اتوار 22 مارچ ، 2026



مضمون۔ مادا

SubjectMatter

سنہری متن: یرمیاہ 31 باب 14 آیت

اور میرے لوگ میری نعمتوں سے آسودہ ہوں گے خداوند فرماتا ہے۔



Golden Text: Jeremiah 31 : 14

My people shall be satisfied with my goodness, saith the Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: زبور 37 باب 16 تا 19، 23، 25، 28،29 آیات


16۔ صادق کا تھوڑا سا مال بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے۔

17۔ کیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائیں گے لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے۔

18۔ کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے۔ اْن کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی۔

19۔وہ آفت کے وقت شرمندہ نہ ہوں گے اور کال کے دنوں میں آسودہ رہیں گے۔

23۔انسان کی روشیں خداوند کی طرف سے قائم ہیں اور وہ اْس کی راہ سے خوش ہے۔

25۔ مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں تو بھی مَیں نے صادق کو بیکس اور اْس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔

28۔ کیونکہ خداوندانصاف کو پسند کرتا ہے اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں۔ پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔

29۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اْس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔

Responsive Reading: Psalm 37 : 16-19, 23, 25, 28, 29

16.     A little that a righteous man hath is better than the riches of many wicked.

17.     For the arms of the wicked shall be broken: but the Lord upholdeth the righteous.

18.     The Lord knoweth the days of the upright: and their inheritance shall be for ever.

19.     They shall not be ashamed in the evil time: and in the days of famine they shall be satisfied.

23.     The steps of a good man are ordered by the Lord: and he delighteth in his way.

25.     I have been young, and now am old; yet have I not seen the righteous forsaken, nor his seed begging bread.

28.     For the Lord loveth judgment, and forsaketh not his saints; they are preserved for ever: but the seed of the wicked shall be cut off.

29.     The righteous shall inherit the land, and dwell therein for ever.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ خروج 20 باب 1، 17 آیات

1۔ اور خدا نے یہ سب باتیں اْن کو بتائیں۔

17۔ تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اْس کے غلام اور نہ اْس کی لونڈی اور اْس کے بیل اور اْس کے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا۔

1. Exodus 20 : 1, 17

1     And God spake all these words, saying,

17     Thou shalt not covet thy neighbour’s house, thou shalt not covet thy neighbour’s wife, nor his manservant, nor his maidservant, nor his ox, nor his ass, nor any thing that is thy neighbour’s.

2 . ۔ واعظ 5 باب 7،9، 10، 12 تا 14 (تا:)، 18 تا 20 آیات

7۔کیونکہ خوابوں کی زیادتی اور بطالت اور باتوں کی کثرت سے ایسا ہوتا ہے لیکن تْو خدا سے ڈر۔

9۔ زمین کا حاصل سب کے لئے ہے بلکہ کاشت کاری سے بادشاہ کا بھی کام نکلتا ہے۔

10۔زردوست روپیہ سے آسودہ نہ ہو گا اور دولت کا چاہنے والا اْس کے بڑھنے سے سیر نہ ہو گا۔ یہ بھی بطلان ہے۔

12۔ محنتی کی نیند میٹھی ہے خواہ وہ تھوڑا کھائے خواہ بہت لیکن دولت کی فروانی دولت مند کو سونے نہیں دیتی۔

13۔ایک بلائے عظیم ہے جسے میں نے دنیا میں دیکھا یعنی دولت جسے اْس کا مالک اپنے نقصان کے لئے رکھ چھوڑتا ہے۔

14۔ اور وہ مال کسی بْرے حادثہ سے برباد ہوتا ہے۔

18۔ لو میں نے دیکھا کہ یہ خوب ہے بلکہ خوش نما ہے کہ آدمی کھائے اور پئے اور ساری محنت سے جو وہ دنیا میں کرتا ہے اپنی تمام عمر جو خدا نے اسے بخشی ہے راحت اْٹھائے کیونکہ اْس کا بخرہ یہی ہے۔

19۔ نیز ہر ایک آدمی جسے خدا نے مال و اسباب بخشا ہے اور اْسے توفیق دی کہ اْس میں سے کھائے اور اپنا بخرہ لے اور اپنی محنت سے شادمان رہے۔ یہ تو خدا کی بخشش ہے۔

20۔پس وہ اپنی زندگی کے دنوں کو بہت یاد نہیں کرے گا اس لئے کہ خدا اْس کی خوش دلی کے مطابق اْس سے سلوک کرتا ہے۔

2. Ecclesiastes 5 : 7, 9, 10, 12-14 (to :), 18-20

7     For in the multitude of dreams and many words there are also divers vanities: but fear thou God.

9     Moreover the profit of the earth is for all: the king himself is served by the field.

10     He that loveth silver shall not be satisfied with silver; nor he that loveth abundance with increase: this is also vanity.

12     The sleep of a labouring man is sweet, whether he eat little or much: but the abundance of the rich will not suffer him to sleep.

13     There is a sore evil which I have seen under the sun, namely, riches kept for the owners thereof to their hurt.

14     But those riches perish by evil travail:

18     Behold that which I have seen: it is good and comely for one to eat and to drink, and to enjoy the good of all his labour that he taketh under the sun all the days of his life, which God giveth him: for it is his portion.

19     Every man also to whom God hath given riches and wealth, and hath given him power to eat thereof, and to take his portion, and to rejoice in his labour; this is the gift of God.

20     For he shall not much remember the days of his life; because God answereth him in the joy of his heart.

3 . ۔ اعمال 8 باب 5 تا 9، 11 تا 13 (تا:)، 14، 15، 17 تا 22، 24 آیات

5۔ اور فلپس شہر سامریہ میں جا کر لوگوں میں مسیح کی منادی کرنے لگا۔

6۔ اور جو معجزے فِلپس دِکھاتا تھا لوگوں نے انہیں سن کر اور دیکھ کر بالااتفاق اْس کی باتوں پر جی لگایا۔

7۔ کیونکہ بتہیرے لوگوں میں سے ناپاک روحیں بڑی آواز سے چِلا چِلا گئیں اور بہت سے مفلوج اور لنگڑے اچھے کئے گئے۔

8۔ اور اْس شہر میں بڑی خوشی ہوئی۔

9۔ اس سے پہلے شمعون نام ایک شخص اْس شہر میں جادو گری کرتا تھا اور سامریہ کے لوگوں کو حیران رکھتا اور یہ کہتا تھا کہ میں بھی کوئی بڑا شخص ہوں۔

11۔ وہ اس لئے اْس کی طرف متوجہ ہوتے تھے کہ اْس نے بڑی مدت سے اپنے جادو کے سبب سے اْن کو حیران کر رکھا تھا۔

12۔ لیکن جب انہوں نے فلپس کا یقین کیا جو خدا کی بادشاہی اور یسوع مسیح کے نام کی خوشخبری دیتا تھا تو سب لوگ خواہ مرد خواہ عورت بپتسمہ لینے لگے۔

13۔ اور شمعون نے خود بھی یقین کیا:

14۔ جب رسولوں نے جو یروشلم میں تھے سنا کہ سامریوں نے خدا کا کلام قبول کر لیا تو پطرس اور یوحنا کو اْن کے پاس بھیجا۔

15۔ انہوں نے جاکر اْن کے لئے دعا کی کہ روح القدس پائیں۔

17۔ پھر انہوں نے اْن پر ہاتھ رکھے اور انہوں نے روح القدس پایا۔

18۔ جب شمعون نے دیکھا کہ رسولوں کے ہاتھ رکھنے سے روح القدس دیا جاتا ہے تو اْن کے پاس روپے لا کر۔

19۔ کہا کہ مجھے بھی یہ اختیار دو کہ جس پر میں ہاتھ رکھوں وہ روح القدس پائے۔

20۔ پطرس نے اْس سے کہا تیرے روپے تیرے ساتھ غارت ہوں۔ اس لئے کہ تو نے خدا کی بخشش کو روپیوں سے حاصل کرنے کا خیال کیا۔

21۔ تیرا نہ اس امر میں حصہ ہے نہ بخرہ کیونکہ تیرا دل خدا کے نزدیک خالص نہیں۔

22۔ پس اپنی اس بدی سے توبہ کر اور خداوند سے دعا کر کہ شاید تیرے دل کے اس خیال کی معافی ہو۔

24۔ شمعون نے جواب میں کہا تم میرے لئے خداوند سے دْعا کرو کہ جو باتیں تم نے کہیں اْن میں سے کوئی مجھے پیش نہ آئے۔

3. Acts 8 : 5-9, 11-13 (to :), 14, 15, 17-22, 24

5     Then Philip went down to the city of Samaria, and preached Christ unto them.

6     And the people with one accord gave heed unto those things which Philip spake, hearing and seeing the miracles which he did.

7     For unclean spirits, crying with loud voice, came out of many that were possessed with them: and many taken with palsies, and that were lame, were healed.

8     And there was great joy in that city.

9     But there was a certain man, called Simon, which beforetime in the same city used sorcery, and bewitched the people of Samaria, giving out that himself was some great one:

11     And to him they had regard, because that of long time he had bewitched them with sorceries.

12     But when they believed Philip preaching the things concerning the kingdom of God, and the name of Jesus Christ, they were baptized, both men and women.

13     Then Simon himself believed also:

14     Now when the apostles which were at Jerusalem heard that Samaria had received the word of God, they sent unto them Peter and John:

15     Who, when they were come down, prayed for them, that they might receive the Holy Ghost:

17     Then laid they their hands on them, and they received the Holy Ghost.

18     And when Simon saw that through laying on of the apostles’ hands the Holy Ghost was given, he offered them money,

19     Saying, Give me also this power, that on whomsoever I lay hands, he may receive the Holy Ghost.

20     But Peter said unto him, Thy money perish with thee, because thou hast thought that the gift of God may be purchased with money.

21     Thou hast neither part nor lot in this matter: for thy heart is not right in the sight of God.

22     Repent therefore of this thy wickedness, and pray God, if perhaps the thought of thine heart may be forgiven thee.

24     Then answered Simon, and said, Pray ye to the Lord for me, that none of these things which ye have spoken come upon me.

4 . ۔ 2 کرنتھیوں 10 باب 13، 15 (تا؛)، 17، 18 آیات

13۔ لیکن ہم اندازہ سے زیادہ فخر نہ کریں گے بلکہ اْسی علاقہ کے اندازہ کے مْوافق جو خدا نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے۔ جس میں تم بھی آگئے ہو۔

15۔اور ہم اندازہ سے زیادہ یعنی اوروں کی محنتوں پر فخر نہیں کرتے۔

17۔ غرض جو فخر کرے وہ خداوند پر فخر کرے۔

18۔ جو اپنی نیک نامی جتاتا ہے وہ مقبول نہیں بلکہ جس کو خداوند نیک نام ٹھہراتا ہے وہی مقبول ہے۔

4. II Corinthians 10 : 13, 15 (to ;), 17, 18

13     But we will not boast of things without our measure, but according to the measure of the rule which God hath distributed to us, a measure to reach even unto you.

15     Not boasting of things without our measure, that is, of other men’s labours;

17     But he that glorieth, let him glory in the Lord.

18     For not he that commendeth himself is approved, but whom the Lord commendeth.

5 . ۔ 2 کرنتھیوں 9 باب 6 (وہ) تا 8 آیات

6۔لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا۔

7۔ جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اْسی قدر دے۔ نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔

8۔ اور خدا تم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تاکہ تم کو ہر چیز کافی طور پرملا کرے اور ہر نیک کام کے لئے تمہارے پاس بہت کچھ موجود رہا کرے۔

5. II Corinthians 9 : 6 (He)-8

6     He which soweth sparingly shall reap also sparingly; and he which soweth bountifully shall reap also bountifully.

7     Every man according as he purposeth in his heart, so let him give; not grudgingly, or of necessity: for God loveth a cheerful giver.

8     And God is able to make all grace abound toward you; that ye, always having all sufficiency in all things, may abound to every good work:

6 . ۔ عبرانیوں 13 باب 1، 2، 5، 6 (تا دوسری)، 20، 21 آیات

1۔ برادرانہ محبت قائم رہے۔

2۔مسافر پروری سے غافل نہ رہو کیونکہ اسی کی وجہ سے بعض نے بے خبری میں فرشتوں کی مہمانداری کی ہے۔

5۔زر کی دوستی سے خالی رہو اور جو تمہارے پاس ہے اْسی پر قناعت کرو کیونکہ اْس نے خود فرمایا ہے کہ میں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا۔

6۔اس واسطے ہم دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ خداوند میرا مددگار ہے۔

20۔ خدا اطمینان کا چشمہ جو بڑے چرواہے یعنی ہمارے خداوند یسوع مسیح کو ابدی عہد کے خون کے باعث مردوں میں سے زندہ کر کے اٹھا لایا۔

21۔ تم کو ہر نیک بات میں کامل کرے تاکہ تم اْس کی مرضی پوری کرو اور جو کچھ اْس کے نزدیک پسندیدہ ہے یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم میں پیدا کرے جس کی تمجید ابد الا آباد ہوتی رہے۔

6. Hebrews 13 : 1, 2, 5, 6 (to 2nd ,), 20, 21

1     Let brotherly love continue.

2     Be not forgetful to entertain strangers: for thereby some have entertained angels unawares.

5     Let your conversation be without covetousness; and be content with such things as ye have: for he hath said, I will never leave thee, nor forsake thee.

6     So that we may boldly say, The Lord is my helper,

20     Now the God of peace, that brought again from the dead our Lord Jesus, that great shepherd of the sheep, through the blood of the everlasting covenant,

21     Make you perfect in every good work to do his will, working in you that which is wellpleasing in his sight, through Jesus Christ; to whom be glory for ever and ever. Amen.



سائنس اور صح


1 . ۔ 60: 11۔ 31

صرف بلند لطف ہی لافانی انسان کے نقوش کو تسلی بخش بنا سکتے ہیں۔ ہم ذاتی فہم کی حدود میں خوشی کو محدود نہیں کر سکتے۔حواس کوئی حقیقی لطف عطا نہیں کرتے۔

انسانی ہمدردیوں میں اچھائی کو بدی پر اور جانور پر روحانی کو غلبہ پانا چاہئے وگرنہ خوشی کبھی فتح مند نہیں ہوگی۔ اس آسمانی حالت کا حصول ہماری نسل کو ترقی دے گا، جرم کو تلف کرے گا، اور امنگ کو بلند مقاصد عنایت کرے گا۔ گناہ کی ہر وادی سر بلند کی جانی چاہئے، اور خود غرضی کا ہر پہاڑ نیچا کرنا چاہئے، تاکہ سائنس میں ہمارے خدا کی راہ ہموار کی جا سکے۔

1. 60 : 31-11

Higher enjoyments alone can satisfy the cravings of immortal man. We cannot circumscribe happiness within the limits of personal sense. The senses confer no real enjoyment.

The good in human affections must have ascendency over the evil and the spiritual over the animal, or happiness will never be won. The attainment of this celestial condition would improve our progeny, diminish crime, and give higher aims to ambition. Every valley of sin must be exalted, and every mountain of selfishness be brought low, that the highway of our God may be prepared in Science.

2 . ۔ 57 :15۔21

خوبصورتی، دولت یا شہرت محبتوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے نااہل ہے، اور اسے کبھی بھی عقل، نیکی اور خوبی کے بہتر دعووں کے مقابلے میں نہیں تولا جانا چاہیے۔ خوشی روحانی ہے، سچائی اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بے لوث ہے، اس لئے یہ اکیلی موجود نہیں ہو سکتی، بلکہ تمام بنی نوع انسان کو اس کا اشتراک کرنے کی ضرورت ہے۔

2. 57 : 15-21

Beauty, wealth, or fame is incompetent to meet the demands of the affections, and should never weigh against the better claims of intellect, goodness, and virtue. Happiness is spiritual, born of Truth and Love. It is unselfish; therefore it cannot exist alone, but requires all mankind to share it.

3 . ۔ 181 :14۔21

اگر آپ عقل کی سائنس سے محبت کرنے کے لئے بہت زیادہ مادی ہیں اور اثرات کی بجائے اچھے الفاظ سے مطمئن ہیں، اگر آپ غلطی پر قائم ہیں اور سچائی پر بھروسہ کرنے سے ڈرتے ہیں، تو پھر سوال دوبارہ اْٹھتاہے، ”آدم، تم کہاں ہو؟“ بیماروں کو مطمئن کرنے کے لئے عقل کے علاوہ کسی اور چیز کا سہارا لینا غیر ضروری ہے کہ آپ ان کے لئے کچھ کر رہے ہیں، کیونکہ اگر وہ ٹھیک ہو جائیں تو وہ عام طور پر جانتے ہیں اور مطمئن ہیں۔

”کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا“۔ اگر آپ کا سچائی سے زیادہ منشیات پر یقین ہے تو یہ ایمان آپ کو مادے اور غلطی کی طرف مائل کرے گا۔ آپ جو بھی ہپنوٹک طاقت استعمال کر سکتے ہیں وہ آپ کی سائنس دان بننے کی صلاحیت کو کم کر دے گی، اور اس کے برعکس ہوگا۔ صرف الٰہی عقل کے ذریعے بیماروں کو شفا دینے کا عمل، سچائی کے ساتھ غلطی کو دور کرنے کا عمل، ایک مسیحی سائنس دان کے طور پر آپ کی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔

خدا کے مطالبات صرف غور و فکر سے اپیل کرتے ہیں۔ لیکن موت کے دعوے، اور جنہیں فطرت کے قوانین کہا جاتا ہے، مادے سے منسلک ہیں۔ تو پھر ہم کس کو جائز اور اعلیٰ ترین انسانی بھلائی پیدا کرنے کی اہلیت کے طور پر قبول کریں؟ ہم جسم اور روح دونوں کی فرمانبرداری نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک دوسرے کو بالکل ختم کر دیتا ہے، اور پہلے یا دوسرے کو بہت محبت ہونی چاہئے۔ دو نقطہ ِ نظر سے کام کرنا نامکمن ہے۔ اگر ہم اس کی کوشش کریں گے تو ہم فی الحال ”ایک سے ملے رہیں گے اور دوسرے کو حقیر جانیں گے۔“

3. 181 : 21-14

If you are too material to love the Science of Mind and are satisfied with good words instead of effects, if you adhere to error and are afraid to trust Truth, the question then recurs, "Adam, where art thou?" It is unnecessary to resort to aught besides Mind in order to satisfy the sick that you are doing something for them, for if they are cured, they generally know it and are satisfied.

"Where your treasure is, there will your heart be also." If you have more faith in drugs than in Truth, this faith will incline you to the side of matter and error. Any hypnotic power you may exercise will diminish your ability to become a Scientist, and vice versa. The act of healing the sick through divine Mind alone, of casting out error with Truth, shows your position as a Christian Scientist.

The demands of God appeal to thought only; but the claims of mortality, and what are termed laws of nature, appertain to matter. Which, then, are we to accept as legitimate and capable of producing the highest human good? We cannot obey both physiology and Spirit, for one absolutely destroys the other, and one or the other must be supreme in the affections. It is impossible to work from two standpoints. If we attempt it, we shall presently "hold to the one, and despise the other."

4 . ۔ 272 :19۔ 25

یہ مادی وجودیت کے بھیانک نقلی نتائج کے مقابلے میں خیالات کی روحانیت اور روز مرہ کی مسیحت پسندی ہے؛ یہ نچلے رجحانات اور ناپاکی اور شہوت پرستی کی زمینی کشش کے مقابلے میں پاکیزگی اور صداقت ہے، جو حقیقتاً کرسچن سائنس کی الٰہی ابتدا اور کام کی تصدیق کرتی ہے۔

4. 272 : 19-25

It is the spiritualization of thought and Christianization of daily life, in contrast with the results of the ghastly farce of material existence; it is chastity and purity, in contrast with the downward tendencies and earthward gravitation of sensualism and impurity, which really attest the divine origin and operation of Christian Science.

5 . ۔ 445 :4۔27

بغیر سوچے سمجھے عقل کی شفا کی تعلیم دینے،یوں طالب علم کے اخلاق کو نظر انداز کرنے اور صرف فیسوں کا خیال رکھنے میں بڑا خطرہ ہے۔ غلامی کے بارے میں جیفرسن کے الفاظ کو یاد کرتے ہوئے، ”میں کانپتا ہوں، جب میں یاد کرتا ہوں کہ خدا انصاف پسند ہے“، مصنفہ جب بھی کسی آدمی کو دیکھتی ہے، پیسے کی معمولی سوچ کے لئے، اسے دماغی طاقت کے بارے میں اس کے معمولی علم کی تعلیم دیتے ہوئے، شاید اس کے اپنے بْرے اخلاق کا اظہار کرتے ہوئے، اور اس طرح سے کسی کمیونٹی کے ساتھ بے رحمی سے پیش آنے کے لیے غیر متوقع طریقے سے پیش آتے ہیں۔

5. 445 : 27-4

There is great danger in teaching Mind-healing indiscriminately, thus disregarding the morals of the student and caring only for the fees. Recalling Jefferson's words about slavery, "I tremble, when I remember that God is just," the author trembles whenever she sees a man, for the petty consideration of money, teaching his slight knowledge of Mind-power, — perhaps communicating his own bad morals, and in this way dealing pitilessly with a community unprepared for self-defence.

6 . ۔ 239: 5۔ 10

اْس دولت، شہرت اور معاشرتی تنظیم کو دور کردیں جن کا خدا کے ترازو میں تنکا برابر وزن بھی نہیں ہے، تو پھر ہمیں اصول کے واضح خیالات ملتے ہیں۔ گروہ بندی کو توڑیں، دولت کو ایمانداری سے ہموار کریں، قابلیت کو حکمت سے آزمائیں تو ہمیں انسانیت کے بہتر خیالات ملتے ہیں۔

6. 239 : 5-10

Take away wealth, fame, and social organizations, which weigh not one jot in the balance of God, and we get clearer views of Principle. Break up cliques, level wealth with honesty, let worth be judged according to wisdom, and we get better views of humanity.

7 . ۔ 296: 14۔ 18، 26۔ 30

مادے کی نام نہاد لذتیں اور درد نیست ہو جاتے ہیں اور انہیں سچائی کے شعلہ، روحانی فہم، اور ہستی کی حقیقت کے ماتحت چلنا ہوگا۔فانی عقیدے کو غلطی اور گناہ سے چھٹکارہ پانے کے لئے ان میں پائی جانے والی تمام تر تسکین کو ختم کرنا ہوگا۔

فانی عقل مادی حواس کی گواہی کا فیصلہ کرتی ہے، یہاں تک کہ سائنس اس جھوٹی گواہی کو مٹا دیتی ہے۔ ایک بہتر عقیدہ غلطی میں سے نکلا ہوا پہلا قدم ہے، اور اگلا قدم اْٹھانے اور کرسچن سائنس کی صورتحال کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔

7. 296 : 14-18, 26-30

The so-called pleasures and pains of matter perish, and they must go out under the blaze of Truth, spiritual sense, and the actuality of being. Mortal belief must lose all satisfaction in error and sin in order to part with them.

Mortal mind judges by the testimony of the material senses, until Science obliterates this false testimony. An improved belief is one step out of error, and aids in taking the next step and in understanding the situation in Christian Science.

8 . ۔ 62 :20۔28

اگر ہم دانشمند اور صحتمند ہیں تو ہمیں یہ ذہانت مادے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نہیں بلکہ کم سے کم منسوب کرنی چاہئے۔الٰہی عقل، جو شگوفے بناتا اور کھلاتا ہے، انسانی جسم کی حفاظت کرے گا، جیسے وہ سوسن کو ملبوس کرتا ہے؛ لیکن کسی بشر کو غلطی کے قوانین، انسانی نظریات کو زبردستی گھْساتے ہوئے خدا کی حکومت میں مداخلت نہ کرنے دیں۔

انسان کی بلند فطرت کمتر کی حکمرانی تلے نہیں ہوتی؛ اگر ایسا ہوتا، تو حکمت کی ترتیب اْلٹ ہوجاتی۔

8. 62 : 20-28

We must not attribute more and more intelligence to matter, but less and less, if we would be wise and healthy. The divine Mind, which forms the bud and blossom, will care for the human body, even as it clothes the lily; but let no mortal interfere with God's government by thrusting in the laws of erring, human concepts.

The higher nature of man is not governed by the lower; if it were, the order of wisdom would be reversed.

9 . ۔ 407 :6۔ 20

انسان کی نہایت ہمدردی، خودغرضی، حسد، نفرت اور بدلے جیسے بے رحم آقاؤں کے ہاتھوں غلامی کو محض ایک مضبوط جدوجہد سے ہی فتح کیا جا تا ہے۔ تاخیر کا ہر لمحہ اس جدوجہد کو اور شدید بنا دیتا ہے۔ اگر انسان احساسات پر فتح مند نہیں ہوتا، تو وہ خوشی، صحت اور مردانگی کو کچل دیتے ہیں۔یہاں بشری عقل کی کمزوری کو طاقت مہیا کرتے ہوئے، یعنی وہ طاقت جو لافانی اور قادر مطلق عقل سے ملتی ہے، اور انسانیت کو پاکیزہ ترین خواہشات میں، حتیٰ کہ روحانی طاقت اور انسان کے لئے خیر سگالی میں بھی، خود سے بلند درجہ دیتے ہوئے کرسچن سائنس خود مختار اکسیرِ اعظم ہے۔

9. 407 : 6-20

Man's enslavement to the most relentless masters — passion, selfishness, envy, hatred, and revenge — is conquered only by a mighty struggle. Every hour of delay makes the struggle more severe. If man is not victorious over the passions, they crush out happiness, health, and manhood. Here Christian Science is the sovereign panacea, giving strength to the weakness of mortal mind, — strength from the immortal and omnipotent Mind, — and lifting humanity above itself into purer desires, even into spiritual power and good-will to man.

Let the slave of wrong desire learn the lessons of Christian Science, and he will get the better of that desire, and ascend a degree in the scale of health, happiness, and existence.

10 . ۔ 265: 24۔ 30

آسمانی اچھائی کے بعد اطمینان حاصل ہوتا ہے حتیٰ کہ اس سے قبل کہ ہم وہ دریافت کرتے جو عقل اور محبت سے تعلق رکھتا ہے۔زمینی امیدوں اور خوشیوں کا نقصان بہت سے دلوں کی چڑھنے والی راہ روشن کرتی ہے۔ فہم کی تکلیفیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ادراک کی خوشیاں فانی ہیں اور وہ خوشی روحانی ہے۔

10. 265 : 24-30

The aspiration after heavenly good comes even before we discover what belongs to wisdom and Love. The loss of earthly hopes and pleasures brightens the ascending path of many a heart. The pains of sense quickly inform us that the pleasures of sense are mortal and that joy is spiritual.

11 . ۔ 66: 11۔ 16

روحانی ترقی مادی امیدوں کی مٹی میں پیدا ہونے والے بیج سے نمو نہیں پاتی، بلکہ جب یہ فنا ہوجاتے ہیں، محبت نئے سرے سے روح کی بلند تر خوشیوں کو پروان چڑھاتی ہے، جس پر زمین کا کوئی داغ نہیں ہوتا۔ تجربے کا ہر کامیاب مرحلہ الٰہی اچھائی اور محبت کے نئے نظریات کو کھولتا ہے۔

11. 66 : 11-16

Spiritual development germinates not from seed sown in the soil of material hopes, but when these decay, Love propagates anew the higher joys of Spirit, which have no taint of earth. Each successive stage of experience unfolds new views of divine goodness and love.

12 . ۔ 60 :2۔ 3

سائنس لامحالہ ہم آہنگی اور خوشی کے پیمانے میں کسی کے ہونے کو بلند کرتی ہے۔

12. 60 : 2-3

Science inevitably lifts one's being higher in the scale of harmony and happiness.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔