اتوار 8 نومبر، 2026



مضمون۔ آدم اور گناہگار انسان

Subject — Adam And Fallen Man

سنہری متن: 2 کرنتھیوں 11 باب 3 آیت

لیکن میں ڈرتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح سانپ نے اپنی مکاری سے حوا کو بہکایا اْسی طرح تمہارے خیالات بھی اْس خلوص اور پاکدامنی سے ہٹ جائیں جو مسیح کے ساتھ ہونی چاہیے۔



Golden Text: II Corinthians 11 : 3

“I fear, lest by any means, as the serpent beguiled Eve through his subtilty, so your minds should be corrupted from the simplicity that is in Christ.”





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: پیدائش 1 باب 27 تا 31 آیات


27۔اور خدا نے انسان کو اپنی صور ت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اُس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اُن کو پیدا کیا۔

28۔خدا نے اُن کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورو محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اورکُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔

29۔اور خدا نے کہا کہ دیکھو میں تمام روی زمین کی کُل بیج دار سبزی اور ہر درخت جس میں اُس کا بیج دار پھل ہو تم کو دیتا ہوں۔ یہ تمہارے کھانے کو ہوں۔

30۔اور زمین کے کل جانوروں کے لئے اور ہوا کے کُل پرندوں کے اور اُن سب کے لئے جو زمین پر رینگنے والے ہیں جن میں زندگی کا دم ہے کُل ہری بوٹیاں کھانے کو دیتا ہوں اور ایسا ہی ہوا۔

31۔اور خدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

Responsive Reading: Genesis 1 : 27-31

27.     God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

28.     And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it: and have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over every living thing that moveth upon the earth.

29.     And God said, Behold, I have given you every herb bearing seed, which is upon the face of all the earth, and every tree, in the which is the fruit of a tree yielding seed; to you it shall be for meat.

30.     And to every beast of the earth, and to every fowl of the air, and to every thing that creepeth upon the earth, wherein there is life, I have given every green herb for meat: and it was so.

31.     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ پیدائش 3 باب 1 تا 14 (تا؛)،16، 17، 20 آیات

1۔سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟

2۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔

3۔پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُس کے پھل کی بابت خدانے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھا نا اور نہ چھوناورنہ مر جاؤ گے۔

4۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے۔

5۔ بلکہ خداجانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کے مانندنیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔

6۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہرکو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔

7۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُن کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔

8۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سنی اور آدم اور اُس کی بیوی نے اپنے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا۔

9۔ تب خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور اُس سے کہا کہ تو کہاں ہے؟

10۔ اُس نے کہا مَیں نے باغ میں تیری آواز سنی اور مَیں ڈرا کیونکہ مَیں ننگا تھا اور مَیں نے اپنے آپ کو چھپایا۔

11۔ اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟ کیا تونے اُس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کوحکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟

12۔ آدم نے کہا جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور مَیں نے کھایا۔

13۔ تب خداوند خدا نے عورت سے کہا کہ تونے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو مَیں نے کھایا۔

14۔ اور خداوند خدا نے سانپ سے کہا اس لئے کہ تْو نے یہ کیا تْو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں معلون ٹھہرا تْو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور اپنی عمر بھر خاک چاٹے گا۔

16۔ پھر اْس نے عورت سے کہا مَیں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤں گا۔ تْو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔

17۔ اور آدم سے اْس نے کہا چونکہ تْو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اْس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت مَیں نے تجھ سے کہا تھاکہ اْسے نہ کھانا اس لئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی مشقت کے ساتھ تْو عمر بھر اْس کی پیداوار کھائے گا۔

20۔ اور خداوند خدا نے آدم اور اْس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کْرتے بنا کر اْن کو پہنائے۔

1. Genesis 3 : 1-14 (to ;), 16, 17, 20

1     Now the serpent was more subtil than any beast of the field which the Lord God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall not eat of every tree of the garden?

2     And the woman said unto the serpent, We may eat of the fruit of the trees of the garden:

3     But of the fruit of the tree which is in the midst of the garden, God hath said, Ye shall not eat of it, neither shall ye touch it, lest ye die.

4     And the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die.

5     For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil.

6     And when the woman saw that the tree was good for food, and that it was pleasant to the eyes, and a tree to be desired to make one wise, she took of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her; and he did eat.

7     And the eyes of them both were opened, and they knew that they were naked; and they sewed fig leaves together, and made themselves aprons.

8     And they heard the voice of the Lord God walking in the garden in the cool of the day: and Adam and his wife hid themselves from the presence of the Lord God amongst the trees of the garden.

9     And the Lord God called unto Adam, and said unto him, Where art thou?

10     And he said, I heard thy voice in the garden, and I was afraid, because I was naked; and I hid myself.

11     And he said, Who told thee that thou wast naked? Hast thou eaten of the tree, whereof I commanded thee that thou shouldest not eat?

12     And the man said, The woman whom thou gavest to be with me, she gave me of the tree, and I did eat.

13     And the Lord God said unto the woman, What is this that thou hast done? And the woman said, The serpent beguiled me, and I did eat.

14     And the Lord God said unto the serpent, Because thou hast done this, thou art cursed above all cattle, and above every beast of the field;

16     Unto the woman he said, I will greatly multiply thy sorrow and thy conception; in sorrow thou shalt bring forth children; and thy desire shall be to thy husband, and he shall rule over thee.

17     And unto Adam he said, Because thou hast hearkened unto the voice of thy wife, and hast eaten of the tree, of which I commanded thee, saying, Thou shalt not eat of it: cursed is the ground for thy sake; in sorrow shalt thou eat of it all the days of thy life;

20     And Adam called his wife’s name Eve; because she was the mother of all living.

2 . ۔ مرقس 5 باب 25 تا 29، 34 آیات

25۔ پھر ایک عورت جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔

26۔کئی طبیبوں سے تکلیف اٹھا چکی تھی اور اپنا سب مال خرچ کر کے بھی اْسے کچھ فائدہ نہ ہواتھا بلکہ زیادہ بیمار ہو گئی تھی۔

27۔ یسوع کا حال سْن کر بھیڑ میں اْس کے پیچھے سے آئی اور اْس کی پوشاک کو چھوا۔

28۔ کیونکہ وہ کہتی تھی کہ اگر مَیں اْس کی پوشاک ہی چھو لوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی۔

29۔ اور فی الفور اْس کا خون بہنا بند ہوگیا اور اْس نے اپنے بدن میں محسوس کیا کہ مَیں نے اس بیماری سے شفا پائی۔

34۔ اْس نے اْس سے کہا بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ۔

2. Mark 5 : 25-29, 34 (to ;)

25     And a certain woman, which had an issue of blood twelve years,

26     And had suffered many things of many physicians, and had spent all that she had, and was nothing bettered, but rather grew worse,

27     When she had heard of Jesus, came in the press behind, and touched his garment.

28     For she said, If I may touch but his clothes, I shall be whole.

29     And straightway the fountain of her blood was dried up; and she felt in her body that she was healed of that plague.

34     And he said unto her, Daughter, thy faith hath made thee whole;

3 . ۔ یوحنا 8 باب 1 تا 12 آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اْس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر اْنہیں تعلیم دینے لگا۔

3۔ اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اْسے بیچ میں کھڑا کر کے یسوع سے کہا۔

4۔ اے اْستاد! یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔

5۔ توریت میں موسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔ پس تْو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟

6۔ اْنہوں نے اْسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اْس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوع جھک کر اْنگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔

7۔ جب وہ اْس سے سوال کرتے ہی رہے تو اْس نے سیدھے ہو کر اْن سے کہا کہ جو تم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اْسے پتھر مارے۔

8۔ اورپھر جھْک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا۔

9۔ وہ یہ سْن کر بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور عورت وہی بیچ میں رہ گئی۔

10۔ یسوع نے سیدھے ہو کر اْس سے کہا اے عورت یہ لوگ کہاں گئے؟ کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا؟

11۔ اْس نے کہا اے خداوند! کسی نے نہیں۔ یسوع نے کہا مَیں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔

12۔ یسوع نے پھر اْن سے مخاطب ہو کر کہا دنیا کا نور مَیں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔

3. John 8 : 1-12

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

3     And the scribes and Pharisees brought unto him a woman taken in adultery; and when they had set her in the midst,

4     They say unto him, Master, this woman was taken in adultery, in the very act.

5     Now Moses in the law commanded us, that such should be stoned: but what sayest thou?

6     This they said, tempting him, that they might have to accuse him. But Jesus stooped down, and with his finger wrote on the ground, as though he heard them not.

7     So when they continued asking him, he lifted up himself, and said unto them, He that is without sin among you, let him first cast a stone at her.

8     And again he stooped down, and wrote on the ground.

9     And they which heard it, being convicted by their own conscience, went out one by one, beginning at the eldest, even unto the last: and Jesus was left alone, and the woman standing in the midst.

10     When Jesus had lifted up himself, and saw none but the woman, he said unto her, Woman, where are those thine accusers? hath no man condemned thee?

11     She said, No man, Lord. And Jesus said unto her, Neither do I condemn thee: go, and sin no more.

12     Then spake Jesus again unto them, saying, I am the light of the world: he that followeth me shall not walk in darkness, but shall have the light of life.

4 . ۔ مرقس 12 باب 30، 31 آیات

30۔ اور تْو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔

31۔ دوسرا یہ ہے کہ تْو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ اِن سے بڑا اور کوئی حکم نہیں۔

4. Mark 12 : 30, 31

30     And thou shalt love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind, and with all thy strength: this is the first commandment.

31     And the second is like, namely this, Thou shalt love thy neighbour as thyself. There is none other commandment greater than these.

5 . ۔ یوحنا 3 باب 16 آیت

16۔ کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

5. John 3 : 16

16     For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.



سائنس اور صح


1 . ۔ 516: 2(خدا)۔2

خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا تاکہ الٰہی روح کی عکاسی کرے۔ اِس کا مطلب ہے کہ انسان ایک عام اصطلاح ہے۔ مزکر، مونث اور بے جنس صنف انسانی نظریات ہیں۔ قدیم زبانوں میں سے ایک میں لفظ انسان کے لئے عقل کا مترادف لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔

1. 516 : 28 (God)-2

God made man in His own image, to reflect the divine Spirit. It follows that man is a generic term. Masculine, feminine, and neuter genders are human concepts. In one of the ancient languages the word for man is used also as the synonym of mind.

2 . ۔ 517 :8۔14

مثالی انسان تخلیق کے ساتھ، ذہانت کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ الٰہی سائنس میں ہمارے پاس خدا کو مذکر سمجھنے کا ویسا ہی اختیار نہیں ہے جیسا اْسے مونث سمجھنے کا نہیں ہے،کیونکہ محبت دیوتا کا واضح ترتصور پیش کرتی ہے۔

2. 517 : 8-14

The ideal man corresponds to creation, to intelligence, and to Truth. The ideal woman corresponds to Life and to Love. In divine Science, we have not as much authority for considering God masculine, as we have for considering Him feminine, for Love imparts the clearest idea of Deity.

3 . ۔ 92: 11۔21

کلام سے متعلق پرانی تصویروں میں ہم ایک سانپ کو پہچان کے درخت کے گرد مرغولہ دار لپٹا ہوا اور آدم اور حوا سے باتیں کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ سانپ کو ہمارے پہلے والدین کے ساتھ نیکی اور بدی سے متعلق بتاتے ہوئے پیش کرتا ہے، جوروح کی بجائے مادے یا بدی سے حاصل ہونے والا علم تھا۔ ترسیمی اعتبار سے یہ تصویر اب بھی بہت موزوں ہے، کیونکہ فانی انسان، خدا کی نقل اتارنے والے آدم کا عام نظریہ انسانی علم یا نفس کا ایک نتیجہ ہے، جو مادی حس کی محض ایک شاخ ہے۔

غلطی کو بے نقاب کریں، تو وہ جھوٹ کو پلٹ کر آپ کے اوپر ہی لاتا ہے۔

3. 92 : 11-21

In old Scriptural pictures we see a serpent coiled around the tree of knowledge and speaking to Adam and Eve. This represents the serpent in the act of commending to our first parents the knowledge of good and evil, a knowledge gained from matter, or evil, instead of from Spirit. The portrayal is still graphically accurate, for the common conception of mortal man — a burlesque of God's man — is an outgrowth of human knowledge or sensuality, a mere offshoot of material sense.

Uncover error, and it turns the lie upon you.

4 . ۔ 530 :26(تاریخ)۔29

خطا کی تاریخ ایک خواب کا قصہ ہے۔ اس خواب کی نہ کوئی حقیقت ہے، نہ کوئی شعور اور نہ ہی کوئی عقل، چنانچہ خواب دیکھنے والا اور خود خواب ایک ہی ہیں کیونکہ اِن میں سے نہ کوئی سچا ہے نہ حقیقی ہے۔

4. 530 : 26 (The history)-29

The history of error is a dream-narrative. The dream has no reality, no intelligence, no mind; therefore the dreamer and dream are one, for neither is true nor real.

5 . ۔ 362 :1۔12

یہ لوقا کی انجیل کے ساتویں باب میں اس سے منسلک کیا گیا ہے کہ ایک بار یسوع کسی فریسی، بنام شمعون،کے گھر کا مہمانِ خصوصی بنا، وہ شمعون شاگردبالکل نہیں تھا۔ جب وہ کھانا کھا رہے تھے، ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جیسے کہ یہ مشرقی مہمان نوازی کے فہم میں رکاوٹ بناہو۔ایک ”اجنبی عورت“ اندر آئی۔اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ وہ ایسے مقام اور ایسی محفل میں آنے سے روکی گئی تھی خاص طور پر یہودی علما کے سخت قوانین کے مطابق بالکل ایسے جیسے کوئی ہندو پاریا کسی اونچی ذات کے برہمن کے گھر میں داخل ہو جائے، یہ عورت (جسے بعد میں مریم مگدلینی کہا گیا) یسوع کے پاس آ گئی۔

5. 362 : 1-12

It is related in the seventh chapter of Luke's Gospel that Jesus was once the honored guest of a certain Pharisee, by name Simon, though he was quite unlike Simon the disciple. While they were at meat, an unusual incident occurred, as if to interrupt the scene of Oriental festivity. A "strange woman" came in. Heedless of the fact that she was debarred from such a place and such society, especially under the stern rules of rabbinical law, as positively as if she were a Hindoo pariah intruding upon the household of a high-caste Brahman, this woman (Mary Magdalene, as she has since been called) approached Jesus.

6 . ۔ 363 :1۔15،21(درج ذیل)۔23

اْس نے سفید سنگ مرمر کا مرتبان اٹھایا ہوا تھا جس میں بیش قیمت اور خوشبودار تیل تھا، صندل کا تیل، شاید، جس کا استعمال مشرق میں عام ہے۔اپنا مرتبان توڑ کر اْس نے یسوع کے پاؤں کو تیل سے خوشبو دی، اپنے لمبے بالوں سے انہیں پونچھتے ہوئے، جو اْس کے کندھوں پر لٹک رہے تھے، جیسا کہ عام طور پر اْس عمر کی عورتوں کے ہوتے تھے۔

کیا یسوع نے اْس عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھا؟ کیا اْس نے اْس کی عقیدت کو روک دیا؟ نہیں! اْس نے نہایت شفقت کے ساتھ اْس کی تعریف کی۔ اور ایسا کچھ نہیں ہو اتھا۔ وہ سب جانتے ہوئے جو اْس کے ارد گرد کھڑے لوگ اپنے دلوں میں سوچ رہے تھے، خاص طور پر میزبان کے دل میں، وہ پریشان ہو رہے تھے کہ ایک نبی ہوتے ہوئے مہمان خصوصی ایک دم سے اس عورت کے اخلاقی درجے کو نہیں جانچ پایا اور اْسے دور ہٹنے کو نہیں کہا، یہ سب جانتے ہوئے، یسوع نے انہیں ایک مختصر تمثیل یا کہانی کے ساتھ ملامت کیا۔

۔۔۔ جس کے بعد اْس عورت کے لئے یہ شاندار اعلان دیا، ”تیرے گناہ معاف ہوئے۔“

6. 363 : 1-15, 21 (following)-23

She bore an alabaster jar containing costly and fragrant oil, — sandal oil perhaps, which is in such common use in the East. Breaking the sealed jar, she perfumed Jesus' feet with the oil, wiping them with her long hair, which hung loosely about her shoulders, as was customary with women of her grade.

Did Jesus spurn the woman? Did he repel her adoration? No! He regarded her compassionately. Nor was this all. Knowing what those around him were saying in their hearts, especially his host, — that they were wondering why, being a prophet, the exalted guest did not at once detect the woman's immoral status and bid her depart, — knowing this, Jesus rebuked them with a short story or parable.

…following it with that remarkable declaration to the woman, "Thy sins are forgiven."

7 . ۔ 249 :1۔5،18۔23

آئیے سائنس کو قبول کریں، عقلی گواہی پر مشتمل تمام نظریات کو ترک کریں، ناقص نمونوں اور پْر فریب قیاس آرائیوں سے دست بردار ہوں؛ اور آئیے ہم ایک خدا، ایک عقل، اور اْس واحد کامل کو رکھیں جو فضیلت کے اپنے نمونوں کو پیدا کررہا ہے۔

خدا کی تخلیق کے ”آدم اور عورت“ کو سامنے آنے دیں۔

مسیح کی مانند زندگی ”آج، کل اور ہمیشہ تک یکساں“ ہے۔ تنظیم اور وقت کا زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں ”کل رات مَیں نے خواب دیکھا۔“ یہ کتنی بڑی غلطی ہے!’مَیں‘تو روح ہے۔ خدا کبھی اونگتا نہیں، اور اِس کی شبیہ کبھی خواب نہیں دیکھتی۔ فانی انسان آدم والے خواب دیکھتے ہیں۔

7. 249 : 1-5, 18-23

Let us accept Science, relinquish all theories based on sense-testimony, give up imperfect models and illusive ideals; and so let us have one God, one Mind, and that one perfect, producing His own models of excellence.

Let the "male and female" of God's creating appear.

Life is, like Christ, "the same yesterday, and to-day, and forever." Organization and time have nothing to do with Life. You say, "I dreamed last night." What a mistake is that! The I is Spirit. God never slumbers, and His likeness never dreams. Mortals are the Adam dreamers.

8 . ۔ 306: 6۔30

خدا کا انسان، جسے روحانی طور پر خلق کیا گیا ہے، مادی یا فانی نہیں ہے۔

تمام تر انسانی اختلاف کی ولدیت آدم کا خواب تھا، گہری نیند، جس میں زندگی اور اْس ذہانت کا بھرم پیدا ہوا جو مادے سے اخذ ہوا اور گزرا۔یہ مشرکانہ غلطی، یا نام نہاد سانپ ابھی بھی سچائی کے مخالف سے اصرار کرتا اور کہتا ہے، ”تم خدا کی مانند ہو جاؤ گے؛“ یعنی، میں غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی اور ابدی بنا دوں گا۔

8. 306 : 30-6

God's man, spiritually created, is not material and mortal.

The parent of all human discord was the Adam-dream, the deep sleep, in which originated the delusion that life and intelligence proceeded from and passed into matter. This pantheistic error, or so-called serpent, insists still upon the opposite of Truth, saying, "Ye shall be as gods;" that is, I will make error as real and eternal as Truth.

9 . ۔ 534: 12 (بیٹا)۔23

کنواری ماں کے فرزند نے آدم یا غلطی کے لئے علاج پیش کیا، اور پولوس رسول اْس کشمکش کی وضاحت کرتے ہیں جو یسوع کی پیش کردہ الٰہی قوت کے تصور اور اْس افسانوی مادی ذہانت کے درمیان ہے جسے توانائی کہا جاتا ہے اور جو روح کی مخالف ہے۔

پولوس رومیوں کے نام اپنے خط میں کہتا ہے: ”اِس لئے کہ جسمانی نیت خدا کی دشمنی ہے کیونکہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اور جو جسمانی ہیں وہ خدا کو خوش نہیں کر سکتے۔ لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوبشرطیکہ خدا کا روح تم میں بسا ہو اہے۔“

9. 534 : 12 (The Son)-23

The Son of the Virgin-mother unfolded the remedy for Adam, or error; and the Apostle Paul explains this warfare between the idea of divine power, which Jesus presented, and mythological material intelligence called energy and opposed to Spirit.

Paul says in his epistle to the Romans: "The carnal mind is enmity against God; for it is not subject to the law of God, neither indeed can be. So then they that are in the flesh cannot please God. But ye are not in the flesh, but in the Spirit, if so be that the spirit of God dwell in you."

10 . ۔ 192: 4۔6،23۔26

ہم صرف تبھی کرسچن سائنسدان ہیں،جب ہم اْس پر سے اپنا انحصار ترک کرتے ہیں جو جھوٹا اور سچائی کو نگلنے والا ہو۔جب تک ہم مسیح کے لئے سب کچھ ترک نہیں کرتے تب تک ہم مسیحی سائنسدان نہیں بنتے۔

جو نیکی آپ کرتے ہیں اور ظاہری جسم آپ کو محض قابلِ حصول قوت فراہم کرتے ہیں۔ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔ یہ طاقت کا تمسخر ہے جوجلد ہی اپنی کمزوری کو دھوکہ دیتا اور کبھی نہ اٹھنے کے لئے گر جاتا ہے۔

10. 192 : 4-6, 23-26

We are Christian Scientists, only as we quit our reliance upon that which is false and grasp the true. We are not Christian Scientists until we leave all for Christ.

The good you do and embody gives you the only power obtainable. Evil is not power. It is a mockery of strength, which erelong betrays its weakness and falls, never to rise.

11 . ۔ 476: 28۔32

خدا کے لوگوں سے متعلق، نہ کہ انسان کے بچوں سے متعلق، بات کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے؛“ یعنی سچائی اور محبت حقیقی انسان پر سلطنت کرتی ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ انسان خدا کی صورت پر بے گناہ اور ابدی ہے۔

11. 476 : 28-32

When speaking of God's children, not the children of men, Jesus said, "The kingdom of God is within you;" that is, Truth and Love reign in the real man, showing that man in God's image is unfallen and eternal.

12 . ۔ 171 :4۔8(تا چوتھی)

مادیت کے روحانی مخالف کی فراست کے وسیلہ، حتیٰ کہ مسیح، سچائی کے وسیلہ، انسان بہشت کے دروازوں کو الٰہی سائنس کی چابیوں سے دوبارہ کھولے گا جن سے متعلق انسان سمجھتا ہے کہ وہ بند ہو چکے ہیں۔

12. 171 : 4-8 (to 4th ,)

Through discernment of the spiritual opposite of materiality, even the way through Christ, Truth, man will reopen with the key of divine Science the gates of Paradise which human beliefs have closed.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔