اتوار 27 ستمبر، 2026



مضمون۔ حقیقت

SubjectReality

سنہری متن: 1 کرنتھیوں 2 باب 12 آیت

مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔



Golden Text: I Corinthians 2 : 12

Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: کلسیوں 3 باب 1، 2، 4، 9، 10،14 تا 16 آیات


1۔ پس جب تم مسیح کے ساتھ جِلائے گئے تو عالم بالا کی چیزوں کی تلاش میں رہو جہاں مسیح موجود ہے اور خدا کی دہنی طرف بیٹھا ہے۔

2۔ عالم بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین کی چیزوں کے۔

4۔ جب مسیح جو ہماری زندگی ہے ظاہر کیا جائے گا تو تم بھی اْس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے۔

9۔ تم نے پرانی انسانیت کو اْس کے کاموں سمیت اْتار ڈالا۔

10۔ اور نئی انسانیت کو پہن لیا ہے جو معرفت حاصل کرنے کے لئے اپنے خالق کی صورت پرنئی بنتی جاتی ہے۔

14۔ اور اِن سب کے اوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔

15۔ اور مسیح کا اطمینان جس کے لئے تم ایک بدن ہوکر بلائے بھی گئے ہو تمہارے دلوں پر حکومت کرے اور تم شکرگزار رہو۔

16۔ مسیح کے کلام کو اپنے دلوں میں کثرت سے بسنے دو اور کمال دانائی سے آپس میں تعلیم اور نصیحت کرو اور اپنے دلوں میں فضل کے ساتھ خدا کے لئے مزامیر اور گیت اور روحانی غزلیں گاؤ۔

Responsive Reading: Colossians 3 : 1, 2, 4, 9, 10, 14-16

1.     If ye then be risen with Christ, seek those things which are above, where Christ sitteth on the right hand of God.

2.     Set your affection on things above, not on things on the earth.

4.     When Christ, who is our life, shall appear, then shall ye also appear with him in glory.

9.     Lie not one to another, seeing that ye have put off the old man with his deeds;

10.     And have put on the new man, which is renewed in knowledge after the image of him that created him:

14.     And above all these things put on charity, which is the bond of perfectness.

15.     And let the peace of God rule in your hearts, to the which also ye are called in one body; and be ye thankful.

16.     Let the word of Christ dwell in you richly in all wisdom; teaching and admonishing one another in psalms and hymns and spiritual songs, singing with grace in your hearts to the Lord.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ یوحنا 1 باب 1 تا 5 آیات

1۔ ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔

2۔ یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔

3۔ سب چیزیں اْسی کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس کے بغیر پیدا نہ ہوئی۔

4۔اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی۔

5۔اور نور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا۔

1. John 1 : 1-5

1     In the beginning was the Word, and the Word was with God, and the Word was God.

2     The same was in the beginning with God.

3     All things were made by him; and without him was not any thing made that was made.

4     In him was life; and the life was the light of men.

5     And the light shineth in darkness; and the darkness comprehended it not.

2 . ۔ یسعیاہ 55 باب 3 (تا؛)، 8 تا 11 آیات

3۔ کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ اور سنو اور تمہاری جان زندہ رہے گی۔

8۔ خداوند فرماتا ہے کہ میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں۔

9۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اْسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔

10۔ کیونکہ جس طرح آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے اور پھر وہ وہاں واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے۔اور اْسی کی روئیدگی اور شادابی کا باعث ہوتی ہے تاکہ بونے والے کو بیج اور کھانے والے کو روٹی دے۔

11۔ اسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ہوگا۔ وہ انجام میرے پاس واپس نہ آئے گا بلکہ جو کچھ میری خواہش ہوگی وہ اْسے پور ا کرے گا اور اِس کام میں جس کے لئے مَیں نے اْسے بھیجا موثر ہوگا۔

2. Isaiah 55 : 3 (to ;), 8-11

3     Incline your ear, and come unto me: hear, and your soul shall live;

8     For my thoughts are not your thoughts, neither are your ways my ways, saith the Lord.

9     For as the heavens are higher than the earth, so are my ways higher than your ways, and my thoughts than your thoughts.

10     For as the rain cometh down, and the snow from heaven, and returneth not thither, but watereth the earth, and maketh it bring forth and bud, that it may give seed to the sower, and bread to the eater:

11     So shall my word be that goeth forth out of my mouth: it shall not return unto me void, but it shall accomplish that which I please, and it shall prosper in the thing whereto I sent it.

3 . ۔ امثال 3 باب 1 تا 4، 6 تا 8 آیات

1۔ اے میرے بیٹے!میری تعلیم کو فراموش نہ کربلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔

2۔ کیونکہ تْو اِن سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کرے گا۔

3۔ شفقت اور سچائی تجھ سے جدا نہ ہوں تْو اْن کو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا۔

4۔ یوں تْو خدا اور انسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کرے گا۔

6۔ اپنی سب راہوں میں اُسکو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

7۔ تو اپنی ہی نگاہ میں دانشمندنہ بن۔خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔

8۔ یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہو گی۔

3. Proverbs 3 : 1-4, 6-8

1     My son, forget not my law; but let thine heart keep my commandments:

2     For length of days, and long life, and peace, shall they add to thee.

3     Let not mercy and truth forsake thee: bind them about thy neck; write them upon the table of thine heart:

4     So shalt thou find favour and good understanding in the sight of God and man.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

7     Be not wise in thine own eyes: fear the Lord, and depart from evil.

8     It shall be health to thy navel, and marrow to thy bones.

4 . ۔ متی 15 باب 29 تا 32 (تا دوسری،) آیات

29۔ پھر یسوع وہاں سے چل کہ گلیل کی جھیل کے نزدیک آیا اور پہاڑ پر چڑھ کر وہیں بیٹھ گیا۔

30۔ اور ایک بڑی بھیڑ لنگڑوں، گونگوں، اندھوں، ٹنڈوں اور بہت سے اَور بیماروں کو اپنے ساتھ لے کر اْس کے پاس آئی اور اْن کو اْس کے پاؤں میں ڈال دیا اور اْس نے اْنہیں اچھا کر دیا۔

31۔ چنانچہ جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے بولتے، ٹنڈے تندرست ہوتے اور لنگڑے چلتے پھرتے اور اندھے دیکھتے ہیں تو تعجب کیا اور اسرائیل کے خدا کی تمجید کی۔

32۔ اور یسوع نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا کر کہا۔

4. Matthew 15 : 29-32 (to 2nd ,)

29     And Jesus departed from thence, and came nigh unto the sea of Galilee; and went up into a mountain, and sat down there.

30     And great multitudes came unto him, having with them those that were lame, blind, dumb, maimed, and many others, and cast them down at Jesus’ feet; and he healed them:

31     Insomuch that the multitude wondered, when they saw the dumb to speak, the maimed to be whole, the lame to walk, and the blind to see: and they glorified the God of Israel.

32     Then Jesus called his disciples unto him, and said,

5 . ۔ یوحنا 5 باب 30 آیت

30۔ مَیں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا۔ جیسا سنتا ہوں عدالت کرتا ہوں اور میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی چاہتا ہوں۔

5. John 5 : 30

30     I can of mine own self do nothing: as I hear, I judge: and my judgment is just; because I seek not mine own will, but the will of the Father which hath sent me.

6 . ۔ یوحنا 6 باب 63 آیت

63۔ زندہ کرنے والی تو روح ہے۔ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔

6. John 6 : 63

63     It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing: the words that I speak unto you, they are spirit, and they are life.

7 . ۔ اعمال 3 باب 1 تا 9، 11 تا 13 (تا؛)، 16 آیات

1۔ پطرس اور یوحنا دعا کے وقت یعنی تیسرے پہر ہیکل کو جارہے تھے۔

2۔اور لوگ ایک جنم کے لنگڑے کو لارہے تھے جس کو ہر روز ہیکل کے اُس دروازہ پر بٹھا دیتے تھے جو خوبصورت کہلاتا ہے تاکہ ہیکل میں جانے والوں سے بھیک مانگے۔

3۔ جب اُس نے پطرس اور یوحنا کو ہیکل میں جاتے دیکھا تو اُن سے بھیک مانگی۔

4۔ پطرس ا اور یوحنا نے اُس پر غور سے نظر کی اور پطرس نے کہا ہماری طرف دیکھ۔

5۔ وہ اُن سے کچھ ملنے کی امید پر اُن کی طرف متوجہ ہوا۔

6۔ پطرس نے کہا چاندی سونا تو میرے پاس ہے نہیں مگر جو میرے پاس ہے وہ تجھے دئے دیتا ہوں۔ یسوع مسیح ناصری کے نام سے چل پھر۔

7۔ اور اُس کا دہنا ہاتھ پکڑکر اُس کو اٹھایا اور اسی دم اس کے پاؤں اور ٹخنے مضبوط ہوگئے۔

8۔اور وہ کود کر کھڑا ہوگیا اور چلنے پھرنے لگا اور چلتا اور کودتا اور خدا کی حمد کرتا ہوا ان کے ساتھ ہیکل میں گیا۔

9۔اور سب لوگوں نے اُسے چلتے پھرتے اور خدا کی حمد کرتے دیکھ کر۔

11۔ جب وہ پطرس اور یوحنا کو پکڑے ہوئے تھا تو سب لوگ بہت حیران ہوکر اُس برآمدہ کی طرف جو سلیمان کا کہلاتا ہے اُن کے پاس دوڑے آئے۔

12۔ پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اے اسرائیلیو۔ اس پر تم کیوں تعجب کرتے ہو اور ہمیں کیوں اس طرح دیکھ رہے ہوکہ گویا ہم نے اپنی قدرت یا دینداری سے اس شخص کو چلتا پھرتا کردیا؟

13۔ ابرہام اوراضحاق اور یعقوب کے خدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خدا نے اپنے خادم یسوع کو جلال دیا جسے تم نے پکڑوا دیا اور جب پیلاطس نے اُسے چھوڑ دینے کا قصد کیا تو تم نے اُس کے سامنے اُس کا انکار کیا۔

16۔ اْسی کے نام نے اْس ایمان کے وسیلہ سے جو اْس کے نام پر ہے اِس شخص کو مضبوط کیا جسے تم دیکھتے اور جانتے ہو۔ بے شک اْسی ایمان نے جو اْس کے وسیلہ سے ہے یہ کامل تندرستی تم سب کے سامنے اْسے دی۔

7. Acts 3 : 1-9, 11-13 (to ;), 16

1     Now Peter and John went up together into the temple at the hour of prayer, being the ninth hour.

2     And a certain man lame from his mother’s womb was carried, whom they laid daily at the gate of the temple which is called Beautiful, to ask alms of them that entered into the temple;

3     Who seeing Peter and John about to go into the temple asked an alms.

4     And Peter, fastening his eyes upon him with John, said, Look on us.

5     And he gave heed unto them, expecting to receive something of them.

6     Then Peter said, Silver and gold have I none; but such as I have give I thee: In the name of Jesus Christ of Nazareth rise up and walk.

7     And he took him by the right hand, and lifted him up: and immediately his feet and ankle bones received strength.

8     And he leaping up stood, and walked, and entered with them into the temple, walking, and leaping, and praising God.

9     And all the people saw him walking and praising God:

11     And as the lame man which was healed held Peter and John, all the people ran together unto them in the porch that is called Solomon’s, greatly wondering.

12     And when Peter saw it, he answered unto the people, Ye men of Israel, why marvel ye at this? or why look ye so earnestly on us, as though by our own power or holiness we had made this man to walk?

13     The God of Abraham, and of Isaac, and of Jacob, the God of our fathers, hath glorified his Son Jesus;

16     And his name through faith in his name hath made this man strong, whom ye see and know: yea, the faith which is by him hath given him this perfect soundness in the presence of you all.

8 . ۔ 2 کرنتھیوں 4 باب6، 14،15، 17، 18 آیات

6۔اِس لئے کہ خدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا تاکہ خداکے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر ہو۔

14۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جس نے خداوند یسوع کو جِلایا وہ ہم کو بھی یسوع کے ساتھ شامل جان کر جلائے گا اور تمہارے ساتھ اپنے سامنے حاضر کرے گا۔

15۔ اِس لئے کہ سب چیزیں تمہارے واسطے ہیں تاکہ بہت سے لوگوں کے سبب سے فضل زیادہ ہوکر خدا کے جلال کے لئے شکر گزاری بھی بڑھائے۔

17۔ کیونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مصیبت ہمارے لئے از حد بھاری اور ابدی جلال پیدا کرتی جاتی ہے۔

18۔ جس حال میں کہ ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چیزیں ابدی ہیں۔

8. II Corinthians 4 : 6, 14, 15, 17, 18

6     For God, who commanded the light to shine out of darkness, hath shined in our hearts, to give the light of the knowledge of the glory of God in the face of Jesus Christ.

14     Knowing that he which raised up the Lord Jesus shall raise up us also by Jesus, and shall present us with you.

15     For all things are for your sakes, that the abundant grace might through the thanksgiving of many redound to the glory of God.

17     For our light affliction, which is but for a moment, worketh for us a far more exceeding and eternal weight of glory;

18     While we look not at the things which are seen, but at the things which are not seen: for the things which are seen are temporal; but the things which are not seen are eternal.



سائنس اور صح


1 . ۔ 513: 26 (خدا)۔ 27

خدا حقیقت کی ساری اشکال خلق کرتا ہے۔اْس کے خیالات روحانی حقائق ہیں۔

1. 513 : 26 (God)-27

God creates all forms of reality. His thoughts are spiritual realities.

2 . ۔ 331: 11 (دی)۔ 16

صحیفے دلیل دیتے ہیں کہ خداقادرِمطلق ہے۔ اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ الٰہی عقل اوراْس کے خیالات کے علاوہ کوئی چیز نہ حقیقت کی ملکیت رکھتی ہے نہ وجودیت کی۔صحائف یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ خدا روح ہے۔اِس لئے روح میں سب کچھ ہم آہنگی ہے، اور کوئی مخالفت نہیں ہوسکتی؛ سب کچھ زندگی ہے اور موت بالکل نہیں ہے۔

2. 331 : 11 (The)-16

The Scriptures imply that God is All-in-all. From this it follows that nothing possesses reality nor existence except the divine Mind and His ideas. The Scriptures also declare that God is Spirit. Therefore in Spirit all is harmony, and there can be no discord; all is Life, and there is no death.

3 . ۔ 286: 21۔ 26

خدا کے خیالات کامل اور ابدی ہیں، وہ مواد اور زندگی ہیں۔مادی اور عارضی خیالات انسانی ہیں، جن میں غلطی شامل ہوتی ہے، اور چونکہ خدا، روح ہی واحد وجہ ہے، اس لئے وہ الٰہی وجہ سے خالی ہیں۔ تو پھر عارضی اور مادی روح کی تخلیقات نہیں ہیں۔ یہ روحانی اور ابدی چیزوں کے مخالف ہونے کے علاوہ کچھ نہیں۔

3. 286 : 21-26

God's thoughts are perfect and eternal, are substance and Life. Material and temporal thoughts are human, involving error, and since God, Spirit, is the only cause, they lack a divine cause. The temporal and material are not then creations of Spirit. They are but counterfeits of the spiritual and eternal.

4 . ۔ 276: 9۔ 24

انسان اور اْس کا خالق الٰہی سائنس میں باہمی شراکت رکھتے ہیں، اور حقیقی شعور صرف خدا کی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

اس بات کا احساس کہ تمام خارج از آہنگی غیر واقعی ہے انسانی تصور میں خیالات اور چیزوں کو اْن کی اصلی روشنی کے ساتھ لاتا ہے، اور انہیں بہت خوبصورت اور لافانی طور پر پیش کرتا ہے۔ انسان میں ہم آہنگی اْتنی ہی حقیقی اور لافانی ہوتی ہے جتنی موسیقی میں ہوتی ہے۔ مخالفت غیر واقعی اور فانی ہے۔

اگر خدا کو واحد عقل اور زندگی تسلیم کیا جاتا ہے تو اِس سے گناہ اور موت کے لئے کوئی بھی موقع میسر نہیں رہتا۔ جب ہم سائنس میں یہ سیکھ لیتے ہیں کہ ہم کامل کیسے بنیں جیسے ہمار ا آسمانی باپ کامل ہے، تو سوچ جدید اور صحتمند راستوں کی جانب، لافانی چیزوں کی فکرمندی کی طرف مڑ جاتی ہے اور بشمول ہم آہنگ انسان کائنات کے اصول کی مادیت سے دورہو جاتی ہے۔

4. 276 : 9-24

Man and his Maker are correlated in divine Science, and real consciousness is cognizant only of the things of God.

The realization that all inharmony is unreal brings objects and thoughts into human view in their true light, and presents them as beautiful and immortal. Harmony in man is as real and immortal as in music. Discord is unreal and mortal.

If God is admitted to be the only Mind and Life, there ceases to be any opportunity for sin and death. When we learn in Science how to be perfect even as our Father in heaven is perfect, thought is turned into new and healthy channels, — towards the contemplation of things immortal and away from materiality to the Principle of the universe, including harmonious man.

5 . ۔ 301: 17۔ 23

جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔

5. 301 : 17-23

As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind.

6 . ۔ 353: 16 (سبھی)۔ 19

سبھی حقیقت ابدی ہے۔ کاملیت حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔ کاملیت کے بِنا کچھ بھی مکمل طور پر حقیقی نہیں ہے۔ جب تک کاملیت ظاہر نہیں ہوتی اور حقیقت تک نہیں پہنچتی سبھی چیزیں غائب ہونا جاری رہیں گی۔

6. 353 : 16 (All)-19

All the real is eternal. Perfection underlies reality. Without perfection, nothing is wholly real. All things will continue to disappear, until perfection appears and reality is reached.

7 . ۔ 490 :14۔ 18

انسانی نظریات انسان کو ہم آہنگ یا لافانی بنانے میں بے بس ہیں، کیونکہ وہ کرسچن سائنس کے مطابق پہلے سے ہی ایسے ہیں۔ ہماری ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم اسے جانیں اور حقیقی انسان کے الٰہی اصول، محبت پر کم عمل کریں۔

7. 490 : 14-18

Human theories are helpless to make man harmonious or immortal, since he is so already, according to Christian Science. Our only need is to know this and reduce to practice the real man's divine Principle, Love.

8 . ۔ 88: 9۔ 15 (تا،)

حقیقی خیالات اور بھرموں میں کیسے امتیاز کیا جائے؟ہر ایک کی بنیاد کو سیکھتے ہوئے۔ خیالات الٰہی عقل کی جانب سے اظہار ہیں۔ سوچیں، ذہن یا مادے سے جنم لیتی ہوئیں، مادی عقل کی شاخیں ہیں؛ وہ فانی مادی عقائد ہیں۔ خیالات روحانی، ہم سازاور ابدی ہیں۔ عقیدے نام نہاد مادی حواس سے جنم لیتے ہیں۔

8. 88 : 9-15 (to ,)

How are veritable ideas to be distinguished from illusions? By learning the origin of each. Ideas are emanations from the divine Mind. Thoughts, proceeding from the brain or from matter, are offshoots of mortal mind; they are mortal material beliefs. Ideas are spiritual, harmonious, and eternal. Beliefs proceed from the so-called material senses,

9 . ۔ 356 :4۔ 5، 9۔ 16

نام نہاد مادی وجویت روحانی وجودیت اور لافانیت کا کوئی ثبوت برداشت نہیں کرتی۔

یسوع نے عملی طور پر اِس موضوع کی وجہ بیان کی، اور اپنی روحانیت کی بنیاد پر بیماری، گناہ اور موت کو قابو کیا۔مادی چیزوں کے عدم کو سمجھتے ہوئے، اْس نے بدن اور روح کو دو متضادات کے طور پر، بطور غلطی اور سچائی، بیان کیا، جو کسی بھی طرح ایک دوسرے کی خوشی اور وجودیت میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔یسوع جانتا تھا کہ، ”زندہ کرنے والی تو روح ہے؛ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔“

9. 356 : 4-5, 9-16

So-called material existence affords no evidence of spiritual existence and immortality.

Jesus reasoned on this subject practically, and controlled sickness, sin, and death on the basis of his spirituality. Understanding the nothingness of material things, he spoke of flesh and Spirit as the two opposites, — as error and Truth, not contributing in any way to each other's happiness and existence. Jesus knew, "It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing."

10 . ۔ 272 :3۔ 8

سچائی کو سمجھنے سے قبل سچائی کا روحانی فہم حاصل ہونا ضروری ہے۔ یہ فہم اْسی وقت ہمارے اندر سما سکتا ہے جب ہم ایماندار، بے غرض، پیار کرنے والے اور حلیم ہوتے ہیں۔ ایک ”ایماندار اور نیک دل“ کی مٹی میں بیج بویا جانا چاہئے؛ وگرنہ یہ زیادہ پھل نہیں دے گا، کیونکہ انسانی فطرت میں گندہ عنصر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔

10. 272 : 3-8

The spiritual sense of truth must be gained before Truth can be understood. This sense is assimilated only as we are honest, unselfish, loving, and meek. In the soil of an "honest and good heart" the seed must be sown; else it beareth not much fruit, for the swinish element in human nature uproots it.

11 . ۔ 130: 15۔ 19، 5۔ 26

کرسچن سائنس، مناسب طور پر سمجھی جا کر، انسانی عقل کے اْن مادی عقائد کی خام خیالی کو دور کرے گی جو روحانی حقائق کے ساتھ جنگ کرتے ہیں؛ اور سچائی کو جگہ فراہم کرنے کے لئے اِن مادی عقائد کا انکار کیا جانااِنہیں باہر نکالا جانا چاہئے۔

اگر خدا یا سچائی کی بالادستی کے لئے سائنس کے مضبوط دعوے پر خیالات چونک جاتے ہیں اور اچھائی کی بالادستی پر شک کرتے ہیں، تو کیا ہمیں، اس کے برعکس، بدی کے زبردست دعوں پر حیران ہونا، اْن پر شک کرنااور گناہ سے نفرت کرنے کو فطری اور اِسے ترک کرنے کو غیر فطری تصور کرنا، بدی کو ہمیشہ موجود اور اچھائی کو غیر موجود تصور نہیں کرنا چاہئے؟سچائی کو غلطی کی مانند تعجب انگیز اور غیر فطری دکھائی نہیں دینا چاہئے، اور غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی نہیں لگنا چاہئے۔ بیماری کو صحتیابی جیسا دکھائی نہیں دینا چاہئے۔ سائنس میں کوئی غلطی نہیں ہے، اور خدا یعنی سب چیزوں کے الٰہی اصول، کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لئے ہماری زندگیوں پر حقیقت کی حکمرانی ہونی چاہئے۔

11. 130 : 15-19, 26-5

Christian Science, properly understood, would disabuse the human mind of material beliefs which war against spiritual facts; and these material beliefs must be denied and cast out to make place for truth.

If thought is startled at the strong claim of Science for the supremacy of God, or Truth, and doubts the supremacy of good, ought we not, contrariwise, to be astounded at the vigorous claims of evil and doubt them, and no longer think it natural to love sin and unnatural to forsake it, — no longer imagine evil to be ever-present and good absent? Truth should not seem so surprising and unnatural as error, and error should not seem so real as truth. Sickness should not seem so real as health. There is no error in Science, and our lives must be governed by reality in order to be in harmony with God, the divine Principle of all being.

12 . ۔ 215: 12۔ 21

جو کچھ بھی خدا کی حکمرانی میں ہوتا ہے، وہ کبھی بھی ایک لمحے کے لئے ذہانت اور زندگی کی روشنی اور طاقت سے محروم نہیں ہوتا۔

بعض اوقات ہمیں یہ ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ تاریکی روشنی کی مانند حقیقی ہے؛ جبکہ سائنس تصدیق کرتی ہے کہ تایکی محض روشنی کے فانی فہم کی غیر موجودگی ہے، جس کے آنے پر تاریکی حقیقی شناخت کھو دیتی ہے۔پس گناہ اور دْکھ، بیماری اور موت، زندگی اور خدا کی فرضی غیر موجودگی ہیں، اور یہ سچائی اور محبت کے سامنے غلطی کے تصورات کی مانند فرار ہوجاتے ہیں۔

12. 215 : 12-21

Whatever is governed by God, is never for an instant deprived of the light and might of intelligence and Life.

We are sometimes led to believe that darkness is as real as light; but Science affirms darkness to be only a mortal sense of the absence of light, at the coming of which darkness loses the appearance of reality. So sin and sorrow, disease and death, are the suppositional absence of Life, God, and flee as phantoms of error before truth and love.

13 . ۔ 480 :2۔ 26

بائبل واضح کرتی ہے: ”سب چیزیں اْس (الٰہی کلام) کے وسیلہ پیدا ہوئیں؛ اور جو کچھ پیدہواا اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس کے بغیر پیدا نہ ہوئی۔“یہ الٰہی سائنس کی ابدی حقیقت ہے۔ اگر گناہ، بیماری اور موت کو عدم کے طور پر سمجھا جائے تو وہ غائب ہو جائیں گے۔ جیسا کہ بخارات سورج کے سامنے پگھل جاتے ہیں، اسی طرح بدی اچھائی کی حقیقت کے سامنے غائب ہوجائے گی۔ ایک نے دوسری کو لازمی چھپا دینا ہے

13. 480 : 26-2

The Bible declares: "All things were made by Him [the divine Word]; and without Him was not anything made that was made." This is the eternal verity of divine Science. If sin, sickness, and death were understood as nothingness, they would disappear. As vapor melts before the sun, so evil would vanish before the reality of good. One must hide the other. How important, then, to choose good as the reality!

14 . ۔ 261: 4۔ 7

برداشت، اچھائی اور سچائی کو مضبوطی سے تھام لیں تو آپ انہیں اپنے خیالات کے قبضے کے تناسب سے اپنے تجربات میں لائیں گے۔

14. 261 : 4-7

Hold thought steadfastly to the enduring, the good, and the true, and you will bring these into your experience proportionably to their occupancy of your thoughts.

15 . ۔ 248 :26۔ 29

ہمیں خیالات میں کامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔

15. 248 : 26-29

We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives.

16 . ۔ 249 :1۔ 4

آئیے سائنس کو قبول کریں، عقلی گواہی پر مشتمل تمام نظریات کو ترک کریں، ناقص نمونوں اور پْر فریب قیاس آرائیوں سے دست بردار ہوں؛ اور آئیے ہم ایک خدا، ایک عقل، اور اْس واحد کامل کو رکھیں جو فضیلت کے اپنے نمونوں کو پیدا کررہا ہے۔

16. 249 : 1-4

Let us accept Science, relinquish all theories based on sense-testimony, give up imperfect models and illusive ideals; and so let us have one God, one Mind, and that one perfect, producing His own models of excellence.

17 . ۔ 242: 9۔ 14

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔

17. 242 : 9-14

There is but one way to heaven, harmony, and Christ in divine Science shows us this way. It is to know no other reality — to have no other consciousness of life — than good, God and His reflection, and to rise superior to the so-called pain and pleasure of the senses.

18 . ۔ 208 :20۔ 24

آئیے حقیقی اور ابدی سے متعلق سیکھیں اور روح کی سلطنت، آسمان کی بادشاہی، عالمگیر ہم آہنگی کی بادشاہی اور حکمرانی کے لئے تیاری کریں جو کبھی کھو نہیں سکتی اور نہ ہمیشہ کے لئے اندیکھی رہ سکتی ہے۔

18. 208 : 20-24

Let us learn of the real and eternal, and prepare for the reign of Spirit, the kingdom of heaven, — the reign and rule of universal harmony, which cannot be lost nor remain forever unseen.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔