اتوار 30 نو مبر ، 2025



مضمون۔ قدیم و جدید جادوگری، عرفیت، تنویم اور علمِ نومیات سے انکار

SubjectAncient And Modern Necromancy, Alias Mesmerism And Hypnotism, Denounced

سنہری متن: یسعیاہ 8 باب 19 آیت

اور جب وہ تم سے کہیں کہ تم جنات کے یاروں اور افسون گروں کی جو پھْسپھْساتے اور گڑگڑاتے ہیں تلاش کرو تو تم کہو کیا لوگوں کو مناسب نہیں کہ اپنے خدا کے طالب ہوں؟



Golden Text: Isaiah 8 : 19

And when they shall say unto you, Seek unto them that have familiar spirits, and unto wizards that peep, and that mutter: should not a people seek unto their God?





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: 1 یوحنا 2 باب 15 تا 18 آیات • 1 یوحنا 3 باب 7، 8 آیات


15۔ نہ دنیا سے محبت رکھو نہ اْن چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اْس میں باپ کی محبت نہیں۔

16۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔

17۔ دنیا اور اْس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔

18۔ اے لڑکو! یہ آخری وقت ہے اور جیسا تم نے سنا ہے کہ مخالف مسیح آنے والا ہے۔ اْس کے موافق اب بھی بہت سے مخالف مسیح پیدا ہو گئے ہیں۔ اس سے ہم جانتے ہیں کہ یہ آخری وقت ہے۔

7۔ اے بچو! کسی کے فریب میں نہ آنا۔ جو راستبازی کے کام کرتا ہے وہی اْس کی طرح راستباز ہے۔

8۔ جو شخص گناہ کرتا ہے وہ ابلیس سے ہے کیونکہ ابلیس شروع ہی سے گناہ کرتا رہا ہے۔ خدا کا بیٹا اِسی لئے ظاہر ہوا تھا کہ ابلیس کے کاموں کو مٹائے۔

Responsive Reading: I John 2 : 15-18  •  I John 3 : 7, 8

15.     Love not the world, neither the things that are in the world. If any man love the world, the love of the Father is not in him.

16.     For all that is in the world, the lust of the flesh, and the lust of the eyes, and the pride of life, is not of the Father, but is of the world.

17.     And the world passeth away, and the lust thereof: but he that doeth the will of God abideth for ever.

18.     Little children, it is the last time: and as ye have heard that antichrist shall come, even now are there many antichrists; whereby we know that it is the last time.

7.     Little children, let no man deceive you: he that doeth righteousness is righteous, even as he is righteous.

8.     He that committeth sin is of the devil; for the devil sinneth from the beginning. For this purpose the Son of God was manifested, that he might destroy the works of the devil.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ متی 4 باب 23، 24 آیات

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بد روحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

1. Matthew 4 : 23, 24

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

2 . ۔ لوقا 8 باب 26 تا 35 (تا:) آیات

26۔ پھروہ اسینیوں کے علاقہ میں جا پہنچے جو اْس پار گلیل کے سامنے ہے۔

27۔ جب وہ کنارے پر اترا تو اُس شہر کا ایک مرد اُسے ملا جس میں بد روحیں تھیں اور اُس نے بڑی مدت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔

28۔وہ یسوع کو دیکھ کر چلایا اور اُس کے آگے گر کر بلند آواز سے کہنے لگا اے یسوع! خدا تعالیٰ کے بیٹے مجھے تجھ سے کیا کام؟ مَیں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے عذاب میں نہ ڈال۔

29۔ کیونکہ وہ اُس ناپاک روح کو حکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نکل جا۔ اِس لئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہرچند لوگ اُسے زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابو میں رکھتے تھے تو بھی وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بد روح اُس کو بِیابانوں میں بھگائے پھرتی تھی۔

30۔یسوع نے اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بہت سے بد روحیں تھیں۔

31۔اور وہ اُس کی منت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حکم نہ دے۔

32۔وہاں پہاڑ پر سوروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی منت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے۔ اُس نے اُنہیں جانے دیا۔

33۔اور بد روحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سوروں کے اندر گئیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جھیل میں جا پڑا اور ڈوب مرا۔

34۔ یہ ماجرہ دیکھ کر چرانے والے بھاگے اور جاکر شہر اور دیہات میں خبر دی۔

35۔ لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نکلے اور یسوع کے پاس آ کر اُس آدمی کو جس میں سے بد روحیں نکلی تھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یسوع کے پاؤں کے پاس بیٹھے پایا اور ڈر گئے۔

2. Luke 8 : 26-35 (to :)

26     And they arrived at the country of the Gadarenes, which is over against Galilee.

27     And when he went forth to land, there met him out of the city a certain man, which had devils long time, and ware no clothes, neither abode in any house, but in the tombs.

28     When he saw Jesus, he cried out, and fell down before him, and with a loud voice said, What have I to do with thee, Jesus, thou Son of God most high? I beseech thee, torment me not.

29     (For he had commanded the unclean spirit to come out of the man. For oftentimes it had caught him: and he was kept bound with chains and in fetters; and he brake the bands, and was driven of the devil into the wilderness.)

30     And Jesus asked him, saying, What is thy name? And he said, Legion: because many devils were entered into him.

31     And they besought him that he would not command them to go out into the deep.

32     And there was there an herd of many swine feeding on the mountain: and they besought him that he would suffer them to enter into them. And he suffered them.

33     Then went the devils out of the man, and entered into the swine: and the herd ran violently down a steep place into the lake, and were choked.

34     When they that fed them saw what was done, they fled, and went and told it in the city and in the country.

35     Then they went out to see what was done; and came to Jesus, and found the man, out of whom the devils were departed, sitting at the feet of Jesus, clothed, and in his right mind:

3 . ۔ متی 12 باب 22 تا 28 آیات

22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟

24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشای تمہارے پاس آ پہنچی۔

3. Matthew 12 : 22-28

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

4 . ۔ مرقس 16 باب 17، 18 آیات

17۔ اور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے۔ نئی نئی زبانیں بولیں گے۔

18۔ سانپوں کو اٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے تو اْنہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔

4. Mark 16 : 17, 18

17     And these signs shall follow them that believe; In my name shall they cast out devils; they shall speak with new tongues;

18     They shall take up serpents; and if they drink any deadly thing, it shall not hurt them; they shall lay hands on the sick, and they shall recover.

5 . ۔ مکاشفہ 1 باب 1 (تا دوسری،) آیت

1۔ یسوع مسیح کا مکاشفہ جو اْسے خدا کی طرف سے حاصل ہوا۔

5. Revelation 1 : 1 (to 2nd ,)

1     The Revelation of Jesus Christ, which God gave unto him,

6 . ۔ مکاشفہ 12 باب 1 تا 10 (تا:) آیات

1۔ پھر آسمان پر ایک بڑا نشان دکھائی دیا یعنی ایک عورت نظر آئی جو آفتاب کو اوڑھے ہوئی تھی اور چاند اْس کے پاؤں کے نیچے تھا اور بارہ ستاروں کا تاج اْس کے سر پر تھا۔

2۔ وہ حاملہ تھی اور درد ِ زہ میں چِلاتی تھی اور بچہ جننے کی تکلیف میں تھی۔

3۔ پھر ایک اور نشان آسمان پر دکھائی دیا یعنی ایک بڑا لال اژدھا ۔ اْس کے سات سر اور دس سینگ تھے اور اْس کے سروں پر سات تاج تھے۔

4۔ اور اْس کی دْم نے آسمان کے تہائی ستارے کھینچ کر زمین پر ڈال دئیے اور وہ اژدھا اْس عورت کے آگے جا کھڑا ہوا جو جننے کو تھی تا کہ جب وہ جنے تو اْس کے بچے کو نِگل جائے۔

5۔ اور وہ بیٹا جنی یعنی وہ لڑکا جو لوہے کے عصا سے سب قوموں پر حکومت کرے گا اور اْس کا بچہ یکا یک خدا اور اْس کے تخت کے پاس پہنچا دیا گیا۔

6۔ اور وہ عورت اْس بیابان کو بھاگ گئی جہاں خدا کی طرف سے اْس کے لیے ایک جگہ تیار کی گئی تھی تاکہ وہاں ایک ہزار دو سو ساٹھ دن تک اْس کی پرورش کی جائے۔

7۔ پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکائیل اور اْس کے فرشتے اژدھا سے لڑنے کو نکلے اور اژدھا اور اْس کے فرشتے اْ ن سے لڑے۔

8۔ لیکن غالب نہ آئے اور اِس کے بعد آسمان پر اْن کے لئے جگہ نہ رہی۔

9۔ اور وہ بڑا اژدھا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا اور اْس کے فرشتے بھی اْس کے ساتھ گرا دئیے گئے۔

10۔ پھر مَیں نے آسمان پر سے یہ بڑی آواز آتی سنی کہ اب ہمارے خدا کی نجات اور قدرت اور بادشاہی اور اْس کے مسیح کا اختیار ظاہر ہوا؛

6. Revelation 12 : 1-10 (to :)

1     And there appeared a great wonder in heaven; a woman clothed with the sun, and the moon under her feet, and upon her head a crown of twelve stars:

2     And she being with child cried, travailing in birth, and pained to be delivered.

3     And there appeared another wonder in heaven; and behold a great red dragon, having seven heads and ten horns, and seven crowns upon his heads.

4     And his tail drew the third part of the stars of heaven, and did cast them to the earth: and the dragon stood before the woman which was ready to be delivered, for to devour her child as soon as it was born.

5     And she brought forth a man child, who was to rule all nations with a rod of iron: and her child was caught up unto God, and to his throne.

6     And the woman fled into the wilderness, where she hath a place prepared of God, that they should feed her there a thousand two hundred and threescore days.

7     And there was war in heaven: Michael and his angels fought against the dragon; and the dragon fought and his angels,

8     And prevailed not; neither was their place found any more in heaven.

9     And the great dragon was cast out, that old serpent, called the Devil, and Satan, which deceiveth the whole world: he was cast out into the earth, and his angels were cast out with him.

10     And I heard a loud voice saying in heaven, Now is come salvation, and strength, and the kingdom of our God, and the power of his Christ:

7 . ۔ 1 پطرس 5 باب 8 تا 11 آیات

8۔ تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔

9۔ تم ایمان میں مضبوط ہو کر اور یہ جان کر اْس کا مقابلہ کرو کہ تمہارے بھائی جو دنیا میں ہیں ایسے ہی دْکھ اٹھا رہے ہیں۔

10۔ اب خدا جو ہر طرح کے فضل کا چشمہ ہے جس نے تم کو مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لئے بلایا تمہارے تھوڑی مدت تک دْکھ اٹھانے کے بعدآپ ہی تمہیں کامل اور قائم اور مضبوط کرے گا۔

11۔ ابد الاآباد اْسی کی سلطنت رہے۔ آمین۔

7. I Peter 5 : 8-11

8     Be sober, be vigilant; because your adversary the devil, as a roaring lion, walketh about, seeking whom he may devour:

9     Whom resist stedfast in the faith, knowing that the same afflictions are accomplished in your brethren that are in the world.

10     But the God of all grace, who hath called us unto his eternal glory by Christ Jesus, after that ye have suffered a while, make you perfect, stablish, strengthen, settle you.

11     To him be glory and dominion for ever and ever. Amen.



سائنس اور صح


1 . ۔ 469: 13(دی)۔ 24

غلطی کو نیست کرنے والی اعلیٰ سچائی خدا یعنی اچھائی واحد عقل ہے اور یہ کہ لامحدود عقل کی جعلی مخالف، جسے شیطان یا بدی کہا جاتا ہے، عقل نہیں، سچائی نہیں بلکہ غلطی ہے، جو حقیقت اور ذہانت سے عاری ہے۔یہاں صرف ایک عقل ہوسکتی ہے کیونکہ خدا صرف ایک ہے؛ اور اگر بشر نے کسی اور عقل کا دعویٰ نہیں کیا اور کسی اور کو قبول نہیں کیا تو گناہ گمنام ہوگا۔ہمارے ہاں صرف ایک عقل ہو سکتی ہے اگر وہ لامحدود ہے تو۔ جب ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ اگرچہ خدا لامحدود ہے لیکن بدی اِس لامحدودیت میں ایک مقام رکھتی ہے تو ہم لامحدودیت کے فہم کو دفن کر تے ہیں، کیونکہ جہاں سارا خلا خدا کی بدولت بھرپور ہو وہاں بدی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔

1. 469 : 13 (The)-24

The exterminator of error is the great truth that God, good, is the only Mind, and that the supposititious opposite of infinite Mind — called devil or evil — is not Mind, is not Truth, but error, without intelligence or reality. There can be but one Mind, because there is but one God; and if mortals claimed no other Mind and accepted no other, sin would be unknown. We can have but one Mind, if that one is infinite. We bury the sense of infinitude, when we admit that, although God is infinite, evil has a place in this infinity, for evil can have no place, where all space is filled with God.

2 . ۔ 474: 29۔ 32

رسول کہتا ہے کہ مسیح کا مشن ”شیطان کے کاموں کو مٹانا“ ہے۔ سچ جھوٹ اور غلطی کو ختم کر دیتا ہے، کیونکہ نوراور اندھیرا ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔

2. 474 : 29-32

The apostle says that the mission of Christ is to "destroy the works of the devil." Truth destroys falsity and error, for light and darkness cannot dwell together.

3 . ۔ 351: 16۔ 26

ہم مسیحیت کے عملی ثبوت کو سامنے نہیں لا سکتے، جو یسوع کا مطالبہ تھا، جبکہ غلطی ہمارے لیے سچ کی مانند مضبوط اور حقیقی معلوم ہوتی ہے، اور ہم ایک ذاتی شیطان اور بشری خدا کو اپنا نقطہ آغاز بناتے ہیں، خاص طور پر جب ہم شیطان کو خدا کے ساتھ طاقت میں، اگر اْس سے برتر نہیں تو ہم آہنگ ضرور سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کے ابتدائی نکات نہ تو روحانی ہیں اور نہ ہی سائنسی، وہ مسیحی شفا کے روحانی اصول کا تعین نہیں کر سکتے، جو ہم آہنگ سچائی کی ہمہ گیریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غلطی، اختلاف کے عدم کو ثابت کرتا ہے۔

3. 351 : 16-26

We cannot bring out the practical proof of Christianity, which Jesus required, while error seems as potent and real to us as Truth, and while we make a personal devil and an anthropomorphic God our starting-points, — especially if we consider Satan as a being coequal in power with Deity, if not superior to Him. Because such starting-points are neither spiritual nor scientific, they cannot work out the Spirit-rule of Christian healing, which proves the nothingness of error, discord, by demonstrating the all-inclusiveness of harmonious Truth.

4 . ۔ 330: 25(دی)۔ 32

یہ خیال کہ اچھائی اور بدی دونوں حقیقی ہیں مادی سوچ کی ایک فریب نظری ہے، جسے سائنس نیست کرتی ہے۔ بدی کچھ نہیں ہے، کوئی چیز، عقل، کوئی طاقت نہیں۔ جیسے انسان کی طرف سے ظاہر کی گئی ہے کچھ بھی ہونے کا دعویٰ نہ کرتے ہوئے، ایک جھوٹ، شہوت، بے ایمانی، خوش غرضی، حسد، دوغلے پن، نفرت، چوری، بدمعاشی، زنا، قتل، عتاہٹ، جنون، حماقت، شیطان، جہنم، اور سبھی وغیرہ وغیرہ اس لفظ میں جو شامل ہوتے ہیں۔

4. 330 : 25 (The)-32

The notion that both evil and good are real is a delusion of material sense, which Science annihilates. Evil is nothing, no thing, mind, nor power. As manifested by mankind it stands for a lie, nothing claiming to be something, — for lust, dishonesty, selfishness, envy, hypocrisy, slander, hate, theft, adultery, murder, dementia, insanity, inanity, devil, hell, with all the etceteras that word includes.

5 . ۔ 103: 18۔ 28

جیسے کہ کرسچن سائنس میں نام دیا گیا ہے، حیوانی مقناطیسیت یا علم نومیات غلطی یا فانی عقل کے لئے خاص اصطلاح ہے۔ یہ ایک جھوٹا عقیدہ ہے کہ عقل مادے میں ہے اور کہ یہ اچھائی اور برائی دونوں ہے؛ کہ بدی اچھائی جتنی حقیقی اور زیادہ طاقتور ہے۔ اس عقیدے میں سچائی کی ایک بھی خصوصیت نہیں ہے۔ یہ یا توبے خبر ہے یا حاسدہے۔ نومیات کی حاسد شکل اخلاقی گراوٹ میں بنیاد رکھتی ہے۔ لافانی عقل کی سچائیاں انسان کو قائم رکھتی ہیں، اور یہ فانی عقل کی داستانیں تباہ کرتی ہیں، جس کے چمکیلے بھڑکیلے دعوے، ایک نادان پروانے کی مانند، اپنے ہی پر جلا کر راکھ ہو جاتے ہیں۔

5. 103 : 18-28

As named in Christian Science, animal magnetism or hypnotism is the specific term for error, or mortal mind. It is the false belief that mind is in matter, and is both evil and good; that evil is as real as good and more powerful. This belief has not one quality of Truth. It is either ignorant or malicious. The malicious form of hypnotism ultimates in moral idiocy. The truths of immortal Mind sustain man, and they annihilate the fables of mortal mind, whose flimsy and gaudy pretensions, like silly moths, singe their own wings and fall into dust.

6 . ۔ 6: 6۔ 29

کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ ایک عدالت کا حاکم جو یسوع کے زمانے میں رہتا تھا اْس نے یہ بیان دیا تھا:”اْس کی ملامت خوفناک ہے۔“ ہمارے مالک کی سخت زبان اس بیان کی تصدیق کرتی ہے۔

غلطی کے لئے جو واحد سزائے موت اْس نے دی وہ تھی، ”اے شیطان، میرے سامنے سے دور ہو۔“اس بات کی مزید تصدیق کہ یسوع کی سرزنش بہت نوکیلی اور چْبھنے والی تھی اْس کے اپنے الفاظ میں پائی جاتی ہے، اس قدر شدید بیان کو ضروری ثابت کرتے ہوئے، جب اْس نے بدروحوں کو نکالا اور بیمار اور گناہگار کو شفا دی۔

6. 6 : 29-6

It is believed by many that a certain magistrate, who lived in the time of Jesus, left this record: "His rebuke is fearful." The strong language of our Master confirms this description.

The only civil sentence which he had for error was, "Get thee behind me, Satan." Still stronger evidence that Jesus' reproof was pointed and pungent is found in his own words, — showing the necessity for such forcible utterance, when he cast out devils and healed the sick and sinning.

7 . ۔ 411: 13۔ 19

یہ بات اندراج میں ہے کہ ایک بار یسوع نے ایک بیماری کا نام پوچھا، ایسی بیماری جسے آج کے جدید دور میں ڈیمنشیا کہا جاتا ہے۔ شیطان یا بد روح نے جواب دیا کہ اْس کا نام لشکر تھا۔ وہیں یسوع نے اْس بدروح کو باہر نکالا، اور پاگل شخص تبدیل ہو گیا اور وہ تندرست ہوگیا۔ کلام یہ ظاہر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ یسوع شیطان کو خود ظاہر ہونے اور پھر نیست ہونے کا موجب بنا۔

7. 411 : 13-19

It is recorded that once Jesus asked the name of a disease, — a disease which moderns would call dementia. The demon, or evil, replied that his name was Legion. Thereupon Jesus cast out the evil, and the insane man was changed and straightway became whole. The Scripture seems to import that Jesus caused the evil to be self-seen and so destroyed.

8 . ۔ 414: 4۔ 14

پاگل پن کا علاج خاص طور پر بہت دلچسپ ہے۔ تاہم معاملے میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے،یہ دوسری بیماریوں کی نسبت زیادہ آسانی سے سچائی کے صحت بخش کام کے لئے راضی ہوجاتا ہے، جو غلطی کی جوابی کاروائی ہوتا ہے۔پاگل پن کا علاج کرنے کے لئے جن دلائل کو استعمال کیا جاتا ہے یہ وہی ہیں جو دوسری بیماریوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، یعنی، وہ انہونی جسے مادا، ذہن، قابو کر سکتا ہے یا جو عقل کو بے ترتیب کر سکتا ہے،یہ دْکھ اٹھا سکتا یا دْکھوں کا موجب بن سکتا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت کہ سچائی اورمحبت ایک صحت مند حالت قائم کرتی ہے، فانی عقل یا مریض کے خیالات کی راہنمائی کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے، اور سب غلطیوں کو نیست کرتی ہے، خواہ اسے ڈیمنشیا، نفرت یا کوئی بھی دوسرا مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔

8. 414 : 4-14

The treatment of insanity is especially interesting. However obstinate the case, it yields more readily than do most diseases to the salutary action of truth, which counteracts error. The arguments to be used in curing insanity are the same as in other diseases: namely, the impossibility that matter, brain, can control or derange mind, can suffer or cause suffering; also the fact that truth and love will establish a healthy state, guide and govern mortal mind or the thought of the patient, and destroy all error, whether it is called dementia, hatred, or any other discord.

9 . ۔ 567: 14(مکاشفہ)۔ 26

مکاشفہ 12 باب 9 آیت: اور وہ بڑا اژدھا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا اور اْس کے فرشتے بھی اْس کے ساتھ گرا دئیے گئے۔

یہ جھوٹا دعویٰ، یہ قدیم عقیدہ کہ پرانا سانپ جس کا نام شیطان(بد) ہے، جو مادے کی ذہانت کا دعویٰ کرتا ہے خواہ وہ انسان کے لئے مفید ہو یا نقصان دہ، وہ بڑا واضح بھرم، لال اژدھا ہے اور اسے مسیح، سچائی، روحانی خیال نے باہر نکال پھینکا ہے، اور اس لئے یہ بے اختیار ثابت ہوا ہے۔ ”زمین پر گرا دئیے گئے“ کے الفاظ سانپ کی بے وقعتی کو، خاک میں خاک ہونے کو ظاہر کرتے ہیں، اور اِس لئے بات کرنے والے اْس کے دکھاوے میں وہ شروع سے ہی ایک جھوٹا قرار دیا جانا چاہئے۔

9. 567 : 14 (Revelation)-26

Revelation xii. 9. And the great dragon was cast out, that old serpent, called the devil, and Satan, which deceiveth the whole world: he was cast out into the earth, and his angels were cast out with him.

That false claim — that ancient belief, that old serpent whose name is devil (evil), claiming that there is intelligence in matter either to benefit or to injure men — is pure delusion, the red dragon; and it is cast out by Christ, Truth, the spiritual idea, and so proved to be powerless. The words "cast unto the earth" show the dragon to be nothingness, dust to dust; and therefore, in his pretence of being a talker, he must be a lie from the beginning.

10 . ۔ 564: 3۔ 9

ماضی کی طرح، بدی اب بھی روحانی خیال کو غلطی کی اپنی فطرت اور طریقوں کے ساتھ حاکمیت دیتی ہے۔یہ بد نیتی پر مبنی حیوانی جبلت جو اژدھا کی ایک قسم ہے، انسان کو اپنے ہی ساتھی انسانوں کا اخلاقی اور جسمانی طور پر قتل کرنے یا اِس سے بھی بدتر معصوم لوگوں کو جرم کرنے پر اکساتی ہے۔ گناہ کی یہ کمزوری اپنے مجرم کوستاروں کے بغیر ایک رات میں ڈوبا دے گی۔

10. 564 : 3-9

As of old, evil still charges the spiritual idea with error's own nature and methods. This malicious animal instinct, of which the dragon is the type, incites mortals to kill morally and physically even their fellow-mortals, and worse still, to charge the innocent with the crime. This last infirmity of sin will sink its perpetrator into a night without a star.

11 . ۔ 563: 15۔ 22

مکاشفہ دینے والا ساری بدی کے مجسم پرسے پردہ اْٹھاتا ہے، اور اْس کے دہشت ناک کردار کو دیکھتا ہے؛ لیکن وہ بدی کے عدم اور خدا کی کْلیت کو بھی دیکھتا ہے۔ مکاشفہ دینے والا اْس بوڑھے سانپ کو دیکھتا ہے، جس کا نام شیطان یا برائی ہے، جو ہاتھ میں نہ رْکنے والی گھڑی رکھتا ہے، تاکہ وہ سچ کی ایڑھی کو کاٹ لے اور روحانی خیال کی ظاہری اولادکی راہ میں رکاوٹ ڈالے، جو صحت، تقدیس اور لافانیت میں انمول ہے۔

11. 563 : 15-22

The Revelator lifts the veil from this embodiment of all evil, and beholds its awful character; but he also sees the nothingness of evil and the allness of God. The Revelator sees that old serpent, whose name is devil or evil, holding untiring watch, that he may bite the heel of truth and seemingly impede the offspring of the spiritual idea, which is prolific in health, holiness, and immortality.

12 . ۔ 568: 5۔ 24

صرف ایک واحد گناہ پر فتح یابی کے لئے ہم لشکروں کے خداوند کا شکر کرتے اور اْس کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ تمام تر گناہوں پر ایک عظیم فتح کو ہم کیا کہیں گے؟ آسمان پر اِس سے پہلے کبھی اتنا میٹھا، ایک بلند گیت نہیں پہنچا، جو اب مسیح کے عظیم دل کے قریب تر اور واضح تر ہوکر پہنچتا ہے؛ کیونکہ الزام لگانے والا وہاں نہیں ہے، اور محبت اپنا بنیادی اور ابدی تناؤ باہر نکالتی ہے۔ خود کی منسوخی، جس کے وسیلہ ہم غلطی کے ساتھ اپنی جنگ میں اپنا سب کچھ سچائی یا مسیح کے حوالے کر دیتے ہیں، کرسچن سائنس کا دستورہے۔ یہ دستور وضاحت کرتا ہے خدا کی بطور الٰہی اصول یعنی زندگی باپ کی پیش کردہ، بطور سچائی، بیٹے کی پیش کردہ،اور بطور محبت ماں کی پیش کردہ۔ ہر بشر کو کسی نہ کسی وقت، یہاں یا آخرت میں، خدا کے مخالف طاقت پر فانی عقیدے کے ساتھ نمٹنا اور اْسے فتح کرنا چاہئے۔

12. 568 : 24-5

For victory over a single sin, we give thanks and magnify the Lord of Hosts. What shall we say of the mighty conquest over all sin? A louder song, sweeter than has ever before reached high heaven, now rises clearer and nearer to the great heart of Christ; for the accuser is not there, and Love sends forth her primal and everlasting strain. Self-abnegation, by which we lay down all for Truth, or Christ, in our warfare against error, is a rule in Christian Science. This rule clearly interprets God as divine Principle, — as Life, represented by the Father; as Truth, represented by the Son; as Love, represented by the Mother. Every mortal at some period, here or hereafter, must grapple with and overcome the mortal belief in a power opposed to God.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔