اتوار 25 جنوری، 2026
’’اے خداوند!اپنی راہیں مجھے دکھا اپنے راستے مجھے بتا دے۔مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔کیونکہ تو میرا نجات دینے والا خدا ہے۔ میں دن بھر تیرا ہی منتظر رہتا ہوں۔
“Shew me thy ways, O Lord; teach me thy paths. Lead me in thy truth, and teach me: for thou art the God of my salvation; on thee do I wait all the day.”
1۔ اس کے بعد یشوع نے اسرائیل کے سب قبیلوں کو سکم میں جمع کیا۔
2۔ تب یشوع نے ان لوگوں سے کہا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے۔
13۔ اور میں نے تم کو وہ ملک جس پر تم نے محنت نہ کی اور وہ شہر جس کو تم نے بنایا نہ تھا عنایت کئے اور تم اْن میں بسے ہو اور تم ایسے تاکستانوں اور ایسے زیتون کے باغوں کا پھل کھاتے ہو جن کو تم نے نہیں لگایا۔
14۔ پس تم خدا کا خوف رکھو اور نیک نیتی اور صداقت سے اس کی پرستش کرو۔
15۔ اور اگر خداوند کی پرستش تمہیں بری معلوم ہوتی ہے تو آج ہی اْسے جس کی تم پرستش کرو گے چن لو۔ خواہ وہ وہی دیوتا ہوں جن کی پرستش تمہارے باپ دادا بڑے دریا کے اْ س پار کرتے تھے یا اموریوں کے دیوتا ہوں جن کے ملک میں تم بسے ہو۔ اب رہی میری اور میرے گھرانے کی بات سو ہم تو خداوند کی پرستش کریں گے۔
17۔کیونکہ خداوند ہمارا خدا وہی ہے جس نے ہم کو اور ہمارے باپ دادا کو ملک مصر یعنی غلامی کے گھرسے نکالا اور وہ بڑے بڑے نشان ہمارے سامنے دکھائے اور سارے راستہ جس میں ہم چلے اور اْن سب قوموں کے درمیان جن میں سے ہم گزرے ہم کو محفوظ رکھا۔
24۔ لوگوں نے یشوع سے کہا ہم خداوند اپنے خدا کی پرستش کریں گے اور اْسی کی بات مانیں گے۔
1. And Joshua gathered all the tribes of Israel to Shechem,
2. And Joshua said unto all the people, Thus saith the Lord God of Israel,
13. I have given you a land for which ye did not labour, and cities which ye built not, and ye dwell in them; of the vineyards and oliveyards which ye planted not do ye eat.
14. Now therefore fear the Lord, and serve him in sincerity and in truth.
15. Choose you this day whom ye will serve; whether the gods which your fathers served that were on the other side of the flood, or the gods of the Amorites, in whose land ye dwell: but as for me and my house, we will serve the Lord.
17. For the Lord our God, he it is that brought us up and our fathers out of the land of Egypt, from the house of bondage, and which did those great signs in our sight, and preserved us in all the way wherein we went, and among all the people through whom we passed.
24. And the people said unto Joshua, The Lord our God will we serve, and his voice will we obey.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
1۔ اے خداوند میرا انصاف کرکیونکہ مَیں راستی پر چلتا رہا ہوں۔ اور مَیں نے خداوند پربے لغزش توکل کیا ہے۔
2۔ اے خداوند! مجھے جانچ اور آزما۔ میرے دل و دماغ کو پرکھ۔
3۔ کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے ہے اور مَیں تیری سچائی کی راہ پر چلتا رہا ہوں۔
1 Judge me, O Lord; for I have walked in mine integrity: I have trusted also in the Lord; therefore I shall not slide.
2 Examine me, O Lord, and prove me; try my reins and my heart.
3 For thy lovingkindness is before mine eyes: and I have walked in thy truth.
1۔ اْنہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا تب یسعیاہ نبی آموس کے بیٹے نے اْس کے پاس آکر اْس سے کہا خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو اپنے گھر کا انتظام کر دے کیونکہ تْو مر جائے گا اور بچنے کا نہیں۔
2۔ تب اْس نے اپنا منہ دیوار کی طرف کر کے یہ دعا کی کہ۔
3۔ اے خداوند مَیں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ مَیں تیرے حضور سچائی اور پورے دل سے چلتا رہا ہوں اور جو تیری نظر میں بھلا ہے وہی کیا ہے اور حزقیاہ زار زار رویا۔
4۔ اور ایسا ہوا کہ یسعیاہ نکل کر شہر کے بیچ کے حصے تک پہنچا بھی نہ تھا کہ خداوند کا کلام اْس پر نازل ہواکہ۔
5۔ لوٹ اور میری قوم کے پیشوا حزقیاہ سے کہہ کہ خداوند تیرے باپ دادا کا خدا یوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تیری دعا سنی اور مَیں نے تیرے آنسو دیکھے، دیکھ مَیں تجھے شفا دوں گا اور تیسرے دن تْو خداوند کے گھر میں جائے گا۔
6۔ اور مَیں تیری عمر پندرہ برس اور بڑھا دوں گا اور مَیں تجھ کو اور اِس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لوں گا اور مَیں اپنی خاطر اور اپنے بندے داؤد کی خاطر اِس شہر کی حمایت کروں گا۔
1 In those days was Hezekiah sick unto death. And the prophet Isaiah the son of Amoz came to him, and said unto him, Thus saith the Lord, Set thine house in order; for thou shalt die, and not live.
2 Then he turned his face to the wall, and prayed unto the Lord, saying,
3 I beseech thee, O Lord, remember now how I have walked before thee in truth and with a perfect heart, and have done that which is good in thy sight. And Hezekiah wept sore.
4 And it came to pass, afore Isaiah was gone out into the middle court, that the word of the Lord came to him, saying,
5 Turn again, and tell Hezekiah the captain of my people, Thus saith the Lord, the God of David thy father, I have heard thy prayer, I have seen thy tears: behold, I will heal thee: on the third day thou shalt go up unto the house of the Lord.
6 And I will add unto thy days fifteen years; and I will deliver thee and this city out of the hand of the king of Assyria; and I will defend this city for mine own sake, and for my servant David’s sake.
1۔ میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ اْس نے میری فریاد سنی اور میری منت سنی ہے۔
6۔ خداوند سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ میں پست ہو گیا تھا اْسی نے بچالیا۔
7۔ اے میری جان پھر مطمئن ہو کیونکہ خداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔
8۔اس لئے کہ تْو نے میری جان کو موت سے،میری آنکھوں کو آنسوبہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔
9۔ میں زندوں کی زمین میں خداوند کے حضور چلتا رہوں گا۔
1 I love the Lord, because he hath heard my voice and my supplications.
6 The Lord preserveth the simple: I was brought low, and he helped me.
7 Return unto thy rest, O my soul; for the Lord hath dealt bountifully with thee.
8 For thou hast delivered my soul from death, mine eyes from tears, and my feet from falling.
9 I will walk before the Lord in the land of the living.
1۔ اے قومو! سب خداوند کی حمد کرو۔ اے امتو! سب اْس کی ستائش کرو۔
2۔ کیونکہ ہم پر اْس کی بڑی شفقت ہے اور خداوند کی سچائی ابدی ہے۔ خداوند کی حمد کرو۔
1 O praise the Lord, all ye nations: praise him, all ye people.
2 For his merciful kindness is great toward us: and the truth of the Lord endureth for ever. Praise ye the Lord.
46۔ پس وہ پھر قانائے گلیل میں آیا جہاں اْس نے پانی کو مے بنایا تھا اور بادشاہ کا ایک ملازم تھا جس کابیٹا کفر نحوم میں بیمار تھا۔
47۔ وہ یہ سن کر کہ یسوع یہودیہ میں آگیا ہے اْس کے پاس گیا اور اْس سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شفا بخش کیونکہ وہ مرنے کو تھا۔
48۔ یسوع نے اْس سے کہا جب تک تم نشان اور عجیب کام نہ دیکھ لوہر گز ایمان نہ لاؤ گے۔
49۔ بادشاہ کے ملازم نے اْس سے کہا اے خداوند میرے بچے کے مرنے سے پہلے چل۔
50۔ یسوع نے اْس سے کہا جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔ اْس شخص نے اْس بات کا یقین کیا جو یسوع نے اْس سے کہی اور چلا گیا۔
51۔ وہ راستے میں ہی تھا کہ اْس کے نوکر اْسے ملے اور کہنے لگے کہ تیرا بیٹا جیتا ہے۔
52۔ اْس نے اْن سے پوچھا کہ اْسے کس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟ اْنہوں نے اْس سے کہا کہ کل ساتویں گھنٹے میں اْس کی تاپ اْتر گئی۔
53۔ پس باپ جان گیا کہ یہ وہی وقت تھا جب یسوع نے اْس سے کہاتھا کہ تیرا بیٹا جیتا ہے اور وہ خود اور اْس کا سارا گھرانہ ایمان لایا۔
46 So Jesus came again into Cana of Galilee, where he made the water wine. And there was a certain nobleman, whose son was sick at Capernaum.
47 When he heard that Jesus was come out of Judæa into Galilee, he went unto him, and besought him that he would come down, and heal his son: for he was at the point of death.
48 Then said Jesus unto him, Except ye see signs and wonders, ye will not believe.
49 The nobleman saith unto him, Sir, come down ere my child die.
50 Jesus saith unto him, Go thy way; thy son liveth. And the man believed the word that Jesus had spoken unto him, and he went his way.
51 And as he was now going down, his servants met him, and told him, saying, Thy son liveth.
52 Then enquired he of them the hour when he began to amend. And they said unto him, Yesterday at the seventh hour the fever left him.
53 So the father knew that it was at the same hour, in the which Jesus said unto him, Thy son liveth: and himself believed, and his whole house.
1۔ یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔
2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔
28۔ پس یسوع نے کہا کہ جب تم ابنِ آدم کو اونچے پہاڑ پر چڑھاؤ گے تو جانو گے کہ مَیں وہی ہوں اور اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ جس طرح باپ نے مجھے سکھایا اْسی طرح یہ باتیں کہتا ہوں۔
29۔ اور جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے۔ اْس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اْسے پسند آتے ہیں۔
30۔جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو بہتیرے اس پر ایمان لائے۔
31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔
32۔ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔
1 Jesus went unto the mount of Olives.
2 And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.
28 Then said Jesus unto them, When ye have lifted up the Son of man, then shall ye know that I am he, and that I do nothing of myself; but as my Father hath taught me, I speak these things.
29 And he that sent me is with me: the Father hath not left me alone; for I do always those things that please him.
30 As he spake these words, many believed on him.
31 Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;
32 And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.
1۔ پس اے بھائیو۔ مَیں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔
1 I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.
17۔ اِس لئے مَیں یہ کہتا ہوں اور خداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیر قومیں اپنے بیہودہ خیالات کے موافق چلتی ہیں تم آئندہ کو اْس طرح نہ چلنا۔
22۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی پرانی انسانیت کو اتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔
23۔ اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔
24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔
25۔ پس جھوٹ بولنا چھوڑ کر ہر ایک شخص اپنے پڑوسی سے سچ بولے کیونکہ ہم آپس میں ایک دوسرے کا عضو ہیں۔
26۔ غصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔
27۔اور ابلیس کو موقع نہ دو۔
29۔ کوئی گندی بات تمہارے منہ سے نہ نکلے بلکہ وہی جو ضرورت کے موافق ترقی کے لئے اچھی ہو تاکہ اْس سے سننے والوں پر فضل ہو۔
31۔ ہر طرح کی تلخ مزاجی اور قہر اور غصہ اور شور و غل اور بدگوئی ہر قسم کی بد خواہی سمیت تم سے دور کی جائیں۔
32۔ اور ایک دوسرے پر مہربان اور نرم دل ہو اور جس طرح خدا نے مسیح میں تمہارے قصور معاف کئے ہیں تم بھی ایک دوسرے کے قصور معاف کرو۔
17 … walk not as other Gentiles walk, in the vanity of their mind,
22 … put off concerning the former conversation the old man, which is corrupt according to the deceitful lusts;
23 And be renewed in the spirit of your mind;
24 And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.
25 Wherefore putting away lying, speak every man truth with his neighbour: for we are members one of another.
26 Be ye angry, and sin not: let not the sun go down upon your wrath:
27 Neither give place to the devil.
29 Let no corrupt communication proceed out of your mouth, but that which is good to the use of edifying, that it may minister grace unto the hearers.
31 Let all bitterness, and wrath, and anger, and clamour, and evil speaking, be put away from you, with all malice:
32 And be ye kind one to another, tenderhearted, forgiving one another, even as God for Christ’s sake hath forgiven you.
1۔ پس عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔
8۔ کیونکہ تم پہلے تاریکی تھے مگر اب خداوند میں نور ہو۔ پس نور کے فرزندوں کی طرح چلو۔
1 Be ye therefore followers of God, as dear children;
8 For ye were sometimes darkness, but now are ye light in the Lord: walk as children of light.
سائنس سے اجاگر ہونے والا اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی۔ غلطی سچائی کے سامنے بْزدل ہے۔
The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth.
ایک کرسچن سائنسدان کی دوا عقل ہے، وہ الٰہی سچائی جو انسان کو آزاد کرتی ہے۔
A Christian Scientist's medicine is Mind, the divine Truth that makes man free.
سچائی آزادی کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ اِس کے جھنڈے پر روح کا الہامی نعرہ ”غلامی موقوف ہوچکی ہے“ درج ہے۔ خدا کی قدرت قیدیوں کے لئے آزادی لاتی ہے۔ کوئی طاقت الٰہی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وہ کون سی فرض کی گئی قوت ہے جو خود کو خدا کے خلاف کھڑا کرتی ہے؟ یہ کہا ں سے آتی ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو لوہے کی بیڑیوں کے ساتھ گناہ، موت اور بیماری سے باندھے رکھتی ہے؟ جو کچھ بھی انسان کو غلام بناتا ہے وہ الٰہی حکمرانی کا مخالف ہے۔سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے۔
آپ جانتے ہیں کب پہلی سچائی اِس کے پیروکاروں کی وفاداری اور قلت کے باعث فتح مند ہوتی ہے۔پس یہ تب ہے جب وقت کا احتجاج آزادی کاجھنڈا اْٹھائے آگے بڑھتا ہے۔دنیاوی قوتیں لڑیں گی، اور اپنے پاسبانوں کو حکم دیں گی کہ اِس سچائی کو دروازے میں سے نہ گزرنے دیا جائے جب تک کہ یہ اْن کے نظاموں کی تائید نہ کرے؛ مگر سائنس، چھْرے کی نوک کی پرواہ کئے بغیر، آگے بڑھتی ہے۔یہاں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ہنگامہ ہوتا ہے، لیکن سچائی کے معیار کایہ ایک جلسہ ہوتا ہے۔
Truth brings the elements of liberty. On its banner is the Soul-inspired motto, "Slavery is abolished." The power of God brings deliverance to the captive. No power can withstand divine Love. What is this supposed power, which opposes itself to God? Whence cometh it? What is it that binds man with iron shackles to sin, sickness, and death? Whatever enslaves man is opposed to the divine government. Truth makes man free.
You may know when first Truth leads by the fewness and faithfulness of its followers. Thus it is that the march of time bears onward freedom's banner. The powers of this world will fight, and will command their sentinels not to let truth pass the guard until it subscribes to their systems; but Science, heeding not the pointed bayonet, marches on. There is always some tumult, but there is a rallying to truth's standard.
پولوس کو روحانی اور جسمانی طور پر انسانوں پر سچائی کے تقاضوں کا واضح احساس تھا، جب اْس نے کہا: ”اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔“ لیکن وہ جو جسم کے عقائد سے پیدا ہوا ہے اور اْن کی خدمت کرتا ہے وہ اِس دنیا میں ہمارے رب کی آسمانی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکتا۔ وہ وقت آتا ہے جب انسان کا روحانی اصل،وہ الٰہی سائنس جس نے انسانی وجود میں یسوع کی راہنمائی کی، اْسے سمجھا جائے گا اور ظاہر کیا جائے گا۔
سچ، جب کسی بھی دور میں بولا جاتا ہے، تو وہ نور کی مانند، ”اندھیرے میں چمکتا ہے، اور اندھیرا اْسے قبول نہیں کرتا۔“ زندگی، مواد اور عقل کا جھوٹا فہم الٰہی ممکنات کو چھپا تا ہے، اور سائنسی اظہار کو خفیہ رکھتا ہے۔
اگر ہم مسیح یعنی سچائی کی پیروی کرنے کے خواہاں ہیں، تو یہ خدا کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہئے۔ یسوع نے کہا، ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا۔“ وہ جو منبع تک پہنچے اور ہر بیماری کا الٰہی علاج پائے گا اْسے کسی اور راستے سے سائنس کی پہاڑی پر چڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ ساری فطرت انسان کے ساتھ خدا کی محبت کی تعلیم دیتی ہے، لیکن انسان خدا سے بڑھ کر اْسے پیار نہیں کر سکتا اورروحانیت کی بجائے مادیت سے پیار کرتے اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنے احساس کو روحانی چیزوں پر مرتب نہیں کرسکتا۔
Paul had a clear sense of the demands of Truth upon mortals physically and spiritually, when he said: "Present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service." But he, who is begotten of the beliefs of the flesh and serves them, can never reach in this world the divine heights of our Lord. The time cometh when the spiritual origin of man, the divine Science which ushered Jesus into human presence, will be understood and demonstrated.
When first spoken in any age, Truth, like the light, "shineth in darkness, and the darkness comprehended it not." A false sense of life, substance, and mind hides the divine possibilities, and conceals scientific demonstration.
If we wish to follow Christ, Truth, it must be in the way of God's appointing. Jesus said, "He that believeth on me, the works that I do shall he do also." He, who would reach the source and find the divine remedy for every ill, must not try to climb the hill of Science by some other road. All nature teaches God's love to man, but man cannot love God supremely and set his whole affections on spiritual things, while loving the material or trusting in it more than in the spiritual.
اِس سوال کا جواب،کہ سچ کیا ہے، اظہار کی بدولت، بیماری اور گناہ دونوں سے شفا کی بدولت، دیا جاتا ہے؛ اور یہ اظہار دکھاتا ہے کہ مسیحی شفا سب سے بہتر صحت بخشتی اور بہترین انسان بناتی ہے۔
The question, What is Truth, is answered by demonstration, — by healing both disease and sin; and this demonstration shows that Christian healing confers the most health and makes the best men.
صحیح ڈھنگ سے زندگی گزارنے کا مقصد اور غرض اب حاصل کئے جا سکتے ہیں۔یہ فتح کیا گیا نقطہ آپ نے ویسے ہی شروع کیا جیسے یہ کرنا چاہئے تھا۔ آپ نے کرسچن سائنس کا عددی جدول شروع کیا ہے، اور کچھ نہیں ہو گا ماسوائے غلط نیت آپ کی ترقی میں رکاوٹ بنے گی۔ سچے مقاصد کے ساتھ کام کرنے اور دعا کرنے سے آپ کا باپ آپ کے لئے راستہ کھول دے گا۔”کس نے تمہیں حق کے ماننے سے روک دیا؟“
The purpose and motive to live aright can be gained now. This point won, you have started as you should. You have begun at the numeration-table of Christian Science, and nothing but wrong intention can hinder your advancement. Working and praying with true motives, your Father will open the way. "Who did hinder you, that ye should not obey the truth?"
جسمانی حواس کے لئے کرسچن سائنس کی شرائط اٹل لگتی ہیں؛ مگر بشر یہ سیکھنے کے لئے جلد بازی میں ہیں کہ زندگی خدا، اچھائی ہے اور کہ بدی حقیقت میں انسان کے لئے کوئی مقام ہے نہ طاقت یا الٰہی معیشت ہے۔
To the physical senses, the strict demands of Christian Science seem peremptory; but mortals are hastening to learn that Life is God, good, and that evil has in reality neither place nor power in the human or the divine economy.
فہم کی غلطیوں کو کالعدم کرنے کی کوشش میں کسی بھی شخص کو مکمل اور منصفانہ طور پر انتہائی انمول قیمت ادا کرناہوگی جب تک کہ ساری غلطی مکمل طور پر سچائی کے ماتحت نہ لائی جائے۔گناہ کی مزدوری ادا کرنے کے الٰہی طریقہ کار میں کسی شخص کی گْتھیوں کو سلجھانا اور اِس تجربے سے یہ سیکھنا شامل ہے کہ فہم اور جان کو کیسے الگ الگ کرنا چاہئے۔
In trying to undo the errors of sense one must pay fully and fairly the utmost farthing, until all error is finally brought into subjection to Truth. The divine method of paying sin's wages involves unwinding one's snarls, and learning from experience how to divide between sense and Soul.
یہ تسلیم کرنا کہ بیماری ایسی حالت ہے جس پر خدا کا کوئی اختیار نہیں، پہلے سے اِس بات کو فرض کرنے کے مترادف ہے کہ بعض اوقات قادرِ مطلق میں کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ مسیح یا سچائی کی شریعت روح کے لئے سب باتوں کو ممکن بناتی ہے؛
To admit that sickness is a condition over which God has no control, is to presuppose that omnipotent power is powerless on some occasions. The law of Christ, or Truth, makes all things possible to Spirit;
حق ساری خودی میں سے غلطی کو دور کرتا ہے اور کرنا چاہئے۔ حق ایک دو دھاری تلوار ہے جو حفاظت اور رہنمائی کرتا ہے۔ حق تمام مہمانوں کو نوٹ کرنے کے لئے کروب کی حکمت کو سمجھ کے دروازے پر رکھتاہے۔ رحم اور انصاف سے روشن، حق کی تلوار دور دور تک چمکتی ہے اور حق اور غلطی کے درمیان، مادی اور روحانی، غیر حقیقی، اور حقیقی کے درمیان لامحدود فاصلے کی نشاندہی کرتاہے۔
Truth should, and does, drive error out of all selfhood. Truth is a two-edged sword, guarding and guiding. Truth places the cherub wisdom at the gate of understanding to note the proper guests. Radiant with mercy and justice, the sword of Truth gleams afar and indicates the infinite distance between Truth and error, between the material and spiritual, — the unreal and the real.
الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔
سچائی تمام تر بدیوں اور مادیت پسندی کے طریقوں کو اصل روحانی قانون کے ساتھ باہر نکال دیتی ہے، یعنی وہ قانون جو اندھے کو بینائی، بہرے کو سماعت، گونگے کو آواز اور مفلوج کو پاؤں دیتا ہے۔ اگر کرسچن سائنس انسانی عقیدے کی تضحیک کرتی ہے، تو یہ روحانی فہم کو عزت دیتی ہے؛ اور صرف واحد عقل ہی اعزاز کاحقدار ہے۔
Divine Mind rightly demands man's entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.
Truth casts out all evils and materialistic methods with the actual spiritual law, — the law which gives sight to the blind, hearing to the deaf, voice to the dumb, feet to the lame. If Christian
Science dishonors human belief, it honors spiritual understanding; and the one Mind only is entitled to honor.
جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔
When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought.
اْس غلطی کے مخالف ہستی کی سچائی پر قائم رہیں کہ زندگی، مواد یا ذہانت مادے میں ہو سکتے ہیں۔سچ کے مخلص یقین اور الٰہی سائنس کے غیر متغیر، لاخطا اور یقینی اثر کے واضح نظریے کے ساتھ التجا کریں۔ تب، اگر آپ کی ایمانداری آپ کی التجا کی سچائی کے نصف برابر بھی ہو تو آپ بیمار کو شفا دے پائیں گے۔
حق اثباتی ہے اور ہم آہنگی بخشتا ہے۔ تمام مابعد الطبعیاتی منطق سچائی کے اِس سادہ اصول سے متاثر ہوتے ہیں، جو ساری حقیقت پر حکمرانی کرتا ہے۔سچے دلائل جو آپ استعمال کرتے ہیں اْن کے وسیلہ، اور خصوصاً سچائی اور محبت کی روح کے وسیلہ جسے آپ مانتے ہیں، آپ بیمار کو شفا دیں گے۔
غلطی کو نیست کرنے کی آپ کی کوششوں میں اخلاقی اور اِس کے ساتھ ساتھ جسمانی عقیدے کو بھی شامل کرلیں۔ بدی کے تمام انداز نکال باہر کریں۔ ”ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔“غلطی کی ہر شکل کے ساتھ سچ بولیں۔ رسولیاں، ناسور، تب دق، سوجن، درد، جوڑوں کی سوزش چلتے پھرتے خوابوں کے سایے، فانی سوچ کے تاریک خیالات ہیں جو سچائی کے نور سے بھاگتے ہیں۔
Stick to the truth of being in contradistinction to the error that life, substance, or intelligence can be in matter. Plead with an honest conviction of truth and a clear perception of the unchanging, unerring, and certain effect of divine Science. Then, if your fidelity is half equal to the truth of your plea, you will heal the sick.
Truth is affirmative, and confers harmony. All metaphysical logic is inspired by this simple rule of Truth, which governs all reality. By the truthful arguments you employ, and especially by the spirit of Truth and Love which you entertain, you will heal the sick.
Cast out all manner of evil. "Preach the gospel to every creature." Speak the truth to every form of error. Tumors, ulcers, tubercles, inflammation, pain, deformed joints, are waking dream-shadows, dark images of mortal thought, which flee before the light of Truth.
اگر آپ کی روزمرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔
اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔
If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, "I have fought a good fight ... I have kept the faith," because you are a better man.
If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.
سچائی ہمیشہ فتح مند رہی ہے۔
Truth is always the victor.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔