اتوار 31 مئی ، 2026



مضمون۔ قدیم و جدید جادوگری، عْرفیت، تنویم اور علمِ نومیات سے انکار

SubjectAncient And Modern Necromancy, Alias Mesmerism And Hypnotism, Denounced

سنہری متن: زبور 119 باب 30 آیت

میں نے وفاداری کی راہ اختیار کی ہے۔ میں نے تیرے احکام اپنے سامنے رکھے ہیں۔



Golden Text: Psalm 119 : 30

I have chosen the way of truth: thy judgments have I laid before me.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: طِطس 2 باب 1آیت• طِطس 1 باب 10 آیت • طِطس 2 باب 11 تا 14 آیات


1۔لیکن تو وہ باتیں بیان کر جو صیح تعلیم کے مناسب ہیں۔

10۔کیونکہ بہت سے لوگ سرکش اور بیہودہ گو ہیں۔

11۔ کیونکہ خدا کا وہ فضل ظاہر ہو اہے جو سب آدمیوں کی نجات کا باعث ہے۔

12۔ اور ہمیں تربیت دیتا ہے کہ بے دینی اور دنیوی خواہشوں کا انکار کر کے اس موجودہ جہان میں پرہیز گاری اور راستبازی اور دینداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔

13۔ اور اْس مبارک امید یعنی اپنے بزرگ خدا اور منجی یسوع مسیح کے جلال کے ظاہر ہونے کے منتظر رہیں۔

14۔ جس نے اپنے آپ کو ہمارے واسطے دے دیا تاکہ فدیہ ہو کر ہمیں ہر طرح کی بے دینی سے چھڑا لے اور پاک کر کے اپنی خاص ملکیت کے لئے ایک ایسی امت بنائے جو نیک کاموں میں سر گرم ہو۔

Responsive Reading: Titus 2 : 1  •  Titus 1 : 10  •  Titus 2 : 11-14

1.     Speak thou the things which become sound doctrine:

10.     For there are many unruly and vain talkers and deceivers,

11.     For the grace of God that bringeth salvation hath appeared to all men,

12.     Teaching us that, denying ungodliness and worldly lusts, we should live soberly, righteously, and godly, in this present world;

13.     Looking for that blessed hope, and the glorious appearing of the great God and our Saviour Jesus Christ;

14.     Who gave himself for us, that he might redeem us from all iniquity, and purify unto himself a peculiar people, zealous of good works.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زکریاہ 8 باب 3، 16، 17 آیات

3۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ مَیں صیون میں واپس آیا ہوں اور یروشلیم میں سکونت کروں گا اور یروشلیم کا نام شہرِ صدق ہوگا اور رب الا فواج کا پہاڑ کوہ مقدس کہلائے گا۔

16۔ تم اِن باتوں پر عمل کرو۔ تم سب اپنے پڑوسیوں سے سچ بولو اور اپنے پھاٹکوں میں راستی سے عدالت کرو۔

17۔ اور تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے خلاف دل میں برا منصوبہ نہ باندھے اور جھوٹی قسم کو عزیز نہ رکھے کیونکہ مَیں اِن سب باتوں سے نفرت رکھتا ہوں خداوند فرماتا ہے۔

1. Zechariah 8 : 3, 16, 17

3     Thus saith the Lord; I am returned unto Zion, and will dwell in the midst of Jerusalem: and Jerusalem shall be called a city of truth; and the mountain of the Lord of hosts the holy mountain.

16     These are the things that ye shall do; Speak ye every man the truth to his neighbour; execute the judgment of truth and peace in your gates:

17     And let none of you imagine evil in your hearts against his neighbour; and love no false oath: for all these are things that I hate, saith the Lord.

2 . ۔ پیدائش 12 باب 10 تا 16 (تا:)، 17 تا 20 آیات

10۔ اور اْس ملک میں کال پڑا اور ابرام مصر کوگیا کہ وہاں ٹِکا رہے کیونکہ ملک میں سخت کال تھا۔

11۔اور ایسا ہوا کہ جب وہ مصر میں داخل ہونے کا تھا تو اْس نے اپنی بیوی سارہ سے کہا کہ دیکھ میں جانتا ہوں کہ تو دیکھنے میں خوبصورت عورت ہے۔

12۔اور یوں ہو گا کہ مصری تجھے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ اْس کی بیوی ہے۔ سو وہ مجھے تو مار ڈالیں گے۔ مگر تجھے زندہ رکھ لیں گے۔

13۔ سو تو یہ کہہ دینا کہ میں اِس کی بہن ہوں تاکہ تیرے سبب سے میری خیر ہو اور میری جان تیری بدولت بچی رہے۔

14۔ اور یوں ہوا کہ جب ابرام مصر میں آیا تو مصریوں نے اْس عورت کو دیکھا کہ وہ نہایت خوبصورت ہے۔

15۔ اور فرعون کے اْمرا نے اْسے دیکھ کر فرعون کے حضور میں اْس کی تعریف کی اور وہ عورت فرعون کے گھر میں پہنچائی گئی۔

16۔ اور اْس نے اْس کی خاطر ابرام پر احسان کیا اور بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور گدھے اور غلام اور لونڈیاں اور گدھیاں اور اونٹ اْس کے پاس ہو گئے۔

17۔ پر خداوند نے فرعون اور اْس کے خاندان پر ابرام کی بیوی سارہ کے سبب سے بڑی بلائیں نازل کیں۔

18۔ تب فرعون نے ابرام کو بلا کر اْس سے کہا کہ تو نے مجھ سے یہ کیا کِیا؟ تو نے مجھے کیوں نہ بتا یا کہ یہ تیری بیوی ہے؟

19۔ یہ کیوں کہا کہ وہ میری بہن ہے؟ اِسی لئے میں نے اْسے لیا کہ وہ میری بیوی بنے۔ سو دیکھ تیری بیوی حاضر ہے۔ اْس کو لے اور چلا جا۔

20۔ اور فرعون نے اْس کے حق میں اپنے آدمیوں کو ہدایت کی اور انہوں نے اْسے اور اْس کی بیوی کو اْس کے سب مال کے ساتھ روانہ کر دیا۔

2. Genesis 12 : 10-16 (to :), 17-20

10     And there was a famine in the land: and Abram went down into Egypt to sojourn there; for the famine was grievous in the land.

11     And it came to pass, when he was come near to enter into Egypt, that he said unto Sarai his wife, Behold now, I know that thou art a fair woman to look upon:

12     Therefore it shall come to pass, when the Egyptians shall see thee, that they shall say, This is his wife: and they will kill me, but they will save thee alive.

13     Say, I pray thee, thou art my sister: that it may be well with me for thy sake; and my soul shall live because of thee.

14     And it came to pass, that, when Abram was come into Egypt, the Egyptians beheld the woman that she was very fair.

15     The princes also of Pharaoh saw her, and commended her before Pharaoh: and the woman was taken into Pharaoh’s house.

16     And he entreated Abram well for her sake:

17     And the Lord plagued Pharaoh and his house with great plagues because of Sarai Abram’s wife.

18     And Pharaoh called Abram, and said, What is this that thou hast done unto me? why didst thou not tell me that she was thy wife?

19     Why saidst thou, She is my sister? so I might have taken her to me to wife: now therefore behold thy wife, take her, and go thy way.

20     And Pharaoh commanded his men concerning him: and they sent him away, and his wife, and all that he had.

3 . ۔ امثال 12 باب 22 آیت

22۔ جھوٹے لبوں سے خداوند کو نفرت ہے لیکن راستکار اس کی خوشنودی ہے۔

3. Proverbs 12 : 22

22     Lying lips are abomination to the Lord: but they that deal truly are his delight.

4 . ۔ پیدائش 15 باب 1، 6 آیات

1۔ ان باتوں کے بعد خداوند کا کلام رویا میں ابرام پر نازل ہوا اور اْس نے فرمایا اے ابرام تو مت ڈر۔ میں تیری سپر اور تیرا بہت بڑا اجر ہوں۔

6۔ اور وہ خداوند پر ایمان لایا اور اْسے اْس کے حق میں راستبازی شمار کیا۔

4. Genesis 15 : 1, 6

1     After these things the word of the Lord came unto Abram in a vision, saying, Fear not, Abram: I am thy shield, and thy exceeding great reward.

6     And he believed in the Lord; and he counted it to him for righteousness.

5 . ۔ پیدائش 17 باب 1، 5 (تا؛)، 9 (تا دوسری،)

1۔ جب ابرام ننانوے برس کا ہوا تب خداوند ابرام کو نظر آیا اور اْس سے کہا مَیں خدائے قادر ہوں۔تْو میرے حضور میں چل اور کامل ہو۔

5۔ اور تیرا نام پھر ابرام نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابراہام ہوگا کیونکہ میں نے تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرا دیا ہے۔

9۔ پھر خدا نے ابرام سے کہا کہ تْومیرے عہد کو ماننا اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت اْسے مانے۔

5. Genesis 17 : 1, 5 (to ;), 9 (to 2nd ,)

1     And when Abram was ninety years old and nine, the Lord appeared to Abram, and said unto him, I am the Almighty God; walk before me, and be thou perfect.

5     Neither shall thy name any more be called Abram, but thy name shall be Abraham;

9     And God said unto Abraham, Thou shalt keep my covenant therefore,

6 . ۔ رومیوں 4 باب 1، 3، 7 (مبارک)، 8 آیات

1۔پس ہم کیا کہیں کہ ہمارے جسمانی باپ ابرہام کو کیا حاصل ہوا؟

3۔کتابِ مقدس کیا کہتی ہے؟ یہ کہ ابرہام خدا پر ایمان لایا اور یہ اْس کے لئے راستبازی گِنا گیا۔

7۔کہ مبارک وہ ہیں جن کی بدکاریاں معاف ہوئیں اور جن کے گناہ ڈھانکے گئے۔

8۔ مبارک وہ شخص ہے جس کے گناہ خداوند محسوب نہ کرے گا۔

6. Romans 4 : 1, 3, 7 (Blessed), 8

1     What shall we say then that Abraham our father, as pertaining to the flesh, hath found?

3     For what saith the scripture? Abraham believed God, and it was counted unto him for righteousness.

7     Blessed are they whose iniquities are forgiven, and whose sins are covered.

8     Blessed is the man to whom the Lord will not impute sin.

7 . ۔ رومیوں 12 باب1 تا 3 آیات

1۔ پس اے بھائیو۔ مَیں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو۔

3۔ میں اْس توفیق کی وجہ سے جو مجھ کو ملی ہے تم میں سے ہر ایک سے کہتا ہوں کہ جیسا سمجھنا چاہیے اْس سے زیادہ کوئی اپنے آپ کو نہ سمجھے بلکہ جیسا خدا نے ہر ایک کو اندازہ کے موافق ایمان تقسیم کیا ہے اعتدال کے ساتھ اپنے کو ویسا ہی سمجھے۔

7. Romans 12 : 1-3

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

3     For I say, through the grace given unto me, to every man that is among you, not to think of himself more highly than he ought to think; but to think soberly, according as God hath dealt to every man the measure of faith.

8 . ۔ 2 کرنتھیوں 10 باب 3 تا 5 آیات

3۔ کیونکہ ہم اگرچہ جسم میں زندگی گُذارتے ہیں مگر جسم کے طور پر لڑتے نہیں۔

4۔ اس لئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جِسمانی نہیں بلکہ خدا کے نزدیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔

5۔ چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اونچی چیز کو جو خدا کی پہچان کے بر خلاف سر اٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسِیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔

8. II Corinthians 10 : 3-5

3     For though we walk in the flesh, we do not war after the flesh:

4     (For the weapons of our warfare are not carnal, but mighty through God to the pulling down of strong holds;)

5     Casting down imaginations, and every high thing that exalteth itself against the knowledge of God, and bringing into captivity every thought to the obedience of Christ;

9 . ۔ مکاشفہ 14 باب 1، 3 (تا پہلی،)، 4 (یہ وہ ہیں جو پیروی کرتے ہیں)،5 آیات

1۔ پھر میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ برّہ صیون کے پہاڑ پر کھڑا ہے اور اْس کے ساتھ ایک لاکھ چوالیس ہزار شخص ہیں جن کے ماتھے پر اْس کا اور اْس کے باپ کا نام لِکھا ہوا ہے۔

3۔اور وہ تخت کے سامنے ایک نیا گیت گا رہے تھے۔

4۔یہ وہ ہیں جو عورتوں کے ساتھ آلودہ نہیں ہوئے بلکہ کنوارے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو برّہ کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔جہاں کہیں وہ جاتا ہے، یہ خدا اور برّہ کے لئے پہلے پھل ہونے کے واسطے آدمیوں میں سے خرید لئے گئے ہیں۔

5۔ اور اْن کے منہ سے کبھی جھوٹ نہ نکلا تھا۔ وہ بے عیب ہیں۔

9. Revelation 14 : 1, 3 (to 1st ,), 4 (These are they which follow), 5

1     And I looked, and, lo, a Lamb stood on the mount Sion, and with him an hundred forty and four thousand, having his Father’s name written in their foreheads.

3     And they sung as it were a new song before the throne,

4     These are they which follow the Lamb whithersoever he goeth. These were redeemed from among men, being the firstfruits unto God and to the Lamb.

5     And in their mouth was found no guile: for they are without fault before the throne of God.

10 . ۔ مکاشفہ 15 باب 2، 3 آیات

2۔پھر میں نے شیشہ کا سا ایک سمندر دیکھا جس میں آگ ملی ہوئی تھی اور جو اْس حیوان اور اْس کے بت اور اْس کے نام کے عدد پرغالب آئے تھے اْن کو اْس شیشہ کے سمندر کے پاس خدا کی بربطیں لئے کھڑے ہوئے دیکھا۔

3۔اور وہ خدا کے بندہ موسیٰ کا گیت اور برّہ کا گیت گا گا کر کہتے تھے اے خداوند خدا۔ قادرِ مْطلق! تیرے کام بڑے اور عجیب ہیں۔ اے ازلی بادشاہ! تیری راہیں راست اوردرْست ہیں۔

10. Revelation 15 : 2, 3

2     And I saw as it were a sea of glass mingled with fire: and them that had gotten the victory over the beast, and over his image, and over his mark, and over the number of his name, stand on the sea of glass, having the harps of God.

3     And they sing the song of Moses the servant of God, and the song of the Lamb, saying, Great and marvellous are thy works, Lord God Almighty; just and true are thy ways, thou King of saints.



سائنس اور صح


1 . ۔ 453 :16 (ایمانداری)۔20

ایمانداری روحانی طاقت ہے۔بے ایمانی انسانی کمزوری ہے، جو الٰہی مدد کو ضائع کرتی ہے۔ آپ گناہ کو سامنے لاتے ہیں زخمی کرنے کے لئے نہیں بلکہ جسمانی انسان کو برکت دینے کے لئے؛ اور ایک درست مقصد اپنا اجر پا تا ہے۔

1. 453 : 16 (Honesty)-20

Honesty is spiritual power. Dishonesty is human weakness, which forfeits divine help. You uncover sin, not in order to injure, but in order to bless the corporeal man; and a right motive has its reward.

2 . ۔ 448: 10۔30

سچائی کی حیلے بازی سالمیت کو اپاہج کرتی ہے، اور آپ کو چوٹی سے نیچے گرا دیتی ہے۔

کرسچن سائنس جسمانی احساسات کے ثبوت سے بلند اٹھتی ہے؛ لیکن اگر آپ نے خود کو گناہ سے اوپر نہیں اٹھایا، تو اپنے بدی کے اندھے پن پر یا کسی ایسی اچھائی پر جسے آپ جانتے ہیں اور عمل نہیں کرتے خود کو مبارکباد مت دیں۔ ایک بے ایمان حالت مسیحی سائنسی حالت سے کوسوں دور ہے۔”جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو اْن کا اقرار کر کے اْن کو ترک کرتا ہے اْس پر رحمت ہو گی۔“ یہ جانتے ہوئے کہ سچائی اور محبت کے عظیم نتائج کو حاصل کرنا غلطی، برائی اور نفرت کے لئے ناممکن ہے، ہر طالب علم کے ذہن پر الٰہی سائنس کا مضبوط اثر، شفا یابی کے لئے درکار اخلاقی اور روحانی قابلیت کا ایک اعلیٰ احساس، چھوڑنے کی کوشش کریں۔ مکمل کرسچن سائنس کے مخالف ہدایات کا استقبال یا تعاقب ہمیشہ سائنسی مظاہرے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

اگر طالب علم کرسچن سائنس کی تعلیمات پر سختی سے عمل کرتا ہے اور اْس کے اصولوں کو توڑنا نہیں چاہتا ہے تو وہ شفا یابی میں کامیابی سے محروم نہیں ہو سکتا۔ صحیح کرنا کرسچن سائنس ہے، اور نیکی کرنے سے کم کسی چیز کے نام پر کوئی دعویٰ نہیں ہے۔

2. 448 : 10-30

Evasion of Truth cripples integrity, and casts thee down from the pinnacle.

Christian Science rises above the evidence of the corporeal senses; but if you have not risen above sin yourself, do not congratulate yourself upon your blindness to evil or upon the good you know and do not. A dishonest position is far from Christianly scientific. "He that covereth his sins shall not prosper: but whoso confesseth and forsaketh them shall have mercy." Try to leave on every student's mind the strong impress of divine Science, a high sense of the moral and spiritual qualifications requisite for healing, well knowing it to be impossible for error, evil, and hate to accomplish the grand results of Truth and Love. The reception or pursuit of instructions opposite to absolute Christian Science must always hinder scientific demonstration.

If the student adheres strictly to the teachings of Christian Science and ventures not to break its rules, he cannot fail of success in healing. It is Christian Science to do right, and nothing short of rightdoing has any claim to the name.

3 . ۔ 127: 23۔29

چونکہ تمام تر سچائی الٰہی عقل سے جاری ہوتی ہے اس لئے اس میں جسمانی سائنس نہیں ہے۔ اس لئے سچائی انسان نہیں ہے، اور یہ مادے کا قانون نہیں ہے کیونکہ مادہ قانون دینے والا نہیں ہے۔ سائنس الٰہی عقل کا ظہور ہے اور صرف یہی خدا کی صحیح تشریح کرنے کے قابل ہے۔ اس کا اصل روحانی ہے نہ کہ مادی۔ یہ الٰہی اظہارِ خیال ہے، یعنی تسلی دینے والا جو سچائی کی جانب گامزن کرتا ہے۔

3. 127 : 23-29

There is no physical science, inasmuch as all truth proceeds from the divine Mind. Therefore truth is not human, and is not a law of matter, for matter is not a lawgiver. Science is an emanation of divine Mind, and is alone able to interpret God aright. It has a spiritual, and not a material origin. It is a divine utterance, — the Comforter which leadeth into all truth.

4 . ۔ 446: 18 (میں)۔23

عقل کی شفائیہ سائنس میں ایماندار ہونا بہت ضروری ہے، کیونکہ فتح ناقابلِ تغیر سچ پر بنیاد رکھتی ہے۔خدا کو سمجھنا اْمید کو مظبوط کرتا ہے، اور یسوع کے کلام کی تصدیق کرتا ہے: ”دیکھو میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“

4. 446 : 18 (In)–23

In the Science of Mind-healing, it is imperative to be honest, for victory rests on the side of immutable right. To understand God strengthens hope, enthrones faith in Truth, and verifies Jesus' word: "Lo, I am with you alway, even unto the end of the world."

5 . ۔ 570: 7۔26

جب خدا بیمار یا گناہ کرنے والے کو شفا دیتا ہے انہیں اْس بڑے فائدے سے واقف ہونا چاہئے جو عقل اْن کے لئے لائی ہے۔ انہیں فانی عقل کے اْس بڑے بھرم سے بھی واقف ہونا چاہئے جو انہیں بیمار یا گناہگار بناتی ہے۔ بہت سے لوگ الٰہی عقل میں بسنے والی اچھی طاقت کے لئے دوسروں کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں، مگر وہ انسانی سوچ میں چھپی بدی کی طرف اشارہ کرنے اور بدی کی تکمیل کرنے والے پوشیدہ ذہنی طریقوں کو ایاں کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ایسی پسماندگی کیوں، جبکہ بدی سے اجتناب کو یقینی بنانے کے لئے انکشاف ضروری ہے؟ کیونکہ لوگ آپ کو اْس وقت زیادہ پسند کرتے ہیں جب آپ انہیں اْن کی خوبیاں بتائیں بہ نسبت اِس کے جب آپ انہیں اْن کی برائیاں بتائیں۔

5. 570 : 26-7

When God heals the sick or the sinning, they should know the great benefit which Mind has wrought. They should also know the great delusion of mortal mind, when it makes them sick or sinful. Many are willing to open the eyes of the people to the power of good resident in divine Mind, but they are not so willing to point out the evil in human thought, and expose evil's hidden mental ways of accomplishing iniquity.

Why this backwardness, since exposure is necessary to ensure the avoidance of the evil? Because people like you better when you tell them their virtues than when you tell them their vices.

6 . ۔ 184 :6۔18

ایمان ایمان کے نتائج ہی پیدا کرتا ہے اور جو سزائیں اِس سے منسلک ہوتی ہیں وہ بطور ایمان ہی دیر پا ہوتی ہیں اور اِس سے غیر منفِک ہوتی ہیں۔مسئلے کی تہہ تک تحقیق کرنے، اْس غلطی کے عقیدے کا انکار کرتے ہوئے جو فانی اختلاف پیدا کرتا ہے اِسے تلاش کرنے اور باہر نکالنے میں جو علاج پایا جاتا ہے وہ کبھی غلط عقیدے کو قانون کے عنوان کے ساتھ عزت نہیں دے گا اور نہ ہی اِسے تابعداری میں تسلیم کرے گا۔انسان کے لئے سچائی، زندگی اور محبت ہی واحد جائز اور ابدی شرائط ہیں اور یہ الٰہی قوانین کی فرمانبرداری پر عملدرآمد کرواتے ہوئے، روحانی شریعت دینے والے ہیں۔

الٰہی ذہانت کے قابو میں رہتے ہوئے، انسان ہم آہنگ اور ابدی ہے۔جو کچھ جھوٹے عقیدے کی حکمرانی میں ہے وہ مخالف اور فانی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان سردی، گرمی، تھکاوٹ سے تکلیف اٹھاتا ہے۔ یہ انسانی عقیدہ ہے، نہ کہ ہستی کی سچائی، کیونکہ مادہ تکلیف نہیں اٹھا سکتا۔ فانی عقل اکیلی دْکھ اٹھاتی ہے۔

6. 184 : 6-18

Belief produces the results of belief, and the penalties it affixes last so long as the belief and are inseparable from it. The remedy consists in probing the trouble to the bottom, in finding and casting out by denial the error of belief which produces a mortal disorder, never honoring erroneous belief with the title of law nor yielding obedience to it. Truth, Life, and Love are the only legitimate and eternal demands on man, and they are spiritual lawgivers, enforcing obedience through divine statutes.

Controlled by the divine intelligence, man is harmonious and eternal. Whatever is governed by a false belief is discordant and mortal.

7 . ۔ 447: 20۔32

بدی اور بیماری کو اْن کی اصلاحات میں ہی عیاں کریں اور اْن کی مذمت کریں۔کسی گناہگار کو اِس بات کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اْس کی اصلاح نہیں ہو سکتی کہ وہ اِس لئے گناہگار نہیں ہے کیونکہ گناہ ہے ہی نہیں۔ گناہ کو کمزور کرنے کے لئے آپ کو اِسے کھوجنا ہوگا، اِسے بے نقاب کرنا ہوگا، فریب نظری کو اجاگر کرنا ہوگا، اور یوں گناہ پر فتح مند ہوں اور اِسے غیر حقیقی ثابت کریں۔ محض یہ کہنے سے کہ بیماری ہے نہیں، بیماری سے شفا نہیں ملتی، بلکہ یہ جاننے سے ملتی ہے کہ بیماری نہیں ہے۔

ایک گناہگار پہلا پتھر مارنے سے ڈرتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے، ایک عذر کے طور پر، کہ بدی غیر حقیقی ہے، لیکن اِسے سمجھنے کے لئے، اْسے اپنے بیان کو واضح کرنا چاہئے۔

7. 447 : 20-32

Expose and denounce the claims of evil and disease in all their forms, but realize no reality in them. A sinner is not reformed merely by assuring him that he cannot be a sinner because there is no sin. To put down the claim of sin, you must detect it, remove the mask, point out the illusion, and thus get the victory over sin and so prove its unreality. The sick are not healed merely by declaring there is no sickness, but by knowing that there is none.

A sinner is afraid to cast the first stone. He may say, as a subterfuge, that evil is unreal, but to know it, he must demonstrate his statement.

8 . ۔ 449 :11۔ 16 (تا؛)

انسانی اخلاقی پارہ، بڑھنے اور گرنے سے، اسے سکھانے کے لئے اس کی شفائیہ قابلیت اور صحتمندی کا اندراج کرتا ہے۔ جو آپ جانتے ہیں آپ کو اس پر بہتر عملدر آمد کرنا چاہئے، تو پھر آپ اپنی ایمانداری اور خلوص کے تناسب میں آگے بڑھیں گے، یہ وہ خصوصیات ہیں جو اس سائنس میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہیں۔

8. 449 : 11-16 (to ;)

Man's moral mercury, rising or falling, registers his healing ability and fitness to teach. You should practise well what you know, and you will then advance in proportion to your honesty and fidelity, — qualities which insure success in this Science;

9 . ۔ 8 : 3۔9

ہمیں کبھی کسی ایماندار دل کو مایوس نہیں کرنا چاہئے؛ بلکہ اْن لوگوں کے لئے تھوڑی بہت امید باقی ہے جو وقفے وقفے سے اپنی بدکاری کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور پھر اِسے چھپانے کی جگہ ڈھونڈتے ہیں۔اْن کی دعائیں ایسی دلیلیں ہیں جو اْن کے کردار کے ساتھ میل نہیں رکھتیں۔وہ گناہ کے ساتھ خفیہ تعلق رکھتے ہیں، اور ایسے ظاہری لوگوں کے بارے میں یسوع نے کہا کہ وہ ”سفیدی پھِری قبروں کی مانند ہیں۔۔۔جو اندر سے ہر طرح کی نجاست سے۔۔۔ بھری ہوئی ہیں۔“

9. 8 : 3-9

We never need to despair of an honest heart; but there is little hope for those who come only spasmodically face to face with their wickedness and then seek to hide it. Their prayers are indexes which do not correspond with their character. They hold secret fellowship with sin, and such externals are spoken of by Jesus as "like unto whited sepulchres ... full ... of all uncleanness."

10 . ۔ 15: 14۔24

ٹھیک طریقے سے دعا کرنے کے لئے، ہمیں کوٹھڑی کے اندر جاکر دروازہ بند کرنا ہوگا۔ ہمیں ہونٹوں کو بند کر نااور مادی حواس کو خاموش کرنا ہوگا۔پْر خلوص خواہشات کے خاموش مقدَس میں ہمیں گناہ سے انکار اور خدا کی ساری کاملیت کی التجا کرنی چاہئے۔ہمیں صلیب اٹھانے کی ہمت کرنی چاہئے اور حکمت، سچائی اور محبت پر غور کرنے اور اِن پر کام کرنے کے لئے سچے دل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔ہمیں ”بلا ناغہ دعا کرنی“ چاہئے۔ایسی ہی دعا کا جواب ملتا ہے، اِس حد تک کہ ہم ہماری خواہشات کی تکمیل پاتے ہیں۔ مالک کی ہدایت یہ ہے کہ ہم پوشیدگی میں دعا کریں اور ہماری زندگیوں سے ہماری وفاداری کی گواہی دیں۔

10. 15 : 14-24

In order to pray aright, we must enter into the closet and shut the door. We must close the lips and silence the material senses. In the quiet sanctuary of earnest longings, we must deny sin and plead God's allness. We must resolve to take up the cross, and go forth with honest hearts to work and watch for wisdom, Truth, and Love. We must "pray without ceasing." Such prayer is answered, in so far as we put our desires into practice. The Master's injunction is, that we pray in secret and let our lives attest our sincerity.

11 . ۔ 272 :3۔8

سچائی کو سمجھنے سے قبل سچائی کا روحانی فہم حاصل ہونا ضروری ہے۔ یہ فہم اْسی وقت ہمارے اندر سما سکتا ہے جب ہم ایماندار، بے غرض، پیار کرنے والے اور حلیم ہوتے ہیں۔ ایک ”ایماندار اور نیک دل“ کی مٹی میں بیج بویا جانا چاہئے؛ وگرنہ یہ زیادہ پھل نہیں دے گا، کیونکہ انسانی فطرت میں گندہ عنصر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔

11. 272 : 3-8

The spiritual sense of truth must be gained before Truth can be understood. This sense is assimilated only as we are honest, unselfish, loving, and meek. In the soil of an "honest and good heart" the seed must be sown; else it beareth not much fruit, for the swinish element in human nature uproots it.

12 . ۔ 65 :1۔2

تجربہ نیکی کی درس گاہ ہونا چاہئے، اور انسانی خوشی انسان کی اعلیٰ ترین فطرت سے آگے بڑھنی چاہئے۔مسیح، سچائی ہر دلہن کی الطار پر پانی کو مے میں بدلنے اور انسانی زندگی کو ایک ایسا الہام بنانے کے لئے موجود ہو جس سے انسان کے روحانی اور ابدی وجود کو پہچانا جا سکے۔

12. 65 : 1-2

Experience should be the school of virtue, and human happiness should proceed from man's highest nature.

13 . ۔ 418: 5۔11

اْس غلطی کے برعکس ہستی کی سچائی پر قائم رہیں کہ زندگی، مواد یا ذہانت مادے میں ہو سکتے ہیں۔سچ کے مخلص یقین اور الٰہی سائنس کے غیر متغیر، لاخطا اور یقینی اثر کے واضح نظریے کے ساتھ التجا کریں۔ تب، اگر آپ کی ایمانداری آپ کی التجا کی سچائی کے نصف برابر بھی ہو تو آپ بیمار کو شفا دے پائیں گے۔

13. 418 : 5-11

Stick to the truth of being in contradistinction to the error that life, substance, or intelligence can be in matter. Plead with an honest conviction of truth and a clear perception of the unchanging, unerring, and certain effect of divine Science. Then, if your fidelity is half equal to the truth of your plea, you will heal the sick.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔