اتوار 7 جون ، 2026
ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔
“In the beginning was the Word, and the Word was with God, and the Word was God.”
1۔ زمین اور اْس کی معموری خداوند ہی کی ہے۔ جہان اور اْس کے باشندے بھی۔
2۔ کیونکہ اْس نے سمندروں پر اْس کی بنیاد رکھی اور سیلابوں پر اْسے قائم کیا۔
3۔ خداوند کے پہاڑ پر کون چڑھے گا اور اْس کے مقدس مقام پر کون کھڑا ہوگا۔
4۔ وہی جس کے ہاتھ صاف ہیں اور جس کا دل پاک ہے۔ جس نے بطالت پر دل نہیں لگایا اور مکر سے قسم نہیں کھائی۔
5۔ وہ خداوند اپنے خدا سے برکت پائے گا۔ ہاں اپنے نجات دینے والے کی طرف سے صداقت۔
7۔ اے پھاٹکو!اپنے سر بلند کرو۔اے ابدی دروازو! اونچے ہو جاؤ اور جلال کا بادشاہ داخل ہو گا۔
8۔ یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟خداوند جو قوی اور فلاد ہے۔ خداوند جو جنگ میں زور آور ہے۔
9۔ اے پھاٹکو!اپنے سر بلند کرو۔اے ابدی دروازو! اونچے ہو جاؤ اور جلال کا بادشاہ داخل ہو گا۔
10۔ یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ لشکروں کا خداوند۔وہی جلال کا بادشاہ ہے۔
1. The earth is the Lord's, and the fulness thereof; the world, and they that dwell therein.
2. For he hath founded it upon the seas, and established it upon the floods.
3. Who shall ascend into the hill of the Lord? or who shall stand in his holy place?
4. He that hath clean hands, and a pure heart; who hath not lifted up his soul unto vanity, nor sworn deceitfully.
5. He shall receive the blessing from the Lord, and righteousness from the God of his salvation.
7. Lift up your heads, O ye gates; and be ye lift up, ye everlasting doors; and the King of glory shall come in.
8. Who is this King of glory? The Lord strong and mighty, the Lord mighty in battle.
9. Lift up your heads, O ye gates; even lift them up, ye everlasting doors; and the King of glory shall come in.
10. Who is this King of glory? The Lord of hosts, he is the King of glory.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
10۔دیکھو خداوند خدا بڑی قدرت کے ساتھ آئے گا اور اس کا بازو اْس کے لئے سلطنت کرے گا۔
10 Behold, the Lord God will come with strong hand, and his arm shall rule for him:
1۔ اور یوں کہنے لگے: میں خداوند کی ثنا گاؤں گا کیونکہ وہ جلال کے ساتھ فتح مند ہوا۔ اْس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں ڈال دیا خداوند میرا زوراور راگ ہے۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا۔
4۔ فرعون کے رتھوں اور لشکر کو اس نے سمندر میں ڈال دیا ۔
7۔تْو اپنی عظمت کے زور سے اپنے مخالفوں کو تہ و بالا کرتا ہے۔
8۔ تیرے نتھنوں کے دم سے پانی کا ڈھیر لگ گیا سیلاب تو دے کی طرح سیدھے کھڑے ہو گئے۔
9۔ دشمن نے تو یہ کہا تھا میں پیچھا کروں گا۔ میں جا پکڑوں گا میں لوٹ کا مال تقسیم کروں گا۔ ان کی تباہی سے میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو گا۔ میں اپنی تلوار کھینچ کر اپنے ہی ہاتھ سے اْن کو ہلاک کروں گا۔
10۔ تْو نے اپنی آندھی کی پھونک ماری تو سمندر نے اْن کو چھپا لیا۔
13۔ اپنی رحمت سے تْواْن لوگوں کی جن کو تْونے خلاصی بخشی راہنمائی کی۔ اور اپنے زور سے تْو اْن کو اپنے مقدس مکان کو لے چلا ہے۔
22۔ پھر موسیٰ بنی اسرائیل کو بحرِ قلزم سے آگے لے گیا۔
1 Then sang Moses and the children of Israel this song unto the Lord, and spake, saying, I will sing unto the Lord, for he hath triumphed gloriously:
4 Pharaoh’s chariots and his host hath he cast into the sea:
7 And in the greatness of thine excellency thou hast overthrown them that rose up against thee:
8 And with the blast of thy nostrils the waters were gathered together, the floods stood upright as an heap,
9 The enemy said, I will pursue, I will overtake, I will divide the spoil; my lust shall be satisfied upon them; I will draw my sword, my hand shall destroy them.
10 Thou didst blow with thy wind, the sea covered them:
13 Thou in thy mercy hast led forth the people which thou hast redeemed: thou hast guided them in thy strength unto thy holy habitation.
22 So Moses brought Israel from the Red sea,
2۔ خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہوں۔
2 I am the Lord thy God, which have brought thee out of the land of Egypt, out of the house of bondage.
1۔ پھر بنی اسرائیل کی ساری جماعت نسین کے بیابان سے چلی اور خداوند کے حکم کے مطابق سفر کرتی ہوئی رفیدیم میں آکر ڈیرا کیا۔ وہاں اْن لوگوں کو پینے کا پانی نہ ملا۔
2۔ وہاں وہ لوگ موسیٰ سے جھگڑا کر کے کہنے لگے کہ ہم کو پینے کو پانی دے۔ موسیٰ نے اْن سے کہا تم مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو اور خداوند کو کیوں آزماتے ہو؟
3۔ وہاں اْن لوگوں کو بڑی پیاس لگی۔ سو وہ لوگ موسیٰ پر بڑبڑانے لگے اور کہا کہ تم ہم کو اور ہمارے بچوں اور چوپائیوں کو پیاسا مرنے کیلئے ہم لوگوں کو کیوں ملک مصر سے نکال لایا؟
4۔ موسیٰ نے خداوند سے فریاد کر کے کہا مَیں اِن لوگوں سے کیا کروں؟ وہ سب تو ابھی مجھے سنگسار کرنے کو تیار ہیں۔
5۔ خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے آگے ہو کر چل اور بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے چند کو اپنے ساتھ لے لے اور جس لاٹھی سے تْو نے دریا پر مارا تھا اْسے اپنے ہاتھ میں لیتا جا۔
6۔ دیکھ میں تیرے آگے جا کر وہاں حوریب کی ایک چٹان پر کھڑا رہوں گا اور تْو اْس چٹان پر مارنا تو اْس میں سے پانی نکلے گا کہ یہ لوگ پئیں۔ چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے یہی کیا۔
7۔اور اْس نے اْس جگہ کا نام مسہ اور مریبہ رکھا کیونکہ بنی اسرائیل نے وہاں جھگڑا کیا اور یہ کہہ کر خداوند کا امتحان کیا کہ خداوند ہمارے بیچ میں ہے یا نہیں۔
1 And all the congregation of the children of Israel journeyed from the wilderness of Sin, after their journeys, according to the commandment of the Lord, and pitched in Rephidim: and there was no water for the people to drink.
2 Wherefore the people did chide with Moses, and said, Give us water that we may drink. And Moses said unto them, Why chide ye with me? wherefore do ye tempt the Lord?
3 And the people thirsted there for water; and the people murmured against Moses, and said, Wherefore is this that thou hast brought us up out of Egypt, to kill us and our children and our cattle with thirst?
4 And Moses cried unto the Lord, saying, What shall I do unto this people? they be almost ready to stone me.
5 And the Lord said unto Moses, Go on before the people, and take with thee of the elders of Israel; and thy rod, wherewith thou smotest the river, take in thine hand, and go.
6 Behold, I will stand before thee there upon the rock in Horeb; and thou shalt smite the rock, and there shall come water out of it, that the people may drink. And Moses did so in the sight of the elders of Israel.
7 And he called the name of the place Massah, and Meribah, because of the chiding of the children of Israel, and because they tempted the Lord, saying, Is the Lord among us, or not?
3۔ میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔
3 Thou shalt have no other gods before me.
14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا۔
14 And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee:
24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بد روحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔
24 And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.
2۔ اور دیکھو ایک کوڑھی نے پاس آکر اْسے سجدہ کیا اور کہا اے خداوند! اگر تْو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔
3۔ اْس نے ہاتھ بڑھا کر اْسے چھوا اور کہا مَیں چاہتا ہوں کہ تْو پاک صاف ہوجا۔ وہ فوراً پاک صاف ہوگیا۔
4۔ یسوع نے اْس سے کہا خبردار کسی سے نہ کہنا بلکہ جا کر اپنے تئیں کاہن کو دکھا اور جو نذر موسیٰ نے مقرر کی ہے اْسے گذران تاکہ اْن کے لئے گواہی ہو۔
2 And, behold, there came a leper and worshipped him, saying, Lord, if thou wilt, thou canst make me clean.
3 And Jesus put forth his hand, and touched him, saying, I will; be thou clean. And immediately his leprosy was cleansed.
4 And Jesus saith unto him, See thou tell no man; but go thy way, shew thyself to the priest, and offer the gift that Moses commanded, for a testimony unto them.
1۔ چھ دن کے بعد یسوع نے پطرس اور یعقوب اور اْس کے بھائی یوحنا کو ہمراہ لیا اور اْنہیں ایک اونچے پہاڑ پر الگ لے گیا۔
2۔ اور اْن کے سامنے اْس کی صورت بدل گئی اور اْس کا چہرہ سورج کی مانند چمکا اور اْس کی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی۔
3۔ اور دیکھو موسیٰ اور ایلیاہ اْس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اْنہیں دکھائی دئیے۔
4۔ پطرس نے یسوع سے کہا اے خداوند ہمارا یہاں رہنا اچھا ہے۔ مرضی ہو تو مَیں یہاں تین ڈیرے بناؤں۔ ایک تیرے لئے۔ ایک موسیٰ کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے۔
5۔ وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ایک نورانی بادل نے اْن پر سایہ کر لیا اور اْس بادل میں سے آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں اِس کی سنو۔
6۔ شاگرد یہ سن کر منہ کے بل گرے اور بہت ڈر گئے۔
7۔ یسوع نے پاس آکر اْنہیں چھوا اور کہا اْٹھو۔ ڈرو مت۔
8۔ جب اْنہوں نے اپنی آنکھیں اْٹھائیں تو یسوع کے سوا اور کسی کو نہ دیکھا۔
9۔ جب وہ پہاڑ سے اْتر رہے تھے تو یسوع نے اْنہیں یہ حکم دیا کہ جب تک ابنِ آدم مردوں میں سے نہ جی اٹھے جو کچھ تم نے دیکھا ہے کسی سے اِس کا ذکر نہ کرنا۔
14۔ اور جب وہ بھیڑ کے پاس پہنچے تو ایک آدمی اْس کے پاس آیا اور اْس کے آگے گھٹنے ٹیک کر کہنے لگا۔
15۔ اے خداوند میرے بیٹے پر رحم کر کیونکہ اْس کو مرگی آتی ہے اور وہ بہت دْکھ اٹھاتا ہے۔ اِس لئے کہ اکثر آگ اور گرمی میں گر پڑتا ہے۔
16۔ اور مَیں اْس کو تیرے شاگردوں کے پاس لایا تھا مگر وہ اْسے اچھا نہ کر سکے۔
17۔ یسوع نے جواب میں کہا اے بے اعتقاد اور کج رو نسل مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا؟ کب تک تمہاری برداشت کروں گا؟ اْسے یہاں میرے پاس لاؤ۔
18۔ یسوع نے اْسے جھڑکا اور بدروح اْس میں سے نکل گئی اور وہ لڑکا اْسی گھڑی اچھا ہو گیا۔
19۔ تب شاگردوں نے یسوع کے پاس آکر خلوت میں کہا ہم اِس کو کیوں نہ نکال سکے؟
20۔ اْس نے اْن سے کہا اپنے ایمان کی کمی کے سبب سے کیونکہ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا تو اِس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہوگی۔
1 And after six days Jesus taketh Peter, James, and John his brother, and bringeth them up into an high mountain apart,
2 And was transfigured before them: and his face did shine as the sun, and his raiment was white as the light.
3 And, behold, there appeared unto them Moses and Elias talking with him.
4 Then answered Peter, and said unto Jesus, Lord, it is good for us to be here: if thou wilt, let us make here three tabernacles; one for thee, and one for Moses, and one for Elias.
5 While he yet spake, behold, a bright cloud overshadowed them: and behold a voice out of the cloud, which said, This is my beloved Son, in whom I am well pleased; hear ye him.
6 And when the disciples heard it, they fell on their face, and were sore afraid.
7 And Jesus came and touched them, and said, Arise, and be not afraid.
8 And when they had lifted up their eyes, they saw no man, save Jesus only.
9 And as they came down from the mountain, Jesus charged them, saying, Tell the vision to no man, until the Son of man be risen again from the dead.
14 And when they were come to the multitude, there came to him a certain man, kneeling down to him, and saying,
15 Lord, have mercy on my son: for he is lunatick, and sore vexed: for ofttimes he falleth into the fire, and oft into the water.
16 And I brought him to thy disciples, and they could not cure him.
17 Then Jesus answered and said, O faithless and perverse generation, how long shall I be with you? how long shall I suffer you? bring him hither to me.
18 And Jesus rebuked the devil; and he departed out of him: and the child was cured from that very hour.
19 Then came the disciples to Jesus apart, and said, Why could not we cast him out?
20 And Jesus said unto them, Because of your unbelief: for verily I say unto you, If ye have faith as a grain of mustard seed, ye shall say unto this mountain, Remove hence to yonder place; and it shall remove; and nothing shall be impossible unto you.
12۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ مَیں باپ کے پاس جاتا ہوں۔
12 Verily, verily, I say unto you, He that believeth on me, the works that I do shall he do also; and greater works than these shall he do; because I go unto my Father.
10۔۔۔۔باپ مجھ میں رہ کر کام کرتا ہے۔
10 …the Father that dwelleth in me, he doeth the works.
تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔ کائنات خدا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خالق اور ایک تخلیق کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ تخلیق روحانی خیالات اور اْن کی شناختوں کے ایاں ہونے پر مشتمل ہے، جو لامحدود عقل کے دامن سے جڑے ہیں اور ہمیشہ منعکس ہوتے ہیں۔ یہ خیالات محدود سے لامحدود تک وسیع ہیں اور بلند ترین خیالات خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation. This creation consists of the unfolding of spiritual ideas and their identities, which are embraced in the infinite Mind and forever reflected. These ideas range from the infinitesimal to infinity, and the highest ideas are the sons and daughters of God.
موسیٰ نے یہوواہ کے دس میں سے پہلے حکم کے طور پر یہ کہا: ”میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“
Moses declared as Jehovah's first command of the Ten: "Thou shalt have no other gods before me!"
تخلیق سے متعلق افسانوی انسانی نظریات، پرانے وقتوں میں جن کی درجہ بندی اعلیٰ تنقید کے طور پر ہوتی تھی، اْن کا جنم روم اور یونان کے متمدن علما ء سے ہوا،مگر وہ الٰہی عقل کی بنائی ہوئی تخلیق کے بارے میں درست خیالات کی کوئی بنیاد نہیں رکھتے تھے۔
فانی انسان نے اپنی آنکھوں سے ایک عہد باندھ رکھا ہے کہ وہ انسانی تصورات کے ذریعے خداکو حقیر سمجھے۔ مادی حواس کے ساتھ، بشر ہر چیز کے بارے میں محدود نظریہ رکھتا ہے۔ یہ کہ خدا جسمانی یا مادی ہے، کسی آدمی کو اس بات کی تصدیق نہیں کرنی چاہیے۔
The mythical human theories of creation, anciently classified as the higher criticism, sprang from cultured scholars in Rome and in Greece, but they afforded no foundation for accurate views of creation by the divine Mind.
Mortal man has made a covenant with his eyes to belittle Deity with human conceptions. In league with material sense, mortals take limited views of all things. That God is corporeal or material, no man should affirm.
صحائف کی سائنسی تشریح کی درست طور پر شروعات پرانے عہد نامہ کی ابتدا سے ہوتی ہے، خصوصاً اِس لئے کہ کلام کی روحانی آمد، اِس کے ابتدائی بیانات میں، اکثر اوقات فوری سیاق و سباق سے اِس قدر دھندلی سی لگتی ہے کہ اِس کی وضاحت کی ضرورت پڑتی ہے؛ جبکہ نئے عہد نامہ کی کہانیاں زیادہ واضح اور دل کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ یسوع اِنہیں منور کرتا ہے، فانی وجود کی کمتری کو ظاہر کرتے ہوئے، لیکن روحانی منافع کے ساتھ انسانی خواہش اور دْکھ کا بھر پور مداوا کرتے ہوئے۔
حق کا مجسم، حیرت اور جلال کی ایسی شدت فرشتے جس کی صرف سر گوشی کر سکے اور جسے خدا نے نور اور ہم آہنگی کے وسیلہ ظاہر کیا، ازل سے موجود محبت سے ہم آہنگ ہے۔
Scientific interpretation of the Scriptures properly starts with the beginning of the Old Testament, chiefly because the spiritual import of the Word, in its earliest articulations, often seems so smothered by the immediate context as to require explication; whereas the New Testament narratives are clearer and come nearer the heart. Jesus illumines them, showing the poverty of mortal existence, but richly recompensing human want and woe with spiritual gain. The incarnation of Truth, that amplification of wonder and glory which angels could only whisper and which God illustrated by light and harmony, is consonant with ever-present Love.
مسیحت جیسے کہ یسوع نے تعلیم دی تھی کہ یہ کوئی عقیدہ نہیں تھا، نہ ہی رسومات کا ایک نظام، نہ ہی ایک روایتی یہواہ کی طرف سے دیا گیا کوئی تحفہ تھا؛ بلکہ یہ غلطی کو باہر نکالنے اور بیمار کو شفا دینے والی الٰہی محبت کا اظہار تھا، جو محض سچائی یا مسیح کے نام پر نہیں تھا، بلکہ سچائی کے اظہار پر تھا، جیسے کہ الٰہی نور کے سلسلہ جات کے معاملے میں پایا جانا چاہئے۔
Christianity as Jesus taught it was not a creed, nor a system of ceremonies, nor a special gift from a ritualistic Jehovah; but it was the demonstration of divine Love casting out error and healing the sick, not merely in the name of Christ, or Truth, but in demonstration of Truth, as must be the case in the cycles of divine light.
کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ ایک عدالت کا حاکم جو یسوع کے زمانے میں رہتا تھا اْس نے یہ بیان دیا تھا:”اْس کی ملامت خوفناک ہے۔“ ہمارے مالک کی سخت زبان اس بیان کی تصدیق کرتی ہے۔
غلطی کے لئے جو واحد سزائے موت اْس نے دی وہ تھی، ”اے شیطان، میرے سامنے سے دور ہو۔“اس بات کی مزید تصدیق کہ یسوع کی سرزنش بہت نوکیلی اور چْبھنے والی تھی اْس کے اپنے الفاظ میں پائی جاتی ہے، اس قدر شدید بیان کو ضروری ثابت کرتے ہوئے، جب اْس نے بدروحوں کو نکالا اور بیمار اور گناہگار کو شفا دی۔غلطی کی دستبرداری مادی فہم کو اِس کے جھوٹے دعووں سے محروم کرتی ہے۔
It is believed by many that a certain magistrate, who lived in the time of Jesus, left this record: "His rebuke is fearful." The strong language of our Master confirms this description.
The only civil sentence which he had for error was, "Get thee behind me, Satan." Still stronger evidence that Jesus' reproof was pointed and pungent is found in his own words, — showing the necessity for such forcible utterance, when he cast out devils and healed the sick and sinning. The relinquishment of error deprives material sense of its false claims.
مصر میں، یہ عقل ہی تھی جس نے اسرائیلیوں کو وباؤں پر یقین کرنے سے بچایا۔ بیابان میں، چٹان سے چشمے پھوٹے اور من آسمان سے برسا۔۔۔ قومی خوشحالی میں، معجزات نے عبرانیوں کو فتح یابی دلائی؛ مگر جونہی وہ حقیقی خیال سے دور ہٹے اْن کی بربادی کا آغاز ہوگیا۔
In Egypt, it was Mind which saved the Israelites from belief in the plagues. In the wilderness, streams flowed from the rock, and manna fell from the sky … In national prosperity, miracles attended the successes of the Hebrews; but when they departed from the true idea, their demoralization began.
غلطی کو نیست کرنے والی اعلیٰ سچائی خدا یعنی اچھائی واحد عقل ہے اور یہ کہ لامحدود عقل کی جعلی مخالف، جسے شیطان یا بدی کہا جاتا ہے، عقل نہیں، سچائی نہیں بلکہ غلطی ہے، جو حقیقت اور ذہانت سے عاری ہے۔یہاں صرف ایک عقل ہوسکتی ہے کیونکہ خدا صرف ایک ہے؛ اور اگر بشر نے کسی اور عقل کا دعویٰ نہیں کیا اور کسی اور کو قبول نہیں کیا تو گناہ گمنام ہوگا۔
The exterminator of error is the great truth that God, good, is the only Mind, and that the supposititious opposite of infinite Mind — called devil or evil — is not Mind, is not Truth, but error, without intelligence or reality. There can be but one Mind, because there is but one God; and if mortals claimed no other Mind and accepted no other, sin would be unknown.
واحد ذہانت یا سوچ کا مواد، ایک بیج یا ایک پھول خدا ہے، جو اس کا خالق ہے۔عقل سب کی روح ہے۔ عقل وہ زندگی، سچائی اور محبت ہے جو سب پر حکومت کرتی ہے۔
The only intelligence or substance of a thought, a seed, or a flower is God, the creator of it. Mind is the Soul of all. Mind is Life, Truth, and Love which governs all.
وہی طاقت جو گناہ سے شفا دیتی ہے وہ بیماری سے بھی شفا دیتی ہے۔۔۔جب مسیح نے گونگی بدروح کو باہر نکالا، ”اور جب وہ بد روح نکل گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا۔“اسرائیل کے مقدس کو محدود کرتے ہوئے اور یہ پوچھتے ہوئے یہودیوں کے جرم کو دوہرانا آج خطرناک ہے کہ: ”کیا خدا بیابان میں دستر خوان بچھا سکتا ہے؟“خدا کیا نہیں کر سکتا؟
The same power which heals sin heals also sickness … When Christ cast out the devil of dumbness, "it came to pass, when the devil was gone out, the dumb spake." There is to-day danger of repeating the offence of the Jews by limiting the Holy One of Israel and asking: "Can God furnish a table in the wilderness?" What cannot God do?
یہاں مادے کے مقابلے میں روحانی قدرت کی برتری پر یقین رکھنے کا الٰہی اختیار ہے۔
ایک معجزہ خدا کے قانون کو پورا کرتا ہے، لیکن اْس قانون کو توڑتا نہیں۔ یہ حقیقت خود معجزے کی نسبت زیادہ پْر اسرار لگتی ہے۔ زبور نویس نے یہ گایا: ”اے سمندرتجھے کیا ہواکہ تُو بھاگتا ہے؟ اے یردن!تجھے کیا ہوا کہ تو پیچھے ہٹتا ہے؟ اَے پہاڑو! تمکو کیا ہوا کہ تُم مینڈھوں کی طرح اچھلتے ہو؟ اے پہاڑیو! تمکو کیا ہواکہ تُم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتی ہو؟اَے زمین تُو رب کے حضور۔ یعقوب کے خدا کے حضور تھرتھرا۔“ یہ معجزہ کوئی اختلاف متعارف نہیں کراتا، بلکہ خدا کے ناقابل تبدیل قانون کی سائنس کو قائم کرتے ہوئے بنیادی ترتیب کو واضح کرتا ہے۔صرف روحانی ارتقا ء ہی الٰہی قوت کی مشق کرنے کے قابل ہے۔
There is divine authority for believing in the superiority of spiritual power over material resistance.
A miracle fulfils God's law, but does not violate that law. This fact at present seems more mysterious than the miracle itself. The Psalmist sang: "What ailed thee, O thou sea, that thou fleddest? Thou Jordan, that thou wast driven back? Ye mountains, that ye skipped like rams, and ye little hills, like lambs? Tremble, thou earth, at the presence of the Lord, at the presence of the God of Jacob." The miracle introduces no disorder, but unfolds the primal order, establishing the Science of God's unchangeable law. Spiritual evolution alone is worthy of the exercise of divine power.
وہ الٰہی فہم جس نے انسان کو خلق کیا اپنی صورت اور شبیہ کو برقرار رکھتا ہے۔ انسانی عقل خدا کے مخالف ہے اور اِسے ختم ہونا چاہئے، جیسے کہ پولوس رسول واضح کرتا ہے۔جو وجود رکھتا ہے وہ محض الٰہی فہم اور اْس کا خیال ہے، اسی فہم میں ساری ہستی ہم آہنگ اور ابدی پائی جاتی ہے۔ سیدھا یا تنگ راستہ اس حقیقت کو دیکھنے اور تسلیم کرنے، اس قوت کو قبول کرنے اور سچائی کی راہوں کی پیروی کرنے کے لئے ہے۔
The divine Mind that made man maintains His own image and likeness. The human mind is opposed to God and must be put off, as St. Paul declares. All that really exists is the divine Mind and its idea, and in this Mind the entire being is found harmonious and eternal. The straight and narrow way is to see and acknowledge this fact, yield to this power, and follow the leadings of truth.
زندگی ہمیشہ کا ”مَیں ہوں“، یعنی وہ ہستی جو تھا اور جو ہے اور جو آنے والا ہے، جسے کوئی چیز بھی ختم نہیں کر سکتی۔
Life is the everlasting I am, the Being who was and is and shall be, whom nothing can erase.
جیسے بنی اسرائیل کو بحرم قلزم، انسانی خوف کے تاریک اتار چڑھاؤ، سے گزرتے ہوئے فتح مندی کے ساتھ ہدایت ملی، جیسے اْنہیں بیابان میں،انسانی امیدوں کے بڑے صحرا میں تکالیف کے ساتھ گزرتے ہوئے، اور وعدہ کی ہوئی خوشی کی توقع لگائے ہوئے، راہنمائی ملی، اسی طرح سمجھ سے روح تک، وجودیت کے مادی فہم سے روحانی فہم تک کے سفر کے دوران روحانی خیال تما م تر جائز خواہشات کی راہنمائی کرے گا اور اْن سب کو جلال کے لئے تیار کرے گا جو خدا سے محبت رکھتے ہیں۔
As the children of Israel were guided triumphantly through the Red Sea, the dark ebbing and flowing tides of human fear, — as they were led through the wilderness, walking wearily through the great desert of human hopes, and anticipating the promised joy, — so shall the spiritual idea guide all right desires in their passage from sense to Soul, from a material sense of existence to the spiritual, up to the glory prepared for them who love God.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔