اتوار 8 فروری، 2026



مضمون۔ روح

SubjectSpirit

سنہری متن: استثنا 4 باب 36 آیت

’اْس نے اپنی آواز آسمان میں سے تجھ کو سنائی تاکہ تجھ کو تربیت کرے۔



Golden Text: Deuteronomy 4 : 36

Out of heaven he made thee to hear his voice, that he might instruct thee.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: کلسیوں 1 باب 3، 9 تا 13 آیات


3۔ ہم تمہارے حق میں ہمیشہ دعا کر کے اپنے خداوند یسوع مسیح کے باپ یعنی خدا کا شکر کرتے ہیں۔

9۔ اِس لئے جس دن سے یہ سنا ہے ہم بھی تمہارے واسطے یہ دعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے کہ تم کمال روحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اْس کی مرضی کے علم سے معمور ہوجاؤ۔

10۔ تاکہ تمہارا چال چلن خداوند کے لائق ہو اور اْس کو ہر طرح سے پسند آئے اور تم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان میں بڑھتے جاؤ۔

11۔ اور اْس کے جلال کی قدرت کے موافق ہر طرح کی قدرت سے قوی ہوتے جاؤ تاکہ خوشی کے ساتھ ہر صورت سے صبر اور تحمل کر سکو۔

12۔ اور باپ کا شکر کرتے رہو جس نے ہم کو اِس لائق کیا کہ نور میں مقدسوں کے ساتھ حصہ پائیں۔

13۔ اْسی نے ہم کو تاریکی کے قبضہ سے چھڑا کر اپنے عزیز بیٹے کی بادشاہی میں داخل کیا۔

Responsive Reading: Colossians 1 : 3, 9-13

3.     We give thanks to God and the Father of our Lord Jesus Christ, praying always for you.

9.     For this cause we also, since the day we heard it, do not cease to pray for you, and to desire that ye might be filled with the knowledge of his will in all wisdom and spiritual understanding;

10.     That ye might walk worthy of the Lord unto all pleasing, being fruitful in every good work, and increasing in the knowledge of God;

11.     Strengthened with all might, according to his glorious power, unto all patience and longsuffering with joyfulness;

12.     Giving thanks unto the Father, which hath made us meet to be partakers of the inheritance of the saints in light:

13.     Who hath delivered us from the power of darkness, and hath translated us into the kingdom of his dear Son.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 ۔ ایوب 32 باب 8 (وہاں)آیت

8۔۔۔۔ انسان میں روح ہے اور قادر مطلق کا دم خرد بخشتا ہے۔

1. Job 32 : 8 (there)

8     … there is a spirit in man: and the inspiration of the Almighty giveth them understanding.

2 ۔ یسعیاہ 64 باب 4 (جب سے) آیت

4۔۔۔۔ کیونکہ ابتدا ہی سے نہ کسی نے سنا نہ کسی کے کان تک پہنچا اور آنکھوں نے تیرے سوا ایسے خدا کو دیکھا جو اپنے انتظار کرنے والے کے لئے کچھ کر دکھائے۔

2. Isaiah 64 : 4 (since)

4     …since the beginning of the world men have not heard, nor perceived by the ear, neither hath the eye seen, O God, beside thee, what he hath prepared for him that waiteth for him.

3 ۔ حزقی ایل 11 باب 16 (اس طرح) (تا:)، 19 (میں ڈالوں گا) (تا؛)، 20، 21 آیات

16۔ اِس لئے تْو کہہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے،

19۔ مَیں نئی روح تمہارے باطن میں ڈالوں گا،

20۔تاکہ وہ میرے آئین پر چلیں اور میرے احکام پر عمل کریں اور اْن پر کار بند ہوں اور وہ میرے لوگ ہوں گے اورمَیں اْن کا خدا ہوں گا۔

21۔ لیکن جن کا دل اپنی نفرتی اور مکروہ چیزوں کا طالب ہو کر اْن کی پیروی میں ہے اْن کا باپ خداوند فرماتا ہے کہ میں اْن کی روش کو اْن ہی کے سر پر لاؤں گا۔

3. Ezekiel 11 : 16 (Thus) (to ;), 19 (I will put) (to ;), 20, 21

16     Thus saith the Lord God;

19     I will put a new spirit within you;

20     That they may walk in my statutes, and keep mine ordinances, and do them: and they shall be my people, and I will be their God.

21     But as for them whose heart walketh after the heart of their detestable things and their abominations, I will recompense their way upon their own heads, saith the Lord God.

4 ۔ 1 سیموئیل 3 باب 1 تا 11، 19، 20 آیات

1۔ اور لڑکا سیموئیل عیلی کے سامنے خداوند کی خدمت کرتا تھا اور اْن دنوں خداوند کا کلام گراں قدر تھا۔ کوئی رویا برملا نہ ہوتی تھی۔

2۔ اور اْس وقت ایسا ہوا کہ جب عیلی اپنی جگہ لیٹا ہوا تھا۔اْس کی آنکھیں دھندلانے لگی تھیں۔ اور وہ کچھ دیکھ نہیں سکتا تھا۔

3۔اور خدا کا چرغ اب تک بْجھا نہیں تھا اور سموئیل خداوند کی ہیکل میں جہاں خدا کا صندوق تھا لیٹا ہوا تھا۔

4۔ تو خداوند نے سیموئیل کو پکارا۔ اْس نے کہا مَیں حاضر ہوں۔

5۔ اور وہ دوڑ کر عیلی کے پاس گیا اور کہا تْو نے مجھے پکارا سو مَیں حاضر ہوں۔ اْس نے کہا مَیں نے نہیں پکارا۔ پھر لیٹ جا۔ سو وہ جا کر لیٹ گیا۔

6۔ اور خداوند نے پھر پکارا سیموئیل، سیموئیل اٹھ کر عیلی کے پاس گیا اور کہا تْو نے مجھے پکارا سو مَیں حاضر ہوں اْس نے کہا اے میرے بیٹے مَیں نہیں پکارا۔پھر لیٹ جا۔

7۔ اور سیموئیل نے ہنوز خداوند کو نہیں پہنچانا تھا اور نہ خداوند کا کلام اْس پر ظاہر ہوا تھا۔

8۔ پھر خداوند نے تیسری دفعہ سیموئیل کو پکارا اور وہ اْٹھ کر عیلی کے پاس گیا اور کہا تْو نے مجھے پکارا سو مَیں حاضر ہوں۔ سو عیلی جان گیا کہ خداوند نے اْس لڑکے کو پکارا۔

9۔ اِس لئے عیلی نے سیموئیل سے کہا جا لیٹا رہ اور اگر وہ تجھے پکارے تو تْو کہنا اے خداوند فرما کیونکہ تیرا بندہ سنتا ہے۔ سو سیموئیل جا کر اپنی جگہ پر لیٹ گیا۔

10۔ تب خداوند کھڑا ہوا اور پہلے کی طرح پکارا سیموئیل! سیموئیل! سیموئیل نے کہافرما کیونکہ تیرا بندہ سنتا ہے۔

11۔ خداوند نے سیموئیل سے کہا دیکھ میں اسرائیل میں ایسا کام کرنے پر ہوں جس سے ہر سننے والے کے کان بھنا جائیں گے۔

19۔ اور سیموئیل بڑا ہوتا گیا اور خداوند اْس کے ساتھ تھا اور اْس نے اْس کی باتوں میں سے کسی کو مٹی میں نہ ملنے دیا۔

20۔ اور سب بنی اسرائیل نے دان سے بیر سبع تک جان لیا کہ سیموئیل خداوند کا نبی مقرر ہوا۔

4. I Samuel 3 : 1-11, 19, 20

1     And the child Samuel ministered unto the Lord before Eli. And the word of the Lord was precious in those days; there was no open vision.

2     And it came to pass at that time, when Eli was laid down in his place, and his eyes began to wax dim, that he could not see;

3     And ere the lamp of God went out in the temple of the Lord, where the ark of God was, and Samuel was laid down to sleep;

4     That the Lord called Samuel: and he answered, Here am I.

5     And he ran unto Eli, and said, Here am I; for thou calledst me. And he said, I called not; lie down again. And he went and lay down.

6     And the Lord called yet again, Samuel. And Samuel arose and went to Eli, and said, Here am I; for thou didst call me. And he answered, I called not, my son; lie down again.

7     Now Samuel did not yet know the Lord, neither was the word of the Lord yet revealed unto him.

8     And the Lord called Samuel again the third time. And he arose and went to Eli, and said, Here am I; for thou didst call me. And Eli perceived that the Lord had called the child.

9     Therefore Eli said unto Samuel, Go, lie down: and it shall be, if he call thee, that thou shalt say, Speak, Lord; for thy servant heareth. So Samuel went and lay down in his place.

10     And the Lord came, and stood, and called as at other times, Samuel, Samuel. Then Samuel answered, Speak; for thy servant heareth.

11     And the Lord said to Samuel, Behold, I will do a thing in Israel, at which both the ears of every one that heareth it shall tingle.

19     And Samuel grew, and the Lord was with him, and did let none of his words fall to the ground.

20     And all Israel from Dan even to Beer-sheba knew that Samuel was established to be a prophet of the Lord.

5 ۔ یسعیاہ 30 باب 21 آیت

21۔ اور جب تْو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اِس پر چل۔

5. Isaiah 30 : 21

21     And thine ears shall hear a word behind thee, saying, This is the way, walk ye in it, when ye turn to the right hand, and when ye turn to the left.

6 ۔ 1 کرنتھیوں 1 باب 1 (تا دوسری،) آیت

1۔ پولوس جو خدا کی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہونے کے لئے بلایا گیا

6. I Corinthians 1 : 1 (to 2nd ,)

1     Paul, called to be an apostle of Jesus Christ through the will of God,

7 ۔ 1 کرنتھیوں 2 باب 1 (میں، بھائیوں) تا 7، 9تا 16 آیات

1۔ اور اے بھائیو! جب مَیں تمہارے پاس آیا اور تم میں خدا کے بھید کی منادی کرنے لگا تو اعلیٰ درجے کی تقریر یا حکمت کے ساتھ نہیں آیا۔

2۔ کیونکہ مَیں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ تمہارے درمیان یسوع مسیح بلکہ مسیح مصلوب کے سوااور کچھ نہ جانوں گا۔

3۔ اور مَیں کمزوری اور خوف اور بہت تھرتھرانے کی حالت میں تمہارے پاس رہا۔

4۔اور میری تقریر اور میری منادی میں حکمت کی لبھانے والی باتیں نہ تھیں بلکہ وہ روح اور قدرت سے ثابت ہوتی تھی۔

5۔تاکہ تمہارا ایمان انسان کی حکمت پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر موقوف ہو۔

6۔ پھر بھی کاملوں میں ہم حکمت کی باتیں کہتے ہیں لیکن اِس جہان کے اور اْس جہان کے نیست ہونے والے سرداروں کی حکمت نہیں۔

7۔ بلکہ ہم خدا کی وہ پوشیدہ حکمت بھید کے طور پر بیان کرتے ہیں جو خدا نے جہان کے شروع سے پیشتر ہمارے جلال کے واسطے مقرر کی تھی۔

9۔ بلکہ جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہوا جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں نہ آدمی کے دل میں آئیں۔ وہ سب خدا نے اپنے محبت رکھنے والوں کے لئے تیار کر دیں۔

10۔ لیکن ہم پر خدا نے اْن کو روح کے وسیلہ ظاہر کیا کیونکہ روح سب باتیں بلکہ خدا کی تہہ کی باتیں بھی دریافت کرلیتا ہے۔

11۔ کیونکہ انسانوں میں سے کون کسی انسان کی باتیں جانتا ہے سوا انسان کی اپنی روح کے جو اْس میں ہے؟ اِسی طرح خدا کے روح کے سوا کوئی خدا کے روح کی باتیں نہیں جانتا۔

12۔ مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔

13۔ اور ہم اْن باتوں کو اْن الفاظ میں بیان نہیں کرتے جو انسانی حکمت نے ہم کو سکھائے ہوں بلکہ اْن الفاظ میں جو روح نے سکھائے ہیں اور روحانی باتوں کا روحانی باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔

14۔ مگر نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اْس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اْنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں۔

15۔ لیکن روحانی شخص سب باتوں کو پرکھ لیتا ہے مگر خود کسی سے پرکھا نہیں جاتا۔

16۔ خدا کی عقل کو کس نے جانا ہے کہ اْس کو تعلیم دے سکے؟ مگر ہم میں مسیح کی عقل ہے۔

7. I Corinthians 2 : 1 (I, brethren)-7, 9-16

1     I, brethren, when I came to you, came not with excellency of speech or of wisdom, declaring unto you the testimony of God.

2     For I determined not to know any thing among you, save Jesus Christ, and him crucified.

3     And I was with you in weakness, and in fear, and in much trembling.

4     And my speech and my preaching was not with enticing words of man’s wisdom, but in demonstration of the Spirit and of power:

5     That your faith should not stand in the wisdom of men, but in the power of God.

6     Howbeit we speak wisdom among them that are perfect: yet not the wisdom of this world, nor of the princes of this world, that come to nought:

7     But we speak the wisdom of God in a mystery, even the hidden wisdom, which God ordained before the world unto our glory:

9     But as it is written, Eye hath not seen, nor ear heard, neither have entered into the heart of man, the things which God hath prepared for them that love him.

10     But God hath revealed them unto us by his Spirit: for the Spirit searcheth all things, yea, the deep things of God.

11     For what man knoweth the things of a man, save the spirit of man which is in him? even so the things of God knoweth no man, but the Spirit of God.

12     Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.

13     Which things also we speak, not in the words which man’s wisdom teacheth, but which the Holy Ghost teacheth; comparing spiritual things with spiritual.

14     But the natural man receiveth not the things of the Spirit of God: for they are foolishness unto him: neither can he know them, because they are spiritually discerned.

15     But he that is spiritual judgeth all things, yet he himself is judged of no man.

16     For who hath known the mind of the Lord, that he may instruct him? But we have the mind of Christ.

8 ۔ 1یوحنا 5 باب 6 (اور یہ) آیت

6۔ اور جو گواہی دیتا ہے وہ روح ہے کیونکہ روح سچائی ہے۔

8. I John 5 : 6 (And it)

6     And it is the Spirit that beareth witness, because the Spirit is truth.



سائنس اور صح


1 ۔ 124: 25۔26 (تا پہلی۔)

روح تمام چیزوں کی زندگی، مواد اور تواتر ہے۔

1. 124 : 25-26 (to 1st .)

Spirit is the life, substance, and continuity of all things.

2 ۔ 467 :3 (دی)۔ 7

اس سائنس کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ”تْو میرے حضور غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“یہ لفظ”میرے“ روح ہے۔لہٰذہ اس حکم کا مطلب ہے یہ: تو میرے سامنے نہ کوئی ذہانت، نہ زندگی، نہ مواد، نہ سچائی، نہ محبت رکھنا ماسوائے اْس کے جو روحانی ہے۔

2. 467 : 3 (The)-7

The first demand of this Science is, "Thou shalt have no other gods before me." This me is Spirit. Therefore the command means this: Thou shalt have no intelligence, no life, no substance, no truth, no love, but that which is spiritual.

3 ۔ 505 :2 ۔16

روح اْس فہم سے آگاہ کرتی ہے جو شعور کو بلند کرتا اور سچائی کی جانب راہنمائی دیتا ہے۔زبور نویس نے کہا: ”بحروں کی آواز سے۔ سمندر کی زبرددست موجوں سے بھی خداوند بلند و قادر ہے۔“روحانی حس روحانی نیکی کا شعور ہے۔ فہم حقیقی اورغیر حقیقی کے مابین حد بندی کی لکیر ہے۔ روحانی فہم عقل -یعنی زندگی، سچائی اور محبت، کو کھولتا ہے اور الٰہی حس کو، کرسچن سائنس میں کائنات کا روحانی ثبوت فراہم کرتے ہوئے، ظاہر کرتا ہے۔

یہ فہم شعوری نہیں ہے،محققانہ حاصلات کا نتیجہ نہیں ہے؛ یہ نور میں لائی گئی سب چیزوں کی حقیقت ہے۔خدا کا تصور لافانی، لاخطا اور لامحدود کی عکاسی کرتا ہے۔ فانی، خطاکار اور محدود انسانی عقائد ہیں، جو خود کے لئے ایسے کام بانٹتے ہیں جو اْن کیلئے ناممکن ہوں، جو سچائی اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کرتے ہیں۔

3. 505 : 16-2

Spirit imparts the understanding which uplifts consciousness and leads into all truth. The Psalmist saith: "The Lord on high is mightier than the noise of many waters, yea, than the mighty waves of the sea." Spiritual sense is the discernment of spiritual good. Understanding is the line of demarcation between the real and unreal. Spiritual understanding unfolds Mind, — Life, Truth, and Love, — and demonstrates the divine sense, giving the spiritual proof of the universe in Christian Science.

This understanding is not intellectual, is not the result of scholarly attainments; it is the reality of all things brought to light. God's ideas reflect the immortal, unerring, and infinite. The mortal, erring, and finite are human beliefs, which apportion to themselves a task impossible for them, that of distinguishing between the false and the true.

4 ۔ 266: 5۔ 27 (تا پہلی۔)

انسان روح کا خیال ہے۔ وہ خوبصورتی کی موجودگی کی عکاسی کرتا ہے، کائنات کو روشنی سے منور کرتا ہے۔ انسان بے موت، روحانی ہے۔ وہ گناہ یا کمزوری سے بالاتر ہے۔ وہ وقت کی رکاوٹوں کو عبور کر کے ہمیشہ کے لئے زندگی کی وسعت میں نہیں آتا بلکہ وہ خدا اور کائنات کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔

مادی فہم کی ہر چیز فنا ہو جائے گی لیکن روحانی خیال جس کا مادہ عقل میں ہے وہ ابدی ہے۔ خدا کی اولاد مادے یا عارضی خاک سے شروع نہیں ہوتی۔ وہ روح، الٰہی عقل میں ہیں، اور اِسی طرح ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔

4. 266 : 27-5 (to 1st .)

Man is the idea of Spirit; he reflects the beatific presence, illuming the universe with light. Man is deathless, spiritual. He is above sin or frailty. He does not cross the barriers of time into the vast forever of Life, but he coexists with God and the universe.

Every object in material thought will be destroyed, but the spiritual idea, whose substance is in Mind, is eternal. The offspring of God start not from matter or ephemeral dust. They are in and of Spirit, divine Mind, and so forever continue.

5 ۔ 70: 1 (لا فانی)۔ 9

بشری وجودیت ایک معمہ ہے۔ ہر دن ایک بھید ہے۔ جسمانی حواس کی گواہی ہمیں اِس سے آگاہ نہیں کر سکتی جو کچھ حقیقی اور جو کچھ پْر فریب ہے۔ لیکن کرسچن سائنس کے انکشاف سچائی کے خزانوں کو کھول دیتے ہیں۔ جو کچھ بھی جھوٹا یا گناہ آلودہ ہے وہ کبھی بھی روح کی فضا میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہاں صرف ایک ہی روح ہے۔ انسان کبھی خدا نہیں ہوتا، بلکہ روحانی انسان، خدا کی صورت پر پیدا ہوتے ہوئے، خدا کی عکاسی کرتا ہے۔ اِس سائنسی عکس میں انا اور باپ غیر مْنفک ہیں۔

5. 70 : 1 (Mortal)-9

Mortal existence is an enigma. Every day is a mystery. The testimony of the corporeal senses cannot inform us what is real and what is delusive, but the revelations of Christian Science unlock the treasures of Truth. Whatever is false or sinful can never enter the atmosphere of Spirit. There is but one Spirit. Man is never God, but spiritual man, made in God's likeness, reflects God. In this scientific reflection the Ego and the Father are inseparable.

6 ۔ 71: 1۔ 2 (تا پہلی۔)، 5۔ 9

کچھ بھی حقیقی اور ابدی نہیں ہے، کچھ بھی روح نہیں ہے، ماسوائے خدا اور اْس کے خیال کے۔

ساری حقیقت کی شناخت یا خیال ہمیشہ جاری رہتا ہے؛ لیکن روح یا سب کا الٰہی اصول، روح کی بناوٹیں نہیں ہیں۔ جان روح، خدا، خالق، حکمران محدود شکل سے باہر لامحدود اصول کا مترادف لفظ ہے، جو صرف عکس کی تشکیل کرتا ہے۔

6. 71 : 1-2 (to 1st .), 5-9

Nothing is real and eternal, — nothing is Spirit, — but God and His idea.

The identity, or idea, of all reality continues forever; but Spirit, or the divine Principle of all, is not in Spirit's formations. Soul is synonymous with Spirit, God, the creative, governing, infinite Principle outside of finite form, which forms only reflect.

7 ۔ 346: 2۔ 5

جب انسان سے متعلق خدا کی صورت پر بنا ہوا کہا جاتا ہے، تو یہ گناہ آلودہ اور بیمار فانی آدمی نہیں ہے جس کا حوالہ دیا جاتا ہے، بلکہ وہ مثالی آدمی ہے،جو خدا کی شبیہ کی عکاسی کرتا ہے۔

7. 346 : 2-5

When man is spoken of as made in God's image, it is not sinful and sickly mortal man who is referred to, but the ideal man, reflecting God's likeness.

8 ۔ 258 :9۔ 12، 1۔ 31

انسان اپنے اندر ایک دماغ رکھتے ہوئے مادی صورت سے کہیں بڑھ کر ہے، جسے لا فانی رہنے کے لئے اپنے ماحول سے محفوظ رہنا چاہئے۔ انسان ابدیت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ عکس خدا کا حقیقی خیال ہے۔

روحانی حس کی بدولت آپ الوہیت کے دل کو پہچان سکتے ہیں، اور یوں سائنس میں عمومی اصطلاح انسان کو سمجھ سکتے ہیں۔

8. 258 : 9-12, 31-1

Man is more than a material form with a mind inside, which must escape from its environments in order to be immortal. Man reflects infinity, and this reflection is the true idea of God.

Through spiritual sense you can discern the heart of divinity, and thus begin to comprehend in Science the generic term man.

9 ۔ 585 :1۔ 4

کان۔ نام نہاد جسمانی حواس کے اعضاء نہیں، بلکہ روحانی سمجھ۔

روحانی شعور کا حوالہ دیتے ہوئے یسوع نے کہا، ”کان ہیں اور تم سنتے نہیں؟“ (مرقس 8باب18 آیت)۔

9. 585 : 1-4

Ears. Not organs of the so-called corporeal senses, but spiritual understanding.

Jesus said, referring to spiritual perception, "Having ears, hear ye not?" (Mark viii. 18.)

10 ۔ 405: 5۔ 11

روح، یعنی خدا کو تب سنا جاتا ہے جب حواس خاموش ہوں۔

10. 89 : 20-21

Spirit, God, is heard when the senses are silent.

11 ۔ 308: 14۔ 15

روح سے معمور بزرگوں نے سچائی کی آواز سنی، اور انہوں نے خدا کے ساتھ ویسے ہی بات کی جیسے انسان انسانوں کے ساتھ بات کرتا ہے۔

11. 308 : 14-15

The Soul-inspired patriarchs heard the voice of Truth, and talked with God as consciously as man talks with man.

12 ۔ 84 :3۔ 10، 6۔ 28

پرانے نبیوں نے اپنی پیش بینی ایک روحانی، غیر جسمانی نقطہ نظر سے حاصل کی نہ کہ بدی کی پیشن گوئی کرنے اور کسی افسانے کو غلط حقیقت بنانے سے کی، نہ ہی انسانی عقیدے اور مادے کے بنیادی کام سے مستقبل کی پیشنگوئی کرنے سے کی۔ جب ہستی کی سچائی کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے سائنس میں کافی ترقی کی، تو انسان غیر ارادی طور پر غیب دان اور نبی بن گیا، جو بھوتوں، بدروحوں یا نیم دیوتاؤں کے اختیار میں نہیں بلکہ واحد روح کے قابو میں تھا۔

ہم سب مناسب طور پر یہ جانتے ہیں کہ روح خدا، الٰہی اصول سے آتی ہے اور اِس کی تعلیم مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ ملتی ہے۔ اگر اِس سائنس کو اچھی طرح سے سیکھا اور مناسب طور پر سمجھا گیا ہے تو ہم اس سے کہیں درست طریقے سے سچائی کو جان سکتے ہیں جتنا کوئی ماہر فلکیات ستاروں کو پڑھ سکتا یا کسی گرہن کا اندازہ لگا سکتا ہو۔

یہ ذہن خوانی غیب بینی کے بالکل الٹ ہے۔ یہ روحانی فہم کی تابانی ہے جو روح کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے نہ کہ مادی حِس کی۔یہ روحانی حِس انسانی عقل میں اْس وقت آتی ہے جب موخر الذکر الٰہی عقل کو تسلیم کرتی ہے۔

12. 84 : 3-10, 28-6

The ancient prophets gained their foresight from a spiritual, incorporeal standpoint, not by foreshadowing evil and mistaking fact for fiction, — predicting the future from a groundwork of corporeality and human belief. When sufficiently advanced in Science to be in harmony with the truth of being, men become seers and prophets involuntarily, controlled not by demons, spirits, or demigods, but by the one Spirit.

All we correctly know of Spirit comes from God, divine Principle, and is learned through Christ and Christian Science. If this Science has been thoroughly learned and properly digested, we can know the truth more accurately than the astronomer can read the stars or calculate an eclipse. This Mind-reading is the opposite of clairvoyance. It is the illumination of the spiritual understanding which demonstrates the capacity of Soul, not of material sense. This Soul-sense comes to the human mind when the latter yields to the divine Mind.

13 ۔ 301: 17۔ 29

جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔ مادی انسان خود کو مادی مواد دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسان ”شبیہ“ (خیال) ہے۔فریب نظری، گناہ، بیماری اور موت مادی فہم کی جھوٹی گواہی سے جنم لیتے ہیں، جو لا محدود روح کے مرکزی فاصلے سے باہر ایک فرضی نظریے سے، عقل اور اصل کی پلٹی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے، جس میں ہر چیز اوپر سے نیچے اْلٹ ہوئی ہوتی ہے۔

13. 301 : 17-29

As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind. Mortal man seems to himself to be material substance, while man is "image" (idea). Delusion, sin, disease, and death arise from the false testimony of material sense, which, from a supposed standpoint outside the focal distance of infinite Spirit, presents an inverted image of Mind and substance with everything turned upside down.

14 ۔ 210 :5۔ 10

مسیحت کا اصول اور ثبوت روحانی فہم کے وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں یسوع کے اظہاروں کے سامنے رکھا جاتا ہے، اْس کے بیمار کو شفا دینے، بدروحوں کو نکالنے اور اْس موت یعنی جو ”سب سے پچھلا دْشمن ہے جسے نیست کیا جائے گا“، اِسے تباہ کرنے کے وسیلہ مادے اور اِس کے نام نہاد قوانین کے لئے اْس کی لاپروائی دکھاتے ہیں۔

14. 210 : 5-10

The Principle and proof of Christianity are discerned by spiritual sense. They are set forth in Jesus' demonstrations, which show — by his healing the sick, casting out evils, and destroying death, "the last enemy that shall be destroyed," — his disregard of matter and its so-called laws.

15 ۔ 99: 23۔ 29

سچی روحانیت کے پْر سکون، مضبوط دھارے، جن کے اظہار صحت، پاکیزگی اور خود کار قربانی ہیں، اِنہیں اْس وقت انسانی تجربے کو گہرا کرنا چاہئے جب تک مادی وجودیت کے عقائد واضح مسلط ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور گناہ، بیماری اور موت روحانی الوہیت کے سائنسی اظہاراور خدا کے روحانی، کامل انسان کو جگہ فراہم نہیں کرتے۔

15. 99 : 23-29

The calm, strong currents of true spirituality, the manifestations of which are health, purity, and self-immolation, must deepen human experience, until the beliefs of material existence are seen to be a bald imposition, and sin, disease, and death give everlasting place to the scientific demonstration of divine Spirit and to God's spiritual, perfect man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔