکسی سردار نے اْس سے یہ سوال کیا کہ اے نیک اْستاد! مَیں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟

19۔ یسوع نے اْس سے کہا تْو مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔

20۔ تْو حکموں کو تو جانتا ہے۔ زنا نہ کر۔ خون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ جھوٹی گواہی نہ دے۔ اور اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کر۔

21۔ اْس نے کہا مَیں نے لڑکپن سے ان سب پر عمل کیا ہے۔

22۔ یسوع نے یہ سْن کر اْس سے کہا ابھی تک تجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اپنا سب کچھ بیچ کر غریبوں میں بانٹ دے تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آکر میرے پیچھے ہو لے۔

23۔ یہ سْن کر وہ بڑا غمگین ہوا کیونکہ بہت دولتمند تھا۔

24۔ یسوع نے اْس کو دیکھ کر کہا کہ دولتمند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کیسا مشکل ہے!

25کیونکہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔

26۔ سننے والوں نے کہا تو پھر کون نجات پا سکتا ہے؟

27۔ اْس نے کہا جو انسان سے نہیں ہو سکتا وہ خدا سے ہو سکتا ہے۔

28۔ پطرس نے اْس سے کہا دیکھ ہم تو اپنا گھر بار چھوڑ کر تیرے پیچھے ہو لئے ہیں۔

29۔ اْس نے اْن سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی نہیں جس نے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا ماں باپ یا بچوں کو خدا کی بادشاہی کی خاطر چھوڑ دیا ہو۔

30۔ اور اِس زمانہ میں کئی گْنا زیادہ نہ پائے اور آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زندگی۔

2. Luke 18 : 18-30

18     And a certain ruler asked him, saying, Good Master, what shall I do to inherit eternal life?

19     And Jesus said unto him, Why callest thou me good? none is good, save one, that is, God.

20     Thou knowest the commandments, Do not commit adultery, Do not kill, Do not steal, Do not bear false witness, Honour thy father and thy mother.

21     And he said, All these have I kept from my youth up.

22     Now when Jesus heard these things, he said unto him, Yet lackest thou one thing: sell all that thou hast, and distribute unto the poor, and thou shalt have treasure in heaven: and come, follow me.

23     And when he heard this, he was very sorrowful: for he was very rich.

24     And when Jesus saw that he was very sorrowful, he said, How hardly shall they that have riches enter into the kingdom of God!

25     For it is easier for a camel to go through a needle’s eye, than for a rich man to enter into the kingdom of God.

26     And they that heard it said, Who then can be saved?

27     And he said, The things which are impossible with men are possible with God.

28     Then Peter said, Lo, we have left all, and followed thee.

29     And he said unto them, Verily I say unto you, There is no man that hath left house, or parents, or brethren, or wife, or children, for the kingdom of God’s sake,

30     Who shall not receive manifold more in this present time, and in the world to come life everlasting.

3 . ۔ یوحنا 12 باب 1، 9 تا 12 ،17، 18، 23 تا 25، 27 تا 30، 35، 36 (تا پہلی۔)، 44 تا 46، 49، 50 آیات

1۔ پھر یسوع فسح سے چھ روز پہلے بیتِ عنیاہ میں آیا جہاں لعزر تھا جسے یسوع نے مردوں میں سے جلایا تھا۔

9۔ پس یہودیوں میں سے عوام یہ معلوم کر کے کہ وہ وہاں ہے نہ صرف یسوع کے سبب سے آئے بلکہ اِس لئے بھی کہ لعزر کو دیکھیں جسے اْس نے مردوں میں سے جلایا تھا۔

10۔ لیکن سردار کاہنوں نے مشورہ کیا کہ لعزر کو بھی مار ڈالیں۔

11۔ کیونکہ اْس کے باعث بہت سے یہودی چلے گئے اور یسوع پر ایمان لائے۔

12۔ دوسرے دن بہت سے لوگوں نے جو عید میں آئے تھے یہ سن کر کہ یسوع یروشلم میں آتا ہے۔

17۔ پس اْن لوگوں نے یہ گواہی دی جو اْس وقت اْس کے ساتھ تھے جب اْس نے لعزر کو قبر سے باہر بلایا اور مردوں میں سے جلایا تھا۔

18۔ اسی سبب سے لوگ اْس کے استقبال کو نکلے کہ انہوں نے سْنا تھا کہ اْس نے یہ معجزہ دکھایا ہے۔

23۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا وہ وقت آگیا کہ ابنِ آدم جلال پائے۔

24۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں جب تک گیہوں کا دانہ زمین میں گر کر مر نہیں جاتا اکیلا رہتا ہے لیکن جب مر جاتا ہے تو بہت سا پھل لاتا ہے۔

25۔ جو اپنی جان کو عزیز رکھتا ہے وہ اْسے کھو دیتا ہے اور جو دنیا میں اپنی جان سے عداوت رکھتا ہے وہ اْسے ہمیشہ کی زندگی کے لئے محفوظ رکھے گا۔

27۔ اب میری جان گھبراتی ہے۔ پس مَیں کیا کہوں؟ اے باپ! مجھے اِس گھڑی سے بچا لیکن مَیں اسی سبب سے تو اِس گھڑی کو پہنچا ہوں۔

28۔ اے باپ! اپنے نام کو جلال دے۔ پس آسمان سے آواز آئی کہ مَیں نے اْس کو جلال دیا ہے اور پھر بھی دوں گا۔

29۔ جو لوگ کھڑے سن رہے تھے اْنہوں نے کہا بادل گرجا۔ اوروں نے کہا کہ فرشتہ اْس سے ہمکلام ہوا۔

30۔ یسوع نے جواب میں کہا کہ آواز میرے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے آئی ہے۔

35۔ پس یسوع نے اْن سے کہا کہ اور تھوڑی دیر تک نور تمہارے درمیان ہے۔ جب تک نور تمہارے ساتھ ہے چلے چلو۔

36۔ جب تک نور تمہارے ساتھ ہے نور پر ایمان لاؤ تاکہ نور کے فرزند بنو۔

44۔ یسوع نے پکار کر کہا کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ مجھ پر نہیں بلکہ میرے بھیجنے والے پر ایمان لاتا ہے۔

45۔ اور جو مجھے دیکھتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو دیکھتا ہے۔

46۔ مَیں نور ہو کر دنیا میں آیا ہوں تاکہ جو کوئی مجھ پر ایمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔

47۔ اگر کوئی میری باتیں سن کر اْن پر عمل نہ کرے تو مَیں اْس کو مجرم نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دنیا کو مجرم ٹھہرانے نہیں بلکہ دنیا کو نجات دینے آیا ہوں۔

48۔ جو مجھے نہیں مانتا اور میری باتوں کو قبول نہیں کرتا اْس کا ایک مجرم ٹھرانے والا ہے یعنی جو کلام مَیں نے کیا ہے وہی اْسے مجرم ٹھہرائے گا۔

49۔ کیونکہ مَیں نے کچھ اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اْسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ کیا کہوں اور کیا بولوں۔

50۔ اور مَیں جانتا ہوں کہ اْس کا حکم ہمیشہ کی زندگی ہے۔ پس جو کچھ مَیں کہتا ہوں جس طرح باپ نے مجھ سے فرمایا ہے اْسی طر ح کہتا ہوں۔

3. John 12 : 1, 9-12, 17, 18, 23-25, 27-30, 35, 36 (to 1st .), 44-46, 49, 50

1     Then Jesus six days before the passover came to Bethany, where Lazarus was which had been dead, whom he raised from the dead.

9     Much people of the Jews therefore knew that he was there: and they came not for Jesus’ sake only, but that they might see Lazarus also, whom he had raised from the dead.

10     But the chief priests consulted that they might put Lazarus also to death;

11     Because that by reason of him many of the Jews went away, and believed on Jesus.

12     On the next day much people that were come to the feast, when they heard that Jesus was coming to Jerusalem,

17     The people therefore that was with him when he called Lazarus out of his grave, and raised him from the dead, bare record.

18     For this cause the people also met him, for that they heard that he had done this miracle.

23     And Jesus answered them, saying, The hour is come, that the Son of man should be glorified.

24     Verily, verily, I say unto you, Except a corn of wheat fall into the ground and die, it abideth alone: but if it die, it bringeth forth much fruit.

25     He that loveth his life shall lose it; and he that hateth his life in this world shall keep it unto life eternal.

27     Now is my soul troubled; and what shall I say? Father, save me from this hour: but for this cause came I unto this hour.

28     Father, glorify thy name. Then came there a voice from heaven, saying, I have both glorified it, and will glorify it again.

29     The people therefore, that stood by, and heard it, said that it thundered: others said, An angel spake to him.

30     Jesus answered and said, This voice came not because of me, but for your sakes.

35     Then Jesus said unto them, Yet a little while is the light with you. Walk while ye have the light, lest darkness come upon you: for he that walketh in darkness knoweth not whither he goeth.

36     While ye have light, believe in the light, that ye may be the children of light.

44     Jesus cried and said, He that believeth on me, believeth not on me, but on him that sent me.

45     And he that seeth me seeth him that sent me.

46     I am come a light into the world, that whosoever believeth on me should not abide in darkness.

49     For I have not spoken of myself; but the Father which sent me, he gave me a commandment, what I should say, and what I should speak.

50     And I know that his commandment is life everlasting: whatsoever I speak therefore, even as the Father said unto me, so I speak.

4 . ۔ رومیوں 6 باب1 تا 3، 4 (وہ)، 5 ،8 تا 11، 18، 22، 23 آیات

1۔ پس ہم کیا کہیں؟ کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟

2۔ ہر گز نہیں۔ ہم جو گناہ کے اعتبار سے مر گئے کیونکر اْس میں آئندہ کو زندگی گزاریں؟

3۔ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح یسوع میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اْس کی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟

4۔۔۔۔جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مردوں میں سے جلایا گیا اْسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔

5۔ کیونکہ جب ہم اْس کی موت کی مشابہت سے اْس کے ساتھ پیوستہ ہو گئے تو بے شک اْس کے جی اْٹھنے کی مشابہت سے بھی اْس کے ساتھ پیوستہ ہوں گے۔

8۔پس جب ہم مسیح کے ساتھ موئے تو ہمیں یقین ہے کہ اْس کے ساتھ جئیں گے بھی۔

9۔ کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ مسیح جب مردوں میں سے جی اٹھا ہے تو پھر نہیں مرنے کا موت کا پھر اْس پر اختیار نہیں ہونے کا۔

10۔ کیونکہ مسیح جو موا گناہ کے اعتبار سے ایک بار موا مگر اب جو جیتا ہے تو خدا کے اعتبار سے جیتا ہے۔

11۔ اسی طرح تم بھی اپنے آپ کو گناہ کے اعتبار سے مردہ مگر خدا کے اعتبار سے مسیح یسوع میں زندہ سمجھو۔

18۔ اور گناہ سے آزاد ہو کرراستبازی کے غلام ہوگئے۔

22۔ مگر اب گناہ سے آزاد اور خدا کے غلام ہو کر تم کو اپنا پھل ملا جس سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور اِس کا انجام ہمیشہ کی زندگی ہے۔

23۔کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔

4. Romans 6 : 1-3, 4 (that), 5, 8-11, 18, 22, 23

1     What shall we say then? Shall we continue in sin, that grace may abound?

2     God forbid. How shall we, that are dead to sin, live any longer therein?

3     Know ye not, that so many of us as were baptized into Jesus Christ were baptized into his death?

4     …that like as Christ was raised up from the dead by the glory of the Father, even so we also should walk in newness of life.

5     For if we have been planted together in the likeness of his death, we shall be also in the likeness of his resurrection:

8     Now if we be dead with Christ, we believe that we shall also live with him:

9     Knowing that Christ being raised from the dead dieth no more; death hath no more dominion over him.

10     For in that he died, he died unto sin once: but in that he liveth, he liveth unto God.

11     Likewise reckon ye also yourselves to be dead indeed unto sin, but alive unto God through Jesus Christ our Lord.

18     Being then made free from sin, ye became the servants of righteousness.

22     But now being made free from sin, and become servants to God, ye have your fruit unto holiness, and the end everlasting life.

23     For the wages of sin is death; but the gift of God is eternal life through Jesus Christ our Lord.



سائنس اور صح


1 . ۔ 246: 27 (زندگی)۔31

زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا اغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔

1. 246 : 27 (Life)-31

Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.

2 . ۔ 468: 5۔25 (تا دوسری۔)

سوال۔ زندگی کیا ہے؟

جواب۔ زندگی الٰہی اصول، عقل، جان، روح ہے۔ زندگی ابتدا اور انتہا سے مبرا ہے۔ ابدیت، بغیر وقت کے، زندگی کا تصور پیش کرتی ہے، اور وقت ابدیت کا حصہ بالکل نہیں ہے۔ ایک تناسب کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے جبکہ دوسرے کو پہچانا جاتا ہے۔ وقت محدود ہے، ابدیت ہمیشہ کے لئے لا محدود ہے۔ زندگی نہ مادے میں ہے نہ مادے سے ہے۔ جس چیز کو مادہ کہا جاتا ہے وہ روح سے ناواقف ہے، جو خود میں تمام مادہ شامل کرتا ہے اور وہ ابدی زندگی ہے۔ مادہ ایک انسانی خیال ہے۔ زندگی الٰہی عقل ہے۔ زندگی محدود نہیں ہے۔ موت اور محدودیت زندگی سے ناواقف ہیں۔

2. 468 : 25-5 (to 2nd .)

Question. — What is Life?

Answer. — Life is divine Principle, Mind, Soul, Spirit. Life is without beginning and without end. Eternity, not time, expresses the thought of Life, and time is no part of eternity. One ceases in proportion as the other is recognized. Time is finite; eternity is forever infinite. Life is neither in nor of matter. What is termed matter is unknown to Spirit, which includes in itself all substance and is Life eternal. Matter is a human concept. Life is divine Mind. Life is not limited. Death and finiteness are unknown to Life.

3 . ۔ 410: 4۔21

یسوع کہتا ہے کہ ”یہ ہمیشہ کی زندگی ہے“، نہ کہ ہوگی، اور پھر وہ باپ اور خود کے موجودہ علم کے طور پر ابدی زندگی کی وضاحت کرتا ہے، یعنی محبت، سچائی اور زندگی کا علم۔ ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔ صحیفے کہتے ہیں، ”انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہے گا، بلکہ ہر ایک لفظ سے جو خدا کے منہ سے نکلتا ہے،“ یہ ظاہر کرتاہے کہ سچائی ہی انسان کی اصل زندگی ہے۔ لیکن بنی نوع انسان اس تعلیم کو عملی بنانے پر اعتراض کرتا ہے۔

خدا پر ہمارے ایمان کی ہر آزمائش ہمیں مضبوط کرتی ہے۔ مادی حالت کا روح کے باعث زیر ہونا جتنا زیادہ مشکل لگے گا اْتنا ہی ہمار ایمان مضبوط تر اور ہماری محبت پاک ترین ہونی چاہئے۔ پولوس رسول کہتا ہے: ”محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کردیتی ہے۔۔۔ کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیں ہوا۔“ یہاں کرسچن سائنس کی حتمی اور الہامی اشاعت ہے۔

3. 410 : 4-21

"This is life eternal," says Jesus, — is, not shall be; and then he defines everlasting life as a present knowledge of his Father and of himself, — the knowledge of Love, Truth, and Life. "This is life eternal, that they might know Thee, the only true God, and Jesus Christ, whom Thou hast sent." The Scriptures say, "Man shall not live by bread alone, but by every word that proceedeth out of the mouth of God," showing that Truth is the actual life of man; but mankind objects to making this teaching practical.

Every trial of our faith in God makes us stronger. The more difficult seems the material condition to be overcome by Spirit, the stronger should be our faith and the purer our love. The Apostle John says: "There is no fear in Love, but perfect Love casteth out fear. ... He that feareth is not made perfect in Love." Here is a definite and inspired proclamation of Christian Science.

4 . ۔ 203: 11۔31

خدا، الٰہی اچھائی، انسان کو ابدگی زندگی دینے کے لئے اْسے ہلاک نہیں کرتا، کیونکہ خدا اکیلا ہی انسان کی زندگی ہے۔خدا بیک وقت وجود کا مرکز اور قطر بھی ہے۔ بدی مرتی ہے، اچھائی نہیں مرتی۔

غلطی کی تمام تر اشکال غلط نتائج کی حمایت کرتی ہیں کہ یہاں ایک زندگی سے زیادہ زندگیاں موجود ہیں؛ کہ مادی تاریخ اتنی ہی حقیقی اور زندہ ہے جتنی روحانی تاریخ ہے؛ کہ فانی غلطی بالاآخر اْتنی ہی ذہنی ہے جتنی لافانی سچائی ہے؛ اور یہ کہ یہاں دو مختلف مخالف ہستیاں اور اشخاص، دو طاقتیں، یعنی روح اور مادا ہیں، جن کا نتیجہ تیسرا شخص (فانی انسان) ہوتا ہے جو گناہ، بیماری اور موت کے بھرموں کو لے جاتا ہے۔

4. 203 : 31-11

God, divine good, does not kill a man in order to give him eternal Life, for God alone is man's life. God is at once the centre and circumference of being. It is evil that dies; good dies not.

All forms of error support the false conclusions that there is more than one Life; that material history is as real and living as spiritual history; that mortal error is as conclusively mental as immortal Truth; and that there are two separate, antagonistic entities and beings, two powers, — namely, Spirit and matter, — resulting in a third person (mortal man) who carries out the delusions of sin, sickness, and death.

5 . ۔ 258: 9۔15

انسان اپنے اندر ایک دماغ رکھتے ہوئے مادی صورت سے کہیں بڑھ کر ہے، جسے لا فانی رہنے کے لئے اپنے ماحول سے محفوظ رہنا چاہئے۔ انسان ابدیت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ عکس خدا کا حقیقی خیال ہے۔

اس کی وسعت اورلامحدود بنیادوں سے اونچی سے اونچی پرواز کو بڑھاتے ہوئے خدا انسان میں لامحدود خیال کو ہمیشہ ظاہر کرتا ہے۔

5. 258 : 9-15

Man is more than a material form with a mind inside, which must escape from its environments in order to be immortal. Man reflects infinity, and this reflection is the true idea of God.

God expresses in man the infinite idea forever developing itself, broadening and rising higher and higher from a boundless basis.

6 . ۔ 53: 25 صرف

یسوع نے ہمارے گناہوں کا بوجھ اپنے بدن پر اٹھایا۔

6. 53 : 25 only

Jesus bore our sins in his body.

7 . ۔ 54: 1۔8

اْس کی انسانی زندگی کی عظمت کے وسیلہ اْس نے الٰہی زندگی کو ظاہر کیا۔ اْس کے خالص خلوص کی وسعت کے وسیلہ اْس نے محبت کی وضاحت کی۔ سچائی کی فراوانی سے اْس نے غلطی کو فتح کیا۔ دنیا نے، یہ نہ دیکھتے ہوئے، اْس کی راستبازی کو تسلیم نہ کیا، بلکہ زمین کو وہ ہم آہنگی نصیب ہوئی جسے اْس کے جلالی نمونے نے متعارف کیا تھا۔

اْس کی تعلیم اور نمونے کی پیروی کرنے کے لئے کون تیار ہے؟

7. 54 : 1-8

Through the magnitude of his human life, he demonstrated the divine Life. Out of the amplitude of his pure affection, he defined Love. With the affluence of Truth, he vanquished error. The world acknowledged not his righteousness, seeing it not; but earth received the harmony his glorified example introduced.

Who is ready to follow his teaching and example?

8 . ۔ 495: 14۔24

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔جسمانی حس کی بجائے کرسچن سائنس کو ہستی سے متعلق آپ کی سمجھ کی حمایت کرنے دیں، اور یہ سمجھ غلطی کو سچائی کے ساتھ اکھاڑ پھینکے گی، فانیت کوغیر فانیت کے ساتھ تبدیل کرے گی، اور خاموشی کی ہم آہنگی کے ساتھ مخالفت کرے گی۔

8. 495 : 14-24

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not. Let Christian Science, instead of corporeal sense, support your understanding of being, and this understanding will supplant error with Truth, replace mortality with immortality, and silence discord with harmony.

9 . ۔ 428: 19۔29

انسانی غلط فہمیوں کی تلافی کر نے کے لئے اور اْس زندگی کے ساتھ اْن کا تبادلہ کرنے کے لئے جو روحانی ہے نہ کہ مادی ہمیں ذہنی طاقت کی قابلیت کا ادراک ہونا چاہئے۔

ایک بڑی روحانی حقیقت سامنے لائی جانی چاہئے کہ انسان کامل اور لافانی ہوگا نہیں بلکہ ہے۔ ہمیں وجودیت کے شعور کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے اور جلد یا بدیر، مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ گناہ اور موت پر حاکم ہونا چاہئے۔ جب مادی عقائد کو ترک کیا جاتا ہے اورہستی کے غیر فانی حقائق کو قبول کر لیا جاتا ہے تو انسان کی لافانیت کی شہادت مزید واضح ہو جائے گی۔

9. 428 : 19-29

We must realize the ability of mental might to offset human misconceptions and to replace them with the life which is spiritual, not material.

The great spiritual fact must be brought out that man is, not shall be, perfect and immortal. We must hold forever the consciousness of existence, and sooner or later, through Christ and Christian Science, we must master sin and death. The evidence of man's immortality will become more apparent, as material beliefs are given up and the immortal facts of being are admitted.

10 . ۔ 69: 13۔16

روحانی طور پر یہ سمجھنا کہ ماسوائے ایک خالق، خدا کے سوا اور کوئی نہیں، ساری تخلیق کو ایاں کرتا، صحائف کی تصدیق کرتا، علیحدگی، یا درد اور ازلی اور کامل اور ابدی انسانیت کی شیریں یقین دہانی لاتا ہے۔

10. 69 : 13-16

Spiritually to understand that there is but one creator, God, unfolds all creation, confirms the Scriptures, brings the sweet assurance of no parting, no pain, and of man deathless and perfect and eternal.

11 . ۔ 340: 9 (آئیے)۔29

”آئیے سارے معاملے کا نتیجہ سنتے ہیں: ۔۔۔خدا سے محبت رکھیں اور اْس کے حکموں پر عمل کریں: کیونکہ یہی اْس کی شبیہ اور صورت پر کامل انسانیت ہے۔ الٰہی محبت لامحدود ہے۔ اِس لئے جو کچھ بھی وجود رکھتا ہے سب خدا میں اور خدا کا ہے، اور یہ اْس کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

”میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“ (خروج 20 باب3 آیت)۔پہلا حکم میری پسندیدہ عبارت ہے۔یہ کرسچن سائنس کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ خدا، روح، عقل کی تثلیث کا ادراک دیتی ہے؛ یہ جتاتی ہے کہ انسان خدا، ابدی اچھائی کے علاوہ کسی دوسری روح یا عقل کو نہیں مانے گا، اور یہ کہ سب انسان ایک عقل کو مانیں۔ پہلے حکم کا الٰہی اصول ہستی کی سائنس پر بنیاد رکھتا ہے، جس کے وسیلہ انسان تندرستی، پاکیزگی اور ابدی زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔

11. 340 : 9 (Let)-22

Let us hear the conclusion of the whole matter: love God and keep His commandments: for this is the whole of man in His image and likeness. Divine Love is infinite. Therefore all that really exists is in and of God, and manifests His love.

"Thou shalt have no other gods before me." (Exodus xx. 3.) The First Commandment is my favorite text. It demonstrates Christian Science. It inculcates the triunity of God, Spirit, Mind; it signifies that man shall have no other spirit or mind but God, eternal good, and that all men shall have one Mind. The divine Principle of the First Commandment bases the Science of being, by which man demonstrates health, holiness, and life eternal.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔