اتوار 2 اگست، 2026



مضمون۔ محبت

SubjectLove

سنہری متن: یوحنا 15 باب12 آیت

”میرا حکم یہ ہے جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“- مسیح یسوع



Golden Text: John 15 : 12

This is my commandment, That ye love one another, as I have loved you.”— Christ Jesus





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: رومیوں 13باب1، 2، 5، 8تا10 آیات


1۔ ہر شخص اعلیٰ حکومتوں کا تابعدار رہے کیونکہ کوئی حکومت ایسی نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرر ہیں۔

2۔ پس جو کوئی حکومت کا سامنا کرتا ہے وہ خدا کے انتظار کا مخالف ہے اور جو مخالف ہیں وہ سزا پائیں گے۔

5۔پس تابعدار رہنا نہ صرف غضب کے ڈر سے ضرور ہے بلکہ دل بھی یہی گواہی دیتا ہے۔

8۔ آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو کیونکہ جو دوسرے سے محبت رکھتا ہے اْس نے شریعت پرپورا عمل کیا۔

9۔ کیونکہ یہ باتیں کہ زنا نہ کر۔ خون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ لالچ نہ کر اور اِن کے سوا اور جو کوئی حکم ہو اْن سب کا خلاصہ اِس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔

10۔ محبت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی اس واسطے محبت شریعت کی تعمیل ہے۔

Responsive Reading: Romans 13 : 1, 2, 5, 8-10

1.     Let every soul be subject unto the higher powers. For there is no power but of God: the powers that be are ordained of God.

2.     Whosoever therefore resisteth the power, resisteth the ordinance of God: and they that resist shall receive to themselves damnation.

5.     Wherefore ye must needs be subject, not only for wrath, but also for conscience sake.

8.     Owe no man any thing, but to love one another: for he that loveth another hath fulfilled the law.

9.     For this, Thou shalt not commit adultery, Thou shalt not kill, Thou shalt not steal, Thou shalt not bear false witness, Thou shalt not covet; and if there be any other commandment, it is briefly comprehended in this saying, namely, Thou shalt love thy neighbour as thyself.

10.     Love worketh no ill to his neighbour: therefore love is the fulfilling of the law.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ متی 14 باب14تا21 آیات

14۔ اْس نے اْتر کر بڑی بھیڑ دیکھی اور اْسے اْن پر بڑا ترس آیا اور اْس نے اْن کے بیماروں کو اچھا کر دیا۔

15۔ اور جب شام ہوئی تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آکر کہنے لگے کہ جگہ ویران ہے اور وقت گزر گیا ہے۔ لوگوں کو رخصت کردے تاکہ گاؤں میں جا کر اپنے لئے کھانا مول لیں۔

16۔ یسوع نے اْن سے کہا اِن کا جانا ضرور نہیں۔ تم ہی اِن کو کھانے کو دو۔

17۔ اْنہوں نے اْس سے کہا کہ یہاں ہمارے پاس پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

18۔ اْس نے اْن سے کہا وہ یہاں میرے پاس لے آؤ۔

19۔ اور اْس نے لوگوں کو گھاس پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ پھر اْس نے وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر برکت دی اور روٹیاں توڑ کر شاگردوں کو دیں اور شاگردوں نے لوگوں کو۔

20۔ اور سب کھا کر سیر ہو گئے اور اْنہوں نے بچے ہوئے ٹکڑوں سے بھری ہوئی بارہ ٹوکریاں اْٹھائیں۔

21۔ اور کھانے والے عورتوں اور بچوں کے سوا پانچ ہزار مرد کے قریب تھے۔

1. Matthew 14 : 14-21

14     And Jesus went forth, and saw a great multitude, and was moved with compassion toward them, and he healed their sick.

15     And when it was evening, his disciples came to him, saying, This is a desert place, and the time is now past; send the multitude away, that they may go into the villages, and buy themselves victuals.

16     But Jesus said unto them, They need not depart; give ye them to eat.

17     And they say unto him, We have here but five loaves, and two fishes.

18     He said, Bring them hither to me.

19     And he commanded the multitude to sit down on the grass, and took the five loaves, and the two fishes, and looking up to heaven, he blessed, and brake, and gave the loaves to his disciples, and the disciples to the multitude.

20     And they did all eat, and were filled: and they took up of the fragments that remained twelve baskets full.

21     And they that had eaten were about five thousand men, beside women and children.

2 . ۔ لوقا 6باب 9 (تاپہلی)، 27 (محبت) تا 36 آیات

9۔ یسوع نے اْن سے کہا۔

27۔ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو۔ جو تم سے عداوت رکھے اْن کا بھلا کرو۔

28۔جو تم پر لعنت کرے اْن پر برکت چاہو۔ جو تمہاری تحقیر کریں اْن کے لئے دعا کرو۔

29۔جو تیرے ایک گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اْس کی طرف پھیر دے اور جو تیرا چوغہ لے اْس کو کرتا لینے سے بھی منع نہ کر۔

31۔ اور جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اْن کے ساتھ ویسا ہی کرو۔

32۔اور اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارا کیا احسان ہے؟ کیونکہ گناہگاربھی اپنے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔

33۔ اور اگر تم اْن ہی کا بھلا کرو جو تمہارا بھلا کرتے ہیں تو تمہارا کیا احسا ن ہے؟ کیونکہ گناہگار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

34۔اور اگر تم اْنہی کو قرض دو جن سے وصول ہونے کی اْمید رکھتے ہو تو تمہارا کیا احسان ہے؟ گناہگار بھی گناہگاروں کو قرض دیتے ہیں تاکہ پورا وصول کر لیں۔

35۔مگر تم اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور بھلا کرو اور بغیر نااْمید ہوئے قرض دو تو تمہارا اجر بڑا ہوگا اور تم خدا تعالیٰ کے بیٹے ٹھہرو گے کیونکہ وہ ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔

36۔ جیسا تمہارا باپ رحیم ہے تم بھی رحمدل ہو۔

2. Luke 6 : 9 (to 1st ,), 27 (Love)-36

9     Then said Jesus unto them,

27     Love your enemies, do good to them which hate you,

28     Bless them that curse you, and pray for them which despitefully use you.

29     And unto him that smiteth thee on the one cheek offer also the other; and him that taketh away thy cloke forbid not to take thy coat also.

30     Give to every man that asketh of thee; and of him that taketh away thy goods ask them not again.

31     And as ye would that men should do to you, do ye also to them likewise.

32     For if ye love them which love you, what thank have ye? for sinners also love those that love them.

33     And if ye do good to them which do good to you, what thank have ye? for sinners also do even the same.

34     And if ye lend to them of whom ye hope to receive, what thank have ye? for sinners also lend to sinners, to receive as much again.

35     But love ye your enemies, and do good, and lend, hoping for nothing again; and your reward shall be great, and ye shall be the children of the Highest: for he is kind unto the unthankful and to the evil.

36     Be ye therefore merciful, as your Father also is merciful.

3 . ۔ 1 یوحنا 4 باب 7 تا 21 آیات

7۔ اے عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں، کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے۔

8۔جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔

9۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اْس کے سبب سے زندہ رہیں۔

10۔ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اس میں ہے کہ اْس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارے کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔

11۔ اے عزیزو! جب خدانے ہم سے ایسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنا فرض ہے۔

12۔ خدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ہم میں رہتا ہے اور اْس کی محبت ہمارے دل میں کامل ہو گئی ہے۔

13۔ چونکہ اْس نے اپنے روح میں سے ہمیں دیا ہے اِس سے ہم جانتے ہیں کہ ہم اْس میں قائم رہتے ہیں اور وہ ہم میں۔

14۔ اور ہم نے دیکھ لیا ہے اور گواہی دیتے ہیں کہ باپ نے بیٹے کو دنیا کا منجی کر کے بھیجا ہے۔

15۔ جو کوئی اقرار کرتا ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے خدا اْس میں رہتا ہے اور وہ خدا میں۔

16۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے اْس کو ہم جان گئے اور ہمیں اْس کا یقین ہے۔ خدامحبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اْس میں قائم رہتا ہے۔

17۔ اِسی سبب سے محبت ہم میں کامل ہوگئی ہے تاکہ ہمیں عدالت کے دن دلیری ہو کیونکہ جیسا وہ ہے ویسے ہی دنیا میں ہم بھی ہیں۔

18۔ محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کردیتی ہے۔

19۔ ہم اِس لئے محبت رکھتے ہیں کہ پہلے اْس نے ہم سے محبت رکھی۔

20۔اگر کوئی کہے کہ میں خدا سے محبت رکھتا ہوں اور وہ اپنے بھائی سے عداوت رکھے تو جھوٹا ہے کیونکہ جو اپنے بھائی سے جسے اس نے دیکھا ہے محبت نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی جسے اس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا۔

21۔ اور ہم کو اْس کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے۔

3. I John 4 : 7-21

7     Beloved, let us love one another: for love is of God; and every one that loveth is born of God, and knoweth God.

8     He that loveth not knoweth not God; for God is love.

9     In this was manifested the love of God toward us, because that God sent his only begotten Son into the world, that we might live through him.

10     Herein is love, not that we loved God, but that he loved us, and sent his Son to be the propitiation for our sins.

11     Beloved, if God so loved us, we ought also to love one another.

12     No man hath seen God at any time. If we love one another, God dwelleth in us, and his love is perfected in us.

13     Hereby know we that we dwell in him, and he in us, because he hath given us of his Spirit.

14     And we have seen and do testify that the Father sent the Son to be the Saviour of the world.

15     Whosoever shall confess that Jesus is the Son of God, God dwelleth in him, and he in God.

16     And we have known and believed the love that God hath to us. God is love; and he that dwelleth in love dwelleth in God, and God in him.

17     Herein is our love made perfect, that we may have boldness in the day of judgment: because as he is, so are we in this world.

18     There is no fear in love; but perfect love casteth out fear: because fear hath torment. He that feareth is not made perfect in love.

19     We love him, because he first loved us.

20     If a man say, I love God, and hateth his brother, he is a liar: for he that loveth not his brother whom he hath seen, how can he love God whom he hath not seen?

21     And this commandment have we from him, That he who loveth God love his brother also.

4 . ۔ 1 کرنتھیوں 13 باب 1 تا 13 آیات

1۔ اگر مَیں فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو مَیں ٹھنٹھناتا پیتل یاجھنجھناتی جھانجھ ہوں۔

2۔ اور اگر مجھے نبوت ملے اور سب بھیدوں اور کْل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹا دوں اور محبت نہ رکھوں تو مَیں کچھ بھی نہیں۔

3۔ اور اگر اپنا سارا مال غریبوں کو کھِلا دوں اور اپنا بدن جلانے کے لئے دے دوں اور محبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ فائدہ نہیں۔

4۔ محبت صابر ہے اور مہربان۔ محبت حسد نہیں کرتی۔ محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔

5۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھنجھلاتی نہیں۔ بدگمانی نہیں کرتی۔

6۔ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ راستی سے خوش ہوتی ہے۔

7۔ سب کچھ سہہ لیتی ہے۔ سب کچھ یقین کرتی ہے سب باتوں کی امید رکھتی ہے۔ سب باتوں کی برداشت کرتی ہے۔

8۔ محبت کو زوال نہیں۔ نبوتیں ہوں تو موقوف ہو جائیں گی۔ زبانیں ہوں تو جاتی رہیں گی۔ علم ہو تو مٹ جائے گا۔

9۔ کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے اور ہماری نبوت ناتمام۔

10۔ لیکن جب کامل آئے گا تو ناقص جاتا رہے گا۔

11۔ جب مَیں بچہ تھا تو بچوں کی طرح بولتا تھا۔ بچوں کی سی طبیعت تھی۔ بچوں کی سی سمجھ تھی لیکن جب جوان ہوا تو بچپن کی باتیں ترک کر دیں۔

12۔ اب ہم کو آئینہ میں دھْندلا سا دکھائی دیتا ہے مگر اْس وقت روبرو دیکھیں گے۔ اِس وقت میرا علم ناقص ہے مگر اْس وقت ایسے پورے طور سے پہچانوں گا جیسے مَیں پہچانا گیا ہوں۔

13۔ غر ض ایمان، امید،محبت یہ تینوں دائمی ہیں مگر افضل اِن میں محبت ہے۔

4. I Corinthians 13 : 1-13

1     Though I speak with the tongues of men and of angels, and have not charity, I am become as sounding brass, or a tinkling cymbal.

2     And though I have the gift of prophecy, and understand all mysteries, and all knowledge; and though I have all faith, so that I could remove mountains, and have not charity, I am nothing.

3     And though I bestow all my goods to feed the poor, and though I give my body to be burned, and have not charity, it profiteth me nothing.

4     Charity suffereth long, and is kind; charity envieth not; charity vaunteth not itself, is not puffed up,

5     Doth not behave itself unseemly, seeketh not her own, is not easily provoked, thinketh no evil;

6     Rejoiceth not in iniquity, but rejoiceth in the truth;

7     Beareth all things, believeth all things, hopeth all things, endureth all things.

8     Charity never faileth: but whether there be prophecies, they shall fail; whether there be tongues, they shall cease; whether there be knowledge, it shall vanish away.

9     For we know in part, and we prophesy in part.

10     But when that which is perfect is come, then that which is in part shall be done away.

11     When I was a child, I spake as a child, I understood as a child, I thought as a child: but when I became a man, I put away childish things.

12     For now we see through a glass, darkly; but then face to face: now I know in part; but then shall I know even as also I am known.

13     And now abideth faith, hope, charity, these three; but the greatest of these is charity.



سائنس اور صح


1 . ۔ 113: 5۔ 6

کرسچن سائنس کا لازمی حصہ، دل اور جان محبت ہے۔

1. 113 : 5-6

The vital part, the heart and soul of Christian Science, is Love.

2 . ۔ 510: 18۔ 19

محبت تنہا لامتناہی عقل کے لامحدود خیال کو فراہم کرسکتی ہے۔

2. 510 : 18-19

Love alone can impart the limitless idea of infinite Mind.

3 . ۔ 9: 5۔ 12 (تا دوسرا۔)

ہر دعا کی پرکھ اِن سوالات کے جواب میں پائی جاتی ہے: کیا ہم اپنے پڑوسی سے اِس حکم کی بنا پر بہتر پیار کرتے ہیں؟ اگرچہ ہم ہمارے دعا کے ساتھ مسلسل زندگی گزارتے ہوئے ہماری التجاؤں کی تابعداری کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے، تو کیا کسی بہتر چیز کے لئے دعا کرنے پر مطمئن ہو کر ہم ہماری پرانی خودغرضی کا تعاقب کرتے ہیں؟ اگر خود غرضی نے ہمدردی کو جگہ دے دی ہے، تو ہم ہمارے پڑوسی کے ساتھ بے غرضی سے سلوک رکھیں گے، اور اپنے لعنت بھیجنے والوں کے لئے برکت چاہیں گے؛ لیکن ہم اِس عظیم فرض تک محض یہ مانگنے سے کبھی نہیں پہنچ سکتے کہ یہ بس ہو جائے۔ ہمارے ایمان اور امید کے پھل کا مزہ لینے سے پہلے ہمیں ایک صلیب کو اْٹھانا ہوگا۔

”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔

3. 9 : 5-21 (to 2nd .)

The test of all prayer lies in the answer to these questions: Do we love our neighbor better because of this asking? Do we pursue the old selfishness, satisfied with having prayed for something better, though we give no evidence of the sincerity of our requests by living consistently with our prayer? If selfishness has given place to kindness, we shall regard our neighbor unselfishly, and bless them that curse us; but we shall never meet this great duty simply by asking that it may be done. There is a cross to be taken up before we can enjoy the fruition of our hope and faith.

Dost thou "love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind"? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity.

4 . ۔ 469: 5۔ 30

ایک باپ،حتیٰ کے خدا،کے ساتھ انسان کا پورا خاندان بھائی ہوں گے اور ایک عقل اور خدا، یا اچھائی کے ساتھ انسان کا بھائی چارہ محبت اور سچائی پر اور اصول اور روحانی قوت پر مشتمل ہو گا جو الٰہی سائنس کو قائم کرتے ہیں۔

4. 469 : 30-5

With one Father, even God, the whole family of man would be brethren; and with one Mind and that God, or good, the brotherhood of man would consist of Love and Truth, and have unity of Principle and spiritual power which constitute divine Science.

5 . ۔ 494: 30۔ 32

ہمارے مالک نے بدروحوں (برائیوں) کو نکالا اور بیمار کو شفا دی۔ یہ اْس کے پیروکاروں کے بارے میں بھی کہا جانا چاہئے کہ انہوں نے خود میں سے اور دوسروں میں سے خوف اور بدی کو نکال دیا اور بیمار کو شفا دی۔ جب بھی انسان پر خدا کی حکمرانی ہوتی ہے، خدا بیمار کو انسان کے وسیلہ شفادے گا۔

5. 494 : 30-32

Our Master cast out devils (evils) and healed the sick. It should be said of his followers also, that they cast fear and all evil out of themselves and others and heal the sick.

6 . ۔ 518: 13۔ 23

خدا خود کا تصور بڑے کے ساتھ ایک رابطے کے لئے چھوٹے کو دیتا ہے، اور بدلے میں، بڑا ہمیشہ چھوٹے کو تحفظ دیتا ہے۔روح کے امیراعلیٰ بھائی چارے میں،ایک ہی اصول یا باپ رکھتے ہوئے، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور مبارک ہے وہ شخص جودوسرے کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتے ہوئے، اپنے بھائی کی ضرورت دیکھتا اور پوری کرتا ہے۔ محبت کمزور روحانی خیال کو طاقت، لافانیت اور بھلائی عطا کرتی ہے جو سب میں ایسے ہی روشن ہوتی ہے جیسے شگوفہ ایک کونپل میں روشن ہوتا ہے۔خدا سے متعلق تمام تر مختلف اظہارات صحت، پاکیزگی، لافانیت، لامحدود زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔

6. 518 : 13-23

God gives the lesser idea of Himself for a link to the greater, and in return, the higher always protects the lower. The rich in spirit help the poor in one grand brotherhood, all having the same Principle, or Father; and blessed is that man who seeth his brother's need and supplieth it, seeking his own in another's good. Love giveth to the least spiritual idea might, immortality, and goodness, which shine through all as the blossom shines through the bud. All the varied expressions of God reflect health, holiness, immortality — infinite Life, Truth, and Love.

7 . ۔ 495: 19۔ 25

سوال۔ کرسچن سائنس کو سمجھنے میں مَیں کیسے تیزی کے ساتھ ترقی کر سکتا ہوں؟

جواب۔ خط کا پوری طرح مطالعہ کریں اور روح کو اپنے اندر سمو لیں۔ کرسچن سائنس کے الٰہی اصول پر عمل پیرا ہوں اورثابت قدمی کے ساتھ حکمت، محبت اور سچائی پر قائم رہتے ہوئے خدا کے احکامات کی پیروی کریں۔عقل کی سائنس میں آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ غلطی غلطی کو ختم نہیں کر سکتی۔ آپ یہ بھی سیکھیں گے کہ سائنس میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں برے مشورے کی منتقلی نہیں ہے۔ یہاں ماسوائے ایک عقل کے اور کوئی نہیں، اور یہ ہمہ وقت موجود قادرِ مطلق عقل کی انسان کی بدولت عکاسی کرتی اور یہ پوری کائنات پر حکمرانی کرتی ہے۔آپ یہ سیکھیں گے کہ کرسچن سائنس میں پہلا فرض خدا کی فرمانبرداری کرنا، ایک عقل رکھنا اور دوسروں کے ساتھ اپنی مانند محبت رکھنا ہے۔

ہم سب کو یہ سیکھنا چاہئے کہ زندگی خدا ہے۔ خود سے سوال کریں: کیا میں ایسی زندگی جی رہا ہوں جو اعلیٰ اچھائی تک رسائی رکھتی ہے؟ کیا میں سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت کا اظہار کر رہاہوں؟ اگر ہاں، تو ”دوپہر تک“ راستہ روشن ہوتا جائے گا۔آپ کے پھل و ہ سب کچھ ثابت کریں جو خدا کا ادراک انسان کے لئے مہیا کرتا ہے۔اِس خیال کو ہمیشہ کے لئے اپنالیں کہ یہ روحانی خیال، روح القدس اور مسیح ہی ہے جو آپ کو سائنسی یقین کے ساتھ اْس شفا کے قانون کا اظہار کرنے کے قابل بناتا ہے جوپوری حقیقی ہستی کو بنیادی طور پر، ضرورت سے زیادہ اور گھیرے میں لیتے ہوئے الٰہی اصول، محبت پر بنیاد رکھتی ہے۔

7. 495 : 25-19

Question. — How can I progress most rapidly in the understanding of Christian Science?

Answer. — Study thoroughly the letter and imbibe the spirit. Adhere to the divine Principle of Christian Science and follow the behests of God, abiding steadfastly in wisdom, Truth, and Love. In the Science of Mind, you will soon ascertain that error cannot destroy error. You will also learn that in Science there is no transfer of evil suggestions from one mortal to another, for there is but one Mind, and this ever-present omnipotent Mind is reflected by man and governs the entire universe. You will learn that in Christian Science the first duty is to obey God, to have one Mind, and to love another as yourself.

We all must learn that Life is God. Ask yourself: Am I living the life that approaches the supreme good? Am I demonstrating the healing power of Truth and Love? If so, then the way will grow brighter "unto the perfect day." Your fruits will prove what the understanding of God brings to man. Hold perpetually this thought, — that it is the spiritual idea, the Holy Ghost and Christ, which enables you to demonstrate, with scientific certainty, the rule of healing, based upon its divine Principle, Love, underlying, overlying, and encompassing all true being.

8 . ۔ 4: 3۔ 5

صبر، حلیمی، محبت اور نیک کاموں میں ظاہر ہونے والے فضل میں ترقی کرنے کی پْر جوش خواہش کے لئے ہمیں سب سے زیادہ دعا کرنے کی ضرورت ہے۔

8. 4 : 3-5

What we most need is the prayer of fervent desire for growth in grace, expressed in patience, meekness, love, and good deeds.

9 . ۔ 572: 3۔ 18

پس ہم بائبل کی پہلی اور آخری کتاب، پیدائش اور مکاشفہ دونوں میں دیکھتے ہیں کہ گناہ کو مسیحی اور سائنسی اعتبار سے اِس کے آبائی عدم تک محدود ہونا ہوگا۔”آپس میں محبت رکھیں“ (1 یوحنا 3باب23 آیت)، الہامی مصنف کی انتہائی سادہ اور گہری تجویز ہے۔سائنس میں ہم خدا کے بچے ہیں، مگر جو کچھ بھی مادی حس، یا فانی ہے وہ اْس کے بچے سے متعلقہ نہیں ہے، کیونکہ مادیت روحانیت کی معکوس شبیہ ہے۔

محبت کرسچن سائنس کے قانون کو پورا کرتی ہے، اور اس الٰہی اصول کے بغیر کچھ بھی، سمجھا جانے والا اور ظاہر ہونے والا، آسمانی کتاب کی بصیرت کو آراستہ نہیں کرسکتا، یہ کتاب جو سچائی کے ساتھ غلطی کی سات مہریں کھولتی ہے، یا گناہ، بیماری اور موت کے ہزار ہا بھرموں کو بے نقاب کرتی ہے۔ روح کی بالادستی تلے، یہ دیکھا اور تسلیم کیا جائے گا کہ مادہ لازماً غائب ہوجاتا ہے۔

9. 572 : 3-18

Thus we see, in both the first and last books of the Bible, — in Genesis and in the Apocalypse, — that sin is to be Christianly and scientifically reduced to its native nothingness. "Love one another" (I John, iii. 23), is the most simple and profound counsel of the inspired writer. In Science we are children of God; but whatever is of material sense, or mortal, belongs not to His children, for materiality is the inverted image of spirituality.

Love fulfils the law of Christian Science, and nothing short of this divine Principle, understood and demonstrated, can ever furnish the vision of the Apocalypse, open the seven seals of error with Truth, or uncover the myriad illusions of sin, sickness, and death. Under the supremacy of Spirit, it will be seen and acknowledged that matter must disappear.

10 . ۔ 454: 14۔ 24

جو کوئی معقول حد تک عقل کے شفائیہ اصول کو سمجھ لیتا ہے، اپنے طالبِ علم کو غلطی کے ساتھ ساتھ حق کی جانب راہنمائی دیتا ہے، غلط کے ساتھ ساتھ صحیح کی مشق دیتا ہے۔ شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔محبت سچائی کی الطار پر بڑی راہبہ ہے۔ فانی عقل کے پانیوں پر چلنے اور کامل نظریہ تشکیل دینے کے لئے صبر کے ساتھ الٰہی محبت کا انتظار کریں۔صبر کو ”اپنا پورا کام کرنا چاہئے۔“

10. 454 : 14-24

He, who understands in sufficient degree the Principle of Mind-healing, points out to his student error as well as truth, the wrong as well as the right practice. Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action. Love is priestess at the altar of Truth. Wait patiently for divine Love to move upon the waters of mortal mind, and form the perfect concept. Patience must "have her perfect work."

11 . ۔ 340: 20۔ 29

پہلے حکم کا الٰہی اصول ہستی کی سائنس پر بنیاد رکھتا ہے، جس کے وسیلہ انسان تندرستی، پاکیزگی اور ابدی زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ایک لامتناہی خدایعنی اچھائی انسان اور اقوام کو متحد کرتا ہے، انسانوں میں بھائی چارہ قائم کرتا ہے، جنگ و جدول ختم کرتا ہے، اس کلام کو پورا کرتا ہے کہ، ”اپنے پڑوسی سے اپنی مانند پیار کر،“ غیر قوموں اور مسیحی بت پرستوں کواور جو کچھ بھی معاشرتی، شہری، مجرمانہ، سیاسی، اور مذہبی شعبہ جات میں غلط ہو رہا ہے اْسے فنا کرتا ہے، جنس کو مساوی کرتا ہے، انسان پر کی گئی لعنت کو منسوخ کرتا ہے اور ایسا کچھ نہیں چھوڑتا جو گناہ کا مرتکب ہو اور دْکھ اٹھائے، سزاء پائے یا فنا ہو جائے۔

11. 340 : 20-29

The divine Principle of the First Commandment bases the Science of being, by which man demonstrates health, holiness, and life eternal. One infinite God, good, unifies men and nations; constitutes the brotherhood of man; ends wars; fulfils the Scripture, "Love thy neighbor as thyself;" annihilates pagan and Christian idolatry, — whatever is wrong in social, civil, criminal, political, and religious codes; equalizes the sexes; annuls the curse on man, and leaves nothing that can sin, suffer, be punished or destroyed.

12 . ۔ 503: 12۔ 15

غلطی کی تاریکی سے الٰہی سائنس، یعنی خدا کا کلام کہتا ہے کہ، ”خدا حاکم کْل“ ہے، اور ازل سے موجود محبت کی روشنی کائنات کو روشن کرتی ہے۔

12. 503 : 12-15

Divine Science, the Word of God, saith to the darkness upon the face of error, "God is All-in-all," and the light of ever-present Love illumines the universe.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔