2019،گستا18راتوا |

اتوار18اگست، 2019



مضمون۔ جان

SubjectSoul

سنہری متن:سنہری متن: 34زبور 22آیت

’’خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا ۔‘‘



Golden Text: Psalm 34 : 22

The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 33: 18تا21آیات زبور 34: 1، 2، 4 آیات


18۔ دیکھو! خداوند کی نگاہ اْن پر ہے جو اْس سے ڈرتے ہیں۔ جو اْس کی شفقت کے اْمیدوار ہیں۔

19۔ تاکہ اْن کی جان کو موت سے بچائے اور قحط میں اْن کو جیتا رکھے۔

20۔ ہماری جان کو خداوند کی آس ہے۔ وہی ہماری کْمک اور ہماری سِپر ہے۔

21۔ ہمارا دل اْس میں شادمان رہے گا کیونکہ ہم نے اْس کے پاک نام پر توکّل کیا ہے۔

1۔ میں ہر وقت خداوند کو مبارک کہوں گا۔ اْس کی ستائش ہمیشہ میری زبان پر رہے گی۔

2۔ میری روح خداوند پر فخر کرے گی۔ حلیم یہ سْن کر خوش ہوں گے۔

4۔ میں خداوند کا طالب ہوں، اْس نے مجھے جواب دیا اور میری ساری دہشت سے مجھے رہائی بخشی۔

Responsive Reading: Psalm 33 : 18-21; Psalm 34 : 1, 2, 4

18.     Behold, the eye of the Lord is upon them that fear him, upon them that hope in his mercy;

19.     To deliver their soul from death, and to keep them alive in famine.

20.     Our soul waiteth for the Lord: he is our help and our shield.

21.     For our heart shall rejoice in him, because we have trusted in his holy name.

1.     I will bless the Lord at all times: his praise shall continually be in my mouth.

2.     My soul shall make her boast in the Lord: the humble shall hear thereof, and be glad.

4.     I sought the Lord, and he heard me, and delivered me from all my fears.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور25: 1، 2(تا:)، 4تا6، 10، 12، 13،20، 21 آیات

1۔ اے خداوند! مَیں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔

2۔ اے میرے خدا! میں نے تجھ پر توکل کیا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔ میرے دشمن مجھ پر شادیانہ نہ بجائیں۔

4۔اے خداوند! اپنی راہیں مجھے دکھا اپنے راستے مجھے بتادے۔

5۔ مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔ کیونکہ تو میرا نجات دینے والا خدا ہے۔ میں دن بھر تیرا ہی منتظر رہتا ہوں۔

6۔اے خداوند اپنی رحمتوں اور شفقتوں کو یاد فرما کیونکہ وہ ازل سے ہیں۔

10۔جو خداوند کے عہد اور اس کی شہادتوں کو مانتے ہیں۔ ان کے لئے اس کی سب راہیں شفقت اور سچائی ہیں۔

12۔وہ کون ہے جو خداوند سے ڈرتا ہے؟ خداوند اس کو اسی راہ کی تعلیم دے گا جو اسے پسند ہے۔

13۔ اُس کی جان راحت میں رہے گی۔ اور اُس کی نسل زمین کی وارث ہوگی۔

20۔ میری جان کی حفاظت کر اور مجھے چھڑا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے کیونکہ میرا توکل تجھ ہی پر ہے۔

21۔ دیانت داری اور راستبازی مجھے سلامت رکھیں۔ کیونکہ مجھے تیری ہی آس ہے۔

1. Psalm 25 : 1, 2 (to :), 4-6, 10, 12, 13, 20, 21

1     Unto thee, O Lord, do I lift up my soul.

2     O my God, I trust in thee:

4     Shew me thy ways, O Lord; teach me thy paths.

5     Lead me in thy truth, and teach me:

6     Remember, O Lord, thy tender mercies and thy lovingkindnesses; for they have been ever of old.

10     All the paths of the Lord are mercy and truth unto such as keep his covenant and his testimonies.

12     What man is he that feareth the Lord? him shall he teach in the way that he shall choose.

13     His soul shall dwell at ease; and his seed shall inherit the earth.

20     O keep my soul, and deliver me: let me not be ashamed; for I put my trust in thee.

21     Let integrity and uprightness preserve me; for I wait on thee.

2۔ زبور 42: 8 (خداوند)، 11 آیات

8۔ ۔۔۔دن کو خداوند اپنی شفقت دکھائے گا۔ اور رات کو میں اْس کا گیت گاؤں گا بلکہ اپنی حیات کے خدا سے دعا کروں گا۔

11۔ اے میری جان! تْو کیوں گری جاتی ہے؟ تْو اندر ہی اندر کیوں بے چین ہے؟ خدا سے امید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رونق اور میرا خدا ہے۔ میں پھر اْس کی ستائش کروں گا۔

2. Psalm 42 : 8 (the Lord), 11

8     the Lord will command his lovingkindness in the daytime, and in the night his song shall be with me, and my prayer unto the God of my life.

11     Why art thou cast down, O my soul? and why art thou disquieted within me? hope thou in God: for I shall yet praise him, who is the health of my countenance, and my God.

3۔ روت 1باب1 (کوئی)، 2 (تا تیسرا)، 3، 4 (تا:)، 5، 6 (تا:)، 8 (تا تیسرا،)، 16، 22 آیات

1۔ ۔۔۔بیت لحم کا ایک مرد اپنی بیوی اور دو بیٹوں کو لیکر چلا کہ موآب کے ملک میں جا کر بسے۔

2۔اس مرد کا نام الیملک اور اسکی بیوی کا نام نعومی تھا اور اسکے دونوں بیٹوں کے نام محلون اور کلیون تھے۔ یہ یہوداہ کے بیت لحم کے افراتی تھے۔ سو وہ موآب کے ملک میں آ کر رہنے لگے۔

3۔اورنعومی کا شوہر الیملک مر گیا۔ پس وہ اور اسکے دونوں بیٹے باقی رہ گئے۔

4۔ان دونوں نے ایک ایک موآبی عورت بیاہ لی۔ ان میں سے ایک کا نام عرفہ اوردوسری کا نام روت تھا۔ اور وہ دس برس کے قریب وہاں رہے۔

5۔ اورمحلون اور کلیون دونوں مر گئے۔ سو وہ عورت اپنے دونوں بیٹوں اور خاوند سے چھوٹ گئی۔

6۔ تب وہ اپنی دونوں بہووں کو لیکر اٹھی کہ موآب کے ملک سے لوٹ جائے اس لیے کہ اس نے موآب کے ملک میں یہ حال سنا کہ خداوند نے اپنے لوگوں کو روٹی دی اور یوں انکی خبر لی۔

7۔سو وہ اس جگہ سے جہاں وہ تھی دونوں بہووں کو ساتھ لیکر چل نکلی اور وہ سب یہوداہ کی سر زمین کو لوٹنے کے لئے راستہ پر ہو لیں۔

8۔اور نعومی نے اپنی دونوں بہووں سے کہا کہ تم دونوں اپنے اپنے میکے کو جاؤ جیسا تم نے مرحوموں کے ساتھ اور جیسا میرے ساتھ کیا ویسا ہی خداوند تمہارے ساتھ مہر سے پیش آئے۔

16۔ روت نے کہا تو منت نہ کر کہ میں تجھے چھوڑوں اورتیرے پیچھے سے لوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تو جائیگی میں جاؤنگی اور جہاں تو رہیگی میں رہوں گی تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا۔

22۔غرض نعومی لوٹی اور اس کے ساتھ اس کی بہو موآبی روت تھی جو موآب کے ملک سے یہاں آئی اور وہ دونوں جَو کاٹنے کے موسم میں بیت لحم میں داخل ہوئیں۔

3. Ruth 1 : 1 (a certain), 2 (to 3rd ,), 3, 4 (to :), 5, 6 (to :), 8 (to 3rd ,), 16, 22

1     …a certain man of Beth-lehem-judah went to sojourn in the country of Moab, he, and his wife, and his two sons.

2     And the name of the man was Elimelech, and the name of his wife Naomi, and the name of his two sons Mahlon and Chilion,

3     And Elimelech Naomi’s husband died; and she was left, and her two sons.

4     And they took them wives of the women of Moab; the name of the one was Orpah, and the name of the other Ruth:

5     And Mahlon and Chilion died also both of them; and the woman was left of her two sons and her husband.

6     Then she arose with her daughters in law, that she might return from the country of Moab:

8     And Naomi said unto her two daughters in law, Go, return each to her mother’s house: the Lord deal kindly with you,

16     And Ruth said, Intreat me not to leave thee, or to return from following after thee: for whither thou goest, I will go; and where thou lodgest, I will lodge: thy people shall be my people, and thy God my God:

22     So Naomi returned, and Ruth the Moabitess, her daughter in law, with her, which returned out of the country of Moab: and they came to Beth-lehem in the beginning of barley harvest.

4۔ روت 2 باب 1، 2 (تا پہلا)، 8 (تا پہلا،)، 11 (یہ)، 12 آیات

1۔ اورنعومی کے شوہر کا ایک رشتہ دارتھا جو الیملک کے گھرانے کا اور بڑا مالدارتھا اس کا نام بوعز تھا۔

2۔ سو موآبی روت نے نعومی سے کہا مجھے اجازت دے تو میں کھیت میں جاؤں اور جو کوئی کرم کی نظر مجھ پر کرے اسکے پیچھے پیچھے بالیں چنوں اس نے اس سے کہا جا میری بیٹی۔

8۔ تب بوعز نے روت سے کہا

11۔ ۔۔۔ کہ جو کچھ تو نے اپنے خاوند کے مرنے کے بعد اپنی ساس کے ساتھ کیا وہ سب مجھے پورے طور پر بتایا گیا ہے کہ تو نے کیسے اپنے ماں باپ اورزاد بوم کو چھوڑا اور ان لوگوں میں جن کو تو اس سے پیشتر نہ جانتی تھی آئی۔

12۔ خداوند تیرے کام کا بدلہ دے بلکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی طرف سے جس کے پروں میں تو پناہ کے لیے آئی ہے تجھ کو پورا اجر ملے۔

4. Ruth 2 : 1, 2 (to 1st .), 8 (to 1st ,), 11 (It), 12

1     And Naomi had a kinsman of her husband’s, a mighty man of wealth, of the family of Elimelech; and his name was Boaz.

2     And Ruth the Moabitess said unto Naomi, Let me now go to the field, and glean ears of corn after him in whose sight I shall find grace.

8     Then said Boaz unto Ruth,

11     It hath fully been shewed me, all that thou hast done unto thy mother in law since the death of thine husband: and how thou hast left thy father and thy mother, and the land of thy nativity, and art come unto a people which thou knewest not heretofore.

12     The Lord recompense thy work, and a full reward be given thee of the Lord God of Israel, under whose wings thou art come to trust.

5۔ روت 4باب13، 14، 17 آیات

13۔ سو بوعز نے روت کو لیا اور وہ اسکی بیوی بنی اور اس نے اس سے خلوت کی اور خداوند کے فضل سے وہ حاملہ ہوئے اور اسکے بیٹا ہوا۔

14۔ اور عورتوں نے نعومی سے کہا کہ خداوند مبارک ہو جس نے آج کے دن تجھے نزدیک کے قرابتی کے بغیر نہیں چھوڑا اور اس کا نام اسرائیل میں مشہور ہو۔

17۔ اور اسکی پڑوسنوں نے اس بچے کو ایک نام دیا اور کہنے لگی کہ نعومی کے لیے ایک بیٹا پیدا ہوا سو انہوں نے اس کا نام عوبید رکھا وہ یسی کا باپ تھا جو داؤد کا باپ ہے۔

5. Ruth 4 : 13, 14, 17

13     So Boaz took Ruth, and she was his wife: and when he went in unto her, the Lord gave her conception, and she bare a son.

14     And the women said unto Naomi, Blessed be the Lord, which hath not left thee this day without a kinsman, that his name may be famous in Israel.

17     And the women her neighbours gave it a name, saying, There is a son born to Naomi; and they called his name Obed: he is the father of Jesse, the father of David.

6۔ رومیوں 8باب28، 31، 35، 37تا39 آیات

28۔ اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی ان کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

31۔ پس ہم ان باتوں کی بابت کیا کہیں؟ اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟

35۔کون ہم کو مسیح کی محبت سے جدا کرے گا؟ مصیبت یا تنگی یا ظلم یا کال یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار؟

37۔ مگر ان سب حالتوں میں اس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔

38۔کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت ہمارے خداوند مسیح یسوع میں ہے اس سے ہم کو نہ موت جدا کرسکے گی نہ زندگی۔

39۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔

6. Romans 8 : 28, 31, 35, 37-39

28     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.

31     What shall we then say to these things? If God be for us, who can be against us?

35     Who shall separate us from the love of Christ? shall tribulation, or distress, or persecution, or famine, or nakedness, or peril, or sword?

37     Nay, in all these things we are more than conquerors through him that loved us.

38     For I am persuaded, that neither death, nor life, nor angels, nor principalities, nor powers, nor things present, nor things to come,

39     Nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God, which is in Christ Jesus our Lord.

7۔ مکاشفہ 1باب1، 2 آیات

1۔ یسوع مسیح کا مکاشفہ جو اْسے خدا کی طرف سے اس لئے ہوا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دکھائے جن کا جلد ہونا ضرور ہے اور اْس نے اپنے فرشتے کو بھیج کر اْس کی معرفت انہیں اپنے بندہ یوحنا پر ظاہر کیا۔

2۔ جس نے خدا کے کلام اور یسوع مسیح کی گواہی کی یعنی اْن سب چیزوں کی جو اْس نے دیکھی تھیں شہادت دی۔

7. Revelation 1 : 1, 2

1     The Revelation of Jesus Christ, which God gave unto him, to shew unto his servants things which must shortly come to pass; and he sent and signified it by his angel unto his servant John:

2     Who bare record of the word of God, and of the testimony of Jesus Christ, and of all things that he saw.

8۔ مکاشفہ 21باب1تا4آیات

1۔ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔

2۔پھر مَیں نے شہر مقدس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اترتے دیکھا اور وہ اُس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

3۔پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا ہو گا۔

4۔اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

8. Revelation 21 : 1-4

1     And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.

2     And I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

3     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

4     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.



سائنس اور صح


1۔ 307 :25 (الٰہی)۔30

الٰہی فہم بشر کی روح ہے، اور انسان کو سب چیزوں پر حاکمیت عطا کرتا ہے۔ انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین، فہم کے بلند آئین میں ہے۔

1. 307 : 25 (The divine)-30

The divine Mind is the Soul of man, and gives man dominion over all things. Man was not created from a material basis, nor bidden to obey material laws which Spirit never made; his province is in spiritual statutes, in the higher law of Mind.

2۔ 249 :31۔5

انسان روح کا عکس ہے۔ وہ مادی احساس کے عین مخالف ہے، ماسوائے صرف انا کے۔ ہم تب غلطی کرتے ہیں جب ہم روح کو مختلف ارواح میں تقسیم کرتے، فہم کو افہام سے بڑھاتے ہیں اور غلطی کو فہم بنانے کی توقع رکھتے ہیں، پھر فہم کو مادہ میں اور مادہ سے قانون ساز کی توقع کرتے ہیں، جہالت کو فہم کی مانند کام کرنے اور فانیت کو لافانیت کا سانچہ بننے کی امید رکھتے ہیں۔.

2. 249 : 31-5

Man is the reflection of Soul. He is the direct opposite of material sensation, and there is but one Ego. We run into error when we divide Soul into souls, multiply Mind into minds and suppose error to be mind, then mind to be in matter and matter to be a lawgiver, unintelligence to act like intelligence, and mortality to be the matrix of immortality.

3۔ 390 :4۔9

ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ زندگی خود پرور ہے، اور ہمیں روح کی ابدی ہم آہنگی سے منکر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ، بظاہر فانی احساسات میں اختلاف ہیں۔ یہ خدا، الٰہی اصول، سے ہماری نا واقفیت ہے جو ظاہری اختلاف کو جنم دیتی ہے، اور اس سے متعلق بہتر سوچ ہم آہنگی کو بحال کرتی ہے۔

3. 390 : 4-9

We cannot deny that Life is self-sustained, and we should never deny the everlasting harmony of Soul, simply because, to the mortal senses, there is seeming discord. It is our ignorance of God, the divine Principle, which produces apparent discord, and the right understanding of Him restores harmony.

4۔ 444 :2۔6، 10۔12

کسی طریقے سے، جلد یا بدیر، سب مادیت میں برتری کی جانب بڑھتے ہیں، اور تکالیف اکثر اس بلندی کاالٰہی کارگزار بنتی ہیں۔ ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں،“ یہ کلام کا دعویٰ ہے۔

وہ جو اْس پر بھروسہ رکھتے ہیں قدم بہ قدم یہ جانیں گے کہ ”خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستعد مددگار۔“

4. 444 : 2-6, 10-12

In some way, sooner or later, all must rise superior to materiality, and suffering is oft the divine agent in this elevation. "All things work together for good to them that love God," is the dictum of Scripture.

Step by step will those who trust Him find that "God is our refuge and strength, a very present help in trouble."

5۔ 410 :14۔17

خدا پر ہمارے ایمان کی ہر آزمائش ہمیں مضبوط تر بناتی ہے۔ مادی حالت کا روح کے باعث زیر ہونا جتنا زیادہ مشکل لگے گا اْتنا ہی ہمار ایمان مضبوط تر اور ہماری محبت پاک ترین ہونی چاہئے۔

5. 410 : 14-17

Every trial of our faith in God makes us stronger. The more difficult seems the material condition to be overcome by Spirit, the stronger should be our faith and the purer our love.

6۔ 66 :6۔16، 30۔3

مشکلات بشر کو مادی عصا، ایک خستہ نرسل پر نہ جھکناسکھاتی ہیں، جو دل میں چھِید جاتا ہے۔خوشی اور خوشحالی کی دھوپ میں ہم اس کی نیم خیالی نہیں رکھتے۔ غم صحت بخش ہیں۔ بڑی مصیبتوں کے وسیلہ ہم بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔ آزمائشیں خدا کی حفاظت کا ثبوت ہیں۔ روحانی ترقی مادی امیدوں کی مٹی میں پیدا ہونے والے بیج سے نمو نہیں پاتی، بلکہ جب یہ فنا ہوجاتے ہیں، محبت نئے سرے سے روح کی بلند تر خوشیوں کو پروان چڑھاتی ہے، جس پر زمین کا کوئی داغ نہیں ہوتا۔ تجربے کا ہر کامیاب مرحلہ الٰہی اچھائی اور محبت کے نئے نظریات کو کھولتا ہے۔

غم میں اس کا اپنا اجر ہے۔ یہ ہمیں وہاں کبھی نہیں چھوڑتا جہاں ہمیں یہ پاتا ہے۔ آگ کی بھٹی سونے سے زنگ کو دور کرتی ہے تاکہ خدا کی صورت کے ساتھ قیمتی دھات کندہ کی جا سکے۔ جو پیالہ ہمارے باپ نے دیا ہے، کیا ہم وہ نہ پئیں اور جو سبق وہ ہمیں سکھاتا ہے وہ نہ سکھیں؟

6. 66 : 6-16, 30-3

Trials teach mortals not to lean on a material staff, — a broken reed, which pierces the heart. We do not half remember this in the sunshine of joy and prosperity. Sorrow is salutary. Through great tribulation we enter the kingdom. Trials are proofs of God's care. Spiritual development germinates not from seed sown in the soil of material hopes, but when these decay, Love propagates anew the higher joys of Spirit, which have no taint of earth. Each successive stage of experience unfolds new views of divine goodness and love.

Sorrow has its reward. It never leaves us where it found us. The furnace separates the gold from the dross that the precious metal may be graven with the image of God. The cup our Father hath given, shall we not drink it and learn the lessons He teaches?

7۔ 265 :23۔5

کون ہے جس نے انسانی امن کے نقصان کو محسوس کیا اور روحانی خوشی کے لئے شدید خواہشات حاصل نہیں کیں؟آسمانی اچھائی کے بعد اطمینان حاصل ہوتا ہے حتیٰ کہ اس سے قبل کہ ہم وہ دریافت کرتے جو عقل اور محبت سے تعلق رکھتا ہے۔زمینی امیدوں اور خوشیوں کا نقصان بہت سے دلوں کی چڑھنے والی راہ روشن کرتی ہے۔ فہم کی تکلیفیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ادراک کی خوشیاں فانی ہیں اور وہ خوشی روحانی ہے۔

فہم کی تکالیف صحت بخش ہیں، اگر وہ جھوٹے پْرلطف عقائد کو کھینچ کر دور کرتے اور روح کے فہم سے محبت پیدا کرتے ہیں، جہاں خدا کی مخلوقات اچھی ہیں اور ”دل کو شادمان“ کرتی ہیں۔ ایسی ہی سائنس کی تلوار ہے جس سے سچائی غلطی، مادیت کا سر قلم کرتی ہے، انسان کی بلند انفرادیت اور قسمت کو جگہ فراہم کرتے ہوئے۔

7. 265 : 23-5

Who that has felt the loss of human peace has not gained stronger desires for spiritual joy? The aspiration after heavenly good comes even before we discover what belongs to wisdom and Love. The loss of earthly hopes and pleasures brightens the ascending path of many a heart. The pains of sense quickly inform us that the pleasures of sense are mortal and that joy is spiritual.

The pains of sense are salutary, if they wrench away false pleasurable beliefs and transplant the affections from sense to Soul, where the creations of God are good, "rejoicing the heart." Such is the sword of Science, with which Truth decapitates error, materiality giving place to man's higher individuality and destiny.

8۔ 60 :29۔11

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔ صرف بلند لطف ہی لافانی انسان کے نقوش کو تسلی بخش بنا سکتے ہیں۔ ہم ذاتی فہم کی حدود میں خوشی کو محدود نہیں کر سکتے۔حواس کوئی حقیقی لطف عطا نہیں کرتے۔

انسانی ہمدردیوں میں اچھائی کو بدی پر اور جانور پر روحانی کو غلبہ پانا چاہئے وگرنہ خوشی کبھی فتح مند نہیں ہوگی۔ اس آسمانی حالت کا حصول ہماری نسل کو ترقی دے گا، جرم کو تلف کرے گا، اور امنگ کو بلند مقاصد عنایت کرے گا۔ گناہ کی ہر وادی سر بلند کی جانی چاہئے، اور خود غرضی کا ہر پہاڑ نیچا کرنا چاہئے، تاکہ سائنس میں ہمارے خدا کی راہ ہموار کی جا سکے۔

8. 60 : 29-11

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul. Higher enjoyments alone can satisfy the cravings of immortal man. We cannot circumscribe happiness within the limits of personal sense. The senses confer no real enjoyment.

The good in human affections must have ascendency over the evil and the spiritual over the animal, or happiness will never be won. The attainment of this celestial condition would improve our progeny, diminish crime, and give higher aims to ambition. Every valley of sin must be exalted, and every mountain of selfishness be brought low, that the highway of our God may be prepared in Science.

9۔ 22 :11۔20

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“ اگر آپ کی کوششیں خوف و ہراس کی مشکلات میں گھِری ہیں، اور آپ کو موجودہ کوئی اجر نہیں مل رہا، واپس غلطی پر مت جائیں، اور نہ ہی اس دوڑ میں کاہل ہو جائیں۔

جب جنگ کا دھواں چھٹ جاتا ہے، آپ اْس اچھائی کو جان جائیں گے جو آپ نے کی ہے، اور آپ کے حق کے مطابق آپ کو ملے گا۔

9. 22 : 11-20

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing." If your endeavors are beset by fearful odds, and you receive no present reward, go not back to error, nor become a sluggard in the race.

When the smoke of battle clears away, you will discern the good you have done, and receive according to your deserving.

10۔ 572 :19۔25

مکاشفہ 21باب1 آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

”پھر میں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔“

انکشاف کرنے والا ابھی موت کہلانے والے انسانی تجربے کے تبدیل شْدہ مرحلے میں سے ابھی نہیں گزرا تھا، لیکن اْس نے پہلے ہی نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھ لیا ہے۔

10. 572 : 19-25

In Revelation xxi. 1 we read: —

And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.

The Revelator had not yet passed the transitional stage in human experience called death, but he already saw a new heaven and a new earth.

11۔ 573 :13۔2

اس سائنسی شعور کے ہمراہ ایک اور مکاشفہ تھا، حتیٰ کہ آسمان کی طرف سے اعلان، اعلیٰ ہم آہنگی، کہ خدا،ہم آہنگی کا الٰہی اصول ہمیشہ انسان کے ساتھ ہے، اور وہ اْس کے لوگ ہیں۔ پس انسان کو مزید قابل رحم گناہگار کے طور پر نہیں سمجھا گیا بلکہ خدا کا بابرکت فرزند سمجھا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ آسمان اور زمین سے متعلق مقدس یوحنا کی جسمانی حس غائب ہو چکی تھی، اور اس جھوٹی حس کی جگہ روحانی حس آگئی تھی، جو ایسی نفسی حالت تھی جس کے وسیلہ وہ نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھ سکتاتھا، جس میں روحانی خیال اور حقیقت کا شعور شامل ہے۔ یہ کلام کا اختیار یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے تھا کہ ہستی کی ایسی شناخت اس وجودیت کی موجودہ حالت میں انسان کے لئے ممکن ہے اور رہی تھی، کہ ہم موت، دْکھ اور درد کے آرام سے یہاں اور ابھی باخبر ہو سکتے ہیں۔ یہ قطعی کرسچن سائنس کی چاشنی ہے۔ برداشت کرنے والے عزیزو، حوصلہ کریں، کیونکہ ہستی کی یہ حقیقت یقینا کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی صورت میں سامنے آئے گی۔ کوئی درد نہیں ہوگا، اور سب آنسو پونچھ دئیے جائیں گے۔ جب آپ یہ پڑھیں تو یسوع کے ان الفاظ کو یاد رکھیں، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔“اسی لئے یہ روحانی شعور موجودہ امکان ہے۔

11. 573 : 13-2

Accompanying this scientific consciousness was another revelation, even the declaration from heaven, supreme harmony, that God, the divine Principle of harmony, is ever with men, and they are His people. Thus man was no longer regarded as a miserable sinner, but as the blessed child of God. Why? Because St. John's corporeal sense of the heavens and earth had vanished, and in place of this false sense was the spiritual sense, the subjective state by which he could see the new heaven and new earth, which involve the spiritual idea and consciousness of reality. This is Scriptural authority for concluding that such a recognition of being is, and has been, possible to men in this present state of existence, — that we can become conscious, here and now, of a cessation of death, sorrow, and pain. This is indeed a foretaste of absolute Christian Science. Take heart, dear sufferer, for this reality of being will surely appear sometime and in some way. There will be no more pain, and all tears will be wiped away. When you read this, remember Jesus' words, "The kingdom of God is within you." This spiritual consciousness is therefore a present possibility.

12۔ 273 :18 صرف

جب روح کی طرف سے حکمرانی ہوتی ہے تو انسان ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔

12. 273 : 18 only

Man is harmonious when governed by Soul.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████