اتوار 26 اپریل ، 2026
پر میں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کروں گا۔ میں جب جاگوں گا تو تیری شباہت سے سیر ہوں گا۔
“As for me, I will behold thy face in righteousness: I shall be satisfied, when I awake, with thy likeness.”
1۔ پس مَیں جو خداوند میں قیدی ہوں تم سے التماس کرتا ہوں کہ جس بلاوے سے تم بلائے گئے تھے اْس کے لائق چال چلو۔
2۔ یعنی کمال فروتنی اور حلم کے ساتھ تحمل کر کے محبت سے ایک دوسرے کی برادشت کرو۔
3۔ اور اِسی کوشش میں رہو کہ روح کی یگانگی صلح کے بند سے بندھی رہے۔
13۔ جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اْس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے قد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں۔
22۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی پرانی انسانیت کو اتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔
23۔ اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔
24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔
14۔ اس لئے وہ فرماتا ہے اے سونے والے! جاگ اور مردوں میں سے جی اٹھ تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے گا۔
1. I therefore, the prisoner of the Lord, beseech you that ye walk worthy of the vocation wherewith ye are called,
2. With all lowliness and meekness, with longsuffering, forbearing one another in love;
3. Endeavouring to keep the unity of the Spirit in the bond of peace.
13. Till we all come in the unity of the faith, and of the knowledge of the Son of God, unto a perfect man, unto the measure of the stature of the fulness of Christ:
22. That ye put off concerning the former conversation the old man, which is corrupt according to the deceitful lusts;
23. And be renewed in the spirit of your mind;
24. And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.
14. Wherefore he saith, Awake thou that sleepest, and arise from the dead, and Christ shall give thee light.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
23۔ خداوند سے محبت رکھو اے اْس کے سب مقدسو! خداوند ایمانداروں کو سلامت رکھتا ہے۔ اور مغروروں کو خوب ہی بدلہ دیتا ہے۔
23 O love the Lord, all ye his saints: for the Lord preserveth the faithful,
4۔ یسوع نے کہا۔۔۔
4 Jesus saith …
10۔ مَیں اِس لئے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔
27۔ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔
28۔ اور مَیں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔
29۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دیں ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔
10 I am come that they might have life, and that they might have it more abundantly.
27 My sheep hear my voice, and I know them, and they follow me:
28 And I give unto them eternal life; and they shall never perish, neither shall any man pluck them out of my hand.
29 My Father, which gave them me, is greater than all; and no man is able to pluck them out of my Father’s hand.
1۔ مریم اور اْس کی بہن مارتھا کے گاؤں بیت عنیاہؔ کا لعزر نامی ایک آدمی بیمار تھا۔
3۔ پس اْس کی بہنوں نے اْسے یہ کہلا بھیجا کہ اے خداوند دیکھ جسے تْو عزیز رکھتا ہے وہ بیمار ہے۔
4۔ یسوع نے سْن کر کہا کہ یہ موت کی بیماری نہیں بلکہ خدا کے جلال کے لئے ہے تاکہ اْس کے وسیلہ سے خدا کے بیٹے کا جلال ظاہر ہو۔
6۔ پس جب اْس نے سنا کہ وہ بیمار ہے تو جس جگہ تھا وہیں دو دن اَور رہا۔
7۔ پھر اْس کے بعد شاگردوں سے کہا آؤ پھر یہودیہ کو چلیں۔
11۔ ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔
12۔ پس شاگردوں نے اْس سے کہا، اے خداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔
13۔ یسوع نے تو اْس کی موت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نیند کی بابت کہا۔
14۔ تب یسوع نے اْن سے صاف کہہ دیا کہ لعزر مر گیا۔
15۔ اور میں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا تاکہ تم ایمان لاؤ، لیکن آؤ ہم اْس کے پاس چلیں۔
20۔ پس مارتھا یسوع کے آنے کی خبر سن کر اْس سے ملنے کو گئی لیکن مریم گھر میں بیٹھی رہی۔
21۔ مارتھا نے یسوع سے کہا اے خداوند! اگر تْو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔
22۔ اور اب بھی مَیں جانتی ہوں کہ جو کچھ تْو خدا سے مانگے گا وہ تجھے دے گا۔
23۔ یسوع نے اْس سے کہا تیرا بھائی جی اٹھے گا۔
24۔ مارتھا نے اْس سے کہا مَیں جانتی ہوں کہ قیامت کے دن میں آخری دن جی اٹھے گا۔
25۔ یسوع نے اْس سے کہا قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر بھی جائے تو بھی زندہ رہتا ہے۔
26۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔ کیا تْو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟
38۔ یسوع پھر اپنے دل میں نہایت رنجیدہ ہو کر قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا اور اْس پر پتھر دھرا تھا۔
39۔ یسوع نے کہا پتھر کو ہٹاؤ۔ اْس مرے ہوئے شخص کی بہن مارتھا نے اْس سے کہا اے خداوند! اْس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اْسے چار دن ہو گئے۔
40۔ یسوع نے اْس سے کہا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تْو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟
41۔ پس انہوں نے اْس پتھر کو ہٹا دیا۔ پھر یسوع نے آنکھیں اْٹھا کر کہا اے باپ میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تْو نے میری سْن لی۔
42۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تْو ہمیشہ میری سْنتا ہے مگر ان لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں مَیں نے کہا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔
43۔ اور یہ کہہ کر اْس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعزر نکل آ۔
44۔ جو مر گیا تھا کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اْس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اْن سے کہا اِسے کھول کر جانے دو۔
1 Now a certain man was sick, named Lazarus, of Bethany, the town of Mary and her sister Martha.
3 Therefore his sisters sent unto him, saying, Lord, behold, he whom thou lovest is sick.
4 When Jesus heard that, he said, This sickness is not unto death, but for the glory of God, that the Son of God might be glorified thereby.
6 When he had heard therefore that he was sick, he abode two days still in the same place where he was.
7 Then after that saith he to his disciples, Let us go into Judæa again.
11 Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep.
12 Then said his disciples, Lord, if he sleep, he shall do well.
13 Howbeit Jesus spake of his death: but they thought that he had spoken of taking of rest in sleep.
14 Then said Jesus unto them plainly, Lazarus is dead.
15 And I am glad for your sakes that I was not there, to the intent ye may believe; nevertheless let us go unto him.
20 Then Martha, as soon as she heard that Jesus was coming, went and met him: but Mary sat still in the house.
21 Then said Martha unto Jesus, Lord, if thou hadst been here, my brother had not died.
22 But I know, that even now, whatsoever thou wilt ask of God, God will give it thee.
23 Jesus saith unto her, Thy brother shall rise again.
24 Martha saith unto him, I know that he shall rise again in the resurrection at the last day.
25 Jesus said unto her, I am the resurrection, and the life: he that believeth in me, though he were dead, yet shall he live:
26 And whosoever liveth and believeth in me shall never die.
34 Where have ye laid him? They said unto him, Lord, come and see.
38 Jesus therefore again groaning in himself cometh to the grave. It was a cave, and a stone lay upon it.
39 Jesus said, Take ye away the stone. Martha, the sister of him that was dead, saith unto him, Lord, by this time he stinketh: for he hath been dead four days.
40 Jesus saith unto her, Said I not unto thee, that, if thou wouldest believe, thou shouldest see the glory of God?
41 Then they took away the stone from the place where the dead was laid. And Jesus lifted up his eyes, and said, Father, I thank thee that thou hast heard me.
42 And I knew that thou hearest me always: but because of the people which stand by I said it, that they may believe that thou hast sent me.
43 And when he thus had spoken, he cried with a loud voice, Lazarus, come forth.
44 And he that was dead came forth, bound hand and foot with graveclothes: and his face was bound about with a napkin. Jesus saith unto them, Loose him, and let him go.
1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اوراپنی آنکھیں آسمان کی طرف اْٹھا کر کہا اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔
2۔ چنانچہ تْو نے اْسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تْو نے اْسے بخشا ہے اْن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے۔
3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔
1 These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:
2 As thou hast given him power over all flesh, that he should give eternal life to as many as thou hast given him.
3 And this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.
24۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو میرا کلام سنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے اور اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔
25۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مردے خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سنیں گے وہ جیئں گے۔
24 Verily, verily, I say unto you, He that heareth my word, and believeth on him that sent me, hath everlasting life, and shall not come into condemnation; but is passed from death unto life.
25 Verily, verily, I say unto you, The hour is coming, and now is, when the dead shall hear the voice of the Son of God: and they that hear shall live.
11۔۔۔۔اب وہ گھڑی آپہنچی ہے کہ تم نیند سے جاگو کیونکہ جس وقت ہم ایمان لائے تھے اْس وقت کی نسبت اب ہماری نجات نزدیک ہے۔
11 …now it is high time to awake out of sleep: for now is our salvation nearer than when we believed.
26۔ سب سے پچھلا دْشمن جو نیست کیا جائے گا وہ موت ہے۔
51۔ دیکھو میں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔
52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اْٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔
53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔
54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہو گئی۔
26 The last enemy that shall be destroyed is death.
51 Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,
52 In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.
53 For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.
54 So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.
3۔ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے یسوع مسیح کے مْردوں میں سے جی اٹھنے کے باعث اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ امید کے لئے نئے سرے سے پیدا کیا۔
4۔ تاکہ ایک غیر فانی اور بے داغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔
3 Blessed be the God and Father of our Lord Jesus Christ, which according to his abundant mercy hath begotten us again unto a lively hope by the resurrection of Jesus Christ from the dead,
4 To an inheritance incorruptible, and undefiled, and that fadeth not away, reserved in heaven for you,
زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔
Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.
یسوع نے لعزر کے بارے میں کہا: ”ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔“یسوع نے لعزر کو اس فہم کے ساتھ بحال کیا کہ لعزر کبھی مرا نہیں تھا، نہ کہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اْس کا بدن مر گیا تھا اور وہ پھر زندہ ہوگیا۔ اگر یسوع یہ مانتا کہ لعزر اپنے بدن میں جیتا تھا یا مرگیا، تو ہمارا مالک ایمان کے بالکل اْسی مقام پر کھڑا ہوتا جہاں وہ لوگ تھے جنہوں نے لعزر کو دفنایا تھا، اور وہ اْسے بازیافت نہ کر پاتا۔
Jesus said of Lazarus: "Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep." Jesus restored Lazarus by the understanding that Lazarus had never died, not by an admission that his body had died and then lived again. Had Jesus believed that Lazarus had lived or died in his body, the Master would have stood on the same plane of belief as those who buried the body, and he could not have resuscitated it.
موت خواب کا ایک مرحلہ ہے کیونکہ وجود مادی ہوسکتا ہے۔ہستی کی ہم آہنگی میں کوئی چیز مداخلت نہیں کرسکتی اورنہ ہی سائنس میں انسان کی وجودیت کو ختم کرسکتی ہے۔ انسان ویسا ہی رہتا ہے جیسا وہ ہڈی ٹوٹنے یا سر قلم ہونے سے پہلے تھا۔ اگر انسان نے کبھی موت پر فتح مند نہیں ہونا تو کلام یہ کیوں کہتا ہے کہ، ”سب سے پچھلا دْشمن جو نیست کیا جائے گا وہ موت ہے“؟
یہاں اور آخرت میں موت کے خواب کی قیادت عقل کرتی ہے۔اپنے خود کے مادی ظہور سے سوچ ”میں مردہ ہوں“ جنم لے گی تاکہ سچائی کے اس گونج دار لفظ کو پکڑ سکے، ”کوئی موت، بے عملی، بیماری والا عمل، رد عمل اور نہ ہی شدید رد عمل ہے۔“
زندگی حقیقی ہے، اور موت بھرم ہے۔ یسوع کی راہ میں روح کے حقائق کا ایک اظہار مادی فہم کے تاریک ادراک میں ہم آہنگی اور لافانیت کو حل کرتا ہے۔اس مقتدر لمحے میں انسان کی ترجیح اپنے مالک کے ان الفاظ کو ثابت کرنا ہے: ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ جھوٹے بھروسوں اور مادی ثبوتوں کے خیالات کو ختم کرنے کے لئے، تاکہ شخصی روحانی حقائق سامنے آئیں، یہ ایک بہت بڑا حصول ہے جس کی بدولت ہم غلط کو تلف کریں گے اور سچائی کو جگہ فراہم کریں گے۔ یوں ہم سچائی کی وہ ہیکل یا بدن تعمیر کرتے ہیں، ”جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے“۔
Death is but another phase of the dream that existence can be material. Nothing can interfere with the harmony of being nor end the existence of man in Science. Man is the same after as before a bone is broken or the body guillotined. If man is never to overcome death, why do the Scriptures say, "The last enemy that shall be destroyed is death"?
The dream of death must be mastered by Mind here or hereafter. Thought will waken from its own material declaration, "I am dead," to catch this trumpet-word of Truth, "There is no death, no inaction, diseased action, overaction, nor reaction."
Life is real, and death is the illusion. A demonstration of the facts of Soul in Jesus' way resolves the dark visions of material sense into harmony and immortality. Man's privilege at this supreme moment is to prove the words of our Master: "If a man keep my saying, he shall never see death." To divest thought of false trusts and material evidences in order that the spiritual facts of being may appear, — this is the great attainment by means of which we shall sweep away the false and give place to the true. Thus we may establish in truth the temple, or body, "whose builder and maker is God."
یسوع کی موت کے بعداْسکی نہ بدلنے والی جسمانی حالت نے تمام تر مادی حالتوں پرسر بلندی پائی اور اِس سر بلندی نے اْس کے آسمان پر اٹھائے جانے کو واضح کیا، اور بغیر غلطی کے قبر سے آگے ایک امتحانی اور ترقی یافتہ حالت کو ظاہر کیا۔
Jesus' unchanged physical condition after what seemed to be death was followed by his exaltation above all material conditions; and this exaltation explained his ascension, and revealed unmistakably a probationary and progressive state beyond the grave.
اسے ثابت کرنا تھا کہ مسیح مادی حالات کے تابع نہیں ہے، بلکہ انسانی غضب کی پہنچ سے بالاتر ہے، اور سچائی، زندگی اور محبت کے ذریعے گناہ، بیماری، موت اورقبر پر فتح حاصل کرنے کے قابل ہے۔
He was to prove that the Christ is not subject to material conditions, but is above the reach of human wrath, and is able, through Truth, Life, and Love, to triumph over sin, sickness, death, and the grave.
ہمیں یہ کہنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ زندگی اب مادے پر منحصر ہے مگر موت کے بعد یہ اِس پر انحصار نہیں کرے گی۔یہاں ہم زندگی کی سائنس سے لاعلمی میں اپنی زندگی نہیں گزار سکتے، اور قبر کے بعد اِس لاعلمی کے لئے اجر کی توقع نہیں کرسکتے۔لاعملی کے اجر کے طور پر موت ہمیں ہم آہنگ اور لافانی نہیں بنائے گی۔اگر یہاں ہم کرسچن سائنس پر توجہ نہیں دیتے جو کہ روحانی اور ابدی ہے،تو ہم اِس کے بعد روحانی زندگی کے لئے بھی تیار نہیں ہوں گے۔
We have no right to say that life depends on matter now, but will not depend on it after death. We cannot spend our days here in ignorance of the Science of Life, and expect to find beyond the grave a reward for this ignorance. Death will not make us harmonious and immortal as a recompense for ignorance. If here we give no heed to Christian Science, which is spiritual and eternal, we shall not be ready for spiritual Life hereafter.
اگر انسانی ہستی کا اصول، قانون اور اظہار کم سے کم بھی اِس سے قبل سمجھے نہیں جاتے جب موت کی اصطلاح بشر پر قابو پاتی ہے تو وہ اِس ایک واقع کی بنیاد پر وجودیت کے درجے میں روحانی طور پر زیادہ بلند نہیں ہوں گے، بلکہ وہ ایسے ہی مادی رہیں گے جیسے وہ اِس تبدیلی سے پہلے تھے، جو ابھی بھی زندگی کے روحانی فہم کی بجائے مادی کے وسیلہ، اور خود غرض اور کمتر مقاصد کے ذریعے خوشی تلاش کریں گے۔
اگر تبدیلی جسے موت کہا جاتا ہے گناہ، بیماری اور موت کے یقین کو تباہ کردیتی ہے تو اس شکست کے موقع پر خوشی فتح مند ہوتی ہے اور ہمیشہ کے لئے مستقل ہو جاتی ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ کاملیت صرف کاملیت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ وہ جو ناراست ہیں تب تک ناراست ہی رہیں گے جب تک الٰہی سائنس میں مسیح یعنی سچائی تمام تر گناہ اور جہالت کو تلف نہیں کرتا۔
گناہ اور غلطی جو ہمیں موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتے ہیں اْس لمحے رْکتے نہیں، بلکہ اِن غلطیوں کی موت تک مستقل رہتے ہیں۔
If the Principle, rule, and demonstration of man's being are not in the least understood before what is termed death overtakes mortals, they will rise no higher spiritually in the scale of existence on account of that single experience, but will remain as material as before the transition, still seeking happiness through a material, instead of through a spiritual sense of life, and from selfish and inferior motives.
If the change called death destroyed the belief in sin, sickness, and death, happiness would be won at the moment of dissolution, and be forever permanent; but this is not so. Perfection is gained only by perfection. They who are unrighteous shall be unrighteous still, until in divine Science Christ, Truth, removes all ignorance and sin.
The sin and error which possess us at the instant of death do not cease at that moment, but endure until the death of these errors.
عالمگیر نجات ترقی اور امتحان پر مرکوز ہے، اور ان کے بغیر غیر ممکن الحصول ہے۔
Universal salvation rests on progression and probation, and is unattainable without them.
ترقی تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ فانی انسان کی پختگی ہے، جس کے وسیلہ لافانی کی خاطر فانی بشر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خواہ یہاں یا اس کے بعد، تکالیف یا سائنس کو زندگی اور عقل کے حوالے سے تمام تر فریب نظری کو ختم کر دینا چاہئے، او ر مادی فہم اور خودی کو از سرے نو پیدا کرنا چاہئے۔ انسانیت کو اْس کے اعمال کے ساتھ منسوخ کر دینا چاہئے۔ کوئی بھی نفس پرستی یا گناہ آلود چیز لافانی نہیں ہے۔یہ مادے کی موت نہیں بلکہ جھوٹے مادی فہم اور گناہ کی موت ہی ہے جسے انسان اور زندگی ہم آہنگ، حقیقی اور ابدی ظاہر کرتے ہیں۔
Progress is born of experience. It is the ripening of mortal man, through which the mortal is dropped for the immortal. Either here or hereafter, suffering or Science must destroy all illusions regarding life and mind, and regenerate material sense and self. The old man with his deeds must be put off. Nothing sensual or sinful is immortal. The death of a false material sense and of sin, not the death of organic matter, is what reveals man and Life, harmonious, real, and eternal.
جب ہستی کو سمجھ لیا جاتا ہے تو زندگی کو نہ مادی نہ محدود مانا جاتا ہے بلکہ اِسے خدا، یعنی عالمگیر اچھائی کی مانند لامحدود سمجھا جاتا ہے، اور یہ ایمان نیست ہوجائے گاکہ زندگی یا عقل کبھی محدود شکل میں، یا اچھائی بدی کی شکل میں تھی۔ پھر یہ سمجھ لیا جائے گا کہ روح کبھی مادے میں داخل نہیں ہوئی اور اِسی لئے کبھی مادے سے پروان نہیں چڑھتی۔جب روحانی ہستی میں اور خدا کے ادراک میں ترقی کی جاتی ہے، تو انسان مزید مادے کے ساتھ شراکت نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ اِس میں لوٹ کے جا سکتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے ایک درخت واپس اپنے بیج میں نہیں جا سکتا۔نہ ہی انسان جسمانی دکھائی دے گا بلکہ وہ ایک انفرادی شعور ہوگاجو بطور خیال نہ کہ مادہ، الٰہی روح کی خصوصیت رکھتا ہے۔
وجودیت کی یہ حالت سائنسی ہے اور برقرار ہے، یعنی ایسی کاملیت جو محض اْن لوگوں کے لئے قابل فہم ہے جنہیں الٰہی سائنس میں مسیح کی حتمی سمجھ ہے۔ موت وجودیت کی اس حالت کو کبھی تیز نہیں کر سکتی کیونکہ لافانیت کے ظاہر ہونے سے قبل موت پر فتح مند ہونا چاہئے نہ کہ اْس کے سپرد ہونا چاہئے۔
When being is understood, Life will be recognized as neither material nor finite, but as infinite, — as God, universal good; and the belief that life, or mind, was ever in a finite form, or good in evil, will be destroyed. Then it will be understood that Spirit never entered matter and was therefore never raised from matter. When advanced to spiritual being and the understanding of God, man can no longer commune with matter; neither can he return to it, any more than a tree can return to its seed. Neither will man seem to be corporeal, but he will be an individual consciousness, characterized by the divine Spirit as idea, not matter.
This state of existence is scientific and intact, — a perfection discernible only by those who have the final understanding of Christ in divine Science. Death can never hasten this state of existence, for death must be overcome, not submitted to, before immortality appears.
نفسی دور کے دوران، قطعی کرسچن سائنس کو اْس تبدیلی سے پہلے حاصل نہیں کیا جا سکتا جسے موت کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ جسے ہم سمجھ نہیں پاتے اْسے ظاہر کرنے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔مگر انسانی خودی کو انجیلی تبلیغ ملنی چاہئے۔آج خدا ہم سے اِس کام کو قبول کرنے کا اور جلدی سے عملی طور پر مادی کو ترک کرنے اور روحانی پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جس سے بیرونی اور اصلی کا تعین ہوتا ہے۔
During the sensual ages, absolute Christian Science may not be achieved prior to the change called death, for we have not the power to demonstrate what we do not understand. But the human self must be evangelized. This task God demands us to accept lovingly to-day, and to abandon so fast as practical the material, and to work out the spiritual which determines the outward and actual.
پس ترقی ساری غلطی کو تباہ کرے گی اور لافانیت کو روشنی میں لائے گی۔
Thus progress will finally destroy all error, and bring immortality to light.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔