اتوار 26 جولائی ، 2026
اور اپنی امید کے اقرار کو مضبوطی سے تھامے رہیں کیونکہ جس نے وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے۔
“Let us hold fast the profession of our faith without wavering; (for he is faithful that promised;)”
22۔ یہ خداوند کی شفقت ہے کہ ہم فنا نہیں ہوئے کیونکہ اْس کی رحمت لازوال ہے۔
23۔ وہ ہر صبح تازہ ہے۔ تیری وفاداری عظیم ہے۔
24۔ میری جان نے کہا میرا بخرہ خداوند ہے! اِس لئے میری امید اْسی سے ہے۔
25۔ خداوند اْن پر مہربان ہے جو اْس کے منتظر ہیں۔ اْس جان پر جو اْس کی طالب ہے۔
26۔ یہ خوب ہے کہ آدمی امید دار رہے اور خاموشی سے خداوند کی نجات کا انتظار کرے۔
10۔ وہ جو تھوڑے سے تھوڑے میں دیانتدار ہے وہ بہت میں بھی دیانت دار ہے۔
22. It is of the Lord's mercies that we are not consumed, because his compassions fail not.
23. They are new every morning: great is thy faithfulness.
24. The Lord is my portion, saith my soul; therefore will I hope in him.
25. The Lord is good unto them that wait for him, to the soul that seeketh him.
26. It is good that a man should both hope and quietly wait for the salvation of the Lord.
10. He that is faithful in that which is least is faithful also in much.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
14۔ روح القدس کے وسیلہ سے جو ہم میں بسا ہوا ہے اس اچھی امانت کی حفاظت کر۔
14 That good thing which was committed unto thee keep by the Holy Ghost which dwelleth in us.
9۔ اور پولوس نے رات کو رویا میں دیکھا کہ ایک مکدونی آدمی کھڑا ہوا اْس کی منت کر کے کہتا ہے کہ پار اْتر کر مکدْنیہ میں آ اور ہماری مدد کر۔
10۔ اْس کے رویا دیکھتے ہی ہم نے فوراً مکدْنیہ میں جانے کا ارادہ کیا کیونکہ ہم اس سے یہ سمجھتے کہ خدا نے انہیں خوشخبری دینے کے لئے ہم کو بلایا ہے۔
13۔اور سبت کے دن شہر کے دروازہ کے باہر ندی کے کنارے گئے جہاں سمجھتے کہ دعا کرنے کی جگہ ہو گی اور بیٹھ کر اْن عورتوں سے جو اکٹھی ہوئی تھیں کلام کرنے لگے۔
14۔ اور تھوارتیرہ شہر کی ایک خدا پرست عورت لْدیہ نام قر مر بیچنے والی بھی سنتی تھی۔ اْس کا دل خداوند نے کھولا تاکہ پولوس کی باتوں پر توجہ کرے۔
15۔ اور جب اْس نے اپنے گھرانے سمیت بپتسمہ لے لیا تو منت کر کے کہا کہ اگر تم مجھے خداوند کی ایماندار بندی سمجھتے ہو تو چل کر میرے گھر میں رہو۔ پس اْس نے ہمیں مجبور کیا۔
9 And a vision appeared to Paul in the night; There stood a man of Macedonia, and prayed him, saying, Come over into Macedonia, and help us.
10 And after he had seen the vision, immediately we endeavoured to go into Macedonia, assuredly gathering that the Lord had called us for to preach the gospel unto them.
13 And on the sabbath we went out of the city by a river side, where prayer was wont to be made; and we sat down, and spake unto the women which resorted thither.
14 And a certain woman named Lydia, a seller of purple, of the city of Thyatira, which worshipped God, heard us: whose heart the Lord opened, that she attended unto the things which were spoken of Paul.
15 And when she was baptized, and her household, she besought us, saying, If ye have judged me to be faithful to the Lord, come into my house, and abide there. And she constrained us
1۔ خدا اور مسیح یسوع کو جو زندوں اور مردوں کی عدالت کرے گا گواہ کرکے اور اْ س کے ظہور اور بادشاہی کو یاد دلا کر میں تجھے تاکید کرتا ہوں۔
2۔کہ تْو کلام کی منادی کر۔ وقت اور بے وقت مستعد رہ۔ ہر طرح کے تحمل اور تعلیم کے ساتھ سمجھا دے اور ملا اور نصیحت کر۔
3۔ کیونکہ ایسا وقت آئے گا کہ لوگ صیح تعلیم کی برداشت نہ کریں گے بلکہ کانوں کی کھجلی کے باعث اپنی اپنی خواہشوں کے مْوافق بہت سے اْستاد بنا لیں گے۔
4۔ اور اپنے کانوں کو حق کی طرف سے پھیر کر کہانیوں پر متوجہ ہوں گے۔
5۔ مگر تو سب باتوں میں ہوشیار رہ۔ دْکھ اْٹھا۔ بشارت کا کام انجام دے۔ اپنی خدمت کو پورا کر۔
7۔ میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔ میں نے دوڑ کو ختم کر لیا۔ میں نے ایمان کو محفوظ رکھا۔
8۔ آیندہ کے لئے میرے واسطے راستبازی کا وہ تاج رکھا ہوا ہے جو عادل منصف یعنی خداوندمجھے اْس دن دے گا اور صرف مجھے ہی نہیں بلکہ اْن سب کو بھی جو اْس کے ظہور کے آرزو مند ہوں۔
1 I charge thee therefore before God, and the Lord Jesus Christ, who shall judge the quick and the dead at his appearing and his kingdom;
2 Preach the word; be instant in season, out of season; reprove, rebuke, exhort with all longsuffering and doctrine.
3 For the time will come when they will not endure sound doctrine; but after their own lusts shall they heap to themselves teachers, having itching ears;
4 And they shall turn away their ears from the truth, and shall be turned unto fables.
5 But watch thou in all things,
7 I have fought a good fight, I have finished my course, I have kept the faith:
8 Henceforth there is laid up for me a crown of righteousness, which the Lord, the righteous judge, shall give me at that day: and not to me only, but unto all them also that love his appearing.
2۔ اور یسوع نے جواب میں اْن سے کہا،
2 And Jesus said unto them,
14۔ کیونکہ یہ اْس آدمی کا سا حال ہے جس نے پردیس جاتے وقت اپنے گھر کے نوکروں کو بلا کر اپنے گھر کا مال اْن کے سپرد کیا۔
15۔اور ایک کو پانچ توڑے دیے، دوسرے کو دو اور تیسرے کو ایک یعنی ہر ایک کو اْس کی لیاقت کے مطابق دیا اور پردیس چلا گیا۔
19۔بڑی مدت کے بعد اْن نوکروں کا مالک آیا اور اْن سے حساب لینے لگا۔
20۔ جس کو پانچ توڑے ملے تھے وہ پانچ توڑے اور لے کر آیا اور کہا اے خداوند! تو نے پانچ توڑے میرے سپرد کئے تھے۔ دیکھ میں نے پانچ توڑے اور کمائے۔
21۔ اْس کے مالک نے اْس سے کہا اے اچھے اور دیانت دار نوکر شاباش! تو تھوڑے میں دیانت دار رہا۔ میں تجھے بہت چیزوں کا مختار بناؤں گا۔ اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو۔
22۔ اور جس کو دو توڑے ملے تھے اْس نے بھی پاس آ کر کہا اے خداوند تو نے دو توڑے مجھے سپرد کئے تھے۔ دیکھ میں نے دو توڑے اور کمائے۔
23۔ اْس کے مالک نے اْس سے کہا اے اچھے اور دیانت دار نوکر شاباش! تو تھوڑے میں دیانت دار رہا۔ میں تجھے بہت چیزوں کا مختار بناؤں گا۔ اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو۔
24۔ اور جس کو ایک توڑا ملا تھا وہ بھی پاس آکر کہنے لگا اے خداوند میں تجھے جانتا تھا کہ تو سخت آدمی ہے اور جہاں نہیں بویا وہاں سے کاٹتا ہے اور جہاں نہیں بکھیرا وہاں سے جمع کرتا ہے۔
25۔ پس میں ڈرا اور جا کر تیرا توڑا زمین میں چھپا دیا۔ دیکھ جو تیرا ہے وہ موجود ہے۔
26۔ اْس کے مالک نے جواب میں اْس سے کہا اے شریر اور سست نوکر!
28۔ پس اس سے وہ توڑا لے لو اور جس کے ہاس دس توڑے ہیں اْسے دے دو۔
29۔ کیونکہ جس کسی کے پاس ہے اْسے دیا جائے گا اور اْس کے پاس زیادہ ہو جائے گا مگر جس کے پاس نہیں ہے اْس سے وہ بھی جو اْس کے پاس ہے لے لیا جائے گا۔
14 For the kingdom of heaven is as a man travelling into a far country, who called his own servants, and delivered unto them his goods.
15 And unto one he gave five talents, to another two, and to another one; to every man according to his several ability; and straightway took his journey.
19 After a long time the lord of those servants cometh, and reckoneth with them.
20 And so he that had received five talents came and brought other five talents, saying, Lord, thou deliveredst unto me five talents: behold, I have gained beside them five talents more.
21 His lord said unto him, Well done, thou good and faithful servant: thou hast been faithful over a few things, I will make thee ruler over many things: enter thou into the joy of thy lord.
22 He also that had received two talents came and said, Lord, thou deliveredst unto me two talents: behold, I have gained two other talents beside them.
23 His lord said unto him, Well done, good and faithful servant; thou hast been faithful over a few things, I will make thee ruler over many things: enter thou into the joy of thy lord.
24 Then he which had received the one talent came and said, Lord,
25 I was afraid, and went and hid thy talent in the earth: lo, there thou hast that is thine.
26 His lord answered and said unto him, Thou wicked and slothful servant,
28 Take therefore the talent from him, and give it unto him which hath ten talents.
29 For unto every one that hath shall be given, and he shall have abundance: but from him that hath not shall be taken away even that which he hath.
1۔ اِن باتوں کے بعد مَیں نے آسمان پر گویا ایک بڑی جماعت کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ ہیلیلویاہ! نجات اور جلال اور قدت ہمارے خداہی کی ہے۔
2۔کیونکہ اْس کے فیصلے راست اور درست ہیں۔
5۔ اور تخت میں سے یہ آواز نکلی کہ اے اْس سے ڈرنے والے بندو خواہ چھوٹے ہو خواہ بڑے! تم سب ہمارے خدا کی حمد کرو۔
11۔ پھر میں نے آسمان کو کھْلا ہوا دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اْس پر ایک سوار ہے جو سچا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرتا ہے۔
16۔اور اْس کی پوشاک اورر ان پر یہ نام لکھا ہوا ہے کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند۔
1 And after these things I heard a great voice of much people in heaven, saying, Alleluia; Salvation, and glory, and honour, and power, unto the Lord our God:
2 For true and righteous are his judgments:
5 And a voice came out of the throne, saying, Praise our God, all ye his servants, and ye that fear him, both small and great.
11 And I saw heaven opened, and behold a white horse; and he that sat upon him was called Faithful and True, and in righteousness he doth judge and make war.
16 And he hath on his vesture and on his thigh a name written, KING OF KINGS, AND Lord OF Lords.
2۔خدا اور ہمارے خداوند یسوع کی پہچان کے سبب سے فضل اور اطمینان تمہیں زیادہ ہوتا رہے۔
3۔ کیونکہ اْس کی الٰہی قدرت نے وہ سب چیزیں جو زندگی اور دینداری سے متعلق ہیں ہمیں اْس کی پہچان کے وسیلہ عنایت کیں جس نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذریعے سے بلایا۔
4۔ جن کے باعث اْس نے ہم سے قیمتی اور نہایت بڑے وعدے کئے تاکہ اْن کے وسیلہ سے تم اْس خرابی سے چھوٹ کر جو دنیا میں بڑی خواہش کے سبب سے ہے ذاتِ الٰہی میں شریک ہو جاؤ۔
2 Grace and peace be multiplied unto you through the knowledge of God, and of Jesus our Lord,
3 According as his divine power hath given unto us all things that pertain unto life and godliness, through the knowledge of him that hath called us to glory and virtue:
4 Whereby are given unto us exceeding great and precious promises: that by these ye might be partakers of the divine nature.
جب ہم صبر کے ساتھ خدا کا انتظار کرتے اور راستبازی کے ساتھ سچائی کی تلاش کرتے ہیں تو وہ ہماری راہ میں راہنمائی کرتا ہے۔
When we wait patiently on God and seek Truth righteously, He directs our path.
اب تک کا بہترین وعظ جسکی تعلیم دی گئی ہے وہ سچائی ہے جس کا اظہار اور مشق گناہ، بیماری اور موت کی تباہی سے ہوا ہے۔یہ سب جانتے ہوئے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے ہوئے کہ ہماری ایک رغبت ہمارے اندر اعلیٰ ہے اور وہ ہماری زندگیوں میں آگے بڑھتی ہے، یسوع نے کہا، ”کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا۔“
ہم جھوٹی بنیادوں پر محفوظ تعمیرات نہیں کر سکتے۔سچائی ایک نئی مخلوق بناتی ہے، جس میں پرانی چیزیں جاتی رہتی ہیں اور ”سب چیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔“جذبات، خود غرضی، نفرت، خوف، ہر سنسنی خیزی، روحانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہستی کی افراط خدا، یعنی اچھائی کی طرف ہے۔
The best sermon ever preached is Truth practised and demonstrated by the destruction of sin, sickness, and death. Knowing this and knowing too that one affection would be supreme in us and take the lead in our lives, Jesus said, "No man can serve two masters."
We cannot build safely on false foundations. Truth makes a new creature, in whom old things pass away and "all things are become new." Passions, selfishness, false appetites, hatred, fear, all sensuality, yield to spirituality, and the superabundance of being is on the side of God, good.
شفا کا الٰہی اصول کسی بھی سچائی کے ایماندار طالب کے ذاتی تجربہ میں ثابت ہوتا ہے۔اِس کا مقصد اچھا ہے، اور اِس کی مشق زیادہ محفوظ اور کسی بھی دوسرے صفائی کے طریقہ کار کی نسبت زیادہ موثر ہے۔غیر جانبدار مسیحی سوچ کو جلد ہی حق کے وسیلہ چھو لیا جاتا اور اِسے قائل کر لیا جاتا ہے۔
The divine Principle of healing is proved in the personal experience of any sincere seeker of Truth. Its purpose is good, and its practice is safer and more potent than that of any other sanitary method. The unbiased Christian thought is soonest touched by Truth, and convinced of it.
جب ہم غلطی سے زیادہ زندگی کی سچائی پرایمان رکھتے ہیں، مادے سے زیادہ روح پر بھروسہ رکھتے ہیں، مرنے سے زیادہ جینے پر بھروسہ رکھتے ہیں، انسان سے زیادہ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں، تو کوئی مادی مفرضے ہمیں بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو نیست کرنے سے نہیں روک سکتے۔
When we come to have more faith in the truth of being than we have in error, more faith in Spirit than in matter, more faith in living than in dying, more faith in God than in man, then no material suppositions can prevent us from healing the sick and destroying error.
مسیح کی شفا کا لامتناہی سچ اِس زمانے تک ایک ”دبی ہوئی ہلکی آواز“کے وسیلہ، خاموش خیالات کے وسیلہ اور اْس الٰہی مسح کے وسیلہ پہنچا جو مسیحت کے مفید اثرات کو تیز کرتا اور بڑھاتا ہے۔ مَیں میری امید کی تکمیل کو دیکھنے، یعنی، روشنی کی اِس لکیر میں طالب علم کے بلند ہنر دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔
کیونکہ سچائی لامتناہی ہے، اس لئے سچائی کو کچھ بھی نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ کیونکہ سچائی اچھائی میں قادر مطلق ہے، تو غلطی، سچائی کی مخالف، میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ لیکن بدی عدم کا ہم وزن مدِ مقابل ہے۔عظیم ترین غلطی بلند و بالا اچھائی کی جعلی مخالف ہے۔ سائنس سے اجاگر ہونے والا اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی۔ غلطی سچائی کے سامنے بْزدل ہے۔ الٰہی سائنس اِس پر اصرار کرتی ہے کہ وقت یہ سب کچھ ثابت کرے گا۔ سچائی اور غلطی دونوں بشر کی سوچ سے کہیں زیادہ قریب تر ہوئے ہیں، اور سچائی پھر بھی واضح تر ہوتی جائے گی کیونکہ غلطی خودکو تباہ کرنے والی ہے۔
The infinite Truth of the Christ-cure has come to this age through a "still, small voice," through silent utterances and divine anointing which quicken and increase the beneficial effects of Christianity. I long to see the consummation of my hope, namely, the student's higher attainments in this line of light.
Because Truth is infinite, error should be known as nothing. Because Truth is omnipotent in goodness, error, Truth's opposite, has no might. Evil is but the counterpoise of nothingness. The greatest wrong is but a supposititious opposite of the highest right. The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth. Divine Science insists that time will prove all this. Both truth and error have come nearer than ever before to the apprehension of mortals, and truth will become still clearer as error is self-destroyed.
کسی شخص کا خود کو غلطی سے بچانے کی نسبت سچائی کی خواہش رکھنا زیادہ آسان ہے۔بشر کرسچن سائنس کے فہم کی تلاش کر سکتے ہیں، مگر وہ کرسچن سائنس میں سے ہستی کے حقائق کو جدوجہد کے بغیر چننے کے قابل نہیں ہوں گے۔یہ اختلاف ہر قسم کی غلطی کو ترک کرنے اور اچھائی کے علاوہ کوئی دوسرا شعور نہ رکھنے کی کوشش کرنے پر مشتمل ہے۔
محبت کی صحت بخش تادیب کے وسیلہ راستبازی، امن اور پاکیزگی کی جانب ہماری پیش قدمی میں مدد کی جاتی ہے، جو کہ سائنس کے امتیازی نشانات ہیں۔ سچائی کے لامتنا ہی کاموں کو دیکھتے ہوئے، ہم رْکتے ہیں، خدا کا انتظار کرتے ہیں۔ پھر ہم اْس وقت تک آگے نہیں بڑھتے ہیں جب تک لامحدود خیال وجد میں نہیں آتا، اور غیر مصدقہ نظریے کو الٰہی جلال تک اونچا نہیں اڑایا جاتا۔
مزید سمجھنے کے لئے، جو ہم پہلے سے جانتے ہیں اْسے اور عمل میں لانا ہوگا۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حق کو جب سمجھا جاتا ہے تو وہ قابل ا ثبات ہوگا، اور یہ کہ اچھائی تب تک نہیں سمجھی جا تی جب تک اْسے ظاہر نہ کیا جائے۔اگر ”تھوڑے میں دیانتدار ہیں“، تو ہمیں زیادہ کا مختار بنایا جائے گا؛ لیکن ایک غیر استعمال شدہ صلاحیت فنا ہوجاتی اور کھو جاتی ہے۔جب بیمار یا گناہگار اپنی ضرورت کی اْس چیز کے لئے خود کو بیدار محسوس کرتے ہیں جو اْن کے پاس نہیں ہوتی، تو وہ الٰہی سائنس کے قبول کرنے والے ہوں گے، جو روح کی جانب کشش رکھتی ہے اور مادی فہم سے دور ہوتی جاتی ہے، بدن سے خیالات کو ختم کرتی ہے، اور فانی عقل کو بیماری یا گناہ کی نسبت کسی بہتر چیز کی فکر کے لئے سر بلند کرتی ہے۔خدا کا حقیقی تصور زندگی اور محبت کی حقیقی سمجھ عطا کرتا ہے، فتح کی قبر چْرا لیتا ہے، تمام گناہوں اور اِس فریب نظری کو دور کردیتا ہے کہ یہاں اور عقلیں بھی موجود ہیں اور یہ فانیت کو نیست کرتا ہے۔
کرسچن سائنس کے اثرات اِس قدر دیکھے نہیں جا تے جتنے کہ یہ محسوس کئے جاتے ہیں۔ یہ سچائی کی ”دبی ہوئی ہلکی آواز“ ہے جو خود سے مخاطب ہے۔یا تو ہم اِس آواز سے دور بھاگ رہے ہیں یا ہم اِسے سْن رہے ہیں اور اْونچے ہو رہے ہیں۔
It is easier to desire Truth than to rid one's self of error. Mortals may seek the understanding of Christian Science, but they will not be able to glean from Christian Science the facts of being without striving for them. This strife consists in the endeavor to forsake error of every kind and to possess no other consciousness but good.
Through the wholesome chastisements of Love, we are helped onward in the march towards righteousness, peace, and purity, which are the landmarks of Science. Beholding the infinite tasks of truth, we pause, — wait on God. Then we push onward, until boundless thought walks enraptured, and conception unconfined is winged to reach the divine glory.
In order to apprehend more, we must put into practice what we already know. We must recollect that Truth is demonstrable when understood, and that good is not understood until demonstrated. If "faithful over a few things," we shall be made rulers over many; but the one unused talent decays and is lost. When the sick or the sinning awake to realize their need of what they have not, they will be receptive of divine Science, which gravitates towards Soul and away from material sense, removes thought from the body, and elevates even mortal mind to the contemplation of something better than disease or sin. The true idea of God gives the true understanding of Life and Love, robs the grave of victory, takes away all sin and the delusion that there are other minds, and destroys mortality.
The effects of Christian Science are not so much seen as felt. It is the "still, small voice" of Truth uttering itself. We are either turning away from this utterance, or we are listening to it and going up higher.
کرسچن سائنس میں، سچائی سے انکار جان لیوا ہے، جبکہ سچائی کا ایک عادل اعتراف اور جو کچھ اس سچائی نے ہمارے لئے کیا ہے ایک موثر مدد ہے۔ اگر تکبر،توہم پرستی یا کوئی بھی غلطی حاصل ہونے والے فوائد کی ایماندار پہچان کو روکتے ہیں تو یہ بیمار کی شفا یابی اور طالب علم کی کامیابی میں ایک رکاوٹ ہوگی۔
In Christian Science, a denial of Truth is fatal, while a just acknowledgment of Truth and of what it has done for us is an effectual help. If pride, superstition, or any error prevents the honest recognition of benefits received, this will be a hindrance to the recovery of the sick and the success of the student.
اگر کوئی طالب علم ایک طرف سچائی کی تعلیمات پر عمل کرنے کے لئے دور جاتا ہے، اپنے مفادات کو خدا اور دولت کے مابین منقسم کرتے ہوئے اور اپنے خود کے خیالات کو سچائی کے لئے تبدیل کرتے ہوئے، تو وہ لامحالہ اس غلطی کو کاٹے گا جو وہ بوتا ہے۔جو کوئی بھی کرسچن سائنس کی شفا کا اظہار کرتا ہے اْسے اِس کے اصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے، ہر فقرے پر توجہ دینی چاہئے، اور ڈالی گئی بنیادوں سے آگے بڑھنا چاہئے۔ اِس کام میں نہ کچھ مشکل ہے نہ ہی کچھ سخت ہے، جب راستہ دکھا دیا جائے؛ مگر خود انکاری، تابعداری، مسیحت اور مستقل مزاجی اکیلے انعام جیت لیتے ہیں، جیسا کہ وہ عموماً زندگی کے ہر پہلو میں کرتے ہیں۔
If the student goes away to practise Truth's teachings only in part, dividing his interests between God and mammon and substituting his own views for Truth, he will inevitably reap the error he sows. Whoever would demonstrate the healing of Christian Science must abide strictly by its rules, heed every statement, and advance from the rudiments laid down. There is nothing difficult nor toilsome in this task, when the way is pointed out; but self-denial, sincerity, Christianity, and persistence alone win the prize, as they usually do in every department of life.
خود کی منسوخی، جس کے وسیلہ ہم غلطی کے ساتھ اپنی جنگ میں اپنا سب کچھ سچائی یا مسیح کے حوالے کر دیتے ہیں، کرسچن سائنس کا دستورہے۔ یہ دستور وضاحت کرتا ہے خدا کی بطور الٰہی اصول یعنی زندگی باپ کی پیش کردہ، بطور سچائی، بیٹے کی پیش کردہ،اور بطور محبت ماں کی پیش کردہ۔ ہر بشر کو کسی نہ کسی وقت، یہاں یا آخرت میں، خدا کے مخالف طاقت پر فانی عقیدے کے ساتھ نمٹنا اور اْسے فتح کرنا چاہئے۔
یہ آیت کہ،”تْو تھوڑے میں دیانتدار رہا۔ مَیں تجھے بہت چیزوں کا مختار بناؤں گا“ تب پوری ہوتی ہے جب ہم سچائی کی بالادستی سے واقف ہوتے ہیں، جس سے غلطی کاعدم دکھائی دیتا ہے؛
Self-abnegation, by which we lay down all for Truth, or Christ, in our warfare against error, is a rule in Christian Science. This rule clearly interprets God as divine Principle, — as Life, represented by the Father; as Truth, represented by the Son; as Love, represented by the Mother. Every mortal at some period, here or hereafter, must grapple with and overcome the mortal belief in a power opposed to God.
The Scripture, "Thou hast been faithful over a few things, I will make thee ruler over many," is literally fulfilled, when we are conscious of the supremacy of Truth, by which the nothingness of error is seen;
اگر آپ کی زور مرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔ یہ سچائی اور محبت کے ساتھ یکجہتی میں حصہ لینا ہے۔
اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔
If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, "I have fought a good fight ... I have kept the faith," because you are a better man. This is having our part in the at-one-ment with Truth and Love.
If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔