اتوار 7 دسمبر ، 2025
سن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔
“Hear, O Israel: The Lord our God is one Lord.”
1۔ میری جان کو خدا ہی کی آس ہے۔ میری نجات اْسی سے ہے۔
2۔ وہی اکیلا میری چٹان اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اْونچا برج ہے۔ مجھے زیادہ جنبش نہ ہوگی۔
5۔ اے میری جان خدا ہی کی آس رکھ کیونکہ اسی سے مجھے امید ہے۔
6۔ وہی اکیلامیری چٹان اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اونچا برج ہے مجھے جنبش نہ ہو گی۔
7۔ میری نجات اور میری شوکت خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ہی میری قوت کی چٹان اور میری پناہ ہے۔
8۔ اے لوگو! ہر وقت اس پر توکل کرو۔اپنے دل کا حال اسکے سامنے کھول دو۔ خدا ہماری پناہ گاہ ہے۔
11۔ خدا نے ایک بار فرمایا میں نے دو بار سنا کہ قدرت خدا ہی کی ہے۔
1. Truly my soul waiteth upon God: from him cometh my salvation.
2. He only is my rock and my salvation; he is my defence; I shall not be greatly moved.
5. My soul, wait thou only upon God; for my expectation is from him.
6. He only is my rock and my salvation: he is my defence; I shall not be moved.
7. In God is my salvation and my glory: the rock of my strength, and my refuge, is in God.
8. Trust in him at all times; ye people, pour out your heart before him: God is a refuge for us.
11. God hath spoken once; twice have I heard this; that power belongeth unto God.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
44۔ تم جو ایک دوسرے سے عزت چاہتے ہو اور وہ عزت جو خدائے واحد کی طرف سے ہوتی ہے نہیں چاہتے، کیونکر ایمان لا سکتے ہو؟
44 How can ye believe, which receive honour one of another, and seek not the honour that cometh from God only?
6۔۔۔۔ اِس لئے کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔
6 …he that cometh to God must believe that he is, and that he is a rewarder of them that diligently seek him.
1۔ اور شاہِ اسر ائیل ہوسیع بن ایلہ کے تیسرے سال ایسا ہوا کہ شاہِ یہوداہ آخز کا بیٹا حزقیاہ سلطنت کرنے لگا۔
3۔اور جو جو اْس کے باپ داؤدنے کیا تھا اْس نے ٹھیک اْسی کے مطابق وہ کام کیا جو خداوند کی نظر میں بھلا تھا۔
5۔اور وہ خداوند اسرائیل کے خدا پر توکل کرتا تھا ایسا کہ اْس کے بعد یہوداہ کے سب بادشاہوں میں اْس کی مانند ایک نہ ہوا اور نہ اْس سے پہلے کوئی ہوا تھا۔
6۔ کیونکہ وہ خداوند سے لپٹارہا اور اْس کی پیروی کرنے سے باز نہ آیا بلکہ اْس کے حکموں کو مانا جن کو خداوند نے موسیٰ کو دیا تھا۔
7۔اورخداوند اْس کے ساتھ رہا اور جہاں کہیں وہ گیا کامیاب ہوا اور وہ شاہِ اسور سے منحرف ہو گیا اور اْس کی اطاعت نہ کی۔
9۔ اور حزقیاہ بادشاہ چوتھے برس جو شاہِ اسرائیل ہوسیع بن ایلہ کا ساتواں برس تھا ایسا ہوا کہ شاہِ اسور سلمنسر نے سامریہ پر چڑھائی کی اور اْس کا محاصرہ کیا۔
10۔ اور تین سال کے آخر میں انہوں نے اْس کو لے لیا یعنی حزقیاہ کے چھٹے سال جو شاہِ اسرائیل ہوسیع کا نواں برس تھا سامریہ لے لیا گیا۔
11۔ اور شاہِ اسور اسرائیل کو اسیر کر کے اسور کو لے گیا اور اْن کو خلح میں جوزان کی ندی خابود پر اور مادیوں کے شہروں میں رکھا۔
13۔اور حزقیاہ بادشاہ کے چودھویں برس شاہِ اسور سیخرب نے یہوداہ کے سب فصیلدا شہروں پر چڑھائی کی اور اْن کو لے لیا۔
17۔پھر بھی شاہِ اسور نے ترتان اور رب سارس اور بشاقی کولیکس سے بڑے لشکر کے ساتھ حزقیاہ بادشاہ کے پاس یروشلم کو بھیجا۔
19۔اور ربشاقی نے اْن سے کہا تم حزقیاہ سے کہو کہ ملک معظم شاہ ِ اسوریوں فرماتا ہے کہ تْو کیا اعتماد کیے بیٹھا ہے؟
20۔ تْو کہتا تو ہے پر یہ فقط باتیں ہی باتیں ہیں کہ جنگ کی مصلحت بھی ہے اور حوصلہ بھی۔ آخر کس کے برتے پر تْونے مجھ سے سر کشی کی ہے۔
28۔پھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہودیوں کو بلند آواز سے یہ کہنے لگا کہ ملک معظم شاہِ اسور کا کام سنو۔
29۔ بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ حزقیاہ تم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تم کو اْس کے ہاتھ سے چھڑا نہ سکے گا۔
30۔اور حزقیاہ یہ کہہ کر تم سے خداوند پر بھروسہ کرائے کہ خداوند ضرور ہم کو چھڑائے گا اور یہ شہر شاہِ اسور کے حوالہ نہ ہو گا۔
36۔پر لوگ خاموش رہے اور اْس کے جواب میں ایک بھی بات نہ کہی۔ کیونکہ بادشاہ کا حکم یہ تھا کہ اْسے جواب نہ دینا۔
37۔تب الیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبیناہ منشی اور یوآخ بن آسف مْحرر اپنے کپڑے چاک کئے ہوئے حزقیاہ کے پاس آئے اور ربشاقی کی باتیں اْسے سنائیں۔
1 Now it came to pass in the third year of Hoshea son of Elah king of Israel, that Hezekiah the son of Ahaz king of Judah began to reign.
3 And he did that which was right in the sight of the Lord, according to all that David his father did.
5 He trusted in the Lord God of Israel; so that after him was none like him among all the kings of Judah, nor any that were before him.
6 For he clave to the Lord, and departed not from following him, but kept his commandments, which the Lord commanded Moses.
7 And the Lord was with him; and he prospered whithersoever he went forth:
9 And it came to pass in the fourth year of king Hezekiah, which was the seventh year of Hoshea son of Elah king of Israel, that Shalmaneser king of Assyria came up against Samaria, and besieged it.
10 And at the end of three years they took it:
11 And the king of Assyria did carry away Israel unto Assyria,
13 Now in the fourteenth year of king Hezekiah did Sennacherib king of Assyria come up against all the fenced cities of Judah, and took them.
17 And the king of Assyria sent Tartan and Rabsaris and Rab-shakeh from Lachish to king Hezekiah with a great host against Jerusalem.
19 And Rab-shakeh said unto them, Speak ye now to Hezekiah, Thus saith the great king, the king of Assyria, What confidence is this wherein thou trustest?
20 Thou sayest, (but they are but vain words,) I have counsel and strength for the war. Now on whom dost thou trust, that thou rebellest against me?
28 Hear the word of the great king, the king of Assyria:
29 Let not Hezekiah deceive you: for he shall not be able to deliver you out of his hand:
30 Neither let Hezekiah make you trust in the Lord, saying, The Lord will surely deliver us, and this city shall not be delivered into the hand of the king of Assyria.
36 But the people held their peace, and answered him not a word: for the king’s commandment was, saying, Answer him not.
37 Then came Eliakim the son of Hilkiah, which was over the household, and Shebna the scribe, and Joah the son of Asaph the recorder, to Hezekiah with their clothes rent, and told him the words of Rab-shakeh.
1۔جب حزقیاہ بادشاہ نے یہ سنا تو اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اوڑھ کر خداوند کے گھر میں گیا۔
2۔اور اْس نے گھر کے دیوان الیاقیم اور شبیناہ منشی اور کاہنوں کے بزرگوں کو ٹاٹ اوڑھاکر آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا۔
6۔یسعیاہ نے اْن سے کہا کہ تم اپنے آقا سے یوں کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تْو اْن باتوں سے جو تْو نے سنی ہیں جن سے شاہِ اسور کے ملازموں نے میری تکفیر کی ہے نہ ڈر۔
7۔دیکھ! مَیں اْس میں سے ایک روح دوں گا اور وہ ایک افواہ سن کر اپنے ملک کو لوٹ جائے گا اور میں اْسے اْسی کے ملک میں تلوار سے مروا ڈالوں گا۔
14۔ حزقیاہ نے ایلچیوں کے ہاتھ سے نامی لیا اور اْسے پڑھا اور حزقیاہ نے خداوند کے گھر میں جا کر اْسے خداوند کے حضور پھیلا دیا۔
15۔ اور حزقیاہ نے خداوند کے حضور یوں دعا کی کہ اے میرے خداوند اسرائیل کے خدا کروبیوں کے اوپر بیٹھنے والے تْو ہی اکیلا زمین کی سب سلطنتوں کا خدا ہے۔ تْو ہی نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔
19۔سو اب اے خداوند ہمارے خدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ تْو ہم کو اْن کے ہاتھ سے بچا لے تاکہ زمین کی سلطنتیں جان لیں کہ تْو ہی اکیلا خداوند خدا ہے۔
20۔ تب یسعیاہ بن عاموس نے حزقیاہ کو کہلا بھیجا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تْونے شاہِ اسور سخیرب کے خلاف مجھ سے دعا کی ہے میں نے تیری سن لی ہے۔
32۔تو خداوند شاہِ اسور کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ اس شہر میں آنے یا یہاں تیر چلانے نہ پائے گا وہ نہ تو سپرلے کر اْس کے سامنے آنے اور نہ اْس کے مقابل دمدما باندھنے پائے گا۔
33۔ بلکہ خداوند فرماتا ہے کہ جس راہ سے وہ آیا اْسی راہ سے لوٹ جائے گا اور اِس شہر میں آنے نہ پائے گا۔
34۔ کیونکہ میں اپنی خاطر اور اپنے بندہ داؤد کی خاطر اِس شہر کی حمایت کروں گا تاکہ اْسے بچا لوں۔
1 And it came to pass, when king Hezekiah heard it, that he rent his clothes, and covered himself with sackcloth, and went into the house of the Lord.
2 And he sent Eliakim, which was over the household, and Shebna the scribe, and the elders of the priests, covered with sackcloth, to Isaiah the prophet the son of Amoz.
6 And Isaiah said unto them, Thus shall ye say to your master, Thus saith the Lord, Be not afraid of the words which thou hast heard, with which the servants of the king of Assyria have blasphemed me.
7 Behold, I will send a blast upon him, and he shall hear a rumour, and shall return to his own land;
14 And Hezekiah received the letter of the hand of the messengers, and read it: and Hezekiah went up into the house of the Lord, and spread it before the Lord.
15 And Hezekiah prayed before the Lord, and said, O Lord God of Israel, which dwellest between the cherubims, thou art the God, even thou alone, of all the kingdoms of the earth; thou hast made heaven and earth.
19 Now therefore, O Lord our God, I beseech thee, save thou us out of his hand, that all the kingdoms of the earth may know that thou art the Lord God, even thou only.
20 Then Isaiah the son of Amoz sent to Hezekiah, saying, Thus saith the Lord God of Israel, That which thou hast prayed to me against Sennacherib king of Assyria I have heard.
32 He shall not come into this city, nor shoot an arrow there, nor come before it with shield, nor cast a bank against it.
33 By the way that he came, by the same shall he return, and shall not come into this city, saith the Lord.
34 For I will defend this city, to save it, for mine own sake, and for my servant David’s sake.
1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا،
3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔
11۔ اے قدوس باپ! اپنے اُس نام کے وسیلہ سے جو تو نے مجھے بخشا ہے اُن کی حفاظت کرتا کہ وہ ہماری طرح ایک ہوں۔
13۔ لیکن اب میں تیرے پاس آتا ہوں اور یہ باتیں دنیا میں کہتا ہوں تاکہ میری خوشی اْنہیں پوری پوری حاصل ہو۔
17۔ انہیں سچائی کے وسیلہ سے مقدس کر۔ تیرا کلام سچائی ہے۔
20۔ مَیں صرف انہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اْن کے لئے بھی جو اِن کے کلام کے وسیلہ سے مجھ پر ایمان لائیں گے۔
21۔ تاکہ سب ایک ہوں یعنی جس طرح اے باپ! تْو مجھ میں ہے اور مَیں تجھ میں ہوں وہ بھی ہم میں ہوں اور دنیا ایمان لائے کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا۔
26۔ اور مَیں نے اْنہیں تیرے نام سے واقف کیا اور کرتارہوں گا تاکہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اْن میں ہو اور مَیں اْن میں ہوں۔
1 These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said,
3 …this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.
11 Holy Father, keep through thine own name those whom thou hast given me, that they may be one, as we are.
13 And now come I to thee; and these things I speak in the world, that they might have my joy fulfilled in themselves.
17 Sanctify them through thy truth: thy word is truth.
20 Neither pray I for these alone, but for them also which shall believe on me through their word;
21 That they all may be one; as thou, Father, art in me, and I in thee, that they also may be one in us: that the world may believe that thou hast sent me.
26 …that the love wherewith thou hast loved me may be in them, and I in them.
25۔اور اس خدائے واحد کا جو ہمارا منجی ہے جلال اور عظمت اور سلطنت اور اختیار ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے جیسا ازل سے ہے اب بھی ہو اور ابدالآباد رہے۔آمین
25 To the only wise God our Saviour, be glory and majesty, dominion and power, both now and ever. Amen.
تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔
The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation.
”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔ اس میں زندگی کی سائنس شامل ہے اور یہ روح پر الٰہی قابو کی شناخت کرتی ہے، جس میں ہماری روح ہماری مالک بن جاتی ہے اور مادی حس اور انسانی رضا کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔
Dost thou "love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind"? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity. It involves the Science of Life, and recognizes only the divine control of Spirit, in which Soul is our master, and material sense and human will have no place.
ایک خدا کو ماننے اور خود کو روح کی قوت کے لئے دستیاب کرنے کے لئے آپ کو خدا کے ساتھ بے حد محبت رکھنا ہوگی۔
To have one God and avail yourself of the power of Spirit, you must love God supremely.
خدا فطرتی اچھائی ہے، اور اْس کی نمائندگی صرف نیکی کے خیال سے ہوتی ہے؛ جبکہ بدی کو غیر فطری سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ روح، خدا کی فطرت کے برخلاف ہے۔
God is natural good, and is represented only by the idea of goodness; while evil should be regarded as unnatural, because it is opposed to the nature of Spirit, God.
کرسچن سائنس غیر متنازعہ طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ عقل ہی سب کچھ ہے، کہ واحد حقائق الٰہی عقل اور خیال ہیں۔ تاہم، اس بڑی حقیقت کو عقلی دلائل سے ثابت نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اِس کے الٰہی اصول کو بیماروں کی شفا سے ظاہر نہ کیا جائے اوریوں یہ مطلق اور الٰہی ثابت ہو۔ اس ثبوت کوجب ایک بار دیکھ لیا جاتا ہے تو کسی اور نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔
Christian Science reveals incontrovertibly that Mind is All-in-all, that the only realities are the divine Mind and idea. This great fact is not, however, seen to be supported by sensible evidence, until its divine Principle is demonstrated by healing the sick and thus proved absolute and divine. This proof once seen, no other conclusion can be reached.
چند لوگوں نے غور کیا ہے کہ لفظ فکر کرنے سے کرسچن سائنس کی کیا مراد ہے۔ خود سے متعلق، مادی اور فانی انسان اپنے آپ کو مواد دکھائی دیتا ہے، مگر مواد کے اِس فہم میں غلطی ہے اور اسی لئے یہ مادی، عارضی ہے۔
دوسری طرف، لافانی، روحانی انسان حقیقی ذات ہے، اور یہ ابدی مواد یا روح سے متعلق غور کرتا ہے، جس کی بشر امید کرتے ہیں۔وہ اْس الٰہی پر غور کرتا ہے، جو واحد حقیقی اور ابدی الوہیت جاری رکھتا ہے۔یہ فکر فانی فہم کے لئے غیر واضع دکھائی دیتی ہے، کیونکہ روحانی انسان کی اصلیت انسانی بصیرت کو واضح کرتی ہے اور یہ محض الٰہی سائنس کے وسیلہ ظاہر کی جاتی ہے۔
جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔
Few persons comprehend what Christian Science means by the word reflection. To himself, mortal and material man seems to be substance, but his sense of substance involves error and therefore is material, temporal.
On the other hand, the immortal, spiritual man is really substantial, and reflects the eternal substance, or Spirit, which mortals hope for. He reflects the divine, which constitutes the only real and eternal entity. This reflection seems to mortal sense transcendental, because the spiritual man's substantiality transcends mortal vision and is revealed only through divine Science.
As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind.
آئیے ہم اِس عقیدے سے پیچھا چھڑائیں کہ انسان خدا سے الگ ہے اور صرف الٰہی اصول، زندگی اور محبت کی فرمانبرداری کریں۔ یہاں پوری حقیقی روحانی ترقی کے لئے روانگی کا بڑا نقطہ آتا ہے۔
Let us rid ourselves of the belief that man is separated from God, and obey only the divine Principle, Life and Love. Here is the great point of departure for all true spiritual growth.
خدا نے انسان کو غیر مْنفک حقوق عطا کر رکھے ہیں، جن میں خود مختاری، وجہ اور ضمیر شامل ہیں۔ انسان محض اْس وقت خود مختار ہوتا ہے جب وہ بہتر طور پر اپنے خالق، الٰہی سچائی اور محبت سے ہدایت پاتا ہے۔
God has endowed man with inalienable rights, among which are self-government, reason, and conscience. Man is properly self-governed only when he is guided rightly and governed by his Maker, divine Truth and Love.
یسوع نے کسی بدنی تعلق کو تسلیم نہیں کیا۔
وہ روح، خدا کو واحد خالق کے روپ میں جانتا تھا اور اِس لئے اْسے بطور سب کا باپ بھی جانتا تھا۔
مسیحی فرائض کی فہرست میں سب سے پہلا فرض جواْس نے اپنے پیروکاروں کوسکھایا وہ سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت ہے۔
Jesus acknowledged no ties of the flesh.
He recognized Spirit, God, as the only creator, and therefore as the Father of all.
First in the list of Christian duties, he taught his followers the healing power of Truth and Love.
غلطی کرنے والی انسانی عقل اپنے آپ میں غیر ہم آہنگ ہے۔اسی سے غیر ہم آہنگ بدن پیدا ہوتا ہے۔بیماری میں خدا کوادنیٰ مستعمل تصور کرنا ایک غلطی ہے۔ جسمانی مصائب کے دوران اْسے ایک طرف کرنے، اور اْسے قبول کرنے کی گھڑی کا انتظار کرنے کی بجائے ہمیں سیکھنا چاہئے کہ وہ بیماری میں بھی سب کام کر سکتا ہے جیسے صحت میں کرسکتا ہے۔
علم الحیات اور حفظان صحت کے فروغ کے وسیلہ صحت مندی کو بحال کرنے میں ناکام ہونا، مایوس باطل اکثر اْنہیں ترک کردیتا ہے، اور اپنی انتہا میں اور صرف بطور آخری قیام گاہ، وہ خدا کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ادویات، ہوا اور تجربے پریقین کی نسبت باطل کا الٰہی عقل پر یقین کم ہوتا ہے، وگرنہ وہ پہلے عقل سے بحال ہوجاتا۔ زیادہ تر طبی نظاموں کی جانب سے قوت کا توازن مادے کی بدولت تسلیم کیا جاتا ہے؛ لیکن جب عقل کم از کم اپنی مہارت کاگناہ، بیماری اور موت پر دعویٰ کرتی ہے، تبھی انسان ہم آہنگ اور لافانی پایا جاتا ہے۔
کیا ہمیں ایک جسمانی خدا سے اْس کی ذاتی رضامندی سے بیماروں کو شفا دینے کی درخواست کرنی چاہئے، یا ہمیں اْس لامحدود الٰہی اصول کو سمجھنا چاہئے جو شفا دیتا ہے؟ اگر ہم اندھے اعتقاد سے اونچا نہیں اٹھتے تو شفا کی سائنس حاصل نہیں ہوتی، اور فہم کی وجودیت کی جگہ، جان کی وجودیت سمجھ میں نہیں آتی۔ہم الٰہی سائنس میں صرف تبھی زندگی حاصل کرتے ہیں جب ہم جسمانی فہم سے بلند زندگی گزارتے اور اْسے درست کرتے ہیں۔ نیکی یا بدی کے دعووں کے لئے ہمارا متناسب اعتراف ہماری وجودیت کی ہم آہنگی، ہماری صحت، ہماری عمر کی درازی، اور ہماری مسیحت کا تعین کرتا ہے۔
ہم دو مالکوں کی غلامی نہیں کرسکتے اور نہ مادی حواس کے ساتھ الٰہی سائنس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ادویات اور حفظانِ صحت ساری تندرستی اور کاملیت کے منبع کی طاقت اور مقام پر غاصب نہیں ہوسکتے۔اگر خدا نے انسان کو اچھا اور برا دونوں بنایا ہے تو اْسے ایسا ہی رہنا چاہئے۔خدا کے کام کی اصلاح کیا کرسکتا ہے؟دوباہ، بنیاد میں ایک غلطی نتائج میں واضح ضرورہونی چاہئے۔
The erring human mind is inharmonious in itself. From it arises the inharmonious body. To ignore God as of little use in sickness is a mistake. Instead of thrusting Him aside in times of bodily trouble, and waiting for the hour of strength in which to acknowledge Him, we should learn that He can do all things for us in sickness as in health.
Failing to recover health through adherence to physiology and hygiene, the despairing invalid often drops them, and in his extremity and only as a last resort, turns to God. The invalid's faith in the divine Mind is less than in drugs, air, and exercise, or he would have resorted to Mind first. The balance of power is conceded to be with matter by most of the medical systems; but when Mind at last asserts its mastery over sin, disease, and death, then is man found to be harmonious and immortal.
Should we implore a corporeal God to heal the sick out of His personal volition, or should we understand the infinite divine Principle which heals? If we rise no higher than blind faith, the Science of healing is not attained, and Soul-existence, in the place of sense-existence, is not comprehended. We apprehend Life in divine Science only as we live above corporeal sense and correct it. Our proportionate admission of the claims of good or of evil determines the harmony of our existence, — our health, our longevity, and our Christianity.
We cannot serve two masters nor perceive divine Science with the material senses. Drugs and hygiene cannot successfully usurp the place and power of the divine source of all health and perfection. If God made man both good and evil, man must remain thus. What can improve God's work? Again, an error in the premise must appear in the conclusion.
جب بشر خدا اور انسان سے متعلق درست خیالات رکھتے ہیں، تخلیق کے مقاصد کی کثرت، جو اس سے قبل نادیدنی تھی، اب دیدنی ہو جائے گی۔ جب ہمیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی روح ہے، نہ کبھی مادے کا اور نہ کبھی مادے میں، یہ ادراک خدا میں سب کچھ اچھا پاتے ہوئے اور کسی دوسرے شعور کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے، خود کاملیت کی طرف وسیع ہو گا۔
روح اور اْس کی اصلاحات ہستی کے واحد حقائق ہیں۔مادا روح کی خورد بین تلے غائب ہوجاتا ہے۔
As mortals gain more correct views of God and man, multitudinous objects of creation, which before were invisible, will become visible. When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.
Spirit and its formations are the only realities of being. Matter disappears under the microscope of Spirit.
ہم جانتے ہیں کہ پاکیزگی پانے کے لئے پاکیزگی کی خواہش رکھنا لازمی شرط ہے؛ لیکن اگر ہم سب چیزوں سے زیادہ پاکیزگی کی خواہش رکھتے ہیں، تو ہم اس کے لئے ہر چیز قربان کر دیں گے۔ ہمیں ایسا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ہم پاکیزگی کی عملی راہ پر بحفاظت چل سکتے ہیں۔ دعا ناقابل تبدیل سچائی کو نہیں بدل سکتی، نہ ہی تنہا ہمیں سچائی کی سمجھ عطا کر سکتی ہے؛ مگر دعا، خدا کی مرضی کو جاننے اور اْسے پورا کرنے کی ایک پرجوش مستقل خواہش کے ساتھ جڑتے ہوئے، ہم سب کو سچائی کے پاس لائے گی۔ ایسی خواہش کو قابلِ سماعت اظہار کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے۔ اِسے سوچ اور زندگی میں بہترین طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔
We know that a desire for holiness is requisite in order to gain holiness; but if we desire holiness above all else, we shall sacrifice everything for it. We must be willing to do this, that we may walk securely in the only practical road to holiness. Prayer cannot change the unalterable Truth, nor can prayer alone give us an understanding of Truth; but prayer, coupled with a fervent habitual desire to know and do the will of God, will bring us into all Truth. Such a desire has little need of audible expression. It is best expressed in thought and in life.
کرسچن سائنس میں ہدایت پانے والے اِس جلالی تصور تک پہنچے کہ خدا ہی انسان کا واحد مصنف ہے۔
Those instructed in Christian Science have reached the glorious perception that God is the only author of man.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔