اتوار 5 جولائی ، 2026



مضمون۔ خدا

SubjectGod

سنہری متن: زبور 52: 1آیت

خدا کی شفقت دائمی ہے۔



Golden Text: Psalm 52 : 1

The goodness of God endureth continually.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: زبور 19: 1تا3، 7، 8 آیات • زبور 20:5تا7 آیات


1۔ آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اس کی دستکاری دکھاتی ہے۔

2۔ دن سے دِن بات کرتا ہے اور رات کو رات حکمت سکھاتی ہے۔

3۔ نہ بولنا ہے نہ کلام۔ نہ اُن کی آواز سنائی دیتی ہے۔

7۔ خداوند کی شریعت کامل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔ خداوندکی شہادت برحق ہے۔ نادان کو دانش بخشتی ہے۔

8۔ خداوند کے قوانین راست ہیں۔ وہ دِل کو فرحت پہنچاتے ہیں۔ خداوند کا حکم بے عیب ہے۔ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔

5۔ ہم تیری نجات پر شادیانہ بجائیں گے اور اپنے خدا کے نام پر جھنڈے کھڑے کریں گے۔

6۔ اب مَیں جان گیا کہ خداوند اپنے ممسوح کو بچا لیتا ہے۔ وہ اپنے داہنے ہاتھ کی نجات بخش قوت سے اپنے مقدس آسمان پر سے اْسے جواب دے گا۔

7۔ کسی کو رتھوں کا اور کسی کو گھوڑوں کا بھروسہ ہے پر ہم تو خداوند اپنے خدا کا ہی نام لیں گے۔

Responsive Reading: Psalm 19 : 1-3, 7, 8  •  Psalm 20 : 5-7

1.     The heavens declare the glory of God; and the firmament sheweth his handywork.

2.     Day unto day uttereth speech, and night unto night sheweth knowledge.

3.     There is no speech nor language, where their voice is not heard.

7.     The law of the Lord is perfect, converting the soul: the testimony of the Lord is sure, making wise the simple.

8.     The statutes of the Lord are right, rejoicing the heart: the commandment of the Lord is pure, enlightening the eyes.

5.      We will rejoice in thy salvation, and in the name of our God.

6.     Now know I that the Lord saveth his anointed; he will hear him from his holy heaven with the saving strength of his right hand.

7.     Some trust in chariots, and some in horses: but we will remember the name of the Lord our God.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زبور 99: 5 آیت

5۔تم خداوند ہمارے خدا کی تمجید کرو۔ اور اْس کے پاؤں کی چوکی پر سجدہ کر۔ وہ قدوس ہے۔

1. Psalm 99 : 5

5     Exalt ye the Lord our God, and worship at his footstool; for he is holy.

2 . ۔ خروج 3 باب1تا7، 10، 13، 14 آیات

1۔ اور موسیٰ اپنے سسر یترو کی جو مدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتاہو ااْن کو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ کے نزدیک لے آیا۔

2۔ اور خداوند کا ایک فرشتہ جھاڑی میں سے آگ کے شعلہ میں اْس پر ظاہر ہوا۔ اْس نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہوئی ہے پر وہ جھاڑی بھسم نہیں ہوتی۔

3۔ تب موسیٰ نے کہا کہ میں اب ذرا اْدھر کترا کر اِس منظر کو دیکھوں کہ یہ جھاڑی کیوں نہیں جل جاتی۔

4۔ جب خداوند نے دیکھا کہ وہ دیکھنے کو کترا کر آرہا ہے تو خدا نے اْسے جھاڑی میں سے پکارا اور کہا اے موسیٰ! اے موسیٰ! اْس نے کہا مَیں حاضر ہوں۔

5۔ تب اْس نے کہا اِدھر پاس مت آ۔ اپنے پاؤں سے جوتا اْتار کیونکہ جس جگہ تْو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے۔

6۔ پھر اْس نے کہا مَیں تیرے باپ کا خدا یعنی ابراہام کا خدا اور یعقوب کا خدا اور اضحاق کا خدا ہوں۔ موسیٰ نے اپنا منہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر کرنے سے ڈرتا تھا۔

7۔ اور خداوند نے کہا مَیں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں خوب دیکھی اور اْن کی فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سْنی اور مَیں اْن کے دکھو ں کو جانتا ہوں۔

10۔ سو اب آ مَیں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تْو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر میں سے نکال لائے۔

13۔ جب مَیں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اْن کو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اْس کا نام کیا ہے؟ تو مَیں اْن کو کیا بتاؤں؟

14۔خدا نے موسیٰ سے کہا مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں۔ سو تْو بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ مَیں جو ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔

2. Exodus 3 : 1-7, 10, 13, 14

1     Now Moses kept the flock of Jethro his father in law, the priest of Midian: and he led the flock to the backside of the desert, and came to the mountain of God, even to Horeb.

2     And the angel of the Lord appeared unto him in a flame of fire out of the midst of a bush: and he looked, and, behold, the bush burned with fire, and the bush was not consumed.

3     And Moses said, I will now turn aside, and see this great sight, why the bush is not burnt.

4     And when the Lord saw that he turned aside to see, God called unto him out of the midst of the bush, and said, Moses, Moses. And he said, Here am I.

5     And he said, Draw not nigh hither: put off thy shoes from off thy feet, for the place whereon thou standest is holy ground.

6     Moreover he said, I am the God of thy father, the God of Abraham, the God of Isaac, and the God of Jacob. And Moses hid his face; for he was afraid to look upon God.

7     And the Lord said, I have surely seen the affliction of my people which are in Egypt, and have heard their cry by reason of their taskmasters; for I know their sorrows;

10     Come now therefore, and I will send thee unto Pharaoh, that thou mayest bring forth my people the children of Israel out of Egypt.

13     And Moses said unto God, Behold, when I come unto the children of Israel, and shall say unto them, The God of your fathers hath sent me unto you; and they shall say to me, What is his name? what shall I say unto them?

14     And God said unto Moses, I AM THAT I AM: and he said, Thus shalt thou say unto the children of Israel, I AM hath sent me unto you.

3 . ۔ خروج 4 باب1تا8، 10تا12 آیات

1۔ تب موسیٰ نے جواب دیا لیکن وہ تو میرا یقین ہی نہیں کریں گے نہ میری بات سنیں گے۔ وہ کہیں گے خداوند تجھے دکھائی نہیں دیا۔

2۔ اور خداوندنے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ اْس نے کہا لاٹھی۔

3۔ پھر اْس نے کہا اْسے زمین پر ڈال دے اْس نے اْسے زمین پر ڈالا اور وہ سانپ بن گئی اور موسیٰ اْس کے سامنے سے بھاگا۔

4۔تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہاتھ بڑھا کر اْس کی دْم پکڑ لے۔ اْس نے ہاتھ بڑھایا اور اْسے پکڑ لیا۔ وہ اْس کے ہاتھ میں لاٹھی بن گیا۔

5۔ تاکہ وہ یقین کریں کہ خداوند اْن کے باپ دادا کا خدا ابراہیم کا خدا اور یعقوب کا خدا تجھ کو دکھائی دیا۔

6۔ پھر خداوند نے اْسے یہ بھی کہا کہ تْو اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اْس نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لیا اور جب اْس نے اْسے نکال کے دیکھا تو اْس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔

7۔ اْس نے کہا کہ تْو اپنا ہاتھ پھر اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے۔ اْس نے پھر اْسے سینے پر رکھ کر ڈھانک لیا۔ جب اْس نے اْسے باہر نکال کر دیکھا تو وہ پھر اْس کے باقی جسم کی مانند ہوگیا۔

8۔ اور یوں ہوگا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کریں اور پہلے معجزے کو بھی نہ مانیں تو وہ دوسرے معجزے کے سبب سے یقین کریں گے۔

10۔ تب موسیٰ نے خداوند سے کہا اے خداوند! مَیں فصیح نہیں۔ نہ تو پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تْو نے اپنے بندے سے کلام کیا بلکہ رْک رْک کر بولتا ہوں اور میری زبان کْند ہے۔

11۔ تب خداوند نے اْس سے کہا کہ آدمی کا منہ کس نے بنایا ہے؟ اور کون گونگا یا بہرہ یا بینا یا اندھا کرتا ہے؟ کیا مَیں ہی جو خداوند ہوں یہ نہیں کرتا؟

12۔ سو اب تْو جا اور مَیں تیری زبان کا ذمہ لیتا ہوں اور تجھے سکھاتا رہوں گا کہ تْو کیا کیا کہے۔

3. Exodus 4 : 1-8, 10-12

1     And Moses answered and said, But, behold, they will not believe me, nor hearken unto my voice: for they will say, The Lord hath not appeared unto thee.

2     And the Lord said unto him, What is that in thine hand? And he said, A rod.

3     And he said, Cast it on the ground. And he cast it on the ground, and it became a serpent; and Moses fled from before it.

4     And the Lord said unto Moses, Put forth thine hand, and take it by the tail. And he put forth his hand, and caught it, and it became a rod in his hand:

5     That they may believe that the Lord God of their fathers, the God of Abraham, the God of Isaac, and the God of Jacob, hath appeared unto thee.

6     And the Lord said furthermore unto him, Put now thine hand into thy bosom. And he put his hand into his bosom: and when he took it out, behold, his hand was leprous as snow.

7     And he said, Put thine hand into thy bosom again. And he put his hand into his bosom again; and plucked it out of his bosom, and, behold, it was turned again as his other flesh.

8     And it shall come to pass, if they will not believe thee, neither hearken to the voice of the first sign, that they will believe the voice of the latter sign.

10     And Moses said unto the Lord, O my Lord, I am not eloquent, neither heretofore, nor since thou hast spoken unto thy servant: but I am slow of speech, and of a slow tongue.

11     And the Lord said unto him, Who hath made man’s mouth? or who maketh the dumb, or deaf, or the seeing, or the blind? have not I the Lord?

12     Now therefore go, and I will be with thy mouth, and teach thee what thou shalt say.

4 . ۔ عبرانیوں 11باب1تا 3، 6، 24تا27، 32تا34 آیات

1۔ اب ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔

2۔ کیونکہ اِس کی بابت بزرگوں کے حق میں اچھی گواہی دی گئی۔

3۔ ایمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ عالم خدا کے کہنے سے بنے ہیں۔ یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ظاہری چیزوں سے بنا ہے۔

6۔ اور بغیر ایمان کے اْس کو پسند آنا ناممکن ہے۔ اِس لئے کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔

24۔ ایمان ہی سے موسیٰ نے بڑے ہو کر فرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے انکار کیا۔

25۔اس لئے کہ اْس نے گناہ کا چند روزہ لطف اْٹھانے کی نسبت خدا کی اْمت کے ساتھ بد سلوکی برداشت کرنا زیادہ پسند کیا۔

26۔اور مسیح کے لئے لعن طعن اْٹھانے کو مصر کے خزانوں سے بڑی دولت جانا کیونکہ اْس کی نگاہ اجر پانے پر تھی۔

27۔ ایمان ہی سے اْس نے بادشاہ کے غصے کا خوف نہ کر کے مصر کو چھوڑ دیا۔ اِس لئے کہ وہ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت قدم رہا۔

32۔ اب اور کیا کہوں؟ اتنی فرصت کہاں کہ جدعون اور برق اور سمسون اور افتاہ اور داؤد اور سیموئیل اور نبیوں کا احوال بیان کروں؟

33۔ اْنہوں نے ایمان ہی کے سبب سے سلطنتوں کو مغلوب کیا۔ راستبازی کے کام کئے۔ وعدہ کی ہوئی چیزوں کو حاصل کیا۔ شیروں کے منہ بند کئے۔

34۔ آگ کی تیزی کو بجھایا۔ تلوار کی دھار سے بچ نکلے۔ کمزوری میں زور آور ہوئے۔ لڑائی میں بہادر بنے۔ غیروں کی فوجوں کو بھگایا۔

4. Hebrews 11 : 1-3, 6, 24-27, 32-34

1     Now faith is the substance of things hoped for, the evidence of things not seen.

2     For by it the elders obtained a good report.

3     Through faith we understand that the worlds were framed by the word of God, so that things which are seen were not made of things which do appear.

6     But without faith it is impossible to please him: for he that cometh to God must believe that he is, and that he is a rewarder of them that diligently seek him.

24     By faith Moses, when he was come to years, refused to be called the son of Pharaoh’s daughter;

25     Choosing rather to suffer affliction with the people of God, than to enjoy the pleasures of sin for a season;

26     Esteeming the reproach of Christ greater riches than the treasures in Egypt: for he had respect unto the recompence of the reward.

27     By faith he forsook Egypt, not fearing the wrath of the king: for he endured, as seeing him who is invisible.

32     And what shall I more say? for the time would fail me to tell of Gedeon, and of Barak, and of Samson, and of Jephthae; of David also, and Samuel, and of the prophets:

33     Who through faith subdued kingdoms, wrought righteousness, obtained promises, stopped the mouths of lions,

34     Quenched the violence of fire, escaped the edge of the sword, out of weakness were made strong, waxed valiant in fight, turned to flight the armies of the aliens.

5 . ۔ زبور 42: 5، 8 (خداوند) آیات

5۔ اے میری جان تْوں کیوں گری جاتی ہے؟ تْو اندر ہی اندر کیوں بے چین ہے؟ خدا سے امید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رونق اورمیرا خدا ہے۔

8۔۔۔۔ دن کو خداوند اپنی شفقت دکھائے گا۔ اور رات کو مَیں اْس کا گیت گاؤں گا بلکہ اپنی حیات کے خدا سے دعا کروں گا۔

5. Psalm 42 : 5, 8 (the Lord)

5     Why art thou cast down, O my soul? and why art thou disquieted in me? hope thou in God: for I shall yet praise him for the help of his countenance.

8     …the Lord will command his lovingkindness in the daytime, and in the night his song shall be with me, and my prayer unto the God of my life.

6 . ۔ زبور 106: 48 آیت

48۔ خداوند اسرائیل کا خدا ازل سے ابد تک مبارک ہو! اور ساری قوم کہے آمین۔ خداوند کی حمد کرو۔

6. Psalm 106 : 48

48     Blessed be the Lord God of Israel from everlasting to everlasting: and let all the people say, Amen. Praise ye the Lord.



سائنس اور صح


1 . ۔ 587: 5۔8

خدا۔ عظیم مَیں ہوں؛ سب جاننے والا، سب دیکھنے والا، سب عمل کرنے والا، عقل کْل، کْلی محبت، اور ابدی؛ اصول؛ جان، روح، زندگی، سچائی، محبت، سارا مواد؛ ذہانت۔

1. 587 : 5-8

God. The great I am; the all-knowing, all-seeing, all-acting, all-wise, all-loving, and eternal; Principle; Mind; Soul; Spirit; Life; Truth; Love; all substance; intelligence.

2 . ۔ 286: 16۔20

سیکسن اور بیس دیگر زبانوں میں اچھائی خدا کے لئے ایک اصطلاح ہے۔ صحائف اْس سب کو ظاہر کرتے ہیں جو اْس نے اچھا بنایا، جیسے کہ وہ خود،اصول اور خیال میں اچھا۔اس لئے روحانی کائنات اچھی ہے، اور یہ خدا کو ویسا ہی ظاہر کرتی ہے جیسا وہ ہے۔

2. 286 : 16-20

In the Saxon and twenty other tongues good is the term for God. The Scriptures declare all that He made to be good, like Himself, — good in Principle and in idea. Therefore the spiritual universe is good, and reflects God as He is.

3 . ۔ 330: 25 (خیال)۔ 27

یہ خیال کہ اچھائی اور بدی دونوں حقیقی ہیں مادی سوچ کی ایک فریب نظری ہے، جسے سائنس نیست کرتی ہے۔ بدی کچھ نہیں ہے، کوئی چیز، عقل، کوئی طاقت نہیں۔

3. 330 : 25 (The notion)-27

The notion that both evil and good are real is a delusion of material sense, which Science annihilates. Evil is nothing, no thing, mind, nor power.

4 . ۔ 113: 9۔25

الٰہی مابعدالطبیعیات کی بنیادی تجاویز کا خلاصہ درج ذیل چار تجاویز میں کیا گیا ہے، جو میرے نزدیک، خود واضح تجاویز ہیں۔ یہاں تک کہ اگر اِنہیں اْلٹ دیا جائے، تو یہ بیان اور ثبوت میں متفق پائی جائیں گی، جو ریاضی کے اعتبار سے سچائی کے ساتھ اِن کا واضح تعلق ظاہر کرتی ہیں۔ڈی کوئنسی کہتا ہے کہ ریاضی کے ہاں کھڑے ہونے کے لئے پاؤں نہیں ہے جو خالصتاً مابعد الطبیعیاتی نہیں ہے۔

1۔ خدا ہی سب کچھ ہے۔

2۔ خدا اچھائی ہے۔ خدا عقل ہے۔

3۔ خدا، روح، ساری ہستی، مادے میں کچھ نہیں۔

4۔ زندگی، خدا، قادرِ مطلق اچھائی، موت، بدی، گناہ بیماری کو رد کرتے ہیں۔ بیماری، گناہ، بدی، موت، اچھائی، قادرِ مطلق خدا اور زندگی سے انکاری ہیں۔

چاروں تجاویز میں سے کون سی تردید حقیقی ہے؟ ساری سچ نہیں ہیں، اور ہو بھی نہیں سکتیں۔ کلامِ پاک کے مطابق، مَیں نے دیکھا ہے کہ خدا سچا ہے، ”بلکہ ہر ]فانی[ آدمی جھوٹا ہے۔“

4. 113 : 9-25

The fundamental propositions of divine metaphysics are summarized in the four following, to me, self-evident propositions. Even if reversed, these propositions will be found to agree in statement and proof, showing mathematically their exact relation to Truth. De Quincey says mathematics has not a foot to stand upon which is not purely metaphysical.

1. God is All-in-all.

2. God is good. Good is Mind.

3. God, Spirit, being all, nothing is matter.

4. Life, God, omnipotent good, deny death, evil, sin, disease. — Disease, sin, evil, death, deny good, omnipotent God, Life.

Which of the denials in proposition four is true? Both are not, cannot be, true. According to the Scripture, I find that God is true, "but every [mortal] man a liar."

5 . ۔ 387: 27۔32

مسیحت کی تاریخ اْس آسمانی باپ، قادرِمطلق فہم، کے عطا کردہ معاون اثرات اور حفاظتی قوت کے شاندار ثبوتوں کو مہیا کرتی ہے جو انسان کو ایمان اور سمجھ مہیا کرتا ہے جس سے وہ خود کو بچا سکتا ہے نہ صرف آزمائش سے بلکہ جسمانی دْکھوں سے بھی۔

5. 387 : 27-32

The history of Christianity furnishes sublime proofs of the supporting influence and protecting power bestowed on man by his heavenly Father, omnipotent Mind, who gives man faith and understanding whereby to defend himself, not only from temptation, but from bodily suffering.

6 . ۔ 200: 4۔7

موسیٰ نے ایک قوم کو مادے کی بجائے روح میں خدا کی عبادت کرنے کی جانب گامزن کیا، اور لافانی عقل کی عطا کردہ ہستی کی بڑی انسانی قابلیتوں کو بیان کیا۔

6. 200 : 4-7

Moses advanced a nation to the worship of God in Spirit instead of matter, and illustrated the grand human capacities of being bestowed by immortal Mind.

7 . ۔ 321: 6۔2

عبرانیوں کوشریعت دینے والا، بولنے میں دھیما،جو کچھ اْس پر ظاہر ہو اتھاوہ لوگوں کو سمجھانے سے مایوس تھا۔ حکمت سے ہدایت پا کر جب اْس نے اپنا عصا زمین پر پھینکا، تو اْس نے اسے سانپ بنتے دیکھا، موسیٰ اِس کے سامنے بھاگ نکلا، مگر عقل نے اْسے واپس لوٹنے اور اس سانپ سے نپٹنے کا حکم دیا، تو پھر موسیٰ کا خوف دور ہوا۔ اس واقعہ میں سائنس کی حقیقت دیکھی گئی۔مادا محض مختصراً سامنے لایا گیا۔ دانائی کے حکم تلے سانپ، بدی، الٰہی سائنس کے فہم کی بدولت تباہ ہوئی، اور اس کا ثبوت وہ عصا تھا جس کے آگے جھکنا تھا۔اْسے خبردا رکرنے کے لئے موسیٰ کا بھرم اپنی طاقت تب کھو چْکاتھا جب اْس نے یہ دریافت کیا کہ جو کچھ اْس نے بظاہر دیکھا ہے وہ حقیقتاً تھا نہ کہ مادی عقیدے کا ایک حصہ تھا۔

جب موسیٰ نے پہلے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانکا اور پھر برف کی مانند سفید ایک مہلک بیماری کے ساتھ باہر نکالااور پھر اْسی وقت اسی سادہ مرحلے کے ساتھ اپنے ہاتھ کو اِس کی فطری حالت میں بحال کرلیا توسائنسی طور پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ کوڑھ فانی عقل کی ایک تخلیق ہے نہ کہ مادے کی کوئی حالت ہے۔الٰہی سائنس میں اِس ثبوت کی بدولت خدا نے موسیٰ کے خوف کو کم کردیا، اور اِس کی اندرونی آواز اْس کے لئے خدا کی آواز بن گئی، جس نے کہا، ”اور یوں ہوگا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کریں اور پہلے معجزے کو بھی نہ مانیں تو وہ دوسرے معجزے کے سبب سے یقین کریں گے۔“اور پھر آنے والی صدیوں میں یہ ہوا، کہ یسوع کی بدولت ہستی کی سائنس کو ظاہر کیا گیا، جس نے پانی کو مے میں تبدیل کر کے اپنے طالب علموں کو عقل کی طاقت دکھائی، اور عقل کی بالا دستی کو ثابت کرنے کے لئے اْنہیں سکھایا کہ کیسے بغیر نقصان پہنچائے سانپوں سے نپٹنا ہے،کیسے بیمار کو شفا دینی اور بدروحوں کو نکالنا ہے۔

7. 321 : 6-2

The Hebrew Lawgiver, slow of speech, despaired of making the people understand what should be revealed to him. When, led by wisdom to cast down his rod, he saw it become a serpent, Moses fled before it; but wisdom bade him come back and handle the serpent, and then Moses' fear departed. In this incident was seen the actuality of Science. Matter was shown to be a belief only. The serpent, evil, under wisdom's bidding, was destroyed through understanding divine Science, and this proof was a staff upon which to lean. The illusion of Moses lost its power to alarm him, when he discovered that what he apparently saw was really but a phase of mortal belief.

It was scientifically demonstrated that leprosy was a creation of mortal mind and not a condition of matter, when Moses first put his hand into his bosom and drew it forth white as snow with the dread disease, and presently restored his hand to its natural condition by the same simple process. God had lessened Moses' fear by this proof in divine Science, and the inward voice became to him the voice of God, which said: "It shall come to pass, if they will not believe thee, neither hearken to the voice of the first sign, that they will believe the voice of the latter sign." And so it was in the coming centuries, when the Science of being was demonstrated by Jesus, who showed his students the power of Mind by changing water into wine, and taught them how to handle serpents unharmed, to heal the sick and cast out evils in proof of the supremacy of Mind.

8 . ۔ 323: 13۔18 (تا؛)

مزید سمجھنے کے لئے، جو ہم پہلے سے جانتے ہیں اْسے اور عمل میں لانا ہوگا۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ حق کو جب سمجھا جاتا ہے تو وہ قابل ا ثبات ہوگا، اور یہ کہ اچھائی تب تک نہیں سمجھی جا تی جب تک اْسے ظاہر نہ کیا جائے۔اگر ”تھوڑے میں دیانتدار ہیں“، تو ہمیں زیادہ کا مختار بنایا جائے گا؛

8. 323 : 13-18 (to ;)

In order to apprehend more, we must put into practice what we already know. We must recollect that Truth is demonstrable when understood, and that good is not understood until demonstrated. If "faithful over a few things," we shall be made rulers over many;

9 . ۔ 215: 15۔21

بعض اوقات ہمیں یہ ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ تاریکی روشنی کی مانند حقیقی ہے؛ جبکہ سائنس تصدیق کرتی ہے کہ تایکی محض روشنی کے فانی فہم کی غیر موجودگی ہے، جس کے آنے پر تاریکی حقیقی شناخت کھو دیتی ہے۔پس گناہ اور دْکھ، بیماری اور موت، زندگی اور خدا کی فرضی غیر موجودگی ہیں، اور یہ سچائی اور محبت کے سامنے غلطی کے تصورات کی مانند فرار ہوجاتے ہیں۔

9. 215 : 15-21

We are sometimes led to believe that darkness is as real as light; but Science affirms darkness to be only a mortal sense of the absence of light, at the coming of which darkness loses the appearance of reality. So sin and sorrow, disease and death, are the suppositional absence of Life, God, and flee as phantoms of error before truth and love.

10 . ۔ 381: 4۔19

اس غلط فہمی کا شکار ہونے کے لیے تیار نہ ہوں کہ آپ بیمار ہیں یا نظام میں کوئی بیماری پیدا ہو رہی ہے، بجائے اس کے کہ آپ اس بنیاد پر کسی گناہ کے فتنہ کا شکار ہو جائیں کہ گناہ کی اپنی ضروریات ہیں۔

جب کوئی فرضی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ اس میں خطرہ ہے۔ یہ خوف ہی خطرہ ہے اور جسمانی اثرات کی ترغیب دلاتا ہے۔ ہم اخلاقی یا روحانی قانون کے ٹوٹنے کے علاوہ حقیقت میں کسی اور چیز کے ٹوٹنے سے تکلیف محسوس نہیں کرسکتے۔ فانی یقین کے نام نہاد قوانین یہ سمجھنے سے تباہ ہوتے ہیں کہ روح غیر فانی ہے، اور یہ کہ فانی سوچ وقت، ادوار اور بیماری کی اقسام کی قانون سازی نہیں کر سکتی، جس سے فانی لوگ مرتے ہیں۔ خدا قانون ساز ہے، لیکن وہ غیر مہذب ضابطوں کا مصنف نہیں ہے۔ لامحدود زندگی اور محبت میں کوئی بیماری، گناہ نہیں نہ ہی موت ہے، اور کلام پاک واضح کرتا ہے کہ ہم لامحدود خدا میں جیتے، چلتے پھرتے اور اپنا وجود رکھتے ہیں۔

10. 381 : 4-19

Be no more willing to suffer the illusion that you are sick or that some disease is developing in the system, than you are to yield to a sinful temptation on the ground that sin has its necessities.

When infringing some supposed law, you say that there is danger. This fear is the danger and induces the physical effects. We cannot in reality suffer from breaking anything except a moral or spiritual law. The so-called laws of mortal belief are destroyed by the understanding that Soul is immortal, and that mortal mind cannot legislate the times, periods, and types of disease, with which mortals die. God is the lawmaker, but He is not the author of barbarous codes. In infinite Life and Love there is no sickness, sin, nor death, and the Scriptures declare that we live, move, and have our being in the infinite God.

11 . ۔ 243: 25 (سچائی)۔4

سچائی میں غلطی کا کوئی شعور نہیں ہے۔ محبت میں نفرت کا کوئی فہم نہیں ہے۔ زندگی کی موت کے ساتھ کوئی شراکت نہیں ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت ہر اْس چیز کے لئے ہلاکت کا ایک قانون ہے جو اِن کے برعکس ہے، کیونکہ یہ خدا کے سوا کچھ بھی ظاہر نہیں کرتیں۔

بیماری، گناہ اور موت زندگی کے پھل نہیں ہیں۔ یہ بے آہنگیاں ہیں جنہیں سچائی نیست کرتی ہے۔ کاملیت غیر کاملیت کو زندگی نہیں دیتی۔ چونکہ خدا نیک اور سب جانداروں کا سر چشمہ ہے، وہ اخلاقی یا جسمانی بدصورتی پیدا نہیں کرتا؛ اس لئے ایسا بگاڑ حقیقی نہیں بلکہ فریب نظری، غلطی کا سراب ہے۔ الٰہی سائنس اِن بڑے حقائق کو ظاہر کرتی ہے۔

11. 243 : 25 (Truth)-4

Truth has no consciousness of error. Love has no sense of hatred. Life has no partnership with death. Truth, Life, and Love are a law of annihilation to everything unlike themselves, because they declare nothing except God.

Sickness, sin, and death are not the fruits of Life. They are inharmonies which Truth destroys. Perfection does not animate imperfection. Inasmuch as God is good and the fount of all being, He does not produce moral or physical deformity; therefore such deformity is not real, but is illusion, the mirage of error. Divine Science reveals these grand facts.

12 . ۔ 278: 32۔5

ہماری نظر میں کیا چیز مواد ہونی چاہئے، غلطی، تبدیل ہونے والا اور فنا ہونے والا، قابل تغیر اور فانی، یا غلطی سے مبرا، ناقابل تغیر اور لافانی؟ نئے عہد نامے کا ایک مصنف تفصیل کے ساتھ ایمان یعنی عقل کے معیار کو ”امید کی ہوئی چیزوں کے اعتماد“ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

12. 278 : 32-5

Which ought to be substance to us, — the erring, changing, and dying, the mutable and mortal, or the unerring, immutable, and immortal? A New Testament writer plainly describes faith, a quality of mind, as "the substance of things hoped for."

13 . ۔ 368: 14۔19

جب ہم غلطی سے زیادہ زندگی کی سچائی پرایمان رکھتے ہیں، مادے سے زیادہ روح پر بھروسہ رکھتے ہیں، مرنے سے زیادہ جینے پر بھروسہ رکھتے ہیں، انسان سے زیادہ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں، تو کوئی مادی مفرضے ہمیں بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو نیست کرنے سے نہیں روک سکتے۔

13. 368 : 14-19

When we come to have more faith in the truth of being than we have in error, more faith in Spirit than in matter, more faith in living than in dying, more faith in God than in man, then no material suppositions can prevent us from healing the sick and destroying error.

14 . ۔ 473: 7۔10

الٰہی اصول ہر جا موجود اور قادرِمطلق ہے۔خدا ہر جگہ موجود ہے اور اْس سے جْدا کوئی موجود نہیں ہے یا کوئی طاقت نہیں ہے۔

14. 473 : 7-10

The God-principle is omnipresent and omnipotent. God is everywhere, and nothing apart from Him is present or has power.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔