اتوار 25 اکتوبر، 2026
سب سے پچھلا دْشمن جو نیست کیا جائے گا وہ موت ہے۔
“The last enemy that shall be destroyed is death.”
1۔ پھر اْس نے مجھے بلور کی طرح چمکتا ہوا آبِ حیات کا ایک دریا دکھایا جو خدا اور برے کے تخت سے نکل کر اْس شہر کی سڑک کے بیچ میں بہتا تھا۔
2۔ اور دریا کے وار پار زندگی کا درخت تھا۔ اْس میں بارہ قسم کے پھل آتے تھے اور ہر مہینے میں پھلتا تھا اور اْس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔
3۔ اور پھر لعنت نہ ہوگی اور خدا اور برہ کا تخت اْس شہر میں ہوگا اور اْس کے بندے اْس کی عبادت کریں گے۔
8۔ میں وہی یوحنا ہوں جو اِن باتوں کو سنتا اور دیکھتا تھا اور جب میں نے سنا اور دیکھا تو جس فرشتہ نے مجھے یہ باتیں دکھائیں میں اْس کے پاؤں پر سجدہ کرنے کو گرا۔
9۔ اْس نے مجھ سے کہا۔۔۔خدا ہی کو سجدہ کر۔
14۔ مبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زندگی کے درخت کے پاس آنے کا اختیار پائیں گے اور اْن دروازوں سے شہر میں داخل ہوں گے۔
1. And he shewed me a pure river of water of life, clear as crystal, proceeding out of the throne of God and of the Lamb.
2. In the midst of the street of it, and on either side of the river, was there the tree of life, which bare twelve manner of fruits, and yielded her fruit every month: and the leaves of the tree were for the healing of the nations.
3. And there shall be no more curse: but the throne of God and of the Lamb shall be in it; and his servants shall serve him.
8. And I John saw these things, and heard them. And when I had heard and seen, I fell down to worship before the feet of the angel which shewed me these things.
9. Then saith he unto me, … worship God.
14. Blessed are they that do his commandments, that they may have right to the tree of life, and may enter in through the gates into the city.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
23۔ اے خداوند تْو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے۔
24۔ اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بری روش تو نہیں اور مجھ کو ابدی راہ میں لے چل۔
23 Search me, O God, and know my heart: try me, and know my thoughts:
24 And see if there be any wicked way in me, and lead me in the way everlasting.
16۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی فرمانبرداری کے لئے اپنے آپ کو غلاموں کی طرح حوالے کر دیتے ہو اْسی کے غلام ہو جس کے فرمانبردار ہو خواہ گناہ کے جس کا انجام موت ہے خواہ فرمانبرداری کے جس کا انجام راستبازی ہے۔
17۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ اگرچہ تم گناہ کے غلام تھے تو بھی دل سے اْس تعلیم کے فرمانبردار ہوگئے جس کے سانچے میں تم ڈھالے گئے تھے۔
18۔ اور گناہ سے آزاد ہو کرراستبازی کے غلام ہوگئے۔
22۔ مگر اب گناہ سے آزاد اور خدا کے غلام ہو کر تم کو اپنا پھل ملا جس سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور اِس کا انجام ہمیشہ کی زندگی ہے۔
23۔کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔
16 Know ye not, that to whom ye yield yourselves servants to obey, his servants ye are to whom ye obey; whether of sin unto death, or of obedience unto righteousness?
17 But God be thanked, that ye were the servants of sin, but ye have obeyed from the heart that form of doctrine which was delivered you.
18 Being then made free from sin, ye became the servants of righteousness.
22 But now being made free from sin, and become servants to God, ye have your fruit unto holiness, and the end everlasting life.
23 For the wages of sin is death; but the gift of God is eternal life through Jesus Christ our Lord.
1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔
1 And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,
11۔ تھوڑے عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ وہ نائین نام کے ایک شہر کو گیا اور اْس کے شاگرد اور بہت سے لوگ اْس کے ہمراہ تھے۔
12۔ جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدیک پہنچا تو دیکھو ایک مردے کو باہر لئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھااور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اْس کے ساتھ تھے۔
13۔ اْسے دیکھ کر خداوند کو ترس آیا اور اْس سے کہا مت رو۔
14۔ پھر اْس نے پاس آکر جنازے کو چھوا اور اٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اْس نے کہا اے جوان! مَیں تجھ سے کہتا ہوں اْٹھ۔
15۔ وہ مردہ اْٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اْس نے اْسے اْس کی ماں کو سونپ دیا۔
16۔ اور سب پر دہشت چھا گئی اور خدا کی تمجید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہوا ہے اور خدا نے اپنی امت پر توجہ کی ہے۔
11 And it came to pass the day after, that he went into a city called Nain; and many of his disciples went with him, and much people.
12 Now when he came nigh to the gate of the city, behold, there was a dead man carried out, the only son of his mother, and she was a widow: and much people of the city was with her.
13 And when the Lord saw her, he had compassion on her, and said unto her, Weep not.
14 And he came and touched the bier: and they that bare him stood still. And he said, Young man, I say unto thee, Arise.
15 And he that was dead sat up, and began to speak. And he delivered him to his mother.
16 And there came a fear on all: and they glorified God, saying, That a great prophet is risen up among us; and, That God hath visited his people.
16۔یسوع نے کہا۔۔۔
16 Jesus saith …
24۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو میرا کلام سنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے اور اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔
25۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مردے خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سنیں گے وہ جیئں گے۔
28۔ اِس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اْس کی آواز سن کر نکلیں گے۔
29۔ جنہوں نے نیکی کی ہے زندگی کی قیامت کے واسطے اور جنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔
30۔ مَیں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔
24 Verily, verily, I say unto you, He that heareth my word, and believeth on him that sent me, hath everlasting life, and shall not come into condemnation; but is passed from death unto life.
25 Verily, verily, I say unto you, The hour is coming, and now is, when the dead shall hear the voice of the Son of God: and they that hear shall live.
28 Marvel not at this: for the hour is coming, in the which all that are in the graves shall hear his voice,
29 And shall come forth;
30 I can of mine own self do nothing: as I hear, I judge: and my judgment is just; because I seek not mine own will, but the will of the Father which hath sent me.
1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا کہ اے باپ! وہ گھڑی آ پہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔
2۔ چنانچہ تْو نے اْسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تْو نے اْسے بخشا ہے اْن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے۔
3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تو نے بھیجا ہے جانیں۔
6۔ مَیں نے تیرے نام کو اْن آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں تْو نے دنیا میں سے مجھے دیا۔وہ تیرے تھے اور تْو نے اْنہیں مجھے دیا اور اْنہوں نے تیرے کلام پر عمل کیا ہے۔
9۔ مَیں اْن کے لئے درخواست کرتا ہوں۔ مَیں دنیا کے لئے درخواست نہیں کرتا ہوں بلکہ اْن کے لئے جنہیں تْو نے مجھے دیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں۔
20۔ مَیں صرف انہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اْن کے لئے بھی جو اِن کے کلام کے وسیلہ سے مجھ پر ایمان لائیں گے۔
21۔ تاکہ سب ایک ہوں یعنی جس طرح اے باپ! تْو مجھ میں ہے اور مَیں تجھ میں ہوں وہ بھی ہم میں ہوں اور دنیا ایمان لائے کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا۔
1 These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:
2 As thou hast given him power over all flesh, that he should give eternal life to as many as thou hast given him.
3 And this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.
6 I have manifested thy name unto the men which thou gavest me out of the world: thine they were, and thou gavest them me; and they have kept thy word.
9 I pray for them: I pray not for the world, but for them which thou hast given me; for they are thine.
20 Neither pray I for these alone, but for them also which shall believe on me through their word;
21 That they all may be one; as thou, Father, art in me, and I in thee, that they also may be one in us: that the world may believe that thou hast sent me.
28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔
31۔ پس ہم اِن باتوں کی بابت کیا کہیں َ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟
38۔ کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت جو ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اْس سے ہم کو نہ موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔
39۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔
28 And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.
31 What shall we then say to these things? If God be for us, who can be against us?
38 For I am persuaded, that neither death, nor life, nor angels, nor principalities, nor powers, nor things present, nor things to come,
39 Nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God, which is in Christ Jesus our Lord.
1۔ یسوع مسیح کا مکاشفہ جو اْسے خدا کی طرف سے اس لئے ہوا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دکھائے جن کا جلد ہونا ضرور ہے اور اْس نے اپنے فرشتے کو بھیج کر اْس کی معرفت انہیں اپنے بندہ یوحنا پر ظاہر کیا۔
1 The Revelation of Jesus Christ, which God gave unto him, to shew unto his servants things which must shortly come to pass; and he sent and signified it by his angel unto his servant John:
1۔ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔
3۔ پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔
4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اور اْس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔
6۔ پھر اْس نے مجھ سے کہا یہ باتیں پوری ہوگئیں۔ مَیں الفا اور اومیگا یعنی ابتدا اور انتہا ہوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمے سے مفت پلاؤں گا۔
7۔ جو غالب آئے وہی اِن چیزوں کا وارث ہوگا اور مَیں اْس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔
1 And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.
3 And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.
4 And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.
6 And he said unto me, It is done. I am Alpha and Omega, the beginning and the end. I will give unto him that is athirst of the fountain of the water of life freely.
7 He that overcometh shall inherit all things; and I will be his God, and he shall be my son.
زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔
Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.
الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔
In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.
خدا زندگی یا ذہانت ہے جو جانوروں اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی شناخت اور انفرادیت کو تشکیل دیتا اور محفوظ رکھتا ہے۔ خدا متناہی نہیں بن سکتا اور مادی حدود میں محدود نہیں ہوسکتا۔ روح مادہ نہیں بن سکتی اور نہ ہی روح اس کے مخالف کے وسیلہ ترقی پا سکتی ہے۔ اْس بدنام مادی زندگی کی تفتیش کرنے سے کیا حاصل جو ختم ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے یہ بے نام و نشان عدم سے شروع ہوتی ہے؟ ہستی کا سچا فہم اور اِس کی کاملیت کو اب ظاہر ہونا چاہئے، جیسا کہ یہ اس کے بعد ہوگا۔
God is the Life, or intelligence, which forms and preserves the individuality and identity of animals as well as of men. God cannot become finite, and be limited within material bounds. Spirit cannot become matter, nor can Spirit be developed through its opposite. Of what avail is it to investigate what is miscalled material life, which ends, even as it begins, in nameless nothingness? The true sense of being and its eternal perfection should appear now, even as it will hereafter.
آئیے ہم اِس عقیدے سے پیچھا چھڑائیں کہ انسان خدا سے الگ ہے اور صرف الٰہی اصول، زندگی اور محبت کی فرمانبرداری کریں۔ یہاں پوری حقیقی روحانی ترقی کے لئے روانگی کا بڑا نقطہ آتا ہے۔
Let us rid ourselves of the belief that man is separated from God, and obey only the divine Principle, Life and Love. Here is the great point of departure for all true spiritual growth.
اگر انسانی ہستی کا اصول، قانون اور اظہار کم سے کم بھی اِس سے قبل سمجھے نہیں جاتے جب موت کی اصطلاح بشر پر قابو پاتی ہے تو وہ اِس ایک واقع کی بنیاد پر وجودیت کے درجے میں روحانی طور پر زیادہ بلند نہیں ہوں گے، بلکہ وہ ایسے ہی مادی رہیں گے جیسے وہ اِس تبدیلی سے پہلے تھے، جو ابھی بھی زندگی کے روحانی فہم کی بجائے مادی کے وسیلہ، اور خود غرض اور کمتر مقاصد کے ذریعے خوشی تلاش کریں گے۔
اگر تبدیلی جسے موت کہا جاتا ہے گناہ، بیماری اور موت کے یقین کو تباہ کردیتی ہے تو اس شکست کے موقع پر خوشی فتح مند ہوتی ہے اور ہمیشہ کے لئے مستقل ہو جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ کاملیت صرف کاملیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جو ناراست ہیں تب تک ناراست ہی رہیں گے جب تک الٰہی سائنس میں مسیح یعنی سچائی تمام تر گناہ اور جہالت کو تلف نہیں کرتا۔
گناہ اور غلطی جو ہمیں موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتے ہیں اْس لمحے رْکتے نہیں، بلکہ اِن غلطیوں کی موت تک مستقل رہتے ہیں۔مکمل طور پر روحانی بننے کے لئے انسان کو بے عیب ہونا چاہئے، اور یہ صرف تبھی ہوسکتا ہے جب وہ کاملیت تک پہنچتا ہے۔
If the Principle, rule, and demonstration of man's being are not in the least understood before what is termed death overtakes mortals, they will rise no higher spiritually in the scale of existence on account of that single experience, but will remain as material as before the transition, still seeking happiness through a material, instead of through a spiritual sense of life, and from selfish and inferior motives.
If the change called death destroyed the belief in sin, sickness, and death, happiness would be won at the moment of dissolution, and be forever permanent; but this is not so. Perfection is gained only by perfection. They who are unrighteous shall be unrighteous still, until in divine Science Christ, Truth, removes all ignorance and sin.
The sin and error which possess us at the instant of death do not cease at that moment, but endure until the death of these errors. To be wholly spiritual, man must be sinless, and he becomes thus only when he reaches perfection.
عالمگیر نجات ترقی اور امتحان پر مرکوز ہے، اور ان کے بغیر غیر ممکن الحصول ہے۔آسمان کوئی جگہ نہیں، عقل کی الٰہی حالت ہے جس میں عقل کے تمام تر ظہور ہم آہنگ اور فانی ہوتے ہیں کیونکہ وہاں گناہ نہیں ہے اور انسان وہاں خود کی راستبازی کے ساتھ نہیں ”خداوند کی سوچ“ کی ملکیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ کلام یہ کہتا ہے۔
”جہاں درخت گرتا ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔“ یہ ہم واعظ میں پڑھتے ہیں۔ اِس عبارت کو ایک معروف محاورے میں تبدیل کردیا گیا کہ، ”جیسا بوؤ گے، ویسا کاٹو گے۔“جیسے انسان سوتا ہے ویسا ہی جاگتا رہے گا۔ جیسا فانی انسان کو موت پاتی ہے، وہ مرنے کے بعد ویسا ہی ہوگا، جب تک کہ آزمائش اور ترقی کوئی ضروری تبدیلی نہ لائے۔
Universal salvation rests on progression and probation, and is unattainable without them. Heaven is not a locality, but a divine state of Mind in which all the manifestations of Mind are harmonious and immortal, because sin is not there and man is found having no righteousness of his own, but in possession of "the mind of the Lord," as the Scripture says.
"In the place where the tree falleth, there it shall be." So we read in Ecclesiastes. This text has been transformed into the popular proverb, "As the tree falls, so it must lie." As man falleth asleep, so shall he awake. As death findeth mortal man, so shall he be after death, until probation and growth shall effect the needed change.
جب یہ سیکھ لیا جاتا ہے کہ بیماری زندگی کو نیست نہیں کر سکتی، اور یہ کہ بشر موت کے وسیلہ گناہ یا بیماری سے نہیں بچائے جا سکتے تو یہ ادراک زندگی کی جدت میں تیزی لائے گا۔ اس سے یہ موت کی خواہش یا قبر کے خوف میں مہارت لائے گا اور یوں یہ اْس بڑے ڈر کوتباہ کرے گا جو فانی وجود کا گھیراؤ کرتا ہے۔
موت کے یقین اور اِ س کے ڈنگ کے خوف کاضیاع صحت اور اخلاقیات کے معیار کو اس کی موجودہ بلندی سے کہیں اونچا کرے گا اور خدا، ابدی زندگی، پر غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ہمیں مسیحیت کے علم کو اونچا رکھنے کے قابل بنائے گا۔ گناہ موت کو لایا اور موت گناہ کے غائب ہونے پر خود بھی غائب ہوجائے گی۔انسان لافانی ہے اور بدن ہلاک نہیں ہو سکتا، کیونکہ مادے میں سپرد کرنے کے لئے زندگی ہے ہی نہیں۔ انسانی نظریات یعنی مادا، موت، بیماری، عارضہ اور گناہ سب وہ ہیں جنہیں فنا کیا جا سکتا ہے۔
When it is learned that disease cannot destroy life, and that mortals are not saved from sin or sickness by death, this understanding will quicken into newness of life. It will master either a desire to die or a dread of the grave, and thus destroy the great fear that besets mortal existence.
The relinquishment of all faith in death and also of the fear of its sting would raise the standard of health and morals far beyond its present elevation, and would enable us to hold the banner of Christianity aloft with unflinching faith in God, in Life eternal. Sin brought death, and death will disappear with the disappearance of sin. Man is immortal, and the body cannot die, because matter has no life to surrender. The human concepts named matter, death, disease, sickness, and sin are all that can be destroyed.
انسان کی انفرادیت اپنے ضمیر میں کبھی مر سکتی ہے نہ غائب ہو سکتی ہے جیسے کہ جان ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں لافانی ہیں۔ اگر انسان اب موت پر ایمان رکھتا ہے، تو تب اْسے اِس پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے جب وہ یہ جان لیتا ہے کہ موت میں کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ ہستی کی سچائی موت سے مبرا ہے۔اس سے قبل کی زندگی کو سمجھا اور ہم آہنگی کو حاصل کیا جا سکے، اس یقین پر سائنس کی بدولت مہارت حاصل ہونی چاہئے کہ وجودیت مادے کا عارضی حصہ ہے۔
موت خواب کا ایک مرحلہ ہے کیونکہ وجود مادی ہوسکتا ہے۔ہستی کی ہم آہنگی میں کوئی چیز مداخلت نہیں کرسکتی اورنہ ہی سائنس میں انسان کی وجودیت کو ختم کرسکتی ہے۔ انسان ویسا ہی رہتا ہے جیسا وہ ہڈی ٹوٹنے یا سر قلم ہونے سے پہلے تھا۔اگر انسان نے کبھی موت پر فتح مند نہیں ہونا تو کلام یہ کیوں کہتا ہے کہ، ”سب سے پچھلا دْشمن جو نیست کیا جائے گا وہ موت ہے“؟ کلام کا یہ حصہ واضح کرتا ہے کہ ہم گناہ پر فتح پانے کے تناسب میں موت پر فتح حاصل کریں گے۔زیادہ بڑی مشکل اِس لاعلمی میں پائی جاتی ہے کہ خدا کیا ہے۔خدا، زندگی، حق اور محبت انسان کو امر بناتے ہیں۔ لافانی عقل کو، جو سب پر حکمرانی کرتی ہے، جسمانی سلطنت،اِس کے ساتھ ساتھ روحانی میں بھی سب سے اعلیٰ تسلیم کیا جانا چاہئے۔
یہاں اور آخرت میں موت کے خواب کی قیادت عقل کرتی ہے۔اپنے خود کے مادی ظہور سے سوچ ”میں مردہ ہوں“ جنم لے گی تاکہ سچائی کے اس گونج دار لفظ کو پکڑ سکے، ”کوئی موت، بے عملی، بیماری والا عمل، رد عمل اور نہ ہی شدید رد عمل ہے۔“
زندگی حقیقی ہے، اور موت بھرم ہے۔ یسوع کی راہ میں روح کے حقائق کا ایک اظہار مادی فہم کے تاریک ادراک میں ہم آہنگی اور لافانیت کو حل کرتا ہے۔اس مقتدر لمحے میں انسان کی ترجیح اپنے مالک کے ان الفاظ کو ثابت کرنا ہے: ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ جھوٹے بھروسوں اور مادی ثبوتوں کے خیالات کو ختم کرنے کے لئے، تاکہ شخصی روحانی حقائق سامنے آئیں، یہ ایک بہت بڑا حصول ہے جس کی بدولت ہم غلط کو تلف کریں گے اور سچائی کو جگہ فراہم کریں گے۔ یوں ہم سچائی کی وہ ہیکل یا بدن تعمیر کرتے ہیں، ”جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے“۔
Man's individual being can no more die nor disappear in unconsciousness than can Soul, for both are immortal. If man believes in death now, he must disbelieve in it when learning that there is no reality in death, since the truth of being is deathless. The belief that existence is contingent on matter must be met and mastered by Science, before Life can be understood and harmony obtained.
Death is but another phase of the dream that existence can be material. Nothing can interfere with the harmony of being nor end the existence of man in Science. Man is the same after as before a bone is broken or the body guillotined. If man is never to overcome death, why do the Scriptures say, "The last enemy that shall be destroyed is death"? The tenor of the Word shows that we shall obtain the victory over death in proportion as we overcome sin. The great difficulty lies in ignorance of what God is. God, Life, Truth, and Love make man undying. Immortal Mind, governing all, must be acknowledged as supreme in the physical realm, so-called, as well as in the spiritual.
The dream of death must be mastered by Mind here or hereafter. Thought will waken from its own material declaration, "I am dead," to catch this trumpet-word of Truth, "There is no death, no inaction, diseased action, overaction, nor reaction."
Life is real, and death is the illusion. A demonstration of the facts of Soul in Jesus' way resolves the dark visions of material sense into harmony and immortality. Man's privilege at this supreme moment is to prove the words of our Master: "If a man keep my saying, he shall never see death." To divest thought of false trusts and material evidences in order that the spiritual facts of being may appear, — this is the great attainment by means of which we shall sweep away the false and give place to the true. Thus we may establish in truth the temple, or body, "whose builder and maker is God."
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔