اتوار 24 مئی ، 2026



مضمون۔ جان اور جسم

SubjectSoul And Body

سنہری متن: زبور 34 باب 22 آیت

خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا۔



Golden Text: Psalm 34 : 22

The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: زبور 84 باب 1 تا 4، 7، 9تا 11 آیات


1۔ اے لشکروں کے خداوند! تیرے مسکن کیا ہی دلکش ہیں۔

2۔ میری جان خداوند کی بارگاہوں کی مشتاق بلکہ گداز ہوچلی۔ میرا دل اور میرا جسم زندہ خدا کے لئے خوشی سے للکارتے ہیں۔

3۔ اے لشکروں کے خداوند! اے میرے بادشاہ اور میرے خدا! تیرے مذبحوں کے پاس گوریا نے اپنا آشیانہ اور ابابیل نے اپنے لئے گھونسلا بنا لیا۔ جہاں وہ اپنے بچوں کو رکھے۔

4۔ مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں۔ وہ سدا تیری تعریف کریں گے۔

7۔ وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔ اْن میں سے ہر ایک صیہون میں خداوند کے حضور حاضر ہوتا ہے۔

9۔ اے خدا! اے ہماری سِپر! دیکھ اور اپنے ممسوح کے چہرے پر نظر کر۔

10۔ کیونکہ تیری بارگاہوں میں ایک دن ہزار سے بہتر ہے۔ میں اپنے خدا کے گھر کا دربان ہونا شرارت کے خیموں میں بسنے سے زیادہ پسند کروں گا۔

11۔ کیونکہ خداوند خدا آفتاب اور سِپر ہے۔ خداوند فضل اور جلال بخشے گا۔ وہ راست رو سے کوئی نعمت باز نہ رکھے گا۔

Responsive Reading: Psalm 84 : 1-4, 7, 9-11

1.     How amiable are thy tabernacles, O Lord of hosts!

2.     My soul longeth, yea, even fainteth for the courts of the Lord: my heart and my flesh crieth out for the living God.

3.     Yea, the sparrow hath found an house, and the swallow a nest for herself, where she may lay her young, even thine altars, O Lord of hosts, my King, and my God.

4.     Blessed are they that dwell in thy house: they will be still praising thee.

7.     They go from strength to strength, every one of them in Zion appeareth before God.

9.     Behold, O God our shield, and look upon the face of thine anointed.

10.     For a day in thy courts is better than a thousand. I had rather be a doorkeeper in the house of my God, than to dwell in the tents of wickedness.

11.     For the Lord God is a sun and shield: the Lord will give grace and glory: no good thing will he withhold from them that walk uprightly.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زبور 107 باب 8، 9 آیات

8۔ کاش کہ لوگ خداوند کی شفقت کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اْس کے عجائب کی خاطر اْس کی ستائش کرتے۔

9۔ کیونکہ وہ ترستی جان کو سیر کرتا ہے۔ اور بھوکی جان کو نعمتوں سے مالامال کرتا ہے۔

1. Psalm 107 : 8, 9

8     Oh that men would praise the Lord for his goodness, and for his wonderful works to the children of men!

9     For he satisfieth the longing soul, and filleth the hungry soul with goodness.

2 . ۔ متی 12 باب 1 (تا؛)، 22 تا 28 آیات

1۔ اْس وقت یسوع سبت کے دن کھیتوں میں ہو کر گیا اور اْس کے شاگردوں کو بھوک لگی اور وہ بالیں توڑ توڑ کر کھانے لگے۔

22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟

24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشای تمہارے پاس آ پہنچی۔

2. Matthew 12 : 1 (to ;), 22-28

1     At that time Jesus went on the sabbath day through the corn;

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

3 . ۔ یوحنا 3 باب 1 تا 8 آیات

1۔ فریسیوں میں سے ایک شخص نیکودیمس نام یہودیوں کا سردار تھا۔

2۔ اْس نے رات کو یسوع کے پاس آکر اْس سے کہا اے ربی ہم جانتے ہیں کہ تْو خدا کی طرف سے اْستاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تْو دکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دکھا سکتا جب تک خدا اْس کے ساتھ نہ ہو۔

3۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو خدا کی بادشاہی کو نہیں دیکھ سکتا۔

4۔ نیکودیمس نے اْس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہوگیا تو کیونکر پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے؟

5۔ یسوع نے اْسے جواب دیا کہ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا۔

6۔ جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے۔

7۔ تعجب نہ کر کہ مَیں نے تجھ سے کہا کہ تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔

8۔ ہوا جِدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تْو اْس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی ہے اور کہاں کو جاتی ہے۔ جو کوئی روح سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی ہے۔

3. John 3 : 1-8

1     There was a man of the Pharisees, named Nicodemus, a ruler of the Jews:

2     The same came to Jesus by night, and said unto him, Rabbi, we know that thou art a teacher come from God: for no man can do these miracles that thou doest, except God be with him.

3     Jesus answered and said unto him, Verily, verily, I say unto thee, Except a man be born again, he cannot see the kingdom of God.

4     Nicodemus saith unto him, How can a man be born when he is old? can he enter the second time into his mother’s womb, and be born?

5     Jesus answered, Verily, verily, I say unto thee, Except a man be born of water and of the Spirit, he cannot enter into the kingdom of God.

6     That which is born of the flesh is flesh; and that which is born of the Spirit is spirit.

7     Marvel not that I said unto thee, Ye must be born again.

8     The wind bloweth where it listeth, and thou hearest the sound thereof, but canst not tell whence it cometh, and whither it goeth: so is every one that is born of the Spirit.

4 . ۔ 1 کرنتھیوں 6 باب 19، 20 آیات

19۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارا بدن روح القدس کا مقدِس ہے جو تم میں بسا ہوا ہے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے؟ اور تم اپنے نہیں۔

20۔ کیونکہ تم قیمت سے خریدے گئے ہو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاہر کرو۔

4. I Corinthians 6 : 19, 20

19     What? know ye not that your body is the temple of the Holy Ghost which is in you, which ye have of God, and ye are not your own?

20     For ye are bought with a price: therefore glorify God in your body, and in your spirit, which are God’s.

5 . ۔ 1 کرنتھیوں 15 باب 34 تا 38، 42 تا 44 (تا پہلی۔)، 49 تا54 آیات

34۔ راستباز ہونے کے لئے ہوش میں آؤ اورگناہ نہ کرو کیونکہ بعض خدا سے ناواقف ہیں۔ میں تمہیں شرم دلانے کو یہ کہتا ہوں۔

35۔ اب کوئی یہ کہے گا کہ مْردے کس طرح جی اْٹھتے ہیں اور کیسے جسم کے ساتھ آتے ہیں؟

36۔ اے نادان! تْو خود جو کچھ ہوتا ہے جب تک وہ نہ مرے زندہ نہیں کیا جاتا۔

37۔ اور جو تو ہوتا ہے وہ جسم نہیں جو پیدا ہونے والا ہے بلکہ صرف دانہ ہے۔ خواہ گیہوں کا خواہ کسی اور چیز کا۔

38۔ مگر خدا نے جیسا ارادہ کر لیا ویسا ہی اْس کو جسم دیتا ہے اور ہر ایک بیج کو اْس کا خاص جسم۔

42۔ ْمردوں کی قیامت بھی ایسی ہی ہے۔ جسم فنا کی حالت میں بویا جاتا ہے اور بقا کی حالت میں جی اْٹھتا ہے۔

43۔ بے حرمتی کی حالت میں بویا جاتا ہے اور جلال کی حالت میں جی اْٹھتا ہے۔ کمزوری کی حالت میں بویا جاتا ہے اور قوت کی حالت میں جی اْٹھتا ہے۔

44۔ نفسانی جسم بویا جاتا ہے اور روحانی جسم جی اْٹھتا ہے۔ جب نفسانی جسم ہے تو روحانی جسم بھی ہے۔

49۔ اور جس طرح ہم اس خاکی کی صورت پر ہوئے اْسی طرح اْس آسمانی کی صورت پر بھی ہوں گے۔

50۔ اے بھائیو! میرا مطلب ہے کہ گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارث ہوسکتی ہے۔

51۔ دیکھو مَیں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لقمہ ہوگئی۔

5. I Corinthians 15 : 34-38, 42-44 (to 1st .), 49-54

34     Awake to righteousness, and sin not; for some have not the knowledge of God: I speak this to your shame.

35     But some man will say, How are the dead raised up? and with what body do they come?

36     Thou fool, that which thou sowest is not quickened, except it die:

37     And that which thou sowest, thou sowest not that body that shall be, but bare grain, it may chance of wheat, or of some other grain:

38     But God giveth it a body as it hath pleased him, and to every seed his own body.

42     So also is the resurrection of the dead. It is sown in corruption; it is raised in incorruption:

43     It is sown in dishonour; it is raised in glory: it is sown in weakness; it is raised in power:

44     It is sown a natural body; it is raised a spiritual body.

49     And as we have borne the image of the earthy, we shall also bear the image of the heavenly.

50     Now this I say, brethren, that flesh and blood cannot inherit the kingdom of God; neither doth corruption inherit incorruption.

51     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

52     In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.

6 . ۔ 2 کرنتھیوں 5 باب 1 تا 9 آیات

1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

2۔ چنانچہ ہم اس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے ملبس ہو جائیں۔

3۔ تاکہ ملبس ہونے کے باعث ننگے نہ پائے جائیں۔

4۔ کیونکہ ہم اس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ لباس اتارنا چاہتے ہیں بلکہ اس پر اور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔

5۔ اور جس نے ہم کو اِس بات کے لئے تیار کیا وہ خدا ہے اور اسی نے ہمیں روح بیعانہ میں دیا۔

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔

7۔ (کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔)

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہوکر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

9۔ اِسی واسطے ہم یہ حوصلہ رکھتے ہیں کہ وطن میں ہوں خواہ جلاوطن اْس کو خوش کریں۔

6. II Corinthians 5 : 1-9

1     For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.

2     For in this we groan, earnestly desiring to be clothed upon with our house which is from heaven:

3     If so be that being clothed we shall not be found naked.

4     For we that are in this tabernacle do groan, being burdened: not for that we would be unclothed, but clothed upon, that mortality might be swallowed up of life.

5     Now he that hath wrought us for the selfsame thing is God, who also hath given unto us the earnest of the Spirit.

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

9     Wherefore we labour, that, whether present or absent, we may be accepted of him.

7 . ۔ 1 تھسلنیکیوں 5 باب 23 آیات

23۔ خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بالکل پاک کرے اور تمہاری روح اور جان اور بدن ہمارے خداوند یسوع مسیح کے آنے تک پورے پورے اور بے عیب محفوظ رہیں۔

7. I Thessalonians 5 : 23

23     And the very God of peace sanctify you wholly; and I pray God your whole spirit and soul and body be preserved blameless unto the coming of our Lord Jesus Christ.



سائنس اور صح


1 . ۔ 71 :7۔9

جان روح، خدا، خالق، حکمران محدود شکل سے باہر لامحدود اصول کا مترادف لفظ ہے، جو صرف عکس کی تشکیل کرتا ہے۔

1. 71 : 7-9

Soul is synonymous with Spirit, God, the creative, governing, infinite Principle outside of finite form, which forms only reflect.

2 . ۔ 477: 2۔19

سوال: بدن اور جان کیا ہیں؟

جواب: شناخت روح کا عکس ہے، وہ عکس جو الٰہی اصول، یعنی محبت کی متعدد صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

انسان روح کا اظہار۔بھارتیوں نے بنیادی حقیقت کی چند جھلکیاں پکڑی ہیں، جب انہوں نے ایک خوبصورت جھیل کو ”عظیم روح کی مسکراہٹ“ کا نام دیا۔ انسان سے جْدا، جو جان کو ظاہر کرتا ہے، روح غیر دیوتائی ہوگی؛ انسان، جو روح سے دریافت شدہ ہے، اپنی الوہیت کھو دے گا۔لیکن یہاں ایسی کوئی تقسیم نہ ہے اور نہ ہو سکتی ہے، کیونکہ انسان خدا کے ساتھ باہم وجود رکھتا ہے۔

2. 477 : 19-2

Question. — What are body and Soul?

Answer. — Identity is the reflection of Spirit, the reflection in multifarious forms of the living Principle, Love. Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

Man is the expression of Soul. The Indians caught some glimpses of the underlying reality, when they called a certain beautiful lake "the smile of the Great Spirit." Separated from man, who expresses Soul, Spirit would be a nonentity; man, divorced from Spirit, would lose his entity. But there is, there can be, no such division, for man is coexistent with God.

3 . ۔ 595: 7۔9 (تا؛)

ہیکل۔ بدن؛ زندگی کا خیال، مواد، اور ذہانت؛ سچائی کا ماوارنی ڈھانچہ؛ محبت کا مزار؛

3. 595 : 7-9 (to ;)

Temple. Body; the idea of Life, substance, and intelligence; the superstructure of Truth; the shrine of Love;

4 . ۔ 517: 7۔8

عقل کی زندگی دینے والی خصوصیت روح ہے، نہ کہ مادہ۔

4. 517 : 7-8

The life-giving quality of Mind is Spirit, not matter.

5 . ۔ 427: 2۔7، 9۔ 12

زندگی جان کا قانون ہے، حتیٰ کہ سچائی کی روح کا قانون بھی، اور جان کسی نمائندہ کارکے بغیر کبھی نہیں ہوتی۔ انسان کی انفرادیت اپنے ضمیر میں کبھی مر سکتی ہے نہ غائب ہو سکتی ہے جیسے کہ جان ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں لافانی ہیں۔ ۔۔۔اس سے قبل کی زندگی کو سمجھا اور ہم آہنگی کو حاصل کیا جا سکے، اس یقین پر سائنس کی بدولت مہارت حاصل ہونی چاہئے کہ وجودیت مادے کا عارضی حصہ ہے۔

5. 427 : 2-7, 9-12

Life is the law of Soul, even the law of the spirit of Truth, and Soul is never without its representative. Man's individual being can no more die nor disappear in unconsciousness than can Soul, for both are immortal. … The belief that existence is contingent on matter must be met and mastered by Science, before Life can be understood and harmony obtained.

6 . ۔ 60 :3۔29

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔ صرف بلند لطف ہی لافانی انسان کے نقوش کو تسلی بخش بنا سکتے ہیں۔ ہم ذاتی فہم کی حدود میں خوشی کو محدود نہیں کر سکتے۔حواس کوئی حقیقی لطف عطا نہیں کرتے۔

6. 60 : 29-3

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul. Higher enjoyments alone can satisfy the cravings of immortal man. We cannot circumscribe happiness within the limits of personal sense. The senses confer no real enjoyment.

7 . ۔ 62: 1۔22

الٰہی عقل، جو شگوفے اور پھول کو تشکیل دیتی ہے، وہ انسانی جسم کا خیال رکھے گی، جیسے یہ سوسن کو ملبوس کرتی ہے؛ بلکہ کسی بشر کو خدا کی حکمرانی میں غلطی والے، انسانی نظریات پر زور دیتے ہوئے مداخلت نہیں کرنے دے گی۔

انسان کی بلند فطرت کمتر کی حکمرانی تلے نہیں ہوتی؛ اگر ایسا ہوتا، تو حکمت کی ترتیب اْلٹ ہوجاتی۔ زندگی سے متعلق ہمارے جھوٹے خیالات ابدی ہم آہنگی کو چھپاتے ہیں، اور وہ بیماری پیدا کرتے ہیں جس کی ہم شکایت کرتے ہیں۔ چونکہ بشر مادی قوانین پر یقین رکھتے اور عقل کی سائنس کو رد کرتے ہیں، تو یہ مادیت کو اول اور جان کے اعلیٰ قانون کو آخر نہیں بنا تا۔

7. 62 : 22-1

The divine Mind, which forms the bud and blossom, will care for the human body, even as it clothes the lily; but let no mortal interfere with God's government by thrusting in the laws of erring, human concepts.

The higher nature of man is not governed by the lower; if it were, the order of wisdom would be reversed. Our false views of life hide eternal harmony, and produce the ills of which we complain. Because mortals believe in material laws and reject the Science of Mind, this does not make materiality first and the superior law of Soul last.

8 . ۔ 393 :4۔ 10 (تا پہلی)

بدن خود کار دکھائی دیتا ہے، محض اس لئے کیونکہ مادی فہم خود سے، اپنے تمام اعمال سے،اْن کے نتائج سے لاعلم ہوتا ہے، اِس بات سے لاعلم ہوتا ہے کہ تمام برے اثرات کی پْرکشش، پوشیدہ اور دلچسپ وجہ نام نہاد مادی عقل کا قانون ہے نہ مادے کا۔عقل جسمانی حواس کامالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔

8. 393 : 4-10 (to 1st .)

The body seems to be self-acting, only because mortal mind is ignorant of itself, of its own actions, and of their results, — ignorant that the predisposing, remote, and exciting cause of all bad effects is a law of so-called mortal mind, not of matter. Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death.

9 . ۔ 267: 10۔15

ہستی کا یہ سائنسی فہم، روح کے لئے مادے کو ترک کرتے ہوئے، کسی وسیلہ کے بغیر الوہیت میں انسان کے سوکھے پن اوراْس کی شناخت کی گمشْدگی کی تجویز دیتا ہے، لیکن انسان پر ایک وسیع تر انفرادیت نچھاور کرتا ہے،یعنی اعمال اور خیالات کا ایک بڑا دائرہ، وسیع محبت اور ایک بلند اورمزید مستقل امن عطا کرتا ہے۔

9. 265 : 10-15

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man's absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

10 . ۔ 302: 19۔24

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

10. 302 : 19-24

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

11 . ۔ 122: 10۔29

دیگر نظریات بھی بدن اور جان سے متعلق وہی غلطی کرتے ہیں جو پٹولمی نے نظام شمسی سے متعلق کی۔ وہ اِس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ جان مادے کی معاونت کے لئے بدن اور عقل کے نظریے میں پائی جاتی ہے۔فلکیاتی سائنس نے آسمانی اجزاء سے متعلق جھوٹے نظریے کو تباہ کردیا ہے، اور کرسچن سائنس یقیناً ہمارے زمینی اجزاء سے متعلق بری غلطی کو نیست کر دے گی۔پھرحقیقی خیال اور انسان کا اصول ظاہر ہوگا۔ پٹولمی کی غلطی ہستی کی ہم آہنگی پر اثر انداز نہیں ہوسکے گی جیسے کہ جان اور بدن سے متعلق غلطی اثر انداز ہوتی ہے، جو سائنسی ترتیب کو الٹ دیتی ہے اور مادے کو روح پر اختیار اور طاقت فراہم کرتی ہے، تاکہ انسان کائنات کا سب سے مکمل کمزور اور غیر ہم آہنگ مخلوق بن جائے۔

11. 122 : 29-10

Our theories make the same mistake regarding Soul and body that Ptolemy made regarding the solar system. They insist that soul is in body and mind therefore tributary to matter. Astronomical science has destroyed the false theory as to the relations of the celestial bodies, and Christian Science will surely destroy the greater error as to our terrestrial bodies. The true idea and Principle of man will then appear. The Ptolemaic blunder could not affect the harmony of being as does the error relating to soul and body, which reverses the order of Science and assigns to matter the power and prerogative of Spirit, so that man becomes the most absolutely weak and inharmonious creature in the universe.

12 . ۔ 14: 6۔22

”خداوند کے وطن“ میں رہنا محض جذباتی خوشی یا ایمان رکھنا نہیں بلکہ زندگی کا اصل اظہار اور سمجھ رکھنا ہے جیسا کہ کرسچن سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا خدا کی شریعت کا فرمانبردار ہونا، مکمل طور پر الٰہی محبت کی، روح کی نہ کہ مادے کی،حکمرانی میں رہنا ہے۔

ایک لمحے کے لئے ہوش کریں کہ زندگی اور ذہانت خالصتاً روحانی ہیں، نہ مادے میں نہ مادے سے، اورپھر بدن کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ اگر بیماری پر ایک عقیدے کی بدولت تکلیف میں ہیں تو اچانک آپ خود کو ٹھیک پائیں گے۔جب جسم پر روحانی زندگی، سچائی اور محبت کا پہرہ ہو گا تو دْکھ خوشی میں بدل جائیں گے۔لہٰذہ اْس وعدے کی امید جو یسوع دلاتا ہے: ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا؛۔۔۔کیونکہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں،“ ]کیونکہ انا بدن سے غائب ہو چکی اور اْس میں سچائی اور محبت آ موجود ہوتی ہے۔[

12. 14 : 6-22

To be "present with the Lord" is to have, not mere emotional ecstasy or faith, but the actual demonstration and understanding of Life as revealed in Christian Science. To be "with the Lord" is to be in obedience to the law of God, to be absolutely governed by divine Love, — by Spirit, not by matter.

Become conscious for a single moment that Life and intelligence are purely spiritual, — neither in nor of matter, — and the body will then utter no complaints. If suffering from a belief in sickness, you will find yourself suddenly well. Sorrow is turned into joy when the body is controlled by spiritual Life, Truth, and Love. Hence the hope of the promise Jesus bestows: "He that believeth on me, the works that I do shall he do also; ... because I go unto my Father," — [because the Ego is absent from the body, and present with Truth and Love.]

13 . ۔ 167 :3۔10

اگر ہم اندھے اعتقاد سے اونچا نہیں اٹھتے تو شفا کی سائنس حاصل نہیں ہوتی، اور فہم کی وجودیت کی جگہ، جان کی وجودیت سمجھ میں نہیں آتی۔ ہم الٰہی سائنس میں صرف تبھی زندگی حاصل کرتے ہیں جب ہم جسمانی فہم سے بلند زندگی گزارتے اور اْسے درست کرتے ہیں۔ نیکی یا بدی کے دعووں کے لئے ہمارا متناسب اعتراف ہماری وجودیت کی ہم آہنگی، ہماری صحت، ہماری عمر کی درازی، اور ہماری مسیحت کا تعین کرتا ہے۔

13. 167 : 3-10

If we rise no higher than blind faith, the Science of healing is not attained, and Soul-existence, in the place of sense-existence, is not comprehended. We apprehend Life in divine Science only as we live above corporeal sense and correct it. Our proportionate admission of the claims of good or of evil determines the harmony of our existence, — our health, our longevity, and our Christianity.

14 . ۔ 9: 17۔24

”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔ اس میں زندگی کی سائنس شامل ہے اور یہ روح پر الٰہی قابو کی شناخت کرتی ہے، جس میں ہماری روح ہماری مالک بن جاتی ہے اور مادی حس اور انسانی رضا کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔

14. 9 : 17-24

Dost thou "love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind"? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity. It involves the Science of Life, and recognizes only the divine control of Spirit, in which Soul is our master, and material sense and human will have no place.

15 . ۔ 311 :22۔25

جب انسانیت اِس سائنس کو سمجھتی ہے، تو یہ انسان کے لئے زندگی کا قانون بن جائے گی، حتیٰ کہ جان کا بلند قانون، جو ہم آہنگی اور لافانیت کے وسیلہ مادی فہم پر غالب آتا ہے۔

15. 311 : 22-25

When humanity does understand this Science, it will become the law of Life to man, — even the higher law of Soul, which prevails over material sense through harmony and immortality.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔