اتوار 21 جون ، 2026
کیونکہ خدا کی بادشاہی باتوں پر نہیں بلکہ قدرت پر موقوف ہے۔
“For the kingdom of God is not in word, but in power.”
8۔تم نہ ڈرو اور ہر اساں نہ ہو۔ کیا میں نے قدیم ہی سے تجھے نہیں بتایا اور ظاہر نہیں کیا؟ تم میرے گواہ ہو۔ کیا میرے سِوا کوئی اور خدا ہے؟ نہیں کوئی چٹان نہیں میں تو کوئی نہیں جانتا۔
21۔اے یعقوب! اے اسرائیل! ان باتوں کو یاد رکھ کیونکہ تو میرا بندہ ہے اور میں نے تجھے بنایا تو میرا خادم ہے اے اسرائیل میں تجھ کو فراموش نہ کروں گا۔
22۔میں نے تیری خطاؤں کو گھٹا کی مانند اور تیرے گناہوں کو بادل کی مانند مٹا ڈالا۔ میرے پاس واپس آ جا کیونکہ میں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔
23۔ اے آسمانو گاؤ کہ خداوند نے یہ کیا ہے۔ اے اسفل زمین للکار اے پہاڑو اے جنگل اور اے سب درختو نغمہ پردازی کرو کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا اور اسرائیل میں اپنا جلال ظاہر کرے گا۔
28۔ جو خورس کے حق میں کہتا ہوں کہ وہ میرا چرواہا ہے اور میری مرضی بالکل پوری کرے گا اور یروشلم کی بابت کہتا ہوں کہ وہ تعمیر کیا جائے گا اورہیکل کے بابت کہ اْس کی بنیاد ڈالی جائے گی۔
8. Fear ye not, neither be afraid: have not I told thee from that time, and have declared it? ye are even my witnesses. Is there a God beside me? yea, there is no God; I know not any.
21. Remember these, O Jacob and Israel; for thou art my servant: I have formed thee; thou art my servant: O Israel, thou shalt not be forgotten of me.
22. I have blotted out, as a thick cloud, thy transgressions, and, as a cloud, thy sins: return unto me; for I have redeemed thee.
23. Sing, O ye heavens; for the Lord hath done it: shout, ye lower parts of the earth: break forth into singing, ye mountains, O forest, and every tree therein: for the Lord hath redeemed Jacob, and glorified himself in Israel.
28. He is my shepherd, and shall perform all my pleasure: even saying to Jerusalem, Thou shalt be built; and to the temple, Thy foundation shall be laid.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
9۔ اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔
9 …call no man your father upon the earth: for one is your Father, which is in heaven.
3۔ خداوند کا کلام حزقی ایل کاہن پر نازل ہوا۔
1۔ آسمان کھْل گیا اور مَیں نے خدا کی روتیں دیکھیں۔
4۔ اور میں نے نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ شمال سے آندھی اْٹھی۔ ایک بڑی گھٹا اور لپٹتی ہوئی آگ اوراْس کے گرد روشنی چمکتی تھی اور اْس کے بیچ سے یعنی اس آگ میں سے صیقل کئے ہوئے پیتل کی سی صورت جلوہ گر ہوئی۔
28۔ جیسی اْس کمان کی صورت ہے جو بارش کے دن بادلوں میں دکھائی دیتی ہے ایسی ہی آس پاس کی سی جگمگاہٹ کی نمود تھی یہ خداوند کے جلال کا اظہار تھا اور دیکھتے ہی مَیں اوندھے منہ گرا اور مَیں نے ایک آواز سنی جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔
3 The word of the Lord came expressly unto Ezekiel the priest,
1 …the heavens were opened, and I saw visions of God.
4 And I looked, and, behold, a whirlwind came out of the north, a great cloud, and a fire infolding itself, and a brightness was about it, and out of the midst thereof as the colour of amber, out of the midst of the fire.
28 This was the appearance of the likeness of the glory of the Lord. And when I saw it, I fell upon my face, and I heard a voice of one that spake.
2۔ جب اْس نے مجھ سے یوں کہا تو روح مجھ میں داخل ہوئی اور مجھے پاؤں پر کھڑا کیا۔ تب مَیں نے اْس کی سنی جو مجھ سے باتیں کرتا تھا۔
3۔ چنانچہ اْس نے مجھ سے کہا اے آدمزاد مَیں تجھے بنی اسرائیل کے پاس یعنی اْس باغی قوم کے پاس جس نے مجھ سے بغاوت کی ہے بھیجتا ہوں، وہ اور اْن کے باپ دادا آج تک میرے گناہگار ہوتے آئے ہیں۔
4۔ کیونکہ جن کے پاس میں تجھے بھیجتا ہوں وہ سخت دل اور بے جا فرزند ہیں۔تو اْن سے کہنا کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔
5۔ پس خواہ وہ سنیں یا نہ سنیں (کیونکہ وہ تو سرکش خاندان ہیں) تو بھی وہ اتنا تو جانیں گے کہ اْن میں ایک نبی برپا ہوا۔
6۔ اور تْو اے آدمزاد اْن سے ہراساں نہ ہو اور اْن کی باتوں سے نہ ڈر۔
8۔ لیکن اے آدم زاد تو میرا کلام سن۔ تو اِس سرکش خاندان کی مانند سر کشی نہ کر۔
2 And the spirit entered into me when he spake unto me, and set me upon my feet, that I heard him that spake unto me.
3 And he said unto me, Son of man, I send thee to the children of Israel, to a rebellious nation that hath rebelled against me: they and their fathers have transgressed against me, even unto this very day.
4 For they are impudent children and stiffhearted. I do send thee unto them; and thou shalt say unto them, Thus saith the Lord God.
5 And they, whether they will hear, or whether they will forbear, (for they are a rebellious house,) yet shall know that there hath been a prophet among them.
6 And thou, son of man, be not afraid of them, neither be afraid of their words, though briers and thorns be with thee, and thou dost dwell among scorpions: be not afraid of their words, nor be dismayed at their looks, though they be a rebellious house.
8 But thou, son of man, hear what I say unto thee; Be not thou rebellious like that rebellious house:
1۔ اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔
2۔کہ اے آدم زاد اسرائیل کے چرواہوں کے خلاف نبوت کر اور اْن سے کہہ خداوند خدا چرواہوں کو یوں فرماتا ہے کہ اسرائیل کے چرواہوں پر افسوس جو اپناہی پیٹ بھرتے ہیں۔ کیا چرواہوں کو مناسب نہیں کہ بھیڑوں کو چرائیں؟
4۔تم نے کمزوروں کو توانائی اور بیماروں کو شفا نہیں دی اور ٹوٹے ہوئے کو نہیں باندھا اور جو نکال دئے گئے اْن کو واپس نہیں لائے اورگمشدہ کی تلاش نہیں کی بلکہ زبردستی اور سختی سے اْن پر حکومت کی۔
5۔ اور وہ تتر بتر ہو گئے کیونکہ کوئی پاسبان نہ تھا اور وہ پراگندہ ہو کر میدان کے سب درندوں کی خواراک ہوئے۔
6۔۔۔ اور کسی نے نہ اْن کو ڈھونڈا نہ اْن کی تلاش کی۔
9۔ اس لئے اے پاسبانو خداوند کا کلام سنو۔
12۔ جس طرح چرواہا اپنے گلہ کی تلاش کرتا ہے جب کہ وہ اپنی بھیڑوں کے درمیان ہو جو پراگندہ ہو گئی ہیں اسی طرح میں اپنی بھیڑوں کو ڈھونڈوں گا اور اْن کو ہر جگہ سے جہاں وہ ابر اور تاریکی کے دن تتر بتر ہو گئی ہیں چھْڑا لوں گا۔
14۔وہاں وہ عمدہ آرام گاہ پر لیٹیں گی اورہری چراگاہ میں اسرائیل کے پہاڑوں پر چریں گی۔
25۔ اور میں اْن کے ساتھ صلح کا عہد باندھوں گا اورسب برے درندوں کو ملک سے نابود کروں گا۔
26۔ اور میں اْن کو اور اْن جگہوں کو جو میرے پہاڑ کے آس پاس ہیں برکت کا باعث بناؤں گا۔
30۔ اور وہ جانیں گے کہ میں خداوند اْن کا خدا اْن کے ساتھ ہوں۔
1 And the word of the Lord came unto me, saying,
2 Son of man, prophesy against the shepherds of Israel, prophesy, and say unto them, Thus saith the Lord God unto the shepherds; Woe be to the shepherds of Israel that do feed themselves! should not the shepherds feed the flocks?
4 The diseased have ye not strengthened, neither have ye healed that which was sick, neither have ye bound up that which was broken, neither have ye brought again that which was driven away, neither have ye sought that which was lost; but with force and with cruelty have ye ruled them.
5 And they were scattered, because there is no shepherd: and they became meat to all the beasts of the field, when they were scattered.
6 …and none did search or seek after them.
9 Therefore, O ye shepherds, hear the word of the Lord;
12 As a shepherd seeketh out his flock in the day that he is among his sheep that are scattered; so will I seek out my sheep, and will deliver them out of all places where they have been scattered in the cloudy and dark day.
14 I will feed them in a good pasture, and upon the high mountains of Israel shall their fold be:
25 And I will make with them a covenant of peace, and will cause the evil beasts to cease out of the land:
26 And I will make them and the places round about my hill a blessing;
30 Thus shall they know that I the Lord their God am with them,
1۔ یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔
2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔
12۔ یسوع نے پھر اْن سے مخاطب ہو کر کہا کہ دنیا کا نور مَیں ہوں۔جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔
28۔ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اْسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔
29۔ اور جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے۔ اْس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اْسے پسند آتے ہیں۔
1 Jesus went unto the mount of Olives.
2 And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.
12 …saying, I am the light of the world: he that followeth me shall not walk in darkness, but shall have the light of life.
28 I do nothing of myself; but as my Father hath taught me, I speak these things.
29 And he that sent me is with me: the Father hath not left me alone; for I do always those things that please him.
7۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بھیڑوں کا دروازہ میں ہوں۔
9۔۔۔ دروازہ میں ہوں اگر کوئی مجھ سے داخل ہو تو نجات پائے گا اور اندر باہر آیا جایا کرے گا اور چارا پائے گا۔
10۔ مَیں اِس لئے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔
14۔ اچھا چرواہا مَیں ہوں۔ جس طرح باپ مجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہوں۔
15۔ اْسی طرح مَیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور میری بھیڑیں مجھے جانتی ہیں اور مَیں بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہوں۔
16۔ اور میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑ خانہ کی نہیں۔ مجھے اْن کو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی۔ پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔
27۔ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔
28۔ اور مَیں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔
29۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دیں ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔
30۔ مَیں اور باپ ایک ہیں۔
7 Verily, verily, I say unto you, I am the door of the sheep.
9 …by me if any man enter in, he shall be saved, and shall go in and out, and find pasture.
10 I am come that they might have life, and that they might have it more abundantly.
14 I am the good shepherd, and know my sheep, and am known of mine.
15 As the Father knoweth me, even so know I the Father: and I lay down my life for the sheep.
16 And other sheep I have, which are not of this fold: them also I must bring, and they shall hear my voice; and there shall be one fold, and one shepherd.
27 My sheep hear my voice, and I know them, and they follow me:
28 And I give unto them eternal life; and they shall never perish, neither shall any man pluck them out of my hand.
29 My Father, which gave them me, is greater than all; and no man is able to pluck them out of my Father’s hand.
30 I and my Father are one.
34۔ آؤ میرے باپ کے مبارک لوگو جو بادشاہی بنائے عالم سے تمہارے لئے تیار کی گئی ہے اْسے میراث میں لو۔
34 Come, ye blessed of my Father, inherit the kingdom prepared for you from the foundation of the world:
2۔ خدا کے اْس گلہ کی گلہ بانی کرو جو تم میں ہے۔ لاچاری سے گلہ بانی نہ کرو بلکہ خدا کی مرضی کے موافق خوشی سے اور ناجائز نفع کے لئے نہیں بلکہ دلی شوق سے۔
3۔ اور جو لوگ تمہارے سپرد ہیں اْن پر حکومت نہ جتاؤ بلکہ گلہ کے لئے نمونہ بنو۔
4۔ اور جب سردار گلہ بان ظاہر ہوگا تو تم کو جلال کا ایسا سہرا ملے گا جو مرجھانے کا نہیں۔
2 Feed the flock of God which is among you, taking the oversight thereof, not by constraint, but willingly;
3 Neither as being lords over God’s heritage, but being ensamples to the flock.
4 And when the chief Shepherd shall appear, ye shall receive a crown of glory that fadeth not away.
پانی کا ایک قطرہ سمندر کے ساتھ ایک ہے، روشنی کی ایک کرن سورج کے ساتھ ایک ہے، اسی طرح خدا اور انسان، باپ اور بیٹا ہستی میں ایک ہیں۔
As a drop of water is one with the ocean, a ray of light one with the sun, even so God and man, Father and son, are one in being.
سائنس میں انسان روح کی اولاد ہے۔ اْس کا نسب خوبصورت، اچھائی اور پاکیزگی تشکیل دیتی ہے۔ اْس کا اصل، بشر کی مانند، وحشی جبلت میں نہیں اور نہ ہی وہ ذہانت تک پہنچنے سے پہلے مادی حالات سے گزرتا ہے۔ روح اْس کی ہستی کا ابتدائی اور اصلی منبع ہے؛ خدا اْس کا باپ ہے، اور زندگی اْس کی ہستی کا قانون ہے۔
In Science man is the offspring of Spirit. The beautiful, good, and pure constitute his ancestry. His origin is not, like that of mortals, in brute instinct, nor does he pass through material conditions prior to reaching intelligence. Spirit is his primitive and ultimate source of being; God is his Father, and Life is the law of his being.
اس سائنس کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ”تْو میرے حضور غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“یہ لفظ”میرے“ روح ہے۔لہٰذہ اس حکم کا مطلب ہے یہ: تو میرے سامنے نہ کوئی ذہانت، نہ زندگی، نہ مواد، نہ سچائی، نہ محبت رکھنا ماسوائے اْس کے جو روحانی ہے۔دوسرا بھی اسی طرح ہے، ”تْو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔“اس بات کی پوری طرح سے سمجھ آجانی چاہئے کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہے، ایک خدا اور باپ، ایک زندگی، حق اور محبت ہے۔ جب یہ حقیقت ایک تناسب میں ایاں ہوگی تو انسان کامل ہوجائے گا، جنگ ختم ہو جائے گی اور انسان کا حقیقی بھائی چارہ قائم ہو جائے گا۔دوسرے دیوتا نہ ہونا، دوسروں کی طرف جانے کی بجائے راہنمائی کے لئے ایک کامل عقل کے پاس جاتے ہوئے، انسان خدا کی مانند پاک اور ابدی ہوجاتا ہے، جس کے پاس وہی عقل ہے جو مسیح میں بھی تھی۔
The first demand of this Science is, "Thou shalt have no other gods before me." This me is Spirit. Therefore the command means this: Thou shalt have no intelligence, no life, no substance, no truth, no love, but that which is spiritual. The second is like unto it, "Thou shalt love thy neighbor as thyself." It should be thoroughly understood that all men have one Mind, one God and Father, one Life, Truth, and Love. Mankind will become perfect in proportion as this fact becomes apparent, war will cease and the true brotherhood of man will be established. Having no other gods, turning to no other but the one perfect Mind to guide him, man is the likeness of God, pure and eternal, having that Mind which was also in Christ.
مسیح روح تھا جسے یسوع نے اپنے خود کے بیانات میں تقویت دی: ”راہ، حق اور زندگی مَیں ہوں“؛ ”مَیں اور میرا باپ ایک ہیں۔“ یہ مسیح، یا انسان یسوع کی الوہیت اْس کی فطرت، خدائی تھی جس نے اْسے متحرک رکھا۔الٰہی حق، زندگی اور محبت نے یسوع کو گناہ، بیماری اور موت پر اختیار دیا۔ اْس کا مقصد آسمانی ہستی کی سائنس کو ظاہر کرنا تھا تاکہ اِسے ثابت کرے جو خدا ہے اور جو وہ انسان کے لئے کرتا ہے۔
The Christ was the Spirit which Jesus implied in his own statements: "I am the way, the truth, and the life;" "I and my Father are one." This Christ, or divinity of the man Jesus, was his divine nature, the godliness which animated him. Divine Truth, Life, and Love gave Jesus authority over sin, sickness, and death. His mission was to reveal the Science of celestial being, to prove what God is and what He does for man.
یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی نسبت جس کا اصل کم روحانی ہویسوع نے خدا کی مثال کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا۔ خدا کے ساتھ اْس کی فرمانبرداری سے اْس نے دیگر سبھی لوگوں کی نسبت ہستی کے اصول کو زیادہ روحانی ظاہر کیا۔ اسی طرح اْس کی اس نصیحت کی طاقت ہے کہ ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“
Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death. Jesus presented the ideal of God better than could any man whose origin was less spiritual. By his obedience to God, he demonstrated more spiritually than all others the Principle of being. Hence the force of his admonition, "If ye love me, keep my commandments."
کائنات کو، انسان کی مانند، اس کے الٰہی اصول، خدا، کی طرف سے سائنس کے ذریعے واضح کیا جانا چاہئے، تو پھر اسے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب اسے جسمانی حواس کی بنیاد پر واضح کیا جاتا ہے اور نشوونما، بلوغت اور زوال کے ماتحت ہوتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے،تو کائنات، انسان کی مانند، ایک معمہ بن جاتا ہے اوریہ جاری رکھنا چاہئے۔
پیروی، ملاپ اور دلکشی عقل کی ملکیتیں ہیں۔یہ الٰہی اصول سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ خیالی قوت کی تعدیل کی حمایت کرتے ہیں، جس نے زمین کو اس کے مدار میں چھوڑا اور متکبر لہروں سے کہا، ”یہاں تک پر آگے نہیں۔“
روح تمام چیزوں کی زندگی، مواد اور تواتر ہے۔ ہم قوتوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں تو مخلوق نیست ہو جائے گی۔ انسانی علم انہیں مادے کی قوتیں کہتا ہے،لیکن الٰہی سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ وہ مکمل طور پر الٰہی عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور اس عقل میں میراث رکھتی ہیں، اور یوں انہیں اْن کے جائز گھر اور درجہ بندی میں بحال کرتی ہیں۔
The universe, like man, is to be interpreted by Science from its divine Principle, God, and then it can be understood; but when explained on the basis of physical sense and represented as subject to growth, maturity, and decay, the universe, like man, is, and must continue to be, an enigma.
Adhesion, cohesion, and attraction are properties of Mind. They belong to divine Principle, and support the equipoise of that thought-force, which launched the earth in its orbit and said to the proud wave, "Thus far and no farther."
Spirit is the life, substance, and continuity of all things. We tread on forces. Withdraw them, and creation must collapse. Human knowledge calls them forces of matter; but divine Science declares that they belong wholly to divine Mind, are inherent in this Mind, and so restores them to their rightful home and classification.
عقل الٰہی اصول، محبت ہے، اور ابدی مادر پدر خدا کے برعکس کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ حقیقت روحانی، ہم آہنگ، ناقابل تبدیل، لافانی، الٰہی، ابدی ہے۔غیر روحانی کچھ بھی حقیقی، ہم آہنگ یا ابدی نہیں ہو سکتا۔
Mind is the divine Principle, Love, and can produce nothing unlike the eternal Father-Mother, God. Reality is spiritual, harmonious, immutable, immortal, divine, eternal. Nothing unspiritual can be real, harmonious, or eternal.
اگر خدا کو واحد عقل اور زندگی تسلیم کیا جاتا ہے تو اِس سے گناہ اور موت کے لئے کوئی بھی موقع میسر نہیں رہتا۔ جب ہم سائنس میں یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ہم کامل کیسے بنیں جیسے ہمار ا آسمانی باپ کامل ہے، تو سوچ جدید اور صحتمند راستوں کی جانب، لافانی چیزوں کی فکرمندی کی طرف مڑ جاتی ہے اور بشمول ہم آہنگ انسان کائنات کے اصول کی مادیت سے دورہو جاتی ہے۔
مادی عقائد اور روحانی فہم کبھی ایک ساتھ نہیں جڑتے۔بعد والا پہلے والے کو نیست کردیتا ہے۔ مخالفت عدم ہے جسے غلطی کا نام دیا گیا ہے۔ ہم آہنگی کچھ ہے جسے سچائی کا نام دیا گیا ہے۔
If God is admitted to be the only Mind and Life, there ceases to be any opportunity for sin and death. When we learn in Science how to be perfect even as our Father in heaven is perfect, thought is turned into new and healthy channels, — towards the contemplation of things immortal and away from materiality to the Principle of the universe, including harmonious man.
Material beliefs and spiritual understanding never mingle. The latter destroys the former. Discord is the nothingness named error. Harmony is the somethingness named Truth.
۔۔۔ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔ یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے نہ کہ افسانوی ہے۔ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔
خدا محبت ہے۔
…harmonious and immortal man has existed forever, and is always beyond and above the mortal illusion of any life, substance, and intelligence as existent in matter. This statement is based on fact, not fable. The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.
God is Love.
خدا خود کا تصور بڑے کے ساتھ ایک رابطے کے لئے چھوٹے کو دیتا ہے، اور بدلے میں، بڑا ہمیشہ چھوٹے کو تحفظ دیتا ہے۔روح کے امیراعلیٰ بھائی چارے میں،ایک ہی اصول یا باپ رکھتے ہوئے، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور مبارک ہے وہ شخص جودوسرے کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتے ہوئے، اپنے بھائی کی ضرورت دیکھتا اور پوری کرتا ہے۔ محبت کمزور روحانی خیال کو طاقت، لافانیت اور بھلائی عطا کرتی ہے جو سب میں ایسے ہی روشن ہوتی ہے جیسے شگوفہ ایک کونپل میں روشن ہوتا ہے۔خدا سے متعلق تمام تر مختلف اظہارات صحت، پاکیزگی، لافانیت، لامحدود زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔
God gives the lesser idea of Himself for a link to the greater, and in return, the higher always protects the lower. The rich in spirit help the poor in one grand brotherhood, all having the same Principle, or Father; and blessed is that man who seeth his brother's need and supplieth it, seeking his own in another's good. Love giveth to the least spiritual idea might, immortality, and goodness, which shine through all as the blossom shines through the bud. All the varied expressions of God reflect health, holiness, immortality — infinite Life, Truth, and Love.
ایک باپ،حتیٰ کے خدا،کے ساتھ انسان کا پورا خاندان بھائی ہوں گے اور ایک عقل اور خدا، یا اچھائی کے ساتھ انسان کا بھائی چارہ محبت اور سچائی پر اور اصول اور روحانی قوت پر مشتمل ہو گا جو الٰہی سائنس کو قائم کرتے ہیں۔
With one Father, even God, the whole family of man would be brethren; and with one Mind and that God, or good, the brotherhood of man would consist of Love and Truth, and have unity of Principle and spiritual power which constitute divine Science.
”اے چھوٹے گلے نہ ڈرکیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔“ یہ سچائی کرسچن سائنس ہے۔
"Fear not, little flock; for it is your Father's good pleasure to give you the kingdom." This truth is Christian Science.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔