500 دیدنی نقاط |

500

دیدنی

نقاط

کرسچن سائنس کے طلبہ کو ترقی دلانے کے لئے

منجانب گلبرٹ سی کارپینٹر، سی۔ ایس۔ بی۔

اور گلبرٹ سی کارپینٹر جے۔ آر، سی۔ ایس۔ بی۔

پرویڈینس آر آئی میں، 1929تا1942 کے دوران تحریر کی شْدہ

تعارف

میری بیکر ایڈی کی تحری کردہ ہماری درسی کتاب، سائنس اور صحت آیات کی کنجی کے ساتھ، ہر انسانی ضرورت کا احاطہ کرتی اور معنی فراہم کرتی ہے جس سے شاید ہر مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہر طالب علم اس کی تعلیمات کو خود لاگو کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے خصوصاً غلطی کے اْس مرحلے کے لئے جو طالب علم کو یا توبائبل اور اْس کی درسی کتاب کی تعلیمات کی حقیقی اہمیت کو سمجھنے سے یا اْس کی سمجھ کو وسیع کرنے سے روکنے کا دعویٰ کرتا ہے جو اکیلا آخری حتمی نجات لاتا ہے۔

وہ طالب علم جو ہمارے قائد کے گھر میں رہتے تھے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انسانی تجربے کا کوئی حصہ اس قدر غیر معمولی نہیں تھا کہ اسے خدا کے اصولوں پر لاگو کرنے کی اور اْس کی مدد حاصل کرنے ضرورت نہ پڑتی۔ بہت سی غلط فہمیاں جو سامنے آئیں وہ اس حقیقت سے جنم لیں کہ اپنے معلمین کی جانب سے اس کے وسیع استعمال کے برعکس طالب علموں کو سچائی کے اطلاق کا خیال بہت محدود تھا۔

کچھ ایسے بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ مسز ایڈی غیر معمولی تفصیلات سے متعلق انتہائی نازک طبع تھیں، جبکہ وہ محض اپنے طالب علموں سے چھوٹی سے چھوٹی اوراس کے ساتھ ساتھ بڑی چیز سے متعلق درست سوچ کا مطالبہ کرتی تھی۔اْن کے بارے میں یہ کبھی نہیں سمجھا گیا کہ وہ کسی طالبعلم کو کسی غیر معمولی انسانی معاملے سے متعلق اظہار پر سرزنش یا تنقید کرتی تھیں۔

آپ کا استاد اِن دیدنی نقاط کو اپنے طلبہ کے لئے ایک بروقت اشارہ مقرر کرنا چاہتا ہے تاکہ کرسچن سائنس کے اْن کے اظہار کو وسعت دے جیسے مسز ایڈی نے اپنے گھر میں اس کی مثال قائم کی، خاص طور پر جیسے اس قسم کی کوشش کسی مجوزہ تنویم سے تعلق رکھتی ہے جو بائبل اور سائنس او ر صحت سے متعلق عمیق مفہوم پراْن کی سمجھ پر پردہ ڈالنے کا دعویٰ رکھتی ہے۔

کیا اس خیال کو پالنا غلطی نہیں کہ خدا کی عمیق باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت ایک عمدہ خاصیت ہے جو صرف مطالعہ اور اطلاق سے حاصل کی گئی ہو؟ سچ، یہ جاننے کے لئے کہ وہ کیا ہے جوطلبہ کو اْس عقل کو ظاہر کرنے اور اْ سکی آواز بننے سے روکتی ہے جو مسیح یسوع میں تھی، ایسے مطالعہ اور اطلاق کی ضرورت ہے، یعنی ایسی بات جو الٰہی اور سائنسی طور پراْس شخص کے لئے فطری ہوتی ہے جس کی سوچ فانی عقل کے اثر سے آزاد ہو چکی ہوتی ہے۔ طالب علم کا سب سے بڑا کام اپنی سوچ کو خالی کرنا ہے تاکہ خدا کی گہری باتیں اس میں بہنا شروع کریں۔

بائبل اْن لوگوں کی فتوحات اور اس کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کو بھی بیا ن کرتی ہے جو سچائی کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ آپ کے سامنے اس قدر قابل غور مثالوں کے ساتھ، آپ اسے نامناسب نہیں سمجھیں گے اگر آپ کا استاد حلیمی کے ساتھ چند اْن اسباق پر زور دینا چاہے گا جو خود اْس نے سیکھے ہیں۔ اْسے امید ہے کہ یہ شاید راستے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کسی اور کے لئے مفید ہوں۔یہ وہ سچائی ہے جو اس انسانی خواب میں تاریک جگہوں کو روشن کرتی ہے؛ تاہم ایک زائر کسی دوسرے کے ساتھ اپنی روشنی بانٹ سکتا ہے۔

پہلا اور اولین دیدنی نقطہ، جو حقیقتاً پورے منظر کا احاطہ کرتا ہے، یہ ہے دیکھنا ہے کہ کہیں درج ذیل صفحات میں انسانی غلطیوں کو نہ چھوا گیا ہو، کیونکہ وہ بدی بطور حقیقت سے متعلق دنیاوی عقیدے کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں، خود کو آپ کے ضمیر میں بطور حقیقی قائم رکتے ہیں، یا آپ کے لئے کسی قدر لیکن فریب نظری، غیر سائنسی سوچ کے اثر کے ساتھ نپٹنے کا یقین کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔یاد رکھیئے کہ غلط سوچ اور اْس کے اثرات خدا کی نظر میں غیر حقیقی ہیں؛ جن کا فانی انسان کو خوف ہوتا ہے اور جن سے وہ ڈرتا ہے متوازی طور پر فرضی ہیں۔

دیدنی نقاط

دیکھنا کہیں آپ کرسچن سائنس میں خوشی کے سوا کسی اورنقطہ نظر سے کچھ کرنے کو کوشش نہ کریں۔ ہماری قائد کا گیت ہمیں ناہموار راستے کی پیروی کرنے اور اْس پر خوشی منانے کی نصیحت کرتا ہے۔ کرسچن سائنس میں خوشی کے ساتھ کیا گیا کام ایک ایسی طاقت اور اثر رکھتا ہے جو کسی سنجیدہ فرض کی ادائیگی میں کبھی نہیں پایا جاتا۔اگر آپ کو لگے کہ آپ اپنی خوشی کھو چْکے ہیں تو مسز ایڈی کے اس حکم کی تعمیل کریں کہ، ”اگر آپ کی خوشی کھو گئی ہے تو حیوانی مقناطیسیت کو سنبھالیں۔“ اگر یہ کام مناسب انداز میں سر انجام دیا جائے تو آپ کی خوشی لوٹ آئے گی، اور آپ اپنے کام کو دوبارہ آگے بڑھائیں گے۔ہماری قائد نے ایک بار جارج کنٹر کو لکھا، ”خوشی اور شادمانی جوہر میں الٰہی ہیں، اور ان کا اجر اپنے اثرات میں گوناں گوں ہے۔“

اگر آپ برف سے پھسل کر پانی میں گر جاتے ہیں اور آپ فوراً ساحل کی جانب تیرنا شروع کردیں تو آپ مزید پھنس جائیں گے۔ پہلا کام اوپر اٹھنا ہے۔ پھر آپ برف کی سطح پرچڑھیں اور ساحل کی جانب چلنا شروع کریں۔سطح کی جانب اٹھنا کرسچن سائنس میں تمام تر کوشش کی تیاری کرنے میں، لازمی سوچ کی روشنی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ”صادقوں کی امید خوشی لائے گی۔“ (امثال 10باب 28آت)۔




دیکھنا کہیں آپ کرسچن سائنس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے مفہوم اور بلند اہمیت کی ضرورت کو پہچاننے میں ناکام نہ ہوں، بجائے اس کے کہ فانی عقل کی تعریفوں کو قبول کریں۔ یہ کرنے کے لئے ہوشیاری درکار ہے، کیونکہ ان سے منسلک انسانی مفہوم مقرر کر دیا گیا ہے۔ایسے الفاظ کی چند مثالیں یہ ہیں: دعا، محبت، کام، عقل، فرمانبرداری، آسمان، جہنم، خدمت، فرض، عقیدہ، عبادت، وفاداری، گناہ، صحت، بیماتی، ہم آہنگی، لافانیت۔ متفرق تحریروں کے صفحہ نمبر 249 میں ہم اْن طلبہ سے متعلق پڑھتے ہیں جنہیں مسز ایڈی کے کالج سے بد اخلاقی کے باعث خارج کر دیا گیا تھا۔ آپ کے خیال میں اْنہوں نے خدا کی نظر میں کیا گناہ کیا تھا؟




دیکھناکہیں ایسا نہ ہو، بائبل پڑھتے ہوئے، سائنس اور صحت اور میری بیکر ایڈی کی دیگر تحریریں پڑھتے ہوئے، آپ لفظی مفہوم کو قبول اور تسلیم نہ کریں جیسا کہ ایک غیر الہامی سوچ متن کو پڑھتی ہے، بجائے اس کے کہ خود کے خیالات کو اْسی الہامی فہم میں قائم کیا جائے جو مصنف نے اپنائی، تاکہ حقیقی مفہوم آپ پر عیاں ہو۔




دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ بائبل، سائنس اور صحت کے متن سے آپ کی آگاہی آپ کو یہ یقین کرنے کا موجب بنے کہ اس کا کوئی بھی حصہ خود کار گواہی، یا خود کار توضیحی ہے، یا اس کا مفہوم با آسانی قابلِ فہم ہے، کیونکہ ایسا واضح طور پر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ الہامی الفاظ کا حقیقی مفہوم انسانی مناظرے کے عمل سے کبھی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔




دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی ہمدردیاں جھروکے پر ترتیب دیں، بجائے سورج کی اْس روشنی کے جو اِس پر نچھاور ہو رہی ہے۔ اگر کوئی شخص محبت بھری حصوصیات کی عکاسی کرتا ہے، یا اْس سچائی کی عکاسی کرتا ہے جو شفا دیتی ہے، مسز ایڈی کہتی ہیں کہ یہ اس لئے کیونکہ الٰہی عقل اْس میں سے گزر رہی ہے جیسے ایک کھڑکی کے شیشے میں سے روشنی گزرتی ہے۔ اگر کوئی کسی شخص کے لئے کشش محسوس کرتا ہے، بجائے کہ اْس الٰہی محبت سے جو منعکس ہو رہی ہے، تو متشکل بنائی گئی اچھائی کا خطرہ ہوگا، جس کا نتیجہ ناگزیر طور پر بدی کا متشکل ہونا ہوگا۔ یہ اچھائی کو محدود کرتا اور بدی کو عارضی قوت فراہم کرتا ہے۔بے شک یہوداہ نے اْس اچھائی کو متشکل کیا جو استاد سے منعکس ہوئی تھی۔پھر جب اْس نے اْسے دھوکہ دیا تو منطقی انجام یہ ہوا کہ بدی اْس کی ذاتی بن گئی۔ پس بدی کو تباہ کرنے کی خاطر اْسے خود کا قتل کرنا پڑا۔ اگر اْس نے اسے غیر شخصی بنایا ہوتا، تو اْس نے بدی کو قتل کیا ہوتا اور خود کو اس سے آزاد کر لیا ہوتا۔ایک بار کسی طالبعلم نے بیان کیا: ”جس حد تک ہم اچھائی کو اپنانے سے کتراتے ہیں، ویسے ہی ہم بدی کو اپنانے سے کتراتے ہیں۔“یہ مشورہ دوسروں کے ساتھ ہمارے رویے پر لاگو ہوتا اور وسعت رکھتا ہے۔




دیکھنا کہیں ایسا نہ ہو کہ قدیم الٰہیاتی تعلیم اور تربیت،جو گناہ کو تشکیل دیتی ہے،آپ کو یہ سمجھنے سے روکے کہ بنیادی طور پر گناہ، بجائے کہ اس کا اثر، غلط عمل کی بجائے غلط سوچ کا موجب بنتا ہے۔ بنیادی گناہ روح القدس کے خلاف یا اْس کے خلاف کیا گیا گناہ ہے جو انسان کو اْس کے خالق سے ملاتا ہے۔ جسے دنیا گناہ کہتی ہے وہ اس بنیادی عقیدے یا تنویم کو قبول کرنے کی غلطی کا ظاہری نتیجہ ہے۔

جسے دنیا گناہ کہتی ہے وہ انسان کو خدا سے اس قدر موثر انداز میں دور نہیں کرتا جتنا کہ یہ کرتی ہے جسے دنیا اچھائی کہتی ہے، جو بڑے پیمانے پر خود کار راستبازی ہے۔ جب کوئی بشر سمجھتا ہے کہ اْس کے کام گناہ آلودہ ہیں، وہ خود سے اور مادی وجودیت سے غیر مطمین ہوتا ہے، تاکہ وہ خدا کی دلی خواہش پوری کرے، جبکہ ایمان اور عقائد کے خود پسند پیروکار بہت کم بھوک مادے سے غیر اطمینانیت محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جہاں تک روحانی نشوونما کا تعلق ہے تو خود کار راستبازی خیالات کی سب سے خطرناک حالت ہے۔ جب تک کوئی بھوکا نہ ہو کھانا نہیں کھاتا۔ لہٰذہ آج کے خود کار راستباز فقیہ اور فریسی کسی حتمی روحانی بھوک سے مانع ہیں، جو بشری انسان کو الٰہی تک پہنچنے کا موجب بنتی ہے۔

خود کار راستبازی شاید روح القدس کے خالف گناہ کہلاتی ہے،حالانکہ یہ انسان کی روحانی فطرت کے خلاف گناہ ہے، اور یہ معاشرے کے خلاف کئے جانے والے گناہوں سے کہیں زیادہ سنجیدہ ہے، جس کے لئے فانی عقل نے سزا کا حکم دیا ہے۔ خدا کے نقطہ نظر میں سب سے خطرناک گناہ وہ ہو سکتا ہے جو انسان کو بہت مطمین ہونے کے لئے آزماتا ہے، اور خدا سے الگ ہو کر محفوظ محسوس کرواتا ہے۔

یہ بات رپورٹ ہوئی ہے کہ مسز ایڈی نے ایک بار یہ بیان دیا کہ وہ چرچ میں کسی پچانوے فی صد اچھے انسا ن کی بجائے چالیس فیصد اچھے انسان کے ساتھ کام کرنا پسند کریں گی۔ ایسا بیان خاصا بے قاعدہ سا لگتا ہے جب تک کہ ہم انسان کی اچھائی کے حوالے سے اس کی تشریح نہیں کرتے۔ حقیقت میں مسز ایڈی محض اپنے مالک کے قول کو اپنے الفاط میں بیان کر رہی تھی، ”میں راستوں کو نہیں بلکہ گناہگاروں کو توبہ کے لئے بلانے آیا ہوں۔“ انسان آخر کار ختم کر دیا جائے گا خواہ یہ اچھا لگے یا بْرا۔ جتنے فی صد ہم اسے برا سمجھیں گے، اتنے فیصد ہی ہم اسے باہر نکالنے کی کوشش کریں گے، لہٰذہ ہم خدا کی نظر میں کم گناہگار ہوں گے، کیونکہ اْس کی نظر میں گناہ انسان پر یقین رکھنا اور اْس سے جْڑے رہنا ہے۔ وہ دولتمند نوجوان جو یسوع کے پاس آیا تھا اْن لوگوں کی مثال ہے جنہیں مسز ایڈی پچانوے فیصد اچھے کہتی ہے۔ وہ پریشان ہوگیا جب مالک نے اْسے کہا کہ جو کچھ اْس کے پاس ہے اْسے چھوڑ دے، خواہ وہ اْس کے لئے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ثابت ہوئی ہو۔ اگر وہ انسان یا مادے کی کم دولت کا مالک ہوتا تو وہ اس قدر دْکھی نہ ہوتا۔ پس انسانی اچھائی پر اْس کا یقین روح القدس کے خلاف گناہ تھا۔

مسر ف بیٹا شایداپنے بڑے بھائی کی پچانوے فیصد اچھائی کے مقابلے میں چالیس فیصد اچھا تھا۔ تاہم مسرف بیٹے کی واپسی پر دوسرے کا رویہ دیکھیں! وہ اْس پر خفا ہوا، جس انداز سے اْسے قبول کیا گیا وہ اِس پر حاسد ہوا، اور یوں ردِ عمل دکھایا جیسے وہ چاتا تھا کہ اْس کا بھائی کبھی بحال نہ ہوتا؛ جب حقیقت میں، مصر کا تجربہ ایک لازمی مرحلہ تھا جس کے وسیلہ مسرف بیٹے نے مادیت کے سبھی عدم اور نااہلیت کو جانا۔ چونکہ بدی کے دعوے سے متعلق باپ کے گھر میں سے کچھ نہیں سیکھا گیا، اور غریب انسانوں کی مدد کے لئے یہ علم لازمی تھا، اور یہ مصر میں سیکھا جانا تھا۔ پھر جب مسرف بیٹا واپس لوٹا، وہ اپنے باپ کے مقصد کے لئے اور انسانیت کی رہائی کے لئے اْس کے ساتھ کام کرنے کو تیار تھا۔ باپ اور بیٹے کا اکٹھے کام کرنا الٰہی سائنس اور کرسچن سائنس کی علامات ہیں، ایک آسمان پر سچائی ہے، تو دوسرا اس سچائی کو زمین پر لایا۔ سائنس اور صحت 471: 29دیکھیں۔

مسز ایڈی کے اپنے چرچ میں موجود بڑے بھائیوں کے ساتھ بہت سے تجربات تھے۔ وہ جانتی تھی کہ سب سے زیادہ وہ مسائل کھرے کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے ان بھائیوں کو ایسے دلیر تیراکوں کو واپس فانی سوچ کی ندی میں پھینکتے دیکھا ہے جو ساحل پر پہنچنے کے لئے بہت جدو جہد کرتے تھے، شاید وہی تھے جنہیں وہ بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔تمام گناہوں سے زیادہ گھناؤنے اس گناہ کے خلاف جدو جہد کرنے کے لئے کون اْس پر الزام لگائے گا، یعنی، انسانی اچھائی پر یقین رکھنا، جب واحد حقیقی اچھائی الٰہی ہے؟




دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس اصلاح کو قبول کر لیں کہ آپ روحانی طور پر خود سوزی، کسرِ نفسی، عاجزی اور حلیمی کے علاوہ کسی اور طریقے سے ترقی کر سکتے ہیں۔ ایک سچا کرسچن سائنسدان حلیمی سے ہر حال میں خدا کی عقل کی عکاسی کرنے کی خواہش رکھتا ہے؛ اور عوامی شناخت کی کوئی بھی خواہش، یا انسان کے قدموں میں آنا، روحانی فہم سے نہیں ہوتا، بلکہ حیوانی مقناطیسیت سے ہوتا ہے۔ لوقا 20باب46آیت میں ہم پڑھتے ہیں، ”فقیہوں سے خبردار رہنا جو لمبے لمبے جامے پہن کر پھرنے کا شوق رکھتے ہیں اور بازاروں میں سلام اور اعلیٰ درجے کی کرسیوں ضیافتوں میں صدر نشینی پسند کرتے ہیں۔“




دیکھنا ایسا نہ ہوافواہیں، انسانی آراء اور ”زبانوں کا جھگڑا“، آپ کی سوچ کو پریشان کر دے کہ آپ اپنا ذہنی شعور کھونے کی آزمائش میں پڑ جائیں، اور یہ ماننے لگیں کہ کرسچن سائنس کا مقصد کتوں کی طرف راغب ہو رہا ہے، اور دیگر کرسچن سائنسدانوں، مسیح میں اپنے بھائیوں کی وفاداری پر شک کرنے لگیں۔ حیوانی مقناطیسیت مضبوط کو کمزور کرنے اور رتبوں میں منقسم کرنے کے لئے، ایسا اثر پیدا کرنے کی خاطر سڑانڈ یا زہریلی گیس خارج کرتی ہے۔ اس کا زہر مار الٰہی محبت کی عکاسی ہے، جو کسی شخص کو غلطی کے غیر شخصی بنانے کے قابل بناتی ہے، اور یہ جاننے کے کہ جھوٹی گواہی کے باوجود، خدا اپنوں سے زیادہ خیال رکھتا ہے۔




دیکھنا ایسا نہ ہو، ایک اچھا اظہار رکھتے ہوئے، آپ انسانی نتائج سے مطمین ہو جائیں اور مزید روحانی کوشش کرنا چھوڑ دیں۔ جو کچھ بھی کسی شخص کی روحانی بڑھوتری میں رکاوٹ بنتا ہے اسے مخالف مسیح تصور کیا جانا چاہئے، حتی کہ یہ شاید سائنسی اظہار کا نتیجہ ہو۔اگر کوئی بھی چیز کسی شخص کو اْس کے روحانی سفر میں ساکت کرتی ہے تو وہ مسیح کی دْشمن بنتی ہے۔انسانی ہم آہنگی جو انسان کے غائب ہونے کی تقدیم کرتی ہے، کسی طالب علم کے لئے خطرناک ہے، چونکہ اگر وہ دھیان نہیں دیتا، تو شاید اْسے یہ بطور مکمل اور پورے اظہار کے اس حالت کو قبول کرنے کی آزمائش ہو۔ یہ مانتے ہوئے کہ اْس نے مطلوبہ خواہش حاصل کرلی ہے، وہ اپنی کوششوں میں ساکت ہوسکتا ہے، اور مسیح کا مخالف مسیح کے آگے آنے والا بن سکتا ہے، ”مخالف سے سامنا کرنے والا بننا“اور اظہار کی وہ حالت جو مسیح کے آنے کو آگے بڑھاتی ہے وہ شاید مسیح کی آمد میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے۔

اگر آپ ایک خشک پودے کو بہت زیادہ پانی دینے سے مارنے کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی پہلی کوشش کے نتیجہ میں وہ بہت خو بصورت سے کھل جائے گا۔ہو سکتا ہے اس سے آپ یہ بھول جائیں کہ آپ اسے مارنا چاہتے تھے، شاید اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ یہ زہریلہ تھا۔ اس کی خوبصورتی کی خوشگوار فطرت شاید آپ کے لئے آزمائش بن جائے۔ کرسچن سائنس کا مقصد انسانی فہم کو سچائی کی ایسی خوراک دینا ہے کہ یہ غائب ہو جائے گا، اور انسان کا سچا فہم باقی رہ جائے گا، جو اپنی پاکیزگی، خوبصورتی اور کاملیت کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کیونکہ اظہار کا انسانی فہم پر پہلا اثر ہم آہنگی کے انسانی فہم کوباہر نکالنا ہے، جس سے یہ دیدنی نقطہ اہم بن جائے گا۔ انسانی ہم آہنگی بطور ایسے رجحان جائز ہے جو بڑھوتری کی طرف اشارہ کرتا ہے نہ کہ کسی کے روحانی سفر کو روکنے کا نشان بنتا ہے۔ مسز ایڈی سے متعلق اپنے گھر میں چند طلبہ کو یہ کہتے رپورٹ کیا گیا ہے کہ، ”میں یہ نہیں سمجھ پاتی کہ جب آپ طالب علم ہر روز مادے سے انکار کرتے ہیں تو آپ اس قدر پْر جوش کیوں ہوتے ہیں۔ یہ اس لئے کیونکہ سائنس آپ کے لئے ہم آہنگی کاانسانی فہم پیدا کرتا ہے۔“

اگر آپ بھاپ حاصل کرنے کے چکر میں برف پگھلا رہے تھے تو آپ اْس مقام پر پہنچنے کیلئے کچھ نہیں کر سکتے جہاں آپ کو گرم پانی ملنا تھا۔ اگر پانی فانی عقل کی نشانی ہوتا، بھاپ لامحدود الٰہی عقل، اور برف مخالف کا سرد ہاتھ جیسا کہ دْکھ، گناہ اور کمی میں دکھایا گیا ہے، تو یہ واضح ہے کہ یہ دْکھوں کا کوڑا ہی اے جوفانی انسان برف پگھلانے کی خاطر الٰہی محبت کی حدت کی تلاش کی جانب گامزن کرتا ہے۔ لیکن جب پانی خوشگوار سا گرم ہو جاتا ہے، تو یہاں اسے چھوڑنے کی آزمائش آتی ہے، کیونکہ ہر چیز انسانی طور پر ہم آہنگ ہوتی ہے۔ چوکس طالب علم جانتا ہے کہ یہی وہ وقت ہے جس میں اْسے پہلے سے زیادہ کوشش کرنی ہے کہ وہ درست سر گرمی کی سوچ کا ایسا ادراک پائے کہ فانی حدود کا خاتمہ ہو جائے، اور الٰہی عقل بطور کْل سامنے کھڑا ہو۔ اگرچہ برف کا پگھلنا خوشگوار ہے، لیکن اس کا کیا فائدہ اگر حتمی مقصد کو ذہن میں نہ رکھا جائے اور کاملیت کے لئے سائنسی مرحلے کو ملحوظ نہ رکھا جائے؟اگر کوئی شخص تیسرے درجے کے لئے بھاگ دوڑ نہیں کرتا تو سائنس اور صحت کے صفحہ نمبر 113 میں بیان کئے گئے دوسرے درجے کی کیا اہمیت ہے؟ کرسچن سائنس میں انسان کی حقیقی تعمیری کوشش انسانی ہم آہنگی کے ساتھ رْکتی نہیں بلکہ اس سے شروع ہوتی ہے۔ لہٰذہ برف کا پگھلنا اس کے بھاپ بننے کی جانب ایک قدم تصور کیا جانا چاہئے۔

سائنس اور صحت میں ملنے والے تین درجات کو مسیح اور کرسمس کی آخری تصویر میں بخوبی بیان کیا گیا ہے۔ پہلے درجے کو صلیب کے گہرے سائے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جب صلیب کا الٰہی مْقصد سمجھ لیا جاتا ہے تو اس کا خوف ختم ہوجاتا ہے، اور یہ پرندوں اور پھولوں سے سجی ہوئی، اور روشن ہو جاتی ہے۔تاہم اس نقطہ پر، اگر سائنس کی بدولت انسانی سوچ میں لائی گئی ترقی کو حصول تصور کیا جائے بجائے اس کے کہ یہ روحانی ترقی کا شارہ دیتی ہے، تو یہ شاید مخالف مسیح بن جائے۔ جب کوئی شخص صلیب کا خوف ختم کردیتا اور اس کے الٰہی مقصد کو پا لیتا ہے، تو یہ اس کا مقصد نہیں ہوتا بلکہ مْسد تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتا ہے۔دوسرا درجہ صرف تب مخالف مسیح بنتا ہے جب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کرسچن سائنس کا مقصد انسانی فہم کو ملبوس کرنا ہے تاکہ اسے انسانی اطمینان کے لئے دلکش بنایا جا سکے۔ سچائی کا حقیقی مقصد انسان کو اْس کے جسمانی خوابوں سے بیدار کرنا ہے، تاکہ زمین کا خدا کی چیزوں سے تبادلہ کیا جائے، تاکہ انسان کو تب، اور صرف تب ہی مطمین کیا جائے جب وہ اْس کی شبیہ میں بیدار ہوتا ہے۔




10۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، کہ آپ اپنی سوچ کو روحانی اطوار میں تعلیم دینے کی کوشش میں یہ بھول جائیں کہ آپ خود کے لئے کچھ نیا سیکھنے کی کوشش نہیں کر رہے، کیونکہ بطور خدا کے فرزند، آپ کوپہلے سے ہی الٰہی شعور کی پوشیدہ سچائی کے بیش قیمت جواہرات تک رسائی حاصل ہے، اور آپ صرف روحانی سوچ کی کھدائی کا کام کر رہے ہیں جس کے وسیلہ آپ سارے حقیقی علم کی عکاسی کرتے ہیں۔ آگے بڑھنے والے طالب علم،جو خدا کا نیا فرزند ہے، کو صرف ایک چیز جو چیز سیکھنی چاہئے وہ بدی کے کام کا علم ہے، اور یہ غائب ہونے والا علم ہونا چاہئے، کیونکہ جب کوئی بدی کو خارج کر دیتا ہے، اْسے مزید اس کے کام کا علم ساتھ نہیں رکھنا چاہئے۔

ایک امونیا کا یا یاد داشت کے فقدان کا شکار شخص کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ اْسے تعلیم کی ضرورت نہیں۔ اْسے اپنی یادداشت بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اْس کے شعور پر ایک پردہ پڑ چْکا ہے، جو عارضی طور پر خود سے متعلق اْس کی یادداشت کو ختم کر دیتا ہے۔ روحانی نقطہ نظر سے یہ انسان کی دوہری مشکل کو بیان کرتا ہے۔ انسان نے اصل میں اپنی روحانی خودی اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو نہیں کھویا؛ اْس نے محض اس پر سے اپنی بصیرت کھو دی ہے۔ پس کرسچن سائنس کا کام انسان کی روح کو بحال کرنا ہے، جو بالترتیب خدا کے ساتھ اْس کے اتحاد کو روشنی میں لائے گی۔

بعض اوقات کوئی شخص سوچتا ہے کہ قدیم اور خونخوار لوگ کیسے نجات پائیں گے۔ اْن کی نجات ممکنہ بن جاتی ہے کیونکہ خدا کا علم ایسا سیکھا جانے والا علم نہیں جسے کسی دوسری چیز کی مانند یاد رکھا جانا چاہئے۔ بائبل اس حوالے سے 2پطرس 3باب1آیت میں بات کرتی ہے، ”یاد دہانی کے طور پر تمہارے صاف دلوں کو ابھارتا ہوں“، اور یوحنا 14باب26آیت میں ہے، ”مددگار۔۔۔تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو مَیں نے تم سے کہا وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔“




11۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ مادے کی شفا اور تکریم میں خوش ہوں بجائے اس حقیقت کے کہ آپ الٰہی عقل کی پسندیدگی اور عظمت کو سمجھنا شروع کریں۔ لوقا 10باب20آیت میں یوں مرقوم ہے، ”اس سے خوش نہ ہوکہ روحیں تمہارے تابع ہیں بلکہ اس سے خوش ہو کہ تمہارے نام آسمان میں لکھے ہوئے ہیں۔“ کسی وجہ سے خوش ہوں نہ کہ کسی اثر سے۔ جب سچائی اس انسانی فہم کو لبریز کرنا شروع کرتی ہے تو ایک ایسا وقت آتا ہے جب اس کا اثر اس قدر پرکشش دکھائی دیتا ہے کہ آپ اسے نجات دینے کے قابل سمجھتے ہیں اور ایسا کرنے کی جدوجہد کرنے لگتے ہیں۔

ٹریپ شوٹنگ میں، مٹی کے کبوتروں کو ایسے دلکش انداز بنایا جاتا ہے کہ اْن کی دھجیاں اْڑ جائیں۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ قدیم زمانے میں قربانیاں چڑھانے کے لئے بے عیب، ریوڑ کے پہلوٹھے جانور لئے جاتے تھے۔ یہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اظہار کے عمل کے وسیلہ انسانی سوچ اور مادے میں رونما ہونے والی ترقی اِس کی تباہی کی تیاری ہے۔




12۔ دیکھنا ایسا نہ ہو تیز شراب (یسعیاہ 28باب7آیت)، یا جذباتی از حد خوشی یا بے قراری سے آپ غلطی کریں جو اکثر فانی انسان خدا کے ساتھ آشنا ہونے یا روحانی بلندی کی غرض سے غلطی کرتا ہے۔پرانی الٰہیات اس فریبی طریقہ کار کو استعمال کرتی ہے، لڑکوں کی کوائر کی مدھر آوازوں کو کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کے لئے استعمال کرنا وغیرہ۔ اس سے کسی روحانی ترقی کا اثر نہیں ہوتا۔

مسز ایڈی نے ایک بار جارجیا کی سْو ہارپر ممز کو خبردار کیا کہ رنگ والی نسل کے اراکین کو کرسچن سائنس کی تعلیم نہ دے۔ کیا یہاں اْس نے پوری نسل کو جماعتی ہدایات سے منقطع کردیا؟کیا وہ مسز ممز کو خیالات کے معیار کے خلاف خبردار نہیں کر رہی تھی؟ ایک شخص جو کرسچن سائنس کو جذبات کے ساتھ قبول کرنے کا ارادہ کرتا ہے، اور یہ مانتا ہے کہ اْس نے محض اس لئے اِس کی تعلیمات کو سمجھ لیا ہے کیونکہ وہ ان سے ڈر گیا ہے، وہ نئی تعلیمات کے لئے تیار نہیں ہوگا۔ جب کوئی شخص تیار ہوگا، خواہ وہ کالی جِلد والا ہی کیوں نہ ہو، وہ رنگین ہونا ترک کرے گا، اور کرسچن سائنسدان بن گیا ہے۔ یہی حقیقت کسی یہودی یا کیتھولک کے لئے ہے۔انہوں نے ایسی باتوں کو ترک کردیا جب انہوں نے جماعتی ہدایات کے لئے ضروری تیاری کی۔ روحانیت کے لئے بہت سے ایماندار لوگوں نے جذباتی طور پر غلطی کی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نقلی گلاب پر دھوکہ دینے کے لئے پرفیوم ڈالا گیا ہو۔




13۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین کرلیں کہ سچائی کا عمل آپ کی انسانی عقل کو اس حد تک ترقی دے رہا ہے جہاں یہ بالاآخر حقیقی حکمت بن جائے گی۔ حقیقی عقل جو تمام تر حکمت رکھتی ہے وہ الٰہی ہے۔ عقل کو ترقی نہیں دی جا سکتی، یہ انسان سے منعکس ہونی چاہئے۔ صرف ایک ترقی جو کوئی کر سکتا ہے وہ الٰہی عقل کو معکس کرنے کی قابلیت کو وسیع کرنا ہے۔

کرسچن سائنس انسان کے لئے اْس کی سوچ پیدا کرنے کے لئے نہیں آئی، نہ ہی اس کا مقصد انسانی سوچ کو ترقی دینا ہے۔ اس کا مشن یہ سکھانا ہے کہ درست سوچ کیا ہے، اور کوئی شخص کیسے اس درست سوچ کو خدا، عقلِ واحد، تمام تر درست خیالات کا منبع، سے منعکس کرسکتا ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے لکھا، ”یاد رکھئے نام نہاد انسانی عقل سے اْس وقت تک حکمت میں بڑھنے کی امید رکھی جاتی ہے جب تک یہ غائب نہ ہو جائے اور الٰہی عقل ہی واحد عقل دکھائی نہ دینے لگے۔“ پھر ایک اور موقع پر کہا، ”انسانی عقل حکمت میں نہیں بڑھتی، حکمت انسانی عقل کو کم کرتی ہے۔“ انسانی عقل میں ترقی کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں فانی انسان اس پر مزید ایمان نہ رکھے، بجائے کہ اسے کم کرے۔




14۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، کرسچن سائنس میں آپ کے کام میں آپ اس حقیقت کو نظر انداز کریں کہ آپ کوشش کر رہے ہیں کہ اس بد صورت حقیقت کو ختم نہ کیا جائے جس میں خدا کے قادر مطلق ہونے کے باوجود خود کو قائم رکھنے کی طاقت ہے، بلکہ محض اس یقین کے فریب اور دھوکے کا پردہ فاش کریں کہ خدا غیر موجود ہو سکتا ہے۔




15۔ دیکھنا ایسا نہ ہو جن لوگوں کو آپ کرسچن سائنس کے وسیلہ شفا دیتے یا فائدہ پہنچاتے ہیں اْن تعریف آپ کو اپنے وقار میں بہت قد آور بنا دے، بجائے کہ آپ کوعاجزی محسوس کرائے۔ حتیٰ کہ ہماری قائد نے ”کرسچن سائنس کے موجودہ لاغر فہم“ سے متعلق بات کی۔ سائنس اور صحت، 577: 28۔




16۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین رکھیں کہ آپ یا کوئی اور اس زمین پر خدا کے قائم مقام ہیں یا رہے ہیں، بجائے یہ سمجھنے کے کہ خدا کی نعمتیں اْس کے تمام بچوں کو، تعلیم، پیدائش، جنس یا ماحول سے قطع نظر، غیر جانبداری سے عطا کی گئیں ہیں۔ تاہم یہ سچ ہے کہ ہر ایک اپنی ایک خاص جگہ ہے، یعنی وہ مشن جو اْسے باپ کی مرضی اور منصوبے کے مطابق پورا کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔




17۔ دیکھنا ایسا نہ ہوشفا میں آپ کی کامیابی آپ کو کرسچن سائنس کے اْس اناج سے مطمین محسوس کرنے کا موجب بنے جو آپ کے پاس ہے (سائنس اور صحت، صفحہ 449)۔ کرسچن سائنس کے اس اناج سے لبریز انسانی عقل بڑی اچھائی کا آلہ کار بنتی ہے۔ تاہم اگر کوئی ترقی کرنا جاری رکھتا ہے تو جب تک انسانی عقل کو الگ ہیں کیا جاتا مزید سچائی حاصل ہونی چاہئے۔




18۔ دیکھنا ایسا نہ ہو جھوٹی الٰہیات، جو کسی شخص کے آسمانی سفر میں متواتر طور پر اْس کی ایڑی کی تاک میں رہتی ہے، آپ کے لئے دعا کو محض بطور درخواست تصور کرنے کا موجب بنے بجائے کہ خواہش، احساس اور تصدیق کے بطور ایسی چیز جو ابھی آپ کی نہیں ہے اور شاید آپ کو ضرورت بھی نہیں؛ بجائے ایک سائنسی مرحلے کے جو کسی شخص کی آنکھیں اِس علم کے لئے کھولتا ہے کہ اب وہ اس کے عکس میں تمام تر اچھائی رکھتا ہے۔یہ شاید کسی ایسے شخص کے ذریعے بیان کیا جاسکتا ہے جو کسی ڈاکیے کا منتظر ہو کہ اْسے ایک متوقع پیکیج فراہم کرے، بجائے یہ دریافت کرنے کہ یہ بہت عرصے سے موصول ہو چکا ہے۔ حقیقی دعا صحیح خواہش ہے جو انسان کو اْن تما م تر خیالات سے ملک بدر ہونے کی سائنسی کوشش کرنے کی جانب راہنمائی دیتی ہے جو مادی گواہی کا حقیقی فہم ہے،بطور انسان کے لئے محدود اور فانی گواہی، تاکہ وہ یہ احساس پائے کہ کیونکہ وہ خدا کا عکس ہے، تو اب پوری اچھائی کی کاملیت اْس کی موجودہ ملکیت ہے۔اس کے علاوہ یہ اس کا استحقاق اور ذمہ داری ہے کہ وہ تمام تر انسانیت پر یہ اچھائی منعکس کرے۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا، ”آپ کی اچھائی کی تصدیق اور غلطی سے انکار کرنے کے بعد، جب تک آپ کی سوچ واضح اور حقیقی نہیں ہوتی، آگے بڑھیں اور شکر گزاری کریں کہ جب آپ منتظر تھے، آپ کو وہ ملا جو آپ نے چاہا تھا۔ واپس مانگنے پر نہ جائیں، بلکہ اس کے لئے شکر ادا کرنا جاری رکھیں کہ آپ کو وہ مل چکا ہے۔“

کیونکہ خدا ماں اور باپ دونوں ہے، تو کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم اْس تک بطور مذکر اور بطور مونث نقظہ نظر کے ساتھ بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ایک سر ہے تو دوسرا دل ہے، ایک وجہ اور دوسرا انکشاف۔خدا کے مزید فضل کی شدید خواہش کرتے ہوئے اور اْس سے مانگتے ہوئے، ایک خدا کی قوت کو اختیار کے ساتھ استعمال کرتا ہے دوسرا خدا کے تخت پر حلیمی سے گْھٹنے ٹیکتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنی دعائیں صرف سر تک محدود رکھتے ہیں وہ خود کے لئے بہت کچھ پانے میں درست ہیں، اور محسوس کرتے ہیں کہ وہ کام مکمل کر رہے ہیں، وہ جو پورے دل سے دعا کرتے ہیں وہ اپنا سارا کام خدا پر چھوڑنے میں درست ہوتے ہیں۔ مگر درست تناسب خدا اور انسان دونوں کو متحد ہوکر کام کرنے کا موجب بنتا ہے۔ جیسا کہ مسز ایڈی نے ایک بار کہا، ”خدا کا کام شفا دینا اور انسان کا کام اْسے یہ کام کرنے دینا ہے۔“




19۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ بائبل کی تشریح اس سمجھ کے ساتھ کرنے کی کوشش کریں کہ خدا انسان سے الگ ہے، یا کائنات میں انسان کے بغیر کام کر رہا ہے۔ یہ واضح کرنا بھی مددگار ہوگا کہ انسان خدا کی یا خدا کے کام کی ظاہری سرگرمی ہے، اگر ایسا بیان اس قسم کے خیال کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوکہ خدا اپنے عکس، انسان سے جدا ہو کر کام کرتا ہے۔ جب بائبل کہتی ہے، ”خداوند یوں فرماتا ہے“، اس کا مطلب ہے کہ الٰہی عقل کسی ایسے مظہر سے ظاہر ہوئی جو کسی شخص نے خدا کی آواز بننے کے لئے اپنایا۔ خداوند پر بھروسہ کرنے سے مراد کسی شخص کی خدا کی موجودگی اور قوت کو ظاہر کرنے کی صلاحیت پر بھروسہ کرنا ہے۔ جب بھی بائبل خدا سے متعلق بات کرتی ہے، اگر متن میں اس کی تعریف سے زیادہ کچھ شامل ہوتا ہے، اس میں یہ حقیقت میں شامل ہونی چاہئے کہ خدا انسان کے وسیلہ یا بطور انسان منعکس ہوتا ہے۔ اْس کی دفاع کرنے والی موجودگی کو ظاہر کرنے کی ہماری صلاحیت کے وسیلہ خداوند ہمارا چوپان بنتا ہے۔ لہٰذہ خداوند کا مطلب الٰہی محبت کی ہمیشہ سے موجودگی ہے جسے انسان کے وسیلہ منعکس کیا گیا یا ظاہر کیا گیا ہے۔




20۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ اپنے دْشمنوں کو اس قدر احتیاط کے ساتھ روکے رکھنے کی کوشش کریں کہ آپ دوستوں یا خدا کے روحانی خیالات کو بھی روکے رکھیں۔ یہ دیدنی نقطہ کسی شخص کی سخت کوشش کا احاطہ کرتا ہے کہ ہمارے لئے ہفتہ وار وہ جو مضمون لکھ رہا ہے اسے کسی بھی غلطی کو اپنانے سے پاک رکھے، کہ وہ تمام تر بے ساختسگی اور اثر بھی زائل نہ کردے۔ غلطی خدشات میں سے ایک ہے۔ اس کا زہر مار یہ احساس کرنا ہے کہ وہ اچھائی کو غیر شخصی بنانے کی خواہش رکھتا ہے، تاکہ وہ خود کے وسیلہ خدا کو یہ مضمون تحریر کرتا دیکھے، یہ اظہار غلطی کو موجب اور اثر دونوں میں سے ختم کر دے گا۔




21۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کی روحانی حرکت کا معیارِ اثر روزانہ کے اظہار کی بجائے کسی چیز سے منظم کیا گیا ہو۔ بائبل اس بات کا ریکارڈ رکھتی ہے کہ بنی اسرائیل کو ہر روز من کا اظہار رکھنا تھا۔ صرف روزمرہ کا ذہنی انتباہ اور سرگرمی ہی کرسچن سائنس میں متواتر ترقی کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ اگر طالب علم یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ماضی کے مظاہر یا حاصلات پر انحصار کرتے ہوئے ترقی کر سکتے ہیں، خواہ انہیں نے بہت عرصہ قبل کرسچن سائنس کا نام لیا ہو، یا اس کا مطالعہ کیا ہو، فانی خیالات یا تنویم کا کھچاؤ، خیالات کو اس کے معیار سے نیچے گِرانے کے لئے تیار رہتا ہے، جب تک کہ چوکس ہو کر اس کی مذاحمت نہ کی جائے۔بے شک مسز ایڈی کی اس سے یہی مراد تھی جب انہوں نے ہمیں حیوانی مقناطیسیت کو قابو کرنے کو کہا۔

یقیناً، جب کوئی شخص اس دوران جب وہ ایک اظہار کر لیتا ہے اور آرام کرتا ہے تو یہ تاریک لمحہ ہو سکتا ہے، بھلائی کے شعور میں بہنے کا وقت، مگر ایسے لمحات ترقی کو پیش نہیں کرتے۔ یہ تیراکوں کے لئے آرام کے مواقع ہیں۔ شاید یہ واضح کرنا سائنسی نہ کگے کہ مادے کا دعویٰ ہر روز خیالات سے جھگڑتا ہے؛ لیکن یہ جھوٹ سے متعلق سچ ہے۔ جس شخص کو برف میں ہل چلانے کے لئے بھیجا گیا ہو اْسے یقینا یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ہل چلانا جاری رکھے کہ کہیں کسی لمحہ میں برف جم کر سخت نہ ہو جائے۔




22۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کا ذہنی کام غلطی کے خلاف دلائل کی بے سود تکرار بن جائے، بجائے ایسی تصدیق کے کہ یہ الٰہی قوت انسان کے وسیلہ دوسروں کے دلوں تک بہہ رہی ہے جو تنویم کے دعویٰ کو توڑتی ہے اور اچھائی کو مکمل کرتی ہے، پس، ذہنی کوششوں کا مقصد اس لامتنہائی طاقت پر زور دینا، طول دینا اور واضح کرنا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے الٰہی محبت نے ہمیں ایک شاندار خوشبو تیار کرنے کے لئے تمام تر اجزائے ترکیبی عطا کر دئے ہیں۔ ہمارا ذہنی کام اس میٹھی خوشبو کو مقطر کرتا ہے اور جب ہم اسے اپنے مریضوں پر پھیلاتے ہیں وہ شفا پا جاتے ہیں۔ دوسری جانب، بے سود تکرار دعائیہ پہئے کی مشابہت رکھتے ہیں جس کا ذکر مسز ایڈی نے سائنس اور صحت میں کیا، جس میں دعائیں ایک پہئے پر رکھی جاتی تھیں اور پھر پہیئے کو گھمایا جاتا تھا۔ دعاؤں سے اوپر نیچے، تیز رفتاری اور بہتر طور پر گھماتے ہوئے تاثیراور طاقت حاصل کرنے کی امید کی جاتی تھی۔ کیا سچی دْعا محض سائنسی دلائل کو کسی شخص کے ذہن میں بار بار گھمانے پر مشتمل ہے؟




23۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ مسز ایڈی کی تاریخ پڑھتے ہوئے، جو بتاتی ہے کہ کیسے ایک وقت میں اْس نے اپنے طلبا کو موسم قابو کرنے کی ہدایت کی، آپ یہ مانیں کہ یہ ہماری قائد کا ذاتی جنون تھا، جو صرف خود کے لئے ذہنی سکون اور جسمانی آرام کی خواہشمند تھی۔ وہ اپنے طلبا کو کرسچن سائنس کے اظہار کو اور لامتناہی قوت سے متعلق اْن کی اْس سوچ کووسیع کرنے کی ہدایت دے رہی تھی، جو انسان پر اْس کے آسمانی باپ کی طرف سے آخری دْشمن، موت، کے دتح مند ہونے کی تیاری میں، نازل ہوئی۔غلطی موسم اور موت دونوں میں عالمگیر جھوٹا عقیدہ ہے۔ کسی ایک کو قابو کرنے سے متعلق سیکھنا دوسرے کو قابو کرنے کی صلاحیت کی طرف لے جائے گا۔

طلبا کو اپنے ذاتی مسائل کے یقین سے اوپر اٹھنا چاہئے جس پر وہ اپنی پوری کوشش، وقت اور توجہ لگاتے ہیں۔ ذاتی مسائل کو بگل بجانے کے طور پر سمجھا جانا چاہئے جو ساری انسانیت کی مددکرنے کی غیر متوقع کوشش ہے۔ خدا نے ہماری قائد کو ساری انسانیت کے لئے غیر متوقع کوشش کرنے کے بڑے فن سے اپنے طلبا کو ہدایت دینے کا بہترین طریقہ سکھایا، بجائے کہ انہیں موسم،”الٰہی محبت کے ماحول میں ہم جیتے، چلتے پھرتے اور سانس لیتے ہیں،“ اس بڑی حقیقت کو قائم کرتے ہوئے کام کرنے کی حوصلہ افزائی دی جائے۔ کسی طالب علم کے لئے موسم پر کام کرنا ایک خودغرض یا محدود انداز میں خدا کی قدرت کے ساتھ کام کرنے کا امکان کم کرتا ہے۔ یہ عقل او ر اْس قانون کی وسیع حد کے نظریے کو پھیلاتا ہے کہ اسے منعکس کرنا اْس کا استحقاق ہے، اور تاہم اْسے کام کرنے کی جگہ فراہم کرتا ہے، جس میں وہ اپنی کوشش کی درستگی کو ثابت کرنے واے نتیجے کی امید رکھتا ہے۔




24۔ دیکھنا ایسا نہ ہوفانی عقل کا قدرتی جذبہ آپ کو یہ یقین کرنے کا موجب بنے کہ آپ روحانی طور پر بڑھ سکتے ہیں، یا آپ کی سوچ کو روحانی بنائے، کسی بھی صورت درست سوچ کے وسیلہ یا شفا کے لئے کرسچن سائنس کی مشق کرنے کی کوشش کرنے سے۔ جب درست سوچ کی کوشش ختم ہو جاتی ہے تو ترقی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ دیدنی نقطہ اس یقین کی اشاعت کے لئے ضروری ہے کہ بائبل اور سائنس اور صحت کا مطالعہ سچائی کے فہم کو ترقی بخشتا ہے۔ کیا اڑان سے متعلق کتاب کا مطالعہ انسان کو اْڑنے کے قابل بناتا ہے۔یہ اسے نظریہ بتاتا ہے، لیکن اْسے اس کو عملی جامہ پہنانہ چاہئے، اور صرف عمل ہی اْسے اڑنے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔ بائبل اور مسز ایڈی کی تحریریں لازمی ہیں، لیکن اِ س کا فائدہ کم ہوتا ہے جب تک کہ عمل کے ساتھ اس کی پیروی نہ کی جائے۔




25۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہماری تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں سے ایک دیوتا بنا لیں، جیسا کہ ایسا شخص کرتا ہے جو درست سوچ پر انہیں اہمیت اور فوقیت دیتا ہے۔ مارتھا جو کچھ کہا یسوع نے اْس پر اْسے ملامت نہیں کی، بلکہ یہ دلیل دی کہ وہ وجہ کی بجائے اپنے اندازے کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔کیا تصویر سے زیادہ تصویر کے ارد گرد لگا فریم زیادہ اہم ہے؟ گلاب کا گل دستہ زیادہ اہم ہے یا وہ جڑ جس پر یہ لگا ہوا ہے؟ جس سٹینڈ پر مائیکروسکوپ لگائی جاتی ہے وہ اہم ہے یا خود مائیکرو سکوپ؟ آغاز کرنے والا تنظیم میں سے دیوتا بنا لیتا ہے جب وہ یہ محسوس کرتاہے کہ محض چرچ جانے، راہنمائی کرنے، ادب تقسیم کرنے میں ہی روحانی قدر اور اہمیت ہے، جو ان پیش کی جانے والی سرگرمیوں کے اظہار یا درست سوچ سے ہٹ کر ہے۔ہر اثر کے بعد بطور اعلیٰ اور اندرونی وجہ اصول کے اظہار کی کوشش میں کسی شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو کہ اثر وجہ پر فوقیت پا جائے، ایسا نہ ہو کہ مشورہ اس یقین پر تکرار کرے کہ وجہ کے لئے ہر انسانی سر گرمی خود میں اہم ہے، جو تمام تر انسانی سر گرمی یا کام میں سے سر فہرست لازمی نقشِ پا ہے، اس مقام پر جہاں صرف باپ کا کام ہی لازمی اور حقیقی سمجھا جاتا ہے۔




26۔ دیکھنا ایسانہ ہو کہ آپ یہ ماننے لگیں کہ فانی یقین یا مادے کی بہتر صورت سامنے آنا روحانی ترقی کا ثبوت ہے۔ انسانی سوچ پر سچائی کا عمل عقائد کی ترقی لاتا ہے، تاہم فانی عقیدہ اس ترقی کے لئے انسانی ثبوت کو سامنے رکھتا ہے جو فریب نظری ہے۔ لوقا 18 باب 21 آیت میں یسوع نے اْس نوجوان سے کہا جس کے پاس بہت دولت تھی کہ مادے میں اْس کی ترقی یافتہ سوچ نے خدا کے لئے اْس کی محبت کی بجائے انسان کے لئے اْس کی محبت کی جانب اشارہ کیا، جو خدا کے خلاف حقیقت پر یقین رکھنا ہے۔

انسان میں ترقی یافتہ سوچ لازمی طور پر اس بات کو ثبوت نہیں کہ کوئی شخص اچھائی کے لئے عظیم محبت میں مادے کی راہ پر چل رہا ہے؛ لیکن اگر کوئی شخص روح کی جانب جانے والے راستے پر ہے، تو ترقی یافتہ عقائد میں وہ اس حقیقت کا ثبوت پائے گا، جب تک کہ فانی عقیدہ نیست نہ ہو جائے۔




27۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ یہ ماننے لگیں کہ آپ خود کو کامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، بجائے کہ آپ خود کے لئے ایک مقام بنائیں جس کے وسیلہ کامل انسان کا نظریہ ظاہر کیا جا سکے۔ خود کو کامل انسان بنانے کی کوشش کرنے اور خود کے وسیلہ کامل انسان کو ظاہر کرنے کی کوشش کرنے میں فرق ہے۔ کھڑکی کو اس لئے دھونا تاکہ آپ اس میں سے صاف صاف دیکھ سکیں یا اس لئے کہ آپ اس میں سے روشنی کو با آسانی پورے طور پر گزارنے کے خواہش مند ہیں دونوں میں فرق ہے۔




28۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی کو قابو کرنے اور نیست کرنے کی ظاہری اہمیت آپ کے احساس پر غالب آجائے، کہ تاریکی پر فتح مند ہونے کا طریقہ روشنی کو اندر آنے دینا ہے، یا یہ کہ انسان کے روحانی اور سائنسی فہم کی پیروی کرنا آپ کی حقیقی ترقی کو تعمیر کرتا ہے، تاکہ آپ یہ محسوس کریں کہ خود کو مناسب طور پر محفوظ رکھنے کے لئے آپ کو ہر روز غلطی کے ہر دعوے کا احاطہ کرنا ہے۔ ایسا رویہ کسی شخص کے روحانی نظریے پر بھروسے کی ترقی اور سالمیت کی جانب اشارہ نہیں کرتا، جس میں کوئی شخص الہام پر انحصار کرتا ہے جو ہر روز کیا جانا چاہئے۔

کرسچن سائنس میں ایسے اساتذہ رہے ہیں جنہوں نے اپنے طلبا کے لئے ہر روز غور کرنے کی غرض سے غلطیوں کی لمبی لمبی فہرستیں تیار کیں۔ لیکن جب کسی غلطی کو عدم کے طور پر دیکھا گیا، تو کیا کسی کے لئے اسی سمت میں کوشش جاری رکھنا ضروری ہے، جب تک کہ، یقیناً ایک بار پھر اس کی حقیقت کی صلاح خیالات کے ساتھ متصادم ہوتی ہے؟




29۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کرسچن سائنس کے مطالعہ اور سمجھنے کی کوشش میں اظہار کی قیمت پر آپ کے خیالات غورو حوض کے شعور کی سمت میں بھاری ہو جائیں یا منکر ہو جائیں۔ انسان کی روحانی ترقی ایک درخت کی مانند ہے جس کا بالائی حصہ، انسان کا سچائی سے متعلق شعور، جڑوں کے ساتھ مناسب طور پر متوازن ہونا چاہئے، جو طوفان میں انسان کی مضبوط کھڑے ہونے کی صلاحیت اور سمجھ کو ظاہر کرنا ہے۔ وہ خادمین جو کرسچن سائنسدان بنے ہیں انہیں دشواری پیش آتی ہے کیونکہ ان کی پرانی مذہبی تربیت انہیں عام طلبا کی نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ سائنس کے نظریے کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے، وہ سر فہرست مضبوط ہونے کے لئے موزوں ہیں کیونکہ انہوں نے نہایت مشکل سے اس سچائی کو قبول کیا ہے جس کا انہوں نے اظہار نہیں کیا اور اس لئے جسے وہ حقیقتاً نہیں سمجھتے۔ سائنس اور صحت میں مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہے کہ جو ہم ظاہر کر سکتے ہیں ہم صرف وہی سمجھتے ہیں۔ مسلسل روحانی ترقی نئے خیالات کو جتنی جلدی وہ ظاہر ہوں عملی جامہ پہنانے کی متعلقہ کوشش کے ساتھ مطلق سچائی کے شعور کو تعمیر کرنے کی کوشش ہے۔ یہ اصول اور عمل کے درمیان درست توازن کو برقرار رکھتا ہے۔




30۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ بھول جائیں کہ انسانی آراء جو کرسچن سائنس کے کسی ایسے طالب علم کی طرف سے ظاہر کی گئی ہوں جسے خدا کی طرف سے حکمت کو ظاہر کرنے کے لئے رد کیا گیا ہو، جن کی اْن آراء سے زیادہ اہمیت نہیں جنہیں اس دنیا کے لوگوں یا اس سے بھی بْرے لوگوں کی طرف سے ظاہر کیا گیا ہو، کیونکہ بعد والے انسانی نقطہ نظر کے مطابق نور کے اْن بچوں سے زیادہ عقلمند ہیں جنہیں الٰہی حکمت پر انحصار کرنا سکھایا جاتا ہے تاکہ باقی سب ترک کر دیا جائے۔ لہٰذہ وہ تاریکی کے بچوں کی نسبت اس دنیا کی حکمت پانے کے لئے چند ایک اقدام کرتے ہیں۔ جب وہ لمحہ بھر کے لئے اظہار کا نقطہ نظر چھوڑ دیتے ہیں، اس لئے، اْن کی انسانی آراء بڑے پیمانے پر ترقی یافتہ انسانی شعور کے نتائج نہیں ہیں۔

اگر کرسچن سائنس کا کوئی نعرہ ہوتا تو یہ ہونا چاہئے: جوکچھ بھی انسانی سوچ سے پیدا ہوتا ہے وہ خدا کے خلاف اس کے آخری تجزیہ میں سے ہے، لہٰذہ یہ تباہ کْن ہے، حتیٰ کہ یہ سچائی کے وسیلہ ترقی یافتہ ہے؛ پس آئیں ظاہری حکمت کی تلاش کریں،اور جتنی جلدی ہو سکے باقی سب ترک کر دیں۔




31۔ دیکھنا ایسا نہ ہوآپ یہ محسوس کریں کہ انسان الٰہی طاقت کا مالک ہے بجائے کہ اِس کا خادم ہے۔ جھوٹی الٰہیات واضح کرتی ہے کہ یسوع مصنوعی طاقت سے لیس تھا، جسے اْس نے اپنی مرضی کے مطابق معجزات کرنے کے لئے استعمال کیا۔سائنس اور صحت کے صفحہ 119 میں مسز ایڈی لکھتی ہیں کہ انسان آرام دہ عقل کے حلیم خادم کے سوا کچھ نہیں۔ جب وہ اپنے لیکچر کے مچان میں یہ جاری رکھتی ہے تو اْس نے دعا کی: اب اے عزیز خدا، میں یہاں ہوں۔ مجھے استعمال کر۔ میں جسم سے غیر حاضر اور تیرے ساتھ شعور میں موجود ہوں۔ محبت مجھے اپنے اچھے راستے میں استعمال کرتی ہے۔ میں خود کی اور سامعین کے مادی فہم سے خود کو باہر نکالوں گی اور خدا کو مجھے استعمال کرنے دوں گی۔“ آپ کو یہ ضرور محسوس کرنا چاہئے کہ الٰہی قوت آپ کو استعمال کر رہی ہے۔ آپ کو خدا کے تخت کے پاس گھٹنے ٹیکنے چاہئے اور یہ مانگنااور تلاش کرنا چاہئے کہ آپ مصنوعی قوت سے رنگے جائیں۔ پھر آپ آگے بڑھ سکتے اور اس قوت کی اختیار کے ساتھ مشق کر سکتے ہیں۔ بلکہ آپ پوچھیں، کیا یہ الٰہی قدرت کو استعمال کرنا نہیں؟ جی ہاں، لیکن صرف بطور ایک خادم جو اپنے مالک کے حکم کے مطابق چلتا ہے۔ یسوع کو مالک اس لئے کہا جاتا ہوگا کیونکہ دوسروں سے زیادہ اْس نے الٰہی قوت کو اْسے حاکم بنانے کی اجازت دی۔




32۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، مادے کی موجودگی سے متعلق آپ کے انکار میں، آپ اس تاثر کو قبول کریں کہ آپ کسی ایسی چیز سے انکار کر رہے ہیں جو بیرونی طور پر آپ کے لئے وجود رکھتی ہے۔ مادے کی اصلاح نہ صرف اس کا احاطہ کرتی ہے جو آپ دیکھتے ہیں بلکہ اس انداز کا بھی جس سے آپ دیکھتے ہیں۔ مادے کا انکار کرتے ہوئے آپ حقیقتاً اس انداز کا بھی انکار کر رہے ہیں جس سے مادی عقل حقیقی آسمان اور زمین کو دیکھتے ہیں، جو ابھی، یہاں اپنی تمام تر کاملیت کے ساتھ موجود ہے۔جس لمحے آپ کی کْند آنکھیں کھْلیں گی تو آپ اس کاملیت کو دیکھیں گے، جس لمحے آپ فانی عقیدے کی تنویم سے باہر نکلتے ہیں۔ بڑی خوبصورتی کی تصویر کسی غیر روشن خیال ناآموز کے لئے پلستر شْدہ ہو سکتی ہے۔تاہم، مطالعہ اور مشق کی بدولت ایک بار جب جہالت کا پردہ اٹھ جاتا ہے تو تصویر کی خوبصورتی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

خدا، عظیم ماسٹر مصور نے کائنات کو اس کی تمام تر کاملیت کے ساتھ خلق کیا۔ بشر اسے مادے اور جہالت سے متعلق اپنے نقطہ نظر کی وجہ سے دیکھنے میں ناکام ہوتے ہیں۔ جس نے نیلی عینک لگائی ہو اْسے سب کچھ نیلا ہی دکھائی دیتا ہے۔




33۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ روحانی طاقت کو انسانی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتے ہوئے، جب آپ کو مسیح میں بھرپور آدمی اور بڑھے بننے کی دعوت ملے، جو گوشت کھانے کے لئے تیار ہوتو اْس کے بعد آپ کرسچن سائنس کے ”نوزائیدہ بچے“ یا دودھ پینے کی عمر کے ساتھ ہی جْڑے رہیں۔ سائنس کی نوزائیدگی یا دودھ پینے کی عمر مادے میں صحتمندی لانے والے روحانی فہم کا اطلاق ہے۔ سائنس کا گوشت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم مادی غیر جانبداری کو بلند روحانی ترقی کے لئے بطور آسرا استعمال کریں۔ پھر ہم یہ نہیں سوچیں گے کہ خدا اس خواب میں ہماری مدد کرنے آئے گا کہ ہمیں اس خواب سے باہر نکالے۔

ایک بار مسزایڈی نے اپنے گھر میں موجود ترقی یافتہ طلبا سے کہا، ”مادے کو ترقی دینے کے لئے یہ اظہار سائنس نہیں ہے۔“ جونہی ہم تیار ہوجاتے ہیں ہمیں خود کو اس تجویز کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ کرنا چاہئے کہ ہم نا خوشگوار غلطی کو تباہ کرنے کے لئے روحانی قوت استعمال نہیں کریں گے،جیسے کہ ہم غیر خوشگوار غلطی کو روحانی طاقت اور فہم جلد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

ایک باپ اپنے بیٹے کے کھلونوں کو تب تک مرمت کرواتا رے گا جب تک وہ چھوٹا ہے، لیکن جونہی وہ بڑھا ہوگا باپ یہ اصرار کرتا ہے کہ بیٹا اب انہیں ایک طرف کردے، کیونکہ وہ آدمی بن رہا ہے۔ عقل کی سائنس میں بڑھتے ہوئے قدموں کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم خود کو مادے کے اطمینان سے آزاد کریں، جب تک کہ عقل کی خوشیاں ہمیں اْس اطمینان کے لئے مناسب نہیں لگتیں جو ہمیں درکار ہے یا جسے ہم تراشتے ہیں۔ ایک بار مسز ایڈی نے کہا، ”زمین پر محبت کے لائق کچھ بھی نہیں ہے۔“




34۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلطی کو سنبھالنے میں ثابت قدم رہیں، نہ کہ اسے خود میں دیکھتے ہوئے یا اس سے چھٹکارہ پانے کا دعویٰ کرتے ہوئے، جبکہ کسی دوسرے میں آپ اسے حقیقی ہی سمجھنا جاری رکھیں۔ تنقید کی عادت میں، یہ یاد رکھنا اچھا ہے کہ جو تنقید کرتا ہے وہ تنقید سے زیادہ حقیقی یا انسانی حصہ نہیں ہے۔

جب خاندان میں کوئی بیمار پڑ جاتا ہے تو وہ دوسرے ”بیماری دیکھنے“ والوں سے زیادہ ”بیماری محسوس“ کرتا ہے۔ جب غلطی آپ پر حقیقی ظاہر ہوتی ہے تو، خواہ وہ کسی اور کے وسیلہ ظاہر ہوئی ہو، یہ آپ کے مسئلے کا حصہ بن جاتی ہے، جو نادیدنی بن جاتی ہے اور غلطی کا کچھ نہیں بگاڑتی، چاہئے کہیں بھی کسی بھی وقت یہ خود کو ظاہر کرے۔

کرسمس ٹری پر لگی ہوئی روشنیوں کی تار میں ایک جلا ہوا بلب سبھی کے جلنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ بطور خدا کے فرزند ہم سبھی محبت کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ خدا کے چھوٹے بچوں میں سے کسی ایک کو جلے بلب کی طرح دیکھنا، یا خدا سے جْدا ہوئے دیکھنا اور یوں غلطی کے ماتحت دیکھنا آپ کے کرنٹ کو بھی ختم کر سکتا اور آپ کی روحانی روشنی کو چھین سکتا ہے۔ یہ رویہ آپ کے بھائی کے لئے بدچلنی پیدا کر تا ہے۔ یہ اْس کی مدد اور آپ کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

متی 5باب23آیت میں ہم پڑھتے ہیں، ”پس اگر تْو قربانگاہ پر اپنی نظر گزرانتا ہو اور وہاں تجھے یاد آئے کہ میرے بھائی کو مجھ سے کچھ شکایت ہے۔۔۔جا کر پہلے اپنے بھائی سے ملاپ کر تب آکر اپنی نظر گزران۔“

کرسچن سائنس پاسبان کے ابتدائی مسائل میں سول وار کے ایک سابق فوجی کی کہانی ہے، جو جنگ کے دوران زخمی ہوگیا، جس نے مسز ایڈی کے طلبا میں سے ایک سے شفا نہیں پائی۔ اس واقعہ کی ایک روایت ہے کہ اس طالب علم نے اپنی ناکامی سے متعلق اپنی قائد سے رجوح کیا اور اْس سے پوچھا گیا کیا وہ کسی سے نفرت کرتا تھا۔ اْس نے جواب دیا کہ اْسے یہ کہنے میں خوشی محسوس ہورہی ہے کہ اْسے کسی سے نفرت نہیں؛ جنگ کے نتیجے میں دْشمنی کا سارا احساس اْس کی نظر میں مکمل طور پر ٹھیک ہو چکا تھا۔ مسز ایڈی نے پھر راہنمائی کرتے ہوئے اْس طالب علم سے پوچھا کیا کوئی اْس سے نفرت کرتا تھا۔ اْس نے جواب دیا کہ اْسے یہ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اْس کے ابھی بھی ایسے دْشمن ہیں جو اْس سے نفرت کرتے ہیں۔ پھر مسز ایڈی نے یہ پیغام بھیجا، ”اْس شخص سے کہیں کہ وہ ابھی بھی نفرت پر یقین رکھتا ہے اور یہ کہ ابھی بھی یہ جنگ جاری ہے۔“اْس کے سرکٹ میں ابھی بھی جلے ہوئے بلب ہیں۔ اْسے یاد ہے کہ اْس کا بھائی ابھی بھی اْس کے خلاف ہے۔ لیکن مسز ایڈی کے غلطی کا سراغ لگانے کے وسیلہ یہ ٹھیک ہوگیا اوراس زخم سے شفا ملی۔

ایک بار کسی بیوی اور شوہر کے درمیان دراڑ پڑ گئی۔ بیوی سائنس کی طالبہ تھی، اور اْس نے اپنے شوہر کو بطور خدا کا کامل فرزند دیکھنے کی بہت کوشش کی۔ اْس کے اچھے کاموں کے باوجود وہ دراڑ قائم رہی۔ ان دیدنی نقاط کے مصنف کی طرف سے تحریر کردہ ایک آیت اس بیوی کی ایک دوست کے ذریعے ملی:

میں خود کو خدا کے بچے کے طور پر، اْس کی نظر میں کامل دیکھتا ہوں۔

میں اپنے ساتھ والے بھائی کو بھی، نور کے کامل بیٹے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ پھر اپنی دعا مکمل کرتے ہوئے، میں اسے میرے ساتھ دیکھتا ہوں۔

میں اْسے خود کو میری نظر میں محبت کی نظر میں کامل ہونے کے طور پر دیکھتا ہوں۔

اس آیت کے وسیلہ اْس کی آنکھیں اس حقیقت کے لئے کھْل گئیں کہ وہ اپنے شوہر کو کامل دیکھنا چاہتی تھی، جبکہ وہ اْسے اْس کی طرف انسانی مادی انداز سے دیکھتے ہوئے دیکھنا جاری رکھ رہی تھی۔ وہ اپنی نذر خدا کی قربان گاہ پر یہ سوچتے ہوئے لا رہی تھی کہ وہ خدا کے حضور ٹھیک تھی، جبکہ وہ اپنے شوہر کو اپنے خلاف دیکھ رہی تھی۔پھر اْس نے خود کو اْس کے سامنے کامل بنانے کی کوشش کی، اور اْن کے مابین ہم آہنگی بحال ہوگئی۔




35۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ اس عام یقین کے باعث کہ انسان کی ساری خوشی اور شادمانی مادے کے ذریعے آتی ہے، اس سے قبل کہ آپ ایک متواتر خوشی اور اطمینان قائم کریں جو الٰہی عقل کے ساتھ شراکت کے باعث ملتا ہے مادے کو اس کی تمام تر مطلوبہ صورتوں میں کھونے کا امکان اس سے دور ہٹنے کے مسئلے پر حقیقی وفاداری اور عزم کے ساتھ کام کرنے سے آپ کو روک دے۔

یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ حتیٰ کہ انسانی نقطہ نظر سے، نام نہاد لطف جنہیں انسان تصور کرتا ہے مادے سے آتے ہیں، حقیقتاً فانی عقل سے آتے ہیں اور وسیع پیمانے پر متوقع ہوتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ تنویم کے دعویٰ کے تحت مادے کا مزہ لیتا ہے۔ کسی نے نہایت دانشمندی سے کہا، ”خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔“

جب کسی نے خود کو تمام خوشیوں کے ابدی وسیلہ کے ساتھ یکجا کر لیا ہو، جو کہ الٰہی عقل ہے، جس سے وہ کبھی الگ نہ ہوا ہو، تو وہ خوشی کس قدر بڑی ہوگی جو اْس کے اندر بہے گی، وہ خوشی جو مستقل ہے، اور جو اْس کے لئے کامل سکون مہیا کرتی ہے، وہ خوشی جو خوشی کے نچلے احساس میں لامتناہی حد تک منتقل ہوتی ہے جس کا وہ تصور کرتا ہے کہ وہ خود کو مادا کہتے ہوئے فانی عقل کے وسیلہ حاصل کر تا ہے۔مادے سے انکار کا مسئلہ ہمیشہ سے آسان بنا دیا جاتا ہے جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم انکار کر رہے ہیں، ظہری دنیاوی مادا نہیں، بلکہ تنویم کا انکار جو ظاہری دنیا کو مادی دکھاتی ہے۔ مادا وہ نہیں جو آپ دیکھتے ہیں، بلکہ جس طرح سے آپ دیکھتے ہیں۔




36۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ محبت میں جو بطور لامتناہی اچھائی انسان کے ذریعے منعکس ہوئی، جس کا مکمل اظہار انسان ہے، اور اس کی غلط تشریح اور غلط استعمال کے مابین امتیاز کرنے میں ناکام ہو جائیں۔ اگر آپ اس محبت کو نظریے کو اس کے مادی فہم کے وسیلہ تاریک بننے کی اجازت دیتے ہیں، جسے آپ دنیا میں دیکھتے ہیں، آپ اس کے خلاف اس قدر متعصب ہو جاتے ہیں، اس قدر خوفذدہ ہو جاتے ہیں کہ آپ اسے بطور روحانی خاصیت کے کاشت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جو خدا سے اخذ کی گئی ہو۔ اگرمحبت میں انسانی بگاڑاس قدر ناقابل برداشت لگتا ہے کہ آپ تمام تر نرم مزاجیاں نیست کرنے یا کچلنے کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ اسی چیز کو پھینک دیتے ہیں جو آپ کی نجات کے لئے بہت ضروری ہے، کیونکہ محبت در اصل انسان اور الٰہی کے درمیان ایک رابطہ ہے۔

جب آپ کسی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے یا اسے شخصی بناتے دیکھتے ہیں تو یاد رکھئے کہ وہ آسمان کے لئے جانے کو بے تاب ہے اور خدا کے لئے تڑپ رہا ہے؛ لیکن کیونکہ وہ یہ نہیں جانتا اس لئے انسانی متبادل قبول کرتا ہے۔ اگر استاد نے مریم مگدلینی کو ملامت نہ کیا،بلکہ اْس کی روحانی بھوک کو سیر کردیا، تو کرسچن سائنس کو بھی کسی شخص کو ملامت نہیں کرنی چاہئے جس نے الٰہی محبت کے لئے تیار ہونے میں اپنی غلطی سے بہت دْکھ اٹھایا ہو۔

اگر کسی درخت کا سرا نیچے زمین تک جھْکا ہوا ہو، کہ یہ اوپر کی بجائے یچے کو بڑھ رہا ہو، آپ درخت کو قتل یا ختم نہیں کر دیتے۔ آپ اس کے سرے کو اوپر اٹھاتے ہیں اور اسے روشنی میں آزادانہ بڑھنے دیتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکی اپنی منگنی کے انگوٹھی کے لئے ایک نقلی ہیرے کی انگوٹھی قبول کرتی ہے تو آپ ایک ایماندار شوہر کی خواہش رکھنے پر اْسے ملامت نہیں کرتے، بلکہ آپ اْسے محتاط رہنے کے لئے خبردار کرتے ہیں، کہ کہیں وہ دوبارہ کسی اور بدمعاش شخص سے دھوکہ نہ کھائے۔ مسز ایڈی اپنی تعلیمات کے اطلاق میں، اپنے طلبا کے لئے گہرا ترین اور نہایت شفیق سلوک کا اظہار کرنے سے نہیں ڈرتی تھیں، لیکن انہوں نے سختی کے ساتھ کسی قسم کی بھی غلطی کی سرزنش کی۔ جب انہوں نے کسی طالب علم میں 9جنوری، 1889 میں بداخلاقی پائی تو انہوں نے لکھا، ”میں نے آپ سے تعلیم دینے کو کہا تھا، لیکن جب میں آپ کے شاگردوں کو دیکھا تو مجھے پتا چلا کہ آپ کے نفسیاتی اثر نے، نہ کہ آپ کے الفاظ نے، ایک ایسا زخم دیا جسے میں ایک دم سے ٹھیک نہیں کر پائی۔ آپ کی سنجیدگی اور غیر ایمانداری نے اْن پر اثر کیا، اگر چہ آپ کو یہ نظر سے اوجھل لگا۔“ دوبارہ 25اگست، 1898 میں، ”میرے بیش قیمت طلبا،خدا کے لئے اور کرسچن سائنس کے دریافت کنندوں کے لئے اپنے فانی خیالات کو اْس سب سے پاک کریں جسے آپ نے منعکس نہیں کیا اور اپنے طلبا کی زندگیاں دیکھیں۔ صرف اچھے مشفی ہی اچھے معلمین ہوتے ہیں۔ ایک موسیقار کو اچھا گانا یا بجانا چاہئے اور وہ اپنی کارکردگی سے ہی جانچا جاتا ہے نہ کہ اپنی بک بک سے۔سائنس مشق، ثبوت ہے، نہ کہ پیشہ ہے، نہ ہی بدرجہ اْتم عقل یا فلسفہ ہے؛ یہ ان کی غیر موجودگی کے لئے ندامتیں ہیں، اگر وہ اْس روح کی ملکیت نہیں رکھتے جو بیماری اور گناہ دونوں سے شفا نہیں دیتے۔“




37۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، خدا کا کامل انسان دیکھنے کی آپ کی کوشش میں، روحانی خیال اور کمتر گناہ آلود بشر کے مابین تضادآپ کے لئے ”گناہ کی نفرت انگیزی کے فہم اور آپ کی سوچ میں بے پردہ ہونے والا گناہ“(سائنس اور صحت 366:22) مغلوب ہونے کا موجب بنے، کہ آپ فانی انسان کو پہلے سے کہیں زیادہ گناہگار تصور کرنے لگیں،سراسر حوصلہ شکنی کے باعث اپنے اچھے کاموں کو ترک کرنے کی آزمائش میں پڑیں، اور انسان کو نااْمید کا خطاب دینے پر اختتام کریں، اْس گناہ کے باعث جواْسے استعمال کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ گناہ کو اس کی تباہی کی تیاری کے دوران بے پردہ ہونا چاہئے۔ ہماری قائد ہمیں بتاتی ہیں کہ گناہ کی سنگینی اس کی تباہی کی پیش بینی کرتی ہے۔ پس کیا ہم یہ یقین نہ رکھیں کہ جب ہم فانی پوشاک پہنتے ہیں جو ہماری حقیقی انسانیت کو چھپا دیتی ہے تو وہ ہماری گہری ترین او رسیاہ ترین انسانیت کو دیکھتی ہے، وہ ہماری نظر میں مسیح کے خیال کو آزاد کرنے اور اْس کا حصہ بننے کے لئے تیار رہتے ہیں؟




38۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، غلطی کو صفر تک کم کرتے ہوئے، آپ صفر کو صاف کرنانظر انداز نہ کر دیں۔ ایک بار ایک چھوٹی سائنس کی لڑکی کو ایک مقرر نے بتایا جسے زکام تھا۔ اْس نے چاک کے ایک ٹکڑے سے صفر بنایا یہ اشارہ کرنے کے لئے کہ وہ اپنے زکام کے لئے کچھ نہیں کرسکی۔ کچھ دیر کے بعد وہ بھاگی اور اْس نے اْس صفر کو صاف کر دیا۔

غلطی کو تباہ کرنے کے لئے پہلے آپ کو اس کا جھوٹے یقین میں ترجمہ کرنا ہوگا۔ اس سے یہ تباہ نہیں ہوگا، لیکن اسے آپ کے عدم سے متعلق آگہی کے وسیلہ خود کار تباہی سے محفوظ رکھتا ہے۔ آپ کو بالاآخر یہ جانتے ہوئے اس صفر کو صاف کرنا ہوگا کہ، چونکہ خدا ہی سب کچھ ہے، اْس کے خالف کوئی بھی دعویٰ آج تک نہیں ٹک پایا، حتیٰ کہ جھوٹے یقین کے طور پر بھی نہیں، کہ اْس کے بچوں کو آزمائے؛ اور اگر ایسا ہوا بھی، پھر بھی وہ اْس کے ذریعے آزمائے نہیں گئے، کیونکہ اْن میں کسی جھوٹے پر یقین کرنے کی سکت نہیں تھی۔




39۔ دیکھنا ایسا نہ ہوا، جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جو روحانی ڈھانچہ آپ تعمیر کر رہے ہیں وہ اپنی مسلسل حمایت کے لئے آپ کے اندر موجود روحانی فہم پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہے جو بہت کمزور، نابالغ اور اسے قائم رکھنے کے لئے غیر مادی دکھائی دیتا ہے، تو آپ خوف اور شک کو اس بات پر یقین کرنے کی وجہ بننے کی اجازت دیتے ہیں کہ اس روحانی فہم کا گلا گھونٹا گیا ہے یا ایسا ہونے کا امکان ہے۔حقیقت میں انسان کی خدا کے لئے خواہش، اور اْسے کھوجنے اور اْس کو منعکس کرنے کی صلاحیت وہ خاصیتیں ہیں جنہیں مادیت کبھی کمزور نہیں کر سکتی۔ غلطی مکمل طور پر دھوکے کی اک ترکیب ہے، جو کسی شخص کو اس کے لئے اندھا کرنے کا دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خدا کو کہاں ڈھونڈے، اور اسی طرح غلطی کی فطرت کو بھی جو اسے چھپانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ دلیل کہ روحانی فطرت کا گلا گھونٹا گیا ہے یا گھونٹا جا سکتا ہے حیوانی مقناطیسیت کی ایک ترکیب ہے۔ کیا شیشے کی منعکس کرنے والی طاقت اْس دھول سے ٹھیک کی جا سکتی ہے جو اْس پر گرتی ہے؟




40۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ ماننے لگیں کہ کسی چیز میں پائی جانے والی روحانی ترقی خیالات کی روحانیت ہے آپ کے اعمال جس کا ایماندار اظہار ہیں، کہ آپ کی ظاہری زندگی آپ کی درست سوچنے کی کوشش کی تصدیق کرے۔ جھوٹی الٰہیات یہ واضح کرتی ہے کہ انسانی خیالات کے باوجود اْس کے اعمال اہم چیز ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ جب تک انسان کے خیالات تبدیل نہیں ہوتے، اْس کے روحانی پیمانے پر ظاہری زندگی یا اعمال میں تبدیلی کا کوئی وزن ہونا ضروری نہیں۔ چونکہ خیالات وجہ اور اعمال اثرات ہیں، تو یہ روحانیت ہے جو روحانی ترقی کا تعین کرتی ہے۔




41۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین رکھیں کہ کسی خاص سمت میں کرسچن سائنس اسے رد نہیں کرتی جسے دنیا گناہ کہتی ہے، کیونکہ یہ اْس عدم اطمینان کی فانی وجودیت کے ساتھ حوصلہ شکنی کرتی ہے جو اکثر بشر کو گناہ کی جانب گامزن کرتی ہے۔ یسوع نے کہا، ”میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گناہگاروں کو توبہ کے لئے بلانے آیا ہوں۔“ واضح طور پر اْس نے محسوس کیا کہ وہ شعور جس میں گناہ کا بیج بڑھا اور اْس نے دْکھوں کو جنم دیا وہ سچائی کوزیادہ قبول کرنے والا تھا بہ نسبت اْس کے جو ایمبریو میں پایا جاتا ہے، جیسا کہ ہر فانی شعور میں ملتا ہے،کیونکہ وہ عمل کے لئے نہیں پکے، جہاں فانی انسان نے یہ مانا کہ وہ کم از کم گناہ سے آزاد تھا، اور اس لئے راستباز تھا۔ کوئی شخص تب تک سچائی کی تلاش نہیں کرتا جب تک وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ کوئی شخص تب تک یہ اعلان نہیں کرتا کہ وہ راستباز ہے جب تک وہ خود کو تمام تر مادی خیالات سے پاک نہیں کرتا۔ خود مطمئن یا خود صادق سوچ مسیح کی سچائی تک رسائی پانے کے لئے واضح نہیں ہے۔




42۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، آپ کے غلطی سے انکار میں، آپ اثر کی بجائے وجہ سے انکار کر دیں، اور یوں خود کو فریب دیں۔ بیماری، درد یا گناہ سے بطور خود کی کوئی چیز انکار کرنا غلطی کے اثرات سے انکار کرنا ہے، کیونکہ غلطی بطور کسی یقین کے واضح کی گئی ہے جو ایک طاقت، سوچ اور وجودیت کی حمایت کرتی ہے جو خدا سے الگ ہے۔ خدا کی نظر میں، گناہ ایک غلط سوچ کو استعمال کرنا ہے نہ کہ اْس کو جو کوئی شخص جھوٹی عقل کے تحت کرتا ہے۔

درد، بیماری، گناہ اور موت جھوٹے عقیدے کا اثر ہیں، اورجھوٹے عقیدے کے بغیر ان سے انکار یا انہیں تباہ نہیں کیا جا سکتا جس کا یہ صرف ظاہر اشارہ ہیں۔ سائنس اور صحت صفحہ نمبر 473 پر ہم پڑھتے ہیں کہ ”گناہ، بیماری اور موت کی بطور غلطی کے اثرات جماعت بندی کی جانی چاہئے۔“




43۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ ماننے لگیں کہ یہ غلطی سے انکار ہی ہے جو اس کو تباہ کرتا ہے۔ اس پر پْر اعتماد ہونے کے لئے، مسز ایڈی سائنس اور صحت کے صفحہ نمبر 339 میں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم غلطی کی تصدیق کا انکار کرنے سے اْس پر فتح پاتے ہیں۔ لیکن اس پر فتح پانا اسے تباہ نہیں کرتا، اس سے زیادہ نہیں جیسے چور کو جیل میں ڈالنا اْسے فتح کرنا ہے۔لیکن یہ اْس کی مزید لوْٹ مار کو روکتا ہے، اور جب تک پولیس آئے اور اسے گرفتار کرے تب تک اْسے روکے رکھتا ہے۔

غلطی کی تصدیق سے ہمارا انکار اسے فتح کر لیتا ہے، لیکن صرف ہمارے تاثرات جو سچائی کی طاقت کو اندر لاتے ہیں اسے تباہ کرتے ہیں۔ یہ دوہرانا ضروری ہے کہ ہمارے انکار غلطی کو تباہ یا ٹھیک نہیں کرتے؛ وہ اسے قدموں کے نیچے رکھتے ہیں اور سچائی کے شفائیہ اثر کے لئے رستہ تیار کرتے ہیں۔ تاریکی سے انکار کرنا روشنی کو اندر نہیں لاتا، لیکن اس سے کسی کاخوف اور قید کا ڈر دور ہو جاتا ہے، جس سے روشنی کے اندر آنے کا راستہ کھْل جاتا ہے۔




44۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس شیر کی مانند ہو جائیں جس نے ایک چوہے کی جان بچائی، اور پھر چوہے سے اْس کی مدد کرنے کیلئے آنے کے امکان کو حقیر جانا۔ تاہم جب شیر پکڑا گیا اور اپنی قید سے آزاد ہونے کی جدوجہد میں پریشان تھا، تو چوہے نے کْتر کْتر وہ کھا لیا۔ شاید چوہا اْس عورت کی نمائندگی کر تا ہے جو خدا پر اندھا یقین رکھتی ہے، اور حلیمی اور عاجزی میں، یہ محسوس کرتی ہے کہ آیا کوئی سائنسی طور پر سوچ سکتا یا نہیں کہ محبت کسی کا خیال رکھ رہی ہے۔یہ اْس مسیحی کی دعا ہے جسکی آواز مسز ایڈی تب بنی جب رپورٹروں نے اْس سے پوچھا کہ کیا اْس کے ساتھ خدا کے علاوہ کوئی ڈاکٹر بھی تھا، ”حقیقت میں نہیں! اْس کی ابدی بانہیں میرے ارد گرد ہیں اور میرا سہارا ہیں، اور یہی کافی ہے۔“

شیر کرسچن سائنس کی سائنس کویا مذکر کی دعا کو پیش کرتی ہے، جو روحانی برتری کا وہ شعور ہے جسے سائنسی فہم سے حاصل کیا گیا ہو۔ دوسرے والے کے برعکس شاید یہ کمزور فہم لگے، قدیم الٰہیات کے اثار جسے کسی طالب علم نے پچھاڑا ہو؛ تاہم طالب علم کو خدا تک مسیحی یا مونث رسائی کی ضرورت ہے۔ در حقیقت ہم جس کے لئے کرسچن سائنس میں کام کرتے ہیں وہ خدا پر مکمل بھروسہ ہے، بطور ہماری تمام تر کوششوں کا مقصد۔ وگرنہ مسز ایڈی درج ذیل کیوں لکھتیں؟ ”بنا خوف یا شک کے ایک خدا باپ یا ماں پر بھروسہ رکھیں۔۔۔ جسمانی طور پر مت ڈریں، محض روشنی اور اچھائی کی دعا مانگیں۔ ہمیں مزید نزدیکی کے ساتھ خدا سے بات کرنی چاہئے، اْسے خود کے قریب تر لائیں، دعا کے پرانے انداز کی مانند۔ ہمیں یہ محسوس کرنااور جاننا چاہئے کہ خداو ہ ہے جس میں ہم رہتے ہیں، ایسے ماحول یا سورج کی روشنی کی مانند جو ساری ہمارے لئے ہے۔ ہمیں خدا میں مزید آرام کرنا چاہئے۔۔۔سب کچھ خدا پر چھوڑ دیں، اپنی روز کی روٹی مانگیں، جو آج کے لئے کافی ہے۔ ماں کے ساتھ جو بچہ ہوتا ہے وہ ہر وقت آنے والے کل کے لئے، یا اگلے ہفتے کے لئے خوراک اور پوشاک نہیں مانگتا، بلکہ وہ اپنی ماں کی حفاظت پر پورا بھروسہ رکھتا ہے، پس ہمیں بھی یہی کرنا چاہئے۔

شیر نے چوہے کو بچایا؛ کرسچن سائنس نے قدیم مسیحی دعا کو بچایا ہے۔ بدلے میں یہ چوہا، یا بھروسے کا معصوم فہم، یا بہاؤشاید تھکے ہوئے تیراک کو بچائے جب وہ آگے تیراکی کرنے کے لئے بہت تھک چکا ہو۔

ایڈورڈ اے کِمبل نے ایک بار گلبرٹ کارپینٹر سے کہا کہ جب وہ انسان کی طاقت کے بڑے فہم کو حاصل کرنے کے قابل تھا جب خدا کی طرف سے منظوری ہوئی، وہ اِس معصوم بھروسے کو دوبارہ پھر کبھی حاصل کرنے کے قابل محسوس نہ کر سکا، جو بنا خوف خدا کی گود پر بھروسہ رکھتا تھا۔شاید وہ ہمارے ساتھ زیادہ عرصے تک رہتا، اگر وہ ایسا کر پاتا۔

بائبل اس بار کا ریکارڈ رکھتی ہے کہ بنی اسرائیل نے بادل یا سائنس کے ستو ن کی ہدایت تلے دن کا وقت گزارا۔ رات کے خوف اور تھکان کے وقت جب سوچ الجھن اور تھکان کا شکار ہوجاتی تھی، انہیں آگ کے ستون، مسیحت کی روشنی کی ضرورت پڑتی تھی، جو معصوم آرم اور سچائی پر بھروسے کو پیش کرتی ہے، جس میں کوئی روحانی ترقی نہیں ہوئی اور سچائی کے کوئی سائنسی اور طاقوت تاثرات نہیں ملے؛ مگر جس سے کوئی شخص ضرورت کی تازگی اور آرام حاصل کرتا ہے۔ لہٰذہ چوہا شیر کو بچا لیتا ہے۔ طلبا کو مسیحی کو یا خدا سے متعلق مونث رویے کو کبھی زچ نہیں کرنا چاہئے، جو جبرائیل فرشتے کی طرف سے(سائنس اور صحت، صفحہ 567) میکائیل کے مقابلے میں پیش کیا گیا جو مقدس جنگ لڑتا ہے۔ شاید کوئی اسے قدیم الٰہیات تصور کرے، تاہم حقیقت میں یہ سائنس کا مقصد ہے۔ یہ ذہنی مایوسی یا الجھن کے اوقات میں لازمی ہو جاتا ہے، اور تب بھی جب کوئی طالب علم یہ ماننے کے خطرے میں ہو کہ وہی ہے جو قادر کام سر انجام دے رہا ہے۔ ایک بار کسی زبردست طالب علم نے اپنے کیرئیر کی تباہی کا سامنا کیا۔ جب مسز ایڈی سے پوچھا گیا تو اْنہوں نے اپنی آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ جواب دیا، ”وہ عزیز لڑکا یہ مانتا تھا کہ اْس نے یہ کیا ہے۔“ ایسے مواقعوں پر یہ خدا کا نجات دہندہ فضل ہے جو کسی شخص کے لئے خدا کے پاس حلیمی کے ساتھ لوٹ آنے میں مدد کرتا ہے اور اپنے مالک کی سادہ فروتنی کے ساتھ یہ کہنے میں مدد دیتا ہے کہ ”اے ماں باپ، میں خود سے کچھ نہیں کر سکتا۔ تو ہی کام کرتا ہے اور بطور چھوٹے بچے کے میں تجھ پر بھروسہ رکھتا ہوں۔“




45۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین کرنے لگیں کہ کسی دوسرے کے اظہار کی بدولت آسمان سے اْترنے والی خوراک سے آپ حقیقتاً اور متواتر طور پ سیر ہو سکتے ہیں۔ صرف حقیقی ترقی اور آسودگی روحانی خوراک سے میسر آتی ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے کوئی شخص ظاہر کرتا ہے۔ جب تک کوئی شخص کسی دوسرے کے اظہار پر اکتفا کرتا ہے، ہر لیکچر کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہوئے، لگاتار مدد کے لئے اپنے استاد یا طبیب کے پاس جاتے ہوئے، وہ بنی اسرائیل کی مانند ہی ہے، ابھی بھی بیابان میں بھٹکتا ہوا، موسیٰ کے اظہاروں پر ٹِکتے اور اکتفا کرتے ہوئے۔ آپ کو یہ محسوس ہو سکتا ہے کہ جو من آپ کو یوں ملتا ہے وہ آسمانی روٹی ہے، جب کہ ترقی کا یہ اصول ہے کہ روحانی خوراک آپ کے پاس ہمیشہ کے لئے دوسروں کی کوششوں سے کبھی نہیں آ سکتی۔

جب تک کہ آپ اس نقطے پر نہیں پہنچتے جہاں آپ من کو ظاہر کرنے کی خود کی قابلیت کو نہیں سمجھتے، آپ کی روٹی وہ حقیقی روٹی کبھی نہیں بن پائے گی، جسے ہمارے مالک نے آسمان سے اْتری روٹی کہا، اور جلد ہی آپ اْس نقطے پر پہنچ جائیں گے جہاں دوسروں کا من آپ کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ آپ دوسروں کی محنت کے وسیلہ اپنی روحانی ضروریات کی ہمیشہ کے لئے فراہمی نہیں کر سکتے۔ کرسچن سائنس کا مکمل مقصد انفرادی اظہار کو فروغ دینا اور آگے بڑھانا ہے۔ایک بار مسز ایڈی نے کلاس میں طلبا سے کہا، ”میں آپ کو پہاڑ پر لے جا کر موعودہ زمین دکھا چْکی ہوں، لیکن وہاں پر جانے کے لئے ہر قدم آپ کو خود اْٹھانا ہوگا۔“




46۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ موت کو بہتر مقام پر ہونے کا راستہ سمجھنے سے متعلق اپنی پرانی توہم پرستی میں برقرار رہیں۔ جب کوئی مر جاتا ہے تو اْس سے متعلق یہی چیز لوگوں کو یہ کہنے کا موجب بنتی ہے کہ ”اچھا ہوا جو یہ مر گیا،“ یا کسی بہت بیمار شخص کے لئے یہ محسوس کرنا کہ شاید ان حالات میں موت میں ہی اس کی خلاصی ہے۔ یہ تجویز غم و الم میں ڈوبے انسان کی تسلی کے لئے زندگی سے زیادہ موت کو طاقت فراہم کرتی ہے۔

سکول کی گریجوایشن کسی شاگردکو فائندہ دیتی ہے کیونکہ اْس نے تسلی بخش کم گریڈز کے ساتھ سارا کام کیا۔ کرسچن سائنس کے رسالے، شمارہ نمبر 4 کے صفحہ 40پرمسز ایڈی لکھتی ہیں، ”جب ہم یہاں اپنا کام اتنے اچھے طریقے سے کرتے ہیں کہ اسے دوبارہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی،موت کی تبدیلی ہماری تمام تر خوشیوں کو ترقی کے وسائل کو بڑھا دیتی ہے۔“




47۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کرسچن سائنس کے سائنسی مرحلے کو اس خیال کے ساتھ لاگو کرنے کی کوشش کریں کہ یہ کامیابی کے ساتھ کسی کے خیالات کی تبدیلی میں کام کرے گا۔ یہ سائنس ہے، یہ عین یہی ہے اور اس کے اصولوں کی درست طور پر پابندی کی جانی چاہئے۔ اس کے اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیں بے غرض اور بلند مقاصد رکھنے چاہئیں۔

یسوع نے واضح کیا، ”نبی اپنے وطن۔۔۔اور اپنے گھر کے سوا کہیں بے عزت نہیں ہوتا۔“ نبوت کو روحانی مرحلے کے طور پر واضح کیا جاتا ہے جہاں جو ہم آہنگی ظاہر کرنے کی آپ امید رکھتے ہیں اسے موجودہ حقیقت کے طور پر اپنے تصور میں رکھتے ہیں، جب تک کہ مخالف جھوٹی گواہی غائب نہیں ہوتی۔یسوع کے بیان سے ایک عملی تفریق یہ سامنے آئی کہ اظہار کا یہ طریقہ عمل عزت یا افادیت کے بغیر نہیں ہے، ماسوائے جب کسی کے خیالات اْس کے بدن یا گھر میں تبدیل ہوجاتے ہیں، نبوی طریقہ کار جس میں مستقبل کی ہم آہنگی موجودہ تجربے اور اظہار میں لائی جاتی ہے، یہ تب کام کرتی ہے جب سوچ غیر جانبدار ہوتی ہے اورتمام تر انسانیت کے لئے برکت کا باعث بنتی ہے۔

ظاہری مخالفت کی وجہ انسان کے روحانی عکس کے تسلسل میں ایک رکاوٹ ہے، بالکل جیسے بجلی کی تار میں شارٹ سرکٹ یا بریک کی وجہ سے آگ یا شاید چنگاریاں نکل سکتی ہیں۔ یہ رکاوٹ اس وجہ کے باعث ہوتی ہے جب انسان کی سوچ اْس کے جسم میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پس ہماری قائد نے سائنس اور صحت میں ایک علاج کے طور پر یہ اصول دیا ہے، ”ہمیں اچھائی اور انسانی نسل کو یاد رکھنے میں اپنے بدنوں کو بھول جانا چاہئے۔“




48۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ سائنس کی بدولت ترقی یافتہ اور وسیع انسانی ذہانت یا تعلیم اور ثقفت کی بدولت ترقی یافتہ انسانی سوچ کے استدلال کی طاقت کا بہت بلند اندازہ لگالیں اور اسے سائنس سے متعلق بات کرنے یا تحریر کرنے کے لئے نہایت مناسب کارندہ تصور کر لیں۔

سائنس میں خدا کی طرف سے حوصلہ افزائی ہی واحد درست بنیاد ہے، کیونکہ صرف اسی طرح سے ہم پر اعتماد ہو سکتے ہیں، جب ہم لکھتے یا بولتے ہیں، کہ یہ خدا ہی ہمارے وسیلہ لکھ یا بول رہا ہے۔ تاہم، جب اس روحانی بصیرت کی کمی محسوس ہوتی ہے، تو بطور متبادل یہ انسانی ذہانت میں تبدیل ہونے کی آزمائش ہوسکتی ہے۔ پھر بھی ایسا کرنا روح کے بنا خط کو سامنے لانا ہے اور اتنا ہی قابل الزام ہے جتنا میڈیکل کی جانب راغب ہونا ہے کیونکہ سائنس فوری شفا نہیں لاتی۔ جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ انسانی طریقہ کاروں کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے اگر اظاہر یا حوصلہ افزائی ناکام ہو جائے، توآپ سچائی پر اپنے شدید انحصار کو کمزور کرتے ہیں۔

بعض اوقات وہ لوگ جنہیں ماضی میں کاروبار کا تجربہ ہو، مالی تربیت یا اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہو، جب انہیں ہماری تنظیم میں کوئی کردار ادا کرنے ک لئے انہیں بلایا جاتا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ انسانی حصول بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ تصور ہماری ذیلی کلیسیاؤں کے کاروباراور اجلاس میں پھیلتا ہے جہاں اس قسم کا کاروبار ہوتا ہے۔ تاہم اگر خدا نے کلیسیا بنائی ہے تو اسے اس کی حفاظت بھی کرنے دی جانی چاہئے؛ اور اسے خدا کے دْشمن، یعنی، انسانی عقل، کی جانب نہیں جانا چاہئے۔ اس قسم کا انتخاب رومی حاکم، کانسٹنٹائن کے ہاتھوں کلیسیا کو فریب دیتا ہے۔جب اسے ابتدائی مسیحی کلیسیا میں قبول کیا گیا، تو اس میں شفائیہ قوت غائب ہو گئی۔ مسز ایڈی کہتی ہیں کہ انسانی عقل شفا دینے والی نہیں ہے۔ یہ ذہنی سستی اور تکبر ہے جو طلبا کو وہ تلاش کرنے کا موجب بنتا ہے جو اْن کے لئے آسان راستہ ہو، جبکہ عالم روحِ انسانی جانتا ہے کہ مظاہرہ ہمیشہ آسان راستہ ہی ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص ہاتھوں سے کھیت میں ہل چلاتا، تو کیا یہ ٹریکٹر چلانے سے زیادہ مشکل نہیں ہوتا؟ اظہار کا مطلب ہے انسانی عقل کی لاغر کوششوں کی بجائے الٰہی عقل اور اْس کی قادر مطلق قوت کو استعمال کرنا۔

وہ طلبا جن کے پاس کاروبار کی ٹریننگ ہوتی ہے، لیکن جنہوں نے اس تجویز کو بھی قبول کیا ہو کہ وہ روحانیت کی کمی رکھتے ہیں، وہ اکثر اپنے خود کے محصولات کے تکبر کی بحالی کے لئے کلیسیا کے کاروباری اجلاس کی تلاش میں رہتے ہیں، جماعت کو یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہ انسانی طور پر وہ کس قدر ذہین ہیں، تاکہ اپنی روحانیت کی کمی کو پورا کر سکیں۔

اگر کسی شخص کا کاروباری تجربہ، تعلیم وغیر ہ وغیرہ اْسے ان قابلیتیوں سے آراستہ کرتے ہیں جو اوسط انسانوں سے بلند نظر آتی ہیں،تویہ اظہار کے لئے کسی انسانی تربیت کے نتائج کے متبادل کے لئے ایک مسلسل آزمائش بن جاتی ہے۔ جبکہ انسانی تربیت اور تعلیم سائنس میں مددگار ہو سکتی ہے، تاہم جب وہ خدا کو بند کا رجحان رکھتے ہیں، تو وہ رکاوٹیں بن جاتے ہیں۔ جو کچھ بھی آپ انسانی نقطہ نظر اور تجربے سے جانتے ہیں کہ کیسے بہتر کام کیا جائے، یہ آپ کو اظہار یا خدا کی مدد پانے سے دور رکھنے کی خاص آزمائش بناتاہے۔ اس کے برعکس، جب کوئی محسوس کرتا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ کیسے انسانی طرز سے کام کیا جائے، اسے ایک راستے پر اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، یعنی، روحانی راستے پر۔

خوشگوار نظریے پر، مسز ایڈی روحانی طور پر متفق تھیں تاکہ وہ یہ جانچ سکے کہ اْس کے گھر میں فراہم کی جانے والی خدمت اظہار تھی، جس کا مطلب ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کی طرف سے دی جا ہی تھی جو خدا کی مددکا متلاشی تھا۔ بعض اوقات خدا زبردستی چاہتا تھا کہ وہ اْس خدمت کو رد کرتی جو اظہار کو پیش نہیں کرتی تھی، خواہ وہ کتنی ہی وفاداری اور محبت کے ساتھ کی جارہی تھی، کیونکہ وہ خدا سے کمتر کسی چیز کے ساتھ اْسے مطمین کرنے کی ایک کوشش کی جانب اشارہ تھی۔ یہ ظاہر کرتا تھا کہ جس نے یہ کیا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ الٰہی عقل کی مدد کے بنا تسلی بخش طریقے سے خود کچھ کر سکتا تھا، جو کرسچن سائنس کے عین متضاد ہے۔ وہ بس یہ مانگ رکھتی تھیں کہ اْس کے گھر میں ہونے والے کام درست سوچ کے نقطہ نظر سے ہونے چاہئیں، یعنی، الٰہی عقل کے منعکس ہونے سے۔ کوئی طالب علم اْسے کیسے خوش کرنے کی امید کرسکتا تھا، جس کا مقصد خدا کو خوش کرنا تھا، کیونکہ باپ کا معیار اْسی کا معیار تھا، اس سوچ کے ساتھ کہ وہ خوچ کچھ کرسکتا ہے یا انسانی عقل کے ساتھ کچھ کر سکتا ہے جو تسلی بخش ہو؟اْس کی پوری زندگی روحانی سوچ بچار کی تعلیم دینے اور عمل کرنے کے لئے وقف تھی۔ کیا یہ بہت عجیب تھا کہ وہ حلیم قسم کے کام نہیں چاہتی تھی، اپنا بستر ٹھیک کرنا، کمرے کی صفائی کرنا یا اپنا کھانا بنانا، جو الٰہی عقل سے سوچ بچار یا تمام کاموں کو بہتر سر انجام دینے کے لئے خدا کی طرف سے مسلح انسانی قابلیت کی بجائے کسی اور نقطہ نظر سے کئے گئے ہوں؟

مسز ایڈی نے یہ معیار قائم کیا، یعنی، بطور واحد طریقہ کار ایسا اظہار جسے کسی شخص کو ہر صورت حال میں اپنانا چاہئے۔ جب یہ کرسچن سائنس کے دورانیے میں آیا، مثال کے طور، اْس نے اْن مضامین کو قبول نہیں کیا جو انسانی ذہانت کی پیداوار تھے، جیسے خنزیروں کو زمین سے نکالا جاتا ہے۔ یہ روح کے بنا خط ہوگا، دل کی بجائے ذہن کی پیداوار۔ وہ خدا سے چاہتی تھی کہ مضامین تحریر کرے، اور وہ جانتی تھی کہ اْس نے نے صرف تبھی کیا جب انسان نے انسانی فہم کو مطیع کیا تاکہ الٰہی عقل اس میں روشن ہو۔

متفرقات کے صفحہ 232 پر سب سے روشن ترین اور تاہم شاید حیران کن تنقید پائی جاتی ہے جو مسز ایڈی نے تحریر کی، یعنی انسانی سوچ سے متعلق۔ جان بی وِلیز، جو کئی سال تک ایک تربیت یافتہ لکھاری رہا، ایک وقت میں نوجوان ساتھیوں کے سٹاف کا حصہ تھا، اْس نے ایک رسالہ تحریر کیا جو ”دیکھنا بمقابلہ خبردار رہنا“ کہلاتا تھا۔ طلبہ نے اس مضموں کو پسند کیا، اسے مدد گار پایا، اور اس کی الٰہیات میں کوئی غلطی نہیں پائی۔ تاہم مسز ایڈی نے سختی سے اس کی مذمت کی، اور یہ اعلان کیا کہ اس نے کرسچن سائنس کی غلط بیانی کی ہے، اور پاسبان سے ایک معزرتی بیان شائع کرنے کا مطالبہ کیا جس میں یہ کہا جائے کہ یہ آئندہ اپنے کالموں میں اس قسم کی غلط تعلیمات کو بیان کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

مسز ایڈی کی اس مرادکیا ہوسکتی تھی کہ اس مضمون میں روحانیت کی کمی تھی، یعنی جب مسٹر ولِیز نے یہ لکھا تو اس میں الہام کی کمی تھی؟ اْس نے اِس میں شفائیہ شعور کی کمی محسوس کی تھی، اور چونکہ شفائیہ سوچ کی موجدگی ہی کسی چیز کو کرسچن سائنس کا نام لینے کے قابل بناتی ہے اس لئے اْنہوں نے اسے رد کر دیا۔ یہ روح سے خالی مضمون تھا۔ لوگ بلسان کے درخت کے دھاگوں سے بْنے ہوئے سرہانوں کو اْن کی مہک کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ لیکن کوئی شخص اس سرہانے کے بارے میں کیا کہے گا جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی؟ اسے دھوکہ دہی کہا جائے گا۔ مسٹر ولیِزکا مضمون ایک دھوکہ تھا۔ اس کا دعویٰ کرسچن سائنس کا مضمون ہونے کا تھا، تاہم اس میں اْس اہم عنصر کی کمی تھی جو اسے کرسچن سائنس بناتا۔ اسے پڑھنے سے بیمار کو شفا نہیں ملے گی۔

لہٰذہ مسز ایڈی نے ہمارے دور کے مضامین کے لئے یہ معیار قائم کیا، اس کے ساتھ ساتھ تحریروں، پؤمطالعہ اور کرسچن سائنس سے متعلق بات کرنے کا بھی، یعنی کہ ایک طالب علم کو اس نقطہ نظر کے ساتھ لکھنا، پڑھنا اور بولنا چاہئے جیسے خدا اْس کے وسیلہ لکھ، پڑھ اور بول رہا ہے۔ اگر اْس کا روحانی شعور اور عقیدہ زوال پذید محسوس ہو، تو اسے یہ کبھی محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ تسلی بخش متبادل کے طور پر اپنی ذہانت کی تربیت پر انحصار کر نا اْس کے لئے ٹھیک ہے، جو ظاہری طور پر مسٹر ولِیز نے کیا۔

مسز ایڈی کی سب سے زیادہ فعال سر زنشیں اْن طلبہ کے لئے مخصوص کی گئیں ہیں جو یہ بھول جاتے ہیں، خدا کے بغیر وہ کچھ نہیں تھے اور کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ تکبر، خوف اور غفلت اس مہلک غلطی کے لئے ذمہ دارہیں، مہلک اس لئے کیونکہ یہ انسان کو واپس اْسی مردہ فانی عقیدے پر لے جاتی ہے، اور یوں اْسے خدا سے چھین لیتی ہے۔مسٹر ولیِز نے خدا کا کام کرتے ہوئے خدا کو ہی بیچ میں سے ختم کر دیا۔ بے شک خدا نے ہماری قائد کے وسیلہ اْس کی سرزنش بھی کی۔ اس کے علاوہ یہ بھی یاد رکھا جانا چاہئے کہ مسز ایڈی ہر کام کو، چھوٹے سے بڑے تک، اگر یہ صحیح طور پر کیا گیا ہے تو، اسے خدا کے نزدیک ہونے کا ایک موقع ہی سمجھا ہے۔




49۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، جب آپ اپنے کسی ذیلی چرچ یا مدر چرچ کے کسی رْکن کو پورے طور پر تھوڑی سی روحانیت کے ساتھ ظاہری طور پر اظہار کرتے دیکھیں، تو آپ نفرت انگیز، الجھن کا شکار یا تنقیدی ہوجائیں، اور پھر بدل کر خود سے نفرت کرنے لگیں۔ آپ کو اس بات کو احساس ہونا چاہئے جو آپ کے اندر تنقید کر رہا ہے وہ مزید آپ کا حصہ یا حقیقی نہیں ہے، بہ نسبت اس کے جس پر چرچ کے اراکین میں تنقید ہورہی ہے وہ حقیقی یا اْن کا خود کا حصہ ہے۔

ہماری تنظیم میں ظاہر ہونے والی غلطیوں کے باعث کسی شخص کے روحانی شعور کے کھو دینے کی بڑی آزمائش ہمیشہ سے رہے گی، لیکن یہ اس کے خدا داد مقصد کا حصہ ہے، یعنی، کسی کا یہ جاننا کہ فانی تجاویز کے دباؤ کے تحت کیسے اپنے سائنسی خیالات کو قائم رکھا جائے۔

جب آپ کسی ذیلی چرچ کے رْکن بن جاتے ہیں، تو آپ اس دلیل کے شکار ہو جانتے ہیں کہ چرچ میں روحانی فہم کی موت ہے، لیکن بطور ایک رْکن آپ کو کلیسیا کے لئے اس تجویز سے نپٹنے کی دعوت دی گئی ہے۔ آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ خدا کا روح ہمیشہ موجود رہتا ہے، کیونکہ اگر آپ فہم کی گواہی سے اونچے ہوتے ہیں،آپ کو خدا کا روح آپ کو ہر جگہ ملے گا۔ صرف یہ کوشش کرنے سے آپ خدا اور اپنے برادر انسان کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو پورا کرسکتے ہیں۔

اگر آپ کلیسیا میں لوگوں کی ظاہری ناکامی کو آپ کے درست فہم کی توقع پوری کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور آپ کے خیالات کو تاریک اور مویوس کن بنانے کے لئے ایک حوصلہ افزائی اور آپ کی وفادار خدمت کی شناخت کی کمی کے لئے، تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے خود کو حیوانی مقناطیسیت کے ذریعے قابو کئے جانے کی اجازت دے دی ہے۔

اگر آپ ایک اتوار کی صبح عبادتی ماحول کے لئے سائنسی طور پر کام کر رہے ہوں، اور اچانک آپ کھڑی کے باہر دیکھتے ہیں اور آپ کو ایک شخص کسی بچے کو بیدردی سے مارتا ہوا نظر آتا ہے،آپ اس سے اس قدر پریشان ہو جاتے ہیں کہ آپ اِس شخص پر اپنا بڑھتا ہوا غصہ محسوس کرتے ہیں، تو کیا اس سارے واقعہ کو آپ کی خدمت کے اچھے کام کو روکنے کی غلطی سمجھنا درست ہوگا؟ کیا آپ خود کو اپنی روحانی مدد سے برخاست ہونے کی آزمائش میں نہیں پائیں گے،جہاں اس کی ضرورت تھی اور یہ پہنچنے چاہئے تھی۔ آپ پورے واقعہ کو غلطی کی چال تصور کریں گے۔ یہ وہی چال ہے، جب آپ کی کلیسیا میں ساتھی اراکین کے درمیان کرسچن سائنس کی کمی کے ثبوت کے ساتھ غلطی آپ کو پریشان کرنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ آپ تنظیم کی حمایت میں اپنی درست کوششوں کو ترک کردیں۔ جب یہ چال پکڑ لی جاتی اور سامنے آجاتی ہے، اس کی نزاکت ساری طاقت کھو دیتی ہے۔




50۔ دیکھنا ایسا نہ ہو مادی حالات اوراْن عقائد میں ترقی جو کرسچن سائنس سے جنم لیتے ہیں، آپ کو یہ ماننے کا موجب بنیں کہ مادہ مزید سے مزید تر روحانی بن رہا ہے۔جسے ہم مادا کہتے ہیں وہ محض روح کا مادی نظریہ ہے، بالکل ایسے جیسے کھوجی عینک میں لینز مرکز نگاہ سے باہر ہوتے ہیں، جو آپ کو نظر آتا ہے وہ اصلی ارضِ منظر کا بگاڑ ہوتا ہے۔

یہ ہمارا نظریہ ہی ہے جو کرسچن سائنس میں ترقی پاتا ہے، اور یہ ترقی یافتہ اظہار ہی باہر لاتا ہے، تاہم اظہار کو تب تک حقیقی نہیں کیا جا سکتا جب تک سوچ کو مکمل طور پر روحانی نہ بنا دیا جائے۔ مادے کا بہترفہم اس کی تباہی کی جانب ضرور جانا چاہئے، لیکن سائنس کا مطالبہ اس کے سایہ کی بجائے سوچ پر، وجہ کی بجائے اثر پر غور کرنا ہے۔ وہ جو اس خیال کو عقل میں جنم دیتا ہے اسے دھیان رکھنے یا اثر یا مادے کے ساتھ جْڑنے کے باعث مزید جمود کا خطرہ لاحق نہیں ہوگا، اگرچہ اظہار کے وسیلہ اسے روحانی قدر یا حقیقت کی ضرورت ہوتی ہے۔




51۔ دیکھنا ایسا نہ ہوآپ سائنسی دلائل کو امتیاز کرنے کے لئے استعمال کرنا اور الٰہی عقل کے لئے ایک وسیلہ بننے میں ناکام ہوجائیں۔ آپ روشنی کو اندر لانے کے لئے کھڑکی صاف کریں۔ روشنی کو چمکنے دینا حقیقی ذہنی کام کا مختتمہ اور حتمی سرگرمی ہے، جبکہ کھڑکی صاف کرنا تیاری ہے۔ یہ تیاری دلیل کے وسیلہ مکمل ہوتی ہے۔

ہمیں خود کو اس بات کے لئے حوصلہ دینا چاہئے کہ ہمیں پاس ایک ناقبل یقین روحانی اشارہ ہے، جو ہمیں یہ جاننے کے قابل بناتا ہے کہ کب ہم الٰہی عقل کو منعکس کررہے ہیں۔دلائل وہ سیڑھی ہیں جس کی مدد سے ہم عکس کی اونچائی پر چڑھتے ہیں، لیکن ہمیں اْس دن کی امید رکھنی چاہئے جب خیال سچائی کی اس قدر واضح شفافیت کے طور پر قائم ہوگا کہ ہم دلیل کے بغیر شفا دیتے ہیں۔ایک بار مسز ایڈی نے واضح کیا، ”کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ دلیل خیال کو مادی بناتے ہوئے کام میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ روحانیت پر قائم رہیں۔۔۔اگر آپ مسیحی سائنسدان ہیں اور کلام کر سکتے ہیں اور یہ بہت اچھا ہوجاتا ہے، تو ٹھیک ہے، لیکن اگر آپ کو بحث کرنا ہے، تو خیال رکھیں کہ آپ کیا بحث کر رہے ہیں۔“سائنس اور صحت، 454: 31 اور متفرق تحریریں، 359: 4 دیکھیں۔

مسز ایڈی نے ہمیں سائنسی بیانات بطور اجزائے ترکیبی فراہم کئے ہیں، جنہیں جب مناسب طور پر استعمال کیا جاتا ہے، وہ روح کی میٹھی خوشبو یا پرفیوم جمع کر لیتے ہیں۔ جب اسے چھوڑنے کا اجازت دی جاتی ہے تو اس پرفیوم کی مہک وہی ہے جو بیمار کو تندرست کرتی ہے۔

مسزایڈی کی کلاسز میں سے ایک میں اْس نے کہا، ”جب کوئی بستہ اٹھا اور کسی وقت دلائل کو استعمال کرتے ہوئے اور شفا نہ دیتے ہوئے اس پر انحصار کرتا ہے، تو وہ مریض کے خیال میں اس کا یقین بورہا ہے۔ دلائل کو چھوڑ دیا جانا چاہئے۔لیکن جب کسی بچے کو چلنا سکھا جاتا ہے،تو وہ بچے کو ایک انگلی پکڑنے کو دیتے ہیں،لیکن جب تک بچہ چل نہیں پاتا وہ اْس سے انگلی چھڑاتے نہیں، پھر انگلی ہٹا لی جاتی ہے۔ اسی طرح دائل بھی انگلی ہی ہیں۔“




52۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ باہر سے تنقید کے باعث پریشان ہوجائیں، کہ کرسچن سائنس نے دنیا میں اپنی حیوانی مقناطیسیت کی تعلیمات بدی پھیلا دی ہے، یا جب اسے عدم کہا جاتا ہے تو اسے بہت سرسری سمجھتی ہے، تاکہ اسے بڑھنے کی اجازت دے۔

کرسچن سائنس اثر میں سے بدی کو نکال کر وجہ میں منتقل کر دیتی ہے، جہاں کامیابی کے ساتھ اس سے نمٹا جا سکتا ہے، بغیر مادے یا مادی وجہ کے، ذہنی دائرہ کار میں جہاں الٰہی عقل اسے ترغیب دلا سکتی ہے۔ معاملات کے اطاعت کا یہ شکایت ہے کہ یہ بہت برا ہے اور خود واضح غلطیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ انسانی عقل کے وکیل اس پر اعتراض کرتے ہیں، یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ ایک نیا شیطان قائم کرتا ہے اور مقناطیس اور تنویم کو مضبوط بناتا ہے۔

برائی کی طرف سے دنیا کا رویہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ وہ گھڑی سے ڈرتے ہیں اور رتنوں کی زہر کو دیکھتے ہیں۔ مسز ایڈی نے اس غلطی کو مسترد کیا، اور غلط سوچ کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی، اس بنیاد پر کہ وہ انسان سے انسان کو کاٹتا ہے اور گناہ، بیماری اور موت پیدا کرتا ہے۔ اس نے اس بات کو سکھایا کہ مریضوں کو گھبراہٹ سے بچنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس کے لئے برائی کی موجودگی کے انتباہ کے طور پر اس کے لئے شکر گزار ہونا چاہئے، تاکہ کسی کو اس کے فورا سے فوری طور پر اٹھ سکیں۔ سانس ایڈی کو سانپ کا جھاڑو، جس نے اسے ذہنی طور پر استعمال کیا تھا، اہم مسئلہ تھا، کیونکہ اس نے مرمروں کے ذریعے تنویم کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے دیکھا کہ ان کے پاس اس کا کافی خوف ہونا چاہئے اور اسی طرح اس سے بیدار ہونا چاہیے۔

علمِ نومیات کی جادو کے تحت کیا مضمون بنیادی غلطی نہیں ہے۔ اس کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ خود آپریٹر کو حاصل کرتا ہے۔ مسیحی سائنس میں ضروری گناہ غلط سوچ ہے، یا خدا کے علاوہ عقل میں عقائد کے تسلط کو پیدا کرنے کے لئے۔ اس کے ساتھ شروع کرنے کے لئے غلط عقل استعمال کر رہا ہے۔ بنیادی طور پر گناہ، لہذا، غلط نہیں ہے؛ یہ اس غلطی کو جنم دیتا ہے جو غلطی کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسز اڈی دو طریقوں میں گناہوں کا استعمال کرتا ہے، اس وجہ سے کہ اس کے نتیجے میں اور غلطی سے غلطی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے تحریر پڑھنے میں یہ حقیقت ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔




53۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ مچھر کو چھانیں اور اونٹ کو نگل جائیں (متی23 باب24آیت) ،یا فانی وجودیت کے چھوٹے ناخوشگوار مرحلوں کو ضائع کرنے کی کوشش کریں، جبکہ آپ فانیت کو مکمل طور پر نگل جائیں یا قبول کریں، اْس حصے کی بدولت جو سامنے پیش کیا جائے اور جو اچھا دکھائی دیتا ہو۔ خدا کے سوا نیکی پر ایمان لانے کے لئے موت سے بچنے کے لئے یا خدا کے علاوہ عقل میں یقین کے طور پر یقین ہے۔ یہ عقیدہ ہے کہ موت کا وجود اچھی طرح سے ہے کہ اس کا خیال یہ ہے کہ اس کی خرابی ہے، جیسا کہ اونٹ کے اسٹال کو جتنوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔ جب تک آپ اونٹ رکھے جائیں گے، تو آپ کے پاس جتنیں ہیں۔ اونٹوں کو مارنے اور نگلنے، یا اونٹ کو برقرار رکھنے کے لئے کس طرح بیکار ہے، کیونکہ جتن آپ کو اس سے زیادہ تیز رفتار سے بچائے گا۔ سائنس میں حکمرانی غلطی اور غلطی کی تباہی کو تلاش کرنا ہے کیونکہ خدا اسے پسند نہیں کرتا، اور نہ ہی ہم اس کو پسند نہیں کرتے کیونکہ چونکہ تمام مادییت اس کے خلاف ہےجبکہ، جب ہم سائنس میں ہمارے کام شروع کرتے ہیں تو ہم اس کے صرف حصے کو ناپسند کرتے ہیں۔




54۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، جب اپنے علاج کے دوران آپ نے سچائی کی نوک ، سائنس کے نوکیلے اعلانات کے ساتھ پورے میدان کو گھیر لیا ہو، اور اْس قادر مطلق عقل کو کام کرنے دیا ہو جسے آپ منعکس کرتے ہیں، اپنی ساری سائنسی تعلیم ، تربیت اور جو الہام آپ کو سکھایا گیا ہواْسے پورا کر تے ہوئے، آپ اِس تجویز کے باعث کہ ابھی مزید کام کی ضرورت ہے،آپ معاملے کو کھولنے کی آزمائش کے خلاف کھڑے ہونے میں ناکام ہو جائیں۔ تو آپ سب کچھ دوبارہ سے شروع کریں۔ جو نتائج پیش کرتی ہے وہ آپ کی ثابت سزا اور امید ہے کہ آپ کے خیال میں سائنسی، دیوی طاقت ہے، جو سائنسی سوچ آپریشن میں آتی ہے، ناکام نہیں ہوسکتی ہے، صفر واپس نہیں آسکتا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ جس کا مقصد یہ ہے، اور اس کے لئے ہر چیز ممکن ہے۔

یہ نقطہ نظر سبت کے دن کے دن کا احاطہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے بعد کسی کو اس کے لے جانے کے لئے مظاہرین کے چھ مرحلے میں لے جانا پڑا ہے۔ اس عمل کی طرف سے کسی کو خدا کی طاقت کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ ایمان لانے کے قابل اعتماد کی بناء پر ایمان لاتا ہے۔

گنتی 15باب35 آیت میں رب نے موسی سے کہا کہ اس کے پیروکاروں کو سبت کے دن پر چھڑکنے والے آدمی کو مار ڈالا جائے۔ چھڑیاں آگ کے عناصر کی نمائندگی کرتی ہیں، اور آگ خوف کی نمائندگی کرتا ہے۔ سبت کا دن ایک نقطہ ہے جس پر کسی کے کام کو روکنا چاہئے۔ اسے آرام کرنا اور خدا کو کام کرنا چاہئے۔ اگر اس موقع پر وہ خوف کے عناصر کو اپنے خیال میں جمع کرنے کے لئے اپنے مظاہروں کے نتیجہ کے طور پر اجازت دیتا ہے، تو اس کا معنی اور خدا کی عقل کا احساس اس کی وحدت اور امید سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس طرح مرنے کے لئے سنگسار ہونے والے مردہ معنی کی نمائندگی کرتا ہے جو ہمیشہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم سبت کے دن جمع ہونے کے لئے خوف کی اجازت دیتے ہیں۔ سبت کا دن مقدس رکھنے کے لئے، تمام مظاہروں کا ایک لازمی حصہ ہے۔ بیکنگ وقت میں ایک کک کو اس کے کیک پکانا کرنے کے لئے آگ پر بھروسہ کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ اپنی سوچ میں کوئی شبہ گزارے تو وہ تندرے دروازے کو کھولنے کے لئے کھول سکتا ہے؛ اس کا کیک گر سکتا ہے اور نتیجے کے طور پر ناکامی ہو سکتی ہے۔




55۔ دیکھنا ایسا نہ ہوانسانی مسئلے پر مطلق سائنس کو لاگو کرنے کی آپ کی کوشش میں آپ یہ محسوس کرنے لگیں کہ آپ کو مادی فہم کے دعووں کو نظر انداز کرنا چاہئے، کیونکہ انہیں پہنچاننا غیر سائنسی ہے۔ یہ غلطی ان لوگوں میں دیکھی جاتی ہے جو ہر وقت مطلق سائنس کے بارے میں بات کرتی ہیں، اور ان لوگوں کو بھی جو ان کو انسانی مسئلہ کے بارے میں آواز دیتا ہے۔ اس طرح کا ایک رویہ مسز ایڈی کا کہنا ہے کہ ایک مشکل فساد ساز ہوسکتا ہے۔ سائنس اور صحت کے 252 صفحے پر وہ لکھتی ہیں،’’غلطی کا علم اور اس کے عملوں سے پہلے یہ ضروری ہے کہ حقیقت کی سمجھ کو خرابی سے خارج کر دیا جائے۔‘‘

جب آرکیٹیکچر ڈھانچے کو ڈیزائن کرتا ہے، تو وہ کاغذ پر اپنا تصور ڈرا دیتا ہے؛ پھر اس کی تعمیر آتی ہے۔ انسان کی حقیقی معنوں کو قائم کرنے میں، خیال میں ایک بہترین نمونہ بننا چاہئے۔ اس کے بعد اس سے قبل ایک بہترین مثالی نمونہ کے ساتھ، وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے باہر بنا سکتا ہے۔ اس طرح سائنس میں عملی مظاہرے ایک مثالی طور پر ایک مثالی حیثیت بنانے کی کوشش ہے، ہمیشہ مثالی اور مثالی مثالی مظاہرے کے درمیان فرق کو ذہن میں رکھتے ہوئے۔ ایک سائنس ہے جو ایک ہے، اور دوسرا سائنس ہے جو سمجھتا ہے۔ کسی کو کسی بھی سائنسی تصور میں داخل کرنے کی غلطی کا عنصر کبھی بھی نہیں ہونا چاہئے۔ اس مثالی کی نمائش میں پتہ چلا اور ختم کرنے کے لئے بہت خرابی ہے۔ اس طرح کے مظاہرے کو غلط قرار دیا جھوٹ دعوی کے طور پر تسلیم کرنے کے لئے غلطی شامل ہے، جبکہ مطلق سائنس کوئی ایسی تسلیم نہیں کرتا ہے۔

ایک بارمسز ایڈی نے لکھا، ’’مسیح سچائی کا اظہار ہے اور اس حقیقت کو تباہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ زندگی کے قانون کو پورا کرنے اور اس کی تمام مفاہمتوں کو مکمل طور پر احساس کرنے کے لئے آ گیا۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ یسوع نے ایک موقع پر کہا، ’یہ چیزیں آپ کو کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو نہیں چھوڑ دیں گے۔‘ کرسچن سائنس میں شائقین سوچ کی دو لائنیں، سب سے پہلے سچ کے قریب، اور دوسرا، حتمی سچائی۔ وہ جسم کی صحت کے تمام اشارے کے لئے بحث کرتا ہے۔ اسی وقت وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ یہ آدمی خدا کی اپنی تصویر اور مثال ہے۔ مقدس یوحنا کے الفاظ میں، ’ اب ہم خدا کے بیٹے ہیں۔‘ شائستہ پہلے ہی ظاہر ہونے کی کوشش کر کے خیال کو ناراض نہیں کرتا، جو ابتدائی نہیں بلکہ مطلوب نتیجہ کا خاتمہ ہے۔ زندگی، سچائی اور محبت کی مکمل سہولت ایک بار پھر تک پہنچ گئی نہیں، لیکن قدموں کے ذریعہ رسول نے کیا۔ جب ہم الہی تفہیم تک پہنچے تو، ان قدموں کے ذریعے ہم پھر جان لیں گے، ’راہ، حق اور زندگی۔‘ اس کے بعد ہم اپنے آپ کو خدا کی روح، خدا کا بچہ، روح کے اولاد کی شکل اور مثال کے طور پر مل جائے گا - کبھی بھی جسم سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ انسان کی مرضی سے، لیکن ابدی اور لامتناہی خدا کے ساتھ موجود ہے۔‘‘




56۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ یہ بھول جائیں کہ تمام تر فانی قوانین باہم مل کر بنے ہیں، ہر ایک دوسرے سے رہن رکھا گیا اور اخذ کیا گیا ہے۔ اسی لئے مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا،’’ایک غلطی دوسری کی پشت پر سوار ہو کر چلتی ہے۔‘‘ ایک سادہ انسانی مطالبہ کو فروغ دینے کے دروازے کو ذہنی عقل کے تباہ کن اور مضحکہ خیز مرحلے پر دروازہ کھول سکتا ہے۔ اگر آپ شیر کب خریدیں کیونکہ یہ پسند اور پیارا تھا، آپ کو ناگزیر اور خطرناک فکری حاصل ہو گی۔ پال، آگ میں خود کو گرمی میں، زندگی، سچ، انٹیلی جنس اور مادہ کے عقائد کے خلاف ذہنی احتجاج کے بغیر، ایک وائپر کو بند کر دیا۔ جب ہم خود کو مواد کے قانون میں اعتماد سے بچانے میں ناکام رہے ہیں کیونکہ یہ حواس کو پھیلاتے ہیں، ہم اس کی سزا کے تحت آتے ہیں جس میں بہرحال حساس ہوتا ہے۔ ہماری درسی کتاب کا اعلان ہے کہ خوشی ہمیشہ درد میں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ بکھروں کی طرف سے وحی میں لکھا ہے جس میں ان کی دم میں انگوٹھے تھے۔




57۔ دیکھنا ایسا نہ ہوجب آپ خرگوشوں کے نیچے ہل چلانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں سکون میسر آئے، خرگوش خدا سے ہٹ کر عقل میں موجود خفیہ ایمان کی علامت ہیں جو سچائی کی جڑوں کو کترتا ہے، آپ خیال رکھنا نظر انداز کر دیں اور چند جو بچ جاتے ہیں انہیں بھی تباہ کر دیں؛ وگرنہ یہ چند نسل بڑھائیں گے ، اور آپ کو آپکا کام دوبارہ کرنا پڑے گا۔

یہ دیکھنے کے نقطہ نظر آسٹریلیا میں مشق سے خرگوش کے طواف کو کم کر کے ان کے سوراخ میں ہیں جبکہ ان کے نیچے کی طرف سےچڑھانے کو تیار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ کیا جاتا ہے، چند بچتے ہیں۔ کام کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لئے پکڑا اور مارا جانا چاہئے۔

ان کی دفاتر میں خرگوش ابتدائی طور پر طے شدہ غلطی کی علامت بن سکتی ہیں، جبکہ وہ جو فرار ہونے، دکھائی دینے والی غلطی اور شبیہ گناہ ہیں۔ یہ بھی جڑ اور پیک بھی کہا جا سکتا ہے، بعد میں بعد میں جانوروں کا ذکر کرتا ہے جو ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ چلاتے ہیں۔ جڑ اس کے لئے کھڑا ہے جس کا معاملہ معاملہ کے لئے ضروری ہے - کھانے، نیند، ہوا، ورزش، وغیرہ کے بنیادی عقیدہ کے ذریعہ انسان کو غلامی میں رکھنا ہے۔ یہ پیک اس کے لئے کھڑا ہے جو اس کو گناہ کرتا ہے اور تکلیف دیتا ہے۔ غلطی کے غیر معقول اور بنیادی دعوی کے خلاف ہمارے کام میں، ہمیں مخصوص اظہارات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔




58۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ بچنے والے خرگوشوں سے اس قدر تنگ آجائیں ، کہ آپ اْن کا پیچھا کرنے کے لئے سارے ہل چلانے کے عمل کو ترک کر دیں۔ یہ آزمائشی سب سے پہلے آئی ہے کیونکہ دنیا آپ کو واضح غلطیوں کی طرف سے آپ کو قابو پانے کی بجائے آپ کو قاتل عقیدے کے دعوی کو پورا کرنے کے لئے روزانہ کی کوشش کی بجائے۔ دوسرا، فعال غلطی ہمیں اندھیرے کی غلطی سے کہیں زیادہ تشویش ہے۔ جراثیموں کو گھومنے والے بیجوں سے کہیں زیادہ تشویش ہوتی ہے جسے ہم دیکھ سکتے ہیں یا نہیں جان سکتے ہیں۔

لیکن ہمیں اپنے بارے میں دنیا کے فیصلے کو قبول نہیں کرنا چاہئے، اور ہمیں اپنی کامیابی یا بیرونی طور پر بیرونی طور پر ناکام بنانے کی گنجائش ہے۔ کرسچن سائنس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو غلطی کی جڑ کو تباہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے؛ نظر آنے والی غلطی، یا اثر، زیادہ سے زیادہ اس کے بارے میں سوچنا چاہئے جس کے مطابق جڑ پر کام کرنے کی ضرورت پر توجہ دی جاتی ہے۔ پیک پر کام، یہ ضروری ہے، اگر یہ جڑ پر کام شامل نہیں ہے، غلطی سے مکمل آزادی کی قیادت نہیں کرتا، کسی بھی زیورات کے سب سے اوپر کو کاٹنے کے مقابلے میں کسی بھی زیورات سے آزادی کی طرف جاتا ہے۔




59۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ نمک کا ستون بن جائیں اور یوں آپ واضح اور مناسب طور پر ہر اظہار کو مکمل نہ کر پائیں۔ اگر آپ غلطی کی تباہی کو دیکھنے کے لئے واپس دیکھتے ہیں تو کوئی مظاہرہ ختم نہ ہوسکتا ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے پیچھے لگ رہا ہے اس کے نتیجے میں کام کرتا ہے، اگرچہ غلطی کی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں، کرسچن سائنس، الہی سائنس ہے انسانی کشیدگی میں کمی۔ سابق انسانی مسئلہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ بعد میں نہیں ہوتا۔ جب تک آپ الہی سائنس میں پیچھے نہیں آتے تو کوئی مظاہرہ نہیں ہوا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی غلطی موجود نہیں، یا یہاں تک کہ اس کا دعوی بھی نہیں ہوتا۔ لہذا تباہ ہونے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا۔

لوط کی بیوی کے معاملے میں نمک کا ستون ممکنہ طور پر اثر انداز کرنے کے بعد ناقابل اطمینان کی نمائندگی کرتا ہے، جب سبھی توجہ کو کرسچن سائنس سے نکالنے کی وجہ سے دی جانی چاہیے تو جب کسی کو الہی سائنس میں بڑھتی ہوئی ہونا چاہئے۔

ایک بارمسز ایڈی نے ایک طالب علم کولکھا ،’’اب عزیز، ایک خواب حقیقی نہیں ہے! آپ بیمار نہیں ہیں اور بیمار نہیں ہوسکتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے، لہذا مجھے فکر نہیں ہوگی۔ کوئی انسان نہیں، تاہم بدقسمتی سے جھوٹ درست ہوسکتا ہے، اور اگر وہ آپ کو بتائیں تو آپ زہریلا ہو جاتے ہیں، اس کا کوئی اثر نہیں ہے، کیونکہ جھوٹ حقیقی نہیں ہے، اور آپ یہ جانتے ہیں۔‘‘




60۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ نمک اپنا ذائقہ کھو دے، یا آپ بنیاد کو قائم کئے بغیر یاانسانیت ظاہر کریں یا الوہیت ظاہر کریں، جس کے لئے انسانیت ایک بیرونی اظہار ہے، یا انسانی ضرورت کے کسی بھی اطلاق کے بغیر کامل ہونے کی کوشش کریں۔ سائنس اور صحت کا کہنا ہے کہ، ’’ یسوع کے انسانیت میں مسیح کی دیوتا ظاہر ہوئی تھی۔‘‘ کرسچن سائنس میں الہی سائنس کا اظہار کیا گیا ہے۔

اگر انسانیت، یا نمک آپ کے خیال میں پہلی جگہ پر قبضہ کرنے کے لئے آتا ہے، تو آپ دیوتا چھوڑ سکتے ہیں اور تمام نمک بن سکتے ہیں۔ اگر آپ انسانیت میں اس کی وضاحت کے بغیر دیوتا تلاش کرتے ہیں تو، نمک اپنا ذائقہ کھو دیتا ہے۔

انسانیت پر لاگو دیوتا کے اثر زندگی کو ذائقہ دینا ہے کیونکہ انسان کو شفا عطا کرتا ہے اور نعمت دیتا ہے۔ اس کے بعد سے انسان کی سب قسمت کی وجہ سے حتمی تباہی ہے، ہمیں اس مقصد کو ہمارا مقصد نہیں بنانا چاہیے۔ ہم اس میں سے ہر ایک کو خدا کے بغیر انسان میں ہر بہتری کے لئے شکر گزار کر سکتے ہیں۔ بت پرستی وجہ سے آگے بڑھا رہا ہے، جسم کی صحت کی تلاش، مثال کے طور پر، سوچ کی روحانی بنانا، یا خدا کا علم۔ جو شخص اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرتا ہے اس کے جلوس میں خدا کے سامنے کچھ چیزیں ڈالتا ہے، جب خدا ہمیشہ رہتا ہے، اور سب کچھ پیروی کرتا ہے۔ متی6باب 33آیت کے مطابق۔

جب انسان انسانیت میں دیوتا کا اظہار کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو، دوسروں کے لئے شفقت، شفقت، غیر جانبداری اور خود مختاری، نمک اپنا ذائقہ کھو دیتا ہے، کیونکہ نمکین بچنے والوں کی زندگی صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ یہ دیوتا کا صحیح اظہار ہے۔

نام نہاد مطلق سائنسی ماہر، اگر اس نے دیکھا کہ ایک بار بارش میں گیلے جھاڑنا ہو گا تو اعلان کرے گا، ’’ کوئی بات نہیں؛ بادلوں کے اوپر سورج چمک رہا ہے۔‘‘ انسانیت کا اظہار کرنے کے خواہاں طالب علم آدمی کو چھتری تک ختم کرنے تک چھٹکارا کرے گا۔ پھر وہ مطلق تدریس کے لئے تیار رہیں گے، جو انہیں دکھائے گا، بارش ہونے کے دوران بھی، اور اس وقت سیاہ بادل تھے، سورج ان سے متاثر نہیں ہوا، لیکن چمک رہے۔




61۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے علاج کو تمام تر حد بندیوں سے آزاد کرلیں، یہ احساس کرتے ہوئے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو اْس کی مرضی بجا لاتا ہے؛ کہ یہ قادر مطلق ہے اور کسی طرح بھی یہ اپنے اثر میں محدود نہیں ہے، وہ جو ابھی بھی فانی گناہگار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس بات کو سمجھو کہ اس لمحے سے آپ کو چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ خدا کی دیکھ بھال میں ہے اور اس کا اثر فوری اور کامیاب ہے۔

مسز ایڈی نے ایک بار اعلان کیا، ’’ میرا علاج ڈر نہیں ہے۔ ایک کرسچن سائنس کے علاج کے تمام شاندار موجودگی، طاقت اور خوف کا قانون ۔۔۔ ہر علاج کے ساتھ جاننے کا علاج کریں، ’یہ علاج مؤثر ہے، ایک اچھا علاج، اور کچھ بھی نہیں اس کو رد کر سکتا ہے۔‘‘‘

اگر آپ نے ہوائی اڈے سے بم کو گرا دیا تو، آپ کو اس کے اثر میں یقین ہوگا، جس میں اس حقیقت کی طرف سے محدود نہیں ہوسکتا ہے کہ آپ وہی تھے جو اسے گرا دیا؛ آپ کے حصے پر کمترتا کا احساس اس کے دھماکہ خیز مواد پر اثر انداز نہیں ہوگا۔




62۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ ایک کامل مربع بناتے ہوئے، آپ یہ ماننے لگیں کہ آپ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو خدا آپ سے امید کرتا ہے۔ وہاں بستر کی چالیں ہیں جو بنا ہوا چوکوں کو ایک ساتھ مل کر تیز کیا جائے ۔ جب آپ نے ایک انفرادی کامل مربع بنا لیا ہے یا آپ اپنے آپ کو خدا کے کمال چارسری شخص کے طور پر دیکھا ہے، تو آپ کو تمام انسانوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا، جب تک کہ آپ ان سب کو کامل طور پر خدا کے کمال خیالات کے ایک عظیم خاندان کے طور پر دیکھ لیں۔ یہ کوشش صرف کمانڈ کو پورا کرتا ہے، ’’اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھو۔‘‘

اس کوشش کو خدا کے کامل بچہ کے طور پر انسان کے بارے میں اپنے نظریے کے ریپیکشن یا توسیع کہا جا سکتا ہے۔ جب آپ دیکھتے ہیں کہ خدا کے تمام بچوں نے ایک ہم آہنگی روحانی خاندان میں ایک دوسرے سے منسلک کیا ہے، تو یہ آپ کی روح کو ایک روحانی کاروائیٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا سبب بناتا ہے، جسے آپ انسانوں پر پھینک سکتے ہیں، اور جس کے ساتھ آپ ان کو الہی محبت کی گرمی سے شفا دے سکتے ہیں، ان کی زندگی ان کے غریب سوچ کے ماڈل سے کہیں زیادہ ہے، جیسا کہ سائنس اور صحت کہتی ہے۔




63۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلط خیالات کو نکالنے کی کوشش کریں اور اس کوشش میں غلط سوچ کو شامل ہی نہ کریں۔ ہمارے خیالات اور سوچ کی سوچ ہے۔ غلط خیالات کا اظہار کرنے کی کوشش شاندار اور عارضی ہے۔ غلط خیالات کا دعوی ہم پر حملہ کرے گا جب تک ہم غلط خیالات پر غور کرنے کے لئے اپنی صلاحیت کو دور نہ کریں گے۔

بدی کی تجاویز جب تک کہ وہ ان کے لئے حساس ہے یقین ہے کہ آئے گا۔ صرف اس وقت جب کوئی اس غلط قبولیت کو بے نقاب کرتا ہے، یہ جان کر کہ خدا کا بچہ صرف خدا کے خیالات کو کھولتا ہے، بعد میں انسان کی روحانی اور شعوری شعور کی حیثیت سے قائم ہوجائے گا۔ اس بات کا یقین کرنے کا ایک واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ کے ریڈیو کو کبھی بھی ناپسندیدہ اسٹیشن سے کچھ بھی نہیں ملے گا، اس کو ٹھیک کرنا ہوگا تاکہ اس کی خاص طور پر لہر کی لمبائی کے لئے اسے دوبارہ دیکھ سکے۔ ایک بار مسز ایڈی نے لکھا ، ’’ میرے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے جو اس کے ساتھ ملتا ہے یا کسی بھی برائی کا جواب دیتا ہے۔‘‘




64۔ دیکھنا ایسا نہ ہوجب آپ خوبصورت پھولوں پر مکڑی کا جالا بْنا ہوا دیکھیں، تو آپ یہ ماننے لگیں کہ پھول اِس مکڑی کے جالے کے ذمہ دار ہیں، یا یہ کہ اْنہیں اس سے نقصان پہنچایا گیا ہے۔ غلطی مکڑی ہے جسے انسان اپنی شعور میں باطل کی ویب بنانا چاہتا ہے، اس لئے کہ غلط جھوٹ اس کا حصہ بنیں۔

جب بائبل کا اعلان ہوتا ہے تو انسان کا بیٹا بھیڑوں اور بکریوں کے درمیان الگ الگ ہونے کے لئے اپنے تمام جلال میں آئے گا، یہ تقسیم ان لوگوں کے درمیان ہوگا جنہوں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غلطی کو نجات دی ہے۔ پہلے باندھے ہوئے بھاری بوجھ پیدا کرنے کے لئے پریشان ہیں۔ وہ مکڑی ویب انسان کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ بھوک نہیں کھلاتے ہیں، ننگے کپڑے، وغیرہ۔

یہ اختتام ہے جسے وہ جہاں بھی جاتا ہے وہ شفا یابی کا اثر ڈالتا ہے، جو بیمار کا دورہ کرتا ہے اور شفا بخشتا ہے، جو اجنبی برکت دیتا ہے۔ جب بھی آپ کو غلطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو آپ اپنے مسیح کی تصویر سے شادی کریں۔ جب بھی آپ اپنے بھائیوں میں سے کم از کم اس کے ساتھ بھی اس کو کم کرنا چاہتے ہیں (متی 25 باب 40آیت)، آپ اپنے آپ کو مسیح کی تصویر کو آزاد کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

جب اعمال 7 میں، سٹیفن نے اعلی پادریوں کو بلایا، دلوں اور کانوں میں سختی اور غیر جانبدار کیا، 'وہ ذاتی غلطی اور موت کو سنگسار کیا گیا تھا۔ اس زمین پر خدا کے لئے ان کی افادیت ختم ہوئی۔ اس کو یاد رکھیں، اور یہ سبق سیکھ سکیں کہ خدا اور انسان کے لئے آپ کی افادیت کو غیر جانبدار غلطی کے اس اہم نقطہ نظر پر نظر آتا ہے، اور انسان کے علاوہ دعوی کے طور پر دیکھتا ہے جو ایمان کی طرف سے حمایت کرتا ہے، یہاں تک کہ پرسائٹ بلوک کی طرف سے حمایت کی جاتی ہے۔ درخت سے علیحدہ ہو جاتا ہے، یہ آتا ہے اور مر جاتا ہے، لیکن درخت اس کی طرف سے ناپسندیدہ رہتا ہے جو اس کا حصہ بن رہا تھا۔




65۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی کرنے کا خوف آپ کو روک رکھے اور کچھ نہ کرنے دے، جب کہ عمل کا مطالبہ تیز ہو۔ غلطی سے کیا نقصان پہنچا ہے، جب کسی کی خواہشات اور خواہشات صحیح ہیں؟ کیا ہو تو آپ کو مصیبت میں لانے کے لئے لگتا ہے؟ اگر آپ کو خدا کی رہنمائی کی پیروی کرنے کے لئے ایماندارانہ کوشش میں غلطی ہوئی ہے تو، وہ جو اس سے خوفزدہ ہے، اس سے بھی بہتر نہیں تھا، اس سے بہتر تھا۔

مسز ایڈی نے کہا، ’’ایک مسئلہ سے باہر کام کرنے میں وقت ہوا ہے، جب مجھے معلوم نہیں ہے کہ کیا مرحلہ لے جانے کے لئے، اور کسی قسم کی حرکت کرنے کے لئے اسے لازمی تلاش کرنا پڑا، میں نے صحیح سمت میں تقریبا ایک قدم اٹھایا ہے۔ شاید مجھے پتہ چلا کہ یہ غلط تھا، لیکن یہ قدم نے مجھے ایک نئی نقطہ نظر دی ہے کہ میں نے نہیں کیا تھا، میں نے نہیں کیا تھا کے طور پر میں نے کیا۔ میں اپنے آپ کو مذمت نہیں کروں گا، لہذا، جو کچھ غلطی لگ رہا تھا، اس میں اس مسئلے سے باہر کام کرنے کا حصہ بن جائے گا۔‘‘




66۔ دیکھنا ایسا نہ ہو انسانیت کے لئے اپنے عام ذہنی کام میں آپ حوصلہ شکنی کا شکار نہ ہو جائیں، کیونکہ آپ کے کام کے نتائج فوری سامنے نہیں آتے۔ آپ کو یہ جاننا چاہئے کہ اس حقیقت کے باوجود آپ کو کوئی نتائج نہیں مل سکتے، آپ کے ہر سائنسی کام کو مؤثر ہے، کیونکہ یہ خدا کی طاقت کا اظہار ہے؛ لہذا یہ کوئی حدود نہیں جانتا۔




67۔ دیکھنا ایسا نہ ہو ، یہ جانتے ہوئے کہ اثر وجہ کی پیروی کرتا ہے، آپ کسی بھی ایسی صورت حال کا مقابلہ کئے بغیر ہی اسے جانے دیں جس میں اثر ایک خالصتاً مادی وجہ کی طرف اشارہ کرے۔ بغیر کسی سائنسی احتجاج کے بغیر انسانی غلبہ کی توثیق نہ کریں۔

ایک بار جب ایک شخص نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس کوئی مجبوری ہے، جسے وہ مزاحمت نہیں کرسکتا تھا، آخر تک پڑھنے کے لئے، کچھ بھی پرنٹ ہوا، اس سے کوئی بات نہیں تھی، ایک بار جب وہ شروع ہوا۔ یہ ایک چھوٹی سی چیز کی طرح لگتی ہے، لیکن یہ حقیقت کی طرف سے غیر متصل اور غیر چیلنج کرتے ہوئے، مرجان کے مشورہ کے بے معنی فطرت کا ایک مثال ہے۔




68۔ دیکھنا ایسا نہ ہو جب آپ سائنس اور صحت کے صفحہ 97 کو پڑھیں کہ بلند ترسچائی اپنی آواز اْٹھاتی ہے، اور بلند آواز غلطی چِلائے گی، تو آپ اس سے یہ مراد لیں کہ غلطی طاقت میں بڑھتی ہے۔ جب ایک جانور جو سخنوں کا شکار ہو رہا ہے، تو یہ چشم اکثر اکثر مردہ چلتی ہے، اس بات کا یقین اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے موت کی دھچکا دیا گیا ہے۔

بائبل کا حوالہ دیتے ہیں کہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ غلطی کی تباہی حقیقت سے کیمیکلائزیشن کی طرف سے سامنے آئی ہے جس میں غلطی کا باعث بنتا ہے؛ لیکن سائنس اور صحت کے اعلان کے طور پر، یہ ایک نقصان دہ غیر فعال کوشش ہے، یہ غلطی کی ایک بڑی شدت ہے جس کی وجہ سے اس کے عذاب کا اعلان ہوتا ہے۔ اس طرح ایسے چلنے والے ہمیشہ ہمیں یہ ثابت ہونا چاہئے کہ جھوٹ کے خلاف ہمارے کام کامیاب ہو رہا ہے۔

2 پطرس 3 باب 10آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ آسمان، یا مادہ تصور، ایک عظیم آواز سے گزر جائے گا۔ ماسٹر کی طرف سے شفا یابی کے کئی درجے کے واقعات میں، کیمیکلیز خود کو شیطانوں میں خود کو ظاہر کرنے سے پہلے بلند آواز کے ساتھ رو رہے تھے۔

بہت سے کھلونا غبارے کو ڈھیر کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے کیونکہ وہ کھنڈرے ہوئے ہیں۔ غلطی کی چیخ ہمیشہ سے اس بات کی نشاندہی کرنی چاہئے کہ غلطی اس کی موت کی دھچکا مل گئی ہے اور اس کی آبادی میں کوئی غفلت نہیں ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ غلطی راستے پر ہے۔




69۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ یہ ماننے لگیں کہ آپ کے مسائل اور دیگر لوگوں کے مسائل ذاتی ہیں۔ ذاتی مسئلہ، یا غلطی کے طور پر ایسی چیز نہیں ہے۔ بارش ذاتی نہیں ہے اگرچہ یہ آپ کے گھر میں لیک کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔

لوقا 22 باب 10آیت میں ماسٹر اس عقیدے کو روکنے کی حکمرانی دیتا ہے جس میں کوئی ذاتی مسئلہ ہے۔ ہم اس آدمی کو پیٹر کے ساتھ پیروی کرتے ہیں جو ہمیں بڑے اوپری کمرے میں لے جائیں گے جہاں ہم فسحی کو تلاش کریں گے یا خدا کے ساتھ کام کریں گے۔ پچر مسیح کے نام میں ایک کپ ٹھنڈا پانی دینے کے لئے، زندگی کے پانی کی دریا کے تمام انسانیت کو نکالنے کی ضرورت کی علامت ہے۔ یہ تمام انسانوں کو پہلے سے ہی خدا کے فرزندوں کو دیکھنے کی کوشش کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے، لہذا پہلے سے ہی خدا کے اس اوپری کمرے میں، یا اس کے ساتھ کمال کی مطابقت میں۔ اس طرح کے مظاہرے کے ذریعے، جو کچھ بھی ذاتی مسئلہ ہو سکتا ہے، عالمگیر محبت میں نگل دیا جائے گا۔




70۔ دیکھنا ایسا نہ ہو حیوانی مقناطیسیت کے عدم کو ایاں کرنے کی آپ کی کوشش میں، یا آپ اس کی حقیقت بنا ڈالیں، اور یوں اس سے خوفذدہ ہو جائیں، یا پھر آپ طاقت اور وجودیت پر اس کے دعووں کو نظر انداز کر دیں، جو اسی کے قابو میں رہنے کے مترادف ہوگا۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے اور اسے کچھ بھی نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ یہ کچھ بھی ثابت نہیں ہونا چاہئے اور اسے کچھ بھی نہیں رکھا جانا چاہئے؛ لیکن اس کے حصول کو اس کے آپریشن کے علم کے ذریعے آنا چاہئے، اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اسکول میں اساتذہ نے جہالت کی نفاذ کو تسلیم کیا؛ ابھی تک ان کا مکمل کام اس کے دعوی سے نمٹنے کے لئے ہے۔

زیارت کی ترقی میں حج نے ان شیروں کی بے معنی ثابت کی جس کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں گزرنا۔ ان کی بے قابلیت کی وجہ سے وہ زنجیروں کے باعث نہیں تھے، تاہم، جب تک کہ وہ ان سے گزر چکے ہیں۔

ایک بار مسز ایڈی نے ایک طالب علم کو لکھا، ’’ اپنے طالب علموں کو کیا جانوروں کی مقناطیسییت سکھائیں، یہ خود کو اور باہر کے ذرائع سے کیسے کام کرتا ہے۔ یہ وہ نقطہ ہیں جن میں میرے طالب علموں نے سب سے زیادہ تعلیم درکار نہیں کی۔ اور صحیح طریقے سے سکھانے کے لئے سب سے مشکل ہے تاکہ خوفزدہ نہ ہو بلکہ طالب علموں کو مضبوط نہ کریں۔‘‘




71۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کے خیالات مسز ایڈی کے اس اصرار سے خوفزدہ، حوصلہ شکنی یا الجھن کا شکار ہوجائیں کہ معلمین طالب علموں کو خود پسندی کی ذہنیت کے قاتلوں کے خلاف خود کو محفوظ رکھ سکیں، وہ واضح کرتی ہیں کہ یہ اخلاقی اور جسمانی طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتے ہیں (سائنس اور صحت، صفحہ 445)۔ ایک ذہنی قاتل ذہنی دائرے میں قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جسم کے بجائے عقل پر حملہ۔ جب تم سمجھتے ہو کہ خدا کی جان ہے، اور عقل انسان کی طرف سے عکاسی حقیقی زندگی ہے، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مسز ایڈی کو غلط تجاویز کا حوالہ دیتے ہوئے، جو زندگی، خدا کی زندگی کے کسی پریشان عکاسی کو اندھیرے سے اڑا دیتا ہے، شعور روحانی سلطنت کا احساس کھو دیتا ہے۔

ذہنی قاتلین، جب انہوں نے ماسٹر پر حملہ کیا، تو صرف اس کے جسم کو مارنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے مسیح خیال کو مارنے کی کوشش کی، اپنے روحانی شعور یا عکاسی کو سیاہ کرنے کے لئے، جس کی اصل زندگی تھی۔ اس نے مصیبت کے ذریعے وہ اپنے جسم کو غصہ کرکے خدا کی عکاسی تک پہنچنے اور تباہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام رہے کیونکہ ماسٹر ان چیزوں میں سے کسی کو بھی اس میں منتقل نہیں کرتے۔

اگر انسان واقعی عکاسی روحانی خیالات کی مسلسل آمد کے ذریعہ زندگی رکھتا ہے تو، ایک ذہین قاتل کامیاب ہونے کے بعد اسے روزانہ کی فراہمی سے اسے کاٹنا پڑے گا۔ آئینے کے لئے ایک ذہنی قاتل مٹی ہو گا، اگر ہر دن صاف نہ ہو تو اس کی عکاسی کو مستحکم کرے گی۔

آدم ڈکی نے مسز ایڈی کی طرف سے ہدایت کی تھی کہ وہ خدا سے پہلے قسم کھائیں کہ وہ اسے ریکارڈ کریں، اگر اسے یہاں چھوڑ دینا چاہے تو اس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر قتل کردیئے جائیں گے۔ بہت سے طالب علم اس معلومات سے پریشان ہیں۔ پھر بھی ماسٹر شیطان نے شروع سے قاتل کو بلایا۔ متفرق تحریروں کے صفحہ 77 پر ہم پڑھتے ہیں، ’’ جس کا آغاز ہوتا ہے اسے ختم کرنا ہوگا۔‘‘ اگر مشورہ ایک انسان کو قائل کر سکتا ہے کہ اس کی شروعات، یا معاملہ میں پیدائش ہو تو اس قبولیت میں قتل، یا ناگزیر موت کو چھپاتا ہے۔ ایک آغاز کا مشورہ شیطان ہے جو قتل، یا انسان کے لئے اختتام کو یقینی بناتا ہے۔

مسٹر ڈِکی نے اس سے کیا کیا بات چیت میں، مسز ایڈی پیدائش اور عمر کے سلسلے میں لاپتہ کردیئے تھے، موت کی عقیدت کے مسز ایڈی میں اس کے خاتمے کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، جس نے اس کے گھر کے ارکان کے ساتھ ساتھ محسوس کیا دنیا کے طور پر، اور جس نے اپنے روحانی سوچ کے تاریکر کے طور پر کام کیا۔

مسز ایدی جانتی تھی کہ قتل ہمیشہ ذہنی تھی، اور کبھی جسمانی نہیں۔ مرنے والے ہر انسان کو ذہنی طور پر قتل کیا جاتا ہے۔ صرف اس صورت میں جب طالب علم اپنی آزادی انسانی سوچ اور تنویم سے قائم کرتا ہے، اور سب سے زیادہ اعلی کی خفیہ جگہ میں پناہ طلب کرتا ہے، کیا وہ مکمل طور پر ذہنی قاتل سے محفوظ ہے۔

ایک بار جب مسز ایڈی کے ابتدائی طالب علموں نے اس مصنف سے کہا کہ وہ اتنے زیادہ پریشان ہیں۔ ایک پانگ نے اسے مارا، کیونکہ اس اعتراف میں اس نے تسلیم کیا تھا کہ ذہنی قاتل ناکام ہوگیا، جس کی وجہ سے ایک استعفی کا پتہ چلا جاسکتا تھا، کیونکہ اس کی پیدائشی اور وقت میں داخل ہونے سے یہ کچھ ختم کرنے کی کوشش تھی۔

جب بائبل پوچھتی ہے، ’’ اے قبر، تمہاری فتح کہاں ہے؟‘‘ ہم جواب دے سکتے ہیں کہ یہ پیدائش کے عقائد میں پایا جارہا ہے، کیونکہ قبر صرف اس فتح کو جیتتا ہے کیونکہ اس کے آغاز کے عقیدے کو قبول کرنے کے لئے ایک قائل ہے۔ اس وجہ سے، پہلا مرحلہ موت پر قابو پانے کی جھوٹ اور عقیدت کا سامنا کرنا ہے جو پیدائش کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔




72۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ حیوانی مقناطیسیت سے متعلق آپ کے اندر تیزی، جو روحانی ترقی سے جنم لیتی ہے، اْس کی تشریح اپنی طاقت، سر گرمی اور کاملیت میں اضافے کے طور پر ہو، بجائے کہ اس کے پوشیدہ خوف یا اس پر یقین کرنے کے آپ کے اپنے خیال کو واضح کیا جائے۔ غلطی صحیح طریقے سے سنبھال نہیں جاسکتی ہے اور جب تک کہ کسی وجہ سے کسی بھی وجہ سے اثر انداز نہیں ہوسکتا ہے، اور تسلیم کیا جاتا ہے، اگرچہ تنویم باہر سے آتا ہے، اس کی پیداوار آپ کی اپنی سوچ کے اندر اندر ہے۔ یہ صرف ایک اور طریقہ ہے کہ مسز ایڈی ایک بار اعلان کیا ہے، ’’ زندگی کے لئے آپ کی خرابی آتی ہے، اور آپ کو زندگی کی غلط عارضی معنی دینے کے ذریعے اپنی زندگی کو بڑھانا۔‘‘




73۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ حیوانی مقناطیسیت کو غضبناک قوت کے طور پر جانیں۔ انسان کے برعکس یہ اس طرح کی وضاحت کی جاسکتا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ طاقت نہیں ہے۔ ابھی تک اگر آپ کو تنگ رسی پر نائیگرا فالس پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تو آپ کے ارد گرد ایک انکوائری گوری کی بھوک لگی ہوئی ہوسکتی ہے کہ شاید ایک بہت مشکل مسئلہ ہو۔

جانوروں کے مقناطیس راستے پر انسانی عقل ہے، حقیقت سے مزاحمت کے باعث پیدا ہوئے۔ یہ اکثر اوقات میں خدا کی اپنی عکاسی کو روزانہ زندگی، تھوڑی پریشانی، جلانے اور تجربات کے باعث ڈپریشن کا باعث بناتا ہے۔ ایک بار جب ہالینڈ کے نچلے حصے کو پانی کے ایک چھوٹے سے سلسلے میں ایک کڑھائی کے ذریعے آنے سے دھمکی دی گئی تھی۔ علامات یہ ہے کہ ایک لڑکے نے اپنی انگلی کو سوراخ میں ڈال دیا، اور اسے وہاں رات سے منعقد کیا؛ دوسری صورت میں ملک کو دھونے سے دور دھونے سے بہہ گیا۔ اسی طرح جانوروں کی مقناطیسی چیزوں کو بھی کچھ چیزوں کے ساتھ ساتھ بڑی چیزوں کے ذریعہ کسی کے روحانی سوچ کو تباہ کرنا ممکن ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بے معنی ہے اور طالب علم کو اس کے احساس کو قبول کرنے کے لئے اچھا کام کرنا ہوگا، اس کی وجہ سے خدا کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے، وہ غلطی کا خوف ہے!




74۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ یہ ماننے لگیں کہ مسز ایڈی کے بہت سے طالب علم جو کئی برسوں میں اْس کے مخالف ہوئے، وہ موروثی طور پر بدکار یا بے وفا تھے۔ یہ ایک طالب علم کے لئے دانشور ہے کہ وہ یہوواہ کے بارے میں سوچیں کہ یہوداہ کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ایک روحانی طور پر ذہن میں رہنما رہنما ایک طویل عرصہ تک زیادہ سے زیادہ رہنے کے لئے ایک روحانی ماحول پیدا کرتا ہے۔ وہاں وہ لوگ ہیں جو صرف ایک مختصر وقت کے لئے ایک پہاڑ کے سب سے اوپر رہ سکتے ہیں، کیونکہ ہوا بہت نایاب ہے۔ مسز ایڈی کی چمک کی چمک انسانی عقل کی برداشت سے باہر تھی جو تاریکی سے محبت کرتا ہے۔

ایک روحانی رہنما ہمیشہ اس کے ارد گرد جمع کرنے کے لئے مشکل ہے یا اس کے طالب علموں نے، جس نے کافی عرصے تک استعمال کرنے کے لئے کافی روحانی پیش رفت کی ہے، کیونکہ وہ روحانی ماحول کو طویل عرصے تک برداشت نہیں کرسکتے۔ مالک کی طرح، مسز ایڈی کو ان لوگوں کو ڈھونڈنا پڑا جو ان کی روحانییت سے بے حد حاملہ ہونے کے قابل تھے، اور پھر جب تک ممکن ہو وہ خدا کی خدمت میں ان کا استعمال کریں۔ اس طرح کے استعمال کی مدت طویل یا مختصر تھی، طالب علموں کی ذہنی خصوصیات پر منحصر ہے۔ ایک خاص وولٹیج کے لئے ڈیزائن برقی روشنی بلب کی طرح، انہوں نے جلد ہی جلا دیا کیونکہ ان کے مقابلے میں ایک اعلی وولٹیج برداشت کر سکتا تھا، اگرچہ کسی وقت کے لئے وہ معمول سے ہلکے زیادہ سے زیادہ نکلا۔

یہ وضاحت کی جاسکتی ہے کہ جب کسی کی روحانی روشنی کسی کی اپنی روحانی ترقی کا نتیجہ نہیں ہے، تو اس کے پاس جانوروں کے مقناطیس سے خود کو بچانے کے لئے ضروری سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے، اور اس کے مقابلے میں سمجھنے میں ایک اور اعلی کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ مسز ایڈی نے ماسٹر کا مثال اس کے بعد کیا تھا کہ وہ اپنے محافظوں کو اس تحفظ کے لئے ان کی وفادار رکھنے کے لئے ان کے وفاداروں کو برقرار رکھیں۔ لیکن ایک طالب علم کو کسی اور غیر یقینی طور پر تحفظ کی پیشکش نہیں کی جا سکتی۔

جب یسوع کے شاگرد اپنے شاگردوں سے حفاظت کو دور کرنے کے لئے آئے تھے، کیونکہ اس نے اپنے پورے روحانی خیال کی ضرورت تھی کہ وہ صلیب پر سب سے اوپر جانے کا اپنا مظاہرہ کرنے کے لئے، وہ اکیلے ہی چھوڑ گئے۔ ان میں سے دو جانور جانوروں کے مقناطیس کی طرف سے اتنی سنبھالے تھے جس نے ان کو انکار کیا اور دوسرا اسے دھوکہ دیا!

جب یہ نقطہ سمجھا جاتا ہے تو، یہوداہ کے تجربے اور مسز ایڈی کے طالب علموں کے بہت سے تجربات کو سمجھنے کے لئے مل جائے گا، جنہوں نے انسان کے مفادات کے لئے اپنے نایاب ماحول کو بہت زیادہ عرصہ تک سہارا دیا۔ اگر وہ وفادار کوشش کرتے ہیں تو ان کی اپنی ذاتی انفرادی تفہیم کو فروغ دینے اور تحفظ کے نقطہ نظر کو لانے کے لئے انھیں مسز ایڈی کے مظاہرے کی طرف سے عارضی طور پر اٹھایا گیا ہے، وہ اس تنظیم میں رہتی تھیں اور خدا کے لئے اس کا استعمال ہوسکتا تھا؛ ایک طویل وقت کے لئے۔

طالب علم جو اپنے مظاہرے کو اچھے معاملات کی خواہش سے زیادہ نہیں، یا انسانی معنوں میں ہم آہنگی کے لئے، کسی بھی ماحول کا دورہ نہیں کرسکتا جو ایماندار ہو اور تمام معاملات پھینکنے کے خواہاں ہو۔ اس کی ترقی اور وفاداری کی کمی کی وجہ سے یہ بہت زیادہ بدبخت ہو جاتا ہے۔ وہ وہی ہے جو اپنے برتن کو آسمانی سچائی سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے رکھتا ہے؛ لیکن اس وجہ سے کہ وہ مادییت کے اپنے برتن کو صاف کرنے میں وفادار نہیں ہے، اس حقیقت میں آخر میں یہ ایک ایسا اثر ہوتا ہے جو اس کی مخالفت کرتا ہے، اور وہ پکارتا ہے، ’’ میری انسانی ہم آہنگی کیوں جاری نہیں رہتی ہے؟‘‘ لیکن سچ نہیں کر سکتے ہیں لیکن چپکے اور غلطی کو تباہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم غلطی سے گزرتے ہیں، تو ہم سست محسوس کریں گے۔




75۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ روحانی طور پر ترقی کر رہے ہوں، آپ غلط اور صحیح کے انسانی معیارسے آگے سیکھنے میں ناکام ہو جائیں، کیونکہ دنیا اسے لگاتار آپ کی نظر کے سامنے رکھتی ہے۔ یسعیاہ 41 باب15آیت دانت رکھنے والے ایک نئی تھریڈنگ آلہ کا وعدہ کیا ہے۔ پرانے تھریڈنگ مشین جسے ابتدائی کرسچن سائنس میں لاتا ہے صحیح اور غلط کا انسانی تصور ہونا چاہئے، اور وہ حق کو کرنے کے قابل بنانے کے لئے سائنس کا استعمال کرتا ہے۔ قدموں کو فروغ دینا طالب علموں کو اس موقع پر لے جا سکتا ہے جہاں انہیں انسانی اور الہی سوچ کے درمیان تقسیم کرنا ہوگا، خیالات کے درمیان غلط فہمی عقل اور الہی عقل سے۔ اس موقع پر ایک طالب علم نے پہلے ہی استعمال کیا ہے اس سے زیادہ تیز بصیرت ضروری ہے۔

جانوروں کے مقناطیسی کرسچن سائنس میں ایک اہم اصطلاح ہے، کیونکہ یہ واحد اظہار ہے جس میں یہ حقیقت واضح ہے کہ یہ انسانیت کی بنیاد پر یا فرشتے ہیں، کیا غلطی ہے، کیونکہ یہ خدا کے خلاف دشمنی ہے، اگرچہ مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک بہتر عقیدت غلطی سے ایک قدم ہے۔ جب پیش رفت کے طالب علموں کے لئے سب سے بہتر انسانی عقل پیش کرنا پڑتا ہے تو جانوروں کی مقناطیسییت بن جاتی ہے، جب یہ الہی عقل کی غلطی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود موت کے عقل اور جسم میں بہتری کے بغیر ہمیں ترقی کا کوئی ثبوت نہیں ہوگا۔

طالب علم کی حقیقی ترقی شروع ہوتی ہے جب وہ مادی عقائد کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے کہ وہ بہتر عقائد برقرار رکھنے کے لئے چاہتا ہے لیکن انہیں بند کرنے کے لئے نہیں چاہتا۔ اس وقت وہ نئی حد تک مشین استعمال کرنے کے لئے شروع کررہا ہے، اور یہ دیکھنا کہ اس کا معزول انسان کا حق صحیح اور غلط ہے، تا کہ خدا کے معیار کا سبب بن سکے۔




76۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ یہ سیکھتے ہوئے کہ سچائی کا اصل دْشمن کون ہے دنیا کا گناہ سے متعلق نقطہ نظر آپ کو راہ مستقیم سے دور نہ کر دے۔ چور نے منصوبہ بندی کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ پریشانی کا اشارہ انہوں نے پولیس کو صحیح وقت کا اعلان کیا۔ اس نے اپنی منصوبہ بندی میں پہلی دفاتر کی طرف سے عدالت میں کامیابی حاصل کی۔ جب سب کو آگ پہنچا تو وہ بغیر کسی مداخلت کے بغیر بینک کو لوٹنے کے لئے آزاد ہوگیا۔

فانی عقل ایک الجھن کا آغاز کرتا ہے جسے یہ گناہ کہتے ہیں، اور اس کے بارے میں ایک بہت اچھا عضو ہوتا ہے۔ یہ انسانی معنویہ حقیقی خلا سے انسان کی توجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اس کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے عقل کو قابل بناتا ہے، جو خدا کے لئے انسان کی خواہش کو چوری کرنا ہے، اس میں خوشی اور اچھا کام کے ذریعہ، یا فانی عقل ہے، جو اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔ انسان کی خواہشات اور اب بھی اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں کامیاب، اس طرح دعوی کرنے کا دعوی کیا گیا ہے کہ خدا کے لئے ایک تسلی بخش متبادل فراہم کرنا۔

اس الجھن کے مریضوں کے تحت اس خواب میں سو رہے ہیں کہ اب وہ اچھے ہیں، اور اگر خدا صرف وہ مرغی عقیدے کے بہتر پہلوؤں کو تلاش کرتے ہیں اور تہذیب، اخلاقیات اور مذہب کے مطالبات کو پورا کرتے ہیں تو خدا سے خوش ہوں گے۔ اس طرح انسانوں نے روحانی نیک اور ان کے حصول کے حصول کے لئے ان کی خواہشات کو لوٹ لیا۔

جب آپ فانی عقل کی الجھن میں چلتے ہیں اور دوسروں کو ایسا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں، کیونکہ آپ اپنے آپ کو دنیا میں واضح برائی کے بارے میں پریشانی اور پریشان ہونے کی اجازت دیتے ہیں - مطلب یہ ہے کہ واضح طور پر واضح ہے کہ آپ چور کو حقیقی خزانہ سے دور کرنے کی اجازت دیتے ہیں؛ انسان کے بھوک روحانی اچھے کے لئے ہے، کیونکہ دنیا میں برائی پر آپ کی تشویش یہ ہے کہ آپ کو انسانی نیک عمل میں مضبوط یقین ہے۔ اس طرح آپ جانوروں کے مقناطیس کے سب سے بڑے دعوی کے ساتھ فانی عقل میں متحد ہوتے ہیں۔

اس نقطہ نظر میں چور بھیڑوں کے لباس میں بھیڑیا کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی اپنی بہادر سے توجہ مرکوز کرتا ہے، وہ بھیڑیا بنتی ہے۔ باہر نہیں گناہ یا برے، لیکن غلط سوچ یا غلط عقیدے بھیڑیا ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار اعلان کیا، ’’صرف اچھی اخلاقی زندگیاں گزارنا ہی کافی نہیں ہے۔ زندگی کو روحانی طور پر ہونا چاہئے۔‘‘ گناہ نامی الجھن کو باہر ڈالنے کی کوشش کرنا کافی نہیں ہے۔ کسی کو سوچنے کی روحانی کرنا ضروری ہے۔




77۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ حیوانی مقناطیسیت کو بیرونی خطرہ یا قوت تصور کریں بجائے کہ اس نازک تجویز کے طور پر سمجھیں جو آپ کے اپنے شعور کے اندرونی تختی پر نادیدنی انگلیوں کے ساتھ اس کے پیغام کو تحریر کرتی ہے، جیسا کہ دانی ایل 5 میں دیوار پر ظاہر ہونے والی لکھائی سے واضح کیاگیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ اصل جھوٹے عقائد ہم سے باہر سے آتا ہے، لیکن یہ ہمارے خیال میں اپنے خیالات کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ جب ہم اسے قبول کرتے ہیں، تو یہ ہماری زندگیوں میں بیان کی جاتی ہے۔ تو سب سے پہلے سب سے پہلے باہر سے باہر آتا ہے؛ پھر اگر یہ قبول ہوجائے تو یہ باہر سے باہر نکل جاتا ہے۔

اگست، 1912 کے لئے کرسچن سائنس جرنل میں، مسز ایڈی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ مسٹر ٹام لِنسن نے کہا،’’ زندگی کے لئے آپ کی خرابی آتی ہے اور آپ اس کی زندگی پوری طرح دیتے ہیں۔‘‘ بشرطیکہ انسان کو دھوکہ دیا جاتا ہے کیونکہ ہائپنوٹک عمل جس کے نتیجے میں غلط عقیدہ ان کے شعور میں داخل ہوتا ہے اور ان کی اپنی آلودگی کے طور پر ہوتا ہے، اس کے علم سے پوشیدہ ہے۔ اگر آپ ریگستان جزیرے پر پھینکے گئے تھے اور آپ کی زندگی کے لئے برتن کی وجہ سے دہشت گردی میں تھے، تو آپ کو فوری طور پر اپنی تنویم اور ذہنی مشورے کے طور پر اپنے خوف کو پہچاننا پڑا، جس لمحے آپ نے دریافت کیا کہ مقامی لوگ دوستانہ تھے؛ ابھی تک خوفناک تجاویز آپ کے خیال کو اندھیرے میں ڈال دیں گے، جب تک کہ ان کی غلطی اور غصے کی نوعیت ختم نہیں ہوئی تھی۔

اگر آپ رات کو ایک سیاہ سڑک پر اکیلے تھے، اور آپ نے کسی کو آپ کا پیچھا کیا اور قریبی اور قریبی ڈرائنگ سنا، آپ کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا، جب تک کہ آپ نے یہ پتہ نہیں کیا کہ یہ آپ کا باپ تھا آپ کو محفوظ طریقے سے گھرانے کا۔ دہشت گردی کی اس طرح کی غیر ضروری تجاویز نے طریقہ کار اور حیوانی مقناطیسیت مقاصد کی غلط اثرات بیان کی ہیں، جس میں، جس کائنات میں جہاں اکیلے خدا واحد اور تمام طاقت ہے، برائی کا نام کسی دوسرے طاقت کی موجودگی اور وجود سے متعلق ہے۔ یہ تجاویز ہمیں زندگی کے لئے آتے ہیں، اور ہم انہیں ان تمام زندگیوں کو دے دیتے ہیں جو انہیں یقین رکھتے ہیں اور اپنے خیالات کو پورا کرتے ہیں۔




78۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین کرنے لگیں کہ حیوانی مقناطیسیت کا مکمل علاج ان ذہنی تجاویز کا مقابلہ کرنا اور انہیں تلف کرنا ہے، جو خیالات کی اندرونی دیواروں پر مرقوم دکھائی دیتی ہیں۔ بائبل میں آدمی جس نے شیطان کو نکالنے کے بعد اپنے گھر کو بھرایا اور گھانا دیا، سات دوستوں کے ساتھ شیطان سے واپسی کا دورہ کیا تھا! کیوں؟ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ ان کی عقل میں ایک کمرے تھا جسے شیطان نے قبضہ کرلیا تھا۔

انسان کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ، کیونکہ وہ خدا کا کامل بچہ ہے، اس کے پاس کوئی برائی نہیں ہے، اور کبھی بھی اس کے پاس نہیں ہے۔ اسے ضرور پتہ چلتا ہے کہ وہ غلط تجاویز کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ کہ اس کی کوئی صلاحیت نہیں ہے، اور کبھی نہیں ہو سکتا؛ برائی کا کوئی ذہنی برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے خیال میں خدا کے ہمیشہ کے بارے میں سوچنے والے خیالات کو قبول کر سکتا ہے۔ اس طرح وہ انگلیوں کو چلاتے ہیں اور پھر اپنے گھوںسلا جلاتے ہیں۔ پھر وہ واپس آنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔




79۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اِن چار تجاویز میں سے کسی ایک کو قبول نہ کرلیں جنہوں نے پانچ بے وقوف کنواریوں کو قابو کیا: (1) انسان کا روحانی چراغ ایک بار جلا دیا گیا، لیکن اب یہ ختم ہو چکا ہے۔ (2) یہ اس کے لئے ممکن ہے کہ یہ باہر نکل جائے۔ (3) کہ انسان کی روحانی تیل کی فراہمی جو لامتناہی عقل سے آتی ہے محدود ہو سکتی ہے۔ (4) کہ یہ ممکن ہے کہ اْس چراغ کے وسیلہ جو کسی دوسرے کی مدد سے جلایا گیا ہو مسیح کے شعور میں مستقل طورپر داخل ہونا انسان کی خودی کے طور پر ممکن ہے۔

حقیقت میں پانچ بیوقوف کنواریوں نے انہیں خدا کی طرف سے دیئے گئے لامحدود روحانی تیل کا سامنا کیا تھا؛ اس وجہ سے یہ ہونا چاہئے کہ اس پر قابو پانے کے لئے ان کو دھوکہ دیا جائے۔ ان کی مشکلات کا حل ضرور یقینی طور سے تیل سے قرضہ نہیں تھا، کیونکہ خدا کی مانند یہ ہے کہ ہر ایک اپنے آپ کو حاصل کرنے کے لئے حاصل کرے جہاں سے تیل آتا ہے۔ غلطی کسی کو اپنی روحانی تفہیم سے کبھی نہیں مار سکتا ہے۔ یہ صرف اس بات کا مشورہ دیتا ہے کہ اس نے اسے کھو دیا ہے، یا اس نے دیا ہے۔ بشرطیکہ انسان اس کی موت سے محروم ہو جائے گا، اس سے اسے خود کی حفاظت کے لئے سیکھنا ہوگا اور اس طرح کے جھوٹے عقیدے کے خلاف محافظ رکھو۔




80۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اچھے یا برے مادے یا فانی عقل پر دنیا کے یقین کو قبول کرنا جاری رکھیں، بجائے کہ یہ سمجھیں کہ جہاں کہیں اور جب کبھی بھی مادا یا فانی عقل زیادہ ہم آہنگ یا جدید طالب علم کے لئے پرکشش دکھائی دے تو یہ یا تو تنویم ہے جو کسی کی ترقی کو روکنے کے لئے اپنے دعوے سامنے لتی ہے، یا وہ ایمان ہے جو اتنی باریکی سے پگھل رہا ہے کہ اس میں سے سچائی زیادہ روشن ہورہی۔

بوتل سوڈا ایک ہی اجزاء سے بنا ہے۔ ابھی تک ہم کچھ ذائقہ پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو ناپسند کرتے ہیں۔ موت بنیادی طور پر ایک ہی ہیں، اور ذائقہ میں صرف مختلف ہیں۔ کرسچن سائنس کے طالب علم کے لئے متضاد کس طرح اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے کہ وہ کسی طرح سے ذائقہ یا ذہنی طور پر ذائقہ پسند کرتے ہیں، جب اس نے اپنے آپ کو اور خدا کے سامنے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام انسانی عقل یا معاملات کے وجود کو مسترد کرنے اور خاتمے کے خاتمے کے لئے کام کریں؛ اس کی موجودگی کے بارے میں یقین ہے کہ سچ اور اس کی خواہشات ظاہر ہوسکتی ہیں!




81۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جائیں کہ ایک معالج کا مقصد کسی انسان کو بدن کے ساتھ ہم آہنگ یا پرسکون کرنے کی کوشش کرنا نہیں ہے، بلکہ اْس روحانی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے جو بدن پر فتح پاتا ہے۔




82۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ معدنی دھات کا ٹنوں میں ذخیرہ کرتے ہوئے آپ اس کی ملکیت پر مطمین ہو جائیں۔ معدنی دھات آکسی ہے جس سے آگ میں عملدرآمد کی طرف سے ریڈیم نکالا جاتا ہے اور ڈاسک ختم ہوجاتا ہے۔

کرسچن سائنس کی تنظیم ایک عظیم معدنی دھات رینڈر پلانٹ کی طرح ہے۔ یہ معدنی دھات بہت قیمتی ہے کیونکہ اس میں قیمتی روحانی خیال ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال سرگرمی میں لانے کا سائنسی طریقہ ہے۔ ہمارے گرینڈ تنظیم کی افادیت کا ثبوت آسمان سے حقیقی آگ سے بلا رہا ہے، تاکہ تنظیم کا تصور صاف ہوسکتا ہے۔ اس طرح علامات آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کو کھو دیں گے، کیونکہ ایک خدا کے ساتھ انفرادی شعور کے نقطہ نظر تک پہنچنے کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک خدا کی طرف سے تعلیم دی جاتی ہے، الہی عقل، اور اسی طرح دیویتا میں کورس، جس کا ہمارے لیڈر چرچ میں وعدہ کیا ہے ان لوگوں کو سکھانے کے لئے دستی جو اپنے گھر آئے۔

جیسا کہ اس اعلی تصور کو حاصل ہوتا ہے، انسانی علامات خوبصورت طور پر کم ہوتے ہیں، جب تک ریڈیم اکیلے کھڑا ہوتا ہے، جو حقیقی اور قابل قدر ہے۔ پھر اس بیان کو پورا کیا جائے گا کہ فلپس بروکس نے کیٹ بٹ کے لئے لکھا تھا، ’’ چھوٹی لڑکی، کچھ دن ہم حقائق کے لئے علامات چھوڑ دیں گے۔‘‘

ایلیاہ کی روحانی حقیقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آسمان سے نیچے آنے والے آگ تمام علامات کو استعمال کرتے تھے جس نے استعمال کیا تھا۔ ہماری تنظیم میں شامل ہونے والے علامات قیمتی ہیں، لیکن طالب علم کو اس ترقی کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ اس کی حقیقت اور اہمیت پر یقین رکھے جتنا جلدی ممکن ہو، اس لئے کہ وہ شعور میں اس کی حقیقت کو قائم کرسکیں، جس کی علامت صرف ایک نمائندگی ہے۔ صرف اس طرح سے ریڈیم، یا روحانی خیال، آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

کسی کو کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ظاہر ہے کہ وہ تنظیم میں بہت کم روحانیت، یا ریڈیم دیکھتا ہے؛ بلکہ وہ کیا ظاہر ہوتا ہے کے لئے شکر گزار ہونا چاہئے، اور احتیاط سے اور نماز پڑھنے کے لئے اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ وہ خود ریڈیم ہے، اور اسی طرح کرنے کے لئے جتنا ممکن ہو سکے کی مدد کر رہا ہے۔

کرسچن سائنس گرجا گھروں میں جماعتوں نے جمعہ کے تمام بچوں کے ساتھ ساتھ اس کے خیمے میں ایک علامت ہے۔ جب، آپ کی ذہنی ترقی میں، آپ اپنے شعور میں ہر انسان کو جمع کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں اور انہیں خدا کے کامل بچوں کے طور پر دیکھتے ہیں، آپ کو یقین ہے کہ آپ حقیقی چرچ حاصل کر رہے ہیں۔ اس ترقی کے طور پر، آپ تنظیم کے انسانی نشان سے دور کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ قابل ہوسکتے ہیں، اس طرح جیسے بچے بڑے پیمانے پر بڑھتے ہوئے بچے کے قلم سے دور ہوجاتے ہیں۔

یہ دیکھنے والے نقطۂ نظر میں طالب علم یا اس کی سرگرمیوں سے کوئی واپسی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ یہ صرف ترقی کے لئے مطالبہ کرتا ہے، ایک رویے اور تصور کے وسیع پیمانے پر، کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے لئے شفقت اور مددگار ثابت ہوتا ہے جو اب بھی پیچ کی حیثیت میں ہیں۔ یہ ایک تبدیل شدہ ذہنی رویہ اور ترقی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن جسمانی یا باہر کی کوئی تبدیلی نہیں۔




83۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس حقیقت کی حوصلہ افزائی کرنے میں ناکام ہو جائیں کہ بیماری، انسانی عقل کے عقیدے سے بڑھ کر کچھ نہ ہوتے ہوئے، کسی بھی مرحلے کے وسیلہ تلف کی جا سکتی ہے جو مریض کی سوچ کو خوف سے بے خوفی میں تبدیل کرتا ہے۔ واضح جسمانی شفا یابی ہوسکتی ہے جو کرسچن سائنس کی شفایابی نہیں ہے، لیکن صرف ایک عقیدے کی تبدیلی ہے۔

کرسچن سائنس کے جذباتی مقصد بیمار کو شفا دینے کے لئے نہیں، لیکن مریض کی سوچ کو روحانی طور پر، جس کے نتیجے میں باہر ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ کرسچن سائنس میں تمام کوششوں کو یہ انتہائی اہم اور حقیقی ثابت ہونا چاہئے۔ مسز ایڈی نے ایک بار اعلان کیا، ’’ سائنس اور عقیدت کی شفا کے درمیان فرق: ایک کو شفا دیتا ہے خدا کو جانتا ہے؛ دوسرا دوسرا جسمانی طور پر شفا دیتا ہے۔ ایمان کی شفا یابی واقعی شفا نہیں ہے، یا اس کے علاوہ مریض خدا کے ساتھ ہو گا۔ تو مت سوچنا کیوں کہ آپ کو شفا نہیں ہے، آپ ایک کرسچن سائنسدان ہیں؛ جیسا کہ طبعے حساس کا تعلق رکھتا ہے، اور اس طرح غلطی ہوتی ہے۔ ایک کرسچن سائنسدان اخلاقی اور جسمانی طور پر بھی شفا بخشتا ہے۔‘‘

اگر، آپ جسمانی طور پر ایک مریض کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو، آپ کے اپنے خیال روح کی طرف متوازن نہیں ہیں، اور آپ دلائل کو غیر معمولی سوچ کے ساتھ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ کو آپ کے مریض میں جسمانی نتیجہ مل سکتا ہے، آپ نے سائنس کے مطابق مادے کو شفا دی ہے۔ لیکن صحیح شفا یابی، یا مریض کے خیال کی روحانی طور پر صرف اس صورت میں یہ نتیجہ پایا جا سکتا ہے جب آپ اپنے خیال کو روحانی طور سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔

کسی کو کبھی بھی اپنے آپ کو یا کسی کو شفا دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، جب تک کہ اس نے اپنے خیال کو اٹھایا نہیں کیا، یا عقیدت سے اس دلیل کا اطلاق کیا جسے انہوں نے سیکھا ہے، صحیح معتبر نقطہ نظر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بائبل کا اصول ہے، ’’اْن کے پھلوں سے تم اْن کو پہچان لو گے۔‘‘ لیکن پھل کی ظاہری شکل اس کی خوبی ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار اعلان کیا، ’’ بیمار ہونے کے لئے، ہمیشہ یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم گنہگار ہیں، بہتر ثابت ہونے سے کہیں زیادہ ہم گنہگار نہیں ہیں۔ ہمیں اس سوچ پر بہت زیادہ اعتماد نہیں ہونا چاہئے، ’ ْن کے پھلوں سے تم اْن کو پہچان لو گے۔‘‘‘

حقیقی مادہ جس کے ذریعہ ایک کیس کے صحیح معالج معلوم ہوتا ہے وہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ پریکٹیشنر اور مریض دونوں میں سوچ کے روحانیت کا نتیجہ ہے۔




84۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جائیں کہ یہاں صرف ایک واحد عقل ہے، اور وہ جسے ہم انسانی عقل کہتے ہیں وہ محض انسانی بنائی ہوئی، محدود یا الٰہی عقل کا مخالف فہم ہے۔ جب ایک شخص اپنے خیالات کو دوسرے سے جذب کرتا ہے، تو وہ عقل کے سائنس کی زنا کی ایک مثال ہے، جس میں واقعی خدا کی طرف سے براہ راست خیالات ہیں۔ متضاد سوچ عقل کے زنا یا انسانیت کا احساس ہے۔ سائنس کا مطلب خدا کی خالص عقل کی عکاس اور ظاہر کرنے کے لئے ہے، ناجائز، حکمت، طاقت، رہنمائی اور شفا کے ساتھ لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے خدا کے خیالات کو ظاہر کرنے کے لئے، اور انسان سے نہیں، اور ہر صبح ہر روز ہر روز تازہ ہونے کی عکاس کرنا ضروری ہے۔ استعمال شدہ، یا دوسرا ہاتھ ذہن کو فروغ دینے کے لئے اس پر عمل کیا جا رہا ہے، جس نے اس کے بہت سے دیوتاؤں کو کھو دیا ہے، کہ یہ ہر احترام میں تقریبا مرنے والا ہے۔

جب میں تازہ پانی چاہتا ہوں، تو مجھے پانی نہیں ہے کہ میرے پڑوسی نے پہلے ہی استعمال کیا ہے۔ کاغذ کے پیسے استعمال کے ساتھ گندگی ہو جاتی ہے۔ کسی کو صرف بینک میں نیا پیسہ مل سکتا ہے؛ لیکن اگر کوئی وہاں جانے کے لئے بہت سست ہے، تو وہ اپنے آپ کو پیسے کے ساتھ مل جائے گا جو صاف نہیں ہے۔ آزادی کی دعوی کی وجہ سے انسان ناجائز اور پرانی سوچ کو قبول کرتا ہے۔ ایک کا خیال ہے کہ اس کے خیالات کے لئے الہی عقل میں براہ راست درخواست دینے کا یہ مشکل کام ہے۔ اس کے باوجود کبھی بھی کسی کو الٰہی عقل نہیں ملتی جب تک کہ وہ اسے اپنے الہی ذریعہ سے براہ راست ظاہر نہ کرے۔ یہاں تک کہ سب سے زیادہ روحانی خیالات جو آپ معالج یا استاد سے حاصل کرتے ہیں کبھی بھی آپ کو خالص الہی عقل نہیں ہوسکتے، اگرچہ وہ آپ کو شفا دے سکیں اور اپنی سوچ کو بہتر بنا سکیں؛ اور یہ دیکھنے والے نقطہ نظر حجاجینوں کو بڑھانے کے درمیان روحانی سوچ کے میٹھی انٹرچینج کو باندھا یا منع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حقیقت کے طور پر، یہ لازمی ہے کہ ہم مسز ایڈی کے اپنے صحیح خیالات کے لئے لکھیں، جب تک ہم براہ راست ہم خدا کی طرف سے ان کی عکاسی کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے پریکٹیشنر یا استاد سے مدد قبول کر سکتے ہیں جب ہمیں ضرورت ہے، اس کے علاوہ ہم اس مدد میں مواد کو باقی نہیں رکھیں گے۔

حیوانی مقناطیسیت اس تصور کو اس وقت بیان کیا جاسکتا ہے جیسا کہ پرانے سوچ سے مطمئن ہے۔ جس نے خدا کی طرف سے روحانی خیال کی عکاسی کی ہے اسے کسی دوسرے پر منتقل نہیں کر سکتا اور اسے بعد میں ایک تازہ روحانی وحی ہے۔ ہر انسان کی نجات خدا کی طرف جانے اور ان کے خیالات اور حکمت کو براہ راست اس پرائمری ذریعہ سے ظاہر کرنے کی کامیابی پر منحصر ہے۔ حقیقی الہی سائنس بننے کے لئے، روح القدس باپ کو بیٹا سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے، کیونکہ حقیقت میں بیٹا والد کا اظہار ہے۔

خدا کی طرف سے آپ کو جو حکمت حاصل ہوتی ہے وہ خدا کی تلاش کرنے کے لئے کسی دوسرے کی مدد کرسکتا ہے، لیکن حیوانی مقناطیسیت انسان اور انسان کے درمیان مواصلات کا یقین ہے جس کے ساتھ خدا نے چھوڑ دیا ہے۔ جب آپ دینی عقل کو براہ راست عکاسی کرتے ہیں، تو اس کے ساتھ یہ ایک روحانی اختیار ہے جو اس وقت آپ کو کسی دوسرے کے عکاسی کو منتقلی کا سامنا ہے۔ اس کے روحانی اختیار کے بغیر عقل میں عقیدت انسان بن جاتا ہے، کیونکہ اس کا خیال یہ ہے کہ یہ اس کے الہی اصل سے دور ہے۔ یہ ایک آکٹپس کے خیمے کی مردہ حالت کے طور پر اس کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے، اس وقت اس کے جسم سے بھرا ہوا ہے۔

یسعیاہ 66 باب 6 آیت میں ہم تین اقدامات تلاش کرتے ہیں، جن میں سے سب سے پہلے شہر سے شور کی آواز ہے۔ یہ بشری عقل ہے، کیونکہ یہ سب شور ہے۔ پھر ہمارے پاس مندر سے آواز ہے۔ اس میں کرسچن سائنس تنظیم میں سب کچھ اچھا ہونا لازمی ہے، جس میں مسز ایڈی خدا کی طرف سے عکاس کرتے ہیں اور ہمارے لئے رہیں گے۔ لیکن یہ پرانی سچائی ہے۔ لہذا ہمیں تیسرے مرحلے میں جلدی کرنا چاہیے، جو رب کی آواز ہے، یا بغیر کسی مداخلت کے بغیر خدا کی عکاسی کرتا ہے۔




85۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یہ یقین کر لیں کہ آپ آسمان کی بادشاہی صرف اچھائی کے علم سے حاصل کر سکتے ہیں، جھوٹ کے عمل کی سمجھ کے بغیر؛ یا یہ جانے بغیر کہ بدی کو عدم کہتے ہوئے اس کے کام سے متعلق واضح خیال رکھے بِنا اور نتیجتاً اس کے پوشیدہ طریقہ کار کو ایاں کرتے ہوئےزائل کیا جا سکتا ہے ۔

یہوواہ کے تجربے کو آسمانوں کی بادشاہی حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شخص کو قابو پانے کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ وہ اچھی طرح سے علم کے ساتھ، حیوانی مقناطیسییت کے چھپی ہوئی طریقوں میں کوئی بصیرت نہ کریں۔ سائنس اور صحت ہمیں بتاتا ہے کہ غلطی اور اس کے عملوں کا علم ہونا ضروری ہے کہ سچ کی سمجھ کو غلطی سے خارج کردیں۔




86۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کرسچن سائنس کی برکات کو محض مادی برکات کی صورت ہی سمجھیں، اور سالہا سال اپنے ذہن میں ان کے فہم کو اپنے مطابق لاگو کریں۔ مصر میں اسرائیل کے بچوں انسانی حقوق کے مطابق سال کے بعد روحانی خیال کو بہتر بنانے کی ایک مثال ہیں۔ مصریوں نے انہیں غلام بنا دیا اور انہیں ان کے لئے کام کیا، انہیں جانے دو سے انکار کر دیا۔ اس طرح سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بشرطیکہ انسان روحانی نظریہ، یا حق کا علم قبضہ کرتا ہے، اور اس کے لئے غلام کے طور پر کام کرتا ہے، انسان کو صحت، امن اور خوشحالی کے لئے لے جاتا ہے۔

جبکہ یہ کرسچن سائنس کے ابتدائی تصور ہے، اس کال کو جلد ہی اس غلامی سے مادی معنوں میں روحانی خیال کو جاری رکھنے کے لئے آتا ہے، تاکہ یہ مصر کے مادییت سے وعدہ شدہ زمین میں اپنے روحانی رہنمائی بن سکے۔

یہ ممکن ہے کہ جب صحیح وقت پر اس مرحلے کو لے جانے سے انکار ہوجائے تو، وہ درد اور عذاب کا تجربہ کرے گا، جب تک کہ وہ کرسچن سائنس کی تنگی سے اس جہنم کو خوشی اور ہم آہنگی رکھنے کا ایک بہتر ذریعہ بنائے۔ صلیب پر مالک کا آخری تجربہ روحانی خیال کے اس اعلی مفہوم کی وضاحت کرتا ہے، کیونکہ اس نے انسان کو انسانی اور جسمانی طور پر خود کو بچانے کے لئے استعمال کرنے سے انکار کر دیا، اور اس نے اپنا خیال خدا کی طرف بڑھایا اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے مکمل طور پر ملا۔ اس طرح انہوں نے اپنے مصلحت اور آخری مادی آزادی سے حاصل کی۔




87۔ دیکھنا کہ آپ اپنے ذہن میں یسوع کے اس اصول کو رکھیں ، ’’یہ قسم دعا کے سوا اور کسی طرح نہیں نکل سکتے۔‘‘ ایک جانور جسے آپ پریشانیوں کا سامنا کرنے کا سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ ہے اس کی خوراک کی فراہمی کو کم کرنا ہے۔ اس میں انسان کی عقیدت کی وجہ سے خرابی برقرار رکھی جاتی ہے، اور حقیقت حقیقت کے طور پر شعور میں لے جایا جا سکتا ہے؛ روزہ اور دعا، انکار کرنا اور اس کے معنی، بھوک لگی ہوئی غلطی اور حق تلفظ کرنا لازمی ہے۔ تم اس میں کچھ بھی نہیں کرتے ہوئے غلطی سے بھوک لگی ہو، اس کو تسلیم کرنے، اس کے بارے میں سوچنے، یا اس پر یقین کرنے سے؛ آپ حقیقت کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس پر زور دیتے ہوئے اچھے شعور کو فروغ دیتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اس طرح ہمارے پاس بہترین قاعدہ ہے: بھوک لگی ہوئی غلطی کو اس کی نیکی کو دیکھ کر، جب تک وہ گر جائے اور حمایت کی کمی سے خود کو تباہ کر دیا جائے۔ اچھے شعور کی تعمیر کرو جب تک کہ یہ آپ کے ساتھ اتنی حقیقی ہو جائے کہ آپ اس کی موجودگی کو مسلسل محسوس کر سکیں، اس پر اعتماد کریں کہ آپ اپنے باہر سے باہر اقتدار کی حیثیت سے جس پر آپ کی عکاس ہوتی ہے، اور جان لیں کہ یہ دنیا میں آپ کے عکاسی کی طرف سے کام کر رہا ہے۔




88۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ شفا کا کام کرتے ہوئے آپ اس جھوٹے خیال کو قبول کرنے لگیں کہ قوت آپ کے اندر بستی ہے، بجائے کہ اْس سچائی میں جو آپ کے وسیلہ منعکس ہوکر کام کرتی ہے۔ خدا صرف ایک طاقت ہے۔ لہذا ہر صحیح نتیجہ اس لامحدود وجہ سے آتا ہے۔ اس طرح یہ انسان کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے کہ خدا کی طاقت ہے جو کام کرتا ہے یا کام کرتی ہے۔




89۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، اپنے اظہار کی کوشش میں آپ صندوق کو تھام لیں(1 تواریخ 13 باب 9 آیت)۔ صندوق نے روحانی قانون اور علامات میں اس کی درخواست کی۔ علامات میں کوئی معنوی روحانی اہمیت نہیں ہے، لیکن پریشانی سوچ میں عارضی مدد پیش کرتے ہیں، زیادہ سے زیادہ ریاضی میں ابتدائی طور پر سیاہ بورڈ کی مدد سے اعداد وشمار کرنے کے لئے، جس کے بعد وہ ذہنی طور پر کرنے کے قابل ہوں گے۔

روحانی اہمیت کے طور پر علامات کا اندازہ کرنے کے لئے، رومن کیتھولک چرچ کے طور پر کیا جاتا ہے، اس وجہ سے غلطی کا اثر ہے، اور روحانی طاقت کے مردہ معنی میں نتیجہ ہے۔ جب عزہ نے اپنے ہاتھ کو صندوق کو مستحکم کرنے کا حکم دیا تو، اس نے اس کے اوپر کھڑے ہونے والے نشانوں کی قدر کرنے میں اپنی غلطی کو دھوکہ دیا، اس طرح سائے یا اثر سے کام کرنا۔ اس کے نتیجے میں مظاہرے کا ایک مردہ احساس تھا۔

رومن کیتھولک کی وجہ سے اس کی علامات کو اثر ڈالنے کی غلطی میں گر گیا ہے، جو اس کے علامات کو معنوی روحانی مادہ اور اہمیت سے منسوب کرتی ہے، جو حقیقی روحانی حقیقت کی موت کی نگہداشت ہے، اور اس کی بت پرستی کی بنیاد بنتی ہے۔

بحال کرنے کے لئے یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کے بجائے مادہ کے بدلے، سائے کی بجائے اثر کے نقطہ نظر سے کام کرنا ہو؛ یہ یہ ہے کہ دنیا کو صحیح سوچ کے لئے صحیح عمل کا مطالبہ کیا جارہا ہے، اس بات کو یقین ہے کہ آپ جو کچھ کرتے ہیں اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے خیالات اور تقریر کرنے کی بجائے آپ کے بہتر سوچ کا اظہار۔

یہ صندوق کو تھامنے کے قابل ہوسکتا ہے کہ بدھ کو رات کو روکنے کے لئے گواہی دینے کے لئے زور دیا جائے۔ کسی کو یہ بتانا چاہئے کہ الہی عقل موجود ہے، اجلاس میں ہر ایک کو حکمرانی کرتا ہے، اور اکیلے خود کو آواز دیتا ہے؛ لہذا انسانی عقل میں عقیدت خاموش ہے – حکمران۔ ایک ایسا مظاہرہ کرنا چاہئے، یہ جاننا ہے کہ یہ سچ کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اس کی ضرورت کے مطابق یہ ممکنہ طور پر آگاہی کی گواہی میں اظہار کر سکتا ہے، لیکن اس بات کی گواہی کو کسی میٹنگ کی حمایت نہیں سمجھنا چاہئے، لیکن اس کے باہر کا ثبوت۔

جب آپ جانتے ہیں کہ خدا کی حکومت پہلے سے ہی قائم ہوئی ہے اور آپ کو صرف اس کی محدود حدود کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ مظاہرین اور سائنس ہے۔ جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو خدا کی حکومت قائم کرنے میں مدد کے لئے باہر سے کچھ کرنا کرنا چاہئے، جو اس کو صندوق میں رکھنا ہے۔ اگر عزہ کے اندازے کا سبب بن گیا تو کیا اس نے اس کا مظاہرہ صرف اس مظاہرے کو ثابت کرنے کے لئے رکھ دیا تھا، پھر اس کا کام خوف اور شک کے بجائے الہی حکمت کا اظہار ہوتا تھا۔ اس کے بعد استعفی کا احساس اس کے اعمال سے نہیں مر ا ۔ اس کا خیال غلط تھا، اور اس کے کام نے اپنی غلطی کا اظہار کیا۔




90۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے مریض کے بدن کا علاج یوں کریں کہ جیسے یہ اپنے خیالات سے ہٹ کر بیمار تھا، یا اْس کی عقل کا علاج کریں تاکہ اْس کا بدن ٹھیک ہو جائے۔ ذہن یہ ہے کہ جو بھی بیمار ہے، اور جسم سائے کو سایہ کرتا ہے جو ایمان لائے اور حقیقی طور پر قبول کرے۔ اس کے علاوہ، جو شخص اپنے آپ کو بیمار کرتا ہے وہ جھوٹا شخص ہے، جسے ہم روکنے کے خواہاں ہیں، تاکہ ہم اپنے باپ کو خدا کو بحال کر سکیں۔ لہذا، ہم اس کو ہم آہنگی کو بحال کرنے کے لئے ایک غلطی کا علاج نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ اس کے بعد یہ زیادہ مضبوطی سے اعتماد میں گزر جائے گا۔

جب وہ خیالات اور بیماریوں کی تصاویر کو قبول کرتا ہے اور خوفزدہ کرتا ہے تو انسان کو بیمار ہوتا ہے۔ بحالی کی ہم آہنگی صرف سوچ کے اندرونی اصلاح کو ثابت کرتی ہے، جیسے سفید سفید لباس سفید ہوتا ہے، جب اس پر گرنے والا سائے ہٹا دیا جاتا ہے۔ آپ کو یقین تھا کہ جب لباس نہیں پہنچا تو لباس پہنچے گا۔ انسان کا جسم کبھی بیمار نہیں ہوتا، اور سوچتا ہے کہ سب کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس طرح تمام فطری علاج کے بارے میں سوچ کے لئے دیا جاتا ہے، تاکہ اس کے خوف کا وزن تقسیم ہوجائے اور اسے بہتر بنایا جائے۔ یہ اس حقیقت کے ذریعہ کیا جاتا ہے کہ انسان میں الٰہی عقل ہمیشہ ہی بڑی ہے۔ روحانی تخلیق اور سوچ کی روحانی طور پر صرف ایک ہی مقصد ہے جس پر عملدرآمد کو اپنے آپ کو یا کسی اور کی مدد کرنے میں سوچنا چاہئے۔ ایک بار مسز ایڈی نے کہا، ’’ تمام ذہنی سائنس کرسچن سائنس ہے، جو اس کی طاقت کو اچھی طرح سے انجام دینے کی طاقت پر قبضہ کرتی ہے۔‘‘ سی۔ایس۔ جرنل، 4 اپریل، 1883۔




91۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ ماننے لگیں کہ بیماری اور درد آپ کے بدن پر حملہ ہیں، یا یہ کہ غلطی آپ کے بدن پر بیماری سے حملہ کرتے ہوئے آپ کے خیالات تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح کے نتیجے میں مادہ کی انسانی حقیقت اور اس کے سایہ کو رد کردے گا، اگر انسان میں کچھ بھی ایک حقیقت ثابت ہوسکتا ہے۔ کیا ایک سایہ اس کے مفہول سے بات کرسکتا ہے؟ کیا مٹی کمہار کو جواب دے سکتی ہے؟ کیا تختہ سیاہ اس سے بات کر سکتا ہے جو اس پر حساب کر رہا ہو؟ نہیں، لیکن حساب غلط ہو سکتا ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا، ’’ ایک حقیقی سائنس کا علاج کسی خرابی کا جسم یا شخص کے علاج سے متعلق نہیں ہے، لیکن اس غلطی کو تباہ کرنے میں شامل ہوتا ہے جو مکمل طور پر ذہنی ہے۔ دو دفعہ دو برابر پانچ وضاحت کرتا ہے کہ یہ کس طرح غیر مستحکم ہے کہ تختہ سیاہ کو دیکھنے کے لئے ہے اور یہ کہتا ہے کہ دو بار پانچ ہیں؛ پھر احساس کرنے کے لئے دو بار چار ہیں؛ پھر تختہ سیاہ کو دیکھنے کے لئے یہ دیکھنے کے لئے کہ آیا اس نے بورڈ پر تبدیل کر دیا ہے تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ اظہار مکمل ہوجاتا ہے۔

’’بدن کو دیکھنے کے لئے کبھی بھی نظر نہ آئے تو کیا غلطی غائب ہوگئی ہے۔ اگر ہم کرتے ہیں، اور غلطی کے طور پر جسمانی یا کسی شخص سے تعلق رکھتے ہیں، یا دیکھتے ہیں کہ اس شخص کو مادی جسم ہے، تو ہم سائنسی طور پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔ اب، آپ جانتے ہیں کہ ایک اور دو ہیں، دو اور دو چار ہیں، تین بار تین ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ نمبروں کی سچائی، اور یہ سب طاقتور ہے، اس سے کوئی فرق نہیں کہ آپ کتنے غلطی جانتے ہیں۔ جیسا کہ یہ تعداد کے ساتھ ہے، لہذا یہ سائنس کے ساتھ ہے۔ تھوڑا سا تم جانتے ہو وہ حقیقی ہے اور خدا کی عکاسی کرتی ہے، اس سے کوئی فرق نہیں ہے کہ آپ کتنا غلطی جانتے ہیں کہ آپ نے ابھی تک کام نہیں کیا ہے؛ کیونکہ آپ زیادہ سے زیادہ حقیقت کے بارے میں جانتے ہیں، تمام غلطی سوچ سے غائب ہو جاتی ہے۔ کوئی غلطی ہمیں اس میں ہمارے عقائد سے باہر باندھ سکتا ہے۔‘‘

جسمانی طور پر جسم کو براہ راست تک پہنچنے میں خرابی نہیں۔ بیماری جسم پر خوف کا سایہ ہے، کیونکہ ثبوت یہ ہے کہ غلطی ہمیں خدا کے لوٹانے کا دعوی ہے۔ سردی جو آپ کے گھر میں داخل ہو، تھرمامیٹر پر حملہ نہیں ہے۔ بعد میں مفید ہے کیونکہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ آگ کم ہو رہی ہے۔

جب آپ کو ایک پرسکیٹ آپ کے پرس چرایا جاتا ہے، تو وہ آپ کو محافظ کو پھینکنے کے لئے ایک چال میں ریزورٹ کرتا ہے۔ وہ بھیڑ میں آپ کو بھیڑوں میں کھاتا ہے، یا آپ کے پیر پر قدم، جیسے کہ یہ حادثہ تھا۔ جب جسمانی درد آپ کو جلدی سے بننے کا سبب بنتا ہے، تو آپ محافظ ہیں، اور آپ کے پرس یا گھڑی کی چوری ایک سادہ معاملہ بن جاتی ہے۔

غلطی ایک ایسی چیز ہے جس کا واحد مقصد ہماری روحانی گھڑی، یا خدا کی ہماری شعور کو لوٹنا ہے۔ جسم کی تفسیر اور تکلیف ہمارے چیلنج کو وجہ سے اثر انداز کرنے کے لئے چیلنج ہے، تاکہ ہم محافظ سے دور رہیں، اور غلا آسانی سے ضائع ہوسکتی ہے۔ جب ہم جسمانی رپورٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ہمیں اس بارے میں خبردار کیا جاسکتا ہے کہ جب ہم اپنے مچھروں کی موجودگی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس کے بارے میں ہمارا خدا کی شعور سے گریز ہوجائے گی۔

طالب علموں کو خدا کی ان کو لوٹانے کے لئے تمام غلطیوں کا اندازہ ہونا چاہئے۔ ہم سب کو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہر حالت میں اس کی موجودگی اور محبت کے حصول کو برقرار رکھے اور ہمیں اس سے لے لے، جب تک کہ ہم یہ اعلان کرنے میں کامیاب ہوں گے کہ ان چیزوں میں سے کوئی بھی ہمیں نہیں چلے گا، مالک تھا جیسے مصیبت کی جا رہی تھی۔ اس خوفناک خواب کے ذریعے خدا کو پکڑنے کی صلاحیت اس کے پورے روحانی کیریئر کی گنجائش تھی۔




92۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غیر ضروری باتوں کے خلاف آپ کا تعصب اس حقیقی روحانی سچائی کو پہچاننے سے آپ کو روکے جو طالب علم کے خیالات کی اکثریت سے جاری ہوتی ہے۔ بعض اوقات آپ کو یہ آزمائش کی جا سکتی ہے کہ کس طرح بعض افراد اس موقع پر ہیں جو وہ ہمارے سبب میں کرتے ہیں۔ آپ کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ خدا کی پسند ہیں؛ اگر وہ بہتر اجتناب تلاش کرسکیں تو وہ کریں گے۔ مزید برآں، آپ کو بیرونی کے ذریعہ فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں جو ایک اچھا آدمی ہے جو دماغی طور پر کر رہا ہے۔ ظاہری شکل سے انسان کا جیسا کہ بائبل کا کہنا ہے کہ لیکن خداوند دل کو دیکھتا ہے۔




93۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کی مستقبل کی اچھائی سے متعلق توقع آپ کی موجودہ کوشش کو منسوخ کرنے کی طرف مائل ہو جائے ۔ اس دنیا میں کامیاب لوگ ایسے نہیں ہیں جو موجودہ وقت میں ضائع کرتے ہیں، شاید میراث حاصل کرنے کے لئے، جب کچھ امیر رشتہ دار مر جاتے ہیں۔ کسی کو اس حقیقت کا سامنا کرنا چاہئے کہ وہ اس مستقبل میں موجود ہو گا جسے وہ اب کام کرتا ہے۔

یہ ایک ہی پیش نظارہ ذہنی دائرے میں درست ہونا چاہئے۔ استعفاء پسند کی کوشش ماضی میں افسوسناک اور افسوس کے پہاڑوں کی سطح کو بلند کرنے کے لئے ہے تاکہ اس کے کام ابدی میں مکمل طور پر جھوٹ بولیں۔

کرسچن سائنس مستقبل کی پیشرفت کی غلطی کو بے نقاب کرتی ہے، اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت برکتیں لانے کے وعدوں میں سے کوئی بھی نہیں۔ مسز ایڈی کو وقت میں ایک ڈیویل ڈویسی کا مطالبہ کرتا ہے، اور اعلان کرتا ہے کہ ہمیں وقت کا فائدہ اٹھانا ضروری ہے، نہ وقت ہمیں ہم سے فائدہ اٹھانا۔ ہمیں اس کا استعمال اس لحاظ سے کرنا چاہئے کہ یہ کیمیا ہو گی جو صحیح نتائج کو صحیح نتائج میں پیش کرتا ہے۔

جھوٹے نظریہ مستقبل کے ایک اعزاز پر مبنی ہے جس میں موجودہ لمحے کو تسلیم کیا جاتا ہے، اس آدمی کی خوشیوں کو پڑھنے والے کچھ مستقبل کے ریاست میں جنت کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ یقین ہے کہ، انسان انسان اپنے گندے کے سامنے ایک چھڑی کے اختتام پر بندھے ہوئے گھاس کے ساتھ ایک گدی کی طرح ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنا آگے بڑھ سکتا ہے، وہ کبھی بھی گھاس تک پہنچ سکتا ہے۔

مستقبل کی توقعات کو موت کی زندگی کی لعنت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور یہ لعنت کرسچن سائنس میں لانے کا خطرہ ہے۔ یہ ایک لعنت ہے کیونکہ یہ ان کے برکتوں کو برقرار رکھتا ہے جہاں وہ ان تک پہنچ نہیں سکتا۔ کوئی شخص جنت کو اتنا عرصہ ظاہر نہیں کرسکتا یا تجربہ کرسکتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ مستقبل میں ہے۔ دیکھو، اب قبول شدہ وقت ہے۔ دیکھو، اب یہ احساس کرنے کا وقت ہے کہ کل آج کچھ نہیں رکھتا ہے جو آج نہیں مل سکا۔ ہمیں ایک ایسی حقیقت کے طور پر قبول کرنے دو کہ خدا کی تحفے کے طور پر جو شخص اب خدا کے تحفہ کے طور پر ہے، اس کی برکتیں جنہیں فانی عقل صرف متوقع ہوسکتا ہے، اور اس وجہ سے کبھی نہیں حاصل ہوتا ہے۔




94۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو اپنا چہرہ دھونے کی بجائے اِس پر پاؤڈر لگانے کی آزمائش آجائے۔ ایک طریقہ گندگی چھپاتا ہے؛ دوسرا اسے ہٹاتا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں ہم آہنگی اور اخلاقیات کو فروغ دیتے ہیں، تو آپ کو نکالنے کے لئے، بغیر کسی چیز کا بنیادی سبب بدلنا، مادی سوچ، آپ اپنے آپ کو اور دوسروں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپ بغیر کسی وجہ سے درست طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ یہ سرد کمرہ میں تھرمامیٹر میں ایک میچ منعقد کی طرح ہے، تاکہ یہ مصنوعی گرمی کا رجسٹر ہو۔ سچے اصلاح یا شفایابی کو صرف روحانی طور پر سوچ کے ذریعے نکال دیا جاتا ہے۔ اثرات میں تبدیلی میں تبدیلی، یا کسی دوسرے کے لئے ایک عقائد کو تبدیل کرنے، تھوڑا سا پورا کرنے تک، جب تک کہ تبدیلیوں کے ذریعہ تبدیلیوں کے ذریعے لایا جائے، اور بہتر بنانے کے بارے میں نمائندگی کریں۔




95۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ یہ جملہ ’’خداوند کا خوف‘‘، آپ کو اس قدر رنجیدہ کر دے کہ آپ لفظ خوف کے مفہوم کو نرم کرتے ہوئے اِس کا ترجمہ کرنے کی کوشش کرنے لگ جائیں۔ اگر آپ مجرموں کے خاندان کے ساتھ رہ رہے تھے اور یہ نہیں جانتے تھے تو، آپ کو فورا پتہ چلا جب آپ اسے باہر نکالیں گے۔ لیکن یہ خوف بہت اچھے ہو گا، کیونکہ یہ آپ کو چھوڑنے کے لئے منصوبہ بنائے گا۔ یہ حکمت کا آغاز ہوگا۔ ہماری قائدنے ایک بار اعلان کیا، ’’ رب کا خوف ایک بہت اچھا خیال ہے۔‘‘

جب رب، یا سمجھنے کی روح آپ کے پاس آتا ہے تو یہ آپ کو خوف، فانی عقل نہیں بلکہ آپ کو قابو پانے کے اثرات کا باعث بنتا ہے، کیونکہ یہ یقین ہے کہ یہ خدا سے آپ کو دور کرتا ہے۔ یہ حکمت کا آغاز ہے، کیونکہ یہ غلامی کا پہلا قدم ہے۔ طالب علم کو ڈرنا چاہئے کہ ان کے خیال کو فانی عقائد کی طرف سے نہ بھرا جائے، کیونکہ وہ جھوٹ سے ڈرتا ہے، یا جو جھوٹ کا دعوی کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کو اچھی طرح سے اچھی طرح سے خرابی سمجھنا ہے۔

خدا کی طاقت واحد طاقت ہے، اور یہ دانش مند ہے کہ وہ الہی طاقت کی خرابی کا احساس اور اس کے نتیجے میں غلط استعمال سے ڈرتے ہیں۔ اگر حیوانی مقناطیسییت الہی کی طاقت کا ارتکاب یا انسانیت ہے، تو یہ خوفناک ہے کہ حیوانی مقناطیسیت نہیں - لیکن اس کی قبولیت۔

انسان اور کائنات کی ایک مکمل یا گناہ مند احساس کو قبول کر کے خدا کی خوف کو خدا کے نزدیک خوف کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ خدا کامل ہے اور اس کی مخلوق کامل ہے۔ ہمیں ڈرنا چاہئے کہ ہم اس اعلی معیار کے مقابلے میں کچھ بھی کم یا قبول نہ کریں۔ اگر کسی کو قادر مطلق کی فطرت سمجھتا ہے، تو وہ تھوڑا سا ڈگری میں غلط استعمال یا غلطی سے ڈرتا ہے۔

فانی انسان معاملہ، خوف، عذاب، طبی قانون، وغیرہ کے خوف میں رکھا جاتا ہے۔ سائنس میں ہمیں اس کی جگہ لینے کے لئے خوف کی ایک خاص پیمائش کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے پہلے ہمیں اس سلسلے میں رکھنے کے لئے جہاں ہم خدا کے لئے اس طرح کی محبت حاصل کرتے ہیں، اچھا، کہ کسی دوسرے حوصلہ افزائی کی ضرورت نہیں ہے۔ خداوند کے خوف کے مسز اڈیڈی کا استعمال 23 دسمبر، 1886 کو طالب علموں کے لئے لکھا ہے کہ پیشن گوئی کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے: اس بات کا یقین یقین ہے کہ وہ چرچ کو چھوڑنے یا اسے اپنے ہاتھوں سے نکالنے کے لئے، وہ اپنی طرف سے خدا کی موجودگی اور ثابت قدمی سے محروم ہوجائیں گے، اور عوام میں کوئی کرسچن سائنسدان نہیں ہیں۔ جو لوگ اس چرچ کی مدد نہیں کررہے ہیں وہ لمبے عرصے سے شفا کے طور پر اپنی طاقت کھو دیں گے۔‘‘




96۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جھوٹی گواہی پر آپ کے انکار میں، آپ اسے تباہ کرنے کی بجائے اِس کی تعمیر کرنے لگیں۔ اگر آپ جسمانی حواس اور عقیدت کی بظاہر حقیقت کے ثبوت سے انکار کرتے ہیں تو، صرف اس وجہ سے کہ آپ گوشت میں غیر معمولی ہیں، اور اس کے جسمانی ہم آہنگی کو دوبارہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، روحانی ترقی یا غیر جانبدار سوچ کے بارے میں سوچنے کے ساتھ، تعجب نہیں اگر آپ انکار کرتے ہیں تو غلطی کی حقیقت کو مسترد کرتے ہیں، بلکہ آپ کو کم کرنے کے بجائے آپ کو غلطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب فانی انسان مادی ہم آہنگی کے مقابلے میں زیادہ کچھ نہیں چاہتا ہے، تو اس کے اثرات کی غلطی کو مسترد کرتا ہے جیسا کہ اس کا سبب تھا، اس کے بجائے اس کی وجہ سے اس کی وجہ سے پتہ چلتا ہے۔ غلطی کچھ نہیں ہے؛ یہ باطل میں یقین ہے جو واقعی موجود نہیں ہے۔

کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ میں شیطانی کے طور پر یہ سنجیدہ نہیں ہے، کیونکہ یہ خدا آپ کے پاس ہے۔ لہذا غلطی کو ختم کرنے کی کوشش میں ایک اعلی مقصد یہ ہے کہ ایسی چیزوں کو ختم کرنے کے لئے جو خدا کی محبت کی دھوپ کو بند کرنے کا دعوی کرسکیں۔ اس سے پہلے کہ خدا کی فلاح و بہبود پر عمل کرنے سے پہلے، وہ جاننا چاہے کہ انسان کو کسی شخص کے بارے میں سوچ نہیں آسکتا ہے، یا اس کا سبب بن سکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے پیدائشی حق ہے۔

بحری جہاز کے لنگر کو گھسیٹنے سے قبل جہاز کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ کی گواہی ہے اور اس کی ضروری شرطیں جو لنگر کا خیال رکھتی ہیں، اس طرح اس خیال کو برقرار رکھا جاتا ہے کہ یہ اس حقیقت میں ترقی نہیں کرسکتا ہے جہاں تمام مسائل حل ہوسکتی ہیں۔ لہذا، مواد کے حواس سے پہلے ثبوت کے انکار اور اس بات کا اعلان جس میں کچھ بھی نہیں ہے، اس بات کا یقین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کا یقین کرنے کے لئے کہ معاملات کچھ نہیں ہے کیونکہ اس پر غور کرنے کے لئے کچھ نہیں، خوف سے کچھ نہیں، کام کرنے کے لئے کچھ نہیں، کوشش کرنے کے لئے کچھ نہیں درست کرنا۔ اس سے سوچنے کے قابل بناتا ہے کہ اس کے لنگر کو جانے کے لئے، جسم سے یا پھر اثر سے پیچھے جانے کے لئے، کام کرنے اور اس کے ساتھ کام کرنے کے لئے۔

اگر ایک تصویر چل رہی تھی تو لینس توجہ مرکوز سے باہر تھا، اور آپ نے مجھے سکرین پر غلطی کو درست کرنے کی کوشش کی، آپ اعلان کریں گے، ’’ سکرین کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہے، لہذا وہاں درست کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ کا خیال یہ ہے کہ یہ معاملہ غلط ہے۔ غلطی پروجیکٹر میں لینس کی ترتیب میں ہے، اور وہاں درست ہونا ضروری ہے۔‘‘ آپ کو یقین ہے کہ اسکرین کے ساتھ کچھ غلط تھا، آپ کو اسکرین سے پیچھے ہٹانے اور پروجیکٹر پر جانے کے لئے، جہاں اصلاح آسانی سے بنایا جا سکتا ہے کو یقین سے انکار کرے گا۔

جب ایک طالب علم سائنس کے ذریعہ معاملات کو بہتر بنانے یا اثر کو فروغ دینا چاہتا ہے، تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا یقین کرتا ہے کہ مواد کی گواہی سے انکار کرنے اور اس کو کچھ بھی نہیں بلایا، یہ ہم آہنگی کا راستہ ہے؛ حالانکہ اس طرح کی غلطی کا اثر اکثریت کو زیادہ بنانے کے لئے ہوتا ہے، اور اس کی وجہ سے اس کی تعمیر ہوتی ہے۔




97۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ سائنسی بننے کی آپ کی کوشش میں، آپ اس کا احساس کئے بنا اپنے احاطے میں فانیت کی حقیقت یا مادیت سے متعلق مفروضے چھوڑ دیں۔ اگر آپ اعلان کے ساتھ شروع کرتے ہیں کہ کوئی معاملہ نہیں ہے، تو صرف اس بات کا تعلق ہے کہ خدا کا کائنات ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے جو انسان کی فانی عقل کے دعوی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، - اگر آپ اب بھی اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ آپ کے پاس، انسانی سوچ کی طرف سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت، اس عقیدے کو فانی انسان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس حقیقت کا مظاہرہ کرنے سے روکتا ہے کہ وہ صرف الٰہی عقل پر منفی ہے اور کبھی بھی کسی اور صلاحیت کی کوئی ضرورت نہیں۔

اعلان یہ ہے کہ انسان کو مکمل طور پر یہ ہونا لازمی ہے کہ وہ ایک غلط سوچنے والا نہیں ہے، اس طرح اس کی کوئی خواہش نہیں ہے کہ وہ کبھی کبھی نہیں ہو، اور خدا نے اس میں کبھی بھی اس کے مقابلے میں کسی دوسرے کو سوچنے کی صلاحیت پیدا نہیں کی۔ اس کے ابدی وجود کے طور پر خدا کا بچہ ہمیشہ کے لئے کمال اور نیکی کی خصوصیات میں شامل ہے۔




98۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ ترقی کرنے کی کوشش میں آپ اس غلط مفروضے کو قبول کر لیں کہ آپ کا کام اس فانی، غیر کامل انسانیت کو کامل بنانے کےلئے ہے، بجائے کہ اس جھوٹے یقین کو دور کریں کہ انسان فانی یا غیر کامل ہے اور ہمیشہ ہو سکتا ہے۔ اس طالب علم نے غلطی کی ہے جو غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سائنس اس بات کی تصدیق کے لئے ہے، ’’ میں خوشحال ہوں، میں صحت مند ہوں، میں خوش ہوں۔‘‘ اس طرح کے امتیازات غیر مطمئن پر پاکیزگی کو تحفے کرنے کی کوشش کے مقابلے میں بہتر نہیں ہیں، اگر، میں اس طالب علم کو ذہن میں رکھتا ہوں تو اب بھی انسان انسان ہے۔

وہ وقت جب کوئی شخص اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ، ’’میں خدا کی شبیہ اور صورت ہوں‘‘، وہ صرف تب ہوتا ہے جب ’’میں‘‘ سے متعلق اْس کا تصور خود غرضی اور غیر کاملیت سے اونچا ہوجاتاہے ۔ دوسری صورت میں اس کی کوشش دماغ کا علاج کہا جاتا ہے، یا موت کے احساس کی نام نہاد اچھی طرف سے لے جاتا ہے، اس کے بجائے تمام انسانیت کو پھینکنے کی کوشش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ دماغی علاج، یا نیا خیال، مردوں کو اچھی موت کے لۓ لانے کی کوشش کرتا ہے؛ روحانی طور پر اسے دوبارہ تخلیق کرکے سائنس انسان کو اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔




99۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہآپ یہ یقین کرلیں کہ عمومی طور پر سمجھی جانے ولی بیماری کی وجہ حقیقی ہے، جیسے کہ زکام کی وجہ سفر ، یا گندی خوراک معدے کی خرابی کی وجہ ہوتی ہے۔ سائنسدان اس بنیادی وجہ سے باہر چلے گئے ہیں کہ انسانوں کو یقین ہے کہ وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ وہ صرف ایک سرد ظاہر کر سکتا تھا کیونکہ اس کے خیال نے خدا کے قوانین کو اعلی طور سے تسلیم کیا، اس سطح پر جہاں وہ شعور یا بے شک طور پر طبی قانون، ذہنی خرابی یا مبتلا خوف کی طاقت اور حقیقت کو قبول کرتے ہیں۔ سائنسی علاج یہ ہے کہ جھوٹ عقیدت کا سامنا اور اس حقیقت کی سمجھ اور قبولیت کو برقرار رکھنا چاہیے کہ انسان ہمیشہ خدا کے قانون کے تحت ہے، جہاں اس کی صحت مستقل اور معاملات کے دعوے سے آزاد ہے۔

ہم ہمیشہ بیماری کے کسی بھی وجہ سے شکست مند ہونا ضروری ہے جو انسانی طور پر واضح یا مادی منطقی لگتا ہے۔ غلطی کی طاقت اس کے اثرات کے سببوں کو چھپانے کی صلاحیت میں ہے۔ مؤثر طریقے سے ذہنی طور پر تلاش کرنے کی وجہ سے کسی کو اثر کے پیچھے سے پتہ چلتا ہے۔ اس کے بعد مسئلہ اس کے ذریعہ میں درست ہوسکتا ہے۔ مادی اثر کے لئے ایک مادی سبب کی دلیل الکوحل کے حیوانی مقناطیسیت کا ایک حصہ ہے جو بیماری کے ثبوت کے طور پر سامنے آنا اور باہر ڈالنا چاہئے۔

ایک بار ایک شخص کا کوئی جسمانی حصہ تھوڑا سا بڑھ گیا جو کرسچن سائنس کا علاج نہیں مانتا تھا۔ یہ طے پایا کہ اسے چھوٹا سا آپریشن کروانا ہوگا۔ یہ تجویز کہ یہ حالت مادی تھی اور ایک آپریشن اس کا علاج تھا یہ حیوانی مقناطیسیت تھی جس سے جان چھڑانا ضروری تھا، کیونکہ وجہ سے زیادہ اثر مادی نہیں تھا۔




100۔ دیکھنا ایسا نہیں ہو کہ آپ کے شفائیہ کام میں آپ یہ ماننے لگیں کہ آپ کے پاس ایک بیمار ایمان والا مریض علاج کے لئے ہے۔ آپ کے پاس ایک بیمار یقین ہے جو عدم کو ظاہر کرتے ہوئے خود کو انسان کہلاتا ہے، تاکہ حقیقی انسان واضح کیا جا سکے۔




101۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے مقاصد کو روحانی بنائے بغیر ہی اظہار کی قوت کو عمل میں لانے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے قانون میں ایک کیس جیتنے میں آپ کی مدد کرنے کے لئے خدا کی طاقت کی توقع کی، یہ آپ کے مقصد کو صاف کرنے کے مظاہرے کا حصہ ہو گا، تاکہ آپ کہہ سکیں، ’’میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو۔‘‘

آپ اپنے خیال سائنسی طور پر کال نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ فیصلہ نہ کریں کہ فیصلے کیا جاسکتے ہیں، جب تک کہ یہ خدا کا عقل ہے جو اس کی حکمران اور ہدایت کرتا ہے۔

انسانی تجربات کے لئے الہی عقل کو لاگو کرنے کی کوشش کرنے کے لئے یہ ایک مقدس اور زبردست ذمہ داری ہے۔ جب تک کہ کسی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کوشش نہیں کی جا رہی ہے، اس کے نتیجے میں وہ جان سکتے ہیں کہ ان کی کوششوں میں انسانی ہم آہنگی کی بھیڑوں کی حفاظت کے اثرات کو زیادہ محفوظ طریقے سے بھیڑ کے عقل پر تیز کرنے کی بجائے، بھیڑیوں کی صحیح نوعیت کو بے نقاب کرنے کے بجائے تباہ ہوسکتا ہے۔ جب انسان کو انسانی عقل ملتا ہے، جو اس کی بھیڑوں کی فطرت کو ظاہر کرنے کے لئے شروع ہوتا ہے، اور اس کے اپنے فائدے کے لئے ہم آہنگ کرنے کے لئے خدا کی طاقت کا استعمال کرتا ہے، وہ دھوپ کی بھیڑوں سے اتار نہیں کر رہا ہے۔

الہی عقل کا صحیح اطلاق خدا کے سوا عقل میں تمام عقائد کو بے نقاب اور تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ ہم آہنگی جو اس کوشش کے نتیجے میں روحانی ترقی کے باعث نہیں ہو گی، بلکہ اس کی نشاندہی کی جائے گی، اس کی بجائے صحیح سوچ ایک مقصد ہے، اور اس کے ہم آہنگی کو شامل کیا جاتا ہے، جیسا کہ ماسٹر متی 6: 33 میں کہا۔ خود غریب یا انسانی مقصد کے ساتھ خدا کی طاقت کو لاگو کرنے کی کوشش کی غلطی کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور غیر سائنسی ذہنی مشق ہے۔




102۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہر ناخوشگوار حالات کی طرف مڑیں اور اپنے روحانی فائدہ کا تجربہ کریں۔ مسز ایڈی نے اپنے طالب علموں کو اعلان کرنے کی ہدایات کی، جب وہ غلطی سے حملہ کرتے تھے، ’’میں اس تجربے کے لئے بہتر ہوں؛ یہ مجھے اچھا کر رہا ہے، مجھے بلند اٹھانے اور میری سمجھ کو مضبوط بنانے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جب ایک بار جب اس نے اپنی گاڑی پر کچھ تجربہ کیا تھا تو اس نے کہا، ’’معلوم ہے کہ ایک جھٹکا صرف ہمیں اوپر جانا ہے۔ اب ہمیں بتائیں کہ جب ہمارا عقل ہمیں جھٹکا دیتا ہے تو، ہم اسے اوپر جانے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں، اور اس طرح معلوم ہے کہ یہ ہمیں وہاں نہیں پکڑ سکتا۔‘‘




103۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ خوف کے بنیادی یقین ، جس سے مادے کا اظہار ہوتا ہے ، اور اْس خوف میں فرق کرنے میں ناکام رہیں جو ضمیرکے خیالات میں جنم لیتا ہے، تب جب اس بنیادی خوف کا اظہار مخالف ہوجائے۔ آپ کو اس ترتیب کے ایک واضح تصور کی ضرورت ہوتی ہے، یعنی بنیادی خوف کی وجہ سے بیماری کا سبب بنتا ہے، جس میں بظاہر سوچ میں خوف، تصور، مایوس اور الجھن پیدا ہوتا ہے؛ دوسری صورت میں آپ کو یقین ہے کہ خوف کے احساس میں خوف کا احساس واحد ڈر ہے جس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، یہ اس کا خوف ہے کہ اس بیماری کی پیداوار ہے، اور اس کا خاتمہ اس بیماری کو شفا دے گا۔ یہ یہ بھی بتاتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو کسی بیماری سے متاثر کیوں ہوسکتے ہیں جنہیں آپ نے کبھی نہیں سنا تھا اور جس میں آپ کو کوئی شعور نہیں تھا۔

سائنس اور صحت میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جب خوف ختم ہوجائے تو مریض کو شفا دیا جاتا ہے. لیکن یہاں مسز ایڈی مکمل طور پر شعور، یا ثانوی خوف کا حوالہ نہیں دیتا۔ یہ سچ ہے کہ مریض کے خیال میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے شعور کے خوف کو ہٹانے کے لئے ضروری ہے، جیسے ہی گھریلو خاتمے کا خوف ہو گا جس کے گھر آگ لگۓ اس سے پہلے کہ وہ گھبراہٹ میں چلنے سے روکیں گے. فائر فاکس کے سامنے دروازے کھولیں۔

جب ثانوی خوف کو ہٹا دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اختلاف کے اظہار کی وجہ سے، راستے میں آنے کے لئے راستہ کھول دیا جاتا ہے اور بنیادی خوف کو تباہ کر دیتا ہے، جو معاملات میں بنیادی عقیدہ ہے، یا خدا کے علاوہ طاقت میں ہے۔

یہ نقطہ نظر بہت ضروری ہے، بہت سے مریضوں کا خیال ہے کہ ان کے خوف کو ان کی بیماری پیدا نہیں ہوسکتی تھی، کیونکہ ان کے ذہن میں کوئی خوف نہ آیا۔ انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ غیر جانبدار سوچ میں ہلکے، یا بنیادی خوف کا قیام کیا جا سکتا ہے، ساختی عقل، خوف یہ ہے کہ جب تک وہ اس کی ظاہری شکل کو دیکھتا ہے تو اس سے آگاہی نہیں ہے۔ لہذا، یہ خوفناک خوف ہے کہ جسم پر ظاہر ہوتا ہے، جس میں، نتیجے میں، شعور سوچ میں خوف پیدا کرتا ہے۔




104۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، کہ جب آپ اظہار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ طالب علم کہیں، ’’اظہار ٹھیک ہے، لیکن آپ کو انسانی نقش قدم پر بھی چلنا چاہئے،‘‘اور آپ روحانی خیالات کے لئے انسانی کام کو متبادل مان لیں۔ انسانی نقش قدم کو درست سوچ کا اظہار کرنا چاہئے ، لیکن وہ اثرات ہوتے ہیں وجوہات نہیں ہوتے۔

کوئی بھی عملی طور پر پیانو کھیلنے نہیں جان سکتا؛ ابھی تک اس طرح کی مشق کسی ایسی جگہ پر نہ رہیں جہاں ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچتے ہیں، اور انھوں نے محسوس کیا ہے، اور اظہار خیال۔ جب ماتحت، اور حوصلہ افزائی کی طرف سے کنٹرول، تکنیک ختم کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔

سائنس اور صحت ہمیں بتاتی ہے کہ وہ خط کو احتیاط سے مطالعہ کرنے اور روح کی عکاسی کرنے کے لئے تیار ہے. مطالعہ ایک انسانی قدم ہے، لیکن یہ کم قیمت ہے، جب تک کہ روح کو منحصر کرنے کی راہنمائی نہ کریں۔




105۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ لفظ ’’نجات‘‘کو استعمال کرتے ہوئے آپ روایتی علمِ الہیات کے نظریے کو قبول کرنے لگیں، اس خیال کو شامل ہونے کی اجازت دیتے ہوئے کہ آپ کو کسی چیز سے نجات چاہئے، جیسے کہ آپ ایک گناہگار تھے جو اب مقدس بننے کی کوشش کررہا ہو بجائے یہ کہ آپ ایک ایسے مقدس ہوں جو یہ جاننے کی کوشش کررہا ہوکہ آپ گناہگار ہیں۔

جو شخص خواب دیکھ رہا ہے کہ شیر اس کو کھا رہا ہے، شیر سے بچا جارہا ہے، لیکن برداشت سے بیداری نہیں ہے۔ انسان پہلے سے ہی دائمی نجات سے بچا جاتا ہے؛ لیکن اس کو دوسری صورت میں، اور اس غلط عقیدہ کے اثرات سے بچنے کے لئے بچایا جانا چاہیے۔ اس کو یقین ہے کہ اس کی کوئی بھی چیز نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، سے بچنے کی ضرورت ہے، کیونکہ حقیقت میں خدا سب ہے!




106۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس یقین کو تسلیم کرلیں کہ اس انسانی خواب کے بہتر حصے کے ساتھ اپنے شعوری خیالات کو پورا کرنا یا حتیٰ کہ ہماری تنظیم کی سرگرمیوں کے علاوہ انہیں پورا کرنا ایک طرح سے آپ کی سوچ کو مزید روحانی بنا رہا اور یہ بدکار تجاویز کی بدولت پریشان ہونے سے بہتر ہے۔ یہ نقطہ نظر یہ نہیں ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں غلط ہیں، یا یہ کہ کچھ خیالات دوسروں سے بہتر نہیں ہیں۔ لیکن کرسچن سائنس کا مقصد ہمارے شعور کو صرف اکیلے خدا کے خیالات کے لئے مخصوص ہے، اور ہمیں انسانی تجاویز پر مبنی سوچ دینے سے انکار کرنا لازمی ہے، کیونکہ ویٹر کسی کو کسی خاص پارٹی کے لئے مخصوص میز پر قبضہ کرنے سے انکار نہیں کرے گا۔

تفہیم اور مشق میں پیش رفت ہمیں زیادہ سے زیادہ روحانی اچھے کے ساتھ شعور کو بھرنے کی ضرورت کو دیکھنے کے لئے، اور مطمئن محسوس کرنے کے لئے نہیں ہے جب یہ انسانی اچھے سے بھرا ہوا ہے۔

بڑھتی ہوئی سوراخ کو بورڈ میں ایک سکرو کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاکہ سوراخ کو بھرنے کے لئے، جب بورڈ پینٹ کیا جاتا ہے، تو اسے پتہ نہیں جاسکتا ہے کہ سکرو کہاں ہے۔

اگر کسی بھی وجہ سے سکرو واپس لے جانا پڑا ہے، جو بھی اس سوراخ کو بھرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اسے سب سے پہلے ہٹا دیا جائے۔ بشرطیکہ جسمانی طور پر اس کی حقیقت کے اعتبار سے پابندی میں منعقد ہوتا ہے، اور خوراک، نیند، ہوا، ورزش وغیرہ وغیرہ کے عقائد کے ذریعے ان پر تسلسل ہے۔ یہ عقائد ہیں، بات کرنے کے لئے، بے چینی خیال میں خراب، اور ملبے کی طرف سے چھپے ہوئے زیادہ سے زیادہ ایک ایک ہوشیار سوچ میں پایا۔ الہی عقل اس کے بندوبست سے انسان کو آزاد کرنے کے لئے ایک سکریو ڈرایور کے ساتھ بڑھکر کی طرح آتا ہے۔

سکریو ڈرایور کو کس طرح کام کر سکتا ہے، تاہم، اگر سکرو پر سوراخ ہو تو ہوشیار سوچ - یہ گندگی سے بھرا ہوا ہے کہ الہی عقل سکرو کو تلاش نہیں کرسکتا؟ بڑھکر کے نقطہ نظر سے سب کچھ گندگی ہے جو سوراخ کو چھپاتا ہے، چاہے وہ اچھا یا خراب، بے شمار یا قیمتی، زہریلا یا نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

جب خوف یا گناہ سے آگاہ ہو جاتا ہے تو، بیماری اور مصیبت کے نتیجے میں، خدا کی طاقت کے ذریعہ کسی کو غلطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن الہی عقل سے پہلے اس معاملے میں اس کے حاکم سے بھی توسیع کرنے کا ایک موقع ہے، ہمیں اس بات کا یقین کرنے دو کہ وہ انسانی خیالات کے بہتر مراحل کو اس کی مذمت کرے۔ کیا اس آدمی کا آخری مرحلہ پہلے سے بدتر نہیں ہے؟ وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے بعد والے خیالات اچھے اور جائز ہیں؛ لہذا وہ ان کو کاسٹ کرنے کی ضرورت نہیں دیکھتا۔

اس اندھیرے کو جو اس نے بدحالی کو برقرار رکھا ہے، کیونکہ خدا کے نزدیک انسان کے نقطہ نظر سے، یہ قابل قدر اور جائز ثابت ہوتا ہے، یہ حوصلہ افزائی جانور مقناطیسی ہے۔ مثال کے طور پر، سٹیمپ مجموعہ میں استحکام، نقصان دہ لگ سکتا ہے۔ مکمل طور پر انسانی نقطہ نظر سے کیا کرسچن سائنس مانیٹر پر کمیٹی کا کام بہت قابل اعتماد لگ سکتا ہے۔ لیکن جو بھی شعور سے خدا کو قابو پانے میں مدد کرتا ہے، اگرچہ اس نے فرشتے بنیانوں میں پہنایا ہے، گناہ ہے۔




107۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ خود کو اپنے انسانی تجربات کی حقیقی اور الٰہی اہمیت سے ایک انسانی اندازے یا رویے کے باعث اندھا کرنے کی اجازت دیں۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے، کیونکہ یہ کسی بھی چیز کے بارے میں تمہارا رویہ ہے جو اس بات کا تعین کرتی ہے کہ یہ آپ کی ترقی کو کس طرح متاثر کرے گا۔ ایک ڈاکیا جو طویل فاصلے کے بارے میں شکایت کرتے ہیں اور گھومتے ہیں اسے چلنا پڑتا ہے، چلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ اس کا تعلق میراتھن کے لئے تربیت کرے تو وہ اس میں خوش ہوں گے اور اس طرح اس سے فائدہ اٹھائے گا۔

سٹیل کو سخت کرنے کے لئے، تاکہ یہ مضبوط ہو جائے اور تیز کنارے کو زیادہ برقرار رکھنا، گرمی کا علاج کرنا ہوگا۔ یہ گرم ہے اور پھر سرد پانی، یا تیل میں پھینک دیا جاتا ہے۔ شاید اس خواب میں ہمارے بعض آزمائشیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس طرح ہم آہنگی اور ہم آہنگی کے درمیان جھکتے ہیں، ہماری روحانی حساسیت کو تیز کرنا ہے، تاکہ ہم غلط اور سچ کے درمیان جدا ہوسکیں اور اس کے ہر مرحلے میں موت کا خواب کچھ بھی نہ کریں۔

اسٹیل کو کوئی مزاج نہیں ملے گا جب تک کہ وہ گرم اور ٹھنڈا دونوں نہ ہو۔ ایک طالب علم کو کچھ خاموش جگہ پر لے جا سکتا ہے تاکہ خدا کی قربت کا احساس حاصل کرلیا جاسکتا ہے، اب تک دنیا کے ساتھ رابطے سے نکالنے سے ہٹا دیا گیا ہے، لیکن اس قدر کون سا قدر اچھا ہو گا؟ یہ اچھا نہیں پہنچا۔ یہ بہت کمزور ہو جائے گا، جس کا پہلا انسانی طوفان ہے جو مرض کے عقل کے ساتھ رابطے سے پیدا ہوتا ہے اس کو توڑ دیتا ہے۔ ہم کس طرح کبھی اعلان کر سکتے ہیں کہ جب تک ہم نے ثابت نہیں کیا ہے، ان میں سے کوئی بھی چیز مجھے نہیں پہنچتا ہے؟

یہ خدا کا پیارا مقصد ہے کہ ہمیں مشکلات اور راہ میں حائل رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ امن کے وقت میں بھی ترقی کرنا چاہئے تاکہ اس کے لئے ہمارا خدا کی طاقت مضبوط اور قابل ہو۔ ہمارے شاخ گرجا گھروں میں بہت سے عقائد کے پیچھے الہی مقصد طالب علموں کو تربیت دینے کے لئے ہے، تاکہ وہ ہر قسم کے دباؤ کے تحت خدا کو قابو پانے میں مدد کرسکیں۔

کچھ تمباکو نوشی کھڑے ایک گول وزن بیس کے ساتھ بنا دیا جاتا ہے، تاکہ اگر وہ منزل پر دھکیل دیا جائے تو، وہ ایک بار بائیں سیدھا ہوں گے۔ کرسچن سائنس تنظیم خدا کی طرف سے حمایت کرتا ہے۔ اگر ایسا لگتا ہے کہ اس میں ڈوبنے اور ڈینمارک میں ہونے کی صورت میں، یہ صرف اراکین کو اس کی مدد سے ریلی سے تربیت دینا ہے۔ اس کے اوپر اور نیچے کی طرف سے، یہ روحانی ورزش کو بڑھنے میں قیمتی ہے؛ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ یہ ہمیشہ محفوظ اور محفوظ رہیں۔

یہ ہر تجربے کے بارے میں ہماری رویہ ہے جو معاملات۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو شکایت کرتے ہیں، یا تعجب کرتے ہیں کہ جب ہم گرم یا سرد پانی میں جائیں گے تو خدا ہم پر اٹھا رہے ہیں، تو ہم تھوڑی روحانی ترقی حاصل کریں گے۔ ایک بار ایک آدمی گڑھے میں پھینک دیا گیا تھا۔ ناراض بننے کے بجائے، لوگوں نے پتھر پر پھینک دیا، اس نے اس کے پتھروں کا استعمال کرنے کے لئے استعمال کیا، جس پر وہ آزادی پر چڑھ گیا۔

یسوع متی 10 : 22 میں کہتے ہیں،’’جو آخر تک برداشت کرے گا وہی نجات پائے گا۔‘‘ برداشت کرنے کی صلاحیت صرف اسی طرح حاصل ہوتی ہے جب ہم اپنے روحانی سوچ کو انسانی حقوق اور مشکلات کے تحت برقرار رکھنے کے بارے میں سیکھیں گے؛ لیکن اگر شکایت کی پوزیشن کی طرح، ہم اس طرح کے مشکلات کو کیا کریں گے، تو ہم گونجتے ہیں؟ کیا ایک وارث طالب علم اس حقیقت سے انکار کرتا ہے کہ وہ ہر وقت انسانی ہم آہنگی برقرار نہیں رکھ سکتا؟ کیا وہ شرم کی بیج کے طور پر ایک مسئلے کو دیکھتا ہے، جیسا کہ اس نے دوسرے طالب علموں کو ان کی کمی کا اشارہ کیا جو انسانی معاشرے کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ اگر کوئی شخص مادے میں ہم آہنگی کو برقرار رکھ سکتا ہے تو یہ روحانی ترقی پر اختتام لگانا ہوگا۔

خدا کی شعور کی قدر اور کرسچن سائنس کے بارے میں کیا خیال ہوگا، جو سخت اور مضبوط نہیں ہوا تھا تاکہ وہ ختم ہوجائیں؟ جب انسان کو انسانی مصیبت اور مصیبت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، تو وہ کبھی بھی اس کی مشکلات سے شرمندہ نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی وہ اس چینلز کو ذاتی بنائے گا جس کے ذریعہ اس کا تجربہ اس کے پاس آتا ہے۔ بلکہ وہ جو بھی گرم یا سرد تجربے میں ڈالتا ہے وہ خوش ہوں گے۔ وہ سمجھتا ہے کہ محبت کی منصوبہ بندی اور سچائی کا راستہ ہے کہ اسے برداشت کرنا پڑیں۔ ایک ممکنہ ہوا بازی کو اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور آزمانے کے لئے سخت ٹیسٹ کے ذریعے رکھا جاتا ہے۔ محبت جانتا ہے کہ ہمیں اپنی روحانی پروازوں کے لئے تربیت دی جائے گی، اور یہ سب راستے میں زیارت کے لئے ٹیسٹ فراہم کرتا ہے۔

ماسٹر کے بیان کا جسٹ یہ ہے کہ، اگر کوئی خود مسیح کے کردار میں قائم رکھنا چاہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کی روحانی شناخت کے مطابق ثابت ہوجائے جب تک کہ خود کو خود مختاری کا دعوی خاموش نہ ہو، مصیبت، ان کے قبول اور جذباتی خصوصیات کو تیار کرنے کے لئے، جو اسے ابدی اچھے حاصل کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد دے گا۔

جہاں تک روحانی ترقی کا تعلق ہے سب سے زیادہ مہذب چیز ہے، وہ موت کا عقیدہ ہے جو ہم آہنگی کو بادل پر بادل نہیں دیکھتا ہے، یا مرمر انسان کو اس انسانی خواب سے باہر نکالنا ہے۔ کسی کو ذہنی سرگرمی سے ہٹا دیں گے، جب تک کہ اس کی کوئی جڑ نہ ہو، جب تک کہ غلطی کا کوئی مرحلہ اسے نگاہ دے؟ یقینی طور پر ایک جھوٹی امن، معاملہ میں امن یا سلامتی ٹوٹ جانا چاہئے۔ بشرطیکہ اس کی اطمینان سے ہلکا ہونا چاہئے۔ ورنہ وہ کبھی موت کو پھینکنے یا روحانی لائنوں کے ساتھ تعمیراتی چیزوں کو پورا کرنے کے لئے کافی کوشش نہیں کرے گا۔ انسانی کی طرف سے اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے الہی حیثیت تک کمزور خواہش سے زیادہ کچھ کی ضرورت ہے۔ اسے کچھ سختی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اسے پکارے، ’’اے خداوند مجھے بچا ۔‘‘

مسلسل انسانی ہم آہنگی انسان کے خیال میں ایک ریت پہننے کے لئے ہوتا ہے جو روح کی زندگی کے لئے مہلک ہے۔ مسز ایڈی نے غلطی میں اس آسانی کے خطرے کو تسلیم کیا، اور دیکھا کہ اگر ضروری ہو تو اس کے گھر میں طالب علموں کو توڑ دیا گیا تھا، تاکہ بے گناہ ہونے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ ہم آہنگ انسانی وجود کی ایک بھی عارضی ترین خطرناک انسانی حالت ہے، جب تک کہ کسی نے اس موقع تک پہنچ نہیں لیا ہے جہاں وہ مصیبت کے بجائے سائنس کے ذریعہ اپنی انسانی مشکلات کا سامنا کرسکتا ہے۔ جب تک کہ وہ ہم آہنگی کے تحت ترقی کررہے ہیں جب تک، وہ جو بھی روحانی کوشش کی چوٹی پر رکھنا چاہتا ہے، اس کا خیرمقدم کرنا چاہئے، یہاں تک کہ انسانی معنوں کے باغیوں کو بھی نہیں، اور اکیلے جانے کی کوشش کی جائے۔




108۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ یہ یقین کرنے لگیں کہ جب تک آپ چند سائنسی دلائل پر نہیں جاتے یا ہر صبح سبق کا مطالعہ نہیں کرتے، کوئی حادثہ یا ہولناک تباہی رونما ہوجائے گی۔ اس طرح کی ایک غلط رویہ ذہنی کام کے مقصد کے بارے میں بے خبر ظاہر کرتا ہے۔ ہر ایک اپنے آٹوموبائل کو ہر صبح تیل سے بھرنے نہیں دیتا۔ لیکن وہ گیج کو دیکھتا ہے، اور تیل کو جب اسے ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ایک الٹوموبائل کی طرح الہی طاقت ہے جو کسی چیز میں چل جائے گا، اگر ہم ایک لمحے کے لئے محافظ ہیں؟

طالب علم کو مسلسل اپنے خیال کو متوازن رکھنے یا روحانی طرف پر ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ پھر جو اس کے خیال سے نکلتا ہے وہ تخلیقی اور شفا بخش ہو گا۔ اگر وہ جانتا ہے کہ اس نے عارضی طور پر اپنے توازن کو دائیں طرف کھو دیا ہے، تو وہ اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک حقیقی کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک کوئی خوف و غصہ، پڑھنے اور ذہنی دلیلوں کو دوبارہ پڑھنا نہیں رکھتا ہے، اس وقت تک جب تک کہ اس نے اپنی سوچ سے باہر کی تازہ تازگی اور بدبختی کا شکار نہیں کیا، خوفناک یا خوفناک کچھ نہیں، جب تک کہ اس سے ڈرتے رہیں، اس کے بغیر خوشی اور اعتماد کے فعال ذہنی نقطہ نظر سے کام کرنا صحیح طریقہ ہے۔ اس طرح کا ایک غلط تصور ناقص تکرار سے بہت دور نہیں ہے، جیسے تبت کے نماز پہلو جس کاہن پادریوں کو رکاوٹ رکھتا ہے، اس کے ساتھ یہ عقیدہ ایمان لائے کہ یہ صحیح دعا کر رہا ہے۔

ہمارے رہنما فارمولوں کے استعمال سے انکار کرتے ہیں۔ جب کسی کی شفا یابی کے کام میں کسی فارمولہ کا استعمال ہوتا ہے تو، اس کا معنی ہے کہ روح کے مقابلے میں اس کے خط پر اس کا زیادہ اعتماد ہے۔ ہماری تربیت اور ترقی کا حصہ جاننا ہے کہ کس طرح الہی رہنمائی، اپنے اپنے سائنسی اوزار، یا بیانات کے ذریعہ تشکیل دینے کے لئے، ہر مسئلے کو حل کرنے کے لئے اور پھر ان اعلامیات کے پیچھے ڈالنے کے لئے امید اور حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انہیں مؤثر بنا دیتا ہے۔

وہ لوگ جو فارمولا استعمال کرتے ہیں نہ صرف اس ترقی کو کھوتے ہیں جو ان کے اپنے اوزار بناتے ہیں، لیکن وہ غلط طور پر یقین کرتے ہیں کہ یہ وہی بیان ہے جو وہ استعمال کرتے ہیں جو شفا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ غفلت اور روح کی ضرورت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ کرسچن سائنس کی صحیح تفہیم روح کے بغیر خط کی افادیت میں عقیدے یا عقائد کو قائل کرتی ہے۔ اس طرح کے ہیٹین استعمال کے طور پر اس طرح کے ناقابل یقین تکرار تھے۔




109۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ روحانیت کے حصول کو خدا کی طرف سے حکمت کا حصول سمجھنے کی بجائے خود کی سوچ کی پاکیزگی تصور کرنے لگیں۔ سوچ کی پاکیزگی تیاری ہے، اور اس کی ایک خاصی مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مطالعہ روحانی طور پر نہیں لائے گا، جب تک کہ جو کچھ سیکھ سکے وہ عمل میں نہیں آسکتا۔ روحانیت عکاسی ہے۔ پائپ کو صاف کرنے کی کوشش کے بجائے وہ پائپ کے ذریعے بہتی ہے۔




110۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ بچوں سے روٹی لے کر کتوں کو دے دیں (مرقس 7: 27)۔ اگر بچے مسیح کی شعور کی نمائندگی کرتے ہیں یا تمام انسانوں کی شناخت خدا کے فرزندوں کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر کتوں کو انسان کے جانوروں کی فطرت کی نشاندہی کرے گی جو ہمیشہ کھانا کھلانا چاہتے ہیں، آمیز، ہم آہنگی اور شفا بخش رہے ہیں۔

حق کی صحیح درخواست ہمیشہ انسان کی روحانی معنوں کو کھانا کھلانے کے لئے ہے، تاکہ خدا کے ساتھ عدم اطمینان اور شعور کی شعور بحال ہو۔ کیا مطلب یہ ہے کہ جسمانی بیماری کو شفا دینے کے لئے جائز نہیں ہے؟ نہیں - لیکن روحانی روحانی طور پر ہدایت کی جانی چاہیئے۔ سچے علاج کو اس کے اعتراض کے طور پر انسان میں روحانی فطرت کا کھانا کھلانا چاہئے، اس کے اپنے شعور سے خدا کے بچے کے طور پر۔ اس طرح کے طور پر، حقیقت کی پرسکون اور بہاؤ فطرت کی وجہ سے جسمانی معنوں کو کھلایا جاتا ہے اور بچوں کی میز سے گر جاتی ہے جو کچھ یوں سے شفا دیتا ہے۔

یسوع مسیح کا مقصد خدا کی بادشاہی اور اس کی راستبازی کی تلاش کرنا ہے - اس کے خدا کی اولاد کے طور پر ان کے الہی میراث اور ہم آہنگی کی انسان کو تسلیم کرنا؛ اس کے بعد ان سب چیزوں کو شامل کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس طرح سے پورا کیا جاسکتا ہے جو انسان کو نظر انداز اور توجہ سے باہر رکھے گا۔




111۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ انسانی عقل کی اْس بہتر حالت جس کا تذکرہ سائنس اور صحت صفحہ 128: 6 میں ہوا ہے اور اْس حالت کے مابین جہاں انسانی عقل کو خارج کردیا گیا ہو، اور انسان پر الٰہی عقل کی مکمل حکمرانی ہوتی ہے، امتیازات کی ایک تیز دھار لکیر کھینچ دیں۔

یہ ایک اہم قدم ہے جس میں اس نقطۂ نظر میں انسانی عقل کو بہتر بنانے کے لئے جہاں حقیقت کے ساتھ حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور اس کی خرابی ہوتی ہے، اس کے برداشت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جاتا ہے؛ لیکن اس عارضی حالت کو الہی عقل کے حصول کے لئے غلط نہیں ہونا چاہئے۔

سچائی کی طرف سے انسانی عقل کی نظم و ضبط اور صافی کرسچن سائنس میں ترقی کے ابتدائی مرحلے سے متعلق ہے۔ انسانی عقل پر سچائی کا اثر ہمارے لیڈر نے اعلان کیا ہے کہ اس سائنس کے اس طالب علموں کو وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ان میں انحصار کرنا چاہئے۔ لیکن وہ انہیں یہ محسوس نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ خدا کی طرف سے حکومت کرتے تھے، جب انہوں نےعقل کا ’’سچائی کا بیچ‘‘ کے ساتھ ہی انسانی عقل کو کمزور کیا تھا، جو ان کی ابتدائی مطالعہ میں ایک کامیابی حاصل کرتا تھا، اور اس کے نتیجے میں انسانوں کے لئے حیرت ہے۔

یہ ترقی کا ایک اشارہ ہے جب کسی نے اپنے عقائد کو بہتر بنانے کے لئے سوچ میں کافی حق بخشی؛ لیکن سائنس کا اصلی طالب علم ظاہر نہیں ہوتا جب تک کہ انسان کو عقل میں مکمل طور پر پاؤں کے نیچے ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے، لہذا کسی کا اعلان ہوسکتا ہے، جب میں نے عکاسی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے تو ’’میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ خدا نے مجھ سے بات چیت کرنے کے لئے مظاہرہ کرنے کے لئے، یا میں خاموش رہوں گا۔ میں کوشش کرنے کی کوشش کروں گا کہ مجھے فخر کا سبب بنانا کوئی متبادل نہیں ہے۔ میں آواز کے بجائے مایوس طلب کروں گا جو مظاہرین کا نتیجہ نہیں ہے۔‘‘

خدا کی حقیقی عکاسی انسانی عقل کی بہتری کے ذریعے نہیں آتی ہے۔ ایسا ہوتا ہے جب کوئی اس حقیقت کو قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کوئی انسانی عقل نہیں ہے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو انسان میں کوئی بھی ایسا جواب نہیں ہے جو اس کے جواب میں یا اس سے مطابقت رکھتا ہے، جس کے ذریعہ وہ کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اور اس وجہ سے اسے ظاہر کرنے کے لئے بنایا جاسکتا ہے۔

یہ نقطہ نظر انسانی عقل کی نظم و ضبط کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، کیونکہ اس سے پہلے کہ اسے الگ رکھا جاسکتا ہے۔ ہمارے دستی میں بہت سے ضروریات، جس کی کوئی روحانی قدر نہیں ہے، جب اطاعت کی جاتی ہے، اس کے خاتمے کی تیاری میں، انسانی عقل کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک کی مدد کرنے کی خدمت کرتی ہے۔

یہ سائنس میں ایک قاعدہ ہے کہ جو کچھ انسانی عقل یا انسان کو مضبوط کرنا چاہتا ہے، اس حقیقت کے نام پر بھی جب تک - جیسے کہ چرچ کے کاروباری اجلاس میں جو کچھ جانتا ہے اور اسے نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہے،سے بچنے کے لئے، کیونکہ لچکتا سب کچھ ہے جو کبھی انسان کو ذہنی عقل دینے کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

سائنس میں تمام قسم کی عاداتوں پر قابو پانے کے لئے لازمی ہے، کیونکہ اس طرح کی عادات خراب یا غلط ہیں، لیکن اس وجہ سے کہ انسانی عقل کو الگ کر دیا جا سکتا ہے اس سے پہلے انسانی خیالات میں سخت جگہوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر نقطہ جس میں غلط عقل ہمیں کنٹرول کرنے کا دعوی کرتا ہے، ہمیں تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا اکیلے گورننس کرتا ہے۔

یہ دیکھنے کے نقط پر کرسچن سائنس اسکولوں کو موسیقی، فن، وغیرہ کی تعلیم دینے کے لئے شامل کرنے میں ملوث غلطی بھی ظاہر کرتی ہے، دعوی کرتی ہے کہ اس طرح کے اداروں میں یہ الہی عقل کا استعمال کرنے کے لئے ممکن ہے، اس طرح کا استعمال ایک کرسچن سائنس کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ کرسچن سائنس کی سچائیوں کو اس مقصد کے لئے انسانی عقل کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے، جس میں وہ کسی بھی چیز میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ لہذا کرسچن سائنسدانوں کی طرف سے قائم کردہ اور چلانے والی اسکولوں کو ان کے عقل کے تحت ایک خاص فائدہ ہے۔ لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی عقل کیسے بہتر ہوسکتا ہے، آرٹ، موسیقی، اور اس طرح کی سرگرمیاں اب بھی انسان ہیں۔ الہی عقل نہیں ملتا ہے جب تک کہ انسان کو ذہن میں رکھا جائے۔




112۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ شہادت کے فہم اور اپنے خیالات کو اس منفی اور پریشانی کی حالت تک کم کرنے کے خوف کی اجازت دیں جو آپ کو ذخیرہ یا ڈوبا ہوا بنا دیتی ہے تاکہ آپ میں ہر ناخوشگوار چیز آپ کے اندر سےبہہ جائے۔ ایوب نے کہا، ’’جس بات سے میں ڈرتا ہوں وہی مجھ پر گذرتی ہے۔‘‘ خوف ایک منفی بنا دیتا ہے، تاکہ موت کی موجودگی کے ناخوشگوار حصہ اس میں سیلاب، جیسے بجلی میں موجودہ منفی قطب میں بہتی ہے۔

جب ایک بلی ایک کتے سے ڈرتا ہے تو، بعد میں مثبت ہے اور خوفناک اور فرار ہونے والا بلی کی پیروی کرتا ہے۔ تاہم، ایک قریب آٹوموبائل کی وجہ سے ایک بلی مثبت بننے کا باعث بنتی ہے، اور اس کے افسوس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک بار جب کتے منفی ہو جاتا ہے اور بلی سے بھاگنے لگے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ مثبت طور پر ہمیشہ منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس پانی کو زہریلا کرنے میں آسان ہوسکتا ہے جو ایک سنک چل رہا ہے، لیکن کوئی بھی نل سے باہر بہاؤ پانی زہر نہیں سکتا۔

کرسچن سائنس میں انسان کا کام مثبت ہونا لازمی ہے، کیونکہ ابتداء کے پہلے باب میں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کو اقتدار حاصل کرنے کے لئے بنایا گیا تھا، خود اپنے خالق کو خود مختار بنا رہا تھا۔ انسان جو کچھ بھی خوف کرتا ہے وہ منفی ہوجاتا ہے، اور اسے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ جب وہ سیکھتا ہے کہ جنگ کا میدان اپنی شعور کے اندر اندر ہے، تو وہ اس سے پہلے کہ وہ اس سے ڈرتا ہے اور اس سے چل رہا ہے اس کا سامنا کرسکتا ہے۔ وہ تسلیم کرتے ہوئے مثبت ہو جاتا ہے کہ اس کے پاس اس کے پیچھے خدا کی طاقت ہے؛ پھر وہ جانتا ہے کہ چیز اس کی سایہ سے بہتر ہے لہذا وہ خدا کے سوا ہر چیز سے بہتر ہے۔ پھر انسان اپنی صحیح جگہ کو خدا کے نمائندے یا عکاسی کے طور پر قبول کرتا ہے۔

جانوروں کے مقناطیسی عقل کا سازش ہے جس میں ذہنی مشورہ اور معنوی گواہی کے ذریعہ منفی شخص کو منفی حالت میں کم کرنے اور اسے منفی رکھنے کے لئے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ وہ ہر حالت میں ہوا، ہر حالت میں اس کا جسم خطرے کو پڑسکیں۔ کرسچن سائنس کی تعلیمات کے ذریعہ ہمیں اس غلط رویے کو رد کرنا چاہیے، اور خود کو اقتدار کے نقطہ نظر پر دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔




113۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ2 تمیتھیس 2 : 19 میں یہ سیکھنے کے بعد کہ ’’خداوند اپنوں پہچانتا ہے‘‘، اور یہ سمجھتے ہوئے کہ ’’خداوند‘‘ انسان کا روپ لئے ہوئے خدا ہے، یا جیسا کہ وہ ایک منعکس کردہ سچائی، مسیح، جو اکیلا کسی شخص کو غلطی اور سچائی میں، حقیقی اور غیر حقیقی میں امتیاز کرنے کے قابل بناتا ہے، اس لئے آپ یہ سمجھنے لگیں کہ آپ یا کوئی دوسرا شخص الہام کے علاوہ کسی اور نقطہ نظر سے سچائی اور غلطی کے مابین فرق کر سکتا ہے۔

یہ واحد رب ہے جو آپ کو ان کو جاننے کے قابل بناتا ہے۔ یہ آپ کا روحانی تصور صرف یہ ہے کہ آپ کو خدا کی ذات اور خدا کا تعلق ہے، اور انسان جو ہے، اور انسانی عقل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔

انسانی انٹیلی جنس یا تجربے کو یہ خیال کبھی نہیں تیار کر سکتا ہے۔ الٹراولیٹ کرنیں دھاتیں میں خامیوں کا پتہ لگاتا ہے جو کسی دوسرے طریقے سے پتہ نہیں جاسکتا۔ ہمیں غلطی کا پتہ لگانے میں حوصلہ افزائی کرنا سیکھنا سیکھنا۔




114۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین رکھیں کہ فانی عقل فانی سوچ ہے ، بجائے اس یقین کے کہ فانی سوچ حقیقی سوچ ہے۔ اس موضوع کو جو ایک ہیپناٹِسٹ کے کنٹرول کے تحت ہے اس پر یقین ہے کہ وہ سوچ رہا ہے؛ لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ صرف آپریٹر کے تجاویز کے تحت چل رہا ہے۔




115۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس سمجھ میں ترقی کئے بغیر کہ حقیقی شفا کیا ہے، آپ محض بیمار کی شفا کے لئے کرسچن سائنس کے مقصد کو قبول کر لیں۔ اعلی تصور کے مطابق، شفا یابی بیماری جسم سے ایک اچھی جسم میں تبدیلی نہیں ہے؛ یہ صحیح خیال کے لئے انسان کا ایک غلط فہمی بخشش دے رہا ہے، یعنی، انسان کا خدا کا خیال۔ سچائی شفاہت جہنم میں ہموار انسان ہم آہنگ بنانے کی کوشش نہیں کرتا؛ حقیقت یہ ہے کہ یہ غلطی کی غلطی کو ضائع کر رہا ہے۔ سب سے پہلے ہم معاملے میں انسان کو شفا دیتے ہیں؛ پھر ہم اس معاملے کو شفا دیتے ہیں۔




116۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ اْس تصادم میں شامل ہو چکے ہوں جس کا افتتاح سائنس نے کیا ہو، اور غلطی کے ساتھ کراس کی ہوئی دو تلواروں سے اظہار کو کامیاب کیا ہو، تو آپ جمود کے فہم اور اس احساس کے ساتھ آزمائے نہ جائیں کہ آپ مرجھا چکے ہیں، یا آپ کی روحانی خواہش زوال پذیر ہو چکی ہے، کیونکہ آپ پہلے کی طرح فتح کے پھلوں کا مزہ نہیں لے پا رہے۔

یہ ممکن ہے کہ آپ یہ محسوس کر سکیں کہ آپ اب چرچ کی سرگرمیوں میں اطمینان نہیں لیں گے، جو آپ نے ایک بار لطف اندوز کیا تھا۔ لہذا آپ یہ نتیجہ لیں کہ آپ پیچھے پیچھے گئے اور اپنی پہلی محبت میں واپسی کی ضرورت ہے۔

کیا آپ ناراض بیٹے کو مصر میں واپسی کا دورہ دینے اور اپنی جنگ کی تجدید کرنے کی سفارش کرتے ہیں، کیونکہ اب اس کی جنگ جیت گئی ہے، مساج اپنی زندگی سے باہر نکل گیا ہے، اور وہ اپنے باپ کے گھر میں بور ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا پہلا پیار واپس جانا چاہیے؛ لیکن ہمارے پہلا پیار کیا ہے، لیکن روح کے لئے ہماری محبت - اس کی پوری پوری اطاعت - جس نے مصر میں کوئی عقیدہ کا اظہار کیا ہے، یا انسان یا کسی چیز سے محبت کرتا ہے؟ غلطی پر قابو پانے میں اطمینان روح القدس کی اعلی خوشی کی جگہ دیتا ہے، جیسا کہ ہم کلام کے دودھ سے پکارتے ہیں اور گوشت کے لئے تیار ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ غلطی سے تنازعہ، اور اس کے نتیجے میں لاتعداد، صرف ایک تیاری ہے جو دروازے کو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے ذریعہ انسان کو تمام بہاؤ میں بہہ جاتا ہے۔ بڑے بھائی جو گھر میں ٹھہرے تھے وہ سب کے باپ تھے؛ لیکن اس کے ساتھ ایک جنگ تھی جس سے وہ فرار نہیں ہوسکتا تھا، اس سے پہلے وہ روح کے ساتھ اتحاد کی خوشی تک پہنچ سکتا ہے، جس میں انسانی ردعمل اور اس کے برعکس جس میں مصر میں عدم اطمینان کی غلطی کی فتح ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ اطمینان ہے۔ اس طرح اگر محاصرہ تھا کہ ان کی سب سے بڑی خوشی غلطی پر قابو پانے کے لئے، وہ اب بھی اس سبق کو سیکھنا پڑے گا کہ اس طرح کی خوشی ایک انسان ہے۔ کیوں؟ کیونکہ لامتناہی عقل کی وجہ سے کوئی کامیابیاں نہیں ہیں، کیونکہ یہ کوئی تنازعہ نہیں جانتا ہے۔




117۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلطی کو اجازت دیں کہ آپ کے خیالات کو سخت اور کرخت بنا ڈالے، جبکہ اسے خدا کے ہاتھوں میں لچکدار اور نرم بننا سیکھنا چاہئے، تاکہ وہ سب جو انسانی ہے الٰہی کے سامنے رکھا جا سکے۔

مٹی کی سختی کے بعد، آلو اسے مزید نہیں بنا سکتا۔ جب پانی بند ہوجاتا ہے تو اسے ہتھوڑا سے مارا جا سکتا ہے۔ اگر دھچکا گر گیا تو اس سے پہلے پگھل جانا چاہئے، تاہم، ہتھوڑا ہڑتال کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوگا۔ نتیجے یہ ہے کہ جب آپ فکسڈ اور سخت بننے کی اجازت دیتے ہیں تو، آپ کے عقل کی حالت نہ صرف خدا کو آپ کی رہنمائی سے روکتی ہے بلکہ آپ کے خیال میں کچھ غلطی دیتا ہے جو ہتھوڑا کر سکتی ہے۔

لہذا، عقل کا بہت رویہ جو ہر وقت باپ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، ’’میری مرضی نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو‘‘،غلطی کے خاتمے کے خلاف ایک تحفظ ہے۔ مسز ایدی جانتے تھے کہ دھماکے سے جھکنے کے بعد، یا غلطی کے حملوں سے پہلے پگھل گئے، کیونکہ، خدا کی طرف سے ہدایت کرنے کے لئے، اسے لچکدار ہونا پڑا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ کس طرح برداشت کرنے میں کامیاب تھے، اس نے ایک مرتبہ کہا، ’’جب مجھ پر قدم ہے تو میں گھاس کرتا ہوں، اور جب اسے اٹھایا جاتا ہے تو میں قدرتی طور پر آتا ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ غلطی کے چلنے کے تحت پگھل یا باندھنے کی یہ بہت صلاحیت تھی، اس نے اپنی سوچ کی خواہش اور باپ کی طرف سے ہدایت کی جس کے نتیجے میں انہوں نے سوچا تھا، اس کا نتیجہ تھا۔

یسوع ہمیں دوسرے گندگی کو تبدیل کرنے کے لئے مشورہ دیتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، جب آپ پر غلطی ہوتی ہے، تو سخت اور محنت نہ کرو، لیکن اس پر پابند رہو، جیسا کہ ماسٹر نے کیا تھا، جب اس نے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے گوشت کے ساتھ کر سکتے ہیں جیسا کہ وہ فٹ ہوتے ہیں، لیکن وہ دیکھیں گے کہ وہ اس نے خدا سے نہ لوٹ لیا اور نہ ہی ناراض خیالات سے جس نے خدا نے اسے ہدایت دی۔

ہماری کوشش کا سبب بننے کے بجائے اس کی وجہ سے غلطی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ جب ہم اثر میں غلطی کا سامنا کرتے ہیں تو، ہم خوف کے ذریعے کرتے ہیں، اور نتیجہ ایک سختی ہے کیونکہ برائی حقیقی ہوتی ہے۔ جب ہم اس وجہ سے غلطی کا مقابلہ کرتے ہیں تو ہم اس کی حقیقت پر یقین کرنے کے لئے آزمائش کا مقابلہ کرتے ہیں۔

اگر آپ ایک کشتی پر تھے اور آپ نے اسے برفبرگ میں حادثے کے بارے میں دیکھا، تو آپ اس کے خلاف سختی لگے گا جو واقعی حقیقی اور ٹھوس لگ رہا تھا۔ لیکن اگر آپ نے اچانک دریافت کیا کہ برفبردار صرف ایک دھند بینک تھا، تو آپ آرام سے اور اس کے ذریعے غیر جانبدار ہوجائیں گے۔ اس معاملے میں صحیح مزاحمت برفبر کے خلاف نہیں ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے خلاف ایک برفبر ہونے کا یقین ہے۔




118۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جائیں کہ آپ کا گناہ، بیماری اور مادے کے عقائد کا انکار کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ دو مالکوں کی غلامی نہیں کر سکتے۔ آپ کو خدا کی چیزوں کو اپنے آپ کو حقیقی طور پر کرنا ضروری ہے۔ اس سمت میں پہلا قدم فانی عقل کی غیر حقیقی چیزوں کو بنانے کے لئے ہے۔ روح کی حقیقت اور روحانی وجود کے لئے راستہ بنانے کے بجائے آپ کو کسی بھی وجہ سے ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے۔




119۔ دیکھنا ایسا نہ ہو مادی فہم کی جھوٹی گواہی آپ کے لئے اس تجویز کو قبول کرنے کا موجب بنے کہ کوئی معاملہ مایوس کْن ہے۔ ہر صورت میں امید ہے کہ آپ اس بنیاد سے شروع کرتے ہیں کہ آپ کا دعوی ہے۔ آپ غلطی کی حقیقت کو دعوی کے طور پر تسلیم نہیں کرسکتے ہیں، اور اس بنیاد سے یہ غیر حقیقی بناتے ہیں اور اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

اس بات پر غور کریں جو مسز ایڈی نے اچھائی کے اتحاد میں کی ہے، صفحہ 54: ’’ یہ کہنا کہ جھوٹ دعوی ہے، جسے بیماری کہتے ہیں، یہ سب بیماری سے متعلق ہے؛ کیونکہ اس کے سوا جھوٹے دعوی نہیں ہے۔ شفا حاصل کرنے کے لئے، کسی کو ایک غلط دعوی نظر آنا چاہئے۔ اگر دعوی اس خیال میں موجود ہو تو اس کی بیماری کسی بھی حقیقت کے طور پر قابل بن جاتا ہے۔ جھوٹے دعوی کے طور پر بیماری کا احترام کرنے کے لئے، اس کے خوف کو ختم کرنا ہے؛ لیکن یہ دعوی کے نام نہاد حقیقت کو تباہ نہیں کرتا۔ پورے ہونے کے لئے، ہم غلطی کے ہر دعوی کے لئے غیر معقول ہونا لازمی ہے۔‘‘




120۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہل پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیچھے مڑ کر دیکھیں۔ سچائی کا کام اور اثر غلطی کو تباہ اور بے نقاب کرنا ہے۔ ایک پٹا سب سے اوپر مٹی کے اوپر بدل جاتا ہے اور اس کو ظاہر کرتا ہے جو پوشیدہ ہے۔ انسانی عقل کی لہر یہ ہے کہ اس سطح پر ہموار ہر چیز کی خواہش ہے، اگرچہ، ذیل میں، طے شدہ غلطی ہے۔

اگر ایک طالب علم غلطی کو ختم کرنے کے بعد شروع کرنے کے بعد تیار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، اور جنگ جاری رکھے جب تک کہ غلطی مکمل طور پر سامنے آئے اور تباہ نہ ہوجائے، تو وہ اپنے ہاتھ پر ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہے؛ اپنی چھپی ہوئی غلطیوں کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ وہ اس وقت خواہش کے ساتھ نظر آئیں گے جب انہوں نے انسانی ہم آہنگی کا لطف اٹھایا تھا، اگرچہ اس کے خیال میں چھپے ہوئے غلطی موجود تھی۔

ایک بار پھر آپ ایک طالب علم سے ملنے والے ہیں جو کرسچن سائنس میں آنے کے بعد، اس سے شکایت کرتے ہیں، اس سے ملنے کے لئے اس کا بہت بڑا سودا ہے کہ وہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس شکایت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اس وقت تک قابو پانے میں مدد کررہا ہے جب اس نے اپنے ہاتھوں کو ہاتھ ڈالنے سے پہلے، ان کا انسانی تجربہ نسبتا ہموار تھا کیونکہ غلطی کم یا کم سے کم تھی۔ اس طرح سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آسمان کی بادشاہی کے لئے مناسب نہیں ہے، کیونکہ وہ آگے بڑھانے کے لئے لازمی فیصلہ نہیں کرتا۔




121۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ڈر سے شروع کر کے ڈر کے خوف تک جائیں، یعنی خود ڈر کے خوف والے نقطہ تک۔ یہ انتباہ ایک عارضی رجحان کا حامل ہے جس نے کرسچن سائنس میں پیدا ہونے والی خوف کو سنبھالنے کے صحیح طریقے سے غلطی کی وجہ سے پیدا کیا ہے۔ سائنسی طریقہ یہ ہے کہ آپ کو ڈرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، اور خوف سے کچھ بھی نہیں، خوف کے تصرف کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، یقین ہے کہ اگر آپ نہیں کرتے، تو خوف کچھ ناخوشگوار اظہار کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

تمام خوف اس عقیدے پر مبنی ہے کہ انسان کو خدا کے سوا کوئی وجود نہیں ہے۔ جب یہ عقیدہ انسانی شعور میں ظاہر ہوتا ہے تو، بعض خطرناک راستے میں، یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناخوشگوار احساس نے خوف کا نام دیا۔

خوف کسی چیز کا نتیجہ نہیں ہے؛ لیکن کچھ خوف کا نتیجہ ہے۔ اگر کوئی اس تنویم کے ساتھ منسلک دھوکہ نہیں سمجھتا ہے، وہ خوف سے ڈرتے ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس حقیقت کو قائم کرنے کی کوشش کی ہے کے بعد بھی بری طاقت نہیں ہے، اور خوف کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

وہاں ماؤں ہیں جو، سیکھنے پر یہ ان کے خوف میں ہے جب ان کے بچے میں بیان کیا جاتا ہے، ان کے چھوٹے بچوں کے لئے خوف زدہ ہونے سے ڈرتے ہیں۔ ایک سے زائد مثال میں یہ تشویش غیرمعمولی پریکٹیشنرز کی طرف سے بڑھ گئی ہے، جو ماں سے کہتے ہیں، ’’ اب آپ کو آپ کے بچے کے لئے خوف نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ یہ تمہارا خوف ہے جو آپ کے بچے کو بیمار بنا رہا ہے۔‘‘ اس سے ماں کی مدد سے اس کے خوف سے خوف زدہ ہونے کا خوف نہیں ہوتا، لیکن اکثر اسے بڑھاتا ہے۔

ایک پیارا محبت کرنے والے نے اس بیماری کو پورا کرنے کی کوشش کی جس کی ماں نے بیمار بچے کے ساتھ اس سے کہا، ’’ آگے بڑھو اور اپنے بچے کے لئے ڈرتے رہو جیسا کہ آپ ہوسکتے ہیں، لیکن یقین نہیں کرتے کہ آپ کا حصہ اس طرح کا رویہ خدا کے بچے کو چھو سکتا ہے؛ ایک لمحے کے لئے بھی اپنے خوف کو اپنے بچے کو چھونے یا نقصان پہنچانے کے لئے نہ ڈالو یا جو کچھ بھی ہو، اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘ ایک مثال میں اس طریقہ نے ماں کو اس کے خوف کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں فعال کیا۔

بچہ رابن اس کے گھوںسلا میں خوفزدہ نہیں ہے، لیکن یہ خوف سے بھری ہوئی ہے جب ماں اسے دھکا دیتا ہے، اگرچہ وہ اس کی حفاظت کے لئے صحیح رہتی ہے۔ ہمیں خدا کی ہمیشہ کی دیکھ بھال کی بنیاد پر خوف کا سامنا کرنا ہوگا، جیسا کہ الیشع نے دوسرے سلاطین 6: 16 میں کیا، جب اس نے اعلان کیا، ’’۔۔۔ہمارے ساتھ والے اْن کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں۔‘‘ یہ حقیقت اگلے مرحلے کے لئے راستہ کھولتا ہے، یعنی، سائنسی حقیقت کے طور پر جاننے کے لئے کہ آپ کے خلاف آپ کے پاس کچھ نہیں ہے کیونکہ خدا ہی ہے۔

جیسا کہ آپ خوف کے خاتمے کے لئے قدم اٹھاتے ہیں، یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے آپ کو خوف نہ دیں، یقین رکھو کہ، اگر آپ کو ایک بار پھر جانے دیں تو یہ آپ کو خدا کی لامتناہی دیکھ بھال سے روک سکتا ہے۔ کبھی کبھی یہ اعلان کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ’’ آگے بڑھو، فانی عقل، اور جیسے ہی تم ہونا چاہتے ہو ڈرتے رہو، لیکن تم مجھے چھو نہیں سکتے ہو، یا مجھے خدا کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لے لو. اور نہ ہی تم مجھے یقین کر سکتے ہو کہ میں نے بہت لوٹ لیا ہے۔ مجھے ڈر نہیں ہے مجھے یقین نہیں ہے کہ خدا نے مجھے خوفزدہ کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ میں انسان ہوں، اور انسان خوف نہیں کرسکتا، خدا کے سوا کوئی اور نہیں۔‘‘

خوف کے سلسلے میں مندرجہ ذیل الفاظ ہمارے محبوب رہنما کے لئے منسوب ہیں: ’’ خوف کا احساس مت کرو۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم قادر مطلق خدا کی مانند محفوظ ہیں۔ خدا کا خیال بالکل خوف نہیں کر سکتا وہ جانتا ہے کہ صرف ایک عقل ہے۔ کیا وہ اس کے عقل سے ڈرنے کا استعمال کرنے والا ہے؟ کیا وہ خدا میں رہتا ہے اور اب بھی ڈرتا ہے؟ کیا خدا کے باہر یا اس سے باہر کوئی چیز ہے؟ خدا کے اندر کچھ بھی خوف کرنے کے لئے ہے؟ خدا نے سب کو بنایا اور اسے اچھی طرح سے اعلان کیا۔ ‘‘

’’ خوف خوفناک ہے، ذہنی، بے جان، شعور میں شامل نہیں۔ خوف، عقل، جسم، تفہیم پر عمل نہیں کر سکتا؛ خود کو ذہنی یا مقصد کے طور پر ظاہر نہیں کرتا؛ میرا یا کوئی نہیں ہے اور اگر مجھے ڈر لگتا ہے، تو یہ میرا خوف یا تشویش نہیں ہے اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔خدا نہیں ڈرتا۔ میرا علاج ڈرنا نہیں ہے۔ ایک کرسچن سائنس کے علاج کے تمام شاندار موجودگی، طاقت، خوف کے قانون کو ختم کر دیتا ہے۔ خوف، جعلی عقائد، بغیر کسی وجہ، اثر، یا تسلسل کے اندر ایک جعلی عقیدہ ہے۔ ‘‘




122۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی میں سے براہ راست طاقت کو ختم کرنے کے لئے آپ اسے بلاواسطہ طاقت دے دیں جو یہ یقین کرنے سے آئے گی کہ اس میں آپ کو یقین دلانے کی طاقت ہے جو یہ تنویمی تاثر کو بروئے کار لاتے ہوئے کرتی ہے، حتیٰ کہ جب آپ یہ محسوس کرنے کی کوشش کررہے ہوں کہ چونکہ یہ کچھ بھی نہیں ہے اس لئے یہ آپ پر کوئی طاقت نہیں رکھتی۔

کبھی کبھی طالب علموں نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ برائی کچھ نہیں ہے، اور اس کی طاقت نہیں ہے؛ اور پھر اس بات کا یقین ہے کہ یہ ان کے وجود میں یقین نہیں کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ واقعی یہ سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ہم بظاہر ہیں تو ہم غلط جھوٹ سے بچ سکتے ہیں کہ اس کی بہت مسلسل کوشش کی وجہ سے، ایک پتھر پہنے ہوئے پانی کو گرنے کی طرح، غلطی یہ ہے کہ ہمیں اپنی حقیقت کے مطابق اس حقیقت پر یقین کرنے کے لئے چلانے کی طاقت ہے۔

سورج زمین سے متعلق چلتا ہے اس سے کہیں زیادہ جھوٹ گواہی نہیں ہے؛ ابھی تک مسلسل ثبوت یہ نہیں ہے کہ روشن خیال لوگوں کو یہ سچ کے طور پر قبول کرنے کے لئے مجبور کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اگر تسلسل نے جھوٹی گواہی دی ہے تو، اس روزانہ برہمانی ضرور ہماری طاقت پر غالب ہوگی۔ اس کے باوجود کوئی بھی نہیں ہے۔

ہمیں غلطی کی طرف یہ ایک ہی رویہ اختیار کرنا چاہئے، یعنی، اس کے جھوٹے دعووں کی تسلسل اور اس کی گواہی کسی طاقت کی طاقت نہیں ہے جو ہمیں اس پر یقین کرنے کے لئے، ایک بار جب ہم نے اس بدسلوکی نوعیت کو سیکھا ہے۔




123۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ روحانی طور پر خود کو بڑھانے اور فروغ دینے کی خواہش اور کوشش میں آپ اپنی ترقی کی پیمائش خود کا موازنہ خدا سے کرنے کی بجائے انسان سے کرنا شروع کردیں۔ جب آپ اپنے آپ کو انسان کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، تو آپ اطمینان اور خود مطمئن ہونے کے خطرے میں ہیں، کیونکہ آپ اتنی بہت سارے تلاش کرتے ہیں جو آپ سے زیادہ بدتر ہیں۔ جب آپ اپنے آپ کو خدا کے کامل آدمی کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں - جو آپ کے خدا کا خیال ہے - آپ کو وقت سے قبل اطمینان کا خطرہ نہیں ہے، یا مہذب احساس۔

جب آپ اپنی مرضی کے مطابق معیار کے طور پر انسان کی خدا کا خیال استعمال کرتے ہیں، تو آپ آہستہ آہستہ اپنے انسانوں کو شامل کرنے اور خدا کے کامل خیالات کے طور پر دیکھنے کے لئے اپنی کوششوں کے کمپاس کو بڑھا دیں گے؛ جہاں تک آپ کے موازنہ کا بنیاد بشرطیک انسان ہے، آپ کی کوششیں محدود اور ذاتی رہیں گی۔




124۔ دیکھنا ایسا نہ ہو آپ کی اچھائی کا فہم یکساں ہونے کی بجائے متقابلی ہو، الٰہی کی بجائے انسانی ہو۔ انسانی اچھے صرف اس کے برعکس اچھا لگتا ہے، اس طرح مخالفوں کے عقائد کے ذریعے برائی کا احساس کی حمایت کرتا ہے۔ جب کوئی کہتا ہے، ’’میں ٹھیک محسوس کرتا ہوں، ‘‘ تو آپ ان سْنی وجہ یہ سْن سکتے ہیں، ’’کیونکہ میں بیمار نہیں ہوں۔‘‘

موازنہ اچھا، جہاں صحت کا بیان بیماری کی حقیقت میں ایک عقیدے پر مشتمل ہے، یقین ہے کہ یہ سب اچھا ہے کی سمجھ کی طرف صرف ایک قدم ہے۔ انسانی یا معقول چیز کی غلطی یہ ہے کہ یہ برائی کی حقیقت کا احساس ہے۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ انسان کے معنی کو بہتر بنانے کے لئے، انسانی معنوں کا توازن ممکنہ طور پر ختم کرنے کے لئے، جس کے ساتھ اس کے ساتھ ایک مخالف امتیاز کے وجود میں یقین رکھے۔ یہ ایک اچھا احساس ہے جو یونیفارم، سبھی گستاخ ہے، اور اس کے برعکس کوئی بھی نہیں جانتا، الہی ہے۔

جب خدا نے سب کچھ دیکھا جس نے اس نے بنایا تھا، اور دیکھو، یہ بہت اچھا تھا - یہ بہت اچھا تھا، کیونکہ یہ برائی نہیں تھی، لیکن اس وجہ سے کہ یہ سب اچھے کے ذریعہ سے آیا۔ مقابلے میں اچھے کی منظوری یہ تھی جو زمین سے اٹھ گئی تھی۔ اس غلطی سے اچھے اور برائی کے علم کا درخت کا نتیجہ تھا۔

جب تک کہ آپ کی نیکی کا احساس یونیفارم اور نسبتا نہیں ہے، اس سے اس کے برعکس حقیقت کی عقیدت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے، جسے آپ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بشر اعلان کرتے ہیں، ’’ کیا یہ خوبصورت دن نہیں ہے! میں ٹھیک محسوس کر رہا ہوں! وہ ٹھیک آدمی ہے! کتنی اچھی شادی ہے۔‘‘ اس طرح کے بیانات حقیقت کے اس بات کا یقین اور اس کے برعکس کے امکان کو چھپاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو رہائشیوں میں رہتے ہیں جنہوں نے سورج ہفتوں کے لئے دیکھا ہے، اور بادلوں یا بارش نہیں، سورج کی روشنی میں متفق نہ ہو۔ وہ اس سے بیمار ہو گئے ہیں۔

ماسٹر نے ایک آدمی کو اسے اچھی بلایا (مرقس 10) بلایا۔ شاید انہوں نے محسوس کیا کہ یہ اچھی بات تھی جو مردوں کے مقابلے میں یا اس کے برعکس تھا جو اچھے نہیں تھے۔ اس طرح کا ایک تصور انسان اور گمراہ ہو گا، جو انسان کے ممکنہ براء کے اعتبار سے ہوسکتا ہے۔

جب تک کہ وجود کا کوئی احساس مقابلے اور مخالفین پر مبنی ہے، وہ انسانی عقائد اور برائی، ہم آہنگی اور افسوس، محبت اور نفرت، زندگی اور موت کے درمیان چلتا ہے جس میں موت کی عقیدت کے پنڈول پر چڑھا رہا ہے۔ ایسے عقائد کسی بھی وقت ممکنہ ہم آہنگی کا رد عمل بناتا ہے۔ حقیقت کی سائنسی شعور اور تمام ساری خوشحالی کی زد میں کوئی برعکس نہیں ہے، کیونکہ یہ اس بات پر مبنی ہے کہ خدا سب ہے، اور جو کچھ اس نے پیدا کیا وہ خدا کی طرح ہے اور اسی طرح کامل ہے۔




125۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ ماننے لگیں کہ بدلاؤ کا نام نہاد دعویٰ آپ کی خود کے خیالات سے دور ہے،جو آپ کو کسی بھی وقت چوٹ پہنچا نے کا ذمہ ہے، تو اس سے آپ سے ہٹ کر ایک حتمی دشمن کے طور پر نپٹنا چاہئے۔ حقیقت میں بدبختی جانوروں کی مقناطیسییت، یا برہمانی کی ایک چال ہے، جس سے کسی کو موت کا عقیدہ قبول ہوتا ہے، جب، ایک پنڈم کی طرح، یہ انسان کو اچھا لگتا ہے، تاکہ خود کار طریقے سے اور آنکھوں سے وہ اسی عقیدے کے بدلے کا سامنا کرنا پڑا۔

بدلاؤ میں یقین ایک قانون نہیں ہے لیکن ایک چال۔ ایک تجویز کو قبول کرنے میں کوئی واضح نقصان نہیں دیکھتا ہے، ’’یہ خوبصورت دن نہیں ہے!‘‘ اس کے باوجود پینڈول کے جھگڑے کا سامنا برا موسم خراب ہے۔ خدا کا موسم پینڈول کی طرح نہیں ہے؛ یہ کوئی مخالف نہیں جانتا۔ یہ ہر وقت ضرورت کو پورا کرتی ہے، چاہے وہ سورج یا بارش کے لئے ہو، گرمی اور سرد، سیلاب اور خشک ہونے سے بچنے کے بغیر۔

نتیجہ یہ ہے کہ انفرادی یا ذاتی طور پر کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ یونیفارم اچھا ہے ۔ اس بیماری کا علاج کرنے میں سمجھتے ہیں، چاہے آپ اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کا علاج کر رہے ہو، آپ کو محض عظیم دنیا میں ہم آہنگی کا تھوڑا سا نقطہ نظر قائم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ انفرادی صحت، یا ذاتی نگہداشت کو نکالنے کی کوشش، مخالفوں پر اعتماد کو برقرار رکھتا ہے، جبکہ صحت اور ہم آہنگی کی موجودگی اور حقیقت کی عالمگیر کو ایک برعکس بھی شامل نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا آپ کو یہ دیکھنا ضروری نہیں ہے کہ آپ نے ہم آہنگی، صحت یا اچھے کی حقیقی شعور قائم کی ہے، جب یہ عالمی سے کہیں کم ہے، یا جب آپ اس کے برعکس ممکن ہو یا اس سے بھی سوچتے ہیں۔

اگر آپ صحت میں یقین رکھتے ہیں کہ بیماری کے برعکس، آپ کو اب بھی بیماری کی حقیقت میں یقین ہے۔ اگر آپ زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں کہ موت کی برعکس، یا کمی کے برعکس کثرت سے، آپ کو غلطی کا احساس برقرار رکھا جا رہا ہے۔

آپ کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ہم آہنگی واحد حقیقت ہے، اور اس کا کوئی برعکس نہیں ہے۔ اس میں تبدیلی کا امکان بھی شامل نہیں ہے۔ آپ کی نیکی اچھا ہے روحانی اچھا نہیں، جب تک کہ آپ کا تصور اتنا عالمگیر اور وردی ہے جس کا مخالف ناقابل اعتماد نہیں ہے۔

ایک بار جب مسز ایڈی کا طالب علم بیمار تھا، اور ان کا کام مصیبت سے ملنے کے لئے نہیں دیکھا۔ اس نے اپنی سوچ کو دانشوروں کو کھول دیا تاکہ مصیبت کو معلوم کیا جاسکتا تھا، اور جواب واپس آ گیا تھا کہ وہ اپنی صحت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تو وہ کتاب کی سچائی کا احساس کرنے کی کوشش کی، ’’ زمین کو خدا کے علم سے بھرایا جائے گا، کیونکہ پانی سمندر کو ڈھونڈتی ہے۔‘‘ ان کی کوشش دنیا میں انسانیت کی تکلیف کے بغیر ذاتی نفاذ حاصل کرنا تھا۔ یہ ہم آہنگی قائم کرنے کی ایک خود مختاری کوشش تھی، حالانکہ اس نے اب بھی اس حقیقت کی حقیقت میں یقین رکھی ہے، جس نے اپنی کوششوں کو غیر جانبدار اور بدنام کیا۔ جب اس غلطی کو درست کیا گیا تو وہ شفا دیا گیا۔




126۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یہ یقین کرنےلگیں کہ جسے ذاتی رائے کہا جاتا ہے وہ کچھ ایسا ہے جو فانی انسان سے پیدا ہوا ہے۔ بشر کا کوئی اصل خیال نہیں ہے۔ ایک یا پھر الہی عقل کی عکاس کرتا ہے، یا بشمول انسانی عقل میں عقل کو جذباتی ہے جس میں تمام غلطی ہوتی ہے۔

کسی بھی صورت میں، کسی کے خیالات ان کا کبھی نہیں ہیں۔ لہذا، جب ایک طالب علم خدا کی عکاسی اور آواز نہیں دے رہا ہے، تو وہ آواز دیتا ہے، ذاتی رائے نہیں، لیکن جانوروں کی مقناطیسی۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے، لیکن یہ صرف دھوکہ ہے۔ موت کبھی نہیں سوچتے ہیں۔




127۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ ذہنی دلیل کہلانے والے مرحلے کو اس حد تک بلند کر دیں جہاں آپ اسے روحانی ادراک سے زیادہ اہم سمجھیں، جو روح کی عکاسی کرتا ہے اور دلیل کے بغیر شفا دیتا ہے۔

منطق سائنس اور صحت کے صفحہ 115 پر دیا گیا ہے کے طور پر انتقام ریاست، یا دوسری ڈگری سے متعلق ہے، کیونکہ روحانی احساس بحث نہیں کرتا، لیکن جانتا ہے۔ جب آپ سچے بحث کرتے ہیں، تو آپ اس میں موجود چیز کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہیں جو سچ نہیں جانتے، اور اس وجہ سے، اس سے قائل ہونا ضروری ہے۔ دلیل کے عمل میں انسانی عقل کو لین دین کرنے کی ضرورت کی کوشش کی جاسکتی ہے، تاکہ یہ حقیقت کے مظاہرے کے ساتھ مداخلت کے لئے تیار رہیں۔ یقینا دلیل ضروری ہے کہ ان لوگوں کے لئے جو انسان کو ذہن میں نہیں سمجھ سکے۔

ایک کتاب ایجنٹ آپ کے دروازے پر آتا ہے۔ یہ بتانے کے درمیان ایک فرق ہے کہ آپ کو اس کی پیشکش کرنے میں کیا دلچسپی نہیں ہے، اور اس کے ساتھ فیصلہ اور اختیار کے ساتھ، یا اس کی فروخت کی بات سننے اور اس کے بعد ان کے دعوی کو رد کرنے کی کوشش کرنا۔

مختلف ذرائع سے جمع ہونے والے مندرجہ ذیل کوٹشن دلائل کے عمل کے بارے میں ہمارے لیڈر کے خیال میں کچھ بصیرت دیتے ہیں:

سائنس اور صحت کے صفحہ 454 پر وہ لکھتے ہیں، ’’ یاد رکھو کہ خط اور ذہنی دلیل صرف انسانی معاون ہیں جو حقیقت اور محبت کی روح کے ساتھ سوچ میں لانے کے لئے مدد کرتا ہے، جو بیمار اور گنہگار کو شفا دیتا ہے۔‘‘

’’ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس دلیل کو سوچنے کی طرف سے کام کو روکنا ہے۔ خدا کے ساتھ رکھو۔ یسوع نے جھوٹ (غلطی کی دلیل) کے ساتھ بحث کرنے کے لئے روکا نہیں، یہ نہیں کہا،’ اب، شیطان، میں آپ کے ساتھ اس کے بارے میں بحث کروں گا؛‘ اْس نے کہا، ’اے شیطان، دور ہو۔‘ اْس نے ’کہا اور ہوگیا۔‘اسے باہر نکالو۔ تمہیں بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ جاننا خدا اور اس کے خیال کو جانیں، اور گناہ کے بارے میں بحث نہ کریں۔ سال پہلے میں نے اس سے پہلے یہ بحث کی تھا۔‘‘

’’ وقت آتا ہے، اور میں محسوس کرتا ہوں کہ جلد ہی ہو جائے گا، جب کرسچن سائنسدانوں کو علاج دینے میں شعور کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی؛ ایک مسیحت کی زندگی کے لئے مسلسل خواہش اور کوشش کے ذریعے، ان کی شعور اتنا صاف ہو جائے گی کہ شفا یابی قدرتی طور پر پھولوں سے خوشبو کے طور پر ان کے لئے تیار ہیں جو اس کے لئے تیار ہو جائے گا۔‘‘

’’ اگر آپ ایک کرسچن سائنسدان ہیں اور لفظ بول سکتے ہیں اور یہ ٹھیک ہے؛ لیکن اگر آپ کو بحث کرنا ہوگا، تو آپ اس بات پر محتاط رہیں گے کہ آپ کیا بحث کرتے ہیں۔ آپ پورے دن اپنی اپنی کرسی میں بیٹھ سکتے ہیں اور خوبصورت الفاظ سے کہیں گے اور کچھ بھی نہیں ہے؛ یہ روح کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنے شفا یابی کے ساتھ استعمال کیا تھا - خدا قادرہے۔ جب تک میں نے طالب علموں کو تعلیم نہیں دی شروع کی تو میں نے کبھی بھی یہ بحث نہیں کیا تھا اور مجھے یہ سوچنا تھا کہ یہ کہاں کھڑی تھی۔ اب خدا کی طرف رجوع اور پکڑو۔ خدا کی فکری میں رکھو؛ کچھ اور نہیں ہے۔‘‘

’’ بیماری کا علاج کرتے وقت آپ کا رویہ یہ ہے کہ ایک وشد تخیل سے آتا ہے، اور میں اسے عقل سے سنبھالتا ہوں، اپنے آپ کو سمجھ میں لانے کی بجائے تخیل کی بجائے، تخیل کی بجائے، اور ایک پرسکون فہم احساس کے ساتھ کسی بھی طرح کی عدم اطمینان کا عمل غلطی اور روح کی شعور ہم آہنگی، جس میں کسی بھی معتبر عقائد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔‘‘




128۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ بدکار عزائم ، تحاریک، خواہشات اور روحانی آرزو کی کمی کو آپ انسان کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے انہیں حیوانی مقناطیسیت یا مائل کرنے والی ذہنی حالت کی بجائے بنیادی خرابیوں کے طور پر قبول کرنے لگیں۔ ایک کرسچن سائنسدان بننے کے لئے آپ کو انسان کو اپنے ذریعہ خالص ہونے کی حیثیت سے پاک ہونا چاہیے، جو خدا ہے، بنیادی طور پر اور روحانی طور پر آواز کی حیثیت سے، اور اس کے مطابق سماجی جانوروں کی نوعیت صرف اس کی طرف سے جھوٹی عقیدے سے منسوب ہوتی ہے۔

احبار 16 میں، ہارون کو ہدایت دی گئی ہے کہ اسرائیلیوں کی تمام بدکاری فریب کے سربراہ پر رکھے جائیں اور اسے جلدی سے مرنے کے لئے جانے دیں۔ علامتی طور پر یہ انسان کی بجائے جانوروں کے مقناطیس میں تمام غلطی کا اظہار کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اسے کسی کو برقرار رکھنے یا اس کی حمایت کرنے سے روکنے کے لئے، اسے کسی بھی شخص کی مدد سے انکار کرنے سے انکار کرنے کے لئے، اسے مرنے کے لئے کسی بھی مردہ جنگل میں بھیجنے کی اجازت دیتا ہے. انسان کا حصہ۔

ایک بار جب شوہر نے شکایت کی کہ اس کی بیوی ’’کو اْس کی بکری مل گئی ہے۔‘‘ ایک دوست نے اسے بتایا کہ یہ شکست سے زیادہ قریب تھا۔ اْس نے کہا، ’’ تم کیوں نہیں کہتے ہو کہ تمہاری بیوی کی بکری تمہاری بکری ہو جاتی ہے؛ یہ اس میں جانوروں کی فطرت ہے جو آپ میں جانوروں کی فطرت کو برباد کرتی ہے۔ پھر اگر آپ دونوں بکریوں کو بغیر کسی بھی شعبے کے جنگل میں بھیج سکتے ہیں، تو آپ دونوں جانوروں کے مقناطیس سے پاک ہوں گے۔‘‘

اس آدمی اور اس کی بیوی دونوں سائنسدان تھے، اور اس طرح بے نظیر کی اہمیت کی اہمیت کو یاد دلاتے تھے۔ اس کے بعد جلد اور رگڑ ختم ہوگئی۔

ایک خوبصورت آئینہ میں ایک غلطی کبھی بھی درست نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن اگر یہ پتہ چلا گیا کہ شیشے میں ایک بلبل کیا ہوا تھا تو صرف گلاس کی سطح پر تیل کا ایک قطرہ تھا، یہ آسانی سے آسان ہوسکتا ہے۔ ہر خرابی جو آدمی یا انسان کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اسے غیر جانبدار اور جانوروں کی مقناطیسییت کی حیثیت سے تسلیم کیا جا سکتا ہے، اور اس وقت یہ ہوتا ہے کہ اس کی بظاہر حقیقت ثابت ہو جاتی ہے، اور یہ تباہی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔

جب تک وہ اس کی مٹھی میں مضبوطی رکھتا ہے، وہ ایک کیلے کو چھپا نہیں سکتا۔ جب تک وہ انسان اور فاسد شخص کے طور پر سوچ میں آدمی رکھتا ہے، اس کو کوئی پردہ نہیں رکھ سکتا۔

ایک خوبصورت تیتلی کو برانچ پر روشنی پھیر سکتی ہے، صرف اس لمحے کو پرواز کرنے کے لئے جو اسے آرام دہ کیا گیا تھا. لیکن اگر اس وقت آپ نے اسے پن کے ساتھ چھوڑا تو اسے پکڑ لیا جائے گا۔ جو کوئی اچھا کرسچن سائنسدان ہونے کی کوشش کر رہا ہے وہ لمحات میں لمحات میں ڈوب سکتا ہے، صرف اس وقت تک اٹھتا ہے جب اس کا خیال باقی ہوجاتا ہے۔ ہمیں ایسے وقتوں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم ایسی غلطی کو ذاتی نہیں بناتے، اور اس وجہ سے لاپرواہ میں اضافہ ہوتا ہے جو اس طرح کے ایک کارکن کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس وقت جب وہ بلند ہونے کے لئے تیار ہو۔




129۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ مادے کو ختم کرنے اور فہم کی چیزوں کو نیست کرنے کے مرحلے کو غلط سمجھنے لگیں۔ اس بات کو سمجھو کہ اس چیزوں کو صرف مواد کی حیثیت سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ہم نے وجہ سے غلط اثرات مرتب کیے ہیں اور عقل کے علاوہ کسی چیز کے طور پر خود سے زندگی، مادہ اور انٹیلی جنس رکھی ہے۔ جب ہم معاملات کی غلطی کو سیکھتے ہیں، تو ہم یقین کرنے کے قابل ہیں کہ خدا ہمیں اس پر ناراض کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس طرح ہم طالب علموں کو اپنی لاشوں سے نفرت کرتے ہیں، پیسے سے نفرت کرتے ہیں، اپنے کھانے سے نفرت کرتے ہیں، محسوس کرتے ہیں کہ یہ معاملہ بہت زیادہ ہے۔

حقیقت کے لحاظ سے ہمیں پیسے سے پیار کرنا چاہئے، کھانے سے محبت، اپنے جسم سے خدا کے روحانی خیالات کے لئے چینل کے طور پر محبت کریں، اور احساس کریں کہ یہ صرف ایک جھوٹ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ وہ مادہ یا عقل کے لئے چینل ہیں۔ یہ یہ جھوٹ ہے کہ ہمیں نفرت کرنا اور تباہ کرنا ہے۔ جب ہم پیسے سے پیار کرتے ہیں، مثال کے طور پر، ہم کبھی تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ اس وجہ سے اس کی وجہ سے مادہ، اثرات یا سایہ کا خیال ہے۔

ہمارا کام یہ ہے کہ ان کی خصوصیات زندگی، سچ، انٹیلی جنس اور مادہ کے تمام عقائد سے باہر نکلیں، تاکہ ان خصوصیات کو عقل میں واپس آ سکیں، جہاں وہ تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد، ہم سب چیزوں کو تخلیق میں دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ان کے پیچھے خدا کے ساتھ۔ اس کے بعد احساسات کی چیزیں غائب ہو جائیں گے اور خدا کے روحانی خیالات ظاہر ہوں گے۔

فٹ بال میں ایک کھلاڑی اکثر بال کو کسی اور پلیئر میں منتقل کرنے کا دعوی کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اسے برقرار رکھتا ہے اور اس طرح مخالف ٹیم کو دھوکہ دیتا ہے۔ لگتا ہے کہ زندگی اور مادہ معاملات سے ذہن سے گزرتا ہے، لیکن یہ دھوکہ دہی ہے۔ ایک بار جب طالب علم کو زکام تھا، اور اس نے اعلان کیا،’’ غلط غلطی کے طور پر یہ غلطی، کبھی بھی عقل سے کبھی نہیں جسم میں داخل ہوتا ہے؛ ایسا لگتا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ اب بھی شعور میں جھوٹی عقائد کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ اس نقطہ نظر سے اس نے جلد ہی غلطی کا اظہار کیا۔




130۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جائیں کہ ایک موثر تعصب کے مقابلے میں بے پروائی سچائی کا بڑا دْشمن ہے۔ اکثر ایک تعصب کا ارتکاب کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے جو سب سے بڑا دشمن کے طور پر پریشانی کا باعث بنتا ہے؛ لیکن پریشان ہونے سے یہ فائدہ لچکدار ہوتا ہے: یہ سرگرمی کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ بے حد بے چینی ہوتی ہے۔

پریشان انسانی خیال کی ایک معیار کی نمائندگی کرتی ہے کہ حقیقت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسے مقدس پولوس۔ انہوں نے مسیحیوں کو قتل کرنے کے موقع پر ظلم کیا.؛ لیکن جب حقیقت نے اس غلط عمل کو رد کردیا، تو وہ مسیحت کی طرف سے حوصلہ افزائی کے طور پر، جیسا کہ وہ اس سے قبل اس کے مخالف تھے۔

ایک نااہل جانتا ہے کہ کس طرح آگے بڑھنے کے لئے کسی بھی سمت سے ہوا کی تھوڑی سی سانس استعمال کرنا ہے۔ لیکن وہ آرام دہ اور پرسکون ہے نا امید ہے۔ ہمیں خدا کا شکر کرو جب حقیقی حقیقت سے، جنگ کے نقطہ پر بھی اس کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ معتبر عقائد ٹوٹ رہے ہیں، اور اس کے ذریعہ بہت کیمیکلیزی مظاہرہ کے ذریعے صاف اور پھل پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کی سرگرمی ایک نکلس پیش کرتی ہے جس کے ذریعے سچ کام کر سکتا ہے، تاکہ انسان کا غضب اس کی تعریف کرے۔

جب تک کہ وہ اپنے مریض کو پہنچتا ہے وہ ایک کیمیکلیز پیدا کرتا ہے تو ایک پریکٹیشنر کو خراب نہیں ہونا چاہئے۔ اس رجحان سے پتہ چلتا ہے کہ خیالات کے متسی دریا کے بستر کو ہلکایا جا رہا ہے، اور عدم استحکام سطح پر آ رہے ہیں۔ لہذا آپ کو خوش ہونا چاہئے جب یہ ایک ہی بڑے پیمانے پر ہوتا ہے، اور حقیقت کی کارروائی پوری دنیا میں ایک کیمیکلائزیشن پیدا کرتی ہے۔

ایک بار سائنس کے ابتدائی دنوں میں ایک شخص مسز ایڈی کے دروازے کی حد تک۔ وہ دروازے پر گئے اور اس سے بات کی۔ تھوڑی دیر تک اس نے سائنس کے بارے میں بات کی، اس نے اعتراف کیا کہ وہ اس کو گولی مارنے آئے تھے۔ اس نے اس کو کیا چھوڑا، اور اس کی وجہ سے ان کی مخلص کی طرف سے متاثر کیا۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے بعد سائنس میں دلچسپی ہوئی۔ سچائی کے خلاف ان کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے کہ اس کی مدد سے بے حد بے حد آسانی سے اس کی حمایت ہوسکتی ہے۔




131۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ لامتناہی محبت اور حکمت کے آگے آپ کے راستے میں آنے والے اْن تجربات کو ختم کرنے کی دعا کریں جن کی آپ کو اپنے فہم اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے ضرورت ہے۔ ایک بچہ اپنے باپ کو یہ اسکول جانے سے روکتا ہے اور چھٹی ہے، یا یہاں تک کہ نوکری حاصل کرنے کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن والد جانتا ہے کہ بچے کو نظم و ضبط اور تعلیم کی ضرورت ہے۔

جو بھی ہمیں ہمیں اپنے سائنسی سوچ کو جھوٹی گواہی اور ذہنی مشورہ کے خلاف منعقد کرنے کی ضرورت ہے، خدا کو فراہم کرے گا۔ اپنے تجربے سے جو آپ کی مدد کرنے کے لئے آیا ہے اس سے دعا مت کرو، کیونکہ اس وقت جب آپ اس سبق کو سکھاتے ہیں تو ایسے تجربات سکھاتے ہیں، وہ غائب ہوجائیں گے۔




132۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ خدا کی قدرت کو آپ کی طرف سے کام کرتے ہوئے صرف اْس وقت آپ کی حفاظت کرتے اور آپ کا خیال رکھتے ہوئے پائیں جب آپ شعوری طور پر درست سوچ رہے ہوں۔ آپ کا مظاہرہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی روشنی خوف کے اندھیرے کو چمک رہی ہے، یہ ہے کہ آپ کی ہوشیار سوچ سائنسی، یا اس وقت کے لئے، اداس لگتا ہے چمک رہا ہے یہ قائم کرنے کے لئے ہے۔ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مظاہرین اب بھی جاری رہتی ہے، اور اس کے عقل کے مرحلے میں خود کو فون کرنے کی کوشش کرنی ہے؛ آپ کو لامتناہی محبت اور لامتناہی محبت کی ٹینڈر کی دیکھ بھال کے ساتھ مداخلت کرنے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔

آپ کو خدا کے تصور سے گزرنا چاہیے جس کا کہنا ہے کہ، اگر آپ کے پاس سچے دلیل کرنے کے لئے واضح اور سائنسی صلاحیت ہے، تو اس کی طاقت ہاتھ میں ہے؛ جب آپ کی سائنسی دلیلیں ختم ہوجاتی ہیں تو اس کی طاقت واپس لائی جاتی ہے۔

خدا خود کو کبھی نہیں نکالتا؛ انسان صرف اس کی نظر کھو دیتا ہے۔ ظالم جج کی مثال کے طور پر، یسوع نے خدا کی موت کے عقل کی زیادہ سے کم مکمل طور پر تصورات مرتب کیے جو انسان کو صرف اس وقت مدد کرتی ہے جب وہ درآمد کرے۔ کرسچنت سائنس خدا کو انفرادی طور پر بیان کرتا ہے جو ہمیشہ اسے جانتا ہے یا نہیں؛ لیکن جب جھوٹے عقیدہ کے ذریعہ انسان اس حقیقت کی نظر سے محروم ہوجاتا ہے، تو اس کے شعور کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے، اسے اپنی خود مختار احساس کے ساتھ درآمدی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ اس کے لئے یہ فعال اور آپریٹنگ ہے۔

مسز ایڈی نے کیلن فیری سے کہا، ’’ روزانہ خدا کی دعا کرو کہ آپ کو گناہ یا بیماری کے تمام عقائد سے نجات ملے گی، اور اس کے بعد اس کے بعد اپنے آپ کی غیر اخلاقیات کو احساس کرنے اور اپنی آزادی کو تسلیم کرنے کے لئے اپنی جان کو تسلیم کرنے کے لئے کسی ایسی غلطی کو فروغ دینا۔‘‘

یہ انسان کی سوچ میں اچھے یا برے کا تعصب ہے جو اس کا اظہار کرے گا کہ اس کا اظہار کیا ہوگا۔ خدا کے ساتھ ان کے رشتہ کا شعور روزانہ تجدید کرنا لازمی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ایک لکی برتن سے نمٹنے والا ہے۔ دعوے یہ ہے کہ جو کچھ اس نام نہاد انسانی عقل میں رکھتا ہے، اس سے باہر نکلتا ہے، چاہے یہ سچ یا غلطی ہو۔ لہذا ہر ایک کو ہر روز صحیح سوچنے کی کوشش کرنی چاہئے، تاکہ اس کے خیالات کے روحانی سطح پر اعلی نقطہ نظر رکھے جاسکیں جو لامحدود محبت اس میں اور اس کے ذریعہ بہہ لائے۔

ہمیں کام کرنا، دیکھنا اور دعا کرنا، سچائی کا مطالعہ اور دعوی کرنا، - کیونکہ اس کی وجہ سے ہمارا خیال ہے کہ دوسری صورت میں خدا خود کو واپس لے جائے گا اور ہم اس کی دیکھ بھال اور تحفظ حاصل کرنے کے لئے تیار رہیں گے، لیکن اس وجہ سے ہم سوچتے ہیں کہ عام سطح پر سوچ رکھنے کی اہمیت اس اعلی نقطہ پر جہاں ہمیں اس کی آمدنی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا جسے ہمیں حکمت اور زندگی کی ضرورت ہے۔

ایک لیکر برتن کے اس دعوی کی وجہ سے، ہمیں روزانہ دیکھنا ضروری ہے تاکہ ہم اپنی سچائی کو فعال اور انتباہ رکھیں۔ مسز ایدی نے اپنے طالب علموں کو روحانی طور پر اپنے پیروں پر رکھنے کی کوشش کی، ان کے رب کے خوف سے، اور صورت حال کی سنجیدگی کی طرف سے، اگر وہ اجازت دیتا ہے کہ وہ حقیقت کے بارے میں جانتے ہیں، دور لے جانے کے لئے۔

اگر آپ نے ایک خاتون خانہ کا استقبال دیکھا، اور اس کی حرکتیں تیز اور تیز ہوگئیں، تو آپ اسے سرگرمی میں خوفزدہ کر سکتے ہیں کہ اگر وہ محتاط نہ ہو تو، لوہے کو لباس دھونا، اگر اس سے بھی زیادہ آہستہ آہستہ ہو۔ جب مسز اڈی نے اپنے طالب علموں کو ذہنی طور پر پھنس کر دیکھا، تو وہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے خداوند کے خوف میں رہتے تھے۔ بعض اوقات اس نے انہیں رچرڈ کینیڈی اور جوزفین ووڈبری کے مشقوں کا استعمال کیا تھا، اس کے مطابق، ’’ اس وجہ سے کیا ہو جائے گا کہ شیطان کے ان سفارتوں کو غیر جانبدار کرنے کی اجازت ہے؟‘‘ جیسے ہی وقت چلا گیا، بگابو وہ اٹھ کھڑے ہو گئے، لیکن اس مقصد کا مقصد یہ تھا کہ طالب علموں کو روزانہ کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

آج ہمیں خود روزانہ روحانی کوششوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم نہیں کرتے تو خدا خود کو واپس لے جائیں گے، لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ اس کی ہماری شعور اس سے دور ہوسکتی ہے یا غیر فعالی کو جانوروں کے مقناطیسی بادلوں کے بادلوں کی اجازت دیتا ہے. اس کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر پر قابو پانے کے طور پر، ہوا جب ہموار ہے تو رات کو جمع کرتے ہیں۔




133۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین کر لیں کہ آپ غلط سوچ کو ضرب دینے کے عمل کی مخالفت کرنے سے اسے تباہ کر سکتے ہیں یا اس کے خلاف کاروائی کر سکتے ہیں جب تک کہ ایسی درست سوچ سائنسی اور الٰہی نہ ہو جائے کہ اِس میں مخالف عقائد موجود ہوں۔ انسانی سوچ جو خود کو بلاتا ہے وہ انسانی سوچ کے مقابلے میں بہتر ہو سکتا ہے جو خود کو غلط کہتے ہیں، لیکن تمام انسانی سوچ ایک ہی نسبتا ہے۔

غلط سوچ کا ڈھانچہ بشرطیک انسان سے ناگزیر محسوس ہوتا ہے، کیونکہ انسانی سوچ وہ تفریح کرتا ہے، جسے وہ یقین رکھتے ہیں، غلط سوچ کے لئے ایک گھونسلے کی تیاری کرتا ہے۔

اگر شہد کی مکھیوں کو آپ کے سر کے ارد گرد بوکنا لگایا گیا ہے تو، آپ کو ان کا پیچھا کرنے کی کوششوں کے باوجود، آپ کو حیرت ہوسکتا ہے، جب تک آپ کو معلوم نہیں ہوا کہ کسی نے آپ کی پیٹھ پر غصہ اچھال لیا تھا۔ جانوروں کے مقناطیسی انسان کو انسان کی مٹھائی، یا ہم آہنگی پیش کرتا ہے، اس طرح کی چال کی وجہ سے انھیں انسانیت کا مقابلہ کرنے میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ انسان کا ایک اچھا احساس، اگرچہ یہ فرشتے بنیانوں میں لباس نہیں پہنچا، بغاوت کے بغیر موجود نہیں۔

حکمران یہ ہے، جب آپ مکھیوں کو دور کرنا چاہتے ہیں، انہیں جو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جب آپ برے میں عقیدے کا اظہار کرتے ہیں تو، آپ کو انسانی نیکی میں یقین کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اس اچھے کے معنی حاصل کرسکیں جو کوئی برعکس نہیں جانتا، کیونکہ یہ سب ہے۔

اور کیا انسانی غلطی کے عقیدے میں غلطی شامل ہے؟ یہ دعوی ہے کہ مادی معنی میں اچھا ہے، یا خدا کی غیر موجودگی کا احساس ہے۔




134۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ وجہ کے لئے جدو جہد کرتے ہیں یا یا وجہ کو صحیح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو مکمل طور پر ذہنی ہے، آپ اثرات کے خیالات کو آپ کی کوششیں بدحواس کرنے کی اجازت دے دیں۔ چرواہا نے اپنی بندوق کو باہر نکال دیا اور ایک فلم میں ھلنایک کو گولی مار دی، یہ جاننا پڑے گا کہ وہ صرف سائے کا مشاہدہ کررہا تھا، اس سے پہلے کہ وہ پروجیکٹر میں بہتر بنانے کے لئے کافی عرصے تک تصویر سے دور ہوجائے۔

جب لندبرگ نے زمین کے طیارے پر اٹلانٹک سمندر میں پرواز کی، تو اس کا مقصد ان کے مطمئن تھا۔ اس نے نہ ہی خوف اور نہ ہی ذاتی اور مالی سازشوں کی امید کی، اس کے بارے میں فکر کرنے کے لئے ہاتھ پر کام پر توجہ مرکوز سے مشغول کیا۔

یہ صحیح ہے کہ مظاہرے کے اثرات اپنے تجربے میں ظاہر کئے جاسکتے ہیں، لیکن اس الہی طاقت کی عکاسی اور اس کی عکاسی کرنے کی کوششوں میں، انہیں اپنے آپ کو بھی غلطی کی نشاندہی کی طرف سے، یا وہ جو امید کرتا ہے کی طرف سے پریشان کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے. اور پورا کرنے کے لئے الہی طاقت کی توقع کرتا ہے۔ جب ایک بیس بال کھلاڑی گیند کو پکڑنے کی کوشش کررہا ہے، تو اس کو کسی بھی جگہ پر اس پریشان نہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، نہ ہی جیلوں سے جگر، اور نہ ہی اس کے ساتھ کہ اس کی ٹیم جیتنے یا کھو رہی ہے۔

یسوع نے کہا، ’’فانی خوراک کے لئے محنت نہ کرو۔‘‘ مزدور اثر کے لئے نہیں۔ تاثرات کے خیالات کو اپنے محنت سے وابستہ کی وجہ سے مت چھوڑیں۔ اگر بائیں ہاتھ کو انسان کے تجربے پر سچائی دینے کا مظاہرہ کرنے کا مظاہرہ کرنے کا مظاہرہ ہوتا ہے، اور دائیں ہاتھ خالص عقل حاصل کرنے کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو ہمیں بائیں ہاتھ کو معلوم نہیں کہ حقائق کیا کر رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں کبھی بھی مظاہروں کے اثر کی امید نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارے خیال کو ہمارے خالص عقل کے استقبال سے متفق ہو۔ جب ہم سوچ میں انسانی چیز یا اثر سے دعا کرتے ہیں تو، ہم نماز کو انسانیت سے بچاتے ہیں۔ جب ہم خوف کے ساتھ خوف سے بھرا ہوا دعا کرتے ہیں، تو ہم نماز کی طاقت کو برباد کر دیتے ہیں۔ جب ہم کسی بھی وجہ سے کسی بھی وجہ سے اثر انداز ہوتے ہیں تو، ہم اس وجہ سے اقتدار کی وجہ سے جھوٹ بولتے ہیں۔




135۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یہ یقین کرنے لگیں کہ آپ کی بہترین ترقی سال ہہ سال بیماروں کو شفا دینے کی کوشش کرنے سے آئے گی، بالکل ایک باورچی کی مانند جو ایک بار بسکٹ بنانا سیکھ لیتا ہے اور پھر سال ہہ سال وہ بسکٹ بناتا رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک طالب علم روحانی طور پر بڑھتا ہے، شفا یابی کو تیزی سے زیادہ سمجھ میں لے جانا چاہئے۔ یہ روح کے ذریعے، اور کم از کم دلائل کے ذریعے زیادہ کیا جانا چاہئے۔ یہ جسمانی بیماریوں کے صرف شفا سے زیادہ وسیع اور بڑھانا چاہئے۔

جیسا کہ طالب علم روحانی تفہیم میں پیش رفت کرتا ہے، انسان کی کم از کم اس کی حقیقت کے ساتھ ملا ہے؛ لہذا ان کا کام کم دقیانوس اور زیادہ متاثر کن ہو جاتا ہے۔ وہ ہر ایک کیس کا حوالہ دیتا ہے جو اس کی اصل مسئلہ کے طور پر آتا ہے کہ اسے خدا کے ساتھ لے جانا چاہئے۔ اس کی کوشش آہستہ آہستہ گوشت میں ہم آہنگ انسان کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے مثالی طور پر ختم۔ وہ اس کی مدد کرتا ہے کہ وہ انسان کی موت کو ختم کردیں، تاہم، بے شک جسمانی بیماری کو شفا دینے کی طاقت کے قاتلوں کو قائل کرنے کے لئے سب سے زیادہ متاثر کن رجحان رہتا ہے۔

اگر ایک طالب علم کی ترقی ہو رہی ہے، تو وہ ایسا نہیں دیکھیں گے کہ اس کی ذمہ دارانہ حد سے زیادہ احساس یہ ہے کہ مصیبت میں ان لوگوں کو اپنے وقت اور سوچ پر اس طرح کے زبردست مطالبات بنانے کے لئے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ فکری ہو جائے، اور اس وجہ سے اس کی چمک، تازگی اور بربریت کھو جائے؛ سوچا کہ یہ ضروری ہے۔ ایک بار مسز ایڈی نے لکھا، ’’ یسوع نے جو کچھ دیکھا تھا اس نے اپنی روحانی فلاح و بہبود کے لئے سب سے بہتر تھا، اس بات کی کوئی بات نہیں کہ کثرت سے اس کا تختہ لگایا گیا تھا۔ انہوں نے ان کو چھوڑ دیا اور خود کو تازہ کرنے کے لئے پہاڑ میں چلا گیا۔ اس نے ادر اْدھر نہ دیکھا اور کہا، ’ بس دیکھو کتنی مدد کی ضرورت ہے آج آج یا آج رات میرے لئے پہاڑ نہیں۔‘ انہوں نے ان کو چھوڑ دیا اور چلی گئی اور واپس آ کر انہیں مزید مدد کی۔‘‘

ترقی پسند طالب علموں کو دیکھتا ہے کہ وہ بھول جاتا نہیں ہے، اگرچہ سائنس اور صحت کے طور پر، کرسچن سائنس کی ایک اناج ابتدائی طور پر انسانوں کے لئے عقل مند ہے، وہ اس کے عمل سے الگ ہوسکتا ہے کہ وہ حقیقت کا ایک بڑا بیان حاصل کرنے اور اپنے خیال کو پورا کرنا خدا۔ یہ ضروری نہیں ہے، کیونکہ اس نے پہلے ہی اس بیمار کو شفا دینے کے بارے میں نہیں سیکھا ہے، لیکن اس وجہ سے کہ وہ اپنے روحانی اعتماد اور متوقع بڑھنے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جانوروں کے مقناطیسی نظام کے زیادہ مضحکہ خیز دعوی کی تحقیقات کو بے نقاب کرنے کے لئے زیادہ سمجھتے ہیں۔

طالب علم کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ اپنے روحانی اعتماد اور توقعات کو زندہ رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ دلیل نہیں ہے کہ روحانی، لیکن روحانی اجتماع جس میں مریض اور پریکٹیشنر دونوں کی امید ہوتی ہے۔ یہ توقع ہے کہ روحانی حرکت پذیر ہوتی ہے اور خدا کے قانون کو چلانے کے لئے راہ تیار کرتی ہے۔ خدا شفا دیتا ہے، اور ہمارے دلائل صرف مریض کو تیار کرتی ہیں، تاکہ خدا اسے لے جائے۔




136۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یہ محسوس کریں کہ آپ ہر اْس معاملے کو قبول کرلیں جو آپ کے پاس آتا ہے۔ مدد کے لئے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ آپ الہی حکمت کی عکاسی کرنے کے لئے یہ جان لیں کہ آیا مریض مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس مریض کو نقصان پہنچانے کے لئے نقصان پہنچا سکتا ہے جو تیار نہیں ہے، کیونکہ، اگر وہ مدد حاصل کرنے میں ناکام ہو تو، وہ سائنس کی قبولیت کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے، جب دن آتا ہے تو وہ اس کے لئے تیار ہے۔ ایک پریکٹیشنر جو ہر نیا مریض کو الہی حکمت کا مظاہرہ کرنے کا موقع کے طور پر استعمال کرنے میں ناکام ہے، روحانی ترقی کے لئے ضروری موقع پر نظر انداز کر رہا ہے۔




137۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ الٰہی عقل کو ایسی طاقت کے طور پر تو قبول کرلیں جو بیمار کو شفا دیتی ہے، لیکن اسے ناقابل یقین حکمت کے منبع کے طور پر ظاہر کرنے میں ناکام ہو جائیں۔ مرقس 1 : 44 میں ہم اس شخص سے پڑھتے ہیں جسے ماسٹر نے اس کے شفا کے بارے میں کسی آدمی کو کچھ بھی کہنا نہیں کہا تھا۔ اس آدمی نے نافرمانی کی اور اسے بڑے پیمانے پر شائع کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے خدا کے دل کو قبول کیا جس میں مسیح شفا یابی قوت کے طور پر عکاسی کرتاتھا، لیکن حکمت کا ذریعہ نہیں۔ تاہم اگر عقل ایک ہے تو یقیناً دوسرا ہی ہوگا۔

اسرائیل کے بچوں نے خدا کی طاقت کو قبول کیا جیسا کہ شفا، برقرار رکھنے اور ان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کے دشمنوں کو فتح دینے میں بھی مدد ملے گی۔ حالانکہ وہ اکثر خدا کی حکمت کو مسترد کرتے ہیں۔ جب وہ وعدہ شدہ زمین پر آئے، تو انکی ان بچوں کے خوف سے پیچھے رہ گئے، اور یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی آنکھیں دیکھتے ہیں۔ اگر انہوں نے خدا کی حکمت کو قبول کیا تو، وہ جانوروں کے مقناطیس کے اس چال میں داخل ہو چکے تھے، حقیقت یہ ہے کہ ان کا واحد دشمن ان کے اپنے خوف کا تھا، اور ذہنی مشورہ کی ان کی قبولیت، خود کے اپنے تصور کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ انک بچوں نے جانوروں کے مقناطیسی مقاصد کی نمائندگی کی جو اپنی ترقی کو دھوکہ دہی اور مشورے سے روکنے کی کوشش کررہے تھے۔ وعدہ شدہ زمین کرسچن سائنس کے ذریعے آتا ہے، لیکن آپ انک بچوں کو منتقل نہیں کرسکتے ہیں، یا بغیر کسی الہی تفہیم اور حکمت کے بغیر جانور مقناطیس کو ہینڈل کرسکتے ہیں۔




138۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کی دعاؤں یا ذہنی کام میں خدا کی طرف سے مزید روحانی قوت حاصل کرنے کی کوشش شامل ہوجائے، جب آپ کو اْس کی طاقت کو مزید منعکس کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا چاہئے۔ کیا خدا کی طاقت ایسی چیز ہے جسے وہ بھیجتا ہے یا واپس لے جاتا ہے، جیسا کہ اس کی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں؟ خدا آپ کو زیادہ سے زیادہ بھیج رہا ہے۔ لہذا آپ کی کوشش کو حاصل کرنے کے لئے آپ کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا۔ ایک اب بھی اعلی احساس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان خدا کی بہت طاقت حاصل کرتا ہے۔




139۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ ماننے لگیں کہ آپ کے اندر خدا کی قد رت ، اْس کی وسعت اور ممکنات کے لئے لامحدود فہم ہے، اور اْسی وقت الٰہی طاقت کو منعکس کرنے کی محدود سی صلاحیت بھی ہے۔ اس طاقت کی عکاسی کرنے کی صلاحیت کی بڑھتی ہوئی احساس، اور آپ کو آپریشن میں ڈالنے کے بغیر کسی بھی وقت حاصل کرنے کے بغیر خدا کی طاقت کا زیادہ لامحدود احساس حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

یسوع کے بیان کی ایک تفسیر، ’’آپ کی پیمائش کے ساتھ آپ کو یہ ماپنے کے بعد دوبارہ ماپا جائے گا،‘‘ ہو سکتا ہے کہ جس قدر آپ الہی قوت کی پیمائش کرتے ہو، اس کی طاقت کو ظاہر کرنے یا اس کی طاقت کی عکاسی کرنے کی صلاحیت کا اندازہ کریں۔ خدا کی طاقت کے ذریعے شفا دینے کی اپنی صلاحیت میں اعتماد کی بڑھتی ہوئی احساس ہمیشہ حد تک حد تک بڑھتی ہوئی تسلیم اور ہر چیز کو کرنے کے لئے الہی قوت کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ساتھ ملتا ہے۔

انسان کا استعمال اور الہی طاقت کی درخواست اس الہی طاقت سے الگ نہیں ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ روحانی انسان کے بغیر یا اس کے علاوہ کام نہیں کرتا۔ جب تک کہ آپ کو الہی طاقت کی عکاسی کرنے کی اپنی صلاحیت کی بڑھتی ہوئی احساس ہے، اور آپ کے الہی طاقت کی عکاسی کے طور پر اپنے آپ کی بڑھتی ہوئی احساسات، آپ کو الہی قوت کی سچائی کی قدر اور ترقی نہیں کر رہے ہیں۔ روحانی ترقی مسلسل کسی بھی مشورہ سے دور ہوتا ہے کہ ’’چینل‘‘ خود ہی ہے، اور انسان کی طرف سے اظہار کیا گیا ہے، یا اس کی طرف سے عکاس الہی طاقت کی غیر معقول نوعیت کو تسلیم کرتا ہے۔




140۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین کریں کہ غلطی آپ کی روحانی سوچ کو چْرا سکتی ہے، جس میں کرسچن سائنسدان کی واحد طاقت پائی جاتی ہے۔ یہ دلیلہ، یا جانوروں کی مقناطیسییت ہے، جو اپنے بال کو کاٹنے سے اپنی روحانی طاقت کے سیمسون کو لوٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ بال کو تمام خیالات کی علامت ہوتی ہے جو شعور کو فروغ دینے کے لئے جاتے ہیں۔ جب یہ روحانی ہیں، تو کسی بھی برے تجاویز کے لئے ناقابل قبول ہے، اور اس وجہ سے الہی قوت سے بھرا ہوا ہے۔ جب کسی کو یہ خیال ہوتا ہے کہ غلطی نے اسے روحانی خیالات سے لوٹ لیا ہے، یا ایسا کر سکتا ہے، - اس نے دلیلہ تعظیم کو جنم دیا ہے۔

یہ غلط عقیدہ، یا غلطی ہے، یہ انسان کو یہ بتائے گا کہ وہ خدا کے خیالات کو لوٹ سکتا ہے۔ ہمیں اس تجویز سے بہتر بنانے دو۔




141۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کرسچن سائنس اور خدا کی عبادت کے حوالے سے آپ کا فہم اْس صورت پر بنیاد رکھتا ہو جس میں سے روح اْڑ چکی ہو۔ مسیحی کے بغیر، یا مسیح کی بجائے روایتی نظریۂ یسوع مسیح کی بنیاد پر عبادت کا احساس ہے۔ اس غلطی اور کرسچن سائنس کی منظوری کے درمیان مسز ایڈی کی حیثیت سے، پادری امیرطس یا غیر معنوی روحانی نظریے کی بنیاد پر جس کی وجہ سے انہوں نے انحصار کیا۔

ایک بار جب نماز میں گھومنے والی خاتون کی مجسمہ ماں چرچ کی توسیع کے لئے، مسز ایڈی کی اجازت کے ساتھ حکم دیا گیا تھا۔ یہ عضو پر رکھ دیا گیا تھا اور وہاں تین دن رہے۔ اس کے بعد ڈائریکٹرز مسز ایڈی سے انہیں ایک خط موصول ہوا۔

ہمارے حیات میں سے ایک ہمیں بتاتا ہے کہ، جیسا کہ ہم بڑھتے ہیں، علامات غائب ہو جاتے ہیں۔ تین دن مجسمہ جگہ پر تھی، مسز ایڈی کے خیال کی عکاسی کی علامات ہیں، جس میں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی شخصیت کو اپنی روحانی موجودگی کی شعور کی طرف سے تبدیل کیا جانا چاہئے۔ وہ جانتی تھی کہ یسوع نے یہ اعلان کیا تھا کہ روحانی خیال کے طور پر وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ موجود تھے؛ لیکن یہ روحانی موجودگی، یا کامورٹر، نہیں آئے گا جب تک کہ انسان کا تصور انسان کے طور پر دور نہیں کیا جائے۔

مسز ایڈی کا خیال یہ روحانی احساسات میں بڑھ گیا، اور اس نے مجسمے کو حکم دیا (جس کا آج آج پرنسپیا میں کیمپس کا احاطہ کرتا ہے)۔ اس کا اثر اس کا خط 14 دسمبر 1909 کا ہے: ’’ نماز کی رویہ میں یا کسی اور رویے میں کسی عورت کی کوئی تصویر ہماری کلیسیا میں نہیں، یا ہماری رضاکارانہ حیثیت سے ہمارے کسی بھی عمارت میں رکھے جائیں گے۔ یہ میری درخواست اور تقاضا ہے: ذاتی وجود کے بارے میں سوچنے یا غیر اخلاقی کرنے کے لئے مجسمہ، لکھنا، یا عمل میں کچھ بھی نہ کریں؛ لیکن خدا کی اور اس کے خیال آدمی اور عورت کو بے نقاب کرے گا، جو سکھانے اور عمل کرنے کی وضاحت کرتے ہیں۔ جو کچھ میں نے سوچا ہے یا جو شخص میں سوچتا ہے یا اعداد و شمار میں منسوب ہونے کے بارے میں بھی کہا ہے، میں نے مکمل طور پر یاد کیا ہے، اور میرا چرچ اس بیان سے مجھے متفق نہیں کرسکتا۔‘‘

مسز ایڈی کو احساس ہوا کہ اگر مجسمہ رہتا ہے، تو طالب علم اس کی عبادت کرنے کے رویے سے آگاہ ہوسکتے ہیں، جیسا کہ اس شخصیات کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اس کے حقیقی مشن کی تفہیم کی تکمیل تک پہنچنے کی روک تھام اور اس کے تصور سے طلباء کو ہر وقت کے لئے رکھو، جیسا کہ روحانی ترقی کے لئے سب سے زیادہ سازگار ہے۔ سست عقل آسان طریقہ لاتا ہے۔ یہ لیڈر کے صحیح تصور اور یادگار کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک مجسمے کی عبادت کرنے کی ترجیح دیتے ہیں۔

جب ہم روح کے بجائے روح القدس کی بجائے ہم عبادت کی طرف آتے ہیں تو ہم مسیح کو فروغ دیتے ہیں۔ ایک بار جب مسز ایڈی شخصیت کی عبادت کے طور پر شالکش نظریہ کی وضاحت کرتے تھے۔ اْس نے کہا، ’’ کرسچن سائنس علوم میں ہے: برائی کی نیک اور غیر حقیقی حقیقت۔ یسوع مسیح نے کیا کیا تھا کے بارے میں انسانوں کے خیالات ہیں؛ بھی، صحیفیات اور نبیوں کی تعلیمات کے بارے میں۔سائنس میں ہم مسیح کی تمام تعلیمات کو سمجھتے ہیں، جس میں سبھی اچھے اور تمام شرائط شامل ہیں۔ اور ہم اسے ثابت کر سکتے ہیں۔‘‘




142۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ابن آدم کو ایک بوسے سے دھوکہ دیں (لوقا 22: 48)۔ ایک بوسہ، حوصلہ افزائی، تعریف اور عقیدت کا ظاہری نشان ہے۔ انسانوں کو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کے لئے خوش ہونے کے ماسک ڈال دیا، جبکہ ان کے نیچے خوش نہیں ہیں۔

اگر سائنس کے جدید ترین طالب علموں نے ایک شو پر ڈال دیا ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ان کے مذہب سے ان کی عقیدت اس کے لئے گہری محبت کی بنیاد پر تھی، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اس وقت سے اس طرح کی ایک بڑی اطمینان حاصل کرتے ہیں، جب حقیقت میں ، ان کے ان کی عقیدت زیادہ تر ذمہ داری کے احساس سے آتا ہے، وہ ایک بوسہ کے ساتھ انسان کے بیٹے کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ محسوس کرتے ہیں کہ کچھ غلط ہے؛ لیکن فخر ان کو قبول کرنے سے روکتا ہے، اور اس وجہ سے صورت حال کو درست کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روایتی نظریات کو مطمئن نہیں کیا جائے گا اور اس سے زیادہ عام طور پر توقع ہو گی کہ اس کے پیروکار اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ڈرتے ہیں؛ لیکن جو لوگ مطمئن ہوتے ہیں وہ خود سے کچھ غلطی کرتے ہیں اور نظام کے بجائے خود کو الزام لگاتے ہیں۔

کرسچن سائنس کی مردہ شکل کی عبادت کرنے کے لئے، اور ابھی تک یہ ثابت کرنے کے لئے کہ روح القدس سے جب تک آپ کا تعلق ہے، اس سے نہیں بھاگ گیا ہے، یہ ایک دھوکہ ہے کہ انسان کا بیٹا بوسہ کے ساتھ بیٹھتا ہے، کیونکہ یہ پیش کرتا ہے حقیقی عقیدت کا ظاہری نمونہ، جو اندرونی فہمی کا اظہار نہیں ہے، لیکن صرف ایک اندرونی کمی کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ انسان کے بیٹے کو دھوکہ دیتا ہے، اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے، اور اس کے باوجود حالات خراب کرنے کے لئے اس کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

اگر آپ کے روحانی خیال کا اثر فعال طور پر تسلی بخش نہیں ہے، اور آپ یہ بتاتے ہیں کہ یہ دھوکہ دہی کی صورت حال کو بہتر بنانے میں روکتا ہے۔ شاید آپ کرسچن سائنس کے’’دودھ مرحلے‘‘ کو آگے بڑھاتے ہوئے شروع کر رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے ہیں۔ کوئی شرم نہیں ہے جب آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ لفظ کا دودھ آپ کو اس سے زیادہ برداشت نہیں کرتا اور آپ کو اس سے زیادہ تسلی بخشتا ہے جیسا کہ اس نے پہلے کیا تھا۔ جب ہم ’’مسیح میں مرد‘‘ بن جاتے ہیں، جیسا کہ پولوس نے عبرانیوں 5: 13، 14 میں لکھا ہے،سچ کے لئے ہمارے عقیدے اور حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے کہ دودھ سے کہیں زیادہ کچھ چیزیں، اس پر قائل اور مخلص ہوں۔ کام کرنے والے مردوں کو دودھ سے زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں برقرار رکھنا ہے۔ اگر ہم اس جگہ تک پہنچے ہیں جہاں ہم محنت کر رہے ہیں، جانوروں کے مقناطیسی مقاصد کے ساتھ ساتھ ہماری سمجھ میں استعمال کرتے ہیں، ہمیں گوشت کی ضرورت ہوتی ہے، اور الہی محبت ہماری تیاری کے مطابق گوشت فراہم کرے گی۔




143۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ یقین کرنےلگیں کہ روحانی خیال ، جو انسان کی حقیقی فطرت ہے،کسی بھی انسانی حالت، واقعہ یا ثبوت کے باعث کھو سکتی، آلودہ ہو سکتی یا بیکار فراہم کی جاسکتی ہے۔اگر آپ مٹی کے پودے میں ہیرے سے محروم ہوجاتے ہیں، تو آپ کو یقین ہے کہ یہ تجربے سے خرابی یا نقصان نہیں پہنچے گا، اور سخت بارش کا طوفان مٹی کو دھونا اور منی کو اس کی پاکیزگی میں ظاہر کرے گا۔ ایک بار کرسچن سائنس کے ایک لیکچرار نے کہا، ’’ کبھی بھی یقین نہ کرو کہ یہاں تک کہ آپ کی اپنی بے حرمتی بھی ناقابل یقین حد تک ملتوی کردی جا سکتی ہے۔‘‘

متی 4: 7 میں یسوع کا کہنا ہے کہ، ’’تْو خداوند اپنے خدا کی آزمائش نہ کر۔‘‘ اگر ’’خداوند‘‘یا انسان میں بدل جاتا ہے تو ہمارا کام یہ سمجھتا ہے کہ خود مسیحی یا دوسروں میں یہ فطرت نہیں کھو سکتی ہے کہ یہ کسی بھی خاندانی تجاویز یا شرائط کی طرف سے خسارہ نہیں کیا جا سکتا۔

جب آپ بیمار یا گناہ محسوس کرنے کے لئے آزمائشی ہوتے ہیں، تو آپ اس بات کا احساس کر سکتے ہیں کہ انسان کی حقیقی فطرت موت کے خواب کے اس مرحلے سے بہتر ہے۔ آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ تمام انسانیت کے لئے اچھی طرح سے ایک چینل جاری رہے ہیں، اس کے باوجود کہ آپ کے خیال سے اس خیال کے نتیجے میں آپ کے خیال سے یہ سوچنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس کی موت کے متعلق یا جھوٹی گواہی کرنے کی سازش ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا، ’’ خرابی کا کہنا ہے کہ ہم بیمار ہیں یا حوصلہ افزائی رکھتے ہیں؛ ہم یہ نہیں کہتے ہیں۔ خود کے بارے میں بات کرنے میں یہ غلطی ہے۔ اگر ہم اسے تسلیم کرتے ہیں تو، ہم نے جھوٹ قبول کیا ہے۔ سچائی کہتی ہے، ’ میرے پاس بہترین آنکھوں، کامل دل، کامل انگوٹھے، وغیرہ ہیں؛ خدا سبحانہ وتعالی کی طرح ہے۔ ‘ہمیں انسانی عقل کے فیصلے کو مسترد کرنا چاہئے، اور مسیح کے دل میں دعا کرو۔‘‘

ایک بار جب عورت اندرونی بے گھر ہوتی تھی۔ وہ ایک مسیحی سائنسدان تھے، لیکن وہ بہت زیادہ آزمائشی طور پر آپریشن کرنے کے لئے آزمائش کا شکار تھے، کیونکہ یہ امداد حاصل کرنے کا واحد راستہ تھا۔ اس نے اپنے پریکٹیشنر کے دفتر کے لئے شروع کیا تاکہ وہ اسے کیا کرنے کی منصوبہ بندی کرے، لیکن راستے پر وہ کرسچن سائنس کے لئے اتنے شکر گزار بن گئے، اس نے اپنی تعلیمات کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا، یہاں تک کہ اگر وہ کبھی نہیں جسمانی خرابی کی شکایت (سی ایس سینینیل، 15 اگست،1931) کی شفا دی۔

اس عورت نے اس کے علاج کے بعد اس کے علاج کا تجربہ کیا۔ اس کا اعلان واقعی اس حقیقت کی شناخت کا دفاع کرنے کا ایک ارادہ تھا کہ وہ ایک روحانی خیال تھا اور خدا کی عکاس کرتی تھی، کسی بھی جھوٹی گواہی یا انسانی مشورہ کے ذریعہ اس سے نمٹنے یا مداخلت کے خلاف۔

’’تو خداوند اپنے خدا کی آزمائش نہ کر۔‘‘اس آدمی کی روحانی خود مختاری پر یقین نہ رکھو، جو خدا کی موجودگی کا اظہار ہے، آزمائشی ہونے کے لئے حساس ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے واضح کیا، ’’ مجھے جاننا چاہیے کہ سائنس اور صحت میں انسان کی تعریف مجھ پر ہوتا ہے؛ میں اس روحانی آدمی ہوں میں خدا کی تصویر اور مثال ہوں، زندگی، عقل، عمل، وغیرہ کی ایک مکمل، عکاس تصویر کی عکاسی کرتا ہوں، نہ ہی مادری قوانین یا حدود کے تحت۔‘‘کوئی اس سے زیادہ یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ کامل خود کو برائی سے آزمایا جا سکتا ہے، اس سے بڑھ کر ایک تصویر میں ایک اداکار کے مقصد سے اس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔




144۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جیسے جھوٹی تھیالوجی سکھاتی ہے آپ خدا سے دعا کریں اور یہ مانگیں کہ وہ مادے اور مادی وجودیت کے ناخوشگوار حصے کو نیست کر دے اور اْس حصے کو محفوظ رکھے جو اچھا دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح کی متضاد ایک نماز پر مشتمل نہیں ہے جیسا کہ بہت روحانی افادیت سے۔

جب یسوع نے انجیر کے درخت کو لعنت دی، تو اس نے دوبارہ کہا کہ جس شخص کو انسانی عقل اچھا بلایا جائے گا، اس کے بغیر بیکار کی وجہ سے، کیونکہ اس نے اس کے پیچھے کھوئے ہوئے غلطی کو سمجھا۔ جب انہوں نے شیطان کو سوائن میں بھیج دیا، تو اس نے فانی عقل کی ایک برائی کا نشانہ بنا دیا جسے اچھا لگ رہا تھا، سبق سکھانے کے لئے، جو کچھ بھی اس کے ذہن کی عقل ہے، خود مختار کے لئے برباد ہے۔ وہ چاہتا تھا کہ ان کے پیروکاروں کو اس مریضوں کی حتمی تقدیر جاننے کے لئے سیکھنا پڑا، کیونکہ یہ اچھا لگتا ہے۔

یہ بچہ کی ایک قدیم کہانیاں ہے جس کا ہاتھ ایک چینی کٹورا میں پکڑا گیا تھا، کیونکہ یہ مْٹھی بھر چینی کو ہاتھ میں پکڑنے کے برابر تھا۔ لہذا جو لوگ اچھے لگتے ہیں وہ اس پر چڑھتے ہیں، اور اس طرح اپنے آپ کو معاملہ کے پورے دعوی کے پابند رہیں۔

ایک گھریلو خاتون ردی کی ٹوکری کو نظر انداز کرنے سے باز رہتی ہے، کیونکہ اس نے ایک قیمتی کاغذ کھو دیا ہے۔پورے ڈھیر ناپسندیدہ رہیں گے، اس یقین کے ذریعے کہ اس میں ایک اچھی بات ہوسکتی ہے۔ جب سدوم اور عموما کی تباہی قریب آ رہی تھی، بائبل کا اشارہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ ان میں نیک انسان تھے تو وہ جلا نہیں جاسکتے۔

انسان باطل کی پابند نہیں ہے۔ وہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس سے نفرت کرتا ہے، اس اعتبار سے اس میں کچھ اچھا ہے۔ یسوع مسیح کیاناج اور بھوسے کی مثال کے طور پر، قابلیت برائی کے لئے کھڑے ہوسکتے ہیں جو اچھے طور پر ملتی ہیں، اس کے نتیجے میں وہ لوگ فرق نہیں بتا سکتے ہیں، اور فصل کے انتظار میں، یا اس ترقی کے لئے جو روحانی خیال لاتا ہے، انسانی اور الہی اچھے۔ اس کے بعد بھوسے کو گندم کے نقصان کے بغیر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

ایک بار بہتر اور معتبر عورت نے اپنے بھائی کے گھر رکھی، جو اس کے خلاف ایک قسم کا تھا۔ وہ اپنے خام طریقوں اور غیر منحصر باتوں سے مسلسل نفرت کرتے تھے؛ لیکن اس نے اس سب کو برداشت کیا کیونکہ اس نے فخر کیا کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اس دریافت کی تھی کہ یہ عہد گندم نہیں تھا اور گندم نہیں تھا، یہ اچھا کھانا اور آرام ہے جو اس نے اسے فراہم کی ہے، اس کے علاوہ اس حقیقت کے لئے کہ وہ پیسہ بچا تھا کیونکہ اس نے کوئی اجرت نہیں کی۔ اس نے سیکھا کہ وہ پوری بدقسمتی کی صورت حال میں منعقد کی گئی تھی، کیونکہ اس میں ایک چیز تھی کہ وہ اچھی سمجھتی تھی۔ جب اس نے شیطان کو سوائن میں بھیجا، یا اس نوعیت کی فطرت کو فطرت میں مکمل طور پر جانور کے طور پر نشان لگا دیا، تو اسے آزاد کر دیا گیا۔




145۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی کی شہادت جس کا آپ کو سامنا رہتا ہے، آپ کو یہ یقین دلادے کہ کرسچن سائنس کا میدان جنگ، جس میں ہم اپنی فتوحات پاتے ہیں، آپ کی اپنی سوچ کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم دنیا کی حالت تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، لیکن دنیا کی حالت کا احساس۔ہم انسان کو صحیح یا درست کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں، تاکہ وہ اپنی جگہیں آسمان کی بادشاہی میں لے جائیں۔ ہم اپنے پردہ پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں، یہ ہمیں اس بات کا یقین دلانے لگے گا کہ اب وہ کامل نہیں ہیں، یا اب آسمان کی بادشاہی میں۔

ایک بار مسز ایڈی نے تحریر کیا، ’’ غلطی لیکن غلط سوچ کی کچھ بھی نہیں ہے، اور ہمیں اس میں کبھی نہیں دینا چاہئے، یا اس سے پہلے نیچے جانا چاہئے۔‘‘اور اْنہوں نے یہ بھی کہا، ’’ خرابی غیر سائنسی سوچ اور سائنسی یا حقیقی سوچ یہ سب کو تباہ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

جب آپ کی کوشش کی بنیاد درست ہے، اور آپ کو یہ احساس ہے کہ آپ کا اپنا اپنا نقطہ نظر، آپ کے خیال، آپ کے مریض کے بارے میں، اور آپ کے بارے میں سوچنے کے بارے میں آپ کے بارے میں سوچنے کے بارے میں سوچنا ہے، آپ کے دلائل جیسے آپ اپنے مریض میں کچھ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جب حقیقت میں آپ نہیں ہیں۔

اگر آپ کا خیال سائنسی ہے، تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا مریض خدا کا بچہ ہے، ہمیشہ ہی رہا ہے اور کبھی بھی اچھا نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ اب اور ہمیشہ کے لئے خدا کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اور جاننے کے لئے کہ وہ اسے جانتا ہے۔ ایسا کرنے میں تمہارا مقصد، تاہم، اس سے کچھ کرنے کی کوشش نہیں کرنا ہے. بلکہ یہ آپ کے بارے میں اپنے خیال کو درست کرنے کے لئے، اور آپ کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے کے بارے میں اپنے خیال کو درست کرنے کے لئے ہے۔ بیمار کے سائنسی علاج کو دروازہ کھولتا ہے تاکہ مریض کو فانی عقل کے بجائے انسانی عقل کی طرف سے کنٹرول کیا جائے. لیکن جب ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم اپنے بارے میں مریض کے بارے میں سوچ کو تبدیل کرنے کے لئے بحث کرتے ہیں تو، ہم اس آپریشن میں خدا کے حصہ کو بھولنے کے قابل ہیں، اور اس طرح علاج کو ذہن میں پھینک دیا جاتا ہے، جو ذہنی ہراساں کرنے کی کوشش سے کم ہے۔

جب آپ اپنے مریض کو شفا دینے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے کہ وہ آپ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھے، تو آپ اس کے بجائے اثر سے کام کر رہے ہیں۔ آپ اسکرین پر کچھ تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے چلتی تصویر پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ کو مصیبت کی وجہ سے جانا چاہئے، جو پروجیکٹر میں ہے، اور اسے درست کریں۔




146۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ شفا سے متعلق اپنے خیالات کو محدود کریں اور اپنے مریضوں کو وہ شفا دیں جو بیت صیداؔ کے تالاب کی شفا کہلاتی ہے (یوحنا 5:1-5 دیکھیں)۔ حقیقت یہ ہے کہ فرشتہ نیچے آ گیا اور کچھ وقتوں پر پول کو پریشان محسوس کیا جیسے شفایابی کو صرف عقیدے کی تبدیلی کے بارے میں لایا گیا تھا۔ فرشتہ مخصوص وجوہات کے لئے مخصوص وقت میں آنے کے لئے محدود تھا، جو بیماری کی شفا تھی۔

کرسچن سائنس میں شفا دینے کا ایک محدود تصور مریض عقل کی صرف ایک بھوک لگی ہے، اس طرح الہی عقل کی صحت کو صحت سے بچانے کے لئے کام کو محدود کرتا ہے۔یہ مصیبت سے تھوڑا زیادہ ہے یا ایک مختصر موسم کے لئے انسانی عقل کو ہلانا، جس کے بعد یہ اپنے سابقہ سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

زیادہ لامحدود اور مسلسل تصور کو مریض کو پورے الہی عقل دینے کے لئے کوشش کرتی ہے، نہ صرف مطلوب جسمانی تبدیلی کے بارے میں لاتا ہے، بلکہ جسمانی حالت میں تبدیلی سے کہیں زیادہ قابل قدر ذہنی تخلیق اور روحانی کاری لاتا ہے، اور یہ باقی ہے شفا یابی کے بعد ہی بھول گیا ہے۔ ایک پریکٹیشنر بیت صیدا کی شفا دیتا ہے جب وہ سب کچھ کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقل کی طاقت کو اپنے جسم کو شفا دینے کے لئے مناسب طریقے سے سوچنے کے لئے، اسے ممکنہ طور پر روحانی اصلاحات لانے کے لئے اعلی مقصد کے لئے ہے۔یسوع نے بیت صیدایت کو جھڑکنا ایک مریض کے لئے اس میں ایک بیان تھا ،’’اٹھ، اپنی چارپائی اٹھا اور چلا جا۔‘‘بیتیسڈیزم متوقع استحکام - غیر فعالی کو فروغ دیتا ہے - پول کی تکلیف کا منتظر ہے، یا آنے والی شفا کے لئے۔ ایک اعلی مطالبہ یہ ہے کہ مریض کو ثابت قدمی یا خوف کی غلطی کا سامنا یا چیلنج کرنا، جس نے اپنے خیال کو برقرار رکھی ہے، اور اس کی صحیح سرگرمی قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے بعد وہ حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ نہ صرف جسمانی امدادی مدد ملے بلکہ روحانی اصلاح بھی کریں۔




147۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کسی معاملے میں آپ نے سچائی کا اطلاق کیا اور یہ کاریگر نہ ہوا، توآپ محسوس کریں کہ مزید سچ لاگو کرنے کا مطالبہ رہتا ہے، اس اعتبار سے کہ غلطی کا وزن کم کرنے کے لئے سچائی کو مزید لاگو کرنا ہوگا ۔یہ سچ ہے کہ مسز ایڈی نے اپنے طالب علموں کے ساتھ چینی کو وزن کا اندازہ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترازو پر ایک بڑی مقدار میں چینی ہوسکتی ہے، اور ابھی بھی توازن میں تبدیلی نہیں ہوگی جب تک کہ آخری چائے کا چمچ شامل نہ ہو۔ اس نے طالب علموں کو بتایا کہ انہیں کام میں جاری رکھنے کے لئے حوصلہ افزائی کی جائے۔

اسی وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے، لیکن یسوع مسیح نے تمام بیماریوں کو شفا دیا، اس نے تمام طریقوں کو شفا نہیں دیا۔ شاید آپ نے علاج کے بغیر پہاڑوں کو منتقل کرنے کے لئے ایک کیس میں کافی روحانی طاقت لی ہے۔ ناکامی کی وجہ مریض میں دل کی سختی اور سختی کا دعوی ہو سکتا ہے۔

کرسچن سائنس کے علاج کے بارے میں خیال کیا جا سکتا ہے کہ مسیح نے دروازے پر دستک دیا۔اگر آپ مریض میں دروازے میں ایک بار کھول نہیں کھڑا ہو تو حوصلہ افزائی نہ کرو۔ اگر آپ بیمار کی سایہ کی مدد کرتے رہیں تو مریض کو شفا دیا جائے گا، تاکہ سچائی اور شفایابی کی توقع کی ایک خوشی قبول ہوجائے گی، مریض کو شفا دیا جائے گا۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آپ کو محبت کے رہنمائی کے بارے میں سننا چاہئے، کیونکہ اگر آپ مریض منفی نہیں تھے، توقع کی صورت میں آپ کو اس معاملے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔




148۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ کو انسانی تجربات کے چابک لگتے ہیں کہ آپ کو روحانی طور پر تیزی کیا جا سکے،جیسے ایک سست گھوڑے کو چلانے کے لئے آپ اْسے چابک مارتے ہیں، تو آپ شکایت کرتے ہیں اور یہ پتا لگانے کے لئے مڑتے ہیں کہ وہ کیا ہے جو ااپ کو کوڑے لگا رہا ہے۔ یسوع مسیح ہمیں مشورہ دیتے ہیں، جس کے بعد ہم نے اپنا ہاتھ رکھ کر رکھ دیا ہے، واپس نہیں دیکھنا۔ جب آپ کرتے ہیں تو یہ آپ کو سست کرنے اور اچھے کام کو روکنے کے لئے آپ کو کرنا چاہئے۔

مسز ایڈی نے ایک بار واضح کیا، ’’ غلطی لیکن غلط سوچ کی کچھ بھی نہیں ہے، اور ہمیں اس میں کبھی نہیں دینا چاہئے یا اس سے پہلے نیچے جانا چاہئے۔ ہمیں غلطی سے آگے جانا چاہئے، اور غلطی سے آگے رہنا چاہئے۔ یہ بیان ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہم واپس نظر آتے ہیں، تو ہم غلطی سے ہمارے ساتھ پکڑنے کا موقع حاصل کرسکتے ہیں۔

اگر ایک گھوڑے کی تحقیقات کرنے کے ارد گرد تبدیل ہوجائے تو، ہر بار جب اسے ضائع کیا جاتا ہے تو، اس کی چوٹی اس کے معمولی اثر سے محروم ہوجائے گی۔ ہمیں لگتا ہے کہ آپ کے تجربے میں کمی کا احساس ظاہر ہوتا ہے۔ اس ہونے کی وجہ سے انسانی وجوہات کو تلاش کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، آپ کو یہ ایک کوڑا کے طور پر نہیں سمجھنا چاہئے، جس کا مقصد آپ کو زیادہ محتاج کے ساتھ کام کرنا شروع کرنا ہے - نہ ہی رقم کے لئے، بلکہ اس حقیقت کے اعلی روحانی شعور کے لئے ، خدا کے بچے کے طور پر، آپ انحصار نہیں کر رہے ہیں، نہ ہی آپ کی ضرورت ہے، معاملہ یا مادی پیسہ، کیونکہ آپ خدا کے فرزند ہیں، ہر طرح سے دیکھتے ہیں۔ یہ احساس آپ کو اس کی فراہمی فراہم کرے گا۔

ہمیں یہ سمجھنا کہ مصیبت کا احساس آپ کو روحانی طور پر آگے بڑھانے کے لئے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ کیا آپ روح کے دائرے میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے ہیں، جہاں آپ جسم کے تمام شعور کو کھو دیتے ہیں؟ پھر، جیسا کہ مسز ایڈی ہمیں بتاتا ہے، جسم کوئی شکایت نہیں کرے گا۔ لیکن جسم کو اس کی حالت کی تحقیقات کرنے اور اس معاملے کو شفا دینے کی کوشش کرنے کے لئے واپس جانے کے لئے، سائنسی اور ترقی پسند نہیں ہے۔ اگر بیماری اس کے بارے میں آپ کے کفارہ کے خلاف گوشت کی بغاوت کے طور پر سمجھا جاتا ہے تو، اس طرح کے علاج کو اس طرح کے کونے کو روکنا ہے۔ ایسا کرنے کے لئے، ایک کو آگے نظر آنا چاہئے، اور پیچھے نہیں۔




149۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اظہار کو اس لحاظ سے کام بننے کی اجازت دیں کہ یہ ایک بوجھ لگنے لگے۔ سائنسی کوششوں کی خوشی اور افادیت کو دور کرنے کے لۓ، اگر انسان کو سائنس سے محروم کرنے کی اجازت دی جائے تو انسانی کام کا تصور۔

جب مظاہرین لیبارٹری بن جاتے ہیں، عام طور پر یہ ہے کہ اس کا احساس یہ ہے کہ جو پہلے سے ہی درست ہے اور قائم ہے، اس کو قائم کرنے کے لئے کام کرنے کے انسانی سطح پر اترتا ہے جس کو تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک مریض کو بیدار کرنے کے درمیان فرق ہے، اس نقطہ نظر سے کہ وہ سو رہا ہے، اور حقیقت میں اس کی طرف سے اسے بیدار کرنے سے اس کی بیداری سے وہ اب تک جاگ رہے ہیں۔ یہ صحت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کی موجودگی کو پہلے ہی قائم کردہ چیز کے طور پر سمجھنے کے درمیان فرق ہے۔ سائنسی کوشش اچھی طرح سے قائم نہیں ہے، لیکن یہ احساس کرنے کے لئے کہ پہلے سے ہی ایک حقیقت حقیقت کے طور پر قائم ہے۔ سچا کام اچھا ناگزیر بنانے کے لئے نہیں ہے، لیکن اسے تسلیم کرنے کے لئے بیدار کرنے کے لئے۔ مظاہرہ صرف مشکل ہے جب یہ کچھ کرنے کی کوشش ہے۔ جب یہ پہلے ہی کیا ہے جس کی شناخت اور احساس کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو یہ بہت خوشگوار اور فتح مند ہو جاتا ہے۔ صرف ایسا ہی حق ہے جو زمین پر خدا کی مرضی قائم کرے گی، جیسا کہ یہ جنت میں ہے، اور اس کی وضاحت نہیں ہوگی۔




150۔ دیکھنا ایسا نہیں ہو کہ جب آپ کے خیالات مایوس کْن ہوجاتے ہیں، تو آپ اپنی دلائل کو علاج کے طور پر بار بار دبانا جاری رکھیں۔ جب آٹوموبائل مٹی میں رہتا ہے تو، اگر آپ پہیوں کو پھیلاتے رہیں تو، یہ صرف گہری میں رہتا ہے۔ آپ بوجھ کو ہلانے اور گاڑی کو اٹھا کر صرف ہلکے سے نکال سکتے ہیں۔

کبھی کبھی ہمارے ذہنی دلائل غلطی بنتی ہیں، کم حقیقی کی بجائے؛ سوچنے کی بجائے اس کی بجائے آگے بڑھنے اور اسے ہلانا۔ اس کے بجائے اچھے سے نقصان پہنچاتا ہے، ایسے وقت میں بحث جاری رکھنا۔ علاج یہ ہے کہ ہم اس بات کو یاد رکھنا چاہتے ہیں کہ ہم خود کو غلطی کی ناقابل یقین اور بے جانبداری سے قائل کر سکیں۔ لیکن اگر ہم اس پر بھاری ہاتھ سے برداشت کر رہے ہیں تو، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم بھول گئے ہیں کہ ہم صرف ایک جھوٹ کو بے نقاب کر رہے ہیں، اور حقیقت کو تباہ نہیں کرتے ہیں۔

جب ذہنی کام بوجھ بنتا ہے، تو اسے روک دو اور معلوم ہو کہ یہ کیوں ہے۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے اپنے خیالات کو روشن رکھیں، ’’ حقیقت میں میرے پاس کوئی بوجھ نہیں ہے، کوئی مسئلہ نہیں، کام کرنے کے لئے، کام کرنے کے لئے ضروری کام کے علاوہ، ایسا کرنے کا کوئی کام نہیں، خدا نے پہلے ہی کیا ہے۔‘‘

ایسے وقتوں میں آپ کو لامحدود محبت میں آرام کرنا چاہئے جب تک آپ محسوس نہیں کرسکتے کہ ہلکا ہو رہا ہے، اور روحانی شعور میں سرجری کے ذریعہ، بھاری بوجھ کا بوجھ پھینکتا ہے۔ اس وقت، جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ خدا کی موجودگی اور طاقت کا یہ شعور ہے، تو آپ تمام اچھے کاموں کو آگے بڑھا سکتے ہیں، اور جو کچھ بھی مظاہرہ ضروری ہے وہ کر سکتے ہیں۔




151۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ ا جب آپ اپنے ذہنی ہوائی جہاز میں ٹیکسی لگاتے ہو تو ، فانی عقل سے اوپر اٹھنے کے لئے کافی رفتار سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہو ، یا مادی ثبوت ، آپ یہ بھول جاتے ہیں ، چاہے ایک ہوائی جہاز میدان میں کتنی ہی رفتار سے حاصل کرلے ، اس وقت تک اس میں اضافہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے لفٹوں کی نشاندہی نہیں کی جاتی اضافہ۔

انسان کبھی بھی اپنے نظریات یا امنگوں سے بلند نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کی خواہش ہے کہ وہ مادی ہم آہنگی ، خوشحالی ، اور انسانی بھلائی ہے ، کرسچن سائنس میں جو کچھ بھی وہ کرتا ہے وہ اسے اس محدود انسانی مثالی سے اونچا نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی لفٹ اب بھی مادیت کی سطح کے متوازی ہے۔ جب مبتدی شخص نے پہلے کرسچن سائنس کو دریافت کیا اور میدان کے چاروں طرف تیز رفتار ٹیکسی حاصل کرنا شروع کیا تو ، وہ روحانی پرواز کے لئے اوپر کی اس تیاری کی کوشش کی غلطی سے غلطی کرسکتا ہے ، لیکن اس غلطی کو جاری رکھنے کا یہ کوئی عذر نہیں تھا۔

سائنس اور صحت کے صفحہ 113 پر اشارے کے مطابق دوسری ڈگری میں انسانی ذہن حق کی طرف سے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور تیسری ڈگری کے لئے تیاری کی ایسی حالت میں لایا جاتا ہے ، جہاں انسان الٰہی عقل کی عکاسی کرنے کے مقام پر آجاتا ہے، اور انسانی ذہن باقی پیچھےرہ جاتا ہے ۔

یہ سچ ہے کہ کوئی انسان کے عقل کو صرف اسی وقت پیچھے چھوڑ سکتا ہے جب وہ آسمانی عقل کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ، تاکہ اس سے روحانی طور پر قائم رہ سکے۔ ورنہ وہ مایوس ہوجاتا۔ یہ دیکھنے کا مقام ایک انتباہ ہے ، ایسا نہ ہو کہ وہ انسانی ذہن کی بہتری اور سرگرمی سے مطمئن ہوجائے ، اور فانی خیال کی پرانی سطح پر ٹیکسی پر قناعت کرے۔

اگر کاروباری شراکت میں ، ایک ساتھی کاہل تھا اور دوسرا متحرک ، مؤخر الذکر کو کافی کمانے کا منصوبہ بنانا چاہئے تاکہ وہ ڈرون خرید سکے۔ اسے اس مقصد سے کبھی بھی محروم نہیں ہونا چاہئے ، حالانکہ وقتی طور پر اسے شرکر کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔




152۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ سائنس کے کام میں بھاری ذہنی فہم کے ساتھ غلطی کو دبا دیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’سلوک کرتے وقت برائی پر ہلکے سے ٹچ کریں ، جیسا کہ آپ پیانو پر فضل نوٹ کریں گے۔‘‘

جب آپ سچائی کی تصدیق کرتے ہیں تو ، آپ کو یہ طاقت اور طاقت کے ساتھ کرنا چاہئے ، لیکن آپ کی غلطی سے انکار کو ہلکے ذہنی رابطے کے ساتھ دیا جانا چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ غلطی کی واحد طاقت دھوکہ دہی یا وہم میں مضمر ہے۔ اگر آپ بہت زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں اور اس کے بارے میں بہت سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو یقین ہے کہ اس میں طاقت ہے کہ وہ آپ کو آسانی سے سمجھنے اور اس کے بارے میں آسانیاں اور آسان طریقے سے اپنی بات کو قائم کرنے سے روک سکے گا۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں ذہنی سرگرمی کی ضرورت ہے ، کیوں کہ مسمارزم یا ہپناٹزم سست یا غیر فعال ذہنی احساس کے ذریعے کام کرتا ہے۔ پھر بھی ، جب آپ غلطی کے ساتھ ہلکا پھلکا سلوک کرتے ہیں تو ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو پہچان لیا گیا ہے کہ وہ اپنی بے وقوف کو بے نقاب کرنے کے لئے بڑی جدوجہد نہیں کرتا ہے ، اور نہ ہی اس میں کچھ طاقت ہے جس کے ذریعہ یہ آپ کو ایسا کرنے سے روک سکتا ہے۔

آپ کو لازمی طور پر اس جگہ پہنچنا ہے جہاں آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ غلطی کے دعوے سب جھوٹے ہیں ، اور صرف اس چیز کے بارے میں جو سچ ہے وہ ہے اس کی کوئی چیز نہیں۔ جب آپ علاج میں غلطی پر بہت زیادہ برداشت کرتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسے آپ واضح طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو بے نقاب کرنے کے جھوٹے دعوے کے بجائے ، لڑنے کی حقیقت ہے۔




153۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ عام فہم قبول کر لیں کہ چھوٹی طاقت، جیسا کہ داؤد کےچھوٹے پتھر میں پیش کی گئی، اْس بڑی طاقت کو، جسے جولیت کہا گیا، زیر کرتی ہے۔

ڈیوڈ ، ظاہری ذہن کی بالادستی کا ظاہر نمائندہ اور مظہر ہونے کے ناطے ، ناقابل تسخیر دیو تھا ، لامحدود طاقت سے لیس تھا جس نے جولیت کو کا تختہ پلٹ دیا ، جس کی طاقت پوری طرح دھوکہ دہی میں ڈھکی ہوئی تھی۔

احساس کی گواہی کے میسمرزم کی چال ، ہر چیز کو پلٹنا ہے ، غلطی کی کوئی شے کو بڑھانا تاکہ یہ دیو کی طرح دکھائی دے ، اور روح کی طاقت اور موجودگی کو کم کردے۔

اس طرح ، جب ہم کسی ایسی مشکل میں آجاتے ہیں جو بہت بڑا لگتا ہے تو ، ہمیں خدا سے زیادہ طاقت کے لئے نہیں پوچھنا چاہئے۔ ہمیں جانوروں کی مقناطیسیت کو سنبھالنا چاہئے ، تاکہ ان کی مناسب رشتوں اور سائز میں چیزوں کو دیکھنے کے لئے ہماری آنکھیں کھلیں۔ تب ہم خود کو خدا کے نمائندوں کے طور پر پہچانیں گے جو قابلیت سے لیس ہے ، اور کسی دشمن سے ملنے کے لئے آگے بڑھیں گے ، ایک چڑیا سے زیادہ خوفزدہ نہیں ہوگا۔

کرسچن سائنس انسان کو زیادہ سے زیادہ اور زیادہ طاقت سے آراستہ نہیں کرتا ہے ، تاکہ وہ شر کی زبردست قوتوں سے ملنے نکل سکے۔ لیکن یہ اس کی نظروں سے احساس کی گواہی کے عجیب و غریب شیشے لیتا ہے ، جس کی وجہ سے غلطی اصلی اور حقیقی طور پر گھوم جاتی ہے۔

ایک بار جب ایک لڑکے کو بتایا گیا کہ ہم جنس پرست نوے کی دہائی کے اونچے قدم رکھنے والے گھوڑوں کو میگنفائنگ شیشے لگا کر اونچے قدم کی تربیت دی گئی ہے ، تاکہ چھوٹے چھوٹے پتھر ان کے راستے میں پتھر کی طرح نمودار ہوں۔ اس طرح سے وہ اپنے پیروں کو ضرورت سے کہیں زیادہ اوپر اٹھاتے ، ان پر سے قدم بڑھاتے ، اور اس طرح اونچے قدم والے بن جاتے۔

چاہے یہ کہانی سچ ہے یا نہیں ، اس حقیقت کی مثال پیش کرتی ہے کہ مادے کی پیدائش کا اعتقاد انسان کے ذہن کے مادی وژن کے ’’شیشے‘‘ کو انسانوں پر ڈال دیتا ہے ، تاکہ انسانی طاقت اور کسی بھی شے کی طاقت کا جولیت طاقت کے طور پر نمودار نہ ہو اور انتقام جب روحانی تفہیم اس بگاڑ کو دور کرتا ہے ، اور انسان کو ایک واضح نظریہ حاصل کرنے کے قابل بناتا ہے ، تو وہ کسی بھی چیز کی قطعیت اور خدا کی مہربانی کی عظیم حقیقت کو دیکھتا ہے۔ اس طرح سے فانی عقل کی جولیت فتح ہوجاتی ہے۔




154۔ دیکھنا ایسا نہ ہو، کہ اپنے آپ کو گمراہی سے بچانے کی گمراہی اور حد سے زیادہ پرجوش کوشش میں ، آپ نے خود کو خدا سے دور کردیا (اگر ایسی بات ممکن ہوتی تو)۔ آپ اپنی آنکھوں کو روشن اسٹریٹ لائٹ سے بچانے کے لئے رات کے وقت اپنے پردے کو نیچے کھینچ لیتے ہیں اور صبح کے وقت آپ کو طلوع آفتاب کے خوبصورت منظر کو دیکھنے سے روک دیا جاتا ہے۔ جب آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ کسی غلطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے ، اور یہ کہ حقیقت میں صرف نیکی کی روشنی آپ کے پاس آسکتی ہے - اس کے قیاس کے برعکس نہیں ، چونکہ غلطی کی کوئی روشنی نہیں ہے ، تب آپ کو کسی سایہ کو کھینچنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ جب گال پر مارا جائے تو دوسرے کو پھیر دیں ، بجائے اس کے کہ وہ کسی اور دھچکے سے خود کو بچائیں۔ دوسرے لفظوں میں ، خوف نہ کھائیں کہ آپ کی برداشت کی وجہ سے آپ کو دوبارہ مارا جائے گا ، کیوں کہ حقیقت میں صرف خدا کے بچوں سے ہی محبت ہوسکتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اسٹریٹ لائٹ سے کسی کی آنکھوں کو تکلیف پہنچنے سے برائی آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے ، یہ واقعی غلطی کی چال ہے تاکہ آپ اس سے اپنے آپ کو اس طرح سے بچانے کی کوشش کر سکیں جس سے آپ اپنے آپ کو خدا سے دور رکھیں گے۔ جانوروں کی مقناطیسیت نے سرگوشی کی ، ’’آپ کو اپنے دشمن سے خود کو بچانا چاہئے۔‘‘ اگر آپ اس مشورے کو مانتے ہیں تو ، اس کے ساتھ ہی دشمن کے وجود اور حقیقت کی قبولیت اور اس کا اعتراف ہوتا ہے۔

حق کہتا ہے ، ’’اپنے آپ کو کسی دشمن کے اعتقاد سے بچاؤ ، اس اعتقاد سے کہ آپ کے پاس کوئی بیرونی چیز ہے جس سے آپ کو تحفظ کی ضرورت ہے ، چونکہ خدا ہی سب کچھ ہے۔‘‘




155۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ انفرادی اور اجتماعی طور پر ، ان کی اجازت حاصل کیے بغیر ، انفرادی اور اجتماعی طور پر ، جو کام آپ کو کرنا چاہئے اور کرنا چاہتے ہیں اس میں فرق کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اور یہ کام بغیر کسی کے پوچھے بغیر نہیں کرنا چاہئے ، سوائے معافی کے حالات میں ، جیسا کہ متفرق تحریروں کے صفحہ 282 پر مسز ایڈی نے نوٹ کیا ہے۔

آپ سب کے لئے جو کام کرنا چاہئے وہ غلطی کو نظرانداز کرنا ، انسان کے سوا اس کی کوئی شے نہیں دیکھنا ، اور خدا کے خیال کے طور پر انسان کے کمال کو محسوس کرنا ہے۔

جو کام آپ کو اجازت کے بغیر نہیں کرنا چاہئے ، عام اصول کے طور پر ، کسی کو اپنے غلطی سے الگ دیکھتے ہوئے ، اور خدا کی نظر میں کامل نظر آنے کے لئے سلوک کرنا ہے۔

ہمیں ہر وقت ایک دوسرے کے بارے میں اپنی اپنی سوچ کو درست کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ، لیکن ہمیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر دوسروں کے اپنے خیالات کو درست کرنے کی کوشش نہ کریں ، سوائے کسی حادثے میں ، یا جب حق رکھنے والا ہم سے کام کرنا چاہے۔

انسان سے جدا ہوا غلطی دیکھنا جائز اور حق ہے ، اور اس لئے کچھ بھی نہیں۔ لیکن کسی آدمی کو اپنے آپ کو غلطی سے الگ دیکھتے ہوئے سلوک کرنے میں ، کسی دوسرے کے ذہنی گھر کے دائرے میں داخل ہونے کی کوشش شامل ہے ، جو عام طور پر اجازت کے بغیر نہیں کیا جانا چاہئے۔

اگر کوئی لڑکا برن پکڑ رہا ہوتا تو برار لڑکے سے بھی لپٹ جاتا۔ آپ اس کی اجازت کے بغیر ، یہاں تک کہ اس برار کو اتارنے میں مدد کرسکتے ہیں ، لیکن عام طور پر آپ کو انتظار کرنا چاہئے کہ اس سے پہلے کہ آپ اس کی مدد سے کوشش کریں کہ وہ اس کی گرفت کو چھوڑ دے۔ آپ انسان سے غلطی کو ہر وقت الگ کرنے کا غیر معمولی کام کرسکتے ہیں ، لیکن کسی بشر کو کسی غلطی سے بچنے میں مدد دینا ، جس کی مدد کے لئے اس کی درخواست کے بغیر ، آپ کو شاذ و نادر ہی کوشش کرنی چاہئے۔




156۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں آپ کو یقین ہے کہ جب آپ کرسچن سائنس کی سچائیوں پر دانستہ طور پر بحث کرنا چھوڑ دیں گے تو ، الہی عقل کی آمد ختم ہوجاتی ہے۔ کیا کوئی شخص اندھیرے اوقات میں اپنا راستہ ہلکا کرنے کے لئے اپنے چراغ میں تیل جمع نہیں کرسکتا؟ کیا آپ کو زیادہ سے زیادہ یہ محسوس کرنے کے قابل نہیں ہونا چاہئے ، کیوں کہ انسان خدا کا کامل بچہ ہے ، الٰہی عقل کی بابرکت آمد جاری رہتی ہے ، خواہ آپ شعوری طور پر بحث کر رہے ہو یا نہیں؟

آپ کو اس قانون کو قائم کرنے کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے کہ جب آپ خدا کے سامنے اپنی فکر کھولیں گے ، نہ صرف اچھائی کی ایک بہت بڑی آمد آئے گی ، بلکہ یہ جاری ہے ، کیونکہ بھلائی ہمیشہ اپنی حد تک ہی لامحدود ہوتی ہے ، برکت اور تسلسل۔ حقیقت یہ ہے کہ ، اس سے پہلے کہ آپ اسے حاصل کرنے کے لئے اپنے خیالات کو کھولنے کی کوشش کریں تو یہ بات سامنے آ رہی ہے۔ آپ کا اصل کام اسے ہٹانا ہے جو اس کے آنے سے روکنے کا دعوی کرتا ہے۔

بائبل میں لکھا ہے کہ الیاس نے ایک مظاہرہ کیا جس نے اسے کھانا فراہم کیا ، تاکہ وہ چالیس دن تک برقرار رہے۔ ہمیں اپنے مظاہروں کے تسلسل اور استحکام پر مزید اعتماد کرنا سیکھنا چاہئے۔




157۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ جب آپ روحانی اعتماد اور توقع کی آگ کو پُر کرتے ہیں ، جو آپ کے حق بیانات کو ان کی افادیت اور طاقت فراہم کرتا ہے ، تو آپ دلائل کی شفا پر یقین کرتے ہیں۔ وہ حق کو شفا بخشنے کے لئے راستہ کھولتے ہیں اور اس لحاظ سے وہ اس لکڑی کی طرح ہیں جو آگ کو جلتا رہتا ہے۔ لیکن یہ وہ آگ ہے جو تپش کو اڑاتی ہے ، نہ کہ لکڑی کو جو اس کو کھانا کھلانے کے لئے جمع کرتا ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر کو لکھا ، ’’ثابت قدم رہو ، اور اگر آگ کم جلتی ہے یا بجھتی ہے ، تو اسے اعتماد اور پیار سے بھر دو۔ کرسچن سائنس کی قربان گاہ پر کبھی بھی اس کی روشنی نہیں کھونا ، اور کبھی نہیں۔ دیکھنا ، کام کرنا ، دعا کرنا چھوڑ دو۔‘‘




158۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ یہ احساس کرنے کی کوشش میں کہ آپ تمام بنی نوع انسان کے لئے ایک چینل ہیں ، آپ اس حقیقت کو قائم کرنے سے نظرانداز کرتے ہیں کہ تمام مرد آپ کے بھلائی کے چینل ہیں۔

یسوع نے کہا کہ جنہوں نے اس کے والد کی مرضی پوری کی وہ اس کی ماں ، بہن ، اور بھائی تھے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی موجودگی اور طاقت کے مظاہرے میں یہ احساس بھی شامل ہے کہ دوسرے لوگ اس کی روحانی طور پر خدمت کرسکتے ہیں ، کیونکہ ماں کی روحانی اہمیت یہی ہے۔




159۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کا کام آسمانی بادشاہت میں شامل ہونے کے بجائے اپنے آپ کو ایک کامل احساس حاصل کرنا ہے ، بجائے خود اپنے آپ کو خدا کا بچہ سمجھنا ، تاکہ آپ تمام انسانیت کے بارے میں اپنے خیال کو کامل بنائیں ، یہاں اور اب جنت کی بادشاہی۔ ہم جنت میں جانے کی تیاری نہیں کر رہے ہیں۔ جنت اندر ہے ، اور یہ تناسب کے بغیر ظاہر ہوگا کیونکہ ہمیں اس عظیم حقیقت کا ادراک ہوگا۔




160۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ حق کی بھلائی لینے کے لئے اس لالچ کو قبول کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس معاملے میں بہترین چیز حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، یا فانی عقل کی پیش کش ہوتی ہے۔ یہ پوری طرح سے کرسچن سائنس کے مقصد کو الٹ دے گا ، اس کا استعمال روح کو مادے میں بدلنے کے بجائے ، معاملہ کو ختم کرنے کی بجائے ، تاکہ روح ظاہر ہوسکے۔ مسز ایڈی ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ چیزوں کو سوچوں میں حل کرو ، خیالات کو چیزوں میں نہیں۔




161۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ جب آپ سچائی کا اعلان کرتے ہیں ، کہ آپ کے دل کی دھیان آپ کے دلائل کی طرح سائنسی ہے۔ بائبل ہمیں دعا کرنے کی ہدایت کرتی ہے: ’’میرے منہ کی باتیں ، اور میرے دل کے مراقبہ ، تیرے نزدیک قابل قبول ہوں ، اے خداوند ، میری طاقت اور میرا نجات دہندہ۔‘‘یسوع کو سائنسی گفتگو سے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا تھا جس نے غیر سائنسی سوچ کو چھپا لیا تھا۔




162۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ غلطی کے خلاف آپ کی جنگ جارحانہ اور دفاعی ہے۔ اگر آپ شیر سے لڑ رہے تھے تو ، آپ کی جدوجہد ناگوار اور دفاعی ہوگی۔ لیکن اگر آپ چڑیا سے لڑ رہے تھے تو ، یہ سراسر جارحانہ ہوگا۔ غلطی ، ایک غلط عقیدہ ہونے کی وجہ سے ، چڑیا سے زیادہ لڑنے کی زیادہ طاقت نہیں ہے۔

اگر ، لیکن ، اگر آپ ٹٹرروپ پر چل رہے تھے تو ، آپ کے ارد گرد اڑنے والی ایک جستجواتی چڑیا ایک ایسا خلفشار پیش کر سکتی ہے جس کی وجہ سے آپ کو توجہ دینا مشکل ہوجائے گا۔ جانوروں کی مقناطیسیت کی لطیفیت سوچ کو صحیح سوچ کے کام سے ہٹانے کی کوشش میں ہے۔




163۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ موت کی قید سے فرار ہوگئے ہیں ، صرف اس وجہ سے کہ آپ اپنے سیل سے فرار ہوگئے ہیں ، اور آپ جیل کے اطراف پر چڑھ چکے ہیں۔ کرسچن سائنس نے بشر کے عقیدے کی تہھانے میں پہلے انسان کو تلاش کیا۔ پھر ، جب وہ اس سچائی کو قبول کرتا ہے جو اس کے پاس لایا جاتا ہے تو ، ایک بہتری واقع ہوتی ہے ، جو تاریک اندھیرے سے فرار ہونے اور جیل کے اطراف پر چڑھنے کے مساوی ہے۔

تاہم ، فرار اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک کہ کوئی روح کے نامعلوم دائرے میں کودنے کے مطالبہ کی تعمیل نہ کرے۔ جب تک کوئی ایسا نہیں کرتا ، وہ موت سے نہیں بچا ہے۔ اس نے محض اپنے فرار کی تیاری کرلی ہے۔

ثقب اسود میں رہنا انسان کے عقل کی پہلی ڈگری کے مطابق ہوسکتا ہے ، جیسا کہ سائنس اور صحت کے صفحہ 115 پر ملتا ہے ، جبکہ ریمارٹ دوسری ڈگری ہوگی۔ تیسری ڈگری خدا کے دائرے میں چھلانگ ہوگی جو خدائی مخلوق کے لئے انسان کی ہر چیز کو رد کرتی ہے۔

لہذا ، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ریمارٹ پر رکھنا کرسچن سائنس کا مقصد نہیں ہے۔ پیش قدمی کرنے والے طالب علم کو ثقب اسود کے مقابلہ میں اتنا حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے کہ اسے انسانی سطح پر اس مقام پر قائم رہنے کے لئے راضی ہوجاتا ہے۔




164۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ علامت پریرتا حاصل کر سکتے ہیں۔ اس غلطی کی مثال ایک طالب علم نے دی ہے جو کلاس میں اس کے استاد کے ہر لفظ کو مسترد کرتا ہے ، اور پھر یہ خیال آتا ہے کہ اس نے اس پریرتا کو اپنی گرفت میں لیا ہے اور اسے برقرار رکھا ہے جو استاد نے پیش کیا تھا۔

اگر کوئی کلاس میں نوٹ بناتا ہے اور اس کے بعد کی تاریخ میں ان کا حوالہ دیتا ہے تو ، جب وہ نیچے لے جایا گیا تو اس لمحے کی تجدید میں مدد کرسکتے ہیں۔ لیکن الہام ایک روحانی عداوت ہے جسے کبھی بھی کسی انسانی علامت کی تنگ حدوں میں قید یا قید نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یسوع نے اس کو ہوا کی طرح کہا جہاں سے وہ پسند کرتا ہے ،’’اور آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ کہاں سے آتی ہے یا کہاں جاتی ہے۔‘‘

بائبل اور سائنس اور صحت علامتوں میں خدا کے الہام کو گرفت میں لانے کے قریب ترین مقام ہے۔ اس کے باوجود مسز ایڈی نے جو مظاہرہ اس سمت میں کیا تھا اسے لازمی طور پر ان کے پیروکاروں کی تجدید کرنی ہوگی ، ایسا نہ ہو کہ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ہی ضائع ہوجائے۔ کہ یہ نقصان ممکن ہے اس حقیقت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ، صدیوں سے لوگ ایسا کرنے سے بائبل کو چنگا کیے بغیر پڑھتے ہیں۔ مسز ایڈی کے ایک طالب علم نے کہا کہ انھوں نے ہر ایک دن یہ جاننے کے لئے کام کیا کہ ان دونوں چینلز کے ذریعہ ان کو پڑھنے والوں کو شفا یابی کی ترغیب پہنچائی گئی ہے ، اور اس بات پر طلباء کی اہم نقطہ پر توقع کو کم کرنے یا تجویز کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہوسکتی ہے۔

_________________

165۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ خدا کے اپنے تصور اور انسان کے اپنے تصور کو اپنی سائنسی فکر کے دو الگ الگ حصوں کے طور پر رکھتے ہیں ، گویا آپ کو خدا کا صحیح خیال اور اسی وقت انسان کا غلط خیال ہوسکتا ہے۔ اس بیان کی اتھارٹی ہے کہ ’’ تیرا نام پاک مانا جائے،‘‘ کے معنی آدمی ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو ، پھر باپ کے طور پر خدا کے اعتراف کے ساتھ ہی انسان کو تقدیس کا حکم آتا ہے۔

اگر آپ کے آٹوموبائل کا ونڈشیلڈ اتنا گندا تھا کہ اس نے ہر ایک کو آپ کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے دھندلاپن دکھادیا تو آپ کے اوپر چمکتی سورج کی کرنیں بھی مسخ ہوجاتی ہیں۔ ’’محبت محبت میں جھلکتی ہے۔‘‘

آپ کے بھائی کا تصور آپ کے اور آپ کے وسیلے سے خدائی ذہن کو کس طرح چمکاتا ہے اس کا تعین کرتا ہے۔ خالص اور کامل ، خدا کے جیسے دیکھتے ہی انسانیت کو دیکھنے کی سعی کرنا ، خدا کی محبت اور قدرت کے لئے آپ اور آپ کے وسیلے سے ہمیشہ کے لئے پاکیزگی اور طاقت کے لئے راستہ کھولتا ہے۔ اگر ، دوسری طرف ، اگر آپ کسی ایک فرد کو بھی غلط معنوں میں روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں ، اگر آپ کے تجربے میں خدائی محبت کو مسخ کردیا جاتا ہے اور اسے الٹ دیا جاتا ہے تو حیرت نہ کریں۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ جب ملازمت نے اپنے دوستوں کے لئے دعا کی (ایوب 42: 10) ، نوکری کو اس کی تضاد ، کمی اور تکالیف سے دور ہونے کا راستہ ملا۔ دوسروں میں مسیح کو دیکھنے کی اس کی کوشش سے مسیح کے پاس آنے کا راستہ کھل گیا۔




166۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کھانے کے تینوں اقدامات میں خمیر کرتے ہیں جن کا ذکر متی 13: 33 میں کیا گیا ہے۔ یہ تینوں خدا ، انسان اور کائنات کے بارے میں ہماری سمجھ کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔ خمیر ایک روحانی الہام ہے جو آپ کو ہر چیز کو حقیقی اور روحانی کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

احساس کی گواہی اچھائی اور برائی دونوں کو حقیقی قرار دیتی ہے۔ دنیا اچھے خدا اور ایک شریر خدا ، اچھے انسانوں اور شریر انسانوں ، اور جنت نامی ایک اچھی جگہ اور جہنم نامی ایک بری جگہ پر یقین رکھتی ہے۔

کرسچن سائنس کی تفہیم روحانی خمیر لے آئی ہے ، جب کھانے کے پہلے پیمانے پر اطلاق ہوتا ہے تو ، خدا کے دوہرے تصور کو ایک لامحدود ، کامل باپ کی والدہ کی شناخت کا باعث بناتا ہے ، جو دیکھنے کے لئے بھی خالص آنکھیں ہے ناانصافی

جب کھانے کا دوسرا پیمانہ خمیر ہوجاتا ہے ، تو اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک ہی آدمی ہے ، یعنی خدا کا عکاس ، کامل اور لافانی ، اور یہ کہ جو گنہگار آدمی دکھائی دیتا ہے وہ مسماریت کا پریت ہے ، جو انسان نہیں ہے ، اور اس کا حصہ نہیں ہے۔ طالب علموں کو یہ سیکھنا چاہئے کہ غلطی ان کو اس کا وکیل بننے کی تدبیر میں کس طرح دیتی ہے ، تاکہ انسانوں کو یقین ہو کہ وہ غلطی کی بجائے اپنی نمائندگی کرتے ہیں۔

جب ہمارا ملک لڑائی میں ہے تو ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ اصل دشمن ہمارے درمیان ہی میسمرزم ہے۔ پانچواں کالم جو ہمیں دوسروں کی طرح سوچنے پر آمادہ کرتا ہے اور افراد یا قوموں سے نفرت کرتا ہے۔ جب ہم اس غلطی سے دوچار ہوجاتے ہیں تو ہم خدا کو کھو دیتے ہیں۔

کھانے کے تیسرے پیمانے پر یعنی کائنات میں خمیر کا اطلاق ایک نقطہ ہے جس کو نظرانداز کرنا مناسب ہے ، چونکہ پرانے الہیات کے اصول کو قبول کرنا آسان معلوم ہوتا ہے ، اس لئے کہ انسان اس نامکمل دنیا کو پیچھے چھوڑنے کے لئے کوشاں ہے۔ گناہ ، بیماری ، کشی ، تنازعہ اور موت ، جنت کے نام سے کسی دور دراز جگہ پر جانے کے لئے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ سوائے اس کے سوا کوئی جنت نہیں ہے جو یہاں موجود ہے ، جسے ہم بیرونی طور پر دیکھیں گے جب ہم اس کا شعور اپنے اندر قائم کرتے ہوئے قائم کرلیں گے۔ مسز ایڈی سائنس اور صحت میں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم اپنا جنت بناتے ہیں۔ صرف اور صرف خدا کی کائنات یہاں ہے۔ یہ واحد کائنات ہے۔ یہ بشر کے عقل کو مسخ کرنے کی وجہ سے مادی معلوم ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی سوچ کے نقطہ نظر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ پھر جو چیز مادی معلوم ہوتی ہے وہ روحانی اور کامل پائے گی۔

ہم یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ ہم نے دوہری خدا اور دوہری انسان کے تصور کو بڑھاوا دیا ہے ، لیکن ہم نے اس وقت تک پوری گانٹھ کو خمیر نہیں کیا جب تک کہ ہم دوہری کائنات کے تصور کو ترک نہیں کردیں گے۔ ہمیں یہ دیکھنے کے لئے بیدار ہونا چاہئے کہ ایک کائنات ہی ہے ، جو یہاں اور اب موجود ہے۔ کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، سوائے اس شخص کے جو اسے مسمار کی غلطی سے دیکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسز ایڈی کے ذہن میں یہی تھا جب انہوں نے کہا ، ’’اگر آپ کے پاس مریض نہیں آتے ہیں تو ، آپ پرندوں اور پودوں کا علاج کرسکتے ہیں؛ انہیں علاج کی ضرورت ہے۔‘‘

خمیر کا استعمال روٹی کو ہلکا کرنا ہے ، نئی روٹی بنانے کے لئے نہیں۔ روحانی خمیر کا استعمال روحانی طور پر فکر کو روشن کرنا ، اس حقیقت کے بارے میں جاننے کے لئے ہے جس پر مسمار کی دھواں اسکرین نے مسخ اور جھوٹ کو پھینک دیا ہے۔ کرسچن سائنس کوئی نیا آدمی یا نئی کائنات نہیں لاتا ہے۔ لیکن پرانے کا ایک نیا اور صحیح احساس۔




167۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کسی خلا ، یا روحانی خالی پن کے احساس پر یقین رکھتے ہیں جو حوصلہ شکنی اور خوف کا احساس دلانے کے لئے موزوں ہے۔ یسوع نے اعلان کیا ، ’’جب تک دلہا ان کے ساتھ رہے گا اس وقت تک دلہا خانے کے بچے ماتم کر سکتے ہیں؟ لیکن وہ دن آئیں گے ، جب دلہا ان سے لیا جائے گا ، اور پھر وہ روزہ رکھیں گے۔‘‘

اگر کسی کو کمتر موسیقی سے لطف اندوز ہوتا ہے تو اسے اس خوشی سے روزہ رکھنا چاہئے ، جبکہ موسیقی کے اعلی درجے کی تعریف تیار کی جارہی ہے۔ خدا ہر وقت اپنے تمام بچوں سے بات کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ خدا کی آواز کو تمیز دینا سیکھ لیتے ہیں تو انہیں دنیا کی آوازیں سننے سے روزہ رکھنا چاہئے۔

جب پیش قدمی کرنے والا طالب علم اس کے ذہنی دباؤ اور روحانی خالی ہونے کا اوقات دیکھتا ہے تو اسے حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہئے۔ اسے ان تجربات کو روحانی ترقی کا ثبوت سمجھنا چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ اس کے اگلے انکشاف کی ابتدائی حیثیت رکھتے ہیں۔

خالی جگہ پر یقین کرنے سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ افسردگی سے انکار ہوجائیں ، لیکن جاننا ، جیسا کہ مسز ایڈی کہتے ہیں کہ یہ بظاہر خلا پہلے ہی خدائی محبت سے پُر ہے۔ مظاہرے میں ثابت قدمی سے کھڑے رہنا ہے ، اور جب تک سچائی کا شعور اندر نہیں آتا تب تک کسی اور کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

ایسے وقت میں آزمائش یہ ہے کہ سوچ کو کسی ایسی چیز سے پر کرنے کی کوشش کی جائے جو کسی کو خالی ہونے کا احساس بھلائے۔ جو طالب علم اس فتنہ کا مقابلہ کرنے میں وفادار ہے اسے اس سے زیادہ روحانی نشونما پائے گا۔ یہ ایک سچائی ہے جسے خالی بلیک بورڈ پر خدا لکھتا ہے۔

یسوع نے مذکورہ بالا بیان میں یہ مطلب نقل کیا ہے کہ ایک اوقات ایسے وقت آئے گا جب ہم یقین کریں گے کہ ہم نے دولہا کھو دیا ہے۔ یہ روحانی احساس ہے۔ تب ہی ہمیں لازم ہے کہ روزہ رکھنا چاہئے ، یا انسانی خلفشار کے ساتھ خلا کو پُر کرنے کی کوشش سے باز رہنا چاہئے ، یہاں تک کہ روحانی آمد دوبارہ آجائے ، کیونکہ حقیقت میں کوئی خلا باقی نہیں رہتا ہے۔

جب کوئی طالب علم سائنس میں ایک وحی حاصل کرلیتا ہے اور اس سے چمٹ جاتا ہے تو ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے خلاء سے ڈر لگتا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ اگر وہ اس روشن فریب سے محروم ہوجائے تو وہ دوسرا حاصل کرنے میں ناکام ہوجائے گا ، اور اپنے آپ کو اندھیرے میں پائے گا۔ حق ہمیں بانٹنے کے لئے دیا گیا ہے۔ لہذا ، اگر آپ مفید سوچ حاصل کرتے ہیں تو ، اسے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔ تب اس کا بظاہر نقصان صرف اس کی جگہ ہوگی ، تاکہ ایک اعلی انکشاف سیلاب میں آجائے۔ اس کو جاننے کے بعد ، آپ بظاہر خلا کو خوش آمدید کہیں گے ، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کسی اونچے پھیلاؤ کے لئے تیار ہیں۔

لہذا ، کبھی بھی اپنے عقل کو خالی تختہ سیاہ لگانے کا خوف نہ رکھیں؛ لیکن اس وقت اس کی حفاظت کرو تاکہ صرف خدا ہی اس پر لکھ دے۔




168۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ روحانی طاقت کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں ، بغیر کسی مقصد کے اپنے مقصد کو پاک کرتے ہوئے۔

اس کو ختم کرنے کے لئے چھ دن تک بشر کے عقیدے کے ساتھ مشقت کرو۔ لیکن پھر سبت کا دن ضرور آنا چاہئے ، جہاں کسی نے اس تازگی کے لئے خدا کے سامنے اپنی فکر کھولی جو اس کی وجہ سے جنگ کے لئے بحال ہوجائے۔ ہمارے لئے یہ اعلان کرنا کافی نہیں ہے کہ خدا ہی ہماری طاقت ہے۔ جب ہم مکینیکل کھلونا ہونا چاہئےتو یہ باقاعدگی سے زخمی ہونے کے لئے ہمیں اس کے پاس جانا چاہئے۔

سبت کا دن طاقت اور زندگی کے لئے خدا کی طرف رجوع کرنے اور اسی میں آرام کرنے کی علامت ہے۔ یہ کسی کے روحانی ٹولوں کو تیز کرنا ہے ، تاکہ کوئی آگے جا سکے اور اسے چھ دن تک استعمال کرے۔ یہ روح میں پیچھے ہٹنے کی علامت بھی ہے ، تاکہ کوئی اپنے مقاصد کو پاک کرے اور ان کو خوبصورتی اور مادیت سے پاک کرے۔




169۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یاد ہے ، جب مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ خواہش دعا ہے ، تو وہ اچھی خواہش نہیں کہتی ہیں۔ عقل ہر چیز کا ذریعہ ہے ، اور خواہش سڑنا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ عقل کا روحانی شعور حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکے ، اور پھر بھی انسانی خواہش کو برقرار رکھا جاسکے۔

جب کوئی طالب علم مالی مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تو ، اس کی سوچ میں پیسے کی خواہش سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خدائی طاقت کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت میں ہمیں کبھی مادی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری جسمانی یا مادی ہونے کی ضرورت ہے ، جب یہ حقیقت میں ذہنی اور روحانی ہے۔

فراہمی کا مظاہرہ کرنے کا پہلا قدم یہ دریافت کرنا ہے کہ واقعتا ًضرورت کیا ہے۔ انسان خدا سے اپنی انسانی خواہش کو برکت اور عطا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ، صرف اس وجہ سے کہ اس نے یہ نہیں سیکھا کہ اسے واقعتا ًکس کے لئے دعا کرنی چاہئے۔

انسان کی خواہش کو پالنا اور اسی وقت خدا کی عکاسی کرنا بھی خطرناک ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم روحانی طاقت کا بڑھتا ہوا شعور ہماری خواہش کو عطا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں ، اس سے پہلے کہ ہم اس پر خدا پر بھروسہ کرتے ہوں ، تاکہ اس سے پہلے کہ یہ الفاظ اور اعمال میں شکل اختیار کرے اس سے پہلے ہی اس کی شکل بلند ہوسکے۔ لہذا اس کی تکمیل رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے میڈیوں کے ایڈیٹر کو لکھا ، ’’افسوس ، افسوس کی بات ہے کہ پیسہ بہت سارے طلباء کے اعمال کو باقاعدہ کرتا ہے۔ اگر آپ کے قائد پر اس طرح حکومت ہوتی تو کرسچن سائنس ، تمام تر مخالفتوں پر قابو پانے کے بجائے ، مائنس ہوتا۔ حکمرانی کرنا ... میں نے بغیر کسی قیمت اور قیمت کے سب کے لئے کام کیا یہاں تک کہ خدا نے مجھے اپنے طریقے سے ادائیگی کی۔ اسی طرح جانا بھی محفوظ ہے ، میں نے گھر ، گھر اور دوستوں کو چھوڑ دیا ، اور میں نے ایک بہت بڑی تنخواہ ترک کردی ، بحیثیت مصنف ، تاکہ کرسچن سائنس کی کاوش کی خدمت کی جا.۔ میں نے اس کی طرف سے تمام شرم و حیا اور الزامات کو برداشت کیا ہے ، اور میں ان سب کو برداشت کرتا رہا ہوں ، یہ آپ کے قائد کا تجربہ ہے۔ کیا اس کے پیروکار بھی اپنی صلیب اٹھانے پر راضی ہیں ، جیسا کہ ان کا ہے مسیح کی پیروی کرنے کے لئے ، اس کی پیروی کی ، یا وہ سب کچھ مانگتے ہیں جو وہ انسانیت سے چاہتے ہیں۔‘‘




170۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو خوف ہے کہ انسانی تجربے کے متضاد اور ناخوشگوار مراحل سے کہیں زیادہ ، جن کی وجہ سے وہ کسی کو سونے کی کوشش کرتے ہیں ، اس سے انسانیت کے نام نہاد تسلط اور قابو پانے پر قابو پانے میں اس کی ایک قابلیت ضائع ہوجاتی ہے۔ جو کچھ بھی روحانی سرگرمی کی ترجیح دیتا ہے ، وہ انسانی ہم آہنگی کے سھدایک اور سرگرمی سے متاثر کن اثر کے مقابلے میں افضل ہے ، جو انسان کو نیند دیتا ہے ، اور اس سے انسانیت کے تسلط پر قابو پانے کے عزم سے محروم ہوجاتا ہے۔

اگر آپ گھوڑے کی سواری سیکھنا سیکھ رہے تھے اور اس کو سیکھنے کے لئے ایک بکنگ برونک دیا گیا تھا - ایک گھوڑا جب اس کے سوار کو اتارنے کا عزم کرتا ہے - جب آپ اس پر سوار ہوسکتے ہیں تو ، سواری کی حیثیت سے آپ کی اہلیت کا کوئی شک نہیں ہوگا۔ شاید اس کی حکمت سے خدا ہمیں اس پر اپنی روحانی گرفت برقرار رکھنے کی تربیت دے رہا ہے ، ہمیں مصیبتوں کی روٹی اور تکلیف کا پانی دے کر ، جیسا کہ ہم پڑھتے ہیں۔یسعیاہ 30 :20 ، تاکہ ہم آخر کار یہ کہہ سکیں کہ ’’ان چیزوں میں سے کوئی بھی مجھے متحرک نہیں کرتا ہے۔‘‘ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ انسان ہم آہنگی کے ذریعہ روحانی مضبوطی سے ٹھوس دلچسپی کی بہت کم تربیت حاصل کرتا ہے۔ یسوع نے اعلان کیا ، اور ان سے مت ڈرو جو جسم کو مارتے ہیں ، لیکن روح (انسان کی روحانی طور پر سرگرم عقل) کو نہیں مار سکتے ہیں ، بلکہ اس سے ڈرو جو روح اور جسم دونوں کو جہنم میں تباہ کرنے کے قابل ہے (انسان کو اس کی نیند سلا دے خدا کا فرض ، جب روحانی طور پر بیدار رہنا بنیادی ضرورت ہے)۔

دانیال کے دسویں باب میں ہم نے اس روحانی وژن کے بارے میں پڑھا جو دانیال نے ایک مظاہرے کے نتیجے میں حاصل کیا ، ناخوشگوار نہیں ، بلکہ انسانی تجربے کا خوشگوار پہلو ہے۔ اس نے کہا ، ’’میں نے کوئی خوشگوار روٹی نہیں کھائی ... جب تک کہ پورے تین ہفتے پورے نہ ہوں۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو انسانیت کے نام نہاد فطری قانون سے آزاد کرانے میں جو پیشرفت کی ہے اسے اس کے خوشگوار پہلو میں پیش کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں ، اس نے ایک حیرت انگیز روحانی بینائی حاصل کی ، جو تاریخ کے توسط سے روحانی وحی میں ایک قابل ذکر اور قوی اضافی طور پر سامنے آئی ہے ، تاکہ انسان کو اچھائی اور برائی ، سچائی اور گمراہی کے بارے میں اس کی تفہیم میں مدد فراہم کرسکے۔

بشر وجود کے ناخوشگوار پہلو پر ہونے والے مظاہرے میں ایک طالب علم کو اس کے خوشگوار پہلو پر مظاہرے کے لئے پکانا چاہئے۔ حقیقی ترقی انسانی ہم آہنگی سے شروع ہوتی ہے نہ کہ تکرار سے۔ میسمرزم کی طاقت کو برقرار رکھنے کا اعتقاد بنیادی طور پر اس بے ہوشی کے اعتقاد میں پایا جانا چاہئے کہ کھانا ، نیند ، ہوا ، حرارت ، ورزش وغیرہ زندگی اور صحت کے لئے ضروری ہیں۔ مسمار کے مراحل جو ایک کے سب سے زیادہ مظاہرے کا مطالبہ کرتے ہیں وہی وہ ہیں جو کسی انتباہ کی گھنٹی کو نہیں ہٹاتے ہیں ، جب کوئی ان کے پاس آتا ہے۔

سائنس کا کوئی متحرک طالب علم کبھی بھی رات کے وقت نیند نہیں سوائے گا۔ لیکن انہوں نے یہ کام بڑے پیمانے پر کیا کیونکہ اس طرح کی تجاویز انتباہ کے ایک نوٹ پر پھنس جاتی ہیں جو کہ بے نقاب ہے۔ اگر وہ اس اہم کام کو کرنے سے نظرانداز کرے گا تو وہ اسے قصوروار سمجھے گا۔ پھر بھی چونکہ یہ مادیت ہے جو خدا کا دشمن ہے ، لہذا یہ ضروری ہے کہ بشرطیکہ فطری ، اور ہم آہنگ مراحل میں عزم کے ساتھ اعتقاد کے خلاف مزاحمت شروع کرے۔ اس کو بہت بڑا کام نہیں سمجھنا چاہئے ، کیونکہ غلطی کا اعتراف کرنا ہی غلطی ہے۔ مثال کے طور پر ، جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو ، اس بیماری کی موجودگی میں اس کا اعتراف ہوتا ہے۔ بس فتنہ پھیلانا ہے اس کا اعتراف ہے۔

تاہم ، مسز ایڈی نے توقع نہیں کی تھی کہ ہم ایسا کرنے سے پہلے ہی نیند چھوڑ دیں۔ پھر بھی ، سونے سے پہلے ، ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ خدا اپنے پیارے کو حقیقی نیند دیتا ہے ، اور اس کا کوئی غلط احساس ہمیں حاصل نہیں کرسکتا۔ ہم یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ حقیقی آرام خدا کے شعور سے حاصل ہوتی ہے ، نہ کہ بے ہوشی کے مسمارزم کی طرف گامزن ہونے سے۔

جانوروں کی بدنیتی پر مبنی مقناطیسیت کی اصطلاح اتنی ہی مناسب ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ معمولی اور خوشگوار مادیت کو سنبھالنے میں نظرانداز کرتے ہیں تو ، اگر وہ سراسر گناہ کو نظرانداز کرنے سے نظرانداز کرتے ہیں تو وہ اس کو قصوروار سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔

جب کسی طالب علم کو نازک اور پرتعیش کھانا پیش کیا جاتا ہے تو ، اس میں کوئی بھی انتباہی نوٹ نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں سنسنی خیزی کی غلطی سے دوچار ہو ، کیوں کہ اگر اسے بیماری یا گناہ کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ’’بدنیتی پر مبنی جانوروں کی مقناطیسیت‘‘ کی اصطلاح کے ذریعہ ایک طالب علم کو اس کی لاپرواہی کا احساس پیدا ہوتا ہے ، اگر انسانی ہم آہنگی کے تحت وہ مادی معنویت کی کچھ بھی نہیں جاننے میں ناکام ہوجاتا ہے ، جیسا کہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کو غلامی میں رکھے گا ، اس کے بغیر انسان مر جائے گا۔ اس اصطلاح سے ’’خوشگوار روٹی ‘‘، نیند ، ہوا ، ورزش کے دعوؤں میں انتباہی نوٹ شامل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے طالب علم کو مادی عقل کے ان تمام دعوؤں کے ادراک کرنے میں مدد ملتی ہے جو انسان کو ننگا اور ان کا خاتمہ کرنا چاہئے ، تاکہ مائنڈ عکاسی کرنے کے لئے جو مسیح یسوع میں تھا۔




171۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ جب آپ کسی کو جانوروں کی مقناطیسیت سے نمٹنے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ، آپ یہ خیال قبول کرتے ہیں کہ شاید ایک گھنٹہ پہلے ، اس کو سنبھالا نہیں گیا تھا ، کیونکہ اس کے بعد اس نے اس کی کوئی علامت نہیں دکھائی۔

جانوروں کی مقناطیسیت کو سنبھالنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے خدا کی حکمرانی کے لئے کامیاب کوشش نہیں کی ہے۔ بظاہر انسان غلطی کا چینل ہے جب بھی وہ خدا کا چینل نہیں ہوتا ہے۔ جب بھی انسان کی سوچ پر قابو پایا جاتا ہے تو وہ جانوروں کی مقناطیسیت سے نمٹ جاتا ہے۔ پھر بھی وہ اس غلطی سے بے ہوش ہوسکتا ہے یہاں تک کہ کوئی ایسا کام ہوجائے جو اس کی طرف اس کی توجہ مبذول کرے۔

یہ اعلان کرنا سخت لگتا ہے کہ انسانوں کو جانوروں کے مقناطیسیت نے سنبھالا ہے ، لیکن منطق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی سوچ میں مبتلا ہو ، چاہے وہ کتنا ہی بے ضرر کیوں نہ لگے ، انسان کو گمراہی کا ذریعہ بنا دیتا ہے ، ایسی کیفیت جس سے خدائی عقل ختم ہوجاتا ہے۔

اگر آپ کسی کو جانوروں کی مقناطیسیت کے ذریعہ سنبھالنے کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ وہ ایسا کچھ کہتا ہے یا کرتا ہے جو آپ کو اچھا لگتا ہے اس کے مطابق رہتا ہے ، جبکہ آپ کو یقین ہے کہ شاید ایک گھنٹہ پہلے اسے سنبھالا نہیں گیا تھا ، کیونکہ اس وقت اس کی تقریر اور عمل بظاہر سب ہی تھے ٹھیک ہے ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مسز ایڈی کی اصطلاح کے ذریعہ تبلیغ کا ارادہ کیا مقصد کو غلط سمجھتے ہیں۔

غلطی منفی ہے - مثبت کبھی نہیں۔ جانوروں کی مقناطیسیت کے دعوے کا پتہ لگانے کا صحیح طریقہ اتنا نہیں ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے ، جیسا کہ وہ نہیں کرتا ہے۔ اگر وہ الٰہی عقل کی عکاسی کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے تو ، وہ جانوروں کی مقناطیسیت کے ذریعہ سنبھالا جاتا ہے ، چاہے اس کے ظاہری اعمال اور تقریر فرشتہ معلوم ہوں۔




172۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ ابراہیم کے خدا ، اسحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا سے جمود کرتے ہیں۔ خدا کا تصور جو ان آبا ؛قداروں کے پاس تھا اس دور میں پیش کردہ کسی اور تصور سے بہت پہلے تھا۔ لیکن اس تین گنا نام کی عبارتیات اس بات کی نشاندہی کریں گی کہ خدا کی سمجھ کئی نسلوں کے دوران بہتر یا وسیع نہیں ہوئی۔ خدا کا بہتر تصور نسل کی امید ہے۔ انسانوں کے لئے کبھی بھی رکاوٹ نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ خدا کو سمجھنا ابد کا کام ہے۔

ابھی تک کسی بھی طالب علم کو خدا کی درست تفہیم حاصل نہیں ہوئی ہے۔ لہذا ، اس کے موجودہ تصور کے ساتھ جمود پیدا کرنا - جس قدر بلند ہوسکتا ہے - اسے بت پرستی کا مجرم قرار دے گا ، گویا وہ لکڑی یا پتھر کے دیوتاؤں کی پوجا کرتا ہے ، کیوں کہ اس کے پاس اب بھی خدا کا انسانی تصور موجود ہے۔

کرسچن سائنس خدا کا صحیح تصور پیش کرتی ہے ، اور جب طالب علم اس کا مطالعہ کرتا ہے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے محسوس کرنا چاہئے کہ ہر دن اسے اس مقصد کے قریب تر لے جاتا ہے۔ لیکن اسے کبھی بھی یقین نہیں کرنا چاہئے کہ اسے اس نے کامیابی حاصل کرلی ہے ، اور اس کی طرف بڑھنے کی تمام کوششوں کو روک سکتا ہے۔

روحانی نمو مظاہرے کے اس تصور کا تقاضا کرتی ہے جو آگے بڑھ رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ ہماری بدھ کی شام کی میٹنگیں اس کے آگے جانے کی علامت ہیں ، چرچ کے کاروبار کی میٹنگیں بیرونی طرف بڑھ رہی ہیں اور اتوار کی خدمات اوپر کی طرف پہنچ رہی ہیں۔

ابتدائی عبرانی تاریخ بنی اسرائیل کے دشمنوں کی تباہی ، اور ایک طاقتور اور خوشحال قوم کی حیثیت سے ان کے قیام پر عمل درآمد خدا کے تصور کو ظاہر کرتی ہے۔ آج طلباء خدا کا تصور کرتے ہیں کہ وہ بیماری کو ٹھیک کرسکتے ہیں اور خوف اور کمی کی برائی کو نکال دیتے ہیں ، تاکہ ان کی زندگی کو ہم آہنگی اور خوشحال مل سکے۔ پھر بھی یہ خدا کا ایک تصور ہے جو ایک اعلی مقام کو لازمی طور پر جگہ دے گا ، ایسا نہ ہو کہ ہم خدا کے اسی تصور کے ساتھ تین یا زیادہ نسلوں کے لئے جمود پذیر ہوں۔

کسی کی روحانی نمو کا انحصار اس کے خدا کے بہتر خیال اور اس کے مظاہرے کے وسیع تصور پر ہے۔ سائنس اور صحت سے مراد بہتر عقائد ہیں۔ یہ مناسب ہے کہ کسی کا پہلا تصور اور مظاہرے کا استعمال ان ذاتی فوائد سے ملنا چاہئے جو اسے اس کے استعمال سے ملنے کی توقع ہے۔

لیکن مسز ایڈی نے ایک بار اپنے گھر میں خود کے بارے میں مندرجہ ذیل بیان دیا ، جو نشوونما کے ایک اعلی مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے: "پہلے وہ جسم میں صحت کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ اب وہ جسم سے باہر صحت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔" یہ اونچا قدم ایک مظاہرے کا ہونا ضروری ہے جس کے تحت کوئی جسم سے بے ہوش ہو جاتا ہے ، یا اس سے بلند تر ہوتا ہے۔ آخری مرحلے میں جسمانی اعتقاد ، یا مادی معنویت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔

دوسرے مرحلے میں کسی کو مادی معنوں ، جسمانی اعتقادات سے اتنا آزاد ہونے کی کوشش کرنی ہوگی کہ وہ کسی جسمانی حالت کو حقیقی طور پر تسلیم نہیں کرتا ہے ، یا خدا اور انسان کے لئے اپنے کام میں مداخلت کرنے کے قابل ہے ، اس طرح اس مقام تک پہنچ سکتا ہے تمام مادی عقل روح میں نگل گئی ہے۔

کتنی افسوسناک حالت ہوگی کہ اس طالب علمی کی جمود ہوگی جس نے اپنے تمام دن ماد ی اعتقاد کو بہتر بنانے کے لئے حق کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ، اس مقام پر پہنچے بغیر ، جہاں اس کے ماد !ی احساس سے بالاتر ہونا چاہا۔ وہ یقینا مشرک ہونے کی درجہ بندی کا مستحق ہوگا۔ اس نام سے طلباء سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر دن اپنے مظاہرے اور خدا کے سمجھنے کے اعادہ میں اضافہ کریں۔




173۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ اپنے بھائی کو بے وقوف کہتے ہیں ، اور اس طرح جہنم کی آگ کا خطرہ ہے۔ کسی کو بھی غلطی ، یا جانوروں کی مقناطیسیت کا چینل ہونے کی حیثیت سے ، اس طرح کی تصویر کو سرزنش کرنے اور اس میں کچھ نہیں بنائے ، اپنے بھائی کو بے وقوف کہنا ہے ، کیونکہ آپ اسے ذہانت کا واحد ذریعہ ، منڈ سے منقطع کر رہے ہیں ، اور غلطی کو حقیقی بنانا۔

چونکہ تمام غلطی کا پورا مقصد آپ کو اس حقیقت کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے جو حقیقت نہیں ہے ، جو کچھ بھی آپ کو خدا کے سوا کسی طاقت یا فرد کے وجود کا اعتراف کرنے کی طرف راغب کرتا ہے ، فورا ً ہی اسے ختم کرنے کی غلطی ہوجاتا ہے ، چاہے وہ اپنے آپ میں یا کسی اور میں ظاہر ہوتا ہے۔

کسی کے لئے جانوروں کی مقناطیسیت کے عقیدے کے تحت کام کرنا جہنم کی آگ میں شامل ہونا ہے ، کیوں کہ ایسا عقیدہ آخری تباہی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم فطری طور پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں اور غلطی کے عمل سے واقف ہو رہے ہیں ، جب ہم جان لیتا ہے کہ جانوروں کے مقناطیسیت کے لئے چینلز بن جاتے ہیں ، کیونکہ یہ ایسا علم ہے جس کی دنیا کو نہیں ہے۔ پھر بھی یہ بے نقاب غلطی کو ختم نہیں کرتا ہے ، بلکہ محض یہ ظاہر کرتا ہے کہ کون سی غلطی آپ کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آپ کو اس عقیدے کو منفی بنانا ہوگا ، ایسا نہ ہو کہ آپ گناہ کا غلام بن جائیں۔

اپنے ہی گھر میں دوسروں کو جانوروں کی مقناطیسیت کے چینلز کے طور پر دیکھنے کا لالچ بڑھ جاتا ہے ، چونکہ ، اگر ہم ان لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں جو عیسائی سائنسدان نہیں ہیں تو ، وہ ہمارے نزدیک اس اعلی معیار کی وجہ سے ہمارے لئے زیادہ تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ اور وہ ایسی آواز اٹھانے سے نہیں ڈرتے ہیں جو اجنبی شخص دیکھ سکتا ہے ، اور پھر بھی ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ہمارے گھر والوں سے ہمیں اجنبیوں کے مقابلے میں ، خدا کے کامل بچے کی حیثیت سے دیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ ہم اپنے گھروں میں باہر کے مقابلہ میں مزاحمت کیے بغیر انسان کے غیر سائنسی احساس کو قائم رکھنے کے لئے زیادہ مناسب ہیں۔

ہمارے گھروں میں غلطی کو ننگا کرنے اور نپٹانے کا ہمارا مقصد صرف اپنی حفاظت کی خاطر نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں یہ کرنا چاہئے کیونکہ ہم اپنے بھائی آدمی کو ، اگر ممکن ہو تو ، بے ہوشی کی نوکری سے رہا کرنا چاہتے ہیں جو اپنے آپ کو غلطی کا چینل بننے میں ہمیشہ قرض دیتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ آپ کو اپنے بھائی کو بے وقوف تسلیم کرنا چاہئے ، کیوں کہ وہ ایک بے وقوف ذہن کے تحت کام کررہا ہے ، اس سے پہلے کہ آپ جان سکیں کہ اس کا اصلی نفس عقلمند ہے کیونکہ وہ خدا کی غیر متزلزل حکمت کے تحت کام کررہا ہے۔ لیکن یہ پہلا قدم جھوٹ کے بارے میں سچ بتا رہا ہے ، یعنی یہ کہ بیوقوف بشر ذہن کی قبولیت کسی کو بے وقوف ظاہر کرنے کا باعث بنتی ہے - حالانکہ یہ جھوٹ کی گواہی ہے۔

کسی کے قریبی اور عزیز ترین کے تصور کو تبدیل کرنے کے لئے محتاط مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ کام کسی کے اپنے مفاد کے ساتھ ساتھ کسی کے کنبے کی خاطر بھی ہونا چاہئے۔ آپ کو لازم ہے کہ آپ اپنے بھائی کو آپ کے لئے لا محدود نعمتوں کا چینل سمجھیں۔ آپ کو یہ اعلان کرنا اور جاننا چاہئے کہ خدا آپ کو برکت دینے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اور دوسروں کو برکت دینے کے لئے اسے ہر وقت استعمال کرتا ہے۔

یسوع کا استفسار ، ’’مجھے آپ پر جج کس نے بنایا؟‘‘لوگوں کے مابین انصاف کرنے والے اسمگل انداز کی سرزنش ہے ، جس میں سے ایک اچھائی چینل اور ایک اور چینل کو برائی کے لئے کہتے ہیں۔ یسوع کے بیان کی وضاحت کی جاسکتی ہے ، ’’کیا آپ مجھے بشر کے احساس سے دوچار کرتے ہیں کہ میں یہ اعلان کروں کہ ایک بشر دوسرے سے بہتر ہے ، جب میں جانتا ہوں کہ حقیقت میں تمام مردوں کو خدا کا فرزند ہونا ہے ، اور اسی وجہ سے ایک دوسرے کے بھلائی کے راستے اور مجھکو؟‘‘

کوئی غلطی آپ کو حقیقی معلوم نہیں ہوسکتی ہے جب تک کہ آپ اس کو سنبھال نہ لیں۔ جانوروں کی مقناطیسیت کو حقیقی ظاہر کرنے کے لئے جو کچھ بھی ضروری ہے وہ آپ کو اس کا شکار بنائے ، آپ کو یہ وہم قبول کرنے کے لئے راضی کرے کہ یہ کچھ چینل کے ذریعہ چل رہا ہے۔ اعتراف کریں کہ اس کا کہیں نہ کہیں ، کہیں بھی ایک چینل ہے اور آپ نے پورا دعویٰ تسلیم کرلیا ہے۔




174۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ انسانی ظاہری شکل کی وجہ سے غلطی کے دعوؤں کے درمیان فرق کرتے ہیں ، اور کسی کو شفا بخش یا کسی کو کم کرنے کے لئے ، زیادہ خطرناک اور مشکل قرار دیتے ہیں۔ تمام غلطی کا بالکل اسی طرح کا بنیادی عقیدہ ہے ، چاہے اس کا ظاہری شکل چھوٹا ہو یا عظیم۔

سردی میں اعتقاد کسی طالب علم میں اتنا خوف پیدا نہیں کرسکتا جیسا کہ کچھ لوگوں کا دعوی ہے کہ اسے زیادہ سنجیدہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن مابعدالطبیعات تمام جھوٹے عقائد کو غیر حقیقی سمجھتے ہیں ، اور نظریہ میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ایک غلط عقیدہ اتنی آسانی سے سچائی کے ذریعہ کسی اور کو تباہ کر دیتا ہے۔ ، یہاں تک کہ اگر کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ سخت لگتے ہیں۔ ایک پاگل آدمی جو یہ مانتا ہے کہ وہ نپولین ہے ، اتنا ہی آسان ہے جتنا کسی نے ماؤس ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

جہاں غلطی کا مظہر خاص طور پر خوفناک معلوم ہوتا ہے ، طالب علم کو اپنی غلطی کا احساس کم سے کم کرنا چاہئے ، تاکہ وہ یہ سبق سیکھے کہ سچائی کے نقطہ نظر سے ، تمام غلطی بنیادی طور پر ایک جیسی ہے ، یعنی ذہن میں اعتقاد اور خدا کے سوا طاقت

مارٹلز اس کی جسامت کے مطابق گولیا قاضی کا انصاف کرتے ہیں ، اور کسی چھوٹے سے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے سے ڈرتے ہیں۔ مابعد الطبیعیات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات انسانی تجربے کے سب سے اہم ترین مراحل انسان کے خدا کو لوٹنے کے لئے کام کرتے ہیں ، اگر اس کارروائی کا پتہ نہ چل پایا اور نہ سنبھالا گیا تو۔

خوفزدہ یا بڑے پیمانے پر غلطی کے اظہار کے ساتھ ، کسی وجہ کا مبالغہ آمیز احساس قبول کرنے کے لئے موزوں ہے۔ اظہار کے ذریعہ موت کے درجے کا سبب۔ سائنس یہ سکھاتی ہے کہ ، مظاہر کی ذہنی وجہ کے طور پر ، غلطی تمام واقعات میں یکساں ہے۔ یہ ماننے کے ل a کہ کینسر کے علاج کے لئے دس مرتبہ کوشش کرنا ضروری ہے ، اس سے کسی طالب علم میں نزلہ اور ناتجربہ کاری ظاہر ہوتی ہے۔

پریکٹیشنرز میں کیا فرق ہے؟ کیوں ایک دوسرے سے زیادہ کامیاب ہونا چاہئے؟ ایک اکثر غلطی کا پتہ لگانے اور اس کو اپنے چھپنے کی جگہ سے نکالنے میں کامیاب ہوتا ہے ، دوسرے سے بہتر ، کیوں کہ وہ اپنی ’’روحانی احساس‘‘ استعمال کرتا ہے جس کا تذکرہ مسز ایڈی نے سائنس اور صحت کے صفحہ 85 پر کیا ہے۔ اور ایک غلطی جو زیربحث لائی گئی ہے سچائی کے ذریعہ آسانی اور آسانی سے سنبھالی جاسکتی ہے۔

ہر جولیتھ سے ملنے کے لئے اسی پتھر ، یا مظاہرے کے مکمل احساس کی ضرورت ہے۔ ڈیوڈ نے بہت ساری دلائل کے ساتھ جولیت کو روکنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا ، ’’اب ، میں آپ کو ایک ہفتے کا علاج دوں گا ، اور دیکھوں گا کہ اس کا کیا اثر ہے۔ اگر اس وقت کے اختتام پر آپ اب بھی زندہ اور طاقت ور ہیں تو ، ہم دوبارہ کوشش کریں گے۔‘‘ وہ افہام و تفہیم کے ساتھ مسلح ، یا طاقت کی حیثیت سے سامنے آنے والا مبہم کام کرنے کے لئے باہر نکلا تھا۔ انہوں نے ایک مکمل سائنسی بیان ، ’’کرسچن سائنس کا اناج‘‘ استعمال کیا جس نے اس کے خطرے سے دوچار ہونے والے مقام میں غلطی کو پورا کیا ، یعنی ، معاملے میں ذہانت اور سنسنی کا اعتقاد۔ اس نے کام کیا۔

ڈیوڈ کے اناج حق نے یقینا ً خدا کی قدرت کی سادگی کی مکمل شناخت شامل کی ہوگی جو اس کی طرح تھی اور اس کی مخالفت کا دعویٰ کرنے والی کسی بھی چیز کی بے خوبی کا ادراک۔ جب آپ خدا کی طاقت کی تنہائی کو پہچانتے ہیں تو ، اس کو لازمی طور پر اپنے پاس طاقت رکھنے کے دعویدار کسی بھی چیز کے وہم کی پہچان ضروری ہے ، جو اس اکیلا طاقت کے خلاف استعمال ہوسکتی ہے۔ کسی کو کسی بھی غلطی کو پورا کرنے کے لئے یہ سب کچھ سمجھنے کی ضرورت ہے ، اور یہ سب کی سب ایک ضرورت ہے۔

کامیاب پریکٹیشنر وہ ہے جو ڈیوڈ کے ذہن کے رویاکے ساتھ آگے بڑھتا ہے ، نہ کہ ظاہری شکل کی ظاہری شکل یا شدت پسندی کے بارے میں ، بلکہ اس کے علم کے بارے میں پختہ اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ انسانی احساس کو اس کا ناکافی ہتھیار معلوم ہوتا ہے۔ وہ مکمل روحانی احساس کے ساتھ غلطی کے بعد باہر جانے کی اہمیت کو کم نہیں کرتا ہے۔ پھر بھی وہ جانتا ہے کہ بس اتنا ہی ضروری ہے۔ اور نہ ہی اسے کسی اور چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، تاکہ کسی بھی مرحلے کی غلطی کو دور کیا جاسکے ، یا کوئی بھی چیز جو کھوج میں نہ آجائے اور حقیقی اور مضبوط سمجھے۔




175۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ سوچ کے عدم استحکام کے دعوے کے خلاف۔ ایک کمہار مٹی سے کیا کرسکتا ہے جو اچانک اس کی سانچہ سازی کے نیچے سخت ہوگیا؟ خدا انسان کی رہنمائی کیسے کرسکتا ہے ، جب تک کہ انسان خدائی مرضی کے تحت لچکدار نہ رہے۔

کوئی بھی پہلے سے طے شدہ فیصلے لچکدار ہوتے ہیں ، بالکل اسی طرح جس طرح آپ خاکہ نگاری کو عملی جامہ پہنانے کے خواہاں ہیں ، کشتی کو مستحکم کررہے ہیں۔ کسی مسئلے کو صحیح طریقے سے مرتب کرنے اور اس کی خاکہ نگاری کے درمیان فرق محرک ، خیال اور اعتماد میں سے ایک ہے۔ کوئی آٹوموبائل حاصل کرنے کے لئے مظاہرے کا استعمال نہیں کرے گا۔ پھر بھی وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرسکتا ہے کہ خدا کے کام کو انجام دینے میں ، اس کی سرگرمی اور کثرت کے کسی مناسب اظہار کی کمی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس طرح کے مظاہرے کا اظہار کسی کے پاس آٹوموبائل رکھنے میں ہوسکتا ہے۔

ہمیں باطن کے ہاتھوں سے رہنمائی کرنے میں ، حق کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ میں مضبوط اور ناقابل منتقلی ہونا چاہئے ، لیکن مظاہرے میں لچکدار ہونا چاہئے۔




176۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ کم عمر طلباء کے مظاہرے اکثر اعلی درجے کے استعارے ماہرین کی نسبت سے تجاوز کرتے ہیں ، گویا کہ کسی طالب علم میں کم اعتقاد اور افہام و تفہیم اسی معیار کی ایک بڑی مقدار سے زیادہ کام کرسکتا ہے۔

جب کسی طالب علم کو حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، کیونکہ جسمانی تنازعات اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے ہیں جتنا کہ سائنس میں اس کے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ہوا تھا ، تو اسے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ چینی کے ساتھ لیموں کے پانی کے گلاس میں تیزاب کو بے اثر کرنا آسان ہے اس سے کہیں زیادہ یہ تیزاب نکالنا ہے ، آسون کے عمل سے۔

ایک طالب علم کے ابتدائی مظاہرے عام طور پر سچائی اور محبت کے ساتھ سوچ بھرا کر خوف کے بے ضرر اثرات کو مرتب کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتے ہیں۔ محبت سے خوف کو خاموش رکھنا مشکل نہیں ہے ، اور اس طرح اس طرح کے خوف کے جسمانی اثرات کو ختم کرنا ہے۔ لیکن ترقی کے لئے طلبہ کو اپنے تمام مراحل میں مادی اعتقاد کو ختم کرنے کے لئے مظاہرے کی طاقت کو استعمال کرنے کا زیادہ مشکل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس اعلی درجے کی کوشش کے ظاہری نتائج آنے میں آہستہ آہستہ معلوم ہوسکتے ہیں ، لیکن اس طرح کی کوششیں محض غلطی کا عارضی خاتمہ نہیں کرتی ہیں۔ اسے ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیتا ہے۔




177۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ ہر دن اپنے آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ حق کی حرکت ہمیشہ حقیقت کو محفوظ رکھنا ، اور غیر حقیقت کو ختم کرنا ہے۔ تب آپ جان لیں گے کہ ، جب خدائی محبت کا عمل آپ کو برا لگتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اب بھی اپنے آپ کو غیر حقیقت سے شناخت کر رہے ہیں۔

بھٹی خستہ کو تباہ کرتی ہے ، اور سونے کو بہتر کرتی ہے یا آزاد کرتی ہے۔ اگر آپ خود کو دباو کے ساتھ اتحادی بناتے ہیں تو ، سچائی کا عمل آپ کو برا سمجھے گا۔ اگر ، تاہم ، آپ اپنے آپ کو اچھائی سے پہچانتے ہیں تو ، آپ ہمیشہ نیک کام ہونا جانتے ہو ، کیوں کہ یہ آپ میں روحانی خیال کو آزاد کر رہا ہے۔

یہ نقطہ نظر خدا کے غضب کی وضاحت کرتا ہے کیونکہ حق کی برکت والا عمل غیر حقیقی کو ختم کرتا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ صرف ان لوگوں کے لئے ہی غصہ پایا جاتا ہے جو محبت کرتے ہیں اور غیر حقیقت کو جکڑے ہوئے ہیں۔

مسز ایڈی ہمیں ہدایت کرتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو روحانی اور لافانی قرار دیں ، اور یہ سمجھنے کی کہ ہم بھی ایسے ہی ہیں۔ اس طرح ہم گمراہی کے سارے ساتھ ساتھ تباہی کے وہم سے گزرنے کی آزمائش سے بھی بچ جاتے ہیں۔ ہم خود کو اس بات سے پہچانتے ہیں جس کو ہم حقیقی سمجھتے ہیں۔ کسی اور میں غلطی کو حقیقی کے طور پر دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ساتھ خود کو پہچانا جائے۔




178۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ روحانی طریقہ کو انسانی خواہش کے ساتھ اختلاط کرتے رہتے ہیں ، اور اپنے آپ کو ترقی پسند عیسائی سائنسدان ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔ موت کے معاملات میں آسانی اور راحت کی انسانی خواہش کرسچن سائنس میں لاتے ہیں اور اس کو روحانی طریقہ کار سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں ، جس کا مقصد انسانوں کو فریب سے آزاد کرنا ہے۔ اگر وہ ترقی پسند نہیں ہیں تو ، وہ اس مادے کے بجائے انسانی صحت اور خوشحالی کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے آسان طریقہ کے طور پر اس طریقے کو استعمال کرتے رہیں گے۔ ایسا رویہ انسانی مصائب کی قیمت کو سمجھنے میں ناکام رہتا ہے۔

گھاس جس کو بہت زیادہ پانی پلایا جاتا ہے وہ اپنی جڑوں کو اتنا نیچے نہیں رکھتا ہے کہ وہ پانی تلاش کرے جو خشک گرمی میں رہے گا۔ ایک ایسا طالب علم جو مسلسل انسانی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے قابل ہے ، کبھی بھی اس کی جڑیں الٰہی عقل میں بہت گہرا نہیں ہوتا ہے۔

ایک آدمی جب کنویں کھودتا ہے تو اسے کھودنے سے روکتا ہے جب اسے پانی کی سطح مل جاتی ہے۔ پھر بھی جب تک وہ گہری کھدائی نہیں کرتا ، اس کی پانی کی فراہمی خشک سالی میں ناکام ہوجائے گی۔ انسانی ہم آہنگی کو سطحی پانی کہا جاسکتا ہے جو ہمیں روحانی بھلائی کے نہتے بہتے دھاروں کی تلاش میں ہماری روک تھام کرتا ہے۔

یہ کہنا عجیب لگتا ہے کہ اگر کوئی نہیں دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو مظاہرے کے استعمال کا لالچ پائے گا تاکہ وہ مظاہرہ روک سکے۔ موت کا آدمی معاملے میں سلامتی تلاش کرنے کے لئے تڑپتا ہے ، اور اس خواہش کو اپنے ساتھ سائنس میں لاتا ہے۔ پھر بھی صحیح مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس مقام تک پہنچنا جہاں کوئی مظاہرہ کیے بغیر ساتھ نہیں نکل سکتا ، اور اسے کھانے ، سونے ، چلنے ، بات کرنے اور یہاں تک کہ موجود رہنے کے لئے ہر دن مظاہرہ کرنا چاہئے! صرف اسی طرح سے انسانی کمزوری الٰہی طاقت میں گھل جائے گی۔ کیوں؟ کیونکہ مظاہرے کا مطلب خدا پر مکمل انحصار کرنا سیکھنا ہے۔

انسانی خواہشات کو سامنے لانے کے لئے مظاہرے کے غیر یقینی استعمال اور مادی ہم آہنگی کو بڑھاوا دیا جانا چاہئے۔ پرانے الہیات کی تعلیمات کسی کو کام کرنے کا ایک محدود مقصد دیتی ہیں ، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا ایک محدود طریقہ دیتی ہیں۔ ہمیں جھوٹے الہیات کے آخری مقصد کے حصول کے لئے کرسچن سائنس کے لامحدود طریقہ کو اپناتے نہیں پایا جانا چاہئے! ایک بشر جو خوشحال ، صحتمند اور محض کچھ چیزوں سے پرہیز کرتا ہے جنہیں گناہ سمجھا جاتا ہے ، کرسچن سائنس میں مثالی نہیں ہے۔ ہم انسان کے ایک محدود احساس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ خدا کا آدمی ظاہر ہو۔




179۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یوئیل 3: 5 میں مذکور غلطی سے دوچار ہوجاتے ہیں اور خدا کی اچھی خوشگوار چیزوں کو ہیکل میں لے جاتے ہیں۔ اگرچہ ہماری خوشگوار چیزیں مظاہرے کے نتیجے میں ہم آہنگی کی نمائندگی کرتی ہیں ، انھیں چرچ میں نہیں لے جایا جانا چاہئے ، کیونکہ چرچ روحانی کوشش اور سرگرمی کی نمائندگی کرتا ہے ، جہاں نعرہ یوئیل 3: 9 سے ہے ، ’’جنگ کی تیاری کرو۔‘‘ اچھی چیزیں مظاہرے کے ثمرات کی نمائندگی کرتی ہیں ، جبکہ چرچ ماد ی احساس کے ساتھ ایک ایسی جنگ کی نمائندگی کرتا ہے جس کو جاری رکھنا ضروری ہے ، جب تک کہ جنگ کا خاتمہ نہ ہو۔ لہذا تکمیل کی فکر کو چرچ میں داخل نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ یہ روحانی نمو ہے۔

نتائج سے خطرہ یہ ہے کہ وہ خود اطمینان لائیں گے ، جو ترقی کے لئے موت ہے۔ کنڈرگارٹن اسٹیج سے باہر کسی بھی بچے کو اسکول کے کمرے میں کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔ مطالعہ کے لئے یہی وہ جگہ ہے۔ اس طرح ہمارا چرچ مظاہرے کی جگہ ہے۔

اگر کوئی واقعتا مستقل ترقی چاہتا ہے تو ، وہ کبھی بھی مظاہرے کے بغیر کسی غلطی کو دور کرنے کی خواہش نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے طلب کرے گا۔ ورنہ وہ اگلے مسئلے کو پورا کرنے کے لئے مناسب تیاری نہیں کررہا ہے۔ ایک صحیح روحانی مقصد حاصل کرنے کا مطلب یہ سمجھنا ہے کہ ترقی صحیح طور پر ہر غلطی پر قابو پا رہی ہے جو اس کے راستے میں کسی ایک کا مقابلہ کرتی ہے ، اس طرح وفاداری کا ثبوت دیتا ہے۔

کسی غلطی کو پس پشت ڈالنے کا مطلب ہے وقتی جدوجہد سے دستبردار ہونا۔ ایک بار مسز ایڈی کے ایک طالب علم نے اعلان کیا کہ سائنس کے ابتدائی ایام میں جب انہیں کوئی مشکل پیش آتی تھی ، تو وہ اس دعا کے لئے اتنا آگے بڑھ گیا کہ سوائے مظاہرے کے چھوڑ کر ، اس سے دور نہ ہوگا۔ اس کے نزدیک مظاہرہ ایک ایسی مقدس اور اہم چیز تھی ، کہ وہ اسے استعمال کرنے کا ایک بھی موقع گنوا نہیں چاہتا تھا۔

چرچ کے طلباء کے لئے اس خیال میں سونے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے کہ ان کا کام ختم ہوچکا ہے ، کیونکہ خوشگوار چیزوں کا مظاہرہ سامنے آیا ہے۔ اس کے برعکس ، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں طلبا کو مستقل طور پر روحانی سرگرمی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک بڑی جنگ کی تیاری میں ، ہر دن اپنی سب سے بڑی مہارت کو آگے بڑھانے کے واحد مقصد کے لئے ایک انعام یافتہ فائٹر شراکت داروں کو ملازمت دیتا ہے۔ لیکن ایسی تربیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ چرچ روحانی انعام یافتہ جنگجوؤں کے لئے ایک تربیتی میدان ہے۔ لہذا ، اس کو مستقل طور پر ایسے طلبا کو ایسے مسائل پیش کرنا ہوں گے جو اعلی ترین ڈگری روحانی مہارت اور کوشش کا مطالبہ کریں۔ ایک ترقی پسند رویہ ہر اس چیز کا خیرمقدم کرتا ہے جو کسی نے حاصل کیے گئے مظاہرے کے اعلی ترین احساس کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش کرتا ہے۔

ایک بڑی لڑائی کی تیاری میں چھوٹی چھوٹی لڑائی جیتنا ہوتی ہے۔ یسوع مسیح نے اپنے خلاف مسلسل مخالفت کی ، گویا کہ وہ موت کے بارے میں حتمی مظاہرے کے لئے درکار روز مرہ کی تیاری اپنے اندر لانے کے لئے اپنے آپ کو شریک کرنے والے ساتھیوں کی خدمات حاصل کررہے ہیں۔ بائبل ریکارڈ کرتی ہے کہ جولیت پر قابو پانے کی تیاری میں ، ڈیوڈ نے شیر اور ریچھ سے ملاقات کی۔ مسز ایڈی کے بائبل میں ایک علامت پایا گیا ہے: ’’جب بھی جانوروں کی مقناطیسیت نے اس کے شعور کو گھیر لیا تو ڈیوڈ نے اس غلطی کا تعاقب کیا اور اس کی وجہ (یقین سے) کھوج کی ، اس نے کھوئے ہوئے مقام کو برآمد کرلیا۔ برائی کے ہر معمولی دعوے کو پورا کرنے کے لئے ، اس نے اسے ایک ہی حیثیت سے دیکھا ، حالانکہ یہ اب بھی ایک بڑا دیو ہے۔ ‘‘

یہ یاد رکھنا اچھی طرح ہے کہ فانی عقل کو کیمیائی بنانا اس کی تباہی کے لئے پکنے کے عمل میں غلطی ہے۔ تب کسی کو حوصلہ شکنی نہیں ہوگی کیونکہ اسے اپنے سفر میں آرام کرنے ، یا خدا کی اچھی خوشگوار چیزوں کو ہیکل میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔




180۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ فیصلے کی وادی میں صحیح فیصلہ کرتے ہیں (یوئیل 3: 14)۔ ایک سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کسی ایسے انسانی تجربے کے مابین فیصلہ کریں جو مظاہرے کے اثرات کے تحت ہم آہنگ ہو ، لیکن جو تھوڑی بہت ترقی کرتا ہے ، اور جو مسلسل مسائل کی وجہ سے بڑھتی ہوئی ترقی لاتا ہے۔ بہت کم ترقی ہوسکتی ہے جب تک کہ کسی کو مظاہرہ کرنے کے مواقع نہ ملیں۔

جنگل سے گزرنے والے شخص کے پاس خیالی حفاظت میں چلنے ، یا جنگلی جانوروں کو تباہ کرنے کے لئے جنگلی جانوروں کو گھر سے باہر لانے کے لئے انتخاب کرنے کا انتخاب ہوسکتا ہے۔ مؤخر الذکر کارروائی کے تحت اس کا راستہ پرامن نہیں ہوگا ، لیکن یہ ترقی پسند اور سب کے لئے فائدہ مند ہوگا۔ ایک درست فیصلہ یہ ہے کہ وہ ان کی چھپنے والی جگہوں سے ہر طرح کی غلطی پیدا کرنے پر راضی ہوجائیں ، جتنی جلدی ان سے ملنے کے قابل ہو ، تاکہ کوئی ان کے ساتھ تلواریں عبور کرے اور ان پر قابو پا سکے۔

اگر کسی خوفناک شکل میں بنا ہوا ایک غبارہ غیر فعال پڑا تھا تو ، یہ آپ کو خوفزدہ نہیں کرے گا۔ پھر بھی یہ کسی بھی وقت فلایا جاسکتا ہے۔ لہذا جتنی جلدی یہ فلاں ہوجائے گی ، اتنی جلدی آپ اس کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے ، اس سے اپنے خوف پر قابو پالیں گے اور اس کو پنکچر کردیں گے۔

غلطی کی افراط زر اس کی طاقت میں اضافہ نہیں کرتا ہے اور نہ ہی اسے زیادہ حقیقی بناتا ہے ، بلکہ اس کو کوریج سے نکالتا ہے ، جہاں آپ اسے سنبھال سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی روپوش جگہ سے نکالا گیا ہے ، اور تباہی کے لئے پکا ہوا ہے۔

انسانیت سے اچھے آدمی اور بیمار انسان کے مابین فرق صرف اتنا ہے کہ ماد ی جسم کو تشکیل دینے والی غلطیاں سابقہ کے فریب کے ذریعہ ختم کی جاتی ہیں۔ وہ اس پتلی برف پر اسکیٹنگ کی طرح ہے جو ابھی تک نہیں گذرا تھا ، جبکہ بیمار آدمی وہاں سے گذرا ہے۔ مسز ایڈی نے پتا چلا کہ فانی عقل پتلی برف کی حیثیت رکھتا ہے ، اور یہ آخر میں ہمارے ساتھ دھوکہ دیتا ہے۔ خوفزدہ نام جو انہوں نے اسے دیئے وہ اس کا یہ نشان بتانے کا طریقہ تھا ، خطرے کی باتیں یہاں! پتلی برف پر وہ طلباء کو اپنے دعوؤں سے اتنا لاتعلقی اور سست محسوس کرتی ہیں کہ اس نے ان علامات سے گھیرنے کی کوشش کی جس سے طلباء ہر طرف اس پر عدم اعتماد کریں گے۔

فیصلے کی وادی میں صحیح فیصلہ یہ ہے کہ ہر ایک کی غلطی کو اپنے چھپنے کی جگہ سے ہٹادیا جائے جس طرح کسی کی ترقی کی اجازت ہوتی ہے ، تاکہ اسے ختم کیا جاسکے۔ اس حکومت کے تحت کسی کا راستہ ہموار نہیں ہوسکتا ہے ، لیکن یہ اپنے اور دوسروں کی آزادی کا باعث بنے گا۔




181۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ ایک گانٹھ پر دباؤ ڈالتے ہیں اور اونٹ نگل جاتے ہیں۔ اونٹ کو اثر ، یا غلطی کے مظہر کے لئےکھڑا ہو ، اور عادت کے اعتقاد کے لئے اچھا کھڑا ہوجائے۔ تب ہم سبق سیکھتے ہیں کہ ، چاہے کتنا ہی بڑا اثر کھائے ، اس کی وجہ کوئی تعین نہیں ہے ، - انسان کے خدا کے سوا کسی عقل کے وجود پر اعتقاد۔

جولیت ایک غلط عقیدے کے طور پر برائی کا ظاہری تصور تھا۔ ڈیوڈ نے اس حقیقت کو پہچان لیا ، ایک ہتھیار کے لئے ایک چھوٹے سے پتھر کو اس اشارے کے طور پر استعمال کیا کہ حقیقت میں اس پر قابو پانے کے لئے ایک چھوٹا سا دشمن تھا۔ برائی کے خلاف اپنی جنگ میں جو ہتھیار استعمال ہوتا ہے وہ اس کے سائز اور طاقت کے تصور کے بارے میں درست گیج ہے۔

موت کے گھاٹ پر دباؤ ڈالتے ہیں ، یا بشر کے عقیدے کی حقیقی نوعیت کو بطور اعتقاد سمجھنے کے خلاف اپنی سوچ پردے ڈالتے ہیں ، اور اس کے ظہور کے اونٹ کو نگل جاتے ہیں ، گویا یہ اس کے حجم اور طاقت کا صحیح موازنہ ہے۔

اگر میگا فون کا چھوٹا سا اختتام اس کی وجہ سے ہونے والی غلطی کی وضاحت کرے ، اور آپ اثر کے ساتھ بڑے سرے سے شروع کریں تو ، اس کا پتا لگانے میں یہ چھوٹا اور چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک غن ،ہ ہے ، یا کچھ بھی نہیں ، - محض بشروں کا ’برائی پر اعتقاد ، ایک ایسا عقیدہ جو سچائی کے ذریعہ تباہ ہوسکتا ہے۔

اگر میگا فون کو سچائی کی مثال دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو ، عمل الٹ پڑتا ہے ، چونکہ اس انسانی معنوں میں سچائی کا ایک چھوٹا سا انکشاف خدا کی قادر مطلق کی طرف جاتا ہے جو ساری جگہ کو بھر دیتا ہے۔

موت کا آدمی اثر قبول کرتا ہے اور اس کی وجہ کو دیکھتا ہے۔ اسے لازمی طور پر نمٹنا اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے سیکھنا چاہئے۔ تب ڈیوڈ کے پتھر کے ذریعہ سچائی کا ایک مکمل احساس ، کسی بھی غلطی کو ختم کرنے کے لئے کافی پایا جاسکے گا ، کیونکہ جہاں بھی غلطی ہو سکتی ہے وہ انسانیت کا یقین ہے کہ یہ موجود ہے۔

جب انسان بڑے پیمانے پر برائی کے مظاہر کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ، وہ اثر کی وسعت کے مطابق وجہ کے احساس کو قبول کرتے ہیں۔ یہ غلط تخمینہ انسان کے جاری غلامی کا ذریعہ ہے۔ مادی حواس غلط فہمی کا سبب بنتے ہیں ، کیونکہ وہ صرف اثر کی گواہی دیتے ہیں۔

مسز ایڈی نے اپنے گھر میں اصرار کیا کہ طلباء اپنی سمجھداری کو موسم کو سنبھالنے کے لئے استعمال کریں۔ اس طرح اس نے انھیں اس نقطہ نظر کا سبق سکھایا ، تاکہ وہ اس کے اثرات کی بظاہر زبردست نوعیت کے مقابلے میں ، انسانی مقصد کی چھوٹی سی اور کچھ بھی نہیں سیکھ سکیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ اس کے طلباء یہ دیکھیں کہ گولیت کا اثر کس قدر آسانی سے سنبھالا جاتا ہے ، جب ذہنی اور استعاراتی طریقے سے نپٹا جاتا ہے ، سچائی کی سمجھ بوجھ کو ہیکل میں مارنے کے لئے ، یا اس یقین سے کہ ان میں زندگی ، سچائی ، ذہانت یا مادہ ہے۔




182۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ ماسٹر ، یا مسز ایڈی کے تجربے کو وجہ کی بجائے اثر کے نقطہ نظر سے پرکھیں۔ افریقہ سے تعلق رکھنے والا ایک جاہل باشندے آتش بازی کے نمائش کو نقل کرنے کے قابل ہونے سے مایوس ہوسکتا ہے جو اس نے رات کو دیکھا تھا۔ لیکن اگر اسے دن کے وقت انفرادی ٹکڑے دکھائے جاتے ، وہ یہ سکھاتا کہ وہ کیسے بنا ہے ، اور جس میں ان پر مشتمل سادہ عناصر دکھائے گئے ہیں ، تو اسے احساس ہوگا کہ اگر وہ چاہے تو صبر اور مہارت سے ان کو نقل کرسکتا ہے۔

جب کوئی ماسٹر کے معجزات اور مریم بیکر ایڈی کے موجودہ کارناموں پر غور کرتا ہے تو ، یہ اور قیاس کی بچت کرتا ہے - در حقیقت یہ ناممکن لگتا ہے - یہاں تک کہ ان کے نقل کے امکان کو بھی تجویز کرتا ہے۔ لیکن جب کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کام خدا کی طرف سے کام کرنے والے ، خدائی عقل کے کام ہیں ، جو ان کے ذریعہ عکاسی کے ذریعہ کام کررہے ہیں ، تو پھر کوئی اس کی وجہ تلاش کرسکتا ہے ، اور جو بھی واقعتا ًخواہش کرتا ہے ، ان کے نقش قدم پر چلنے کے قابل ہوتا ہے۔

جب مسز ایڈی نے ’’ایوان صدر کی کتاب‘‘ میں لکھا تھا’’میری تعلیمات پر صرف اتنا ہی عمل کریں جب تک کہ وہ مسیح کے الفاظ اور عمل پر عمل کرتے ہیں ،‘‘ کسی کے لئے یہ گستاخی محسوس ہوسکتی ہے کہ وہ مسیح کی پیروی کرسکتا ہے ، یا یہ فرض کرنا کہ وہ کرسکتا ہے اس بات کا تعین کریں کہ کیا مسز ایڈی کی تعلیمات مسیح کی پیروی کرتی ہیں۔ ابھی یہ کرنا کرسچن سائنس کا مطالبہ ہے۔

یہ صرف وجہ کو سمجھنے کے ذریعہ ہی ہے ، جو شخص مسیح کی پیروی کرنے کے امکان کو کھول کر دیکھتا ہے۔ آقا اور ہمارے قائد دونوں کے ساتھ ہی ان کی انسانی خالی پن نے خدا کو ان کے ذریعہ کام کرنے کا اہل بنایا۔




183۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ بائبل اور سائنس اور صحت کے مقصد کے جھوٹے تصور کے ذریعہ ، آپ جانوروں کی مقناطیسیت کو اپنی نشوونما کے بجائے آپ کی نشوونما میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ وہ وقت کبھی نہیں آتا جب ان نصابی کتب کا مطالعہ کرنا ضروری نہیں ہوتا ہے ، لیکن آگے بڑھنے والے طالب علم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ اس تجویز کو قبول کرے کہ وہ انجام کو ختم کرنے کے بجائے یہ کہ وہ نجات کے ذرائع کے بجائے نجات پائیں۔

ان کتابوں میں شامل ہدایت کا مقصد انسان کو خدائی عقل کی طرف راغب کرنا ہے ، جہاں عکاسی کے ذریعے وہ اپنے لئے وہی الہام پاسکتی ہے جو ان پر مشتمل ہے۔ کرسچن سائنس میں بنیادی مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ سچائی کا علم حاصل کریں جو دوسروں کی عکاسی ہوتی ہے۔ سائنس میں ہونے والے سارے مطالعے میں روحانی احساس کی نشوونما کا مقصد ہے ، جس کے ذریعے انسان براہ راست الہٰی سے متاثر ہوتا ہے۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی بھی ذریعہ سے آنے والا دوسرا حقیقت آہستہ آہستہ اپنی متاثر کن فطرت کو اس کے پاس کھو دیتا ہے جو اس سے جمود کا شکار ہوجاتا ہے۔ بائبل اور سائنس اور صحت متاثرہ کتابیں ہیں۔ ان کا حتمی مقصد طلباء کو ان کی تعلیم کے روحانی اور بنیادی مفہوم کی کھوج کی طرف راغب کرنا ہے ، کیونکہ اس طرح سے طلبا نہ صرف تفہیم حاصل کرتے ہیں بلکہ روحانی احساس بھی تیار کرتے ہیں ، جس کے نتیجے میں وہ خدا کی طرف سے براہ راست اپنی الہام حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔




184۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ یہ سمجھنے کی آپ کی کوشش میں کہ خدا محبت ہے ، آپ اپنی محبت کو ظاہر کرنے کی صلاحیت پر اپنے اعتماد کو مضبوط نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر لوگوں نے پھٹے ہوئے برتنوں میں اسے پکڑنے کی کوشش کی تو بارش تھوڑی بہت اچھی ہوگی۔ انسان سے محبت کیا ہے اگر جانوروں کی مقناطیسیت نے اسے اس کی عکاسی کرنے کی صلاحیت پر اپنے اعتماد سے دھوکہ دیا۔

عشق کی عکاسی کرنے کی انسان کی قابلیت اتنی ہی حقیقی ہے جتنا خود محبت سے۔

انسان محبت کا عکس ہے ، اور اسے صرف اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ غلطی کرنے والی بات ہے اس کا اعتراف۔ اسی طرح بھلائی کے ساتھ؛ انسان کی محبت کی عکاسی کا اعتراف لازمی طور پر اس اعتراف کے ساتھ ہوگا کہ خدا محبت ہے۔




185۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یہ احساس کرنے کے علاوہ چائے ، کافی ، تمباکو ، شراب اور افیون کے سلسلے میں مسز ایڈی کی ہدایت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس طرح کے مادی عناصر کی واحد طاقت اور اثر وہی ہے جو ان پر انسانیت کے اعتقاد کا بدلہ دیتا ہے۔

مظاہرے کے علاوہ کسی بھی انسانی مطالبے سے دستبرداری ، روح کے بغیر پرہیزگاری کی ایک شکل ہے ، جو بہت کم یا کچھ بھی پورا نہیں کرتی ہے۔ قوت ارادی کے ذریعہ ماد ی یا گناہ گیر مشقوں کا ترک کرنا ، خاموشی نے خود اطمینان کے ساتھ سوچا اور خود ہی صداقت کی طرف راغب ہوا۔ آدمی نے کیا کیا کیا جب وہ کسی بھی شکل میں شراب کا استعمال نہیں کرتا ہے ، اگر اسے پھر بھی یقین ہے کہ اس میں نشہ کرنے کی فطری طاقت ہے؟

ہر عیسائی سائنس دان کے دل میں ایک ضمنی قانون ہونا چاہئے جس کی مثال کے طور پر ، وہ دنیا کے سامنے مثال کے طور پر کھڑا ہو ، اسے اس اصول کا اتنا شکر گزار ہونا چاہئے جس کی وہ عکاسی کرتا ہے ، اور اس کی نمائندگی کرتا ہے ، تاکہ وہ خوشی سے اس کو بنانے کے لئے تیار ہو ہر انسانی مطالبے کو اس کے مناسب ترتیب پر مظاہرہ کرنا ، تاکہ اس کے نور انسان کے سامنے غیرمجھے چمکیں اور اسی طرح اپنے باپ کی تسبیح کریں۔

حقیقت میں خدا کی نمائندگی اور اس کی عکاسی کرنا ایک خوش کن چیز ہے ، اور یہ خوشی تنخواہ کا لفافہ ہے جو ہر کوشش اور مظاہرے کو قابل قدر بناتی ہے۔

ہمیں تازہ دم کرنے کے لئے چائے اور کافی کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ ہم جانوروں کے مقناطیسیت کو بغیر کسی احتجاج کے اپنے ساتھ نمٹنے کی مستقل اجازت دیتے ہیں۔ مسز ایڈی کی تعلیمات کے اخذ کردہ نتائج سے کوئی نہیں بچ سکتا ، اور یہ کہ ہر اور ہر انسان کی عادت یہ ثابت کرتی ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی دوسرے عقل کو ہم پر قابو پانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ہر ایک عادت ، چاہے وہ اچھی لگے یا بری ، وہ ایک دھاگہ ہے جسے آخر کار ٹوٹنا چاہئے ، تاکہ انسان فانی عقائد کے مکڑی کے جال سے آزاد ہوسکے۔

چائے اور کافی کافی نقصان نہیں پہنچاتی ہیں۔ لیکن فانی اعتقاد ان پر کسی بھی غذا کی قیمت کا دعوی نہیں کرتا ہے۔ لہذا وہ حواس میں خوشی کی علامت کے طور پر کھڑے ہیں ، حالانکہ ایک ہلکی سی شکل میں۔ مسز ایڈی اشارہ کرتی ہیں کہ اس نے اپنی ذہنی خواہشات کی فہرست میں ان کو شامل کیا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ انسانی ذہن پر حتمی قابو پانے میں یہ ہماری مدد کرے گا تاکہ حواس میں خوشی کے دعوے کو اس کی آسان ترین شکل میں مل سکے۔

کچھ طلبا میں ، جنھوں نے بغیر مظاہرہ کیے سگریٹ نوشی ترک کردی ہے ، مطالبہ ایک اور شکل میں سامنے آیا ہے ، جیسے کینڈی کی خواہش۔ اگر یہ مظاہرہ ہوتا تو یہ آزادی کی طرف ایک قدم ہوتا ، محض غلطی کی شکل کو تبدیل نہیں کرتا۔

انسانی عقل سے ہماری آزادی میں تمام جسمانی تقاضوں ، یا جسمانی عادات کو شامل کرنا ہوگا۔ اگر کوئی عادت اپنی شکل بدل جاتی ہے تو ، اس سے یہ لازمی طور پر ثابت نہیں ہوتا ہے کہ ہمارا رویہ مزید سائنسی ہوگیا ہے۔ بغیر کسی انسانی مطالبے کے احتجاج کے نتیجہ میں حاصل کرنا ایک ربط ہے جو انسان کو جھوٹا پن کا پابند کرتا ہے۔ مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ کھانا ، سونے اور مادی لباس پہننا ابھی باقی رہے گا۔ پھر بھی وہ اعلان کرتی ہے کہ ترقی خدا کا قانون ہے۔

جتنی بھی بد عادت ہوجاتی ہے ، اس کی گرفت اتنی ہی کم ہوتی ہے ، کیوں کہ اس کی فطرت ہی اس کے خلاف جدوجہد اور احتجاج کا باعث بنتی ہے۔ لیکن ان مطالبات اور عادات کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے اعلی مظاہرے کی ضرورت ہے جن پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جاتا ہے ، اور معاشرے کی طرف سے انہیں کوئی مذمت نہیں ملتی ہے۔

طلبا مادیت کے ناجائز مراحل پر قابو پانے کی اہمیت پر اتنا غور کرنے کے پابند ہیں کہ وہ بظاہر بے ضرر مراحل کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ اس طرح کم جارحانہ عادات خیالی رسی میں زیادہ پابند کن خطوط بن جاتی ہیں جو انسانوں کو مادی اصلیت کے اعتقاد سے جوڑتی ہیں۔ یہ فطری بات ہے کہ انسان کو اس بات کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہئے جس کا اسے یقین ہے کہ وہ خدا اور اس کے ساتھی مردوں کے لئے سب سے زیادہ ناگوار ہے۔

چنانچہ جب مسز ایڈی نے چائے اور کافی کو اسی طبقے میں تمباکو ، شراب اور افیون شامل کیا ، تو وہ طلباء کو جانوروں کی مقناطیسیت کی چال کو روکنے میں مدد فراہم کررہی تھیں ، جس سے خدا کے کچھ مطالبات کے بارے میں انسانوں کو نیند آتی ہے۔ ایسی عادتیں جن میں کوئی تکلیف نہیں ہے اور ناجائز نہیں ہے ان کو سائنس میں اتنی ہی ایمانداری سے ملنا چاہئے جو ان کی فطرت کے ذریعہ انسان کو میدان میں اتار دیتے ہیں۔

حساس طالب علم معاشرے سے مستقل مذمت کی سوچ کو برداشت نہیں کرسکتا ، لہذا وہ برائی سے لڑنے اور مزاحمت کے لئے خود کو بیدار کرتا ہے۔ لیکن مسز ایڈی نے دیکھا کہ غلام رکھنے والے حواس کے تمام دعوؤں کیخلاف مزاحمت کی جانی چاہئے ، خاص طور پر ان لوگوں کو جو بے ضرر خوشی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس نے ہماری توجہ کو مادے کے مخصوص مراحل کی طرف راغب کرکے خوشی محسوس کرنے میں مدد کی ، جس سے دوسری صورت میں ہم نظرانداز کرسکتے ہیں۔

طلبا کو ایک دوسرے سے مزید تفتیش نہیں کرنی چاہئے کہ آیا انہوں نے تمباکو یا شراب کے بجائے چائے یا کافی چھوڑی ہے۔ اگر ، جیسا کہ شیکسپیئر کا کہنا ہے کہ ، اچھی یا برے میں سے کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن سوچ ہی اسے ایسا بنا دیتی ہے ، سائنس میں مظاہرہ اس روحانی سوچ کا حصول ہے جو ہر چیز کو اچھا بنا دیتا ہے۔ اس وقت کچھ بھی باقی نہیں ہے جو خراب ہے جس میں مزید کوئی گرفت ہوسکتی ہے۔

ہمارا کام چھوٹے یا بڑے ، سبھی چینلز سے فانی عقل کو ہٹانا اور خدا کو بحال کرنا ہے۔ کوئی غیرجانبدار گراؤنڈ نہیں ہے۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو خود ہی نقصان دہ ہو۔ یہ سوچنے کی وجہ سے یا تو اچھا ہے یا برا۔ لہذا اس مظاہرے کی ضرورت ہے۔




186۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ مناسب ترتیب برقرار رکھتے ہیں - پہلے ، عاجزی کو قائم کریں جو آپ کو خاموش ، چھوٹی آواز سننے کے قابل بناتا ہے۔ پھر اس روحانی اختیار اور تسلط کو استعمال کرتے ہوئے اس آواز کو تمام مخلوقات تک پہنچایا۔

اگر ، جب غلطی سے حملہ ہوتا ہے تو ، ایک طالب علم یہ مانتا ہے کہ اس سے جو کچھ توقع کی جاتی ہے وہ عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیکنا ہے ، خدا کی مدد اور طاقت کے حصول کے ل. ، اسے غلطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غلطی پر قابو پانے کے لئے اسے روحانی غلبہ حاصل کرنا چاہئے ، اور اختیار کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اس کی اس لامحدود طاقت کا احساس جس کی وہ عکاسی کرتا ہے ، اسے اس سراب سے دور ہونا چاہئے اور وہم پر قابو پانا ہوگا جو حقیقت کی مخالفت کرنے کا دعوی کرتا ہے۔

جب جنگ ختم ہو جاتی ہے اور وہ فاتح سے بھی زیادہ ہوتا ہے - چونکہ وہ پہلے ہی جانتا تھا کہ فتح ہمیشہ حق کی طرف ہوتی ہے - اس امن کے بعد جو وہ خدا کی طرف سے الہام حاصل کرنے کے لئے عاجزی کے پہاڑ پر چڑھ سکتا ہے۔

جب آپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو وہ وقت نہیں ہے جب آپ پہاڑ پر چڑھ جائیں ، اور آپ کے پیچھے کوئی جنگ نہیں کریں گے۔ مطلق کی تلاش کا وقت نہیں ہے ، جب جنگ جاری ہے اور وادی میں آپ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو یہ یقین کرنے کا لالچ ہے کہ یہ آپ کی اپنی طاقت ہے جو شفا بخشتی ہے تو ، آپ کو عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیکنے کی ضرورت ہے ، تاکہ خدا کو واحد طاقت تسلیم کریں۔ پھر آپ کو اپنا کام کرنا ہے جس سے آپ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، یعنی ، انسانی مسئلے پر اتھارٹی اور افہام و تفہیم کے ساتھ الہی طاقت کا اطلاق کرنا۔

اس سے پہلے کہ غوطہ کھینچنے کا اشارہ دے ، غوطہ خور کو پہلے اس چیز سے جوا لپٹنا ہو جس چیز کو اٹھایا جانا چاہئے۔ جب وہ پانی سے باہر ہوتا ہے تو وہ کشتی میں اعتراض اٹھا سکتا ہے۔

کسی غلط ترتیب ، یا ترتیب کی ایک اور مثال بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص غلطی کی جانچ پڑتال کرنے سے پہلے قطعی موقف اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سائنس اور صحت کے صفحہ 412. پر ہم نے پڑھا ، ’’کرسچن سائنس اور الہی محبت کی طاقت غالب ہے۔‘‘ اگر کسی کے پاس برف کا ایک بڑا ٹکڑا نمٹانے کے لئے ہوتا ، تو وہ اسے آئس پِک سے ذرات میں توڑ سکتا ہے۔ پھر اگر وہ ان ٹکڑوں کو دھوپ میں ڈالے تو وہ پگھل جائیں گے۔ کرسچن سائنس ہمارا آئس کک ہے جسے ہم غلطی کے بھرم کو توڑنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، اور خدائی محبت مطلق نیکی کی روشنی ہے جو اسے اپنی آبائی چیزوں میں مٹا دیتا ہے۔

اچھے سامری کی کہانی میں ، ہمارے پاس ایک غلط حکم کی مثال ہے ، جب کاہن اور لاوی اس کے پاس سے گزرے جو چوروں میں پڑا تھا۔ انہوں نے انسانی نقش قدم پر چلنے سے پہلے ہی اس غلطی کو نظرانداز کیا جس کی وجہ سے مطلق موقف ممکن ہے۔ انسان کو اس کی تکمیل کے لئے کافی حد تک ضروریات کو تسلیم کرنا چاہئے۔

اگر کوئی طالب علم قطعی موقف اختیار کرتا ہے ، غلطی کے دعوے کو قبول کرنے سے پہلے انکار کرتا ہے تو ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سائنس اور صحت میں یہ بھول جاتا ہے کہ ، ’’غلطی کا علم اور اس کے کاموں کے بارے میں لازمی طور پر اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے جو غلطی کو تباہ کرتا ہے۔ ... ‘‘مظاہرے کا مطلب ہے جو سچ اور مجبور کرنے والا بشر ذہن ، یا مادی معنویت ہے اسے قبول کرنا۔ اس عمل میں جھوٹ کے بارے میں حقیقت کو سچ کے بارے میں سچائی سے پہلے ہونا چاہئے ، اسی طرح عاجزی کو اختیار سے پہلے ہونا چاہئے۔




187۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ اس کے انسانی مظہر سے مظاہرے کی ناکامی یا کامیابی کا انصاف کرنے میں جلد بازی نہیں کرتے ہیں۔ جو تحفظ کے مظاہرے کو کامیاب سمجھتا ہے ، کسی مظاہرے میں ناکامی کی نشاندہی کرسکتا ہے جس کا مقصد غلطی پر جارحانہ حملہ ہونا تھا ، تاکہ اسے بے نقاب اور تباہ کیا جاسکے۔ حفاظتی مظاہرے کا اظہار عارضی طور پر انسانی ہم آہنگی ہوسکتا ہے ، اس کے برعکس کسی مظاہرے کے غلطی کو ختم کرنے کا ارادہ ہے۔ مؤخر الذکر کی طرف سے تیار کیمیائی کاری سے عارضی طور پر انسانی تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں ، کیونکہ کیچڑ دار ندی کے بستر میں ہلچل مچا رہی ہے۔

سائنس اور صحت کے صفحات 96 اور 540 پر مسز ایڈی غلطی کو بے نقاب کرنے اور اسے ختم کرنے کے مظاہرے کے بعد عارضی تضاد کو بیان کرتی ہیں۔ نحمیاہ 6: 3 تحفظ کے مظاہرے کی وضاحت کرتا ہے ، یعنی دیوار کی تعمیر - جو غلطی کے خلاف جارحانہ جنگ سے پہلے ہونا چاہئے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’ہمیں اس سوچ پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہئے ، 'ان کے پھلوں سے تم انہیں جان لو گے۔‘‘ شاید انہوں نے یہ بات ابتدائی طلباء کو تنقید سے بچانے کے لئے ، جو تحفظ کا مظاہرہ کر رہے تھے ، کو روکنے کے لئے کہی تھی۔ تباہی پھیلانے کا مظاہرہ کررہے تھے ، اور لہذا ، جو ہم آہنگی کے ابتدائی لوگوں کے بارے میں ہمیشہ یہ ظاہر نہیں کرتا تھا کہ آخر ان کا خیال ہے کہ سابقہ مظاہرے میں ناکام ہو رہے ہیں ، کیونکہ وہ مادے یا مادی معنوں میں مستقل امن کا اظہار نہیں کرتے ہیں ، جب ایسی بات نہیں ہے۔

یہ تنقید ، جو منطقی طور پر کی گئی تھی ، یسوع کے مصلوب ہونے کو مظاہرے میں ناکامی کے طور پر نشان زد کرے گی۔ اس سے ہمارے قائد کے بہت سارے تجربات کو ناکامی قرار دیا جا. گا ، جس میں وہ اپنے آپ کو اختلافی دلائل سے دوچار ہوگئی ، کیونکہ وہ پوشیدہ گناہ کو بے نقاب اور برباد کررہی تھی۔ سائنس اور صحت کے صفحہ 92 پر ہم نے پڑھا ، ’’غلطی کو ننگا کرنا ، اور یہ آپ پر جھوٹ بولتا ہے۔‘‘




188۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ جانتے ہوئے کہ انسانوں کی کوشش انسانی تجربات کے اس حصے کا ترجمہ کرنا ہے جو حواس پر ناخوشگوار ردعمل ظاہر کرتی ہے ، جس میں خوشگوار ردعمل ظاہر ہوتا ہے ، آپ اس نظریہ کو کرسچن سائنس میں لاتے ہیں۔ مظاہرے کی کامیابی کی گواہی کے لئے حواس کی تلاش میں ، تمام مادی معنویت کو ترک کرنے کی کوشش میں ، آگے بڑھایا جانا چاہئے۔

نوجوان طلباء اس بات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ جو چیز انسان کے لئے ناگوار ہے اسے خدا کا ہونا چاہئے۔ لیکن خدا اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا جس کو ہم اثر کہتے ہیں۔ صحیفوں کے مطابق وہ ہمارے خیالات کو جانتا ہے ، اور صرف اسی نقطہ نظر سے ہمارا فیصلہ کرتا ہے۔




189۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ اپنی روحانی خواہش کی پیمائش کرنے کے لئے ایک انگوٹھے کے ساتھ بیتیسڈا کے تالاب میں جاتے ہیں۔ اس مثال سے خدا کی لامحدود طاقت کے محدود استعمال میں شامل غلطی کے بارے میں فکر کو بیدار کرنا چاہئے۔

حق پر محدود اعتماد ، یا اس کی طاقت کے محدود استعمال سے ، زیادہ روحانی نشوونما نہیں ہوگی۔ روحانی فکر کی طاقت کو کیوں محدود کریں؟ مسز ایڈی سائنس اور صحت میں ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ براعظم اور سمندر سے زیادہ تک دنیا کے دور دراز کی حدود تک پہنچتا ہے۔ کیا ہم اس کی طاقت کو کچھ بیمار جسموں یا کچھ پریشان کن بیماریوں کی تکمیل تک محدود رکھیں گے؟ آئیے ہم کسی بھی عقیدے کو لامحدود نیکی کے ایک محدود استعمال پر روکیں۔

ایک بار مریض کے لئے کام کرنے میں ، درج ذیل لائنیں میرے خیال میں آئیں:

میرے اندھیرے کے بیچ میں میرے دل کی آواز نے پکارا ، اوہ ، باپ ، جلدی کرو۔ شیطان کو روٹ پر ڈال دیں۔

جب میری تکلیف ہوتی ہے تو نیچے آؤ ، اور میری خوفناک تکلیف کو کم کرو ، تاکہ میں آگے بڑھ جاؤں اور دوبارہ کارآمد ہو جاؤں!

میرے بچ ،ے ، میرے وہ الفاظ سنو جو تمہارے آقا نے دیا ہے ، ’’ایلی جو محنت مزدوری کرتی ہے ، جنت میں آئے۔‘‘ میری عظمت کو تیرے پاس آنے کے لئے نہ کہو۔ اپنی چھوٹی سی چیز سے مجھ تک اُٹھو!




190۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ نادانستہ طور پر حق کے اس عمل کے خلاف لڑتے ہیں کیونکہ یہ آپ کی زندگی میں داخل ہوتا ہے اور مقصد کے مطابق ہو کر اس کا اثر ایڈجسٹ کرتا ہے۔ جنگ اکثر اسی ضرورت کی وجہ سے آتی ہے۔ قومیں غلط مفکرین بن جاتی ہیں ، اور سچائی کا مطالبہ یہ ہے کہ اس غلط سوچ کو بے نقاب کیا جائے ، کیونکہ اسی طرح ہی اس کو درست کیا جاسکتا ہے۔ جنگ کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ غلط سوچ کو بے نقاب کیا جارہا ہے تاکہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔

غلامی بشر کے حصے کا نتیجہ اس حقیقت کے نتیجہ میں ہے کہ وجہ سے برائی کو اثر سے ڈھانپ لیا جاتا ہے جو مطلوبہ اور ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے۔ پھر ، مادوں یا بشر عقلوں کے عناصر سے پناہ لینے کے لئے انسانوں کو چلانے کے لئے ، الٰہی عقل ابتداء ہی سے بنیادی طور پر ایک قاتل ہونے کی حیثیت سے فانی ذہن کی عملی فطرت کو بے نقاب کرتا ہے۔

جیسے کبھی سائنس اور صحت نے کہا ہے کہ جب دریائے کیچڑ کیچڑ اچھ .ا ہوتا ہے تو سچائی ایک برائی پیدا کررہی ہے ، اور انسان کے اچھے کی بجائے بدیہی ذہن کو اپنے آپ کو تضاد اور برائی کے طور پر ظاہر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ ماسٹر نے کہا ، "یہ نہ سوچو کہ میں زمین پر سلامتی بھیجنے آیا ہوں: میں امن بھیجنے نہیں ، بلکہ تلوار لینے آیا ہوں۔" سچائی یہ ظاہر کرنے کے لئے آتی ہے کہ کسی برائی کاز کا اثر برے ہونا چاہئے - جس کو تباہ کرنے کا ارادہ ہے جو مقصد کے مطابق ہے۔ جب امن نہ ہو تب یہ کبھی بھی امن ، امن نہیں ہونا چاہئے۔

سائنس اور صحت کے صفحہ سائنس 955 صحت پر ، بحرانی عقل سوچ کی علامت ہے ، ابتدائی ، اویکت غلطی کے ذریعہ ، ہر طرح کی غلطی کی مرئی شکلوں کا ماخذ۔ موت کے عقل کو بطور اثر زمین ، یا مرئی غلطی اور قابل سماعت گناہ کی علامت ہے۔ خدا کے مخالف ذہن اور طاقت کا دیرپا یقین ہی وجہ کی بنیادی غلطی ہے۔ اس غلطی کا سراغ لگانے اور اس سے باہر ہونے سے پہلے ، اس کا اظہار متضاد ہونا چاہئے۔ اکثر چھپی ہوئی غلطی کو اظہار خیال کرنے کے لئے مظاہرے کی ضرورت ہوتی ہے ، اور یہی وہ ضرورت ہے جو طلبا کو خوفزدہ کرنے کے لئے موزوں ہے۔

2تھسلینکیوں 2: 8 میں پولس نے اعلان کیا ہے کہ ’’جو شریر ظاہر ہوگا۔‘‘ اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے ایک بار مسز ایڈی نے کہا ، ’’فانی خیال بیدار ہوا ، اپنے ہی سائے پر چونک اٹھا ہے۔ جب اس کی بوچھاڑ ہو رہی تھی ، اس سایہ کو ناپید ہوا۔ اسے خود اور اس کے سائے کی کوئی چیز سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ، پھر خوف ، جس کی وجہ سے اس میں لاعلمی بے ہوش تھی ، اور بیداری پر ہوش میں آگیا ، وہ ختم ہو جائے گا - کیونکہ فانی عقل ذہن کو دیکھے گا کہ اسے خود سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

زکریاہ خداوند کے دن کے بارے میں بات کرتا ہے ، نہ ہی صاف اور نہ ہی سیاہ (14: 6 ، 7)۔ مسز ایڈی نے اس کے بارے میں کہا: ’’جب اختلاف پیدا ہوتا ہے تو ، یاد رکھنا ، جب محبت حواس پر زور دے رہی ہے ، تو برائی بڑھ جاتی ہے اور بے ہوشی سے ہوش میں سوچنے پر مجبور ہوتی ہے۔ پھر ایسے وقتوں میں خوفزدہ نہ ہوں۔ اندھیرے کو دیکھا جانا چاہئے بڑی روشنی کا پیش خیمہ۔ پھر ہم خوف میں پڑنے کی بجائے اس وقت خوشی منائیں گے۔ ‘‘

موت کا آدمی شکایت کرتا ہے جب مظاہرے نے چھپی ہوئی غلطی کو اظہار خیال میں ڈالا۔ پھر بھی یہ کیا جانا چاہئے۔ پولس ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ ’’کمزوری میں خوش رہو‘‘اس کو چھپی ہوئی غلطی کا حوالہ دینا ہوگا جو سطح پر مجبور ہے کیونکہ یہ تباہی کے لئے پکی ہے۔

خدائی ذہن کے نقطہ نظر سے جیسا کہ انسانی مسئلے کا اطلاق ہوتا ہے ، وجہ سے کسی غلطی کا صحیح اظہار ہونا لازمی طور پر جرم ہے۔ صرف مسمارزم ہی اسے دوسری صورت میں ظاہر کرسکتا ہے۔ بشر انسان کے لئے بظاہر جسمانی ہم آہنگی میں رہنا گویا مسرت کی اتنی ہی غلطی ہے جب کہ بشرطیکہ عقیدے کے تسلط میں رہنا ، جیسا کہ کسی شخص کو بیماری کا ظاہر کرنا ہوگا ، جب کہ سچائی کی حکومت ہے۔

نوکری کو یہ سبق سیکھنا پڑا کہ نام نہاد ہم آہنگی جس کا انہوں نے لطف اٹھایا ، خدا کے ساتھ ، وہ دھوکہ تھا۔ اگر اس ہم آہنگی کی انسانی وجہ کو درست اور مناسب طریقے سے ظاہر کیا جاتا تو ، یہ سنجیدگی کی بات ہوتی ، کیونکہ نوکری کے خیال میں اثر نے وجہ سے فوقیت حاصل کرلی تھی۔ ایوب نے معاملے کو خدا کی جگہ اپنے جلوس کے سربراہ کی حیثیت سے لینے کی اجازت دی تھی۔ وہ وجہ سے زیادہ محبت کرنے والا تھا۔ فانی انسان کا یہ جرم ہمیشہ تنازعہ میں ختم ہوتا ہے۔ اور جتنی جلدی یہ ہوجائے گا ، جلد ہی انسان کو اپنی غلطی کو دور کرنے کے لئے کارفرما کردیا جائے گا۔ جب حقانیت انسان کے ذہن کو کسی ایسے اظہار پر مجبور کرتی ہے جو اس کی قاتلانہ ، تباہ کن فطرت کو بے نقاب کرتی ہے تو ، بشر اپنے گناہ - بت پرستی کی خصوصیت کو سیکھتے ہیں - جب وہ معاملہ ڈال دیتے ہیں ، جو خدا کی جگہ پر ، فانی عقل کا سایہ ہوتا ہے ، اس کی عبادت ، محبت کرنے ، یا اس سے ڈرنے کے لئے۔

اس سے پہلے کہ بشر انسان فانی عقل کو پھینکنے کے لئے خود کو جگا دے گا ، جیسے خود کو بھی اس طرح کا اظہار کرنا چاہئے ، تا کہ انسان کا عقیدہ بے نقاب ہوسکے۔ اس طرح طلبا کو انتباہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ حق پرستی کا مقابلہ نہ کریں کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود کو اس طرح ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ سچائی کبھی برائی پیدا نہیں کرتی ہے۔ یہ اس کو بے نقاب کرتا ہے۔




191۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کمزوری میں خوشی منانے کے لئے سینٹ پال کی نصیحت پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ سردیوں میں لکڑی کے ہیلی کاپٹر درختوں کو کاٹ دیتے ہیں۔ پھر جب وہ موسم بہار کی تازہ چیزیں آتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں، کیوں کہ وہ ملوں تک لاگ ان جھاڑو بنانے کی متحرک طاقت فراہم کرتے ہیں۔

سائنس کے خط کے بارے میں ہمارا مطالعہ اور شعور میں اس کی سچائیوں کو قائم کرنے کی ہماری کوشش درختوں کو کاٹنے کے مترادف ہے۔ پھر مصیبت اور کمزوری کی مجبوری نوعیت کے ذریعے ، ہم اپنی سمجھ کو مظاہرے میں ترجمہ کرنے کے لئے ، خدائی تالش کی تلاش پر مجبور ہیں ، تاکہ یہ عملی اور قائم ہوجائے۔

صفحہ 254 پر سائنس اور صحت مسز ایڈی کا کہنا ہے کہ ہمیں آنے والے شدید سیلابوں اور طوفانوں سے خوفزدہ نہ ہونا جب ہم حقائق کے متشدد لیکن صحت بخش پانیوں پر اپنی چھال کا آغاز کرتے ہیں ، لیکن گمراہی کی خاموش سطح ، جہاں ہم انسانی ہم آہنگی میں ہیں جمود اور موت کی نیند میں آ گئے ہیں۔

صحیح معنوں میں سمجھا گیا ، طوفان جو انسانیت کے ہم آہنگ پانیوں کو بہا لیتے ہیں ، وہ ہماری سمجھ کو مظاہرے کے دریاؤں کو الہی محبت کے سمندر میں بہا دینے میں مدد کرتے ہیں ، جہاں روحانی خیالات مل جاتے ہیں اور خدا کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ لہذا ہمیں ایسے طوفانوں سے خوش ہونا چاہئے۔




192۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ جب آپ کوئی معاملہ پورا نہیں کرتے ہیں تو ، آپ یہ فرض کریں گے کہ سائنس کو پہلے سے ہی آپ نے جو آسان تجزیہ پیش کیا ہے اس کا زیادہ سے زیادہ اثر انگیز استعمال کرنے کے بجائے آپ کو زیادہ سائنسی اور زیادہ پیچیدہ اوزار کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ماسٹر کی سوچ پر غور کرتے اور دیکھتے کہ اس نے کیسے کام کیا ہے تو ہم شاید ان کی سائنسی فکر کی سادگی اور اس کے سادہ سا اعلانات پر حیرت زدہ ہوجاتے۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ جو اوزار ہمیں دیئے گئے ہیں وہ ہر ضرورت کے لئے کافی ہیں۔ سائنس اور صحت کی تعلیم کے صرف ان آسان حقائق جن سے ہم پہلے ہی واقف ہیں۔ اگر کوئی کیس برآمد نہیں ہوتا ہے تو ، پریشانی کیا ہے یسوع کی بحیثیت بحیثیت ماہر طبیعیات اپنی صلاحیتوں میں صرف صحیح آلے کو صحیح جگہ پر استعمال کرنے کے لئے، ہر مسئلے کو ایک ایسی شکل میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کرسچن سائنس کے قدیم اصولوں کے ذریعے آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اس کا سیدھا سا عقیدہ تھا ، پھر بھی اس کے ساتھ ہی وہ اعتقاد کے پہاڑوں کو آگے بڑھ سکتا ہے۔

جب کسی کو موت کے اعتقاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر وہ استعاراتی ماہر ہے تو ، وہ اس دعوے کے خلاف براہ راست کام نہیں کرتا ہے۔ وہ اس کو ماد ےمیں پیدا ہونے والے عقیدے کی نشاندہی کرتا ہے ، اور اسے وہاں سنبھالتا ہے۔ جب عمر کے دعوے کا مقابلہ ہوتا ہے ، تو وہ اسے وقت اور محدودیت کے عقیدے میں حل کرتا ہے ، اور اسے سنبھالتا ہے۔

ایک بار اتوار کی صبح مدر چرچ کے آرگنائزر کا حادثہ پیش آیا۔ وہ کچھ سہاروں پر پھسل گیا اور سر پر ایک ضرب لگنے سے وہ بے ہوش ہوگیا۔ جب اسے ہوش آیا اور وہ اپنی اہلیہ کو مدد کے لئے فون کرنے کے قابل ہو گیا تو اس نے اس سے کہا کہ اس معاملے میں سنسنی اور ذہانت کے اعتقاد پر کام نہ کریں ، بلکہ اس کام میں ہونے والی خدمت میں مداخلت کے دعوے پر۔ جلد ہی وہ بحال ہو گیا ، اور خدمت میں اپنا حصہ ادا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

اگر آپ کے پاس ایک کلید موجود ہے جو تالا کھولتی ہے تو آپ اور کیا چاہتے ہیں؟ لیکن اگر آپ کے پاس بہت ساری چابیاں ہیں تو ، صحیح انتخاب کرنے کے لئے، آپ کو انتخاب میں مہارت کی ضرورت ہوگی۔ ممکن ہے کہ آپ کو یقین ہو جائے کہ وہاں کوئی تالا نہیں ہے۔ حکمت اور توقع کی ضرورت ہے یہ جاننے کے لئے کہ اس طرح کے حالات میں سوراخ موجود ہے۔ لیکن صحیح چابی رکھتے ہوئے ، اور یہ جانتے ہوئے کہ سوراخ کہاں ہونا چاہئے ، آپ آسانی سے دروازہ کھول سکتے ہیں۔

ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمیں کسی معاملے پر اپنی فہم کو عملی شکل دینے میں دھوکہ نہیں دیا جائے گا۔ خامی چالاکی سے کام کرتی ہے۔ یہ ہم پر اس طرح اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمارا کام بے اثر ہوجائے۔ اسی وجہ سے مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’ہمارے ذہنی قانون کا قانون جو کہتا ہے کہ ہمارا کام ، جو کچھ بھی ہو ، کسی بھی چیز کا نہیں ہوگا ، اسے توڑا جانا چاہئے۔ اپنی ہی سوچ دیکھیں کہ آپ پھنسے ہوئے نہیں ہیں اور بطور استعمال ایک چینل اچھے کام کو روکنے کے لئے جس کی آپ کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سب سے اہم ہے ، کیوں کہ برائی کی لطیفائی سچائی کو ظاہر ہونے سے روکنا ہے۔ایک اور لطیف یہ دعویٰ ہے کہ ’سانپ کو سنبھالنا‘کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اچھی طرح دیکھو۔ اس کی طرف۔ ‘‘‘

یاد رکھیں کہ ہمیشہ غلطی کا خطرہ رہتا ہے ، اور روحانی ادراک آپ کو ہر معاملے میں ڈھونڈنے کے اہل بنائے گا۔ تب آپ کے آسان ٹولز کافی پائے جائیں گے۔




193۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ فی الحال یہ ممکن ہے کہ ایک طالب علم خدا کی عکاسی پر اتنی مضبوط گرفت حاصل کر سکے ، کہ وہ اس سے لاپرواہ ہوسکتا ہے ، اور انسانیت پر اعتماد ہے کہ وہ اسے کبھی کھو نہیں سکتا ، یا اس سے لوٹا جاسکتا ہے۔ حقیقت میں وہ اسے کھو نہیں سکتا ، کیونکہ یہ اس کی اصلی خوبی کا حصہ ہے۔ لیکن اس فانی تجربے میں ، پریرتا ان خوبصورت پرندوں کی طرح نظر آتی ہے جو آتے ہیں اور جب تک آپ ان کے ساتھ درخت ہوتے ہیں آپ کے درختوں کی شاخوں میں رہتے ہیں جب تک کہ آپ ان کے ساتھ مہربان ہوں اور انہیں خوفزدہ نہ کریں۔ اگر آپ کسی بھی وقت یہ نرمی اور پیار واپس لیں گے تو وہ اڑ جائیں گے۔

ہمارے موجودہ شعور کی کیفیت میں یہ سمجھنا بے وقوف ہے کہ اس کا عکاسی کا شعور اس قدر مضبوطی سے قائم ہے ، کہ وہ اپنی مستقل سائنسی کوششوں کو چھوڑ سکتا ہے ، اور پھر بھی خدائی عقل کی عکاسی کرسکتا ہے۔ مسز ایڈی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ ایک طالب علم کتنے عرصے سے کرسچن سائنسدان رہا ہے۔ وہ اپنی روحانی سوچ کا احترام کرتی تھی اور اس پر تکیہ کرتی ہے ، تب ہی اور جب وہ خدا کا احترام کرتا ہے اور جھک جاتا ہے۔ اگر کوئی پریرتا کے پرندوں سے لاپرواہ ہو گیا تاکہ وہ اڑ گئے تو وہ اسے کرسچن سائنس کے ہاتھوں گم گئیں ، یہاں تک کہ جب اس نے اپنا کھوئے ہوئے عکاسی کا احساس دوبارہ حاصل کرلیا۔




194۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ واقعتاًخدا کی عکاسی کرنے کی اپنی روحانی صلاحیت کو کھو سکتے ہیں ، جو اس کے ہر فرد کے لئے خدا کا تحفہ ہے۔ اموات کے اس خواب میں اس کی نگاہ سے محروم ہونا ممکن ہے ، جیسے بچے کبھی کبھی ٹرین میں سوار ہوتے وقت آنکھیں بند کرتے ہیں اور تصور کرتے ہیں کہ وہ پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ بعض اوقات وہ خود کو اس سمت جانے کے تمام احساسات کا احساس دلاتے ہیں جس میں وہ واقعتاًجا رہے ہیں۔ غلطی کو دور کرنے کے لئے ، انہیں صرف آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے۔




195۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ جب آپ کے پاس روحانی طور پر دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ہے تو ، آپ ایک روحانی عطا کرنے والے کے کردار میں رہتے ہیں۔ جب کبھی کبھی ہمارے قائد کے پاس یہ مشورہ آیا کہ وہ عارضی طور پر روحانی بھلائی سے محروم ہیں ، تو وہ ڈیوڈ کی طرح خدا کے حضور عاجزی کی حالت میں پیچھے ہٹ گئیں ، یہاں تک کہ اس کی عکاسی کی تجدید آرہی تھی - جیسا کہ یہ ہمیشہ ہوتا ہے۔

طلباء جو تسلط کے احساس کو آگے بڑھاتے رہتے ہیں ، جب وہ تسلط الہی ذہن نہیں ہوتا ہے تو ، وہ خود کو جانوروں کے مقناطیسیت ، یا انسانی ارادیت کے حامی ہونے کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہمارے لیڈر نے کبھی بھی واقعتاًخدا کو نہیں کھویا ، یا اس کا اپنا عکس۔ لیکن بعض اوقات ماحول بادل ہو جاتا تھا ، تا کہ جب تک غلطی ختم نہ ہو جاتی ، اسے دینے کی اپنی کوشش روکنی پڑی۔

19 اکتوبر 1892 کو ، مسز ایڈی نے اپنے دو طلباء کو ایک ’’چارج‘‘ دیا ، جو تمام طلبہ کی توجہ کے قابل ہے ، اور اگر اس پر عمل پیرا ہوتا ہے تو ، روزانہ مظاہرین کو اس پر توجہ دینے والوں میں شامل کردیں گے ، اس طرح انھیں بچائیں گے۔ انسانی عقل کے تحت کام کرنے کی حماقت ، جبکہ یہ تصور کرتے ہوئے کہ وہ خدا کی عکاسی کررہے ہیں:

’’صبح کے وقت سب سے پہلے خدا سے التجا کریں کہ وہ آپ کو فتنوں سے نجات دلائے اور آپ کو بیدار ہونے میں مدد کرے۔ پھر اپنے کام کاجیں ، ایک خوابیدہ چرس کھانے والے کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ اس کے واضح احساس کے ساتھ کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا کرنا ہے۔ پھر بیٹھ جاؤ اور پہلے اپنے آپ کو خدا کے ساتھ اپنی طاقت کا شعور بنائیں ، اور پھر باہر کی گھڑی اٹھائیں۔ یہاں تک بیٹھیں جب یہ واضح ہوجائے کہ اگر اس میں دو گھنٹے لگے تو۔ ‘‘ اگرچہ اس الزام کو خاص طور پر مسز ایڈی کے اپنے گھر میں کام اور معمولات کا حوالہ دیا گیا ہے ، اس کے باوجود یہ کرسچن سائنس کے تمام طلباء کے گہری مطالعے کے قابل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسز ایڈی کتنی محتاط تھیں ، کہ ہر بات پر اپنے طالب علموں کو انسانی ذہن کو پیچھے چھوڑنے کے قابل بنائیں۔




196۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ ایسا نہ ہو کہ آپ خود سے ان غلطیوں کو دور کرنے کے لئے کام کریں جو آپ سے جکڑی ہوئی ہیں ، اس حقیقت کی بجائے کہ آپ ان کی حقیقت پر اپنے یقین ، ان سے خوف اور اپنے آپ پر قابو پائیں ، خدا کے فرد کی حیثیت سے ، آپ خدا کے سوا کسی اور کا عقل حاصل کرسکتے ہیں ، الہی عقل. پھر وہ اپنی مرضی سے گر جاتے ہیں۔

آئرن کی فائلنگ تار کے کنڈلی پر قائم رہتی ہے جس کے ذریعے برقی رو بہا ہوتا ہے۔ جب کرنٹ بند ہوجاتا ہے تو ، آئرن فائلنگ دور ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح غلطی کے مختلف اظہار ہمارے ساتھ چمٹے رہتے ہیں ، کیونکہ ہمارے غلطی کی حقیقت پر یقین رکھتے ہیں۔ جب ہمارے احساس غلطی کی حقیقت پر قابو پا لیا جاتا ہے ، تو اس کا انکشاف اپنی مرضی سے ہٹ جاتا ہے۔




197۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ کسی کمتر ، یا انسانی منشا کے ساتھ خدا کی قدرت کی تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں انسانوں کے عالمگیر بلزر کی خدمات کو جاری رکھنا ، محض اپنے مسے کو دور کرنے اور اپنے بلوں کی ادائیگی کے لئے خوف زدہ رہنا چاہئے۔

جوں جوں تفہیم میں اضافہ ہوتا ہے ، اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا کی طرف سے اسے حاصل ہونے والی نعمتیں جائز کمیشن کی حیثیت سے آتی ہیں ، جو اپنی سوچ کو روحانی بنانے کی ایک کامیاب کوشش کے ذریعہ حاصل کی ہیں ، اور پوری انسانیت کے لئے زیادہ سے زیادہ بھلائی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا کو اطمینان بخش ایک مقصد ہر مظاہرے کے ساتھ لازمی ہے ، تاکہ اسے سائنسی اعتبار سے موثر بنایا جاسکے۔

جب ایک بالغ طالب علم خدا کی طاقت کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جیسا کہ اسے مسلسل کرنا چاہئے ، اسے اپنے روحانی حقوق کا دعوی کرنے کا ایک بلند مقصد ہونا چاہئے۔ بشر کا مقصد بے غرض ہے ، جیسا کہ مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ ایسا ہونا چاہئے ، صرف ایک ہی انسان کی مدد کرنا چاہتا ہے ، اور ذاتی اجروں کے بارے میں سوچے بغیر ، خدا کی عظمت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔

ایک کمتر محرک سائنسی مظاہرے کی تاثیر کو ختم کرتا ہے۔ خداوند کے خوف کی ایک مددگار تعریف یہ ہے کہ خوف ہو کہ کوئی بھی کسی مقصد کے ساتھ اس کی طاقت کو تلاش نہ کرے بلکہ سب کے ساتھ بھلائی کرے ، سب سے پیار کرے اور سب کو برکت عطا کرے۔




198۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ اپنے مقصد کے طور پر اپناتے ہیں کہ ہم آہنگی سے ہونے والی اموات کو الہی اور مستقل لنگر انداز میں لے جانے کی کوشش کی جا.۔ اس طرح کا کام کبھی نہیں کیا جاسکتا ، کیوں کہ اموات بہترین نہیں بلکہ ایک معدومیت کا خواب ہے۔ واحد اعتقاد اور مستقل لنگر انداز یہ ہے کہ انسان اس میں موجود تھا اس عقیدے کو ختم کرکے ، مادے اور اموات سے باہر نکلیں۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا ، ’’جب آپ کو مادیت سے گھرا ہوا لگتا ہے تو ، اس سے اوپر اٹھ جاؤ ، کیونکہ آپ اس میں کبھی نہیں تھے؛ اور اس سے آپ کو اعتقاد سے نکال دیں گے۔‘‘




199۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ جانوروں کی مقناطیسیت کی تجویز کو قبول کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے آپ کو یہ یقین ہوجائے گا کہ کسی مسئلے میں شامل مشکلات کی نمائندگی مسئلے کی ظاہری شکل سے کی گئی ہے ، بجائے اس میں کہ غلطی کی باریکی سے۔

جب خرابی کا انکشاف ہوا ہے تو تمام مسائل آسان ہیں ، تاکہ خدائی طاقت کا اطلاق مداخلت یا الٹ کے بغیر کیا جاسکے۔ ہم نے ماسٹر کے ذریعہ کئے گئے معجزات کے تعجب کے ساتھ پڑھا ، اس بات کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے کہ اس کے کارنامے ہمارے ہوں گے ، جب ہم اس کے ٹھیک ٹھیک دعووں کو ننگا کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں خدا کی عکاسی پر شبہ کرنا پڑتا ہے ، یا یہ یقین کرنا کہ خدا کی اطلاق طاقت بالکل سیدھا اور کامیاب نہیں ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا ، ’’الٹ اور رکاوٹ کو سنبھالیں اگر آپ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ، آپ بھی گٹر میں بیٹھ سکتے ہیں ، جہاں اندھوں کی رہنمائی کرنے والے اندھے یقین میں پڑ گئے ہیں۔‘‘ ایک اور وقت میں ، اس نے کہا ، ’’اگر آپ ٹھیک نہیں کرتے ہیں تو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اپنے علاج معالجے - یا الٹ تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔‘‘




200۔ دیکھنا ایسا نہ ہوکہ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ برائی کو سنبھالنے کی کوشش میں ، آپ کا بنیادی مقصد اس کا خاتمہ یا اس سے بچنا نہیں ہے ، بلکہ رہائی اور نیکی کو قائم کرنا ہے۔




200۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ جانوروں کی مقناطیسیت نامی عیب کو روکنے کے بغیر ، کسی بھی معاملے کو ٹھیک کرنے یا کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی توقع - غلطی کی تجویز جو اس کے جھوٹ پر بحث کرنے کے لئے تیار کھڑی ہے ، اور ہر ایک کو دور کرنے کے لئے حق کی طاقت کی عکاسی کرنے کی ہماری صلاحیت میں ہمارے اعتماد کو لوٹنے کی کوشش ہے۔ میسمر ازم کا دعوی جانوروں کی مقناطیسیت کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ پھر بھی اس کا پتہ لگانا اور نکال دینا ضروری ہے۔ ایک بار مسز ایڈی نے لکھا ، ’’اچھے کے وزن کے تناسب میں ہمیشہ راستہ روک دیا جاتا ہے ، جو آپ کو معلوم ہے۔‘‘




201۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ غلطی آپ کو اپنے اچھے کاموں کا شکار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہم پر ظلم کیا جاسکتا ہے ، لیکن اس کا لازمی طور پر مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے ضرور تکلیف اٹھانا پڑ رہی ہے۔ غلطی کا مقصد آسمانی بادشاہی سے نفرت ہے - آپ پر نہیں۔ جب آپ زمین پر آسمان کی بادشاہی قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ، آپ اپنے آپ کو اس مقام پر رکھتے ہیں جہاں آپ کو جسمانی ذہن کی مخالفت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن آپ اس کام میں محفوظ ہیں ، کیونکہ آپ جنت کی بادشاہی کے قیام کے لئے کام کر رہے ہیں۔

میں ایک ایسے پیشہ ور شخص کے بارے میں جانتا تھا جس نے حسب روایت یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ ، ہر معاملے کے بعد جو اس نے شفا بخشی ہے ، وہ غلطی نہیں بدل سکتی ہے اور اپنے ہی تباہ کن سے اپنا بدلہ لیتی ہے۔ اگر اسے جھوٹ کے آپریشن کے بارے میں واضح اندازہ تھا ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اسے اس تجویز کو قبول کرنے کی آزمائش نہیں کی جاسکتی ہے کہ غلطی کو اس کے برباد کرنے والے کو چالو کرنے کی طاقت ہے ، اور اسے اس کی بھلائی کے لئے اسے تکلیف پہنچانا ہے۔

ہم اس کے برباد کرنے والے سے گناہ کے انتقام کے دعوے کو نپٹاتے ہیں اور یہ جان کر یہ جانتے ہیں کہ برائی کی کوششیں ہمارے کام کو روکنے کے ل. ، یا ہمیں تکلیف پہنچانے کے لئے ، ہمیں صرف اور زیادہ روحانی ترقی کی طرف راغب کرتی ہیں۔ انسان کے غضب سے سب سے بہتر تحفظ یہ ہے کہ آسمان کی بادشاہی کو زمین پر لانے کے لئے اور ہمارے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کے لئے ہمارے بہتر کام کرکے خدا کی حمد و ثنا بنائیں۔

پھر جب یہ مشورہ آتا ہے کہ ہم اپنے اچھے کام کے لئے دوچار ہیں ، ایک اصلاحی سوچ یہ کہے کہ ہم تکلیف برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ہم نے بہت اچھا نہیں کیا ، چونکہ ہم نے تکلیف دی ہے ، اچھائی کے لئے نہیں ، بلکہ اچھائی کی کمی کے سبب۔ تب ہم مزید نیکی کرنے کی کوشش کریں گے ، اور اس طرح ہم محفوظ رہیں گے۔ کیا اچھی مسز ایڈی نے اسے تباہ کرنے کے لئے پرعزم غلطی کے پورے استحکام سے اس کی حفاظت نہیں کی؟ اور کیا اس نے یہ نہیں کہا ، ’’خدا کا قانون زندگی بخش ہے اور زندگی کو ہمیشہ کے لئے برقرار رکھنا ہے؛ اچھا کرنا اور اچھاسوچنا زندگی کو برقرار رکھتا ہے‘‘۔




203۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ایسوپس کے افسانے کے کتے کی طرح ہو ، جس نے پانی کی طرف دیکھا تو سوچا کہ اس نے ہڈی کے ساتھ ایک اور کتا دیکھا ہے۔ دوسری ہڈی حاصل کرنے کی کوشش میں ، اس نے اپنے پاس کی ایک کھو دی۔ جانوروں کی مقناطیسیت ہمیں سایہ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں مادہ کو اپنی گرفت میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہوس واقعی مادہ کے بطور اثر میں یقین ہے ، اور اس کی نتیجے میں خواہش ہے ، جس کی وجہ سے انسان اپنے سائے میں مادہ کھو دیتا ہے۔

جانوروں کی مقناطیسیت جو انسان کو مقصد کے بجائے اثر تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے ، زبور 106 میں بیان کیا گیا ہے ، جہاں بنی اسرائیل بیابان میں ’’حد سے زیادہ لالچ‘‘ کر چکے ہیں۔ ان کی روحانی فکر پر اس غلطی کے مرتکب ہونے کے متنازعہ اثر ، یعنی اس یقین پر یقین کرنا کہ انسان کی روحانی تڑپ کو پورا کرسکتا ہے ، اور بھوکا آدمی اس کا اثر سمجھتا ہے ، ان الفاظ میں تصنیف کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، اور خدا نے’’ ان کی طرف دبلا پن بھیج دیا روح۔ ‘‘




204۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ صرف جہاز کو ترک کردیتے ہیں کیونکہ آپ کو ہر غلطی کے اس دعوے کی غیر حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا جو آپ کو اپنے تجربے میں ایک بار میں پیش کرتا ہے۔ اگر اوقات میں بھرم دبانے لگے تو چھوٹی بچی اور اس کی نرس کو یاد رکھیں۔ جب سونے کا وقت آیا تو بچہ اس تجویز سے گھبرا گیا کہ اس کے سونے کے کمرے میں فائر انجن موجود ہیں۔ چنانچہ اس نے نرس سے التجا کی کہ وہ آگے بڑھیں۔ نرس نے اس کے ساتھ یہ کہتے ہوئے بحث کرنے کی کوشش کی ، ’’لیکن ، عزیز ، اگر انجن موجود ہیں تو ، وہ آپ پر اتنی جلدی جلدی جلدی بھاگیں گے۔‘‘ بچے نے جواب دیا ، ’’لیکن میں جانتا ہوں کہ تم جانتے ہو کہ وہاں کوئی نہیں ہے۔‘‘یہ واضح ہے کہ بچہ فائر انجنوں کا خوف غیر حقیقی نہیں بناسکتا تھا۔ لیکن اسے اپنی نرس کے خیال میں سکون ملا ، جسے وہ جانتی تھی کہ ان میں ان کا یقین نہیں ہے ، اور اس وجہ سے وہ خوفزدہ نہیں تھیں۔

کرسچن سائنس دانوں کی حیثیت سے یہ ہمارا استحقاق ہے ، جب ہم خوف کی تجاویز سے گرفت میں آتے ہیں جو ہم کسی بھائی کی سوچ میں پناہ اور راحت نہیں پاتے ہیں جو جانتا ہے کہ ہمارا خوف کتنا بے بنیاد ہے ، جسے ہم کہہ سکتے ہیں ، ’’میں جانتا ہوں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ خوف بے بنیاد ہے ، کیوں کہ جس سایہ سے میں خوف آتا ہوں وہ آپ کے لئے حقیقی نہیں ہے۔ براہ کرم اس احساس کے ساتھ میرا ساتھ دیں ، یہاں تک کہ جب میری اپنی سوچ خدا کے عطا کردہ مقام پر دوبارہ زندہ نہ ہوجائے۔‘‘




205۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے تمام دن بوڑھے آدمی کی بہتری کے لئے کوشاں کرتے ہوئے گزارتے ہیں ، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا کے حضور کھڑے ہونے کے قابل ہوسکتا ہے۔ جسمانی ذہن اور جسم کی پاکیزگی محض اس قربانی کی نمائندگی کرتی ہے جس پر ہم سے مطالبہ کیا جاتا ہے ، تاکہ ان کا خاتمہ کیا جاسکے ، اور اصل انسان ظاہر ہوسکے۔

جوزف مان نے مسز ایڈی کے الفاظ ان کے پاس اس طرح درج کیے (مریم بیکر ایڈی ، ایک لائف سائز پورٹریٹ ، پہلا ایڈیشن ، صفحہ 232): ’’آپ کو 'بوڑھے آدمی' ، بوڑھی عورت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا؛ آپ ان کو بہتر نہیں بنا سکتے اور اگر آپ اسے بہتر بنانے میں کامیاب ہوجائیں تو ، وہ آپ کے ساتھ رہے گا ، اگر آپ بوڑھے کو پکڑ کر کہتے ہیں کہ یہ کافی اچھا ہے تو آپ کرتے ہیں۔ اسے نہ چھوڑیں ، بلکہ اسے جاری رکھیں۔ اگر آپ پرانے کو اطمینان بخش بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو ، آپ اسے روکنے کے لئے نہیں ، اسے رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ‘‘

اگر ان کی باتیں اتنی انقلابی نہیں لگیں گی اگر مسز ایڈی نے کہا ہوتا کہ ’’آپ کو لازمی طور پر انسانیت سے نجات دلانا چاہئے آپ اسے بہتر نہیں بنا سکتے اور اسے برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں ، وغیرہ۔‘‘




206۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کسی ایسی جگہ پر پہنچ گئے ہیں جہاں آپ سائنسی دلیل کے ذریعے بیماروں کی تندرستی روک سکتے ہیں ، کیونکہ مسز ایڈی اشارہ کرتی ہیں کہ وقت آنے والا ہے جب یہ ممکن ہوگا۔ جب وقت آگیا تو ہم کیسے جانیں گے؟ پھلوں کے ذریعہ جب آپ لفظ بول سکتے ہیں اور یہ ہوچکا ہے تو دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

بعض اوقات مسز ایڈی نے طلباء کو یہ دلیل جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ لیکن دوسرے اوقات میں انھوں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں رکنے کی ہدایت کی۔ ایک خط میں اس نے لکھا ہے ، ’’طالب علم ابھی نہیں ہے جہاں وہ دلیل کے بغیر علاج کر سکتا ہے یا اپنے آپ کو صحیح طریقے سے تھام سکتا ہے۔ جانوروں کی بدنیتی پر مبنی مقناطیسیت اس وفادار افراد کو اس طاقت سے محروم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے ، اور ذہنی طور پر انھیں بحث کرنے پر راضی نہیں کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ سچ بولنا ان کے جھوٹ کا ایک بہت بڑا غیرجانبدار ہے۔ پہلے سے کہیں زیادہ اپنے ذہنی دلائل حق کی طرف رکھیں ، اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کو کہیں۔ دھیان سے رہیں ، اور ہر روز محبت سے کہیں کہ وہ آپ کو فتنوں سے باز رکھے اور آپ کو روزانہ کی روٹی دے۔ خدا کے کام کو جاننے اور کرنے کا فضل۔ ‘‘

دلیل سے ایک خطرہ یہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو یقین ہو کہ یہ وہ دلیل ہے جو خود شفا بخشتی ہے ، جب حقیقت میں اس کا اچھا اثر اس شخص پر پڑتا ہے جو استدلال کرتا ہے ، اور اپنے خیال کو شفا یابی کی سطح تک پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’شفا یابی میں آپ کو یا تو خدا کا فضل معلوم کرنا پڑے گا ، جہاں کوئی بیماری نہیں ہے ، جیسا کہ میں کرتا تھا ، ورنہ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بیماری کیا ہے اور اس پر بحث کرنا چاہئے۔‘‘ ایک اور وقت میں ، اس نے کہا ، ’’اب بحث چھوڑ دو اور خدا کے پاس تھام لو۔ میں اپنی شفا یابی کا کام کرتی تھی – ’خدا سب کچھ ہے۔‘‘‘ ایک بار پھر اس نے اپنے گھر کے طلباء کو بحث کرنے سے باز رکھنے کی ہدایت کی ، کیونکہ اس نے پتہ چلا ، کہ وہ روحانی حیثیت کے بجائے سائنس میں ہم استدلال کرتے ہیں کہ غلطی اور فانی ذہن کو زیادہ حقیقی نہیں بلکہ کم حقیقت بنانا ، تاکہ دائیں طرف ہمارے شعور کے لئے حقیقی ہوجائیں۔ یہ ہو جاتا ہے ، ہماری سوچ وہ چینل بن جاتی ہے جس کے ذریعے شفا بخش قوت بہتی ہے۔

دلیل وہ عمل ہے جس کے تحت غلط عقیدہ کو شعور سے پاک کیا جاتا ہے ، تاکہ یہ خدا کی روشنی کے لئے چمکنے کے لئے ایک واضح ونڈو پین بن سکے۔ یہ ہمارے عقلی عقل کی عکاسی ہے جو ٹھیک کرتا ہے۔ دلیل محض ذہنی تیاری ہے جو سوچ کو روحانی اتحاد میں لاتی ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار یہ بات لورا سارجنٹ سے کہی تھی جس نے اسے درج ذیل لکھا ہے: ’’ماں نے کہا کہ پرانے انداز میں انسانیت کا عقیدہ ایک شیطان تھا اب اس میں بہت سارے ہیں ، لیکن ہمیں اسے انھیں نہیں کہنا چاہئے ، بلکہ برائی ہے۔ انہوں نے کہا جب ہم اپنی نگاہ رکھتے ہیں ، ہم اپنی سوچ کے ساتھ اس کی مدد نہیں کرتے ہیں؛ ہم بدی کے اعتقاد کے بارے میں اپنی ہی سوچ کو صاف کرتے ہیں ، اور یہ ہماری سوچ سے چھٹکارا پا رہا ہے اور خدا کے راستے سے نکل رہا ہے تاکہ روشنی چمک سکے اور یہ بابرکت روشنی ہماری اور اس کے چمکنے میں سب کی مدد کرتی ہے۔ یہ روح کا ایک مبارک اور برکت راستہ ہے۔ ‘‘

ترقی کے ہمارے موجودہ مرحلے میں ، یہ استدلال - اگر اسے عقلمندی اور درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو - بحر احمر ، جانوروں کی مقناطیسیت اور مادیت کے پانی کو پیچھے ہٹانے میں ، یا جزوی طور پر مدد ملتی ہے ، تاکہ حقیقت گزرے اور اس کی تخلیق نو کا کام انجام دے۔ . ہمیں اپنا حصہ ضرور ادا کرنا چاہئے ، تاکہ خدا اپنا کام کرے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’جب تک آپ کام نہیں کرتے ہیں سچ آپ کے لئے کام نہیں کرتا ہے۔‘‘ جب دلائل سخت ہوجاتے ہیں ، لیکن ، خودکشی اور خوشی کی کمی ہوتی ہے تو ، وہ غلطی کو زیادہ حقیقت میں لاتے ہیں۔ ایسے وقتوں میں ہمیں دنیوی تصورات کو پس پشت چھوڑ کر ، ذہنی طور پر ہلکے دیدوں سے متوقع ہونے کی کوشش کرنا ہوگی۔




207۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہماری تحریک میں بڑے بھائیوں کی تنقید کا احساس قبول کرتے ہیں ، جو سال بہ سال سچائی کے میٹھے انکشافات کو کھاتے ہیں ، لیکن جو کبھی بھی آستین نہیں اٹھاتے اور جانوروں کے مقناطیسیت کی چھپی ہوئی حرکتوں کو بے نقاب کرنے کے لئے مصر جاتے ہیں۔ مفت بشر۔

یہ فرشتہ طلباء کو ایک خدا کی عطا کردہ جگہ ہے ، کیونکہ وہ اس کے پیروکاروں کی زندگیوں پر کرسچن سائنس کے اثرات کے زندہ گواہ کی حیثیت سے کھڑے ہیں۔ دوسری طرف ، وہ لوگ جو واقعتا ًاس کاز کو برقرار رکھتے ہیں اور ان فرشتہ طلباء کو آگے بڑھنے کے قابل بناتے ہیں ، وہی لوگ ہیں جو محبت ، ہمت اور عزم رکھتے ہیں کہ گمراہی کے پوشیدہ رازوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں ، جیسا کہ ہمارے پیارے قائد نے کیا۔ وہی لوگ ہیں جو تقویت بخش ذہنی کام کرتے ہیں جو جانوروں کی مقناطیسیت کی مخالفت کو پورا کرتے ہیں اور اس پر قابو پاتے ہیں۔

بعض اوقات ’’فرشتہ میزبان‘‘ ’’شیطانوں کے پیچھا کرنے والوں‘‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کو ستاتے ہیں۔ مسز ایڈی نے خود ہی اپنے کچھ طلباء کے ہاتھوں یہ تنقید کا سامنا کیا۔ ہمدردی نے اسے یہ کہنے کے قابل بنا دیا ، تاہم ، ’’باپ ، انہیں معاف کرو ، کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بہترین دوست ، وہی ہواؤں کا سامنا کر رہے ہیں ، اور وہ حقیقی کام کر رہے ہیں جو کریسچن سائنس کو زمین پر قائم کررہی ہے۔ ‘‘

اگر جنگ کے وقت بے داغ یونیفارم والے سپاہی پریڈ کر رہے تھے ، اور ان کے ساتھ ان بھائیوں کا مقابلہ کرنا چاہئے جن کی وردی پھٹی ہوئی تھی اور دشمن کے ساتھ اصل تصادم کے نتیجے میں گندے ہوئے تھے تو ، سابقہ افراد کے لئے تنقید کرنا غیر معمولی بات ہوگی۔ جب سائنس میں ایک طالب علم ، جو یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک اچھا ذاتی مظاہرہ کر رہا ہے ، کسی دوسرے پر تنقید کرنے کا لالچ میں آتا ہے ، جو گمراہی سے لڑ رہا ہے اور اس جنگ کے نشانات برداشت کرتا ہے ، اسے اس وقت تک باز آنا چاہئے جب تک کہ اسے تمام حالات کا پتہ نہ چل جائے ، ایسا نہ ہو کہ اسے مل جائے۔ تیل اور شراب کو نقصان پہنچانا ، اس طرح اس کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے جو تمام کرسچن سائنسدانوں اور دنیا کے لئے بہادری سے لڑ رہا ہے۔




208۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ کا بنیادی مقصد ناخوشگوار یا تکلیف دہ احساس کا خاتمہ ہوتا ہے ، اور خوشگوار احساس کی طرف لوٹنے کے مقصد کے لئے مادے اور اس کے نام نہاد قوانین کے بارے میں حقیقت پر بحث کر رہے ہیں ، تو آپ سائنسی ہونے کے سائنسی بیان کو استعمال کرتے ہیں۔

ہوائی جہاز کو پرواز کرنے کے لئے دو پروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پرواز کا ایک حصہ زمین پر منجمد ہوجائے تو ناممکن ہوجائے گا۔ اگر ایک طرف دردناک احساس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ، اور دوسری طرف خوشگوار احساس کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے تو ، اسے حیرت کی ضرورت نہیں ہے اگر اس کا مظاہرہ آسمان سے کم ہو اور اس مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہوجائے۔

مسز ایڈی نے سائنس اور صحت میں شراب ، تمباکو ، اور افیون کے ساتھ چائے اور کافی کی بدنام بھوک کو کچل دیا۔ کیا ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ مادی حواس کو راحت بخشنے کے ان پانچ طریقوں سے معاملات میں خوشی کے وہم کی نمائندگی ہوتی ہے؟

انسان ہونے کے سائنسی بیان سے روحانی سچائی کا پتہ چلتا ہے جو کسی کو جسمانی اعتقاد سے آزاد کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ، تاکہ اس کی فکر خدا کی ذات میں مل جائے اور وہ اس جسمانی خواب سے بیدار ہوسکے۔ لیکن اس کا یک طرفہ استعمال خیالات کی نادانی اور اس کی عظیم طاقت کا کمزور استعمال ظاہر کرتا ہے۔ مسز ایڈی نے طلباء کو اس قاعدہ کے وسیع تر ادراک اور استعمال کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ، جس میں خوشگوار سنسنی کی مثال پیش کی گئی تھی ، جس پر دنیا کو خوفزدہ نہیں کیا گیا ہے ، جس کی مذمت بیشتر سوچ سمجھ کر مسیحی کرتے ہیں۔ سائنس آف مین میں ، مسز ایڈی 1870 میں اپنی کلاسیں پڑھاتی تھیں ، ہمیں ان کی تحریر پائی جاتی ہے ، ’’اگر آپ اپنی مشق میں خود کی ترقی سے زیادہ پیسہ مانگ رہے ہیں تو ، بالکل خالص اور ایماندار ہونے کی بجائے اور صرف اور شائستہ اور پیار کرنے والے ، پھر آپ روح کی بجائے خوشی کے لئے عقل سے پوچھ رہے ہیں ، اور آپ کے مریض بھی ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں۔‘‘ وہ پہلے آپ کو فائدہ پہنچائیں گے اور پھر آپ ان سے آگے اور روح کے قریب نہیں ہوں گے تاکہ انہیں آگے لے جاسکیں۔ آپ کی پیروی کرکے احساس سے دور ہوں۔

’’ایک نہر اس کے اعزاز سے زیادہ نہیں اٹھتی ہے۔ اگر آپ صحتیابی کا مظاہرہ کر رہے ہو تو آپ بیکار یا خودغرض ، لالچ یا دھوکہ دہی یا ناجائز ہیں تو ، یاد رکھنا کہ آپ اپنے مریض کی طرح ہی غلطی پر فائز ہیں ، اور فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ایک ہے احساس میں درد کی غلطی ، اور آپ کے احساس یا مادے میں خوشی کی ایک غلطی ہے۔ ‘‘

ایک بار مسز ایڈی نے اعلان کیا ، ’’ہم صرف اپنی ذات سے ہی شفا حاصل کرتے ہیں۔ یسوع کے کمال نے کثیر لوگوں کو شفا بخشی۔‘‘

جانوروں کی مقناطیسیت انسانوں پر آسانی سے یقین اور انسانی عدم استحکام ، خوشگوار احساس اور تکلیف دہ انسانوں کے اعتقاد کو دو حصوں میں بانٹ کر انسانوں پر اپنی گرفت برقرار رکھتی ہے۔ اس کی تشخیص کوٹر پن سے کی جاسکتی ہے ، جو ایک منقسم رسا ہے ، اور گری دار میوے کو گرنے سے روکنے کے لئے بولٹ کے اختتام پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کے دو سرے ہیں جو اس جگہ پر مضبوطی کے لئے پیچھے مڑے ہوئے ہیں۔ اس کو کھینچنے سے پہلے ان سروں کو سیدھا کرنا ضروری ہے۔

جب ہم خدا کی طاقت کو محض انسانی تضاد اور تکلیف کے خاتمے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، جبکہ ہم ابھی بھی انسانی خوشنودی اور ہم آہنگی کے اعتقاد پر قائم ہیں ، ہم فانی عقیدے کے کوٹر پن کے ایک طرف کام کر رہے ہیں ، اور ہم اپنا راستہ نہیں پاسکتے ہیں۔ یہ اس طرح کی ایک نصف کوشش ہے. حواس باختہ کے دونوں رخ ایک جیسے ہونے کی وجہ سے بے نقاب ہونگے۔ اس احساس پر قابو پانے کے لئے معاملے میں ہونے والی سنسنی کا پتہ لگانا ضروری ہے ، چاہے دلیل یہ کہے کہ یہ متفق ہے یا متفق نہیں ہے۔ تو غلطی سے فرار ممکن ہے۔

یسعیاہ نے باب 65 میں لکھا ہے کہ بھیڑیا بھیڑ کے ساتھ کھلائے گا ، اور شیر بَیل کی طرح بھوسے کھائے گا۔ اگر بھیڑیا اور شیر بد نظمی ، بیماری اور تکلیف ، اور بھیڑ اور بیل ، انسانی ہم آہنگی اور خوشی کی نمائندگی کرتے ہیں تو ، ہمارے پاس ایک پیش گوئی ہے کہ اموات کے یہ دونوں اطراف اکٹھے کیے جائیں گے ، اور اسی ذریعہ یا عقیدے کے ذریعہ اسے برقرار رکھا جائے گا۔ یہ فہم روحانی آزادی کا دروازہ کھولے گا ، کیوں کہ یہ ہمیں جہنم کو ایک خوشگوار مقام بنانے کے لئے خدا کی طاقت کو استعمال کرنے کی کوشش کی غلطی سے نکالے گا ، تاکہ تمام مادی عقل و احساس سے بالاتر ہوسکے ، تاکہ ہم تلاش کرسکیں۔ حقیقت اور ہم آہنگی یہاں اور اب مکمل طور پر روحانی بنیاد پر - خدا کی عکاسی کرنے کی۔




209۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے مسائل سے رجوع کرتے ہیں گویا آپ کو ان کے حل کے لئے اپنی سمجھ بوجھ کا استعمال کرنا پڑا ہے ، جب کسی سائنسی رویہ کے ساتھ کسی مسئلے سے رجوع کرنا ہے تو یہ جان لیں کہ آپ کے پاس کوئی نہیں ہے۔ خدائی ذہن ہر مسئلے کا حل اسی بنیاد پر رکھتا ہے کہ خدا کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اس طرح آپ کرسچن سائنس میں کسی مسئلے کو حل نہیں کرتے ہیں۔ آپ اس عقل کی عکاسی کرتے ہیں جس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے ، اور آپ کے بظاہر مسئلہ پر اس کی عکاسی کا اثر اس سے ملنا ہے ، جو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد انسانی احساس خوشی مناتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ حقیقت میں یہ عقیدہ کہ آپ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

طالب علم جو یہ ماننے کے لئے گھومتا ہے کہ اسے پریشانی ہے ، اور ان کو حل کرنے کے لئے الٰہی عقل سے مدد لینا ، اسے معلوم ہوگا کہ یہ رویہ رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ انسانی نقطہ نظر سے ، ہر چیز ایک مسئلہ ہے۔ خدائی نقطہ نظر سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔




210۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی روحانی عمارت میں کچھ بنیادی سنگ بنیادوں کو نیچے کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں ، صرف اس وجہ سے کہ وہ انسان دکھائے جاتے ہیں۔ دراصل ان کا اطلاق روحانی طور پر کرنا ہے ، اور انہیں ان کے صحیح زمرے اور افہام و تفہیم پر بحال کرنا ہوگا۔ اس نقطہ نظر کا مقصد وراثت ، موت ، غلامی ، خوف ، خواہش ، محبت ، توقع ، اطاعت ، اور اس طرح کی شرائط کا احاطہ کرنا ہے۔

مثال کے طور پر ، وراثت کا قانون مٹانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے ، کیونکہ یہ وہ قانون ہے جس کے ذریعہ خدا کی تمام خوبیوں کو اپنے بچوں کے لئے میسر کیا جاتا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اس قانون کو انسانی والدین کے عقیدے پر جھوٹے طور پر نافذ کرنے سے روکیں۔

ہم انسان پر لاگو ہوتے ہی موت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ہم غلطی کی موت کے لئے کام کرتے ہیں ، کیوں کہ اس کا انجام خدا کے قانون سے ہوتا ہے۔

پابندی کو پھینک دینا ہے کیونکہ اس کا تعلق انسانی عقل سے ہے۔ لیکن جب خدائی عقل سے وابستہ ہوتا ہے تو یہ ایک نئی اہمیت لیتا ہے ، جو اس میں مجسم ہے جس میں پولس ’’گود لینے‘‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ سائنس میں ہماری غلامی ہماری پہچان ہے کہ ہم خدا کی عکاسی کرنے اور خدا کی اطاعت کرنے کے لئے آزاد ہیں ، اور کسی بھی دوسری طاقت یا عقل میں کسی جھوٹے عقیدے سے آزاد ہیں۔

غلطی کے سلسلے میں خوف پر قابو پایا جانا ہے کیونکہ یہ خوبصورتی کی بنیادی بنیاد ہے۔ لیکن خداوند کا خوف ہے جو ہمارے موجودہ ترقی کے مرحلے میں مددگار ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا کہ ’’خدا کو ناراض کرنے کا خوف ایک اچھا خیال ہے۔‘‘ خوف کے جیسے جیسے عقیدہ اس کی تعریف کرتا ہے ، جیسا کہ احساس کی گواہی سے منسلک ذہنی مشورہ ہونے کے ناطے ، اس پر قابو پالیا جانا چاہئے۔ لیکن فی الحال ہمیں اس کے متناسب اثر کی ضرورت ہے کیونکہ یہ خدا کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی کا پتہ دیتا ہے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ رب کا خوف حکمت کا آغاز ہے۔ ہمیں سستی پر قابو پانے میں ہماری مدد کرنے کے لئے رب کا خوف چاہئے۔ کسی دوسرے نقطہ نظر سے خوف کو سنبھالا جانا ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار لکھا ، ’’خدا سب کچھ ہے ، آپ کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس سے بھی آپ خوفزدہ ہو سکتے ہیں وہ غیر حقیقی ہے ، اور یہ خوف بیکار اور بیکار ہے۔‘‘

محبت یا خواہش حقیقت میں خدا کی چیزوں کے لئے ترس رہی ہے۔ یہ ایک آسمانی گھریلو خوبی ہے۔ انسان کی بنیادی خواہش خدا کے لئے ہے۔ لہذا یہ اس کی نجات کی بہت امید کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن جانوروں کی مقناطیسیت اس کا شکار ہوجاتی ہے اور مادہ اور شخصیت کے لحاظ سے اس کی ترجمانی کرتی ہے ، تجویز کرتی ہے کہ ایک لامحدود ، خالص خواہش اور محبت اس کے ذریعہ مطمئن اور مطمئن کی جاسکتی ہے جو محدود اور نجس ہے۔ محبت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو جھٹکایا جائے یا برباد کیا جائے۔ یہ ایسی چیز ہے جو تجویز کے ہیرا پھیری سے آزاد ہونی چاہئے۔ انسان کی نجات کی امید محبت میں ہے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ اس سے مطمئن نہیں ہوسکتا جو محدود ہے۔ بائبل میں کہا گیا ہے ، ’’جیسے ہارٹ آبی جھنڈوں کے پیچھے گھس جاتا ہے ، اسی طرح اے خدا ، میری جان تیرے پیچھے گھس جاتی ہے۔‘‘ یہ انسان کی آسمانی گھریلو پن کو ظاہر کرتا ہے۔

آقا نے مریم مگدلینی میں محبت یا خواہش کو ختم نہیں کیا۔ اس نے میسمرزم کو سنبھالا تاکہ اس نے دیکھا کہ اس کی خواہش ، جو مادی معلوم ہوتی ہے ، واقعی روح کی چیزوں کی تھی۔ جب اس نے روحانی طور پر اپنی خواہش کا مقصد حاصل کرلیا ، تو اسے فورا. ہی اس یقین سے شفا مل گئی کہ اس کی خواہش کسی بھی انسان کی ہے۔ جب کوئی یہ سیکھتا ہے کہ اس کی محبت کی واحد قابلیت خدا اور اس کی خلقت پر محیط ہے ، تو وہ پورے دل سے اس کی تلاش کرے گا اور کسی بھی انسان کی خواہش سے شفا بخش ہو گا۔

توقع کرسچن سائنس میں ایک بہت ہی اہم معیار ہے جس میں فانی عقائد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ توقع ہی کھلا دروازہ ہے جس کے ذریعے انسان میں سارے اچھ ؛ے راستے داخل ہوتے ہیں۔ لیکن توقع کی انسانیت ، تاکہ یہ وہ ایجنسی بن جائے جس کے ذریعے جانوروں کی مقناطیسیت اپنی برائیوں کو جنم دے ، اسے ختم کرنا چاہئے ، تاکہ متوقع گوڈیوین میڈیم کی طرح اکیلے ہی چمک سکے۔

ایک بیمار شخص توقع کے بغیر صحت کے لئے خدا سے دعا مانگنے کے قابل ہے ، اور پھر حیرت کرتا ہے کہ اس کی دعا کا جواب کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ پھر بھی خدا انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں پہلے ہی ڈال رہا ہے ، اور اس سے کہیں زیادہ وہ کبھی بھی سمجھ نہیں سکتا ہے۔ بیمار آدمی کی توقع یہ ہے کہ اس کی دعا سے کچھ نہیں نکلے گا ، روحانی ذرائع سے اس کی تبدیلی کی امید سے زیادہ ہے۔ لہذا توقع کو غلط عقائد کی گرفت سے لیا جانا چاہئے ، اور خدا کے عطا کردہ معیار کے طور پر اس کا احترام کرنا چاہئے۔ تب انسان پائے گا کہ وہ روزانہ کی توقع کرے گا اور زیادہ سے زیادہ نیکی کی موجودگی کی عکاسی کرے گا۔

اطاعت کو اثر سے لیا جانا چاہئے اور اس کا سبب بننا چاہئے ، تاکہ مسز ایڈی کا یہی مقصد بن جائے جب انہوں نے کہا ، ’’اطاعت عکاسی ہے۔‘‘ سائنس اور صحت کے صفحہ 182 پر ہم پڑھتے ہیں کہ خدا کے تقاضے صرف سوچنے کی اپیل کرتے ہیں۔ چنانچہ سائنس کے خیال کے علاوہ عمل سے وابستہ اطاعت کا احساس دراصل مؤثر ہے ، کیوں کہ اس خیال کو فروغ دیتا ہے کہ محض اثر کی اصلاح - وجہ کے علاوہ - روحانی اہمیت رکھتی ہے۔ لفظی فرمانبرداری جو آنکھیں بند کر کے رہتی ہے وہ خدا کو اپنا فرض پورا کرنے کے احساس سے خاموش اور خیال کو مطمئن کرنے کے لئے موزوں ہے ، جب کہ نہیں ہے۔

سچی اطاعت خدا کے تقاضوں کو حاصل کر رہی ہے۔ چونکہ یہ صرف سوچنے کی اپیل کرتے ہیں ، اس کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام حقیقی اطاعت ذہنی دائرے میں پوری ہوتی ہے۔ پھر عمل کی اصلاح اس باطنی اصلاح کے نتیجے کے طور پر چلتی ہے ، اور انسان اونچائی پر جاتا ہے۔




211۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ اس مشترکہ عقیدے کو قبول کرتے ہوئے کہ فانی ذہن طاقت کے بنیادی دعوے کے طور پر موجود ہے ، آپ کو دنیا میں ایک طاقت کے طور پر تسلیم کرنے کی بنیاد پر ، اس سے خود کو آزاد کرنے کے لئے مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فانی عقل کے لئے بچاؤ کا مطلب ہے اس عقیدے کو حاصل کرنا کہ جھوٹا ذہن موجود ہے اور انسانوں پر حکمرانی کرتا ہے۔ اپنے وجود پر یقین رکھنا کسی کو اپنے دعوؤں کی زد میں رکھتا ہے ، اور آزادی اسی وقت آتی ہے جب کوئی اس یقین کو ختم کردیتا ہے کہ اس طرح کے دعوے کے اندر یا باہر موجود ہے۔

خدا کے سوا کسی ذہن میں اعتقاد سے آزادی اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ کو یہ احساس ہوجائے کہ تجویز کے علاوہ اس کا آپ پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ لیکن آپ کو اپنی کوششوں کو جاری رکھنا چاہئے جب تک کہ آپ اسے تمام بنی نوع انسان کے لئے جھوٹ کے بارے میں سچائی کے طور پر نہ دیکھیں۔ تب آپ یہ ثابت کرنے کے لئے مظاہرے کرنے کے لئے تیار ہیں کہ یہ عقیدہ بالکل بھی موجود نہیں ہے ، کیوں کہ خدا سب کچھ ہے۔

یہ تصور کہ آپ مظاہر کو فانی عقل کی تجاویز سے آزاد بناتے ہیں ، اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ دوسرے اس کے غلام ہیں ، یہ ایک ایسی غلطی ہے جسے جانوروں کی مقناطیسیت نے پروان چڑھایا ہے۔ جانوروں کے مقناطیسیت کے وجود پر یقین کرنا اور یہ تسلیم کرنا کہ دوسرے لوگ اس کے ذریعہ سنبھل رہے ہیں ، یہ آپ کے ماتھے پر جانور کا نشان ہے جس پر آپ کو قابو پانا ہوگا۔

جانوروں کی مقناطیسیت کو کچھ نہیں بنانے کا مطلب یہ سمجھنا ہے کہ اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ کہ یہ کبھی نہیں ہے؛ کہ کوئی بھی اس کے ذریعہ نہیں سنبھالا ، کبھی رہا ہے یا کبھی ہوگا ، کیونکہ خدا ہی واحد ذہن ہے۔ لہذا اس کے سارے بچوں پر مکمل کنٹرول ہے۔




212۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ انسانی پریشانی کی اوپری تہہ کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بغیر یہ تسلیم کیے کہ ایک زیریں پرت ہے جسے آخر کار بھی ختم کرنا ہوگا۔ اوپری تہہ گناہ ، بیماری اور موت ہے ، جو نیچے کی تہہ پر ، یا مادیت پر یقین ہے۔ کرسچن سائنس میں ہمارے ابتدائی مظاہرے ہم آہنگی سے مادیت حاصل کرنے کے لئے ، اوپر کی پرت کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں ، اور یہ جائز ہے اگر ہم خدا کی طاقت کو ثابت کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں ، اور اپنے مذہب کو دنیا کے سامنے اس طرح مرتب کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کریں گے۔ اس کی طرف راغب کیا جائے۔

عقلمند طالب علم ، تاہم ، جانتا ہے کہ جانوروں کی مقناطیسیت مادیت کے اعتقاد کے ذریعہ کام کرتی ہے۔ لہذا ، اس سے جداگانہ طور پر اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرنا سائنسی نہیں ہے کہ انسانوں کے لئے دائمی طور پر ہم آہنگ آدم خواب کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے ، سوائے اس کے کہ کرسچن کے مظاہرے میں موجود ہم آہنگی کے امکانات کو ثابت کرنے کے لئے یہ کیا گیا ہے۔ سائنس یہ کہنے کا ایک اور ہی طریقہ ہے کہ ہمیں سائنس اور صحت کے صفحہ 115 پر بیان کردہ سیکنڈ ڈگری میں دیر نہیں کرنا چاہئے بلکہ تیسری ڈگری پر جلدی کرنا ہے۔ اگر آپ خزانے کے لئے کھدائی کررہے تھے اور اس قیمتی قیمت پر پہنچ گئے ، اگر آپ جانتے تھے کہ اصلی خزانہ نیچے ہے تو آپ کھودنا محض اس لئے نہیں روکیں گے کہ آپ کو ایک چھوٹا خزانہ مل گیا ہے۔ دوسری ڈگری ، یا انسانی ہم آہنگی ، ایک خزانہ ہے ، لیکن یہ صرف ایک ایسا خزانہ ہے جو حقیقی خزانے کی طرف اشارہ کرتا ہے ، جو تیسری ڈگری میں پایا جاتا ہے ، یعنی روحانی ہم آہنگی۔




213۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے ہی صحن میں درختوں پر کیڑے مکوڑوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے لئے یہی سب کچھ درکار ہے۔ ایسے حالات میں آپ کے پڑوسیوں کے درختوں سے کیڑے آپ کے درختوں تک پہنچیں گے اور آپ کے اچھے کام کو ناکام بنائیں گے۔

اگر آپ صرف بیماری کے سلسلے میں ذہنی علت کی پہچان کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، اور اس پہچان کو فانی وجود کے ہر مرحلے تک زیادہ سے زیادہ تیزی سے پھیلانے کی کوشش نہیں کرتے ہیں تو ، حیرت نہ کریں اگر مادی علت کے اعتقاد کا اظہار اس کے منٹوں میں ہوتا ہے۔ جہاں تک بیماری کا تعلق ہے ، عقلی وجود ، آپ کی ذہنی وجہ کو پہچاننے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ جب تک کہ کوئی شخص اپنی بقایا سوچ کو درست کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہے - عام طور پر زندگی کے حوالے سے اس کی روزمرہ کی سوچ - جب کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوجائے گی تو وہ سائنسی بنیادوں پر اپنی شعوری سوچ کو برقرار رکھنے میں خود کو نااہل پائے گا۔

کسی کو اپنی فاضل سوچ کو درست کرنے کی کوشش میں مستقل رہنا چاہئے۔ اسے خود کو زیادہ سے زیادہ ذہنی علت کے معاملے میں سوچنے کی تربیت دینی ہوگی۔ کوئی بھی صحیح سوچ میں ماہر نہیں رہ سکتا ، اور کامیاب رہ سکتا ہے۔ اس کے جسم کو ٹھیک رکھنے کے لئے ذہنی علت کا ادراک برقرار رکھنے کی ان کی کاوشوں کو آہستہ آہستہ مادی علت کے عام عقائد کے ذریعہ غیر جانبدار کردیا جائے گا ، جب تک کہ وہ اپنے مظاہروں کو وسیع نہ کرے۔

ایک عام طور پر ایک بیماری کے ساتھ شروع ہوتا ہے تاکہ ذہنی عوامل کا احساس قائم ہو۔ لیکن اسے اس موقع پر باز نہیں آنا چاہئے۔ کوئی شخص اپنے فانوس تجربات کا پچپن فیصد جسمانی عدم استحکام سے منسوب نہیں کرسکتا ، جیسے بھوک ، پیاسا ، نیند ، تھکا ہوا ، گرم ، ٹھنڈا ، بوڑھا ہونا ، اور اسی کے ساتھ ذہنی عدم استحکام کے احساس کو کامیابی کے ساتھ برقرار رکھ سکتا ہے۔ پانچ فیصد تجربہ ، یعنی بیماری اور تکلیف۔

کوئی شخص عادت اور احتجاج کے بغیر اس مشورے کو قبول نہیں کرسکتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے کیونکہ اس نے بہت محنت کی ہے۔ کہ وہ سرد ہے کیونکہ موسم سرد ہے۔ یہ کہ وہ مادی خوراک وغیرہ کی کمی کی وجہ سے بھوکا ہے ، اور پھر جب وہ بیمار ہوتا ہے تو اس یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہو کہ وہ کسی مادی وجہ سے بیمار نہیں ہے ، بلکہ صرف غلط سوچ کی وجہ سے ہے اور اس طرح غلطی کو پورا کرتا ہے۔ عقل کی طاقت کے ذریعے عقیدہ کو ختم کرنا۔

جب کوئی خرگوش زمین میں اس کے گھونسلے میں ہوتا ہے ، تو اسے گولی مارنے سے پہلے اسے باہر سے نکالنا چاہئے۔ بیماری جسمانی وجہ کے تمباکو نوشی میں چھپ جاتی ہے۔ سائنسی شفا یابی کا نتیجہ صرف ذہنی علت کی پہچان سے ہوسکتا ہے۔ لہذا ، پیش قدمی کرنے والے طالب علم کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کے تمام تجربات کا احاطہ کرنے کے لئے اس کی ذہنی وجہ کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی اضافی سوچ کو سنبھالے۔ پھر جب بیماری کا دعوی خود پیش کرے گا تو ، اس کو تمباکو نوشی کرنا ایک آسان سی بات ہوگی ، تاکہ اسے ذہنی طور پر سنبھالا جاسکے۔




214۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ جو طالب علم محض تفریح کے لئے سفر میں مصروف ہے ، وہ اپنے مظاہرے سے اتنا بے وفادار ہوسکتا ہے جیسے کوئی احتجاج کرے۔ سگریٹ نوشی میں غلطی ظاہری فعل نہیں ہے ، بلکہ عقلی منفی جذبات سے لطف اٹھانا ہے ، جو کرچن سائنس کے ذریعہ پروان چڑھنے والی ذہنی چوکسی اور سرگرمی کا براہ راست مخالف ہے۔ جو خوشی کے سفر کے لئے بے حد مشغول رہتا ہے وہ خدا ، اپنے قائد اور انسانیت سے اپنے فرائض کو نظرانداز کرتا ہے ، اور آدم خواب کے مراحل کے درمیان فرق کرتا ہے ، جو اس کی پوری حقیقت کو محسوس کرنے کی کوئی مستند اساس نہیں ہے۔

طلباء کو سفر کرنے سے منع کرنے کے لئے یہ دیکھنے کا مقام نہیں ہے۔ لیکن یہ مستقل مزاجی اور چوکنا رہنے کا مطالبہ ہے۔ مسز ایڈی مستقل مزاج تھیں جب انہوں نے اپنی جائے پیدائش کیلون ہل کی طرف نشاندہی کی۔ اس نے کہا ، ’’بو کی پہاڑیوں پر یہیں ہیں جہاں وہ کہتے ہیں کہ میں پیدا ہوا ہوں ، لیکن میں نہیں تھا۔ میں عقل میں پیدا ہوا تھا۔‘‘ایک بار پھر ، جب اس نے ایک طالب علم کو کرسمس کے لئے خوبصورت نظموں کی کتاب بھیجی تو اس نے لکھا ، ’’میں آپ کو خوابوں کی ایک کتاب بھیجتا ہوں ، لیکن وہ بہت پیارے ہیں ، ان میں سے کچھ ، کہ میں ان کو سنتا ہوں جیسے ہم پھولوں کی خوشبو میں لیتے ہیں وہ مادے کے خواب ہیں۔ ‘‘

ایک بار ، جب ایک طالب علم سفر کرنے ہی والا تھا ، مسز ایڈی نے لکھا ، ’’یاد رکھنا ، جب تک کہ آپ ذہنی طور پر سفر نہیں کرتے ہیں ، اگر آپ روحانی طور پر نئی سرزمینوں کو عبور نہیں کرتے ہیں ، اگر آپ استعاری پانیوں کو عبور نہیں کرتے ہیں ، یعنی ساحل تک نہیں پہنچتے ہیں۔ اب تک روح میں بلا دیکھے ، آپ نے اپنا وقت ، پیسہ اور کوشش ضائع کردی ہے اور آپ کو اس سے کچھ نہیں ملے گا۔ سائنس سے زیادہ کم نہ کریں ، خدا آپ کو اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر گامزن کردے ، جہاں کوئی برائی نہیں ، کوئی حادثہ ، کوئی رغبت ، کوئی جھوٹ نہیں ، دعویٰ ہے کہ کسی دنیا کو خدائی محبت کی روشنی سے کہیں زیادہ خوبصورت خوبصورت بنا ہوا ہے ، کیونکہ سیدھا دروازہ ہے اور اس کا راستہ تنگ ہے۔ ‘‘

_________________

215۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہمارے قائد کے بارے میں کہانیاں قبول کرتے اور مانتے ہیں کہ اس نے اس کے طلباء کو جانوروں کی مقناطیسیت پر بے حد خوفزدہ کردیا اور کبھی کبھی خود اس پر خوفزدہ ہوجاتا تھا۔ کیا یہ کہانیاں خدا کے دشمنوں کی جعلی سازشیں ہیں ، یا اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مسز ایڈی کاز کی فکر اور پریشانیوں کے ساتھ خود اس کے ساتھ رہتی تھیں کہ وہ بے مقصد باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں؟

مسز ایڈی کو خدا نے مجبور کیا کہ وہ برائیوں کی لپیٹ میں آجائیں ، اور جس طرح اس کے سامنے آ گئیں اس کی اطلاع دیں۔ وہ وفادار ہونا چاہئے؛ بالکل اسی طرح جب بائبل کو اس حقیقت کو ریکارڈ کرنا تھا کہ ، جب حقیقت نے کین کے ذہن کی گہرائیوں کی تلاش کی - سطح پر جو ایک پرامن ، بے ضرر کسان دکھائی دیتا تھا ، تو اس نے قتل کو اپنی بنیاد کے طور پر دریافت کیا! مسز ایڈی کو بھی اتنا ہی وفادار ہونا پڑا جتنا کہ ماسٹر تھا ، جب اس نے شیطان کو قاتل کہا تھا ، اور اس نے سو ر کے ریوڑ کو ختم کرنے کی اجازت دے کر فانی عقل کی خود تباہ کن فطرت کو بے نقاب کیا تھا۔

ہمارے قائد کے سامنے اس بات کا انکشاف ہوا کہ جانوروں کی مقناطیسیت روحانی نشوونما کا ایک بڑا رکاوٹ ہے۔ سرخ رنگ کا ڈریگن کھڑا ہے جو چھوٹے بچے کو کھا جاتا ہے۔ اس کا پہلا تجربہ افراد کے توسط سے اس کے آپریشن کا مشاہدہ کرنا تھا ، جب ایسا لگتا تھا کہ وہ ان کو شرارت کا مجسمہ بن کر کام کرتا ہے۔ اس کی تصویر کشی کی ایک قابل مثال مثال سائنس اور صحت کے تیسرے ایڈیشن میں ، ’’ڈیمینولوجی‘‘ کے نام سے ایک باب میں مل سکتی ہے۔ وقت کبھی بھی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ یہ گرافک تصویر مبالغہ آرائی ہے!

مسز ایڈی کی برائی کی غیر فطری نوعیت کی گہری بصیرت ، کسی بھی طرح سے ذہنی مداخلت کے دعوے کے طور پر افراد کے ذریعہ جانوروں کی مقناطیسیت کی وحشت کی اپنی ابتدائی تعلیم کو کم نہیں کی اور نہ ہی الٹا۔ لیکن وہ اس کے مزید وسائل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی ، جہاں کرسچن سائنس کا چھوٹا سا پتھر ، یا دانہ ، اس گولیت یا اچھ .ی کے دشمن کو زیادہ مؤثر طریقے سے ختم کرسکتا ہے۔

ایک جس نے یہ اعلان کیا کہ مسز ایڈی ابتدائی دنوں میں برائی کی مبالغہ آمیز تصاویر پینٹ کرتی ہیں ، یا اس کے سامنے آنے کا انکشاف من گھڑت تھا ، اس طرح کرسچن سائنس کی عمارت میں موجود کچھ انتہائی اہم پتھروں کو خارج کردیں گے۔ بہت سارے طلبا آج اگر تیزی سے ترقی کریں گے ، اگر ان کے ساتھ مسز ایڈی ہوتی تو ، برائی کی گرافک تصاویر پینٹ کرکے انہیں مزید جاگتے رہیں جو انہوں نے ابتدائی دنوں میں طالب علموں کے لئے پینٹ کی تھیں۔

شاید اس کی کاوشوں کو ’’خدا کا خوف‘‘ کہا جاسکتا ہے ، کیونکہ اس کے برائی کے انکشافات کا اثر طلباء کو بھلائی کے زیادہ فعال اور طاقتور مظاہرے کی طرف راغب کرنا تھا۔ اگر کوئی باپ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ رات کے وقت گھر جلدی کرے ، تو اسے یہ اعلان کرنے میں جواز پیش کیا جاسکتا ہے کہ کسی خطرے سے بچے کی ایڑیوں کا لالچ پڑ گیا ہے۔ اس کا مقصد اس کو جائز بنا دیتا جو وہ جائز کرتا۔

سوچئے کہ مسز ایڈی کو اس کی چھپی ہوئی کارروائیوں کی تحقیقات کے لئے ، غلطی اور گناہ کے انسانی بڑے پیمانے پر قدم اٹھانا کیا لاگت آئے گی! وہ اپنے شعور کو گھر میں محسوس کرتی تھی۔ دھوپ میں پھول کی طرح ، اس نے اسے پروان چڑھایا۔ اسے گھر سے دور ہی محسوس ہوا ، جب گناہ کے دعوؤں کی تحقیقات کرنے اور اس کے طالب علموں کے ساتھ اس علم کو بانٹنے کے لئے جب ضرورت اس پر ڈالی گئی تھی۔ پھر بھی وہ بغیر کسی نقصان کے تجربے سے ابھری ، اور اس جھوٹ کے آپریشن کے علم کے ساتھ کہ وہ جانتی ہے کہ ساری انسانیت کو ساری عمر برکت دے گی۔

ہمیں کبھی بھی اس کے تجربہ کو آتش فشاں سے تعزیر نہیں کرنا چاہئے ، اور نہ ہی یہ ماننا چاہئے کہ جب وہ مجرم مقناطیسیت کے آپریشن کی واضح تفصیلات پیش کرتی ہیں تو وہ جنونی یا غیر حقیقی تھا۔ اس کے بجائے ہم خدا کا شکر ادا کریں کہ اس کی پٹیوں سے ہم صحتیاب ہو گئے ہیں ، اس کے مایوس تجربات کے ذریعہ ہم یہ جان سکتے ہیں کہ برائی کے دعوؤں پر کس طرح جاگتے رہیں ، اور اس طرح ان کی موت کو دھچکا لگائیں۔

مسز ایڈی ہمیں یہ یقین کرنے کی ترغیب دیتی ہیں کہ ، اگر ہم بیدار اور ہوشیار رہتے ہیں ، تو ہمیں گناہ کے مصائب کے تجربات سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ گناہ کی وحشت کو سمجھتی تھی۔ پھر بھی اس نے یہ طریقہ سکھایا جس کے ذریعہ اس سے نمٹا جاسکتا ہے ، یعنی اس کو کم کرنے سے۔




216۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ روحانی تندرستی کا عمل آپ کو سیکھنے کی چیز ہے ، جیسا کہ ایک بچہ پیانو بجانا سیکھتا ہے ، بجائے اس کے کہ آپ جس طرح ترقی کرتے ہو ، ترقی کرتے ہیں ، یعنی روحانی احساس۔ لڑکا میکانکی طور پر تکنیک سیکھ سکتا ہے ، لیکن اس کی موسیقی کا احساس صرف تجربے کے ذریعہ تیار ہوتا ہے۔

مسیح یسوع میں عقل سے حقیقی معنوں کا نتیجہ روحانی احساس کے ذریعہ جھلک رہا ہے ، بجائے اس کے کہ کسی نے کرسچن سائنس کے اعلان کردہ ہونے کے بارے میں جو کچھ سیکھا ہے اس کے اثر سے ، اور اس طرح مریض تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک بار مسز ایڈی نے ایک انٹرویو میں لیڈی وکٹوریہ مرے سے کہا ، ’’شفا یابی میں استعمال ہونے والی دلیل محض ٹیوننگ ہے۔ اگر آپ کا وایلن مل رہا ہے تو ، اس کو ملانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے وایلن کو دھن میں رکھیں۔ کوئی بیماری نہیں ہے۔ اگر میں خواب دیکھتا ہوں کہ اس کرسی کی جگہ ایک دسترخوان ہے ، یہ صرف ایک عقیدہ ہے۔ مریض اس پر یقین کرتا ہے ، اسے اس کا احساس نہیں ہوتا۔ خدا سب کچھ ہے اور خدا لامحدود ہے ، باقی سب کو روک دیتا ہے۔ اپنے وایلن کو ملحوظ رکھیں۔ ‘‘




217۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے ذہنی گھر کو جھاڑو اور سجاوٹ کی تلاش میں رہتے ہیں کیونکہ آپ مسیح کے آنے کو پورا کرنے کے بجائے اس سے ناگوار باتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ متی 12 :44 کا مطلب یہ ہے کہ یہ مظاہرہ باہر نکالنے کے لئے کیا گیا تھا۔ ناپاک روح ، کیونکہ اس شخص کے پاس روحانی عکاسی کے بجائے اپنا مقصد ، ایک صاف گھر ، یا انسانی پاکیزگی تھا۔ اگر وہ شخص مسیح کی تلاش کرتا تو شیطان واپس نہیں آسکتا تھا۔

جب آپ کسی بربادی کے گھونسلے کو صاف کرتے ہیں ، جب تک کہ آپ گھوںسلا نہیں جلا لیتے ، تبیاں واپس آجائیں گی۔ مظاہرے میں ہمیں کیڑوں اور گھوںسلا دونوں کو سنبھالنا ہوگا۔ ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ جارحانہ ذہنی تجاویز کے ذریعہ ہم پر حملہ نہیں کیا جاسکتا ، اور پھر آگے بڑھیں ، اور احساس کریں کہ ہمارے پاس ایسی تجاویز سننے یا ان کی تفریح کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس طرح کا کام نہ صرف فکر کو بلکہ سوچنے والے کو بھی درست کرتا ہے۔

ہم ان انسانی خصوصیات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ناگوار ہیں کیوں کہ ہمیں ان کو پسند نہیں ہے ، جس کا مطلب ہے کہ صاف ستھرا گھر ہمارا مقصد ہے۔ تاہم ، ایک اعلی مقصد یہ ہے کہ جو بھی دعوے کو حقیقت کے عکاس میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے دعویٰ کرے اسے خارج کردیں۔ تب کوئی بھی جھوٹے دعوے کی غلطی کا اندازہ اس کے ذریعہ نہیں کرے گا کہ آیا یہ اس کے لئے ناگوار ہے یا نہیں ، لیکن اس سے بھی کہ یہ خدا کے اس کی عکاسی کو سیاہ کرنے کا دعوی کرتا ہے۔

جب کوئی انسان کی ان خصوصیات کو ختم کرنے کے لئے کام کرتا ہے جو اس کو مجروح کرتی ہیں تو ، وہ دوسری انسانی خصوصیات پیدا کرنے کا پابند ہوتا ہے جو اسے پسند کرتا ہے ، پھر بھی ، جو سچائی کے نقطہ نظر سے ، بھی ضائع ہوتے ہیں۔ جب کسی کا اصلی مقصد عکاسی ہوتی ہے ، تو وہ ان تمام چیزوں کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے جو عکاسی کو روکتا ہے۔ ایک بار مسز ایڈی نے انسانی پیار کے بارے میں لکھا جو ہم سب کو پیارا لگتا ہے ، ’’میرا دل آپ کے ساتھ دعا مانگتا ہے ’تم میری قوم کو تسلی دو‘ ، اس سال اس کو بہت زیادہ پیار دو اور اتنا الہی محبت کہ ایک انسانی احساس محبت اوہ ، ابا اس کے گھر کو دنیا کا ایک میٹھا مقام بنائے ، اور جہاں فانی خوشی یا غم کی کوئی یاد نہیں ، وہ ہمیشہ کے امن کو بادل بنا سکتا ہے ، کیونکہ وہاں امن نہیں ہے۔ کوئی خوشی نہیں ، جان لیوا چیزوں میں خوشی نہیں۔ تاہم وہ جان سکتے ہیں کہ روح کے لئے ان کی اجازت نہیں ہے، اب میرا پیارا ، جس کا انتخاب تم کرتے ہو ، کیونکہ تم دونوں کو حاصل نہیں ہوسکتا ، میں اس کے بجائے درد کا پیالہ پیوں گا۔ یہاں تک کہ ان کی معمولی اور عمدہ شکلوں میں بھی جنسی لذتوں کے گھونسوں کو گھونپنے کے لئے کیوں؟ کیوں کہ وہ خدا کی اونچی لہر ہیں جو ہمارے لئے دائمی لطف کے ساحل سے قریب تر ہوکر رہ جاتے ہیں۔’جہاں کوئی تیر کبوتر کو زخمی نہیں کرتا ہے۔ جہاں محبت کے لئے جداگانہ نہیں ہوتے ہیں۔‘‘‘




218۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب جانوروں کی مقناطیسیت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زیادہ طاقتور اور جارحانہ ہوتا جارہا ہے ، تو آپ خدا کی لامحدود طاقت کے بارے میں اپنے شعور کو جھوٹ میں اس بظاہر اضافے کے مطابق بنانے میں نظرانداز کرتے ہیں۔ کسی کو بھی حق کی پہچان کو کسی بھی طرح یا وسعت کی غلطی کو ختم کرنے کے لئےمستحق اور مناسب سمجھنا چاہئے۔ نحمیاہ 1: 5 میں وہ خدا کو ’’خوفناک‘‘کیوں کہتے ہیں؟ اس کی کوشش تھی کہ خدا کی قدرت اور اس کے جھوٹ کو ختم کرنے کی طاقت کو پہچانیں ، چاہے اس کا دعوی کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ چونکہ جانوروں کی مقناطیسیت کے دعووں نے ان کی اپنی تباہی کو بڑھایا ، وہ یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ خدا کی قدرت کے بارے میں اس کا احساس متناسب بڑھ رہا ہے۔




219۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ نہم کے مطابق 1: 6 آپ دن رات دعا کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ طلباء رات میں بدگمانی اور خوف کے وقت بہتر نماز پڑھتے ہیں۔ پھر جب انسانی ہم آہنگی کی دھوپ ان پر پڑتی ہے تو وہ سو جاتے ہیں۔ دوسروں کو لگتا ہے کہ ہم آہنگی کی سورج کی روشنی میں اپنے اچھےکام کو جاری رکھیں گے ، اور جب اختلافات اور تاریکی کا طوفان آجائے گا تو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ ہمیں دن رات کی دعائیں بنانی چاہ ،ں ، اور اس کے عزم اور اہلیت کے ساتھ کہ وہ ایماندارانہ طور پر کام کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ، چاہے انسانی تصویر تاریک ہو یا ہلکی ، عارضے سے بھری ہوئی ہو یا ہم آہنگی کے ساتھ مسکراتی ہو۔




220۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ کسی اور مقصد کے لئے غلطی کو بے نقاب کرتے ہیں اس کے علاوہ آپ اس پر یقین کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر اس کو زیادہ طلباء نے یاد رکھا تو ، غلطی کی بے نقاب کم نام نہاد ہوگی۔ کبھی بھی یہ نہ بھولیں کہ جب کسی سائنسی مقاصد کے ساتھ غلطی کا انکشاف ہوتا ہے تو ، یہ اس کو مزید حقیقت میں لانے کے لئے کام کرتا ہے۔ دوسرے طلبہ میں غلطیوں کی نشاندہی کرنا غلطی کو بے نقاب نہیں کررہا ہے۔ یہ واقعی اپنے آپ کو بے نقاب کررہا ہے ، کیوں کہ یہ اس درجے کی نشاندہی کرتا ہے جس پر آپ غلطی پر یقین کر رہے ہیں۔




221۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ سنتری میں کشی کے مقام کی واضح چھوٹی پن یا تضاد ، آپ کو یہ بھول جانے کا سبب بنتا ہے ، اگر اسے جلد ہی پھینک دیا نہیں گیا تو ، یہ مکمل طور پر بوسیدہ ہو جائے گا۔ اس نقطہ نظر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ بیماری اس حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے جو بتدریج بگڑ جانے اور کسی بشر کی آخری موت کی نشاندہی کرتی ہے۔ پھر بھی بیماری کی دلیل ایک نشانی پوسٹ ہونا چاہئے جس سے انسان کے جھوٹے احساس سے چمٹے رہنے کے خطرے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

کرسچن سائنس کو دوائیوں کے جوڑے کی طرح سوچا جانا چاہئے ، بجائے یہ کہ دوا کے سینے کی طرح۔ تب وہ معالج سمجھا جائے گا ، جیسے کسی تھیلے والے ڈاکٹر کی طرح ، جس میں مادے کی بجائے عقل کی دوائی ہوتی ہے ، لیکن جو شخص کسی ڈراؤنے خواب سے نیند کو بیدار کرنے کے لئے جاتا ہے ، اس احساس سے کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے اسے ٹھیک ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر اس کی فکر خدا کو بلند کرنے اور انسان کا صحیح معنوں میں حاصل کرنے کے لئے آزاد ہے۔




222۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ معاشرے کے بجائے خدا کے ساتھ سنجیدہ سلوک کرتے ہیں۔ ایسے افراد جن کے پاس ڈاکٹر ہے جو ذاتی دوست ہے ، وہ معاشرتی لحاظ سے اس کا احترام کرنے کے لئے موزوں ہیں ، جب تک کہ وہ جسمانی طور پر کسی پریشانی میں نہ آجائیں۔ پھر وہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

شائد مسز ایڈی کے گھر میں ڈرامائی صورتحال میں سے کچھ جو سمجھنے میں مشکل ہیں ، جیسے اس نے جب اپنے طالب علموں کو ڈانٹ ڈپٹ کا نشانہ بنایا تھا جب انہوں نے اس کے دانے میں نمک ڈالنا ، یا زیورات میں سے کچھ زیورات بدلنا بھول نہیں کیا تھا۔ بالکل ٹھیک اسی طرح چمنی کے اوپر ، اس نے جان بوجھ کر نعرے بازی کی ، کیونکہ ایسی معمولی چیزوں کے ذریعہ وہ یہ جاننے میں کامیاب ہوگئی کہ طلباء خدا کی طرح معاشرتی سلوک کررہے ہیں ، جیسا کہ یہ ہے ، اور اس طریقے سے اس نے انہیں حوصلہ دیا کہ وہ اسے سنجیدگی سے لیں۔




223۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی کی ناگوار نوعیت ، جو اس کے بارے میں کسی کو بیدار کرنے کے لئے بڑھتی ہے ، آپ کو یقین کرنے کا سبب بنتی ہے کہ غلطی میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر کسی کی خوشبو کا احساس زیادہ حساس ہوتا جارہا ہے تو ، بدبو آرہی ہے اور بدگمانی ہوسکتی ہے ، حالانکہ یہ مزید مضبوط نہیں ہورہی تھی۔ روحانی طور پر ترقی کرتے وقت غلطی میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ تب ہی زیادہ واضح ہوتا ہے جب کسی کے خیال میں اور شدت بڑھ جاتی ہے۔ سائنس اور صحت میں ہم پڑھتے ہیں کہ عظیم سرخ اژدہا گناہوں سے سوجن ہوا ہے۔ پھر بھی یہ روحانی افہام و تفہیم کے ذریعہ دیکھا جاتا ہے ، اور اسے ہمیشہ کی طرح بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ جانوروں کی مقناطیسیت ایک جارحانہ شکل ہے جب انسانی ذہن جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ جب اسے اپنے وجود کو سچائی سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ لہذا سرخ ڈریگن ، یا جانوروں کی مقناطیسیت ، ہمیشہ انسان کے عقل سے باہر نکلتے ہی رہتا ہے۔




224۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہر سال الہی ذہن کے مظاہروں کو قبول کرتے ہیں ، بغیر کسی عکاسی کے ذریعے ، ذہن کو اپنے ذہن کے طور پر لینے کی کوشش کیے بغیر ، پوری طرح سے انسانی ذہن کو نام نہاد ٹھہراتے ہوئے۔ ایک بار ایک شخص نے بغیر کسی خریداری کے نئے گھوڑوں کے بہت سے مظاہروں کو قبول کرلیا۔ آخر کار ڈیلرز نے اسے مزید مظاہرے کرنے سے انکار کردیا ، کیونکہ انہیں پتہ چلا کہ وہ سب مفت کی سواریوں میں سے تھا۔

اگر انسان سالانہ الٰہی ذہن کی قدر اور افادیت کے مظاہروں کو قبول کرلیتا ہے ، الٰہی عقل کو مجاہد کرنے کے اصل مظاہرے کا آغاز کرکے اپنے خلوص کا مظاہرہ کیے بغیر ، کیا ایسے مظاہرے جاری رہیں گے؟ انسان میں انسانیت کی ہم آہنگی لانے میں کرسچن سائنس کا مقصد انسان کو انسانیت کے اس جہنم میں خوش کرنا نہیں ہے۔ یہ انسانی ذہن کے عمل اور دعوؤں کے برعکس ، ہر سمت میں الہی ذہن کی سربلندی کو ثابت کرنا ہے ، تاکہ انسان کسی دوسرے کو تلاش کرنے اور اسے استعمال کرنے پر راضی ہوجائے۔

سوال یہ ہے کہ ، کیا کوئی توقع کرسکتا ہے کہ وہ اس کی زندگی میں اس طرح کے ثبوت موجود رہ سکتا ہے - ضرورت کے وقت مدد کرنے کے لئے خدائی عقل کی طاقت کے ثبوت - اگر وہ ترقی کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے ، یعنی ، ذہنوں کا تبادلہ کرنے کے لئے مشقت کرنا جتنا جلدی ہو سکے

کرسچن سائنس میں مظاہرے اپنے مقصد کے لئے انسانی عقل کی کمزوری اور لاقانونیت کے برعکس ، الٰہی عقل کی قدر کی نمائش کرتے ہیں۔ اگرچہ مؤخر الذکر کی بہتر حالت ، جو کرسچن سائنس سامنے لاتی ہے ، ایک وقت کے لئے انسان کے اوپر کی طرف سفر کرنے میں کارآمد اور ضروری معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن انسانی ذہن آخر کار کسی کو دھوکہ دیتا ہے اور اپنی کمزوری کا شکار ہوجاتا ہے ، جب تک کہ اسے ترک نہ کیا جائے۔ عقل کا مظاہرہ ، جو انسانی تنازعات کو دور کرتا ہے ، اس کا مقصد کسی مریض کو منفی ہم آہنگی کی حالت میں نہیں چھوڑنا ہے ، جہاں اسے یہ خیال ہے کہ وہ جب بھی کسی بھی طرح سے تکلیف اٹھاتا ہے تو خدا سے پکارتا رہتا ہے ، اور اس طرح اس منفی احساس کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ جسم میں ہم آہنگی۔ تربیت یافتہ ہونے پر کتے کو دیئے جانے والے انعامات محض اس کو صحیح کوشش کی ترغیب دینے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ جب اس نے اپنی پوری تربیت حاصل کرلی ہے ، تو اسے انعامات کے مزید حوالہ کے بغیر اطاعت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنس میں مظاہرے کے پہلے اثرات انسان کو تفرقے سے بڑھ جانے کا انسانی انعام لاتے ہیں ، جس کا مقصد یہ ہے کہ اسے اچھےکاموں میں جاری رکھنے کی ترغیب دی جائے۔ اور نہ ہی اس طرح کے انعامات ختم ہوجاتے ہیں جب کوئی شخص پرانے کو روکنے اور نیا لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ لیکن پیش قدمی کرنے والے طالب علم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس طرح کے انعامات کا حوالہ کیے بغیر ہی آگے بڑھے ، اور دنیا کے لئے اپنا کام انجام دے ، چاہے اسے جسمانی ہم آہنگی سے نوازا جائے یا نہیں۔




225۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کرسچن سائنس کے مریضوں کے آنے کے امکان سے پریشان ہو جائیں کیونکہ وہ بیمار ہیں اور اسی وجہ سے وہ زمین سے دور نظر آرہے ہیں ، شفا پائے جارہے ہیں اور مطمئن ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کا مسئلہ حل ہوچکا ہے ، اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں حقیقت میں مزید دلچسپی نہیں ہے۔ ہمارے آقا نے دس کوڑھیوں کے ساتھ یہ تجربہ کیا ، جب صرف ایک ہی شکریہ ادا کرنے اور اس طاقت کی چھان بین کرنے کے لئے واپس آیا جس نے اس کو شفا بخشی تھی۔ اس بات کا اشارہ یہ تھا کہ صرف ایک شخص کو صرف جسمانی بحالی سے بالاتر دیکھنے کی خواہش تک اس حقیقت کی طرف راغب کیا گیا تھا۔

موت کا عقل ایک باسی کیک کی طرح ہے جیسے تازہ پالا ہوا ہے۔ بیماری ایک ایسی حالت ہے جہاں ایک فرسٹنگ کو توڑتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ کیک اچھا نہیں ہے۔ کوئی بیماری بیماری کے جسم سے ناگوار امکانات کو کوڑھ سے زیادہ پردہ نہیں کرتی ہے۔یسوع مسیح کے مظاہرے نے تمام دسوں کے لئے ٹھنڈک کو بحال کیا ، اور ان میں سے نو جسمانی بحالی پر اتنے خوش تھے ، کہ وہ جسم کے اعتقاد کی گھماؤ والی فطرت کو بھول گئے تھے جس سے وہ نکالے گئے تھے ، اور اسی وقت ایسا لگتا تھا تجربے سے کچھ نہیں سیکھنے کے لئے۔

پریکٹیشنرز کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جب ان کے پاس بھی ایسے ہی تجربات ہوں۔ پرانے گھر پر تازہ رنگ کا ایک کوٹ بہت سے لوگوں کو بے وقوف بنا سکتا ہے۔ لیکن بوسیدہ لکڑیوں کا پتہ لگانے کے لئے بصیرت کے حامل کچھ ایسے ہیں ، اور جو اس وجہ سے بہتر گھر تلاش کرتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ ایک فیصد مریض ہوں گے جو انسان کے اعتقاد کی بنیادی طور پر غلط اور ناپسندیدہ نوعیت کو پہچانیں گے ، چاہے وہ انسانیت کے عقیدے کے زیر اثر کتنا ہی مطلوبہ اور خوبصورت کیوں نہ ہو۔ وہ اس سے اعراض کریں گے ، تاکہ اعلی تفہیم اور تخلیق نو کی کوشش کی جاسکے جو کرسچن سائنس ان لوگوں کو پیش کرتی ہے جو انھیں سمجھتے ہیں ، کہ ان کی خواہش ماد ی حواس کی کمزور اور جھوٹی گواہی سے بالاتر ہے۔

دسویں کوڑھی نے دیکھا ہوگا کہ وہ ٹھیک ہونے کے بعد وہی بشر تھا ، اور اسی طرح انسان کے مادی احساس سے عدم اطمینان ہوتا رہا ، حالانکہ یہ پاک اور پاکیزہ ہوچکا تھا۔ اس نے یہ سمجھا ہوگا کہ انسانی ہم آہنگی کسی اور لباس میں محض بیماری تھی ، اور بالکل اسی طرح اس کے تاثیر میں۔

اچھے طلباء بنانے والے مریض وہی ہیں جو مادیت کی ٹھنڈک سے باہر کی تلاش کرتے ہیں ، اور دیکھتے ہیں کہ جانوروں کی مقناطیسیت انہیں اس بات پر قائل نہیں کرے گی کہ بیکار کیک مطلوبہ ہے۔ جو شخص صرف تپشیدار ، یا مسماریت کی گلیمروں کا احترام کرتا ہے ، اور اسی طرح مانتا ہے کہ کیک اچھا ہے ، وہ احمق ہے۔ مسز ایڈی نے ہمیں روح کی لازوال چیزوں کی طرف مادی معنویت کی جھوٹی گواہی سے انکار کرنے اور اس سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔ جب تک وہ اس مشورہ کو قبول کرے گا کہ مادیت کا کیک کھانے کے قابل ہے تب تک کون کرے گا؟ یہ عقلمند طالب علم ہے جو نیچے کیک کی حالت کو یاد رکھنا چاہتا ہے ، خواہ انسان ہم آہنگی کی سطح گلیمر کتنا ہی مطلوب ہو ، اور دعا کرتا ہے کہ اسے اس طرح کی غلطی سے دھوکہ نہ دیا جائے۔




226۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ زندگی میں انسان کی آمد کبھی کم ہوسکتی ہے ، یا منقطع ہوسکتی ہے۔ در حقیقت انسان خود ہی زندگی کا بہاؤ ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’میں خدا کی دائمی عطا کرنے کی لامتناہی انٹیک ہوں۔‘‘

ایک غوطہ خور کو شاید اس کا تخیل اس کا چال چل رہا ہو ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشتی کے ڈیک پر اس کے دوستوں سے ہوا کی فراہمی کم ہوتی جارہی ہے۔ اسے یقین ہوسکتا ہے کہ وہ اسے فراموش کر رہے تھے ، اور اس کی ضرورت کی ہوا کو پمپ کرنا چھوڑ رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے تخیل کی اس چال کے نتیجے میں بھی مبتلا ہوسکتا ہے۔ جب وجہ اس غلط عقیدے کو درست کرتی ہے اور بڑھتے ہوئے خوف کو ماتحت کرتی ہے تو ، وہ کسی بھی خراب جسمانی اثرات سے آزاد ہوجاتا ہے۔ تب ، یقینا ، اسے اس کا پتہ چل گیا ، جب وہ اپنے چھوٹے نجی ڈراؤنا خوابوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا ، اس کے دوست اسے تمام تازہ ہوا بھیج رہے تھے۔

ایک بار جب ایک ناجائز جو اس کے گھر میں تنہا رہ گیا تھا نے یہ مانا کہ اسے فرار ہونے والی گیس کی خوشبو آ رہی ہے۔ وہ اسے بند کرنے کے بارے میں کچھ کرنے سے بے بس تھی ، لیکن اس نے اس سے پہلے کہ وہ دھوئیں پر قابو پالیں ، مدد کے لئے ٹیلیفون کیا۔ جب مددگار پہنچے تو وہاں گیس کا کوئی رساو نہیں پایا گیا تھا ، اور وہ خاتون جلد ہی صحتیاب ہوگئیں۔ بعد میں وہ اس طرح ہنسنے میں کامیاب ہوگئی جس طرح اس کے تخیل نے اسے دھوکہ دیا تھا۔

ایک بار جب ایک بچے نے آنکھیں بند کیں اور یہ تصور کرنے کی کوشش کی کہ وہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے پیچھے کی طرف سوار تھا۔ اس نے خود کو بغیر کسی تکلیف کے یہ کام کرنے کے قابل پایا ، تاکہ جلد ہی اسے پیچھے کی طرف سوار ہونے کے تمام احساسات کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر بھی غلط سنسنی کو درست کرنے کے لئے ، اسے صرف اپنی آنکھیں کھولنا تھا۔

اسی کے عین مطابق ، سائنس نے اعلان کیا ہے کہ انسان کبھی نہیں مرتا ، کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ، زندگی اور جوش میں کبھی کمی نہیں آتی ہے۔ اس طرح ایسی چیزیں تخیل کی چالوں سے زیادہ نہیں ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’موت کے انتظار سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ ہمیں انفرادی طور پر اپنے آپ کو حواس کے دعوؤں سے بالاتر ہونا چاہئے۔‘‘




227۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ یہ جانتے ہوئے کہ سائنس اور صحت ناخنوں کا خانہ ہے اور ہمارا حصہ انھیں گھر لے جانا ہے ، ہم اپنا حصہ انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ سچائی کتنی ہی سچائی ہو ، ہمیں اسے اپنے پورے انفرادی تجربے میں چلانے کے لئے ، اسے طاقت اور قوت اور امید کے ساتھ گھر میں چلانا ہوگا۔ اس کی وجہ جسمانی ذہن کی مزاحمت ہے ، جس کا الہی ذہن کی بالادستی کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، جب تک کہ وہ مجبور نہ ہوجائے۔




228۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ بھول جاتے ہیں کہ غلطی ایک وینٹریلوکیسٹ ہے جو مادہ کو اس کے ڈمی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ اس معاملے میں ہمارے ضربوں کو نشانہ بناکر غلطی کو خاموش کرنے کی کوئی کوششیں کس قدر فضول تھیں! شاید کسی نے ڈمی پر بندوق کا نشانہ بنایا ہو ، توقع کی جا رہی ہے کہ گولی بات کو خاموش کردے گی۔ جب تک ہم معاملے سے نپٹتے ہیں ، ہماری کوششوں سے انسانیت عقل کی جھوٹی باتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔




229۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کا کام کسی غلطی کو ختم کرنے کے بجائے اس کی بے وقوفی کو سمجھنے کے لئے ہے ، اور لہذا آپ اپنے کام کو ایک ایسے شخص کی حیثیت سے سمجھتے ہیں جسے ریل کے پہاڑ کو محض ایک بیلچہ اور پہیے سے منتقل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ ہمارا کام غلطی کو کچھ نہیں بنانا ہے۔ یہ اس کی حقیقت پر یقین ڈالنا ہے جسے ہم نے قبول کیا ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے یسعیاہ 43: 2 کے سلسلے میں اس نقطہ کا اظہار یوں کیا: ’’ہمارا کام خدا کے کام کو تبدیل کرنا نہیں ہے ، کیونکہ یہ مکمل اور کامل ہے۔ نہ ہی غلطی کو کچھ کرنا ہے ، کیونکہ یہ پہلے ہی ہے۔ لیکن اس کے بیچ میں (بظاہر) کھڑے ہونا ، اس کی کوئی چیز نہیں جانتے ہوئے ، بے ساختہ۔ ‘‘




230۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس سے اپنے خوف پر قابو پانے ، اس پر یقین کرنے اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کو سیکھنے کی بجائے ، جلد سے جلد اس سے نجات پانے کے معاملے میں غلطی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایک بچہ اپنے والد سے روشنی کی روشنی کی درخواست کرے گا ، تاکہ اندھیرے کو دور کیا جاسکے۔ ایک عقلمند باپ اندھیرے کی نوعیت کو محض روشنی کی عدم موجودگی کی وضاحت کرتا ، اور بچے کو اس میں کافی دیر تک رکھے گا تاکہ اس سے اس کا خوف ختم ہوجائے۔ یہ ہمارے آسمانی باپ کا مقصد ہونا چاہئے ، جب ہمیں اپنے آپ کو اندھیرے کے دعوؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ایک ہی وقت میں ختم نہیں ہوتے ہیں ، جس کا سائنس اور صحت کے صفحہ 22 میں آواز ملتی ہے ، ’’محبت ہمیں فتنوں سے نجات دلانے میں جلد بازی نہیں کرتا ہے ، کیونکہ محبت کا مطلب ہے۔ کہ ہم پر آزمائش اور پاکیزگی ہوگی۔‘‘

ایک بار خروج 4: 4 کی وضاحت کرتے ہوئے مسز ایڈی نے کہا ، ’’کبھی کبھی میں باپ کی آواز اس طرح سنتا ہوں - میرے بچ ،ے ، خوفزدہ عقل میں کچھ بھی نہیں ہے ، یہاں تک کہ تعلیم یافتہ سوچ بھی نہیں جانتی ہے کہ یہ کیا کر رہا ہے۔ لیکن ان مختلف دعووں کو لازمی طور پر باقی رہنا چاہئے جب تک کہ آپ خوفزدہ نہ ہوں۔ وہ صرف آپ کے لئے یہ جاننے کے لئے ہیں کہ وہ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ جب یہ سیکھا جاتا ہے تو ، ان کا مشن پورا ہوجاتا ہے اور چل پڑتا ہے۔ خدا کو ان سے دور کرنے کی طاقت کا اعتراف۔ ‘‘

اس سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے آسمانی باپ کا مقصد کیا ہے ، جب ہم بعض اوقات ایسی تجاویز اور دلائل کا سامنا کرتے ہیں جو ہمیں خوفزدہ کرتے ہیں اور جو ہماری مخلصانہ اور سائنسی کوششوں کے تحت بیک وقت پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔




231۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ بھیڑ کو کھانا کھلانے میں یسوع کے مظاہرے کا مقصد بنیادی طور پر یہ ثابت کرنا تھا کہ خدا کے بیٹے کے پاس معجزاتی قوتیں ہیں۔ کیا وہ یہ ثابت نہیں کررہا تھا کہ اس کے برعکس معاملہ کی گواہی کے باوجود ، خدا کی طرف سے ساری خوراک آتی ہے ، یہ خدا کا تحفہ ہے ، اور یہ کہ جس کھیتوں اور نہروں سے یہ معلوم ہوتا ہے ، اب اس کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ، وینٹریلووکسٹ کا ڈمی اس آواز کا ذریعہ ہے جو لگتا ہے کہ اس سے آیا ہے؟

ہمارے قائد نے ان لوگوں سے بہت سارے اہم حقائق روک لئے جو ان کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ محض ان کی روحانی نشوونما کا انتظار کر رہی تھیں ، تاکہ وہ ان کے لئے ان گہری چیزوں کو ظاہر کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ ان میں کھانے سے متعلق یہ حقیقت بھی تھی۔

الہٰی سائنس میں غیر منتشر افراد کو اندھیرے میں رہنا چاہئے جب تک کہ وہ کھانے کی ذہنی ابتداء کے بارے میں نہیں ہے ، کیونکہ اگر اس کو جان لیوا خیال کیا جاتا ہے ، جو کھانے پر ممکنہ خرابی کا راستہ کھولتا ہے ، جو اس وقت عالمگیر لاعلمی سے روکا ہوا ہے۔

کوئی بھی معجزہ کبھی بھی خدا کی طرف سے ایک موقع پر کھانا نہیں بنا سکتا ، جب تک کہ حقیقت میں یہ سب کچھ نہ ہو۔ مظاہرے سے خدا کی طرف سے کھانا نہیں آتا ہے۔ اس حقیقت کو دیکھنے کے لئے انسان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ ہم کھیتوں اور نہروں سے کہہ سکتے ہیں ، ’’آپ ہوش میں ظاہر ہو سکتے ہو کہ وہ میرے کھانے کا ذریعہ ہیں ، لیکن یسوع نے مجمع کو کھانا کھلانا ہر وقت ثابت کیا کہ کھانا عقل سے آتا ہے۔‘‘




232۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ شکر گزار ہونے کے بجائے سرکشی محسوس کرتے ہیں ، جب خدا آپ کو مظاہرے میں اپنی سمجھداری کو ثابت کرنے کے لئے فون کرتا ہے۔ جب آپ کو کوئی پریشانی ہوتی ہے اور آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ ناجائز سلوک کیا جارہا ہے تو ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو مادی تکلیف کے نفع بخش مقصد کا ادراک نہیں ہوگا۔

ماہی گیروں کو جلد کی خرابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، کیونکہ ہموار سطح انہیں گرفت میں لینے کے لئے کچھ نہیں دیتی ہے۔ مادے کے اس اعتقاد کو ختم کرنا ضروری ہے ، اور انسانی ہم آہنگی اس مقصد کے ل. رکنے کے لئے کچھ بھی پیش نہیں کرتی ہے۔ ڈسکارڈ ہمیں ایک ایسے ہینڈل سے آراستہ کرتا ہے جس کا ہمیں پکڑ سکتا ہے ، جس سے اس کے اتارنے کے عمل کو زیادہ موثر بنایا جاتا ہے۔ ایک انتباہ استعارہ طبیب کبھی بھی بیماری سے نجات پانے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ وہ اسے ہینڈل کے طور پر استعمال کرتا ہے جس کے ذریعہ مادے کی حقیقت پر اپنے اعتقاد کو ختم کرتا ہے۔ پھر وہ سائنس اور صحت ، 574: 19-30 کو پورا کرتا ہے۔




233۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ جب آسمانی محبت آپ کے موتی پر آہستہ سے ٹگ لگائے گی تو وہ بے چارے ہوجائے گی۔ محبت صرف اس بات کا پتہ لگانے میں آپ کی مدد کر رہی ہے کہ آیا آپ کی ترتیب اتنی محفوظ ہے کہ طوفانوں کا سامنا کرے گا ، اور موتی ڈھیلے نہیں ہو گا اور کھو جائے گا۔ یہ دریافت کرنا کتنا ضروری ہے کہ ایسا ہونے سے پہلے ہی اس کے گمشدہ ہونے کا خطرہ ہے! اس حقیقت کو دریافت کرنے میں جو بھی آپ کو قابل بناتا ہے اس کے لئےآپ کو کتنا مشکور ہونا چاہئے ، کیوں کہ ، اگر آپ کو اس کی ترتیب میں موتی ڈھیلے لگتا ہے تو ، آپ اسے سخت کرسکتے ہیں!




234۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کو سارے دن گمراہی کی ہوا سے تحفظ کی ضرورت ہوگی ، ایسا نہ ہو کہ یہ آپ کی روحانی شعلہ اڑا دے۔ کیا ترقی اس مظاہرے کو سامنے لائے گی جو آپ کو یہ جاننے کے قابل بنائے گی کہ ہوا صرف آپ کی روحانی آگ کو زیادہ روشن کرتی ہے؟ یقیناًیہ ہمارے قائد کے معاملے میں سچ تھا۔

ہواؤں سے بچاؤ کا تعلق پہلے مرحلے سے ہونا چاہئے ، جہاں ابھی تک کسی کی روحانی آتشیں آگ نہیں بھڑکتی۔ کسی کے ترقی یافتہ مراحل میں تحفظ خود کو غلطی میں بدلنے سے حاصل ہوتا ہے ، یہ جانتے ہوئے کہ ہر ایک کی برائی انسان کی روحانی آگ کو اڑانے کی کوشش کرتی ہے ، صرف اس کی وجہ سے اور زیادہ جلتی ہے۔

جب گلبرٹ کارپینٹر مسز ایڈی کے گھر تھا تو اس نے اسے تحفظ کا یہ اصول سکھایا۔ اس نے اسے ہدایت دی کہ ہر دعویٰ کو نبھائیں کہ وہ اس کے لئے بہتر اور مضبوط ہے ، کہ اسے نقصان پہنچانے میں ہر غلطی کی کوشش نے اسے بہتر بنایا اور اسے اونچا کردیا۔

آئیے فرض کریں کہ وبائی بیماری کا دعوے بہت زیادہ تھا۔ آپ اسے کیسے سنبھالیں گے؟ کیا آپ کو یہ احساس نہیں ہوسکتا ہے کہ غلطی نے کبھی بھی کوئی چیز پیدا نہیں کی اور نہ کبھی کرسکتی ہے۔ لہذا ، صرف وبا ہی خدا کے گھیرنے والے پیار کی موجودگی ہونی چاہئے ، جو انسانیت کا احساس بگاڑ رہی ہے ، اور اس لئے ہم محبت کی موجودگی کے لئے مضبوط اور بہتر ہیں ، اور ہر طرح کے نقصان سے محفوظ ہیں۔

فانی عقل کے تحت بیماری کے بارے میں ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ ہر حملہ انسان کے انسان کو کمزور اور زیادہ خوفناک چھوڑ دیتا ہے۔ جب بھی اسے نیچے پھینک دیا جاتا ہے ، وہ کمزور ہوتا ہے۔ خرافات میں ہم نے دیو ، اینٹیوس کے بارے میں پڑھا ، جو مادر ارتھ کا بیٹا تھا۔ جب بھی اسے نیچے پھینک دیا گیا ، وہ نئی طاقت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ، اپنی والدہ کے ساتھ اس کے رابطے سے اس میں گھس گیا۔ چنانچہ ہم کرسچن سائنس میں یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ جب بھی غلطی ہمیں نیچے پھینکنے کا دعوی کرتی ہے ، تو یہ صرف ہمارے باپ ماں ماں کے ساتھ ہی رابطہ قائم کرتا ہے ، جس سے ہم زندگی کی مستقل تجدید حاصل کرتے ہیں۔

مسز ایڈی نے الٹ کی حکمرانی کو لاگو کرنے والے اعلی طلبا کی ضرورت کو سمجھا ، جو کہ انسانی تجربے پر لاگو سچائی کا قانون ہے ، یعنی یہ کہ ہم ہر تجربے کے لئے مضبوط ہیں ، اور ہماری شعلہ زیادہ چمکتی ہے ، کیونکہ غلطی اسے اڑانے کی کوشش کرتی ہے۔ . جب ہم اس طرح سے غلطی کے حملوں کا مقابلہ کرتے ہیں ، تاکہ ہم تکلیف کی زد میں آکر مضبوط تر ہوجائیں ، غلطی اس طرح کے حملے کو ختم کردے گی اور ایک مختلف نوعیت کی کوشش کرے گی ، یعنی انسانی ہم آہنگی۔

اجنبی بیٹا مصر میں غلطی سے اپنے رابطہ اور تنازعہ کے لئے مضبوط اور بہتر واپس آیا۔ جب کہ بڑا بھائی انسانی ہم آہنگی کے تحت بگڑا ہوا تھا جس کا تجربہ اس نے اپنے والد کے گھر میں کیا تھا۔ اگر ہم غلطیوں کو پورا کرنے کی عادت اس کے دعوؤں کو الٹ کر اور یہ جانتے ہوئے کہ ہم اس کے لئے بہتر ہیں ، ہم اس جنگ کو جاری رکھنے کے لئے تیار ہوں گے ، جب انسانی احساس کا زیادہ لطیف مرحلہ ہمارا مقابلہ کرے گا ، یعنی انسانی ہم آہنگی ، یا کسی احساس کا۔ خدا کی غیر موجودگی جو خطرے کی کوئی انتباہ نہیں رکھتی ہے۔ انسانی ہم آہنگی ہم آہنگی والے معاملے میں اعتقاد کی پابندی کی نمائندگی کرتی ہے ، جو اختلافی معاملے میں اعتقاد سے کم انتباہ رکھتا ہے۔




235۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ جانوروں کی بدنیتی پر مبنی مقناطیسیت صرف انسان کے ذہن حق کو چھونے کے تحت کیمیکل سازی کرنے کا نام ہے ، اور اپنی تباہی کو روکنے کے لئے جوابی کارروائی کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح جانوروں کی مقناطیسیت ہمیشہ راستے میں غلطی رہتی ہے۔ راستے میں نہیں۔ خود تباہی کے درپے یہ فانی عقل ہے ، زخمی جانور پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ میٹھی سائڈر میں کام کرنے والی ماں ہے ، جس کی وجہ سے اس کی وجہ سے کھٹی سرکے کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ جیسا کہ مسز ایڈی نے خدا کی زچگی کی عکاسی کی ، اس کی وجہ سے جسمانی ذہن نفرت اور تلخی میں جھاگ پیدا ہوگیا ، اور کھٹا اور شیطانی ہوگیا۔ اس نے اس واقعہ کو بدنیتی پر مبنی جانوروں کی مقناطیسیت کی مذمت کی ، اس لئے نہیں کہ وہ چاہتی تھی کہ ہم اس سے خوفزدہ ہوجائیں اور اسی طرح اس کا شکار ہوجائیں ، بلکہ اس لئے کہ وہ جانتی تھیں کہ اس واقعے سے نمٹنے کے لئے ہمیں لازمی طور پر محتاط رہنا چاہئے۔

ایک بار جب اس نے ایک طالب علم سے کہا کہ وہ کتے کی کینال سے نرمی سے چلیں۔ اس کے الفاظ تھے ، ’’بلڈگ ڈین کے ذریعہ مت بدلاؤ؛ ٹپٹو بائی۔‘‘ کیا یہ ہمارے قائد کی ہمت کی کمی ہوتی ، اگر وہ خود یہ کام کرتی۔ کیا اس کی وجہ استعاریاتی کام کرنے کی تھی؟ جی ہاں. وہ جانتی تھی کہ اس نے اتنی سچائی کی عکاسی کی ہے ، اس فانی ذہن کو کسی بھی وقت کیمیکل بنانا مناسب تھا۔ جہاں کوئی بشر کسی کتے کے سرے سے محفوظ طریقے سے گزر سکتا ہے ، مسز ایڈی کو دیکھنا پڑا۔ اس کی فکر کا اثر اتنا طاقتور تھا کہ ایک کتا بھی اس کی طرف کسی غیرمعمولی پیار کی طرف راغب ہوجاتا ، یا کسی متشدد شیطانی حرکت پر ، اور وہ پہلے سے یہ نہیں بتاسکتا تھا کہ یہ کیا ہوگا۔




236۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے آپ کو طبیب کی حیثیت سے کسی مادی احساس کی نگاہ سے محروم ہونے کی کوشش کرنے کی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں ، جتنا آپ اپنے مریض کے مادی معنوں کو کرتے ہیں ، بیماروں کی تندرستی میں۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’کتنے کرسچن سائنسدان علاج لیتے ہیں گویا وہ جانتے تھے کہ عقل واقعتا ًبیماروں کو شفا دیتا ہے؟ اصل بات عقل کی موجودگی اور اس حقیقت کا ہے کہ کوئی دوسرا موجود نہیں ہے۔ اس موقف کو اپنانے سے گھبرائیں نہیں۔ اور اس کا مظاہرہ کرو ، خدا کو سب بنادیں ، کیونکہ خدا ہی سب کچھ ہے ، اور کچھ نہیں ہے ، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ذہن یہ کہہ رہا تھا: ’میں یہاں ہوں ، اور یہاں کچھ نہیں ہے۔ میں مشق کرنے والا ہوں اور میں مریض ہوں ، اور میں کچھ بھی نہیں اور نہ ہی ہوسکتا ہوں، میں ہوں جو یہ ہوں۔ یہ لامحدودیت ، یہ لامحدود موجودگی بیماری کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ ‘‘




237۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس مشورے کو قبول کرتے ہیں کہ یہ آپ کو سائنسی سوچنے سے روکتا ہے ، اور آپ کو تھوڑی دیر کے لئے کرنے کے بعد ، آپ کو منفی انسانی سوچ میں پڑ جانے میں آرام ملنا چاہئے۔ ہمیں اس مضحکہ خیز دعوے کو پلٹنا چاہئے ، اور یہ حقیقت قائم کرنا چاہئے کہ ذہنی بےچینی انسان کے عقل کی غلط سوچ کو جذب کرنے سے حاصل ہوتی ہے ، اور ہمیں الہی ذہن کی عکاسی میں پوری طرح آرام مل جاتا ہے۔

مسز ایڈی کے ذریعہ ہمارے چرچ کے دستی کتاب کے صفحہ 60 پر ہمیں مندرجہ ذیل چیزیں ملتی ہیں: ’’کرسچن سائنسدان دعا سے ، صحیفوں یا کرسچن سائنس کی درسی کتاب کو پڑھ کر نہیں تھک جاتا ہے۔ تفریح یا بیکار پن تھک جانا ہے۔ سچائی اور محبت نے تھکاوٹ اور بھاری کو آرام کیا ہے۔ بھری ہوئی۔ ‘‘




238۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ پائپ لگانے سے پہلے آپ دیواروں پر مہر لگاتے ہیں۔ یہ نکتہ ایک واقعے سے نکالا گیا ہے جہاں ایک شخص کسی مکان کے لئے سیمنٹ کی فاؤنڈیشن لگا رہا تھا ، اور اس نے سیمنٹ ڈالا اور اسے سخت کرنے دیا ، اس سے پہلے کہ اسے احساس ہو کہ اس نے پانی اور گیس کے پائپوں کو آنے کے لئے کوئی خالی جگہ نہیں چھوڑی ہے۔

بشر انسان ، فطری ذہن کی فطرت سے ، سوچ میں ایک دیوار ہے جو تعصب اور حق کے خلاف ہے۔ بیماری اور تکلیف اس دیوار کو اس مقام تک توڑ دیتی ہے جہاں وہ اسی چیز سے مدد طلب کرنے کو تیار ہے جس کے خلاف وہ تعصب کا شکار رہا ہے۔ پریکٹیشنر اپنے مریض کی تندرستی کرتے ہوئے مؤخر الذکر کے دفاع کو مستحکم کرتا ہے ، تاکہ وہ خود سے خود کو خود سے زیادہ قابل اور قابل محسوس کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دیوار کی تجدید ایک بار پھر سچائی پر قائم رہے ، پریکٹیشنر کو اپنے مریض میں سچائی سے مستقل تعلق یا دلچسپی قائم کرنے کی کوشش کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ اگرچہ یہ کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ یسوع نے دس کوڑھیوں کے ساتھ دکھایا ، اس کے باوجود یہ ایک نکتہ ہے کہ شفا دینے والے کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے۔




239۔ دیکھنا کہ آپ جس چیز کی عکاسی کرتے ہیں اس کے کمال کو دیکھنے کے لئے آپ کی کوشش میں ، آپ اس کی عکاسی کے کمال کو دیکھنے کی کوشش میں شامل ہیں۔ آئینے نہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ روشنی کامل ہے ، بلکہ اس کی عکاسی بھی کامل ہے۔ سائنس میں فکر اور مفکر دونوں کامل ہیں۔ اگر روح وہی ہے جو انسان کی عکاسی کرتا ہے ، تو روح وہ ہے جو انسان کی عکاسی کرتا ہے۔ روح اور روح خدا ہونے کے ناطے ، انسان میں اپنے اظہار خیال میں وہ معیار اور مقدار میں ، مواد اور استعداد کے لحاظ سے ایک کامل حیثیت رکھتے ہیں۔




240۔ دیکھنا کہ آپ سائنس اور صحت کے عینک کے ذریعہ سائنس کے تمام ادب کو پڑھتے ہیں ، اور حتمی اتھارٹی کی حیثیت سے ہمیشہ اس پر واپس جاتے ہیں۔ ایک بار مسز ایڈی نے لکھا ، ’’اور اگر آپ کبھی کبھی اس میں اشارہ کرتے ہوئے پریشان ہوجاتے ہیں (کرسچن سائنس سے متعلق کسی بھی مضمون کا حوالہ دیتے ہیں) تو سائنس اور صحت پر جائیں۔ یہ سب کچھ اس کی حقیقت میں ہے۔‘‘ نیز ایک طالبہ نے ایک بار اس سے کہا ، ’’جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں کوئی طاقت نہیں ہے تو میسزم کو ختم کرنا مشکل نہیں ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا ، ’’اگر خدا سب کچھ ہے تو ، تباہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کے سوا اور کچھ نہیں جو خدا تخلیق کرتا ہے۔ مجھے کتاب پر واپس جانا ہے اور اسی طرح آپ کو بھی لازمی ہے۔‘‘

ایک جو اینٹوں کا مکان بنا رہا ہے وہ اکثر اپنی روح کو اینٹوں پر رکھتا ہے۔ ورنہ اس کی بنیاد اور دیواریں سطح نہیں ہوسکتی ہیں۔ سائنس اور صحت ہماری روحانیت ہے ، جس کو ہمیں اپنی ہر روح کو اپنی روحانی بنیاد میں ڈالنے کے لئے جانچنا چاہئے۔

مذکورہ تجربے میں طالب علم اپنی فاؤنڈیشن میں اینٹ بٹ رہی تھی جو بالکل سائنسی نہیں تھی ، یا کتاب کے ساتھ سطح نہیں تھی۔ مسز ایڈی نے اس کا پتہ لگانے میں جلدی کی۔ کتاب سکھاتی ہے کہ اس وجہ سے کہ ہم مسماریت کو ختم کرسکتے ہیں ، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی کوئی طاقت نہیں ہے ، بلکہ اس لئے کہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ مسز ایڈی نے اس طالب علم کو یہ نصیحت کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ وہ کتاب کی روح کی سطح کو ہر خیال کی جانچ پڑتال کے لئے استعمال کریں ، چونکہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کا کوئی بھی طالب علم اپنی بنیاد میں اینٹیں رکھے جو بالکل سائنسی نہیں تھا۔




241۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ آپ غلطی کے بارے میں کچھ سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، اس کے علاوہ یہ بھی نہیں ہے۔ ہر ایک اندھیرے کے بارے میں جان سکتا یا جان سکتا ہے وہ روشنی کی عدم موجودگی ہے۔ جانوروں کی مقناطیسیت کے دعووں کو بے نقاب اور ان کا پتہ لگانا چاہئے ، کیونکہ 2 مئی 1936 کے کرسچن سائنس سینٹینل میں ہمیں مسز ایڈی کا یہ کہنا پتا ہے کہ خدا ان لوگوں کی دعا کا جواب صرف ان لوگوں کو دے گا جو ان کو ختم کرنا لازمی ہیں۔ پھر بھی ہماری غلطی کو بے نقاب کرنے کی کوشش کو ہمیشہ اس کی بے وقوفی کی پہچان کرنی چاہئے ، جس کا صرف یہ مطلب ہے کہ یہ کسی چیز کی سراسر غیر موجودگی ہے۔




242۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ثابت قدمی اور یقین کو برقرار رکھتے ہیں کہ جب آپ اس کا مقابلہ کرتے ہیں تو شیطان فرار ہوجاتا ہے۔ غلطی کبھی بھی تجاویز سے زیادہ نہیں ہوتی ہے ، اور صرف اس لئے غالب آتی ہے کیونکہ اس کی فوری اور مستقل مزاحمت نہیں کی جاتی ہے۔ غلطی صحیح مزاحمت کے سامنے نہیں کھڑی ہو سکتی ہے۔ تاہم ، اکثر یہ خیال آتا ہے کہ وہ شیطان یا برائی کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے ، جب وہ وجہ کی بجائے اثر کے خلاف مزاحمت کر رہا ہو ، گویا کوئی اسکرین پر اس کے ساتھ کچھ کر کے چلتی تصویر کو بدل سکتا ہے۔




243۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ایک لمحے فانی عقل کو اپنے دوست ، اور اپنے دشمن کو دوسرے ہی لمحے پر غور کریں۔ ہمارا قائد اس سے ہمیشہ دشمن کی طرح برتاؤ کرنے میں مستقل تھا ، اور اس حقیقت کی طرف اپنے طالب علموں کی آنکھیں کھولنے کے لئے ہر طرح سے کوشش کرتا تھا۔ انہوں نے سچ کی مخالفت کرتے ہوئے بظاہر بے ضرر انسانی عقل سے بدنیتی پر مبنی جانوروں کی مقناطیسیت کی طرف اس کے بدلے جانے والے رجحان کی نشاندہی کی ، امید ہے کہ اس طرح وہ اس کے قابل فطرت کے بارے میں مستقل شعور برقرار رکھنے کے قابل ہوں گے ، بغیر اس کے ہمیشہ اس کی یاد دلانے کی۔

اگر کسی جرنیل نے اپنے مردوں کو دشمن سے محتاط ، خوبصورت خواتین جاسوسوں کے علاوہ پایا ، تو وہ اپنے مردوں کی آنکھیں اس فریب کے لئے کھولنے کی کوششوں میں بے چین ہوگا۔ بہت سے مردوں کو چالاک اور خوبصورت جاسوسوں کے ذریعہ خفیہ معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، اور اس طرح اپنے ممالک کے ساتھ غداری کی ہے۔ مسز ایڈی نے اپنے طلبہ کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ، جیسا کہ وہ درسی کتاب کے صفحہ 451 پر لکھتی ہیں ، ’’تاکہ وہ ہر طرح کی غلطی کی نوعیت اور طریقوں کو ، خاص طور پر کسی بھی طرح کی برائی ، دھوکہ دہی اور دھوکہ دہی کو جان سکیں۔‘‘

اگر غیر اخلاقی طور پر غیر حقیقی ذہن کی تصویر کا موازنہ بجلی کے بلبوں پر مشتمل ایک بڑے نشان سے کیا جاتا ہے ، جس میں سے کوئی بھی روشنی نہیں اٹھائے گا جب تک کہ آپ اسے چھوئے نہیں ، اس سے تھوڑا سا فرق پڑتا ہے جسے آپ نے چھو لیا تھا۔ ایک کو چھونا سب کو روشنی کرنا ہے۔ جب تک ہم کسی کو چھوتے ہیں ، جب تک ہم کسی کو چھوتے ہیں ، اس کی تصویر میں کون سا بلب چھوتا ہے ، اس کی پرواہ نہیں کرتی ، جب تک کہ ایک کو چھونے سے پوری تصویر ہمارے لئے حقیقی ہوجاتی ہے۔ یہ مثال مسز ایڈی کے مستقل مزاجی کی زبردست التجا کی وضاحت کرتی ہے۔

اس کی مستقل مزاجی کی مثال کے طور پر ، اس پر غور کریں کہ اس نے ایک بار آدم ایچ ڈکی سے کیا کہا ، ’’ایک اچھا ڈنر یا اچھا کھانا کیا ہے؟ اچھا شیطان۔ رات کی نیند کیا ہے؟ اچھی برائی۔ ایک اچھا نیا لباس کیا ہے؟ اچھا برائی۔ مادے میں صحت کا احساس کیا ہے؟ اچھی برائی۔ کون سا قریب خدا ہے ، صحت کا احساس ہے یا بیماری کا؟ یہ کون سی بات ہے جو ہمیں سچے وجود کا ادراک کروا دیتی ہے؟ روحانی تفہیم۔ پھر میں کیسے صحت مند ہوں؟ قادر مطلق ، ہمیشہ کے لئے ، ابدی اور لامحدود عقل کو جاننے سے - اور ، لہذا ، کوئی عدم فعالیت ، زیادہ عمل ، بیمار عمل یا رد عمل نہیں ہے۔ روحانی تفہیم - خدا کا ایک علم - کامل بناتا ہے۔ ‘‘




244۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہدایات ، نمو اور مظاہرے کے بیانات میں فرق کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ سائنس کے بیانات جو ہدایات کے لئے ہیں ، ان میں جھوٹ کے عمل کا تجزیہ شامل ہے ، کیونکہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مصر میں انسان کو غلامی میں رکھنا ہے۔ ترقی کے بیانات انسان پر مبنی ہیں جیسے کمال کے قریب پہنچیں ، خود آئے اور اپنے باپ کے گھر کو یاد رکھیں ، تاکہ وہ لوٹنے کے لئے تیار ہو۔

مظاہرے کے بیانات مطلق موجود کمال پر مبنی ہیں ، اور اعلان کرتے ہیں کہ انسان کو اب باپ کے گھر میں رہنا ہے ، ہمیشہ وہاں رہنا ہے ، اور کبھی بھی مصر میں کسی قیاس آرائی کے لئے روانہ نہیں ہوا ہے ، جہاں سے اسے واپس جانا ہوگا۔

ظلم کے بھید کو ننگا کرنے کے لئے، دریافت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جھوٹ کس طرح جادوئی اور جارحانہ انداز میں چل رہا ہے تاکہ غلطی کو یا تو پرکشش یا خوفزدہ محسوس کیا جاسکے ، تا کہ انسان اس کی غلامی کا موجب بنے۔ پھر بھی ہر وقت اس کی تجاویز کو سرگوشی کرنے کے علاوہ کوئی طاقت حاصل نہیں ہوتی ہے ، لیکن اس کو اس طرح انجام دینے کے لئے کہ یہ تجاویز بشرطیکہ انسان کے اپنے خیالات کی طرح ظاہر ہوں ، ورنہ بات کرنے میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

احساس سے روح تک سڑک پر چلتے ہوئے ایک حاجی کے طور پر نمو پذیر انسان کے بیانات۔ طالب علم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو کمال کے قریب پہنچے اور ’’ہر دن تھوڑا سا صحیح سمت حاصل کریں‘‘ (سائنس اور صحت ، صفحہ 21)؛ ورنہ وہ کوشش کرنے کی ضرورت کو نہیں دیکھ سکتا ہے۔

ایسا مظاہرہ جو ابدی موجودہ کمال کے ادراک اور اعلان کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور ختم ہوتا ہے ، اس جھوٹ کو خاموش کرنے کے لئے ، یا موت کے اعتقاد کے جھوٹ کے پیک کی ضرورت ہوتی ہے۔ خدا کی شفا بخش طاقت کو کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا جب تک کہ وہ یہ موقف اختیار نہیں کرتا کہ اب سب کچھ روحانی اور کامل ہے ، اس لئے انسان کبھی بھی کمال سے باز نہیں آیا ، کیونکہ خدا نے اسے کامل بنایا ہے۔ لہذا ، حقیقت میں ، کو شفا بخشنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

مصر میں اس اجنبی شخص کو اس جھوٹ کے بارے میں ہدایت اور وضاحت کی ضرورت تھی جس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اسے گمراہ کرنے اور اسے فریب میں ڈالنے کا دعویٰ کرتا ہے ، تاکہ وہم کو حقیقی اور مطلوبہ معلوم ہو۔ گھر جاتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کے لئے ترقی کے بیانات کی ضرورت تھی۔ لیکن جس چیز نے واقعتاً اسے برقرار رکھا اور اس کے تجربے کو سائنسی بنایا ، وہ مطلق سائنس کے نقطہ نظر سے یہ احساس تھا کہ وہ ہمیشہ باپ کے گھر رہتا تھا ، اور اسے کبھی نہیں چھوڑتا تھا۔ یہ کہ مصر میں رہنا ایک برا خواب تھا۔ اور یہاں تک کہ ایسا نہیں ، چونکہ اسے خواب بھی سمجھنا اس سے کہیں زیادہ حقیقت دیتا ہے ، کیونکہ حقیقت میں خدا کا بیٹا خواب دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ لہذا نامزد غلطی کی کوئی ضرورت نہیں۔




245۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جیسا کہ آقا نے یہوداس سے کہا تھا:’’آپ یہ کر رہے ہیں ، جلدی کرو۔‘‘ اگر آپ زندہ کوئلہ اٹھاتے ہیں اور اسے جلدی سے چھوڑ دیتے ہیں تو ، یہ آپ کی انگلیاں نہیں جلائے گا۔ اس طرح جانوروں کی مقناطیسیت کو دونوں کے لئے پہچانئے کہ وہ کیا ہے اور جو نہیں ہے۔ لیکن یہ اتنی جلدی کرو کہ آپ اس مشورہ پر پورا اترنے کے لئےاتنی دیر تک نہ بسر کریں کہ آپ کچھ لڑ رہے ہیں۔ خدا اور اس کے بچوں کے خلاف برائی کے کسی بھی دعوی میں حقیقت نہیں ہے۔ جان لو کہ کوئی شیطانی طاقت موجود نہیں ہے جو انسان کو اس میں دلچسپی لینے سے مستقل طور پر روکتی ہے جو اسے دھوکے سے آزاد کرے گی اور اسے کامل آزادی اور ہم آہنگی میں بحال کر دے گی۔ جانوروں کی مقناطیسیت کے دعوے کو پورا کرتے ہوئے ، اسے صرف ہلکے سے اور جلد سے جلد چھوئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس غلطی کی بظاہر عالمگیریت پر غور و فکر کرنے سے آپ اسے پھاڑ پھینکنے کے بجائے اسے اپنی سوچ میں استوار کردیں گے۔ پتلی برف پر اسکیٹنگ کرتے وقت ، جتنی جلدی ہوسکے اسکیٹ کریں ، تاکہ آپ ٹوٹ نہ پائیں۔




246۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کسی مسئلے کو ختم کرنے کے بعد ، پھر بھی سوچ میں باقی ہے کہ اچھے کے برعکس دعوے کی یاد آتی ہے جس سے آپ کو بچایا گیا ہے۔ یہ عقیدہ کہ کبھی بھی دعوی کیا جاتا ہے - یہاں تک کہ ایک سادہ سا بھی - سوچ کی جڑ اور شاخ سے حذف ہوجانا چاہئے ، حتی کہ میموری کے طور پر۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کے پاس یہ کبھی نہیں تھا ، اور یہ کہ آپ محض اس مسیسمزم سے آزاد ہوئے جس کی وجہ سے آپ کو اس حقیقت کی حقیقت پر یقین کرنا پڑا جس کا کوئی وجود نہیں تھا ، بالکل اسی طرح جس طرح ایک پاگل آدمی کو اپنے فریب سے بچایا جاتا ہے۔

کسی دعوے کے پورا ہونے کے بعد ، آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ حقیقت میں آپ کے پاس کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ، کیوں کہ کبھی بھی مسیسمزم کا دعوی نہیں کیا گیا تھا۔ تب اور تب ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے کسی مسئلے پر کتابیں بند کردی ہیں۔ ایک بار جب ایک مریضہ نے اپنے پریکٹیشنر کو فون کرنے کے لئے کہا کہ وہ اس بیماری سے صحت یاب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ مدد کررہی تھی۔ اس نے پریکٹیشنر سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا علاج بند کردے۔ اس نے جواب دیا ، ’’مجھے ایک اور دن دو جس میں جاننا پڑے کہ تمہارے پاس کبھی نہیں تھا!‘‘




247۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلطی کی بجائے غلطی کے سائے کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’ہمیں کسی سائے کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ، جب ہمیں یہ واضح ہوجائے کہ یہ سایہ ہے۔‘‘ اس نے یہ بھی کہا ، ’’بیدار ہونے والی موت کی فکر اپنے ہی سائے پر چونکا دیتی ہے۔ جب اس نے یہ سایہ کمایا ہوا تھا۔ اسے خود اور اس کے سائے کا کچھ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے ، پھر اس خوف سے جو اس کی لاعلمی میں بے ہوش تھا ، اور ہوش میں آگیا بیداری ، ختم ہوجائے گی ، کیونکہ فانی ذہن یہ دیکھے گا کہ اسے خود سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘

اگر کسی بے ترتیب عقیدے کو اپنے آپ کو سردی کی حیثیت سے کسی کی سوچ کے بندرگاہ میں تیرنے والی بڑی مچھلی سے تشبیہ دی جاتی ہے تو ، کسی کے جسم میں ظاہر ہونے کے بارے میں یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ بندرگاہ کے نچلے حصے میں مچھلی کے ذریعہ ڈالا جاتا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ آپ سائے کو خوفزدہ نہیں کرسکے۔ آپ جو کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں اس کا سایہ کم سے کم متاثر ہوگا۔ اگر آپ نے سائے کو نظرانداز کیا ، اور مچھلی کو للکارا تو ، آپ بلا تاخیر اسے خوفزدہ کرسکتے ہیں۔




248۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کسی غلطی کے ظاہر ہونے کی ذہنی وجہ ختم ہونے کے بعد ، آپ اس تجویز کو قبول کرتے ہیں کہ آپ نے سوچنے کی عادت تشکیل دی ہے ، تاکہ آپ کو یقین ہو کہ آپ کا دائمی رجحان ہے ، اور وقتا فوقتا یہی غلطی واپس آجائے گی۔ کیا آپ کے لئے یہ یقین کرنا ممکن ہو جائے گا کہ آپ نے بھوتوں کو دیکھنے کی عادت پیدا کردی تھی ، جب آپ کو یہ معلوم ہونے کے بعد کہ ان کا وجود نہیں ہے؟




249۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ سائنس میں اپنے مقصد کے طور پر ، کسی بھی نقطہ نظر سے آنے والے کمال کا احساس ، لیکن عکاسی کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ یہ دیکھنے کا مقام ضروری ہے کیونکہ روایتی الہیات کی تجویز کی استقامت کے سبب جو ہم اس بشر کو خود کامل بناتے ہیں اور ضروری ہے۔




250۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ سچائی سے پاک ہونے والا انسانی عقل اصل الہی عقل ہے ، اور حقیقی روحانیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تزکیہ انسانیت الٰہی عقل کی عکاسی کی طرف ایک قدم ہے۔ لیکن روحانیت صرف اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب الہی ذہن نام نہاد انسانی عقل کی جگہ لے لیتا ہے ، اس سے قطع نظر کہ بعد میں کتنا پاک ہوجائے۔




251۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ انفرادی روحانی نمو کے سوا کوئی حقیقی ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔ گرجا گھروں کی تعداد میں اضافہ ، اراکین کی ممبرشپ اور رکنیت صرف اس کا اثر ہے۔ یہ انسان کے نقطہ نظر سے نمو پا سکتا ہے ، لیکن صرف ایک ہی ترقی جسے خدا تسلیم کرتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا ہر سال انفرادی طلبا اپنی سوچوں سے ہر وہ چیز نکال سکتے ہیں جس سے خدا کا ہجوم ہوتا ہے ، تاکہ وہ ان کی آواز کو زیادہ واضح طور پر سن سکیں۔ سننے اور فائدہ اٹھانے کا حکم جو وہ ان کو کہہ رہا ہے ، اور اس الہی حکمت اور محبت کو تمام انسانوں کو برکت دینے کے لئے استعمال کریں۔




252۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ چرچ کی رکنیت کے لئے امیدواروں سے انٹرویو لینے میں ، آپ غلطی سے اس کا سبب بنتے ہیں ، اور یقین رکھتے ہیں کہ مثلا ٹھیک امیدواروں کو باہر رکھنا درست ہے کیونکہ وہ تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ سگریٹ نوشی مظاہرے کی کمی کا ایک ثبوت ہے ، اور چونکہ ہمارا چرچ مظاہرے پر مبنی ہے ، لہذا صرف ان لوگوں کو ممبرشپ میں داخل کیا جانا چاہئے جنھوں نے مظاہرہ کرنے کی اپنی صلاحیت کا مناسب ثبوت دیا ہے۔ لہذا ، کسی درخواست دہندہ کو ممبرشپ سے انکار کردیا جانا چاہئے ، اس لئے نہیں کہ وہ سگریٹ نوشی کرتا ہے ، بلکہ اس وجہ سے کہ اس نے کاموں میں اپنا اعتماد ثابت نہیں کیا ہے۔ دیکھنے کا یہ مقام اہم ہے ، ایسا نہ ہو کہ جب تمباکو نوشی کرنے والے کو ٹھکرا دیا جاتا ہے ، تو اسے یہ تاثر مل جاتا ہے کہ تمباکو نوشی کی وجہ سے اسے ٹھکرا دیا جارہا ہے۔ اسے یہ سیکھنا چاہئے کہ جب تک وہ مظاہرہ کرنے کی اپنی صلاحیت کا مزید ثبوت نہیں دے دیتا ہے تب تک اس سے انتظار کرنے کو کہا جاتا ہے۔ اگر رکنیت کے لئے درخواست دہندگان کو غلط سوچنے کی بجائے ، غلط سوچ کے مسترد کردیئے جاتے ہیں ، تو کرسچن سائنس کو پرانے مسیحی چرچ سے ممتاز کرنے کی کیا ضرورت ہے ، جس میں آدمی جو کچھ کرتا ہے اس کے خیال سے وہ زیادہ اہم ہوتا ہے؟




253۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کہ مریضوں کے ساتھ معاملات کرنے میں آپ کا وقت دانشمند ہو۔ ہم خدا کی سوچ کے ساتھ انسان کی سوچ کا وقت تلاش کر رہے ہیں۔ گھبراہٹ والے مریض کی سوچ بہت تیز ہے ، اور بلغمی مریض کی سوچ بھی بہت سست ہے۔ فتنہ اعصابی مریض کی سوچ کو تیز کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ، کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کے سب کے لئے اسے بھوک لگی ہے۔ حقیقت میں ، تاہم ، اس کی فکر کو ’’عزیز باپ کی شفقت کے انمول احساس‘‘ (سائنس اور صحت ، صفحہ 366) کے ساتھ خاموش ہونا چاہئے۔ اگرچہ آپ کو ’’خدا کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ ذہن حاصل کرنے کا طریقہ ۔۔۔‘‘ (کرسچن شفا یابی ، صفحہ 14) یہ بتانے کے لئے کہ آپ کو یہ کوشش کرنے کے لئے فونیٹک مریض کو سرزنش کی جانی چاہئے اور اس کی سوچ میں تیزی لائی جائے گی۔

مسز ایڈی نے ایک بار اعلان کیا ، ’’آپ کو لمفط مزاج کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے جیسا کہ آپ اعصابی مزاج رکھتے ہیں۔ سابقہ کو منتقل کرنے میں کیا لینا پڑے گا ، مؤخر الذکر سے زیادہ ہوجائے گا۔‘‘




254۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ بیماری کو غلط سوچ کے براہ راست اثر کے طور پر قبول کریں۔ اگر صحت کو سائنسی صحیح سوچ کے ذریعہ برقرار رکھنا ہے تو پھر بیماری اس کے نقصان میں شریک ہونے والا واقعہ ہونا چاہئے۔ یہ غلط سوچ کی طرف اشارہ کرنے والا راستہ ہے ، اور ہمیں خبردار کیا گیا ہے کہ خدا کے راستے کو ختم نہ کریں۔ دوسرے لفظوں میں ، ہمیں کبھی بھی انگلی کو ہٹانے کی خواہش نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی کوشش کرنا چاہئے جو غلط سوچ کی طرف اشارہ کرتی ہے ، اس کے علاوہ ہم لوگوں کو یہ انتباہ دیتے ہیں کہ گلیوں میں سوراخ ہیں ، یہاں تک کہ سوراخوں کی مرمت ہوجائے گی۔

بیماری معلوماتی ہے ، جو غلطی کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کام یہ ہے کہ سوچنے کی غلطی کو اس کے ظاہر ہونے کے حوالے کیے بغیر اسے درست کرنا ہے۔ ایک مشق کرنے والے کو مریض کے لئے دباؤ کو برداشت کرنے کے لئے مضبوط ہونا چاہئے ، کیونکہ مؤخر الذکر کی خواہش ہے کہ وہ خدا کے راستے کو دور کرے۔

غلط سوچ کا براہ راست اثر خدا کا نقصان ہے ، اسی طرح سائے میں قدم رکھنے کا براہ راست اثر سورج کی روشنی کا خسارہ ہے۔ خدا جانے نہ جانے ہم اندھیرے میں کیا کر رہے ہیں جو گناہ گار ہے۔ لیکن یہ بیان کرنا جائز ہے کہ وہ جانتا ہے کہ ہم نے اس کی روشنی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ بیماری ایک ثانوی اثر ہے ، ہمارے پاس اس وجہ سے آرہی ہے کہ ہم اندھیرے میں ہیں ، اور جب ہم روشنی میں ایک بار قدم بڑھائیں گے تو یہ غائب ہوجائے گا۔




255۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ خدا کے انعامات آپ کے اندازے کے مطابق خدا کے آگے بڑھ جائیں ، تاکہ آپ خدا سے اس کے پیسوں سے شادی کرنے کی کوشش کریں۔ جب ایوب نے یہ غلطی کی تو اسے ایک ایسے دور سے گزرنا پڑا جس میں اس نے اپنا پورا اطمینان کھو دیا ، یہاں تک کہ اس نے سبق سیکھ لیا ، یعنی مقصد کو اولین قرار دینے کے لئے۔

بائبل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایوب نے اپنی تمام چیزیں کھو دیں۔ لیکن ایک ماہر طبیعیات اس کی ترجمانی کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ اثر میں تمام اطمینان سے محروم ہوجائے ، تاکہ اسے وجہ سے پیچھے ہٹایا جاسکے۔ پھر اس نے سبق سیکھا ، یعنی ، کہ حقیقت صرف خدائی مقصد سے اثر انداز ہونے کے بہاؤ میں ہے۔ ہمیں کبھی بھی یہ یقین نہیں کرنا چاہئے کہ یہ اثر انسان کو خوش کرنے یا دکھی کرنے ، اسے زندگی بخشنے یا اسے دور کرنے کی طاقت سے پیچھے ہوسکتا ہے۔

علامت کو طاقت دینے کے لئے جہنم کی تعریف کی جاسکتی ہے ، - جیسا کہ سوچ اثر سے رُک جاتی ہے ، کیوں کہ اس غلطی سے انسان خود کو خدا سے الگ کرتا ہے۔ اس کے بعد جنت کے بارے میں سوچا جائے گا جیسے علامت کے ذریعہ دیکھنے کا ، خدائی ذریعہ کی طرف جس کی علامت اشارہ کرتی ہے۔ خدا کا مطالبہ ہے کہ ہم کبھی بھی اس کی نعمتوں کو اپنے پیاروں میں اس سے آگے نکلنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔




256۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس تجویز کو قبول کریں کہ غلطی بڑھ رہی ہے ، جبکہ آپ نہیں ہیں۔ جب الٹ سچ ہے۔ غلطی کا دعوی اسٹیشنری ہے۔

اگر آپ کے پاس کچھ کتے ہوتے ، اور جب بھی آپ انھیں کھانا دیتے ، چوہے آتے اور ان کے ساتھ پکوان میں سے کھاتے ، اس طرح ان کے کھانے کا کچھ حصہ چوری کرتے ، تو آپ ان کو چوہوں سے بات کرتے ہوئے تصور کر سکتے ہیں: ’’ہم اتنے کم ہیں کہ آپ اب ہمارا کھانا چوری کرسکتے ہیں ، اور ہم اس کی مدد نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ زیادہ دیر تک نہیں ہوگا۔ ہم بڑھ رہے ہیں ، اور تیزی سے بڑھ رہے ہیں ، اور آپ نہیں ہیں۔ جلد ہی ہم پر عبور حاصل ہوگا ، اور پھر آپ کی بدنامی ختم ہوجائے گی۔ ‘‘ لہذا آپ غلطی سے کہہ سکتے ہیں ، ’’لگتا ہے کہ آپ کو ابھی فرش مل جائے گی ، لیکن یہ زیادہ دن تک نہیں رہے گا! میں بڑھ رہا ہوں اور آپ نہیں ہو! جلد ہی میں آپ کی بےچینی کا احساس کروں گا۔‘‘




257۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہو کہ حق تیار کرنے سے پہلے سائنس کے بارے میں سب سے پہلے سر کا استعمال کرنا ہے۔ یسوع نے ان دونوں دینداروں کی مثال دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ سب سے زیادہ پیار اسی سے ہوا ہے جس کو خدا نے سب سے زیادہ معاف کیا۔ مسز ایڈی نے مریم مگدالین بمقابلہ سائمن کی کہانی کے ساتھ کرسچن سائنس پریکٹس سے متعلق درسی کتاب کا باب کھولا ہے ، گویا ہمیں یہ متنبہ کیا کہ سائنس کے زیر اثر ، یا فکری طور پر ، - سائمن کی طرح ، بہت کم پیار کرتے ہیں اور کرتے ہیں۔ ثابت قدم طالب علموں کو مت بنائیں کہ وہ جو اس کو دل سے ، توبہ ، شائستہ اور انسانی پیار کے ذریعہ داخل کرتے ہیں۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا ، ’’میں نے تلخ تجربے سے سیکھا ہے کہ سر تیار ہونے سے پہلے ہدایت کی تھی ، مجھے اور ہمارے لئے خطرناک مشکلات اور غمزدہ شکستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ نصابی کتاب کے صفحہ 60 پر ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں ، ’’ماں کا پیار اس کے بچے سے نہیں چھڑا سکتا ، کیوں کہ ماں کی محبت میں پاکیزگی اور استحکام شامل ہیں جو دونوں لازوال ہیں۔ لہذا زچگی پیار جو بھی مشکلات میں رہتا ہے۔‘‘ شاید یہ اشارہ ہے کہ ، جب کرسچن سائنس طلبہ سے سخت مطالبات کرنے لگتی ہے جس پر انسانی احساس باغی ہوتا ہے تو ، صرف وہی اس سے وفادار رہتے ہیں جو اس سے پیار کرتے ہیں ، جنہوں نے اسے دل سے لیا ہے ، یا نسائی فطرت۔ وہ لوگ جنھوں نے اسے صرف سر کے ذریعہ قبول کیا ہے - یا مذکر فطرت - جیسے کہ کوئی ریاضی سیکھ سکتا ہے ، جب خودکی حفاظت کا مطالبہ کیا جائے تو وہ گر جاتے ہیں۔

بیمار کو مندمل کرنا اور گنہگار کی اصلاح کرنا دل تک پہنچ جاتا ہے ، جو دنیا کی ساری باتیں اور دلیل نہیں کرسکتا۔ مسز ایڈی کے پاس سچائی کی شفا یہ تھی جو شفا یابی والے کے دل تک پہنچ جاتی ہے ، اور روحانی عقیدت اور تندرستی پیدا کرتی ہے۔ ایک بار جب اس نے کہا ، ’’اصل سائنس - الہی سائنس - اس وقت تک نظروں سے محروم ہوجائے گی جب تک کہ ہم خود کو جگا نہیں سکتے۔ اس معاملے کو مضبوط بنانے کا مظاہرہ سائنس نہیں ہے۔ گرجا گھروں کی تشکیل ، مضامین لکھنا اور عوام میں تقریر کرنا ہے وجہ پیدا کرنے کا پرانا طریقہ۔ میں جس طرح سے اس مقصد کو منظرعام پر لایا تھا وہ شفا یابی کے ذریعے تھا ، اور اب یہ دوسری چیزیں آکر اسے چھپا دیں گی جیسے یسوع کے زمانے میں ہوا تھا۔ ‘‘




258۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس حقیقت کو فراموش کردیں گے کہ آپ اب جنت کی بادشاہی میں ہیں ، اور صرف ایک وجہ ہی آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے روحانی حواس جو صرف اس حقیقت کی گواہی دے سکتے ہیں ، مغلوب ہوچکے ہیں ، یا چھا گئے ہیں۔ غلطی سے ان حواس کی نشوونما اور زندگی کو بحال کرنے کا واحد طریقہ استعمال ہے۔ ہم روحانی شعور کو شاذ و نادر ہی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جب تک کہ ہم کسی ایسے مسئلے یا سوال کا سامنا نہ کریں جو انسانی ذہن ، یا انسانی طریقوں سے حل کو مسترد کردے۔ لہذا ، جب ہمیں ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہمیں اس طرح کے مسائل تلاش کرنے اور خوشی دینی چاہئے۔ وہ بائبل میں ، مسز ایڈی کی تحریروں میں ، اس کی زندگی میں ، اور اسی طرح ہماری اپنی زندگیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔




259۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ نے کسی شخص ، جگہ یا کسی چیز کو بظاہر کسی چینل کی حیثیت سے غلطی کا انکشاف کیا ہو ، تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کو چینل کو ذاتی طور پر اپنانا ہوگا۔ حقیقت میں فانی عقل ہی واحد غلطی ہے ، اور ، اگرچہ ہمیں کسی نہ کسی چینل کے ذریعہ کام کرتے ہوئے غلطی کے اعتقاد کو ختم کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے ، لیکن ہمیں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ہم تمام غلطی کے منبع پر دھچکا مار رہے ہیں ، نہ کہ چینل ہمیں یہ احساس کرنا چاہئے ، چونکہ خدا تمام چینلز کا مالک ہے اور اس پر کنٹرول رکھتا ہے ، لہذا غلطی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اسے استعمال کرنے کے لئے کوئی نہیں مل سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ، جب آپ کو زہر آئیوی کی غلطی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ پودوں کی مذمت نہیں کرتے ہیں ، کیوں کہ اس کی غلطی نفسانی اعتقاد ، یا نام نہاد قانون میں ہے ، نہ کہ پودوں میں۔ لہذا آپ جانتے ہیں کہ اس پر ضرر رساں ہونے کی طاقت دینے کے لئے اس پر ، یا کسی اور چیز پر بھی جسمانی اعتقاد غلط استعمال نہیں کرسکتا۔ آپ کو احساس ہے کہ خدا کا کوئی بھی چینل (اور تمام چینلز اس کے نہیں ہیں) ، موت کے قانون کے ذریعہ زہر ، تکرار ، بیماری یا موت کو پہنچانے کے لئے استعمال نہیں ہوسکتے ہیں۔ صحیح موقف یہ ہے کہ یہ اعلان کرنا ہے کہ ہر چیز اور ہر شخص خدا کی محبت کا ایک چینل ہے ، اور اسی وجہ سے وہ صرف برکت اور شفا بخش سکتا ہے ، اور یہ کہ کوئی بھی جھوٹی گواہی یا میسمرزم کے اثر و رسوخ ہمیں اس حقیقت سے پردہ نہیں کرسکتے۔

جب کسی شخص کو کسی حد تک غلطی کے چینل ہونے کا انکشاف ہوتا ہے ، تو آپ اسے شخصی طور پر نہیں دیکھتے ، اس سے زیادہ آپ پر کسی کٹھ پتلی پر الزامات لگاتے ہیں اگر آپ کو اس پر حملہ کرنا پڑتا ہے۔ کٹھ پتلی سے جوڑ توڑ کرنے والا معاملے میں مردانہ عمل ہوگا۔ لہذا جب آپ دیکھتے ہیں کہ یہ فانی ذہن ہے نہ کہ کوئی شخص جو غلطی کا ذمہ دار ہے تو ، اس کے خلاف آپ کا کام غیر اخلاقی ہوجاتا ہے۔ پھر چونکہ آپ چینل کو پسند کرتے ہیں ، لہذا آپ زیر التوا شخص میں ناراضگی پیدا کرنے کا کوئی خطرہ نہیں رکھتے ، اور اس طرح آپ کی کوششوں کو صحیح سمت میں رکاوٹ بنتی ہے۔




260۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ فانی ذہن کے حصول کے تصور کو قبول کریں ، اور یقین کریں کہ کرسچن سائنس کی تفہیم ایک ایسی چیز ہے جو صرف مطالعے سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ سائنس اور صحت کا کہنا ہے کہ ہم اس سمت چلتے ہیں جس طرف ہم دیکھتے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنے کے لئے مطالعہ کرنا ہوگا کہ صحیح سمت کیا ہے ، لیکن صرف مظاہرہ ہی ہمیں اس میں چلنے کے قابل بنائے گا ، ایسا مظاہرہ جو سستی اور عدم استحکام کی مسمارزم کو سنبھالتا ہے۔

مسز ایڈی نے اپنے طلباء کو ذہنی طور پر بیدار کرنے اور انہیں بیدار رکھنے کی کوشش میں وقت صرف کیا۔ یہ ضروری نہ ہوتا ، اگر سمجھنے کا حصول محض مطالعہ کا معاملہ ہوتا۔ بیٹھ کر سائنس اور صحت کا مطالعہ کرنا کافی نہیں ہے۔ ایک خود کو مسرت سے آزاد کرنے کی ضرورت کے تحت ہے ، چونکہ فانی ذہن ایک سموہت پرست کی حیثیت سے کام کرتا ہے ، جو اپنے شکار کو اپنی عام حالت سے دور کرتا ہے اور اس کی جگہ ایک جھوٹے روئے سے لے جاتا ہے ، جس میں اس کا خیال ہے کہ وہم حقیقی اور سچ ہے۔ کسی بھی سموہت سے متاثرہ شخص محض مطالعے کے ذریعہ اس پر ڈالے گئے جادو کو توڑ نہیں سکتا تھا۔

یہ نقطہ نظر اس موجودہ عقیدے کو درست کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ، جب کوئی کرسچن سائنس کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو ، یہ زیادہ تقویت بخش مطالعہ کی ضرورت ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ محض مظاہرے میں ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ انسان فانی عقیدے کی مسمار کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے ، جس کے تحت انسان اس حقیقت کی حقیقت اور حقیقت پر یقین رکھتا ہے جسے خدا نے کبھی پیدا نہیں کیا۔

درسی کتاب کے مطالعہ کے ذریعے ، انسان ذہنی طور پر اونچائی میں اضافے سے یہ سیکھ سکتا ہے کہ وہ جانوروں کی مقناطیسیت کی غلطی سے بالاتر ہے۔ لیکن کسی بھی مضمون کے علم کے حصول کے لئے معمول کے طالب علم کا ذہن کا رویہ ، کبھی بھی کرسچن سائنس دان بننے کے قابل نہیں ہوگا۔ بہت سارے طالب علم ہیں جنہوں نے مسز ایڈی کی تحریروں کا گہرا علم حاصل کیا ہے ، جنہوں نے جانوروں کی مقناطیسیت کے اثر سے خود کو آزاد کرنے کے لئے بہت کم کام کیا ہے۔ ایک شخص کو جو کچھ سیکھتا ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ اسے لازمی طور پر مسمار کی غلطی سے اوپر اٹھ جانا چاہئے۔ اسے جب تک اچھی طرح سے بیدار نہ ہو اس وقت تک اسے ذہنی طور پر اکھاڑ پھینکا جانا چاہئے ، اور اسی طرح چلتے رہیں گے۔ اسے خدا کی آواز سننے کے لئے سیکھنا چاہئے ، اور یہ تسلیم کرنے سے انکار کرنا چاہئے کہ کسی بھی شکل میں انسانیت کا اعتقاد خدا کو اپنے دل سے نکال سکتا ہے۔




261۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ پرانا الہیات آپ کو یہ محسوس کرنے کی طرف راغب کریں کہ مرنے والوں کے لئے ایک احترام کی ادائیگی میں کوئی فضیلت ہے ، جیسا کہ میموریل ڈے پر کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ہمیں کبھی کبھی ظاہری شکل سے گزرنا پڑتا ہے ، تاکہ انسان کے عقل کو مطمئن کیا جاسکے ، ہمیں اپنے دلوں میں اس دن کو پوری طرح سے اس عقیدے کو ختم کرنا چاہئے کہ کوئی مردہ ہے ، کیوں کہ انسان کبھی نہیں مرتا ہے۔ جب ہم موت پر دنیا کے اعتقاد پر راضی ہوجاتے ہیں ، تو ہم اپنی موت کی راہیں کھول دیتے ہیں۔ لہذا ، ہمیں ہمیشہ اس طرح کی تجاویز اور شواہد کا سختی اور سختی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔

یادگاری دن انسان کو مارنے کے منصوبے کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا زیادہ واضح اور خوفناک راستے۔ میموریل ڈے زندگی کے خلاف جنگ لوگوں کی توجہ عالمگیر ناگزیریت اور موت کی ضرورت کو دلاتے ہوئے لیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کو یاد دلانے میں کام کرتا ہے جو بھول گئے ہیں ، یہ کہ موت ناجائز ہے اور شاید ان کے آس پاس کے کونے میں گھوم رہی ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا ہے تو ، قبرستان پر ایک نظر ڈالیں! مزید برآں ، جانوروں کی مقناطیسیت کے مقصد کے مطابق سال میں ایک اچھی نظر کافی ہے - کسی امید یا توقع کو خاموش کرنے کے لئے کافی ہے کہ کوئی مرنے والا نہیں ہے۔

ایک بار جب ایک طالب علم نے اس سے میموریل ڈے کے موقع پر مسز ایڈی کے اہل خانہ کی قبروں پر پھول ڈالنے کی اجازت طلب کی تو اس نے جواب دیا ، ’’میں تم سے پیار کرتا ہوں ، اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، لیکن وہ وہاں سوتے نہیں ہیں۔ مرنے والوں کو اپنے دفن دفن کردیں۔ یسوع‘‘

کرسچن سائنس دانوں کو یہ عقیدہ توڑنا چاہئے کہ موت جیسے نام کی کوئی چیز ہے ، بجائے اس کے کہ وہ اسے پھسل دے اور اسے پھولوں کے ذریعہ خوبصورت لگائے۔ کوئی بھی اس میں خوبصورت پھولوں کی خوشبو شامل کرکے موت کی خوشبو کو بے اثر نہیں کرسکتا۔ یہ ذہنی طور پر کرنا چاہئے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک مدر سور نے اپنے بچے کو اس طرح ہدایت دی: ’’اب میں نے تمہیں صرف ایک اچھا مٹی کا غسل دیا ہے۔ کیا تم کھیل کرنے اور صاف ہونے کے لئے باہر جانے کی ہمت نہیں کرتے ہو!‘‘یوم یادگار انسانوں سے کہتا ہے ،’’میں نے موت کی ناگزیر ہونے کی تجویز سے ابھی آپ کی فکر کو تاریک کردیا ہے۔ کیا آپ ہمت نہیں کرتے کہ خود اس غلطی سے پاک ہوجائیں!‘‘




262۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہو کہ ، جب مسز ایڈی نے کسی طالب علم کو کچھ غلط ہدایات دی تھیں تاکہ وہ غلط عقائد کے کچھ مخصوص جال سے خود کو نکال سکیں ، جب آپ اسی جال میں نہیں پھنس جاتے ہیں تو آپ کو ایسے دلائل کی ضرورت ہوگی۔ جب کچھ شخص دلائل کو پورا کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے تو کچھ غلطیاں اور علامات کے لئے مخصوص دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ ، جب دلائل کا استعمال کرتے ہوئے ، ہمیں ان کو یقین کے ہر مرحلے تک بڑھانا چاہئے۔

ایک بار جب ایک طالب علم کسی بیماری سے بیمار ہوگئی تھی جسے شاید رومن کیتھولائٹس کہا جاسکتا تھا ، اس معنی میں کہ اس نے ایسی حقیقت اور اس کا بغض پیدا کردیا تھا ، کہ وہ اس کے خوف سے مستقل رہتی ہے ، گویا یہ شریر لوگوں کا ایک گروہ ہے جو شاید اس کا نقصان کرو۔

مسز ایڈی نے انہیں ایک خط بھیجا جس میں مخصوص دلائل پر مشتمل حساب کتاب کیا گیا تھا تاکہ وہ اسے توہم پرستی کے خوف سے اس کا راستہ تلاش کرسکیں ، جس نے اس یقین کو تفصیل سے لے لیا۔ اس نے کچھ حصہ میں لکھا ، ’’کوئی رومن کیتھولک نماز ، یا پیش گوئی ، یا قضاوت ، یا لعنت ، آپ کے شعور کو مدھم ، مردہ ، اندھیرے یا مشتعل نہیں کرسکتی ہے اور نہ ہی آپ کی فکر میں مسیح کی شبیہہ کو دھندلا سکتی ہے۔ مذمت کی کسی دعا میں خدا کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس میں مسیح نہیں ہے - اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ، اور ، لہذا ، اس میں کوئی طاقت نہیں ہے ، اور آپ اس سے خوفزدہ نہیں ہو سکتے۔ خدا کے سوا کوئی طاقت ، حکمرانی ، حکومت یا کنٹرول نہیں ہے۔ طاقت کا کوئی عقیدہ یا اعتقاد نہیں ہے۔ یاد رکھنا ، آپ کی اہلیت اور صلاحیت لامحدود ہے ، اور کرسچن سائنس کے الفاظ اور کاموں کو الٹا کرنے میں برائی کی کوئی کوشش آپ کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ تمام صلاحیت ، تمام کامیابی ، تمام کامیابی مردوں کے لئے ممکن ہے کیونکہ وہ انسان ہیں۔ یہ انسان کے وجود کا قانون ہے ، جس سے وہ فرار نہیں ہوسکتا ہے ، یہاں تک کہ اگر وہ یہ جان لے کہ خدا ، عقل ، شامل ہے اور ہے۔‘‘

یہ بات ظاہر ہے کہ اس طالب علم کو اس طرح کے دلائل کی ضرورت تھی ، کیونکہ وہ رومن کیتھولک مذہب کے حوالے سے خوف کے عالم میں پھنس گئی تھی۔ لیکن یقینی طور پر کسی کو ایسے دلائل کو زبانی طور پر نہیں اپنانا چاہئے ، اگر اسے ان کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ اسے انھیں اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنا چاہئے ، چونکہ مسز ایڈی نے یہ تعلیم دی ہے کہ ، استدلال کو استعمال کرتے ہوئے ، ہمیں غلطی کو پورا کرنے کے لئے اس کے مطابق ہونا چاہئے ، جس طرح اسے چلانے کے لئے کسی کے سر پر کیل لگانا ضروری ہے۔




263۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلطی کے ان تین دعووں کو ذہن میں رکھیں جو لازمی طور پر ہمارے کام ، یعنی دنیا ، گوشت اور شیطان کو غلط ثابت کریں - گناہ کی حقیقت میں ، انسان کے گناہ کرنے کی صلاحیت اور ایک گنہگار انسان میں اعتقاد ۔ خدا سب ہے۔ لہذا ، گناہ میں یقین غیر حقیقی ہے۔ انسان میں گناہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ، چونکہ خدا نے اسے کامل بنایا ہے۔ آخر کار کوئی مرد گناہ نہیں کرتے ، اور اس طرح کا ثبوت صرف آدم خواب ہی ہوتا ہے ، جو حقیقت منتشر ہوجاتا ہے۔




264۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہمارا الہی عقل کا استعمال فکر کو درست اور روحانی بنانا ہے۔ بصورت دیگر کوئی یہ مان سکتا ہے کہ آسمانی عقل بیماری کو ٹھیک کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جو چیز بیماری کا جسمانی مظہر دکھائی دیتی ہے اتنی ہی ذہنی بھی ہے جتنی غلطی جو اس کا سبب بنتی ہے۔ ایک دوسرے کی بازگشت ہے۔ لیکن کوئی اس کی بازگشت کو روک نہیں سکتا تھا جب تک کہ وہ اس کی وجہ سے خاموش ہوجائے۔

_________________

265۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کرسچن سائنس کے ابتدائی تصور کو برقرار رکھیں کیونکہ ہر چیز کو ناگوار بناتے ہوئے ، اس بشر کے جہنم کو خوشگوار مقام بنانے کے لئے آتے ہیں۔ یہ بنیادی تصویر وہی ہے جو ہمیں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے ، تاکہ ان کو اپنے حصے میں جیت سکے ، بالکل اسی طرح جیسے بحریہ میں زندگی کو چمکتے رنگوں میں رنگانا ضروری ہے ، تاکہ مردوں کو اندراج کے لئے آمادہ کیا جاسکے۔ کرسچن سائنس کا زور دار مقصد یہ ہے کہ ہمیشہ کے لئے تمام اختلافات ، یعنی انسانی ذہن کا سبب بن جائے۔ لیکن یہ جنگ اس جھوٹے عقل میں سکون نہیں ، بلکہ ایک تلوار لاتی ہے۔

بیماری ، گناہ اور غربت محض انسان کے وجود کے احساس سے وابستہ غلطی کے اشارے ہیں ، اور یہی فانی احساس ہی کرسچن سائنس کو ختم کرنے کے لئے آتا ہے۔ اسی وقت ، جب آدمی بیمار ہوتا ہے ، تو وہ سچائی کا جامع نظریہ حاصل کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی ذہنی حالت میں نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ وہ خوفزدہ ، پریشان اور الجھن کا شکار ہوتا ہے۔ بیماری اس حقیقت کا ثبوت ہے۔ لہذا اسے ٹھیک ہونا چاہئے ، اگر اسے کسی ذہنی حالت میں بحال کرنے کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے جس میں وہ حقیقت کو سمجھنے کے قابل ہو جائے گا۔ اس کی رہائی کے لئے جس قیمت کی توقع وہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اموات پر قابو پانے کے لئے پوری محنت سے کام لے گا۔ وہ ایک ایسے آدمی کی طرح ہے جو آزمائش پر رہا ہوا ہے۔ اگر وہ اس تکلیف سے آزادی سے لطف اندوز ہونے کے لئے بس گیا تو سائنس نے اسے پیرول توڑ دیا ، اور اسے دوبارہ جیل جانا پڑے گا ، جب تک کہ وہ سبق نہ سیکھے ، یعنی اس اموات ، چاہے وہ متضاد ہو یا ہم آہنگ ، اس کی حقیقت نہیں ہے وجود ، اور اس وجہ سے ضائع ہونا ہے ، تاکہ حقیقت غالب رہے۔




266۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی سے پیچھے ہٹنے میں ، آپ اس کے کسی ایسے مرحلے پر قائم رہتے ہیں جو اچھا لگتا ہے ، کیونکہ غلطی ایک ایسے مرحلے کو استعمال کرسکتی ہے جس کو آپ حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہیں ، جیسے دوسرے دعوؤں کو بھی حقیقت کے طور پر قائم کرنے کے ذریعہ۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’ایک غلطی دوسرے پر چڑھ جاتی ہے۔‘‘

لوط کی اہلیہ آخری انسانی بندھن کی نمائندگی کرتی تھی جو لوط کو اچھا لگتا تھا جب وہ مادیت سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ نمک کے ستون کی حیثیت اختیار کر گئی - یا اس نے انسان کی بے سودی کو ، یہاں تک کہ اس کی انتہائی مطلوبہ صورت میں بھی دیکھا - کیا وہ ہر غلطی سے پیٹھ پھیر کر اسے اپنی خودمختاری پر چھوڑنے کے لئے تیار تھا۔




267۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جائیں کہ آپ کا کام خدا کو یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ ہر حالت میں اپنی سوچ میں توازن قائم کرسکتے ہیں ، چاہے آپ جنت میں چڑھ جائیں ، یا بستر پر ، جیسا کہ بائبل کا اعلان کیا گیا ہے۔ واوڈ ویل میں ایکروبیٹ کسی کے سر پر توازن رکھتا ہے ، اس کی مہارت کے ثبوت کے طور پر ایک سیڑھی کو اوپر اور نیچے چڑھتا ہے۔ انسانی تجربہ ہمیں خدا کو یہ ثابت کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس کو بدترین حالات کے ساتھ ساتھ بہترین مواقع میں بھی جھلک سکتے ہیں۔




268۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ نے اپنے آٹوموبائل انجن کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں سے یہ شروع ہوا ہے ، تو آپ جلدی سے کرینک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان دنوں میں جب سیلف اسٹارٹر ایجاد ہوا تھا ، اگر آپ انجن کے آغاز کے وقت اس راستے سے نکلنے کے لئے اتنا جلدی نہ ہوتے تو ، کرینک آپ کی کلائی کو توڑ بھی سکتی ہے۔

جب ہم نے اس انسانی خواب میں خدائی طاقت کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے تو ، ہمیں جلد ہی خدا کے حالات کو دیکھ بھال کرنے پر چھوڑنا چاہئے ، جیسا کہ وہ چاہے۔ یقینی بنانے کے لئے ، ہمارا اپنا کام انجام دینے کے لئے ہے۔ لیکن جب ہم اسے ختم کرچکے ہیں تو ہمیں خدا پر بھروسہ کرنا ہے کہ وہ اس کا کام کرے ، اور خوف کے ذریعہ دلائل کو جاری نہیں رکھے گا۔

جب آپ نے اپنے پنسل کو تیز کرنے والے پر تیز کردیئے ہیں تو ، آپ کا کام ہو چکا ہے۔ اگر آپ شارپینر کو پیسنے کے لئے زیادہ دیر تک جاری رکھیں تو ، آپ محض پنسل پہنیں گے۔ اسی طرح ، جب آپ ایمان کے مقام پر پہنچ گئے ہیں ، آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ نے خدا کے تقاضوں پر عمل کیا ہے ، اور وہ باقی کام انجام دے گا۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’ہمیں خدا کے ساتھ زیادہ قریب سے بات کرنی چاہئے ، اور اس کو قریب تر لائیں ، دعا کے اس پرانے انداز کی طرح۔ ہمیں یہ محسوس کرنا اور جاننا چاہئے کہ خدا ہم ہی میں رہتے ہیں ، جیسے ماحول یا سورج کی روشنی۔ ہمارے بارے میں سب کچھ ہے۔ ہمیں خدا میں زیادہ سے زیادہ آرام کرنا چاہئے۔ جب ہم مریض ہوتے ہیں تو ہم بھی کر سکتے ہیں ، اور ہم خدا کو شفا بخشیں۔ اگر آپ کے بچوں کو علاج کی ضرورت ہو تو ، رات بھر بیٹھ کر علاج نہ کریں بلکہ اپنا علاج کریں۔ ، اور بستر پر جاکر سو جاؤ۔ ‘‘

ایک اور وقت میں ، مسز ایڈی نے لکھا ، ’’بیماروں کا علاج کرنے کے وقت کی مدت کا انحصار صرف ان کے ماد ی احساس کے خواب سے بیدار ہونے کے ادوار پر ہوتا ہے۔ اگر آپ ان کو بیدار کردیں ، خواب کو توڑ دیں تو آپ انہیں ایک علاج سے ٹھیک کرسکتے ہیں۔ ؛ اور آپ ان کے ساتھ سلوک کریں یہاں تک کہ یہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر رک جاتا ہے۔ ‘‘




269۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس حقیقت سے الجھن محسوس کریں گے کہ ان کے خطوط اور سائنس اینڈ ہیلتھ کے ابتدائی ایڈیشن میں ، مسز ایڈی نے لکھا تھا ، ’’آپ روح ہیں۔‘‘ اگرچہ اظہار خیال کرنے کا یہ انداز ان کے کام کے تازہ ترین ایڈیشن میں ظاہر نہیں ہوتا ہے ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اشارہ نہیں کیا کہ یہ غلط تھا۔

ایک بار جب ایک طالب علم نے اس بیان پر کرسچن سائنس کا ایک مکمل سلسلہ شروع کیا ، اور انتہائی آنے والے کو یہ اعلان کرنا سکھایا ، ’’میں خدا ہوں۔‘‘ اس تعلیم کی بنیاد انہوں نے درسی کتاب کے پہلے ایڈیشن پر رکھی۔ پھر بھی اس کے ایک جملے میں وہ اپنے تنازعہ کو بڑھاوا دیتا تھا ، اسے غلط فہمی کا بھی مرتکب کرتا ہے ، جب اس کے مکمل الفاظ میں اس کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ’’یہ کہ ہم روح اور روح خدا ہیں ، غیر یقینی طور پر سچ ہے ۔۔۔ لیکن حیرت انگیز حیرت ہے جو خود کو خدا کہتا ہے اور صرف غلطی والی اموات کا ثبوت دیتا ہے۔‘‘

کہانی یہ ہے کہ ایک بار مسز ایڈی نے آدم ڈکی کے ہاتھ کو چھو لیا اور اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جب اس نے اعلان کیا کہ یہ معاملہ ہے تو ، اس نے کہا ، ’’نہیں ، یہ روح ہے۔‘‘وہ دم توڑ گیا ، لیکن مسز ایڈی نے دوبارہ اس کے دعوے کو دہرایا۔ پھر اس نے درسی کتاب کے حوالے سے کہا ، ’’خدا روح ہے اور انسان روحانی ہے۔‘‘تب اس نے کہا ، ’’بہر حال ، مسٹر ڈکی ، یہ روح ہے۔‘‘ یہاں مسز ایڈی اپنے مظاہرے کی وفاداری اور مستقل مزاجی کو ثابت کررہی تھیں ، یہ ظاہر کررہے تھے کہ مسٹر ڈکی کے معاملے میں جتنے بھی زور سے حواس باختہ ہوگئے ، اس نے یہ مظاہرہ کرکے یہ دیکھنے کے لئے تیار کیا کہ وہ روحانی ہے۔ اگر آپ روشن دھوپ میں ایک خوبصورت باغ دیکھتے ہیں ، اور پھر اسی باغ میں رات کے وقت گم ہوجاتے ہیں ، تاکہ ہر پودے کو کوئی خوفناک عفریت دکھائی دیتا ہے ، اگر آپ کسی کو چھوا تو آپ کی یاد آپ کو بتائے گی کہ یہ ایک خوبصورت بلوم تھا ، اگر آپ اس حقیقت کو یاد کرنے کے لئے اپنے خوف کو کافی حد تک دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

ہمارے قائد کی تعلیم کی اس تصدیق کا مقصد کسی طالب علم کو اس اصطلاح کو اپنانے کی ترغیب دینا نہیں ہے ، بلکہ محض طالب علموں کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ ابتدائی بیانات میں غیر سائنسی نہیں تھی ، یہاں تک کہ اگر بعد میں اظہار خیال کرنے کا ایک ایسا انداز بھی سامنے آیا جس سے انسان کے عقل کی فہم کو بہتر بنایا گیا تھا۔

23 اگست ،1887 کو ، انہوں نے مسز یما تھامسن کو لکھا ، ’’مجھے یقین ہے کہ آپ مضبوط ہیں اور جانتے ہیں کہ ایک ہی عقل ہے ، اور یہ عقل آپ پر حکمرانی کرتا ہے ، آپ کے جسم اور عقل کو حقائق سے عبور کرتا ہے ، لہذا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چوری کرنے میں غلطی ، اور معاملہ آپ نہیں ہے۔ آپ روح ہیں ، خدا کا نظریہ ، اور یسوع میں جو ذہن تھا وہ آپ میں ہونا چاہئے ، کیوں کہ خدا سب کچھ ، حق کے باطن اور اندرونی نظریات ہے۔ ‘‘




270۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ایک ہوم ہاؤس کرسچن سائنسدان ہوں ، یہ پسند کرتے ہوئے کہ آپ کی بہترین ترقی آپ کے پاس آئے گی جب آپ کو کسی پریکٹیشنر یا استاد کی محبت سے کام کرنے کی مدد سے حفاظت حاصل ہوگی۔ نمو اسی وقت مستحکم اور زوردار ہوگی جب ہمت کے ساتھ اور صرف خدا کے ساتھ ہواؤں کا سامنا کرنے کی آمادگی حاصل کریں گے ، اس پر بھروسہ کریں گے کہ ہماری دیکھ بھال کریں۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ تھوڑی دیر میں ایک بار مدد کے لئے فون کریں ، لیکن ایسے اوقات انفرادی نشوونما کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔




271۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس کے پیسے کے سبب خدا سے ’’شادی‘‘ کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب کوئی لڑکی کسی امیر آدمی سے شادی کرنے جارہی ہے ، اگر اسے اس سے پیار کی بجائے اس سے زیادہ رقم کی خواہش کے ذریعہ مزید حوصلہ افزائی کی جارہی ہو ، تو دنیا سمجھتی ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی قصوروار ہے۔ اگر آپ تصور کرسکتے ہیں کہ آپ کو خدا یا صحت کے مابین اپنا انتخاب دیا جائے تو آپ کون سا انتخاب کریں گے؟ بہت سارے طالب علموں کا یہ خیال ہے کہ جب وہ واقعی غلطی سے نجات پاتا ہے تو وہ خدا کی تلاش میں ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار لکھا ، ’’خدا ، نیک ، ہمارے لفظ کے معنی میں ’’غیرت مند‘‘ہے۔ یہ سادہ دیانت ، نیکی ، سچائی اور محبت کے برخلاف کسی بھی چیز کا اعتراف نہیں کرتا ہے جس کو اچھے کی بنیاد یا سپرسٹکچر میں رکھا جائے۔ نصف صدی سے زیادہ کا کیول۔ ‘‘ اگر خدا حسد کرتا ہے ، تو پھر وہ انسان کے جلوس میں اس کے سامنے کچھ آنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ، حتی کہ وہ اپنے بچوں پر جو نعمتیں دیتا ہے۔

جب ہم خدا کے ساتھ اپنا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہئے کہ ہم کس کی سب سے زیادہ خواہش کرتے ہیں ، خدا ، یا خدا جو صلہ وفاداری کا بدلہ دیتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اکثر اس کی ضرورت ہے کہ وہ پہلے کی طرح اس کے لئے اپنی محبت کو سرخرو کردیں ، اور یہ جان لیں کہ کوئی غلطی ہمیں اس سے پہلے کسی بھی چیز کو اپنے پیار میں ڈالنے کے لئے آمادہ نہیں کرسکتی ہے۔




272۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ شکاری سے کوئی جانور بھاگتے ہوئے آپ غلطی سے بھاگ جائے۔ اپنے آپ کو اس طرح کا تصور ہمیشہ کے لئے غلطی کو برقرار رکھے گا۔ ایک بار مسز ایڈی کے ایک شاندار طالب علم کو بوسٹن سے بھاگنے کا لالچ ملا ، کیونکہ اسے لگا کہ ان کی ہدایت کی گئی حسد اور بددیانتی کی وجہ سے وہ بیمار ہو رہے ہیں۔ اس نے لکھا: ’’یہ عقیدہ جو آپ کو خوفزدہ کرتا ہے وہ آپ کا اپنا ہی ہاتھ ہے اور اسے نیچے رکھو۔ نہ ہی آپ اور نہ ہی وہ سچائی کے خلاف لڑ سکتے ہیں ، یہ حقیقت ہے کہ اچھاہی آپ کی زندگی ہے ، اور اچھی کام آپ کو برقرار رکھتا ہے لیکن برائی سے ڈرتے ہو ، آپ اسے کھو ۔۔۔ اگر آپ چاہیں تو بوسٹن اور اس کے آس پاس رہیں ، میں جانتا ہوں کہ آپ اسے ، جھوٹ کو ، اسی طرح اور کہیں اور بھی عبور حاصل کرسکتے ہیں۔ جھوٹ سے پہلے بھاگنا اس کی شرائط کو قبول کرنا ہے۔ لڑائی۔ جب تک آپ خدا کی ذات پر بھروسہ نہیں کرتے اور روح پر قائم رہتے ہیں ، مادے اور انسانیت عقل کے تمام دعوؤں کی تردید کرتے اور ان کا مقابلہ کرتے اور لڑتے رہتے ہیں۔




273۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ سمجھ گئے ہیں کہ مسز ایڈی کا کیا مطلب تھا جب انہوں نے کہا (متفرق 210) ، ’’۔۔۔ غلطی ، جب پتہ چلا تو دو تہائی تباہ ہوجاتی ہے ، اور باقی تیسرا خود ہی ہلاک ہوجاتا ہے۔‘‘

ایک بار مسز ایڈی نے کہا ، ’’کیا آپ ، میرے پیارے ، لیکن آپ کے نقطہ نظر کی عظمت ، آپ کی امید کی عظمت ، اور اپنے وجود کی لامحدود صلاحیت کو دیکھ سکتے ہو ، آپ کیا کریں گے؟ غلطی خود کو ہلاک کردے؟ یہ آپ کے پاس آتا ہے۔ زندگی کے لئے اور آپ اسے واحد زندگی دیتے ہیں جو کہ اعتقاد ہے۔ ‘‘

کٹوتی یہ ہے کہ غلطی کا پردہ فاش ہوا ہے یا پتہ چلتا ہے ، تب ہی جب آپ دیکھیں گے کہ آپ نے ساری زندگی اس کے اعتقاد میں دی ہے۔ جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو ، ایک ہی وقت میں آپ اس طرح کی حمایت واپس لیتے ہیں ، اور اس طرح غلطی دو تہائی تباہ ہوجاتی ہے۔ پھر باقی تیسرا ، جو ظاہر ہے ، جس کا کوئی سہارا نہیں ہے ، خود کو مار ڈالتا ہے۔




274۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کرسچن سائنس کو درد اور تکلیف کو پیچھے چھوڑنے کے لئے استعمال کریں۔ بلکہ آپ کو اپنی سمجھ اور جر ت کو مضبوط بنانے کے لئے اسے استعمال کرنا چاہئے ، تاکہ جب یہ حالات آپ کا مقابلہ کریں ، تو آپ ان سے بچنے کی کوشش نہیں کریں گے ، بلکہ آپ اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان سے ملیں گے ، اور اس طرح ان پر قابو پائیں گے۔

سائنس کی اعلی درجے کی تفہیم سے یہ قاعدہ لایا جاتا ہے ، کہ ہمیں طہارت ، استحکام اور آئندہ کی ذمہ داریوں کی تیاری کی خاطر ، سائنسی طور پر غلطی کے تحت کھڑا ہونا سیکھنا پڑا ہے۔ حکمت سے ہمیں یہ پڑھانا چاہئے کہ غلطی دور نہ ہونے کی دعا کبھی نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ایمان ، ہمت اور افہام و تفہیم کے لئے اس کے سامنے کھڑے ہونے کی دعا کرنی چاہئے یہاں تک کہ ہم اس سے اپنا خوف اور اس پر یقین کھو بیٹھیں۔ تب یہ غائب ہوجائے گا۔ متفرق کتاب کے صفحہ 143 پر ، ہم پڑھتے ہیں ، ’’جب یہ چیزیں برکت دینے سے باز آجاتی ہیں تو وہ رونما ہوجائیں گی۔‘‘




275۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یہ محسوس نہ ہو کہ ترقی کے آپ کے موجودہ مرحلے میں سائنس آپ سے جسم یا اس کے کسی بھی اعضاء اور افعال سے انکار کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ مسز ایڈی ہمیں اس کی کوئی نظیر نہیں دیتی ہیں۔ متفرق صفحہ 217 پڑھیں۔

جب گلبرٹ سی کارپینٹر مسز ایڈی کے گھر میں رہ رہے تھے ، اس وقت کیلون فرائی نے انہیں ہدایت دی کہ ان سے کبھی انکار نہ کریں کہ ان کا دل ہے ، کیونکہ اس وقت ہمیں ایسا دل لگتا ہے جو ہم آہنگی سے چلتا ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ ہمیں پیٹ کی ضرورت ہے۔ بلکہ ہمیں ، موجودہ وقت میں ، اس مظاہرے کی کوشش کرنی چاہئے جس کی وجہ سے مادی عقل سائنس کا خادم بن جائے (سائنس اور صحت ، صفحہ 146)۔

ایڈورڈ کم بال نے ایک بار ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پیٹ میں جو کچھ ہے وہی خدا کو اس کے بارے میں معلوم ہے۔ انہوں نے لکھا ، ’’جسم کا ہر عضو یا فعل خدا کا خیال ہے ، اور پیٹ میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں سچائی ہے۔ یہ ہر وقت بالکل ٹھیک ہے ، ناقابل معافی ، کامل۔‘‘ جب مسز ایڈی نے اپنی مخطوطہ درست کی تو اس نے پہلے جملے کے بعد مارجن میں لکھا ، ’’ایک جھوٹ‘‘۔ پھر بھی وہ صرف وہی بتا رہا تھا جو اس نے اسے سکھایا تھا! اس نے ماد ے سے کہا ، ’’اعلان کرو ،’میں خدا میں ایک کامل جگر رکھتا ہوں‘ ، اور اس اعلامیہ کی روحانی درآمد سے جگر کے بارے میں غلط تصور کو ختم کردیں۔ آپ اعلان کرسکتے ہیں ، ’میرا کامل جگر ہے ،‘ یا’کوئی بات نہیں جگر ، ‘بشرطیکہ ان اعلانات کی سوچ صحیح ہو۔ ‘‘

اس سے ہم یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس نے جھوٹ کے طور پر اس نے لکھی ہوئی چیزوں کو نشان زد کیا ، چونکہ اس کو سائنس نے اس انداز میں قرار دیا تھا کہ ان لوگوں کے لئے جو ان مضمون کو لکھا جارہا تھا ، سمجھ میں نہیں آتا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب حقیقت میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ حقیقت سننے والا اسے جھوٹ کا درجہ دے سکتا ہے ، یا اگر اس کے پیچھے غلط سوچ ہے تو۔

مسز ایڈی نے ایک بار مسٹر کِم بال کو لکھا تھا: ’’جسمانی اور فانی عقل ایک ہیں۔ میں یہ جانتا ہوں اور جسم کے لئے کوئی فکر نہیں کرتا۔ دیکھو کہ آپ کی سوچ صحیح ہے اور آپ کا پیٹ بھول جائے گا ، کیونکہ آپ کے پاس کوئی بھی نہیں ہے۔ سچائی ۔اس سچائی پر قائم رہو اور سب ٹھیک ہے ، اگر آپ کا دایاں ہاتھ مجرم ہے تو اسے اپنے پاس سے پھینک دو ، اپنے جگر کو نکال دو ، خدا آپ کی زندگی ہے اور آپ جگر ہیں اور کوئی دوسرا جگر نہیں ہے۔ یہ برائیاں نکال رہا ہے اور یہ ایمان لانے والوں کے پیچھے نشانیاں آئیں گی۔‘‘

مسز ایڈی نے ڈاکٹر بیکر سے یہ بھی کہا ، ’’یہاں مادی پھیپھڑے نہیں ہیں۔ اگر وہ آپ کو مجرم سمجھیں تو انھیں نکال دیں - اپنے اعضاء کے جھوٹے احساس کو ختم کردیں۔ کرسچن سائنسدانوں کو یہ کہنا چاہئے کہ ان کا کامل پھیپھڑوں ، کامل معدہ ، کامل دل وغیرہ ہیں۔ بطور نظریہ ، روحانی۔ ‘‘

خود مسز ایڈی نے ایک بار سوال کیا کہ کیا ماں بننے والے شخص کے لئے سائنسی بیان اتنا مضبوط نہیں ہوسکتا ہے کہ! جب ہم یہ محسوس کریں گے کہ خدائی محبت انسان کی ضرورت کو پورا کرتی ہے ، تو ہم اس انسانی ضرورت کو دھیان میں رکھیں گے ، اور وجود سے انکار کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جو اب بھی انسانی طور پر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سائنس اور صحت پڑھیں ، 427: 23۔




276۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہمارے برانچ چرچ کے کاروباری اجلاسوں کے مشترکہ تصور کو اپنائیں جو ممبروں کو چرچ کے کاروبار کو موثر انداز میں لین دین کرنے کے قابل بنائے جانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ روحانی نمو سائنس میں ایک اہم چیز ہے ، اور یہ تب ہی آسکتا ہے جب کوئی اعلان کرتا ہے ، ’’میری مرضی نہیں ، بلکہ تیرا کام ہوجائے۔‘‘ ہماری کاروباری میٹنگیں صرف اس وقت تعمیری ہوں گی جب وہ خدا کی مرضی کو ظاہر کرنے اور انسانی ذہن کی تمام رائے ، خود ارادیت اور استعمال کو ظاہر کرنے کے لئے ممبرشپ کی جانب سے کی جانے والی کوشش کی نمائندگی کریں۔ کاروباری تربیت یا انسانی تجربہ جو بھی ممبر رکھتا ہے وہ صرف حق کے تابع ہونے میں استعمال ہونا چاہئے۔

سائنس میں ہم انسانی ذہن کو خدا کے قابل دشمن کے طور پر متعین کرتے ہیں۔ بدھ کی رات ہم حیرت انگیز شفا یابی کی گواہی دیتے ہیں جس کے نتیجے میں جب ہم اس غلط عقلی ذہن کو الٰہی عقل کی طاقت کے ساتھ دباتے ہیں۔ کاروباری جلسوں میں اس غلط ذہن کو لانا ، اور اس طرح کے اجلاسوں کو تسلیم کرنے کے بجائے کسی مظاہرے کے استعمال کو وسعت دینے کا موقع سمجھنے کی بجائے ، اس جزبے کو کاروبار کے لئے استعمال کرنے پر اصرار کرنا کتنا متضاد اور متضاد ہوگا۔ نہ صرف بہترین علاج کرنے والا ، بلکہ چرچ کا کاروبار کرنے میں سب سے موثر انٹلیجنس ثابت ہوا۔

اگر اتوار کی خدمات ہمیں اوپر کی طرف لے جاتی ہیں اور بدھ کی شام کی میٹنگیں ہمیں آگے لے جاتی ہیں تو ، اس کے بعد کاروباری ملاقاتیں ہمیں بیرونی طرف لے جانے چاہئیں۔ دوسرے لفظوں میں مسز ایڈی نے انہیں ہمارے لئے مہیا کیا ، تاکہ ہم اپنے تجربے کے استعمال کو وسعت دینے کے لئے انسان کے تجربے کے تمام منٹوں کو ڈھکنے کے لئے سیکھیں۔




277۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے لئے قانون کو قائم کرنے میں نظرانداز کریں جس میں کہا گیا ہے کہ ، جیسے ہی ہم روحانیت اور حساسیت میں اضافہ کرتے ہیں ، ہمیں فانی فکر سے متاثر ہونے یا اس کے متاثر ہونے کے امکان سے بالا تر کردیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس قانون سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہتے ہیں تو ، عقلی ذہن دعویٰ کرے گا کہ جیسے ہی ہم روحانی طور پر زیادہ حساس ہوجاتے ہیں ، اور غلطی سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں ، ہماری ترقی سائنس کی بجائے کسی تکلیف میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ غلطی کے خلاف حساسیت کو ترقی کی ضرورت کے بجائے انکار کرنے کی دلیل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے ، جب تک کہ ہمیں اس طرح کی حساسیت کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ لگے ، جیسا کہ ہمارے قائد نے بعض اوقات ایسا کیا تھا تاکہ دریافت کیا جا سکے کہ غلطی کیا کررہی ہے ، اس کا راز مقاصد کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

مسز ایڈی کی تاریخ ان اوقات کی نشاندہی کرتی ہے جب وہ اپنی غلطی کی بڑھتی ہوئی حساسیت کی وجہ سے دوچار تھیں ، لیکن یہ قائد کی حیثیت سے ان کی قربانی کا حصہ تھی۔ اس نے غلطی کا انکشاف کیا تاکہ وہ ہمیں اس کے لئے تریاق دے سکتی ہے۔ ایک بار جب اس نے کہا ، ’’جتنا اونچی ہم آہنگی کا احساس ہوتا ہے ، وہ اس سے اختلاف کرنے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ موسیقی میں بھی وہی ہوتا ہے۔‘‘ اس نے یہ بات اسے اپنے تجربے کے طور پر بتائی جب اسے روحانی قانون کو استعمال کرنے کا طریقہ سیکھا گیا تھا ، جو دوسروں کے خیالات سے دوچار ہونے کی ضرورت کو بے اثر کرتا ہے۔ یہ سچ ہونا ضروری ہے کہ جیسے ہی ہم روحانی طور پر چڑھتے ہیں ، ہم فانی ذہن کی پہنچ سے اوپر اٹھتے ہیں۔ لہذا ، ہماری غلطی کے خلاف بڑھتی ہوئی حساسیت صرف اس وقت تکلیف کا باعث بن سکتی ہے جب ہم اس کی سطح پر قائم رہیں۔




278۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے لئے خدا کی منزل مقصود تلاش کرنے کے بجائے روحانی پیشرفت کے اپنے نظریہ کی کوشش کریں۔ یقین ہے کہ اس کے مقدر میں ترقی ہو رہی ہے ، لیکن یہ خدا کا کاروبار ہے اور وہ اس کا خیال رکھتا ہے۔ ہمارا کاروبار اپنا مقدر تلاش کرنا ہے ، کیونکہ یہ خدا کا مقدر ہے جو ہمارے لئے لے گا ، جب ہم اسے ڈھونڈیں گے۔

جب کوئی سائنس میں اپنی پیشرفت کے بارے میں بے چین ہوجاتا ہے تو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے خیالات کے مطابق ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’اپنی ترقی کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونا خدا کے سوا کسی شخص کو تسلیم کرنا ہے!‘‘

اگر ماسٹر اپنی ترقی پر زیادہ فکر مند ہوتا تو وہ کبھی بھی صلیب کے سامنے پیش نہ ہوتا۔ پھر بھی اس کا خدا کا مقدر اس کے لئے ہوا جس نے دنیا میں بھلائی کے مقاصد کی تکمیل کی جس کی وجہ سے اور کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ یسوع نے ثابت کیا کہ جب وہ خدا کے تقدیر کو ڈھونڈ رہا تھا تو اس نے کہا ، ’’میں آپ کے ہاتھوں میں اپنی روح کی تعریف کرتا ہوں۔‘‘




279۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلطی سے استثنیٰ کا دعوی کریں ، جبکہ آپ اب بھی کسی اور میں اس کی حقیقت کا احساس برقرار رکھیں گے۔ کسی دوسرے پر گناہ کا احساس ڈالنا اپنے اندر کا گناہ بے نقاب کرتا ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’جب تک آپ مذمت کو دیکھنے سے انکار نہیں کرتے ہیں تب تک آپ کی مذمت کی جائے گی۔‘‘ متفرق تحریروں کے صفحہ 131 پر بھی ہم نے پڑھا ، ’’جو بھی دوسروں کی غلطیوں کو للکارتا ہے اور اپنی ہی پرواہ کرتا ہے ، وہ نہ تو اپنی مدد کرسکتا ہے اور نہ ہی دوسروں کی۔‘‘




280۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہو کہ آپ نیکی کی حقیقت کے پرامن احساس کے ساتھ رہ سکتے ہیں ، خدا کے اعلی احساس کو برقرار رکھ سکتے ہیں، اور اس شعور کو قائم کرسکتے ہیں تاکہ ہلکے طریقوں سے یہ مستقل ہو۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’یسوع اختیار کے مالک کی حیثیت سے بولا تھا۔ کسی مریض سے نرمی اور خوشگوار الفاظ اس وقت کریں گے جب خوف کو خاموش کرنا ہو گا ، لیکن جب غلطی کی کوئی حقیقت موجود ہے تو اسے ختم کرنے کے لئے آپ کو حکم دینا ہوگا اقتدار۔‘‘

ہلکے طریقوں کے ذریعہ یہ نقطہ ڈھونڈنا ممکن ہوسکتا ہے جہاں کیل لگانا ہے ، لیکن اسے گھر چلانے میں ہتھوڑا لگنا پڑتا ہے۔ سائنس میں حصول پُر امن ہوسکتا ہے ، لیکن برقرار رکھنے میں ہمیشہ جانوروں کے مقناطیسیت کو پورا کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ہمیں فعال اور طاقتور مزاحمت پر آمادہ کرے تو یہ غلطی ہمارا دوست بن سکتی ہے۔

بہت سارے طلباء نے محسوس کیا ہے کہ اگر وہ خدا کی طرح بطور ایک خوبصورت احساس برقرار رکھنے کے اپنے راستے میں کچھ بھی نہیں کھاتے ہیں تو ، وہ ایک بہت اچھا وقت گزار سکتے ہیں۔ پھر بھی مسز ایڈی نے ایک بار لکھا ، ’’مسیح کی خوشخبری شان کی خوشخبری تھی جو کبھی تکلیف کی خوشخبری کے بغیر نہیں دی جاسکتی تھی۔‘‘ ایک پرائز فائٹر اس کا گراؤنڈ تھام کر جیت جاتا ہے۔ اسی طرح طلباء کو غلط ترجیحات اور دلیل کی تمام لطیف کوششوں کے خلاف اپنا موقف برقرار رکھنا سیکھنا چاہئے تاکہ ان کو پیچھے چھوڑ دیا جاسکے۔

طلباء اس وقت کے منتظر ہوسکتے ہیں جب انھیں کوئی مشکلات پیش نہ آئیں ، پھر بھی ہم سب کو مصیبت کے تحت آزمایا جانا چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ جب تک ہم اسے تکلیف میں نہیں کرسکتے ہیں تب تک ہم غلطی کو ختم کرنے کی صلاحیت کا دعوی نہیں کرسکتے ہیں۔

متفرق تحریروں میں مسز ایڈی ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمیں اپنے لیوینڈر بچے کا جوش ختم کرنا چاہئے اور حقیقی اور تقدیس پسند یودقا بننا چاہئے۔ طلباء جو تمام تر کشمکش کو جھوٹ کے ساتھ دوچار کرتے ہیں ، جب تک کہ ان پر اس طرح کا تنازعہ مجبور نہ ہوجائے ، بعض اوقات اس ہچکچاہٹ کا اندیشہ اس خوف سے پائے جاسکتے ہیں کہ اس طرح کی جنگ میں وہ خدا کو کھو سکتے ہیں ، یا ان کی نظریاتی سوچ پھر بھی ، کسی کو اپنے دعووں کو برقرار رکھنے کے لئے برائی کی جھوٹی کوششوں سے کہیں زیادہ اپنی فہم کو ثابت کرنا چاہئے ، اس سے پہلے کہ وہ ایک حقیقی کرسچن سائنسدان ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ طلباء کو لازمی ہے کہ وہ اپنی چیزیں سیکھیں اور اسے غلبہ کے ساتھ ظاہر کریں۔ انھیں غلطی کے دعوؤں کے ساتھ رابطے میں آنا چاہئے اور تمام تر مخالف ثبوتوں کے باوجود ان کی سائنسی سوچ کو قائم رکھنے کی ان کی قابلیت کو ثابت کرتے ہوئے فاتح آنا چاہئے۔ تب وہ بجا طور پر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ حق کو فتنوں کے ہتھوڑے کے ذریعہ گھر پر کیلوں سے باندھ دیا گیا ہے ، تاکہ جو انسانی معنوں میں غصہ لگتا تھا ، بے خبر فرشتہ بن گیا۔

مسز ایڈی نے کہا ، ’’شیطان سے بات کرتے وقت مسکرانا اور خوشگوار نظر آنا کافی نہیں ہے ، اختیار کے ساتھ بولیں اگر ضروری ہو تو اپنے پیر پر مہر لگائیں اور حکم دیں جیسے یسوع نے کیا تھا۔ مسکراہٹ اور خوشی سب ہوگی ٹھیک ہے جب آپ گوشت سے باہر ہو ، لیکن گوشت میں آپ کو جدوجہد کرنی ہوگی۔ ‘‘




281۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ غلطی کرتے ہیں تو غلط سوچ کے مخالف سوچ کے بغیر انکار کریں گے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’حقیقی سوچ میں رکھے بغیر شخص اور مادی میکانزم سے انکار نہ کریں۔‘‘




282۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ غلط سوچ کے اشارے اور خود غلط سوچ کے خاتمے کی خواہش اور کوشش کے مابین واضح طور پر سوچتے رہتے ہیں۔ جنگ کو زمین سے پاک کرنے کی خواہش سائنسی نہیں ہے۔ دنیا کو غلط سوچوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یہ کام انجام پائے اور انسان کے دل میں جنگ نہ ہو تو وہ کسی کا اظہار نہیں کرے گا۔

غلط سوچ کے اثرات خود کو غلط سوچنے سے کہیں زیادہ سنگین سمجھتے ہیں ، بالکل اسی طرح جیسے کسی بم کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ معلوم ہوتی ہے جب آپ بم کو پھٹنے سے پہلے اس پر غور کرتے ہیں۔ مابعدالطبیعیات کے طالب علم کی تعلیم و تربیت کا ایک حصہ اس کو گناہ کی سنگینی سے بطور خاص متاثر کرنا ہے - جب اسے گناہ کے اثرات کے برعکس - جب اسے غیر مہذب ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔

جب سمندر پرسکون ہوجاتا ہے اور ماہی گیر جہازوں میں سوار ہوجاتے ہیں تو ، ایسا لگتا ہے کہ اس طرح اپنے آپ کو مادر جہاز سے الگ کرنے میں کوئی سنجیدہ بات نہیں ہے۔ لیکن جب دھند اچانک چل پڑے اور جہاز کو پھٹا دے تو وہ چھوٹی کشتیوں میں رہ جائیں گے جو غیر محفوظ ہیں۔

خدا ہمارا مدر جہاز ہے اور ہمیں اس کے قریب رہنا چاہئے۔ خدا سے علیحدگی کے اعتقاد کے طور پر موت کے عقل اپنے آپ کو سنجیدہ نہیں سمجھ سکتے ہیں ، یہاں تک کہ دھند کی آواز آتی ہے۔ پھر بھی خدا سے جدا ہونے کا سارا دعویٰ ایک خواب ہے۔ تاہم ، جب تک کہ طالب علم اسباب سے زیادہ سنگین طور پر اثر انداز نہیں کرتا تو اسے کبھی بھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسے یہ سیکھنا چاہئے کہ اسے کبھی خوف کے اثر کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت میں ، اسے کبھی بھی وجہ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، صرف اسے درست کرنے کے لئے کافی ہے۔ وجہ سے خوف جو اصلاح کی طرف جاتا ہے ، اسے رب کا خوف کہا جاسکتا ہے ، جسے مسز ایڈی نے ایک بار ’’صحت بخش خیال کہا تھا۔‘‘




283۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ سلوک کو معاملات کے جھوٹے دعوؤں سے آزاد کرنے اور فکر کو روحانی بنانے کی بجائے ، سچ کو ہم آہنگ کرنے والے معاملے کے طور پر سلوک کے عمل کو قبول کریں۔ سائنس میں ہم یہ سیکھتے ہیں کہ جسم پر دکھائی دینے والی بیماری اتنی ہی ذہنی ہے جتنی کہ اس کے ذہن میں انسانی عقل ہے۔ کلاس میں مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ،’’اب ان لوگوں کا کیا ہوگا جو دعویٰ کرتے ہیں جیسے کہ: سچائی کو اعلان کرنا معاملہ سے ہم آہنگ ہوتا ہے ، یہ حقیقت معاملہ کو ٹھیک کردے گی ، یا کسی بھی طرح سے معاملہ کو ٹھیک ہونے کا موجب بنائے گی۔ اگر ہم مانیں تو وہاں موجود ہے اس کے بعد ، ہمیں تمام اسباب اور اثرات ، تمام عقائد کو تسلیم کرنا چاہئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پھر کبھی بھی بات کو تسلیم نہیں کریں۔‘‘




284۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کی آنکھ واحد ہو۔ اکیلی آنکھ وہ ہوتی ہے جو اثر کے بجائے مقصد یا خیال کو دیکھ رہی ہے۔ ایک ڈبل آنکھ ایک ہوگی جس نے مقصد اور اثر دونوں کو دیکھنے کی کوشش کی۔ درسی کتاب کے ابتدائی ایڈیشن میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے جسموں کی بجائے اپنے عقائد کو دیکھیں۔

جب ہماری سوچ اصول تک پہنچ جاتی ہے ، تب تک ہم رابطہ نہیں کرسکتے ہیں ، جب تک کہ ہم اپنے تمام خیالات کو پیچھے نہ چھوڑ دیں ، تاکہ ہم جسم سے غائب ہوں اور خداوند کے ساتھ حاضر ہوں۔ یہاں تک کہ اثر کو شفا بخشنے کے لئے خدا تک پہنچنا بھی غیر سائنسی ہے۔ ہمارا پورا مقصد ہونا چاہئے کہ اثر کے حوالے سے اپنی سوچ کو درست کریں۔ جب یہ کام ہوجائے گا ، تو اظہار خود اس کا خیال رکھے گا۔

جب ہم کسی بد نظمی سے نجات پانے کے واحد مقصد کے ساتھ اپنی سوچ کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہماری آنکھ دوہری ہوجاتی ہے۔ ہم اپنے جسم اور اپنے عقائد دونوں کو دیکھ رہے ہیں۔ جب کوئی وجہ اور اثر میں گھل مل جاتا ہے تو ، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے مابعدالطبیعات کی سائنسی تفہیم نہیں ہے ، جو عقل کو وجہ کے طور پر متعین کرتا ہے۔




285۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اعصاب میں موجود ناگ کی بجائے اعصاب کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ جب مسز ایڈی میساچوسٹس میٹفیزیکل کالج میں ڈاکٹر الفرڈ بیکر کو پرسوتی شعبے میں کورس پڑھانے کے لئے تیار کررہی تھیں ، تو انہوں نے اس کلاس کے خوبصورت گوشوارے کی حیثیت سے انہیں مندرجہ ذیل بیان دیا ، ’’خدا کی تازہ ترین خبر: سانپ کو اعصاب میں سنبھال لیں۔‘‘ اسی کے ساتھ ہی اس نے آگسٹا اسٹیٹسن کو ایک ٹیلیگرام بھیجا ، ’’بجلی اعصابی مراکز میں زہر نہیں پہنچا سکتی۔‘‘

اپنی ایک کلاس میں مسز ایڈی نے اس طرح پڑھایا: ’’ایک اعصاب بات کرنے والا ناگ ہے جو ابتدا ہی سے جھوٹ تھا۔ غلطی وہ بات کرنے والا ناگ ہے جو آپ سے ماں اور یسوع اور اپنے اور آپ کے بھائیوں کے خلاف بات کرتی ہے ، اور بات نہیں کرسکتی ہے۔ سب کچھ ۔سچ ہے۔ خدا ہر وقت باتیں کرتا رہتا ہے اور کچھ بھی نہیں ہے ناگ محض ایک عقیدہ ہے - ان الفاظ کے ذریعہ وضاحت کی گئی ہے ، ذاتی احساس کا اعتقاد جو سچائی کے تحت چلتا ہے ایک ہم آہنگ عقیدہ ہے۔ حقیقت میں حکمرانی والا ایک ہم آہنگ عقیدہ روحانی احساس ہے - تفہیم۔ ‘

’’خدا نے موسی کو سانپ کو سنبھالنے کے لئے کہا ، لیکن موسیٰ نے اس سے بھاگنے کی کوشش کی۔ خدا نے اسے واپس جاکر اسے سنبھالنے کا کہا۔ موسیٰ نے کہا ، سانپ کہاں ہے؟ خدا نے ایک نہیں بنایا۔ خدا نے کہا ،’ سنبھال لو سانپ ، ‘اور اس نے کیا ، اور یہ ایک لاٹھی بن گیا۔ موسی کی لاٹھی بدنیتی پر مبنی تھی ، اور جب اس نے اسے سنبھالا تو یہ ایک طاقت تھی ، کیونکہ وہ بہت سے خداؤں اور بہت سے خداؤں پر قدرت رکھتا تھا ، اور یہ ایک عملہ تھا تکیہ کرنا۔

’’موسیٰ نے جس چھڑی کو نیچے پھینک دیا ، وہ خدا کی وسیلہ بن گیا ، اچھی طاقت۔ موسیٰ کے پاس جو چھڑی تھی ، خدا نے اسے نہیں دیا ، لیکن خدا نے اسے حکم دیا کہ اسے نیچے پھینک دے ، اور یہ سانپ بن گیا ، اس کا دشمن۔

’’پھر خدا نے موسیٰ سے (جو خوف سے بھاگ گیا) سے بات کی اور اسے حکم دیا کہ سانپ کو اٹھاؤ (کچھ بھی نہیں دکھاؤ) اور یہ ایک چھڑی بن گیا۔

’’وہ توقع نہیں کرسکتا تھا کہ وہ چھڑی کی طاقت کو ایک ہی وقت میں پھینک دے ، لیکن اسے لاٹھی کی حیثیت سے رکھنا چاہئے ، - یہ خدا کی طاقت بن جائے ، - یہ (بیماری ، غلطی) ہمارے اندر نجات تک پہنچنے کے کام کو دیکھیں۔‘‘

خدا کی طرف سے زبردست انکشاف ، یا تازہ ترین خبر ، جو مسز ایڈی نے ڈاکٹر بیکر کی کلاس کو بھیجی وہ یہ تھی کہ ہمیں اپنے اعصاب کی مذمت نہیں کرنی چاہئے ، اس کے بجائے ہم اپنے ریڈیو کی مذمت کریں ، کیونکہ یہ ایسے پروگرام میں ڈھالا گیا تھا جو ہمیں پسند نہیں تھا۔ اعصاب کے اعتقاد کے ذریعہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری تمام تکلیف آتی ہے۔ لیکن ان کو تباہ کرنے کے لئے کام کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ، کیونکہ فانی عقل نے انہیں کبھی پیدا نہیں کیا! لہذا جو چیز اعصاب کی حیثیت سے ظاہر ہوتی ہے وہ خدا کے وسائل اور روحانی نظریات کو بات چیت کرنے کے طریقوں کی انسانی بگاڑ ہے۔ وہ روحانی اینٹینا ہیں جس پر اچھے کے قیمتی پیغامات منتقل ہوتے ہیں۔ روحانی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ خدا کی عطا کردہ وسیلہ ہیں جس کے ذریعے انسان خدا ، انسان اور کائنات سے آگاہ ہوجاتا ہے۔

اعصاب میں موجود ناگ اس روحانی استعمال کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ، یا یہ دعوی ہے کہ اعصاب خود سے ذہین ہیں ، بات کر سکتے ہیں اور انسانوں کی موجودگی اور وجود کے بارے میں باضابطہ بناتے ہیں جو غیر حقیقی ہے ، یعنی اچھ ،ی یا برائی کے برعکس۔ . ناگ کی تجویز کے ذریعے یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ اعصاب ایک ایسا میڈیم ہوسکتا ہے جس کے ذریعہ بشر انسان مادے ، درد ، تکلیف ، بیماری اور موت سے راضی ہوجاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی دشمن آپ کے ٹھنڈے پانی کے نل کو گرم پانی سے جوڑ دے۔ جب آپ کو کولڈ ڈرنک چاہیئے تو آپ پائپ کی مذمت نہیں کریں گے اگر اس نے گرم پانی دیا۔

بات کرنے والے ناگ سے پتہ چلتا ہے کہ اعصاب وہ میڈیم ہیں جس کے ذریعے ناخوشگوار بات انسان کے لئے آتی ہے ، لیکن یہ وہ جھوٹ ہے جسے سنبھالنا ہوگا۔ ایسا کرنے سے اعصاب سے نجات حاصل کرنے کی کوشش نہیں ہوتی بلکہ ان کے مادی احساس کو ختم کرنا ہے۔ جب مسز ایڈی نے طلبا کو کھانا پینے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا ، کھانے کی مادی معنویت کے بجائے ، انہوں نے کہا ، ’’یہ نہ کہو کہ کھانے میں کوئی ذہانت نہیں ہے۔ زمین انسان کے استعمال کے لئے کھانا لاتی ہے اور ہمیں الہی ذہانت کی عکاسی کرنا ہوگی۔ جو ہمیں اس کھانے کو استعمال کرنے کے قابل بناتا ہے اس بیان پر قائم رہو کہ خدائی ذہانت انسان کو ہدایت کرتی ہے اور اس پر حکومت کرتی ہے ، انسان کھاتا ہے ، سوتا ہے ، چلتا ہے اور ہم آہنگی کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ حقیقی مسیح کی تصویر کشی کریں انسان ساختہ شبیہہ نہیں ہے۔ ‘‘

فانی عقیدے کی دنیا جس طرح اعصاب پر کرتی ہے اسی طرح کھانے پر بھی غلط سلوک کرتی ہے۔ یہ غلط سلوک کرنے والا ناگ ہے جسے سنبھالا جانا چاہئے۔ یسوع نے کھانا کھانے کی ترغیب دی ، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ ہمارے موجودہ تجربے کے موقع پر ، یہ کھانا نہیں ہے جسے ہمیں ختم کرنا چاہئے ، بلکہ یہ یقین ہے کہ یہ مادی ہے ، کہ یہ معیار یا مقدار کے ذریعہ انسان پر منفی اثر ڈال سکتا ہے ، یا یہ ہوسکتا ہے کہ فانی عقل کے لئے میڈیم. اگر خدا اپنی عطا کردہ نعمتوں سے غائب نہیں ہے تو پھر ہمیں کبھی بھی اس بات پر غور نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی خوبی اور محبت اپنے بچوں کو فراہم کردہ کھانے سے غائب ہے۔

جب یسوع نے اپنے شاگردوں سے عشائیہ کے موقع پر ملاقات کی تو کھانا کھانا روحانی ترقی کے لئے ایک چینل بن گیا۔ جب کھانے کو الہام اور برکت کے لئے ایک چینل کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو ، انسان کی روحانی فطرت کو کھلایا جاتا ہے ، اسی وقت اس کی عارضی مادی ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔

خوراک اور اعصاب کبھی بھی انسان کی بازی کا سبب یا ذریعہ نہیں ہوتے ہیں۔ یہ ناگ ، یا بھوک یقین ہے ، جو مادے کو بطور وسیلہ استعمال کرنے کا دعویٰ کرتا ہے جس کے ذریعے انسانوں کو غلام بنانا ہے۔ جب اس بشرطیزہ عقیدہ کو کھانوں سے نکالا جاتا ہے تو ، اسے پانی کی کمی سبزیوں سے تشبیہ دی جا سکتی ہے ، جس میں سے سارا پانی لیا گیا ہے۔ شاید کوئی یہ کہے کہ اجنبی بیٹے نے یہی کیا۔ جب اس نے ساری زندگی ، سچائی ، مادہ اور ذہانت کو مادے سے ہٹادیا تھا ، تو بھوسی کے سوا کچھ نہیں بچا تھا ، جس کے پاس اس کے خیال کو فانی سطح پر رکھنے کے لئے وزن نہیں تھا۔ تب وہ عقل کے شعور میں بے ہودہ ہوکر واحد حقیقی مادہ بن گیا۔ بھوسی عقل کی برکت کا چینل بن گئی اور اب اس کو معاملہ کی حیثیت سے نہیں دیکھا گیا۔

کیا آپ اس کی وجہ سے کسی وینٹریلوکیسٹ کے ڈمی کو ختم کردیں گے؟ وینٹریلوکیسٹ پر خاموشی اختیار کریں ، اور ڈمی اپنی فریب دہ باتیں کرنا بند کردیں۔ اعصاب میں موجود ناگ وینٹریلوکیسٹ ، فانی عقل ہے ، جو اعصاب ، کھانا وغیرہ کے ذریعے بات کرتے دکھائی دیتا ہے۔ اسی وجہ سے مسز ایڈی سائنس اور صحت کے صفحہ 493 پر کہتے ہیں ، ’’بیماری نام نہاد انسان کے عقل کا تجربہ ہے۔‘‘




286۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ خدائی مرضی کے مطابق کام کرنے کی بڑی ضرورت کو محسوس کرنے میں ناکام ہوجائیں۔ ایک بچہ خود پسند ہے اور اسے لگتا ہے کہ جب اس کے والدین نظم و ضبط نافذ کرتے ہیں تو اس کے حقوق پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ پھر بھی جب یہ سیکھتا ہے کہ ایک غیر تربیت یافتہ ذہن کسی حد تک رہنمائی کرنے کا اہل نہیں ہے تو ، خوشی ہوتی ہے کہ اس کے والدین نے اسے اپنی زیادہ سے زیادہ حکمت سے دوچار کرنے پر مجبور کیا۔

طالب علموں کی صحیح رہنمائی کرنے کے لئے غیر یقینی عقل ہے۔ عاجزی کے ساتھ یہ جاننے والا الٰہی ذہن کو حاصل کرنا سیکھنا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ وہ یہ کرے کہ اس میں نظم و ضبط اور بہتری لانا ضروری ہے ، اور مسز ایڈی نے اس عظیم مقصد کے لئے جو عظیم ایجنسیاں فراہم کیں ان میں سے ایک ہے ہماری گرجا گھر کا دستور۔ جو لوگ خدا کے عطا کردہ قواعد اور ضمنی قوانین پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں وہ اس طرح کے نظام کے تحت انسانی ذہن کو پسپائی کا مظاہرہ کریں گے ، تاکہ خدائی ذہن کو چمک سکے۔

ہمارے پاس بہت سارے تجربات جو ہمیں حیران کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ، واقعتا خدا کی حکمت ہماری زندگی میں اس طرح سے ظاہر ہوتی ہے جو انسانی ذہن کو بہترین طور پر مسترد کردے گی۔ مثال کے طور پر ، اگر ہم انسانیت کے ہم آہنگی کے تحت صحیح سوچنے کے لئے مناسب کوشش کرنے کو بھول جاتے ہیں یا نظرانداز کرتے ہیں تو ، کیا یہ ہمارے لئے دانشمندی کا حصہ نہیں ہوسکتا ہے کہ آسانی کے اس شکوک و شبہات کو کھوئے ، تاکہ ہم کچھ ہوسکیں۔ سوچ کو درست کرنے کی کوشش کرنے کے لئے ہمیں کارفرما کرنے کی ترغیب؟




287۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ جانوروں کی مقناطیسیت کو اپنی روحانی پیشرفت میں مداخلت کرنے کے لئے وضع کردہ دلیل کے علاوہ کسی اور چیز پر غور کریں ، تاکہ آپ اپنے روحانی سفر میں سست ہوجائیں یا رک جائیں۔ اگر آپ ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو ، کیا آپ نے غلطی کو نہیں سنبھالا؟

اگر آپ پتلی برف پر سکیٹنگ کر رہے تھے اور آپ نے اسے پھٹا ہوا سنا ہے تو ، یہ آپ کو خوفزدہ کر سکتا ہے اور آپ کو سست یا رکنے کا لالچ دے گا۔ لیکن اگر آپ نے ایسا کیا تو ہوسکتا ہے اس کا علاج آپ کی رفتار بڑھانا ہے۔

جب ہم غلطی کے خوفناک دلائل سنتے ہیں تو ، ان کا صرف ایک اثر ہم پر ہونا چاہئے ، جیسے چکن باسک کی موجودگی کا اثر چھوٹا مرغی پر ہوتا ہے۔ یہ اپنی ماں کے بازو کی پناہ گاہ میں جلدی کرتا ہے۔ باج سے لڑنے کی کوشش کرنا بند نہیں ہوتا ، کیوں کہ اسے معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ لہذا ہم غلطی سے لڑنے اور جیتنے کی توقع نہیں روک سکتے ، کیونکہ صرف خدائی طاقت ہی دشمن کو مات دے سکتی ہے۔ خدا کے لئے کوئی نہیں ہے۔ ایک بار ، جب مسز ایڈی کی ایک طالبہ موت کی دلیل سے خوفزدہ ہوگئی جہاں وہ آخری دشمن سے لڑنے کی کوشش کر رہی تھی ، قائد نے اسے یہ پیغام بھیجا ، ’’خدا نے آپ کو زندگی کا ایک ایسا احساس بخشا جس کی ضرورت نہیں ہے۔ لڑو۔ اس کو یاد رکھو اور آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ‘‘ فورا. ہی موت کا دعوی ختم ہوگیا ، اور اسے ہم آہنگی میں بحال کردیا گیا۔

جب غلطی کی پھٹکاریں صرف باپ ماں کے خدا کے پیار اور دیکھ بھال کے سفر میں خوشی کے ساتھ ہماری خدمت کرتی ہیں ، تو وہ ایک نعمت بن جاتے ہیں ، تاکہ ہم پولس کے ساتھ یہ کہہ سکیں ، ’’میں کمزوریوں میں خوشی لیتا ہوں ،‘‘ کیونکہ وہ ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں خدا کے قریب رکھنے کا۔




288۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ سائنس اور صحت کے صفحہ 115 پر ’’دوسری ڈگری‘‘ کو نظرانداز کریں۔ جسمانی سے براہ راست روحانی کی طرف جانا ممکن نہیں ہے۔ ایک ضروری انٹرمیڈیٹ ذہنی نقطہ ہے ، جہاں ایک شخص ذہنی علت کو پہچانتا ہے اور خدائی مدد کے ذریعہ انسانی عقل کو بہتر بناتا ہے۔ اگر پہلی ڈگری کو جھوٹ کے بارے میں جھوٹ ، اور تیسری ڈگری ، حق کے بارے میں سچ کہا جاتا ہے ، تو دوسری ڈگری کہا جاسکتا ہے ، جھوٹ کے بارے میں حقیقت۔

ایک بار جب ایک طالب علم نے اعلان کیا کہ انسانی ذہن بالکل ٹھیک نہیں ہے ، یہ کہتے ہوئے کہ اسے روحانی سچائیاں نہیں سکھائی جاسکتی ہیں ، نہ ہی یہ ان کا اعلان کرسکتا ہے۔ انہوں نے اس تعلیم کو مجلسی طور پر ایک کتاب ’’خدا جانے دو۔‘‘ میں مجسم کیا۔ تیسری ڈگری میں اس طرح کے بیانات درست ہیں ، لیکن وہ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ دوسری ڈگری میں ہمیں انسانی ذہن کو انتہائی حد تک بہتر بنانا ہوگا ، حالانکہ اس کے خاتمے کے لئے تیار ہے۔ لہذا اس کی کتاب گمراہ کن تھی اور اس کا حساب کتاب کیا گیا تھا تاکہ طلباء کو دوسری ڈگری میں نظرانداز کیا جائے۔

یہ دوسری ڈگری ہے جہاں ہم چیزوں کو خیالوں میں حل کرتے ہیں ، جیسا کہ مسز ایڈی کہتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم دوہری غلطی ، جھوٹ کے بارے میں جھوٹ کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ یہ کہ خدا کے سوا کوئی ذہن موجود ہے وہ پہلا جھوٹ ہے۔ یہ مادہ بطور ماد asہ وجود رکھتا ہے اس فانی عقل کے علاوہ دوسرا جھوٹ ، یا پہلے جھوٹ کا جھوٹ ہے۔ دوسرا جھوٹ اعلان کرتا ہے کہ مادہ اصلی ہے اور معروضی طور پر موجود ہے ، کہ یہ خود ساختہ وجود یا ذہانت ہے۔ جب ہم اس جھوٹ کے بارے میں سچ کہتے ہیں تو وہ اس کو ذہن نشین بناتا ہے ، اور اس بات کو بے نقاب کرتا ہے کہ وہ انسان کے عقل میں کسی شبیہہ سے آگے کچھ نہیں ہوسکتا ، جیسا کہ مسز ایڈی کا کہنا ہے ، یا بشر ذہن اپنی سوچ کی تصاویر دیکھ کر ریٹنا پر ظاہر ہوتا ہے۔

اس نکتے کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے جب کوئی یہ سیکھتا ہے کہ کسی بھی انسانی مسئلے کو ذہنی دائرے میں ڈالنے کے لمحے ہی حل کیا جاسکتا ہے ، چونکہ خدا ، طاقتور ذہن ہونے کے ناطے ، فانی عقل کے اعتقاد سے نمٹ سکتا ہے۔

اگر کوئی سمندر کی تہہ پر ڈائیونگ سوٹ میں تھا اور سمندر کی سطح پر ایک بڑی مچھلی کے سائے سے خوفزدہ ہونا چاہئے تو اس کی ساری تلاشی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ سایہ چھوڑ دے اور اس مقام تک پہنچے جہاں وہ خود ہی مچھلی کو خوفزدہ کرسکتا ہے ، اور وہ خود دور ہوجاتا ہے۔ بیماری کبھی بھی سائے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔

ایلس ان ونڈر لینڈ میں ہمیں ایک ایسے واقعہ کی وضاحت کی گئی ہے جس کا ذکر مسز ایڈی نے اپنی کتاب متفرق تحریروں میں کیا ہے ، جہاں چیشائر بلی صرف اس کی مسکراہٹ باقی رہنے تک غائب ہوگئی ، مسز ایڈی کا کہنا ہے کہ کائنات کو بغیر کسی رجحان کے تصور کرنے کی کوشش کی طرح ہے ایک نوعمان اس نے اعلان کیا ، ’’بغیر کسی اثر کا اثر ناقابل فہم ہے۔‘‘ اگر آپ نے مسکراہٹ دیکھی ، تو آپ جان لیں گے کہ ایک بلی اس کے پیچھے ہے ، چاہے آپ بلی کو نہ دیکھ پائیں۔ جھوٹ کے بارے میں سچائی یہ ہے کہ معاملہ محض فانی عقل کا رجحان ہے جو حقیقت کو اپنے مقصد سے غلط تصورات سے تعبیر کرتا ہے ، کیوں کہ کوئی شخص اپنے خوابوں کو تشکیل دیتا ہے اور ان کو حقیقی مانتا ہے۔

ایک بار گلبرٹ سی بڑھئی کی موجودگی میں ، مسز ایڈی نے کہا ، ’’گڈ مارننگ ، آپ کیسی ہیں؟‘‘ کسی ایسے طالب علم کو جو سردی کی علامات رکھتے تھے۔ جب مؤخر الذکر نے جواب دیا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں تو ، مسز ایڈی نے زبردستی کہا ، ’’جھوٹ کے بارے میں سچ بتائیں۔‘‘

یہ طالب علم سردی کے جسمانی مظاہر سے براہ راست روحانی ہم آہنگی کی طرف جانے کی کوشش کر رہا تھا ، بغیر کسی تصحیح کے درمیانی قدم کے۔ اس کا بیان ، ’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘‘ ، یہ ایک مفروضہ تھا کہ سردی میں اعتقاد کا سایہ جس کا وہ اظہار کررہا تھا ، اس کو پیدا کرنے میں کسی غلطی کے بغیر ، یا بلی کے بغیر مسکراہٹ کا اثر تھا۔ مسز ایڈی اپنے طالب علموں کو خدا کے ساتھ ٹھیک رہنے کی خواہاں تھیں ، اور وہ جانتی تھیں کہ کوئی بھی اس غلطی کی موجودگی کے جسمانی ثبوت کو ظاہر کرتے ہوئے ذہنی طور پر غلطی سے آزاد ہونے کا دعوی نہیں کرسکتا ہے۔

مسز ایڈی نے ایک بار اپنے طالب علموں کو ہدایت کی کہ وہ اکثر جھوٹ کی حقیقت نہ بتائیں۔ کیا ہم اس سے اس بات کا اندازہ لگائیں گے کہ دوسری ڈگری غلطی کو ختم نہیں کرتی ، بلکہ اسے تباہی کے لئے موزوں بنا دیتی ہے ، لہذا ہمیں وہاں پیچھے نہیں رہنا چاہئے ، کیوں کہ اگر ہم ذہنی غلطی کی حقیقت بناتے رہتے ہیں تو ، ہم نے بہت کچھ نہیں کیا؟

17 اپریل 1890 کو مسز ایڈی نے کہا ، ’’جب ہم کسی جھوٹ کی حقیقت کو سمجھتے ہیں ، تب ہم خدا کو سمجھیں گے ، اور تب تک نہیں۔‘‘ فانی عقل الہی عقل کی جعل سازی کرتا ہے۔ یہ صرف اس صورت میں ہے جب انسانی مقصد اور اثر کو سمجھا جائے اور اسے پوری طرح ذہنی طور پر دیکھا جائے ، کہ اس کے لئے الہی عقل اور اس کے روحانی اظہار کو سمجھنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ جب تک کہ کوئی معروضی جسمانی دنیا پر حقیقی اور خود ساختہ طور پر یقین رکھتا ہے ، تب تک وہ روحانی کائنات کے وجود سے اندھا ہے جو خدائی عقل کا اظہار ہے۔ مسز ایڈی نے مذکورہ بیان میں یہ اعلان کیا کہ صرف ذہنی علت کی پہچان ہی خدا کو سمجھنے کے لئے ممکن بناتی ہے۔




289۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ بیماری کو غلط سوچ کا براہ راست نتیجہ سمجھیں۔ غلط سوچ کا براہ راست اثر خدا کی طرف سے ، عقیدے میں ، کسی کو بند کرنا ہے ، اور چونکہ صحت عقل کے ذریعہ برقرار رہتی ہے ، لہذا عقل کے ضائع ہونے کا مطلب صحت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔

بیماری کا دور دراز وہ غلطی ہے جس کی وجہ سے انسان خدا کو چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن دلچسپ وجہ سائنسی صحیح سوچ کی عدم موجودگی ہے۔ چونکہ خلاء نہیں ہوسکتا ، لہذا غلط سوچ ہمیشہ صحیح سوچ کی جگہ لیتی ہے ، جب بعد میں جاتا ہے۔

کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ غلط سوچ محض صحیح سوچ کی عدم موجودگی ہے ، کیوں کہ تاریکی روشنی کی عدم موجودگی ہے۔ لیکن جو شخص غلط سوچ کو بیماری کی براہ راست وجہ سے تعبیر کرتا ہے وہ اپنی تمام تر غلطیاں دور کرنے کی کوششوں کو موڑ دیتا ہے ، اور جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا گھر ، بائبل کی زبان میں ، بہہ رہا ہے اور سجا ہوا ہے ، تو وہ اس سے مطمئن محسوس کرسکتا ہے کوششیں۔ شیطان ، یا بشر عقل ، گھر کو جھاڑو اور سجا ہوا ، لیکن خالی تلاش کرتے ہوئے ، لوٹنے کے لئے تیار ہے۔

اس طرح اس لطافت کو دور کرنے کا ایک مددگار طریقہ یہ ہے کہ بیماری کو غلط فہمی سے نہیں بلکہ صحیح سوچ کی عدم موجودگی کی وجہ سے سمجھا جائے۔ تب کوئی اس وقت تک اپنی کوششیں بند نہیں کرے گا جب تک کہ صحیح سوچ کو بحال نہ کیا جائے۔




290۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ہمیشہ ذہن میں رہتے ہیں کہ فانی عقل ، یا جانوروں کی مقناطیسیت ، نے کبھی بھی کوئی چیز پیدا نہیں کی! یہ ہمیشہ کرتا ہے حقیقت کو مسخ کرنا اور چیزوں کا جھوٹا احساس پیش کرنا۔ اگر آپ کا دل کمزور لگتا ہے تو ، مثال کے طور پر ، یہ محض اس پر آپ کے غلط سلوک کے خلاف چیخ رہا ہے۔ یہ غلط مالک کے غلط استعمال یا غلط عقیدے کے تحت بھگت رہا ہے۔ آپ سے التجا ہے کہ آپ اس پر اپنی غلط سلوک بند کریں ، اور یہ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں ، یعنی خدا کے کنٹرول میں ، یہ احساس کر کے کہ الہی محبت واحد دل ہے ، جو محبت کے تمام بچوں کے لئے کامل اور ہمیشہ کے ہم آہنگی میں دھڑک رہا ہے اور تال جب کوئی عقیدے کے اس کمرے میں چڑھ جاتا ہے جہاں کوئی شخص اس کے ناقص جسم پر بدکاری کا شکار ہوجاتا ہے تو ، جسم ، جو خدا کی حکومت میں بحال ہوجاتا ہے ، کوئی شکایت نہیں کرے گا۔




291۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ نہ بھولیں کہ جسم ، یا مادی معنویت ، صرف ایک کے اپنے اعتقاد کی باز گشت کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بات چیت کرنے کی طاقتیں ہیں ، لیکن اس میں کوئی بھی نہیں ہے۔ اگر بشر ذہن کہے ، میں تمہیں جان سے مار دوں گا ، محض ایک تجویز کے طور پر جو آپ کو اتنا خوفزدہ نہیں کرے گا جب جسم اس دعوے کی بازگشت کرے گا ، اور کہے گا ، میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔ پھر بھی دوسرا آپ کو پہلے سے زیادہ خوفزدہ نہیں کرنا چاہئے ، کیوں کہ اس کی بازگشت اس سے کہیں زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ درد صرف ایک گونج ہے ، یا درد ، کیونکہ حقیقت میں یہ اس جگہ پر کبھی نہیں ہوتا ہے جہاں ایسا لگتا ہے!

سائنس اور صحت کے 16 ویں ایڈیشن میں مسز ایڈی نے ولیم ایلری چیننگ کے ایک خطبے سے اقتباس کیا:

’’فلسفی ۔۔۔ کو اکثر یہ سوال کرنے کا باعث بنا ہے کہ کیا عقل اور روح سے بالاتر ہو کر کائنات میں واقعی کوئی چیز موجود ہے چاہے مادے اور جسم کا کوئی خاص وجود ہو چاہے ظاہری طور پر بیرونی فطرت ہماری اپنی سوچ کی اصل تخلیق نہیں ہو یا ، دوسرے لفظوں میں ، چاہے ، ظاہری دنیا پر یقین کرنے کے لئے ، ہم حقیقت کو اپنے تصورات سے منوانے کے علاوہ اور بھی کچھ کرتے ہیں۔ ‘‘




292۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ طاقت کے ساتھ اپنے سائنسی فکر کے تیر بھیجیں اور پھر انہیں الٹ سے بچائیں۔ فضا میں موجود بجلی کا پورا حجم بجلی کے ہر بولٹ کا پیچھے ہے۔ اسی طرح ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا کی ساری طاقت حق کے ہر اثبات میں پیچھے ہے۔ جب آپ مسز ایڈی کے دلائل پڑھتے ہیں یا طلباء کو استعمال کرنے کے لئے دیتے ہیں تو ، آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ انہوں نے انہیں اتنی طاقت کے ساتھ بھیج دیا ، کہ انھوں نے اس مقام کو پہنچایا اور غلطی کو ختم کردیا ، اس کے باوجود غلطی کی ان کو معطل کرنے اور منسوخ کرنے کی کوشش کی۔

ایک بار جب اس نے اعلان کیا ، ’’چونکہ بدنیتی پر مبنی جانوروں کی مقناطیسیت کرسچن سائنس کے تمام دلائل کو جانتی ہے ، لہذا یہ اعلان کرنا ضروری ہے کہ عقلی بد سلوکی کی کوئی دلیل کرسچن سائنس کا کوئی بیان ، کالعدم یا خارج نہیں کرسکتی ہے۔‘‘

فطرت ناریل پر تحفظ کا ایک سخت شیل رکھتی ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے اعلانات حق کی حفاظت کرنی چاہئے تاکہ وہ اس کام کو پورا کریں جس میں وہ بھیجا گیا ہے۔




293۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے آپ کو خدا کے دشمن کے سمجھے بغیر ’’ٹیلر بیئر‘‘ بنائے بغیر اس کی تیاری کرتے ہیں کہ آپ دوسروں کو بوسٹن اور کہیں اور طلباء کے سلسلے میں سننے والی کچھ غلطیاں دہراتے ہیں۔

جب بوسٹن میں کچھ خاص غلطی پھیل رہی تھی تو ، مسز ایڈی کو اپنے ایک طالب علم سے درج ذیل متاثر اور پیار کرنے کی اپیل لکھنا ضروری ہوگیا: ’’میں ایک بار پھر اس بات کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ انسانی فطرت کے بیانات کے خلاف آپ کو محتاط رہنا چاہ ۔ بوسٹن میں چیزیں کھڑی ہیں۔ جھوٹ کو دہرائیں نہیں۔ برائی کی بھلائی واپس کرو۔ نیکسن نے آپ کے بارے میں میرے بارے میں کیا کہا کبھی بھی اس کا نام نہ لیں۔ آئیے ہم اپنے دشمنوں کو معاف اور پیار کریں۔ یہ ہمارا فرض ہے ، کرسچن سائنس میں یہی اصول ہے۔ اوہ! ہم اس پر حملہ کرتے رہیں ، اور خدا کی طرف رہیں۔ عزیزوں ، اسے یاد رکھیں۔‘‘




294۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ خود کو سائنسی فکر کے لئے جانچ کر رہے ہیں: جب آپ کی سوچ کے پردے میں تضاد یا بیماری کی کوئی شبیہہ چمکتی ہے ، اور آپ اسے اپنے جسم میں بیماری سمجھتے ہیں تو ، آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کی سوچ اس کی سائنسی بنیاد سے دور ہے۔ اگر آپ اسے فوری طور پر کچھ بھی نہیں کہتے ہیں کیونکہ اس سے کسی چیز کا پتا نہیں چلتا ہے تو ، آپ کو معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کی سوچ صحیح ہے ، اور اگر آپ کا خیال روحانی ہے تو ، شبیہہ مٹ جائے گی۔

یہ امتحان اتنا ہی منطقی ہے جتنا شرابی کے لئے ایک ہوگا۔ اگر آپ کے عقل میں گلابی ہاتھی کی تصویر چمک اٹھنی ہوگی ، اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ واقعتا کوئی ایسا واقعہ دیکھ رہے ہیں تو اس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ آپ نشے میں تھے!




295۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کہیں آپ روحانی نشوونما کے ثبوت کے لئے ، مادی چیزوں اور عالمی واقعات میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور کم دلچسپی کو غلطی نہ کریں۔ ایک بار سائنس کے طالب علم نے اپنی اہلیہ کو بتایا کہ وہ ہر چیز ، اپنے پیارے گھر ، اپنے بچوں اور حتی کہ اپنے کاروبار میں دلچسپی کھو رہی ہے۔ چند ہفتوں میں وہ بیمار ہو گیا اور فوت ہوگیا۔ اس نے یہ حقیقت پسند کی کہ وہ زیادہ روحانی ذہنیت اختیار کررہا ہے کیونکہ وہ بیرونی ممالک کے بارے میں کم اور خیال رکھتا ہے۔ حقیقت میں ، بے حسی کا جانوروں کی مقناطیسیت اسے بیماری اور موت کی تجاویز کے لئے تیار کررہی تھی ، تاکہ جب وہ آئیں تو ان کی ملاقات اس کی طرف سے کوئی مثبت مزاحمت نہ ہو۔ اس کا تجربہ تمام طلبا کے لئے ایک انتباہ ہونا چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ وہ بھی اسی طرح اندھے ہوجائیں۔

یہ خدا کی کائنات ہے ، اگرچہ مادی عقل کے ذریعہ دیکھے جانے پر بھی یہ معاملہ میں مسخ شدہ دکھائی دیتا ہے۔ روحانی نشوونما اپنے آپ کو بڑھتی ہوشیارگی اور سرگرمی میں ظاہر کرتی ہے ، اچھی ہر چیز میں گہری دلچسپی ہے۔ مسز ایڈی کی افزائش ان کی سوچ کی زبردست سرگرمی ، اس کی ایک اعلی عمر میں بھی تفصیلات کے لئے محتاط اور محتاط توجہ سے واضح تھی۔ وہ زندگی میں اپنی دلچسپی کبھی نہیں کھو سکی۔ وہ اپنے انسانی دور کے اختتام تک حالیہ واقعات اور عالمی امور میں دلچسپی لیتی تھی۔ وہ اپنے عزم میں کبھی بھی نرمی نہیں کرتیں کہ کسی غلطی کی نشاندہی کرنے سے بچنے کے لئے اور بدعنوانی نہ ہونے دیں۔

الہی ذہن کی عکاسی طاقت ہے ، کمزوری نہیں۔ سرگرمی ، سرگرمی نہیں؛ خواہش ، مندی نہیں۔ انسانیت کے لئے ایک محبت جو اتنی زندہ اور طاقتور ہے کہ انسان کو جب تک ممکن ہو سکے زمین پر زندگی بسر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا اشارہ کرتا ہے ، تاکہ غریب انسانیت اور جاہل شکاروں کو آزادی کا راستہ تلاش کرنے میں مدد ملے۔ یہ خدا کی کائنات ہے ، اور اگر ہم روزانہ اس کی عکاسی کر رہے ہیں تو ، ہم اس میں دلچسپی نہیں کھو سکتے ہیں ، اور نہ ہی ہم اس وقت تک آرام کریں گے جب تک کہ ہم ہر چیز کے اپنے تصور کو مکمل طور پر روحانی انداز میں نہیں لاتے۔

یہ یاد رکھنا اچھی طرح ہے کہ سموہنیت ایک تجویز کو دوسرے کے پیش رو کے طور پر استعمال کرکے انسانوں کو دھوکہ دینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اگر پہلی بار غلطی کا پتہ چل جاتا ہے اور اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو ، اس کی کمی کو ناکام بنا دیا جاتا ہے۔




296۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ دینے کا سائنسی احساس اس وقت ظاہر ہوتا ہے اور ظاہر ہوتا ہے جب کوئی محدود احساس ، منبع یا نقطہ نظر سے دیتا ہے۔ سچی دینے کا مظاہرہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی خدا کو تمام بھلائیوں کا لامحدود ماخذ تسلیم کرتا ہے ، اور اس تسلیم کے ساتھ یہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ وہی چینل ہے جس کے ذریعہ اس لامحدود ماخذ کو اظہار ملتا ہے - لہذا وہ خدا کی دولت دے رہا ہے نہ کہ اپنی دولت کو۔ جب کوئی کاز میں حصہ ڈالتا ہے ، تو اسے اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ پیسوں کے لئے خدا کی جیب بک میں ہاتھ ڈال رہا ہے ، نہ کہ اپنی۔




297۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ مناسب طریقے سے غور کریں جس کو کسی کی اضافی سوچ کہا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے باغ میں ماتمی لباس کو اپنے آس پاس والوں کی پرواہ کیے بغیر کھینچتے ہیں تو آپ کا مستقل کام ہوگا ، کیوں کہ آس پاس کے ماتمی لباس ہر وقت اس پر تجاوزات کرتے ہیں۔ اگر ہم بیماری یا بیمار مریضوں کے حوالے سے صحیح سوچ اپنائیں اور مزید آگے نہیں بڑھتے ہیں تو ، ہمارے باقی انسانی تجربے کے سلسلے میں سوچنے والی گھاس کاشت کرنے والی صحیح سوچ کے اس چھوٹے سے پلاٹ پر تجاوز کرسکتی ہے۔

مسز ایڈی نے ایک بار اعلان کیا ، ’’اگر آپ کے پاس مریض نہیں آئے تو ، آپ پرندوں اور پودوں کا علاج کرسکتے ہیں؛ ان کے علاج کی ضرورت ہے۔‘‘ ہوسکتا ہے کہ پرندے اور پودے ہماری اضافی سوچ کا حامی ہوں ، کیوں کہ ہم جس بھی چیز کو ماد ی یا بشر سمجھتے ہیں اس پر غلطی کرتے ہیں۔ پوری مخلوق ہم سے فریاد کرتی ہے کہ اس کو بدعنوانی سے باز رکھے ، اس کو معاملہ سمجھ کر ، اور گناہ ، بیماری ، خرابی اور موت کے تابع ہو۔ ہماری صحیح سوچنے کی کوشش کا آغاز اسی کوشش کے ساتھ ہوتا ہے جب ہم اپنے جسموں پر ہونے والی بدکاری کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جب ہم اس کے نتیجے میں تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں ، اور دوسرے مریضوں کی بھی اسی طریقہ سے مدد کرتے ہیں۔ تاہم ، اس طرح کی کوششیں صحیح سمت میں صرف ایک آغاز ہے۔ جب تک ہم اپنی سرپلس سوچ کو درست نہیں کرتے ہیں تب تک ہمیں کبھی بھی صحیح دانشور نہیں کہا جاسکتا۔

ایک بار طوفانی طوفان کے دوران مسز ایڈی نے اپنے طلبا کو بجلی کے زائد کام کو سنبھالنے کی ہدایت کی۔ یہ اصطلاح مہلک عقل کا مشورہ دیتی ہے جو قابو سے باہر ہوچکا ہے اور ہم آہنگ چل رہا ہے۔ مسز ایڈی نے اسے کنٹرول کرنے اور اسے درست کرنے کی ضرورت کو دیکھا اور اپنے طلباء کو بھی ایسا ہی کرنے کی تلقین کی۔ فاضل سوچ کی مثال کے طور پر ، اپنے آپ کو کسی پریکٹیشنر کے ساتھ سلوک کرنے پر غور کریں۔ آپ اپنے سائنس کے مطالعے سے جانتے ہونگے کہ جب وہ آپ کو علاج دے رہا تھا تو وہ آپ کے بارے میں کیسے سوچے گا۔ لیکن یہ سوال جو آپ کی فکر میں ہے ، جب وہ محتاط رہتا ہے تو وہ آپ کے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ اگر وہ آپ کے بارے میں سوچتا ہے کہ اسے کوئی بیماری ہے ، یا کسی غلطی کے غلامی میں ہے تو ، سوال یہ ہے کہ ، کیا علاج کے بارے میں آپ کے بارے میں اس کی صحیح سوچ آپ کے بارے میں اس کی انسانی سوچ کو دور کرنے کے لئے کافی ہے جب وہ محتاط رہتا ہے۔ پریکٹیشنرز کو نہ صرف اپنے مریضوں کو سائنسی علاج فراہم کرنا چاہئے ، بلکہ انہیں ان کے بارے میں بھی سوچتے ہوئے ، اپنے لاپرواہی ، یا لاپرواہی کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کوئی بھی طالب علم بہت تیزی سے ترقی نہیں کر رہا ہے جو اپنی اضافی سوچ کو روحانی بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے ، انسانی سوچ جب وہ راحت بخش اور محافظ رہتی ہے تو اس میں ملوث ہے۔




298۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ اس اعتقاد کو قبول کرلیں کہ نومونان کے بغیر کوئی رجحان ہوسکتا ہے ، اس کی حمایت کرنے کے بارے میں سوچا بھی بغیر کوئی مادی مظہر۔ حقیقت میں سائنس ہمیں دکھاتی ہے کہ ساری وجہ اور اثر ذہنی ہیں ، کبھی جسمانی نہیں۔

ایک بار جب مریض کو موتیا کے بارے میں یقین ہو جاتا تھا ، اور اس فتنے میں مبتلا ہوجاتا تھا کہ ایک سادہ سا آپریشن اسے ختم کردے گا ، اور پھر وہ آزاد ہوجائے گی۔ پوری غلطی کو ذہنی حیثیت سے دیکھنے میں اس کی مدد کرنے کی کوشش میں ، اس کے مشق کرنے والے شخص نے اس سے کہا کہ اس کی آنکھ کے سامنے چھڑی رکھی ہے ، جس کی نمائندگی موتیوں کی مدد سے نوک یا فیروول سے ہوتی ہے۔ اس سے اس کو یہ دیکھنے میں مدد ملی کہ اگر اس کا آپریشن ہوتا ہے تو ، یہ صرف بربریت کو ختم کردے گی ، جبکہ کین اس وقت تک باقی رہے گی ، جب تک کہ اسے حق کی طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جاتا۔ اس طرح وہ اس فتنے کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس مثال میں چھڑی کا مقصد غلط عقائد کی نمائندگی کرنا ہے۔

اس پریکٹیشنر نے اس معاملے کے سلسلے میں ایک جھونکا لکھا ، جس کو اسے یہ احساس کرنے میں مددگار ثابت ہوا کہ وہ کسی ایسے مسئلے سے نمٹ رہا ہے جو پوری طرح سے ذہنی ہے۔ ایک بار جب ایک عورت نے جھوٹ دیکھا اور محسوس کیا۔ اس نے سوچا کہ یہ ایک خوفناک حقیقت ہے۔

اس نے اپنی ذہنی انگلی کو اپنی آنکھ میں پھنسا دیا۔ لیکن ڈاکٹروں نے اسے موتیا کا نام دیا۔

کسی اور وقت یہ طبیب آنکھوں کی تکلیف کے سبب ایک خاتون کا علاج کر رہا تھا۔ مریض نے اسے لکھا کہ اس کی آنکھیں اسے اتنا تکلیف نہیں دے رہی تھیں جتنی کہ ان کی۔ اس نے واپس لکھا کہ اسے یہ کہنا چاہئے تھا ، ’’میں اپنی آنکھوں کو اتنا نہیں پریشان کررہا ہوں جتنا میں نے کیا۔‘‘ وہ لکھ سکتی تھیں ، ’’میری نظروں کے غلط تصور کی وجہ سے میں تکلیف میں پڑا ہوں I جب سے مجھے احساس ہوا ہے کہ یہی تصور ہے کہ میری آنکھوں کی نہیں اصلاح کی ضرورت ہے۔‘‘ کسی نے اس معاملے کی وضاحت اس عقیدے کے طور پر کی ہے کہ نویمنان کے بغیر کوئی رجحان ہوسکتا ہے ، بغیر کسی وجہ کے۔ کھانے کی چیزیں بظاہر زندگی کو برقرار رکھنے ، یا اسے ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ لیکن جب آپ جانتے ہو کہ یہ خدائی عقل کی چھڑی کی نوک ہے ، جو انسان کو اس کی حفاظت کے لئے بھیجا گیا ہے ، تو آپ اس کو معاملہ سمجھتے رہیں گے ، اور یہ انسان کے لئے خدا کی نعمتوں کا ذریعہ بن جائے گا۔




299۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ’’جاری رکھیں‘‘ ، یا اچھی کام کرتے رہیں۔ اگر آپ کو ایک خوبصورت کنٹری اسٹیٹ دیا جاتا ، اور آپ کو یہ بتایا جاتا کہ آپ کو یہ مستقل رہائش گاہ کے طور پر ملنا ہے تو ، آپ اس تک پہنچنے کے لئے سفر کرتے وقت شکایت نہیں کریں گے ، اس سے قطع نظر کہ آپ کو کس خطے میں سفر کرنا پڑا۔ اگر آپ کو دلدل سے گزرنا پڑا ، تو آپ کہتے ، ’’یہ مشکل ہے ، لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں جلد ہی وہاں موجود ہوں گا۔‘‘ اگر آپ سبز چراگاہوں اور اس کے سوا پانی کے پاس سے گزرتے تو آپ کہتے ، ’’یہ بہت ہی پیارا ہے اور میں اس تمام خوبصورتی کا شکر گزار ہوں لیکن اس سے لطف اٹھانے کے لئے مجھے کچھ دیر نہیں رہنا چاہئے۔ مجھے اپنی راہ پر گامزن ہونا چاہئے۔‘‘

طلباء جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اچھے دن ہیں ، اور پھر وہ برے لوگوں میں دوبارہ مل جاتے ہیں ، تعجب کر سکتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔ اگر وہ دل کی گہرائیوں سے تلاش کرتے ہیں تو ، انھیں یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اچھے دن ان کا مقصد ہیں ، بجائے اس کے کہ وہ روحانی روحانی آبادی کی طرف ترقی کریں۔ جب کوئی حقیقی مقصد ڈھونڈ رہا ہوتا ہے ، جس میں دوسروں کو برکت دینے اور ان کی مدد کرنے کے لئے روزانہ کی کوشش شامل ہوتی ہے ، تو وہ زیادہ شکایت نہیں کرتا ہے ، اور نہ ہی اس سے زیادہ نوٹ کرتا ہے کہ اسے کس طرح کے دن گزر رہے ہیں۔ وہ صبر سے کام کرتا ہے ، یہ جانتے ہوئے کہ ، اگر وہ ثابت قدم رہا تو وہ پہنچے گا۔ پرانی کہاوت میں حکمت کی دولت موجود ہے ، ’’وہ کتا جو اپنے بیکاروں پر بیکار بھونکتا ہے ، لیکن کتا جو شکار کر رہا ہے وہ ان کو محسوس نہیں کرتا ہے۔‘‘




300۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ اپنی سکون سے محروم ہوجاتے ہیں ، ایسا نہ ہو کہ آپ یہ فرض کریں کہ یہ ہمیشہ غلطی یا جانوروں کی مقناطیسیت ہی ہے جو اسے آپ سے دور کردیتی ہے۔ اگر کوئی وبا ہے تو ، اور آپ نے خود کو مبارکباد پیش کی کیونکہ آپ کو محسوس ہوتا تھا کہ بطور مسیحی ائنسدان آپ اس سے استثنیٰ رکھتے ہیں ، تو آپ کو خود غرضی کا خاتمہ کرنے کے لئے آپ کو اس سے رجوع کرنا پڑے گا ، اور آپ کو بے لوثی کی حد تک لانا ہوگا۔ ، جس میں آپ وہ کرتے جو آپ جانتے ہیں کہ کیا کرنا چاہتے ہیں ، اور کرنا چاہئے ، یعنی ، غریب انسانیت کے لئے کام کرنا جو غلطی کا نشانہ بننے والے لاچار ہیں ، اور جو اپنی آزادی حاصل کرنا نہیں جانتے ہیں۔

ایک بار مسز ایڈی نے جولائی ، 1892 کے جریدے کے لئے ایک مضمون لکھا ، اور پھر مندرجہ ذیل تبصرہ کیا: ’’میں نے یہ اس لئے لکھا ہے کہ مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ خدا مجھے لگتا ہے (جتنی بار اس کی شدید ضرورت ہے) نے مجھے محروم کردیا۔ جب تک میں نے یہ نہیں لکھا اور پھر میری میٹھی سکون واپس آگئی ، آپ کو سائنس اور صحت کے پہلے ایڈیشن میں اینیمل میگناٹزم کے باب لکھتے وقت شائع کیا گیا ، آپ کو میرے تجربے کی یاد آتی ہے۔ کیا آپ نہیں کرتے؟ اس کی نوعیت میں بھی ایسا ہی رہا ہے ، لیکن حالات نہیں۔ ‘‘

یہاں مسز ایڈی نے اعتراف کیا کہ وہ بیٹھ کر خدا کی ہدایت کے تحت اپنے امن سے محروم ہو کر بیٹھ کر ایک مضمون لکھنے پر مجبور تھیں۔ اگرچہ ہم یہ محسوس نہیں کرسکتے ہیں کہ ہم اس مضمون کو لکھنے کے اہل ہیں جس میں الہام ہے ، جب تک کہ ہمارے پاس سکون نہ ہو۔ خدا نے اس کا سکون چھین لیا تاکہ اسے اپنی مرضی کے مطابق کرنے کے لئے چلائیں۔ جب اس نے اپنا مطالبہ پورا کیا تو ، اس کا صلہ اس کی میٹھی سکون کی واپسی تھی۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ جب مسز ایڈی نے اپنا سکون کھو دیا ، تو ضروری طور پر یہ خیال نہیں کیا کہ یہ جانوروں کی مقناطیسیت ہی ہے جس نے اسے لوٹ لیا ہے۔ اس نے مذکورہ بالا مثال میں یہ سمجھا کہ خدا ہی نے اسے اس سے دور کردیا تھا ، اور یہ اس نے ایک مقصد کے لئے کیا تھا ، اور اسے واپس کرنے کا واحد راستہ اس کے لئے وہ تھا جو اس نے مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ ’’امن نہیں‘‘ کی حالت میں ، مضمون لکھنا مشکل معلوم ہوسکتا ہے۔ پھر بھی اس کی امن کی بحالی اس قدر ضروری تھی ، کہ اس نے صلیب اٹھائی اور خدا کی مانگ کے مطابق کیا۔

جب طلباء سکون سے محروم ہوجاتے ہیں یا بیمار محسوس ہوتے ہیں تو ، ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ خود سے یہ پوچھیں کہ کیا خدا ان میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے جس کی انہیں کرنا چاہئے۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ وہ خدا کے بچوں کے لئے کام کرنے میں جزب کریں۔ اگر وہ اس پار کو ایمانداری کے ساتھ انجام دیتے ہیں تو ، انہیں معلوم ہوگا کہ ان کی میٹھی سکون واپس آجائے گی۔

ترقی یافتہ طالب علم پر امن یا ہم آہنگی کے ضائع ہونے کا صحیح اثر یہ ہے کہ وہ اس کام پر مجبور ہوجائے جو اسے کرنا چاہئے تھا ، لیکن ایسا نہیں کیا ہے۔ اگر وہ کام نہیں کر رہا ہے جیسا کہ وہ دنیا کی مدد کرنا چاہئے ، تو اسے ایک ساتھ ہی یہ ذمہ داری پوری کرنی چاہئے ، اتنا نہیں کہ وہ اپنا امن بحال رکھنا چاہتا ہے ، لیکن اس لئے کہ وہ اس کام کے خواہاں ہے جس کا باپ اس سے مطالبہ کرتا ہے۔




301۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب آپ بیمار ہوتے ہیں ، تو آپ پوچھتے ہیں ، ’’یا خدا ، تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟‘‘بلکہ آپ سے پوچھنا چاہئے ، ’’اوہ ، خدا! میں نے آپ کے ساتھ یہ کیا کیا ہے؟‘‘ ایسے اوقات ہوتے ہیں جب ہمیں اپنی ذہنی سستی سے بے ہودہ بیداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاید ہم خدا سے اور اس سے اپنی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوگئے ہیں۔ شاید ہم نے اپنے جلوس میں مقصد سے پہلے ہی اثر ڈال دیا ہو ، اس کو اپنے سر پر ڈال دیا ہو ، جہاں صرف خدا ، روح ، کا ہے۔ شاید ہم اتنے آسانی سے ساتھ سفر کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنا کپتان اوور بورڈ پھینک دیا ہے۔ خدائی رہنمائی اتنا ضروری ہے کہ ہمارے پاس تجربات ہونے چاہئیں جو ہمیں اس بات پر قائل کریں کہ ، اگر ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں تو ، ہم پتھروں پر چلنے کے ذمہ دار ہیں۔ ایک بار جب ایک لڑکا خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے ترقی یافتہ آنکھوں کے ساتھ چلتا ہوا ایک پتھر سے ٹھوکر کھاتا تھا۔ وہ خدا کے بارے میں سوچ رہا تھا ، لیکن وہ اپنی رہنمائی کا استعمال نہیں کررہا تھا ، چونکہ اسے کوئی گڑھا نظر نہیں آتا تھا جو اس کے راستے میں پڑا تھا۔ پتھر کی ٹھوکریں کھا کر اسے اپنی ریواری سے اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ گڑھے میں گرنے سے بچ گیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ کیا ہوا ہے ، تو وہ اس پتھر کا شکر گزار تھا جس پر وہ پہلے ناراض تھا۔

ایک بار مسز ایڈی نے اپنی نوکرانی کو موسم کے لئے کام کرنے کی ہدایت کی۔ جب اس نے خدا کی رحمدل پر مؤخر الذکر کو رہتے ہوئے دیکھا تو اس نے اسے سرزنش کرتے ہوئے کہا ، ’’اب وہیں اوپر سے سفر کرنے سے نیچے آجاؤ۔ ہمیں بارش کی ضرورت ہے۔ چلو بارش ہو۔‘‘ تب اس نے کہا ، ’’موسم کے بارے میں عقائد بیماری سے زیادہ شفا بخش ہیں۔‘‘ اس نے خدا کی مہربانی کو محسوس کرنے کی کوشش کو سرزنش کی جس میں اس کی ضرورت کو موجودہ ضرورت میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ ایسا ہوگا جیسے کسی تیلی کے بغیر پانی کے چشمے میں جانا۔




302۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ مطلق یا الہی سائنس کیا ہے اس کا پتہ لگائیں ، اور دیکھیں کہ کرسچن سائنس انسانی ضرورت کے مطابق اس کا اطلاق ہے۔ مسز ایڈی نے سائنس پر انکشاف کیا تھا۔ پھر اس نے ہر ممکن طریقے سے اس کا مظاہرہ کیا۔ الہی سائنس اس پل کے بغیر انسانوں کے لئے بہت کم اہمیت کا حامل ہوگی جو کرسچن سائنس کی حیثیت سے ہمارے موجودہ تجربے میں عملی اور عملی حیثیت رکھتا ہے۔ فضا کو بھرنے والی بجلی کا استعمال انسانوں کے لئے قدر نہیں تھا جب تک کہ اسے استعمال نہ کیا جائے اور اسے استعمال کے لئے دستیاب نہ کردیا جائے۔

مسز ایڈی نے اپنی مجاز تحریروں میں دنیا کے سامنے انکشاف کیا۔ پھر اپنی زندگی میں اس نے اس کا اپنا مشق یا مظاہرہ کیا۔ اس کی زندگی اس کے انکشاف کے ساتھ جڑی ہوئی ہے کہ مؤخر الذکر کو سابقہ کے مطالعہ اور تفہیم کے بغیر اس کی تکمیل میں کبھی نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے ایک طالب علم کو لکھا: ’’میں اس پر آپ کے اعتماد اور مجھ سے آپ کے حقیقی احساس کے لئے میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔ کیوں؟ کیوں کہ ایک صدی کے ایک چوتھائی میں میں نے کبھی بھی ایک مثال میں طالب علم کو محفوظ طریقے سے لے جانے میں ناکام نہیں دیکھا۔ ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ہر ایک واقعے میں ان ذہنی حالات کے نقصان نے طالب علم کو تباہ کر دیا ہے۔ ایک بار میں جوان تھا (اور اب جوان ہوں) لیکن میں نے کبھی بھی راست بازوں کو ترک نہیں کیا - وہ لوگ جو حق پر ہیں ، گمراہ ہوئے ہیں۔ ‘‘

کوئی شخص دل کی تکلیف میں مبتلا مریض کو یہ بتا سکتا ہے کہ اس کا واحد دل ہی آسمانی پیار ہے جو جنت میں چبکتا ہے ، لیکن عملی اور انسان کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھی مریض کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کی محبت کی اس حرکت پر ردعمل کامل ، ناقابل تقسیم تھا اور مستقل۔ تب وہ یہ بیدار ہوجائے گا کہ اسے دل کی تکلیف نہیں ہے۔




303۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو بڑے بھائی نے یہ سوچ کر لالچ میں مبتلا کیا کہ مصر میں رہنے والے اور باپ کے گھر واپس جانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ان لوگوں پر کون کون سا غلط سلوک ہے۔ ایک بار مسز ایڈی نے اعلان کیا کہ وہ چرچ میں ممبر بننے کے بجائے پینتالیس فیصد اچھےآدمی سے چالیس فیصد اچھا کام کریں گے۔

وہ امیر آدمی جو یسوع کے پاس پوچھ رہا تھا کہ نجات پانے کے لئے کیا کرنا ہے ، وہ اپنے اندازے میں پچپن فیصد اچھ .ا تھا۔ وہ واقعتا اپنی بہتری کے سبب ماسٹر کی ستائش کا خواہاں تھا ، چونکہ اس نے اعلان کیا تھا کہ اس نے جوانی سے ہی احکامات پر عمل پیرا ہے۔ یسوع جانتا تھا ، لیکن ، تمام انسانی احساس کو ختم کرنا پڑا ، چاہے اس نے اپنے آپ کو اچھا کہا یا برا۔ لہذا اس نے اس نوجوان سے کہا کہ اسے بیچنا پڑے گا ، یا اس کے پاس سے سب کچھ چھڑوانا ہوگا۔ اس سے مؤخر الذکر غمگین ہوا ، کیوں کہ اس کے پاس انسان کی اتنی تعداد تھی جو اسے اچھالگتا تھا ، تاکہ اس سے جان چھڑانے کے لئے یہ ایک عظیم قربانی کے طور پر کم ہو گیا۔ جبکہ جس کے پاس انسان کی اکثریت بیکار معلوم ہوتی ہے ، وہ انسانی احساس کے ساتھ جدا ہونے پر کہیں زیادہ تیار ہے۔

اگر الٰہی کو ہر مقام پر انسان پر قابو پانا ضروری ہے ، تو آپ کی نگاہوں پر انسان جتنا زیادہ مطلوبہ نظر آتا ہے ، اسے آپ کو غمزدہ کرتا ہے جب آپ اس سے چھٹکارا پانے کی ضرورت پر غور کرتے ہیں۔ اجنبی بیٹا بلا شبہ چالیس فیصد اچھاتھا ، اس کے برعکس اس بڑے بھائی نے جو یہ سمجھا تھا کہ وہ اتنا کمال کے قریب تھا کہ اسے پانچ فیصد سے زیادہ طہارت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود اس کی پچانوے فیصد اچھ !ی خودی نے خود کو خود سے راستبازی سے کچھ زیادہ ہی ثابت کیا ، جب اس نے اپنے بھائی کی روحانی طور پر ترقی کرنے کی کوشش کی راہ میں ٹھوکریں کھڑی کرنے کی کوشش کی!

بڑے بھائی جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کمال کے پانچ فیصد کے اندر ہیں ، کرسچن سائنس میں تمام پریشانی پیدا کردیتے ہیں۔ وہ کسی سے بھی بدتمیزی کرنے سے نہیں ہچکچاتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ نیکی کے پیمانے پر ان کی نسبت کم ہیں۔ جب بھٹکا ہوا طالب علم ایمانداری سے اصلاح کی کوشش کر رہا ہے ، اور عاجزی کے ساتھ اس کو قبول کرنے والی غلطی کو تسلیم کرتا ہے ، تو یہ عام طور پر بڑے بھائی ہوتے ہیں جو اپنی راہ میں ٹھوکر کھا رہے ہیں ، اور اس کی فکر پوری ہوجاتی ہے کہ وہ اس کی پوری رفاقت سے رجوع کرتا ہے۔ باپ کے گھر میں!




304۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کرسچن سائنس میں آنے کے بعد ، آپ ایک تقدیر کا پرانا تصور برقرار رکھتے ہیں جو موقع اور تبدیلی کے تابع ہوتا ہے۔ پھول کی تقدیر ہر آندھی اور طوفان سے منسلک ہوتی ہے ، جب تک کہ اسے ایک مکان خانے میں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے۔ وہاں یہ مثالی حالات میں ترقی کرتا ہے ، اور وہ تنزلی سے محفوظ ہے۔ جب ہم کرسچن سائنس کے سائنس دان بن جاتے ہیں ، تو ہم خدا کے گھر میں بدل جاتے ہیں۔ وہاں ہم ان کی مستقل نگہداشت میں ہیں اور اب موقع اور تبدیلی کے تابع نہیں ہیں۔ ہم قانون کے تحت چل رہے ہیں کہ ہر چیز اچھےکے لئے مل کر کام کرتی ہے ، کیوں کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں۔




305۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب بیماری کی دلیل آپ کو مدد فراہم کرتی ہے تو ، آپ تسلیم کرتے ہیں کہ معاملہ بیمار ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’ایک شخص شیشے کے پیلے رنگ کے ٹکڑے کے ذریعے نظر آتا ہے۔ ہمیں غلطی کو ایک غیر قانونی دعوے کے طور پر دیکھنا سیکھنا چاہئے۔ پیلے شیشے کو ہٹا دیں اور جان سمتھ اب زرد نہیں ہوگا۔‘‘

بعض اوقات بیماری کو اس بات کی علامت سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے کہ کسی کی روحانی فطرت ، جیسے ایک خوبصورت پھول ، مناسب دیکھ بھال کے فقدان سے کھسکتی ہے۔

نوکری کی روحانی فطرت ہنس کی طرح تھی جس نے سنہری انڈے دیئے تھے۔ وہ انڈوں سے اتنا مگن ہوگیا ، کہ اس نے ہنسوں کو نظرانداز کیا اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ کھسک گیا۔

یہ حالت بیماری اور نقصان کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی۔ واقعی جو کام ’’روح کی بیماری‘‘ تھا ، وہ جب سے ایک بار پھر اپنی جان کی دیکھ بھال کرنے لگا تو اس کی بحالی ہوگئی ، اور وہ صحت اور خوشحالی کی طرف لوٹ آیا۔ اس نے خود کو پیلے رنگ کی طرح دیکھنا چھوڑ دیا۔ اس نے اپنا سبق سیکھ لیا ، اور پھر کبھی جذب کو اثر انداز ہونے نہیں دیا کہ وہ مقصد کو نظرانداز کرے۔

روح کی زندگی روحانی عطا کرنے میں ہے۔ انسان کی روحانی فطرت دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں پروان چڑھتی ہے۔ ہم اس کی صحیح دیکھ بھال کرتے ہیں جب ہم اسے زندگی کی روٹی کھلاتے ہیں ، اور پھر دوسروں کو روحانی برکتیں دیتے ہیں۔

جب ہم اپنے روحانی مظاہرے کے ذریعہ ہمیں دیئے گئے سنہری انڈوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے خود غرضی سے بیٹھ جاتے ہیں تو ، ہم اپنی عطا کو سست کرنے یا روکنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہم اثر سے لطف اندوز ہونے کے لئے وجہ کو نظرانداز کرتے ہیں۔ سائنس میں یہ حقیقت ہے کہ روحانی احساس ہمیں سنہری انڈوں کی فراہمی جاری رکھے گا ، ان سے لطف اندوز ہونے سے ہمیں ان کے ماخذ سے پہلے ان کی قدر کرنے کا سبب نہیں بنتا ہے ، تاکہ ہم ماخذ کی دیکھ بھال کرنے میں نظرانداز کریں جس طرح ہمیں کرنا چاہئے۔ جب ہم روحانی طور پر دیتے ہیں جیسا کہ ہمیں کرنا چاہئے ، خدا ہمیشہ دینے کا ذریعہ فراہم کرے گا۔




306۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کے خیالات کو خدا کی طرف سے سامنے آنے کے تصور میں ، آپ کو یہ احساس بھی شامل ہے کہ وہ بھی اپنے وسائل کی طرف لوٹ آئیں۔ خدا کے خیالات اس کے والدین سے آگے نکلتے ہیں اور اس کی زچگی میں واپس آجاتے ہیں ، اسی طرح جب بچے سکون اور محبت کے لئے اپنی ماں کے گھر بھاگتے ہیں۔

یہ غور کرنے میں مددگار ہے کہ وہ تصورات جو ہمارے نزدیک بظاہر ظاہر ہوتے ہیں ، وہ خدا کے خیالات ہیں جو اس کے پاس واپس جاتے ہوئے پھنس گئے ہیں ، اور مدد کی ضرورت ہے۔ ہمارا کام ہے کہ ہم ان کا ترجمہ خیالوں میں کریں اور اسی طرح ہم ان کو عقل میں واپس آنے میں مدد کریں۔ تب وہ مزید مادی ، محدود یا محدود نہیں دکھائیں گے۔

اجنبی خدا کا خیال تھا جو سفر پر نکلا تھا۔ وہ مصر ، یا اثر میں پھنس گیا ، اور جبری وجہ سے واپس آنے کی ضرورت ، یا والد کے گھر سے زبردستی بیدار ہونا پڑا۔ یہ بیداری مصر کو بھوسیوں کی کمی کے ذریعہ حاصل ہوئی۔ مصر کی طاقت ، یا مادےکی طاقت کو اس وقت توڑ دیا گیا جب یہ واضح ہوگیا کہ اس کی خواہش صرف میسمرزم کی گلیمر تھی ، ایک ایسے خواب پر پھیل گئی جو بے مقصد تھا ، اور اس کا کوئی معروضی وجود نہیں تھا۔ عذرا پاؤنڈ سے منسوب اور 1910 میں لکھا گیا ایک بیان متعلقہ ہے۔ ’’مجھے غمگین خواہش واش میں نہ بتائیں ، زندگی ایک طرح کا شوگر ڈش واش ہے۔‘‘

یسوع نے بتایا کہ باپ کی واپسی کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ کام ہوں گے۔ جب آپ لچکدار ہوجاتے ہیں تو لچکدار اپنی اصلی شکل میں واپس آجاتا ہے۔ مادی اشیاء کو خدا کے خیالات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جو اس کی طرف سے نکلا تھا ، اور اپنا راستہ کھو گیا تھا ، جیسا کہ تھا ، اور ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ اس کے واپس سفر میں ، وہ مستحکم ہوگئے۔ چیزوں کا مادی معنویت محض جمود ہی ہے جس نے اپنے گھر کے سفر میں خدا کے خیالات کو زیر کیا۔

یہ وہ وقت ہے جب مصائب اور مایوسی کے ذریعہ ، انسانوں کا مصر اور اس کی خوش کن خوشیوں سے تنگ آتے ہیں ، کہ وہ اپنے گھر کا سفر دوبارہ شروع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مادے کی حقیقت سے انکار ہمیں اپنے روحانی پیشرفت کے گھر کو دوبارہ شروع کرنے کے قابل بناتا ہے ، اس مدار میں جو ہمیں اور ساری تخلیق کو خدا کی طرف لے جاتا ہے۔




307۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ جب کرسچن سائنس اپنے ماننے والوں سے شکرگزار کا مطالبہ کرتی ہے تو ، آپ کو یقین ہے کہ اس کا اثر ہونا چاہئے۔ سائنس میں شیر خوار بچہ لینے کا اہل پہلا قدم ہے۔ لیکن ترقی جلد ہی اس کاز کے لئے اس کا شکریہ ادا کرے۔

جب کسی بچے کو کوئی تحفہ دیا جاتا ہے تو ، وہ اس میں اتنا مگن ہوجاتا ہے ، کہ وہ ڈونر کا شکریہ ادا کرنا ، یا یاد رکھنا بھول جاتا ہے۔ ایسا کرنے کی یاد دلانی ہوگی۔ خدا کے تحفے انسان کو اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ وہ اس کی ہمیشہ یاد دہانی کر سکتے ہیں ، اور اس موقع پر نہیں کہ اسے فراموش کرنے میں اس کو فراموش کر سکے ، اور تحائف کا شکریہ ادا کریں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ خدا انسان کو تحفہ کبھی نہیں بھیجتا ہے۔ وہ ان کو لاتا ہے! انسان کو کبھی بھی تحفہ میں اتنا مشغول نہیں ہونا چاہئے کہ وہ دینے والے کی موجودگی کی نظر سے محروم ہوجاتا ہے۔ شکرگزار وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم خدا کی موجودگی کے بارے میں اسے ہمیشہ اچھےتحفہ کا ماخذ دیکھ کر مستقل طور پر آگاہ رہتے ہیں۔ جب ہم اثر کے لئے شکر گزار ہیں ، اگر یہ تشکر استعاریاتی ہے تو ، ہماری سوچ فطری طور پر اس کا سبب بنے گی۔ تب ہمیں اس قدر اثر و رسوخ کا شکار ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا ، کہ ہم وجہ کی نظر سے محروم ہوجائیں۔




308۔ دیکھنا کہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو کامل دیکھنے کی کوششوں میں ، کہ آپ کو اسی روشنی میں آپ کو دیکھتے ہوئے دیکھنے کی کوشش شامل کریں۔ کام کرنے کا یہ انداز ، جس کا انکشاف گلبرٹ کارپینٹر پر ہوا ، جب وہ مسز ایڈی کے گھر میں رہ رہے تھے ، تب تک اس کی حد تک توسیع کی جاسکتی ہے ، جب تک کہ تصویر سے ہر غلطی کا انکار نہیں ہوجاتا۔

ایک بار جب کھپت میں مبتلا ایک مریض اس کے پاس آیا تو اس نے اس کام کی اس لائن کی افادیت کا مظاہرہ اس طرح کیا: اس نے ایک ہفتے تک اس خاتون سے سلوک کیا۔ جب وہ بہتر نہیں تھیں ، تو انہوں نے یہ جاننے کے لئے دعا کی کہ پریشانی کیا ہے۔ یہ اس کے پاس آیا تاکہ اسے اپنی مدد کرنے کی کوشش کرنا بند کردیں ، کیوں کہ اس کی غیر سائنسی کوشش غلطی کو اور حقیقت بنا رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے خیالات کو اپنے آپ میں لے جا رہا تھا۔ اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے کام کے اس حصے کی طرف راغب کرے ، جبکہ اس نے اپنے آس پاس موجود ہر شخص کو کامل دیکھتے ہوئے اسے دیکھنے کی کوشش کی۔

یہ خاتون اور اس کی بیماری شارون ، ماس میں مشہور تھی ، اور اس طرح اس کے احساس کو ذہن میں رکھے ہوئے اس کے جھوٹے تصور کو ٹھیک کرنے کے لئے قصاب ، بیکر ، پوسٹ مین وغیرہ شامل کرنا پڑا۔ اس کے آس پاس کے لوگوں کی انہوں نے مسز ایڈی کے اس بیان کو اچھ .ا استعمال کیا ہوگا ، "دوسروں کے ذہن میں بد سلوکی میرے بارے میں جھوٹا تصور نہیں تشکیل دے سکتی ہے۔" اس کوآپریٹو کاوش کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک ہفتہ میں ٹھیک ہوگئی۔ اس وقت کے بعد سے ، مسٹر کارپینٹر اکثر یہ سوال کرتے رہے ہیں کہ آیا اس مریض نے فالج سے بیمار شخص کی صحبت کے عیسیٰ کے مظاہرے کے مطابق ، کام کا اہم حصہ نہیں کیا تھا۔ عیسیٰ کا بیان ، ’’۔۔۔ ان کے ایمان کو دیکھ کر ،‘‘ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس نے پہچان لیا ہے کہ اس شخص کے آس پاس کے لوگوں کی بدانتظامی سے نمٹا گیا ہے۔ لہذا شفا یابی ایک سادہ مظاہرہ تھا۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم واقعی اپنے بھائی مرد کو کامل کے طور پر نہیں دیکھ رہے ہیں ، جب تک کہ ہم اسے اور ہمیں سب کو کامل کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔ ہم کس طرح محسوس کرسکتے ہیں کہ ایک شخص کامل ہے ، اور اسے یقین ہے کہ وہ کسی کے بارے میں نامکمل نقطہ نظر رکھتا ہے؟




309۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ یہ کہ آپ قیامت کے بعد یسوع کے جسم کے بارے میں ایک سائنسی فکر رکھتے ہیں۔ یہ روحانی تھا یا مادی؟ انسان کے پاس کبھی بھی ایک قسم کا جسم نہیں ہوتا ہے۔ یہ اس کا مادی معنویت ہے جو غیر حقیقی ہے۔ سائنس اور صحت کے ابتدائی ایڈیشن میں ہمیں یہ بیان ملتا ہے ، ’’متکلم کے دیوتاؤں کے دیوتا اتنے ہی حقیقی تھے جتنے ہمارے جسم۔۔۔‘‘

قیامت کے بعد شاگردوں نے پھر بھی عیسیٰ کے جسم کو مادی کے طور پر دیکھا ، جبکہ وہ جانتا تھا کہ یہ روحانی ہے۔ متفرق مسز ایڈی کے صفحہ 218 پر لکھتے ہیں کہ روحانی جسم عروج کے ساتھ آیا تھا۔ پھر بھی ہم نے اسے یہ کہتے ہوئے پایا کہ وہ خیال کے طور پر دوبارہ ظاہر ہوا۔ نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ جسم ہمارے لئے اسی طرح ہے جیسے ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ مادی طور پر دیکھا جاتا ہے ، یہ بات اہم معلوم ہوتی ہے۔ پھر بھی سائنس سکھاتی ہے کہ روحانی طور پر ایک ہی جسم ہے۔ اگر عیسیٰ نے کامل آدمی کو دیکھ کر بیماروں کو شفا دی تھی تو ، اس نے اپنے جسم کو کامل اور روحانی بھی دیکھا ہوگا۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’مادی جسم پر قبضہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک ہزار سال پہلے ایسا کبھی نہیں تھا۔‘‘متفرق تحریریں ، 70: 22 دیکھیں۔




310۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ ایسا نہ ہو کہ آپ غلطی کو اپنے اعتقاد سے الگ کسی اور شے کی حیثیت سے نہیں سمجھتے ہیں۔ ایک بار ایک طالب علم نے ایک لڑکے کو شفا بخشی جو ٹرین سے چل پڑی تھی۔ جب مسز ایڈی نے اس سے پوچھا کہ وہ لڑکے کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے تو اس نے جواب دیا ، ’’لیکن ماں ، میں نے لڑکے کے ساتھ بالکل بھی سلوک نہیں کیا مجھے بس اتنا پتہ تھا کہ میں مجھ سے متزلزل نہیں ہوسکتا ہوں۔‘‘ مسز ایڈی نے سیدھے الفاظ میں کہا ، ’’آپ کو بس یہی کرنا ہے۔‘‘

ایک بار جب ایک طالب علم یہودیوں کی سرگرمیوں پر اس قدر مشق ہو گئی کہ وہ یہودی مخالف تحریک میں شامل ہوگئی۔ جب مسز ایڈی کے ایک طالب علم کے ذریعہ انھیں ملازمت پر لے جایا گیا تو ، اس نے اعلان کیا کہ وہ یہودیوں سے ذاتی طور پر نہیں لڑ رہی ہے ، بلکہ یہودی کی بنیادی ذہنیت ہے۔ اس نے اس کی نشاندہی کی کہ وہ اپنے آپ سے باہر کچھ لڑ رہی ہے ، جب سائنس میں یہ قاعدہ ہے کہ ہماری واحد لڑائی ہمارے عقیدے کے ساتھ ہے کہ ہمارے سوا کچھ اور بھی ہے جس کے لئے ہمیں لڑنے کی ضرورت ہے۔

جو شخص غلطی پر اپنے عقیدے کے علاوہ غلطی کا مقابلہ کرتا ہے وہی ہوا کو پیٹتا ہے ، یا گلابی ہاتھیوں سے لڑنے والے فرسودہ آدمی کی طرح ہے۔ خامی خدا کی تخلیق کے بارے میں ایک جھوٹ ہے ، یہ دوبد ہے جو زمین سے انسان کے مادی نقطہ نظر سے ایک کامل کائنات کو دیکھنے کے ل. پیدا ہوئی ہے۔




311۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کہ آپ الٹ کے دعوے پر محتاط رہیں کیوں کہ غلطی جس طرح سے حق کی مخالفت کا دعوی کرتی ہے۔ غلطی سچائی سے نہیں لڑ سکتی ، لیکن وہ اپنے عمل کو پلٹنے کا دعوی کرتی ہے۔ ہم اس غلطی کو خود ہی جھوٹ کا رخ موڑنے سے نمٹ سکتے ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’اس کے قریب ہر علاج میں: یہ علاج الٹا نہیں ہوسکتا اس کا اثر الٹا نہیں ہوسکتا اس کے برخلاف کوئی نتیجہ سامنے نہیں لایا جاسکتا ہے؛ اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا ، رکاوٹ نہیں بنائی جاسکتی ، یا متضاد؛ بدنصیبی جانوروں کی مقناطیسیت کے جھوٹے دعوے کا الٹ کا کوئی قانون نہیں ہے ، اور وہ کسی بھی قانون کے اعتقاد کے ذریعہ عمل نہیں کرسکتا ہے۔ ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔ ‘‘

جب ہم غلطی کے دعوؤں کو الٹ دیتے ہیں تو ، ہم انسان کے قہر کو اس کی تعریف کرنے کا سبب بنتے ہیں ، اور مسز ایڈی سائنس اور صحت کے مطابق جیسا کہ مسز ایڈی نے اعلان کیا ہے ، اچھی انجام کو ختم کردیتا ہے۔

ایک بار ایک شخص کی ایک ایسی بیوی تھی جس کو اتنے خوش امیدوار ہونے کی شہرت حاصل تھی ، کہ وہ ہر چیز میں اچھانظر آتا ہے۔ ایک دوست جس نے جوڑے کو لکڑی کی فراہمی کی ، اس پر فخر ہوا کہ وہ اس امید کو ختم کرسکتا ہے۔ اس نے ایک ایسی بھڑکتی گاڑی بھیج کر ایسا کرنے کی کوشش کی جو اس طرح مڑا ہوا تھا کہ استعمال کے لئے تقریبا نا مناسب ہے۔ بعد میں بیوی نے شکایت کرنے کی بجائے ، لاٹھی بھیجنے پر اس کا شکریہ ادا کیا جس پر اس کے برتنوں نے اس کی خوبصورتی اتنی اچھی طرح سے فٹ کردی ، اور ان جیسے ہی مزید چیزوں کا مطالبہ کیا۔

جب ایک مریض مصیبت کی قدر ظاہر کرنے کے لئے تیار ہے ، اور وہ روحانی طور پر بڑھنے اور ’’اویکت طاقت‘‘ کی جانچ اور ترقی کے لئے اسے کس طرح استعمال کرسکتا ہے ، جیسا کہ مسز ایڈی متفرق تحریروں کے صفحہ 201 پر لکھتی ہیں ، وہ یہ سیکھتا ہے کہ انسانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے برائی کی کوشش کو پلٹنا۔ بیماری کے پیچھے کا مقصد فکر کو پریشان اور پریشان کرنا ہے ، تاکہ یہ خدا کو چھوڑ دے۔ جب ہم اس نیت کو تبدیل کرتے ہیں اور مصیبت کو خدا کے قریب تر کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ تمام چیزیں خدا کے ساتھ محبت کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار ایک طالب علم کو لکھا ، ’’اسرائیل کا خدا آپ کو یہ تجربہ عطا کرے جو آپ کو جو کچھ بھی ہو ، بلند کرے گا۔ جب نتائج کا استعمال ثابت ہوتا ہے تو اس کا شکار ہونا اچھا ہے۔ ہمیں جو ضرورت ہے وہ ہے روحانی بیداری اور کسی ماد ی حالت کی تندرستی نہیں۔ ہمیں صبر کرنا چاہئے اور غلطی کا نشانہ نہیں بننا چاہئے ، لیکن ہم صبر کو اپنی سوچ کو روحانی بنانے کا فعال عمل بنائیں۔‘‘

طلباء و طالبات وابستہ رہے ہیں جو اپنے اندر پائے جانے والے تنازعات کی وجہ سے تنظیم سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ بنیادی طور پر اس طرح کی غلطیوں کا مقصد ہے کہ ہم اپنی صفوں کو تقسیم کریں اور چرچ کو نیچے کھینچیں۔ پھر بھی جب کوئی ممبر ان حالات کو محرک کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اپنی عقل کو اپنے ساتھی ممبروں میں سے ہر ایک کے عقل کی حیثیت سے دیکھنے کے لئے کوشش کرتا ہے تو ، وہ ان نقصانات کو نشوونما اور برکت کا ذریعہ بناتا ہے ، اور اس طرح الٹ سے غلطی کا سامنا ہوتا ہے۔




312۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ خاتمے کے لئے وسیلہ کے طور پر خدا کی عکاسی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں - یہ نتیجہ صحت کا ہے۔ وہ وقت آتا ہے جب خدا آپ سے توقع کرتا ہے کہ آپ اسے تلاش کرنے میں مدد کے لئے تضاد کا استعمال کریں۔

جب کوئی کرسچن سائنس کے ذریعہ مدد طلب کرتا ہے اور اسے حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ، اگر وہ اعلان کرتا ہے کہ اس کا ایک مہینہ تک علاج ہے ، اور اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس طرح کا مطلب یہ ہے کہ اسے صحت نہیں ملی۔ اور پھر وہ طبی طریقوں کی طرف لوٹنے کے تصور سے کھلونا کے قابل ہے۔ وہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ وہ خدا سے جو چاہتا ہے وہ خوشگوار معاملہ ہے ، بغیر روحانیت کے۔

جب کوئی شخص بیماری کو خدا کی تلاش کے خاتمے کا ذریعہ سمجھتا ہے تو ، اس کے بارے میں کوئی واضح خیال یا اس سے زیادہ بھروسہ مند احساس حاصل ہوجاتا ہے ، اسے شکر گزار بنا دیتا ہے ، چاہے وہ ایک ہی وقت میں جسم میں ہم آہنگی حاصل نہ کرے۔




313۔ دیکھنا کہ مادی جعل سازی سے حقیقت کی طرف راغب کرنے میں ، ایسا نہ ہو کہ آپ جس قدم کے درمیان ہوں اس کو نظرانداز کریں۔ کوئی بھی ایک پہاڑی چوٹی سے دوسرے پہاڑی تک نہیں جاسکتا ، جس کے درمیان وادی ہے اس میں جاکر بغیر۔ اگر ایک چوٹی جعلی اور ایک حقیقت کے لئے کھڑی ہو تو ، وادی کو مخالف کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ، زندگی ، ہم آہنگی ، صحت ، اور محبت حقیقت کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان کی مخالفت موت ، تکرار ، بیماری اور نفرت ہے۔ ان کی جعل سازی انسانی یا جسمانی زندگی ، مادی ہم آہنگی ، جسمانی صحت اور ذاتی محبت ہے۔

کوئی شخص ذاتی محبت سے لے کر خدائی محبت تک اس حقیقت کو بے نقاب نہیں کرسکتا کہ خدائی محبت کی جعل سازی کے طور پر ذاتی محبت نفرت پر مبنی ہے ، الہی محبت کے برعکس۔ ایک ہی دلیل ہر جعلی سازی کے ساتھ اچھا ہے جو ہمارے ساتھ نمٹنا ہے۔

یہ نقطہ نظر ایک طالب علم کو یہ یقین کرنے سے روکتا ہے کہ وہ جعل سازی سے براہ راست حقیقت کی طرف جاسکتا ہے ، اس کے مخالف کے معاملے میں پہلے جعل سازی کا تجزیہ کیے بغیر۔ متفرق تحریریں ، صفحہ 351: 20 پڑھیں۔




314۔ دیکھنا کہ اگر خدا آپ کو کسی اور کو سرزنش کرنے کے لئے بلاتا ہے ، تو آپ اسے ہمیشہ محبت کے نقطہ نظر سے ہی کرتے ہیں ، جیسا کہ ہمارے قائد نے کیا۔ ایک بار جب اس نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھرپور سرزنش کی۔ پھر اسی خط میں اس نے لکھا ، ’’اس بات کا یقین کر لیں کہ آپ اپنی سکون سے محروم نہیں ہوں گے۔‘‘ اگر وہ ان کو فانی عقل کے نقطہ نظر سے ڈانٹ رہی ہوتی ، تو اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اس کی ڈانٹ اس کا مقصد پوری کردی ہے ، جب تک کہ وہ اپنی سکون سے محروم ہوجاتے۔

اس واقعے سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مسز ایڈی واقعی غلطی کو ڈانٹ رہی تھیں نہ کہ انسان۔ وہ ہدایت کاروں کو دیکھنے اور درست کرنے کے ل. اسے اجاگر کررہی تھی۔ اس موقع پر غلطی کو پورا کرنے کے لئے انہیں اپنے امن کی ضرورت ہوگی۔

اس کے لئے سائنس کو ڈانٹ کو بجا طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے جتنا اس کے انتظام کے ل.۔ ہمارے قائد کی سرزنشوں کا احترام کرنے کا صحیح طریقہ یہ جاننا تھا کہ خدا ہی اس کے ذریعہ سرزنش کر رہا ہے۔ کوئی شخص سائنسی طور پر سرزنش نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ یہ تسلیم نہ کرے کہ غلطی کبھی بھی انسان کی نہیں ہوتی۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ غلطی کو دور کرنے کے لئے کسی کو سرزنش کرنے کے قابل بنائے ، بالکل اسی طرح جیسے ایک جاگیردار ایک ناپسندیدہ بورڈ کو بے دخل کردے۔ غلطی ہم سے کبھی نہیں ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک بورڈر ہے جسے ہم اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار اس کی سرزنش کرنے کا قاعدہ حسب ذیل بیان کیا:

’’میرا اصول یہ ہے کہ دوسروں کے عیب نام کو غیر ضروری طور پر بتانا نہیں ہے۔ جب مجھ پر ظلم کیا جاتا ہے تو میں انتظار کروں گا تاکہ میں ناراضگی کے احساس کے ساتھ جواب دوں ، اور سچائی غلط روح سے جھوٹ کو بے نقاب کرے۔ میں نے برائی کا بدلہ واپس نہیں کیا ، بلکہ خدا کا انتظار کیا۔ - جتنا صبر کرنا چاہئے مجھے صبر نہیں کرنا چاہئے ، لیکن میں نے انتظار کیا اور پھر بھی انتظار کیا۔ ‘‘

_________________

315۔ دیکھنا کہ اگر آپ کسی بھی معاملے میں تندرست ہونے میں ناکام ہوجاتے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنے آپ کو اپنے بجائے اپنے مریض پر الزام لگائیں۔ اگرچہ آپ پوری طرح سے یا جزوی طور پر الزام عائد کرنے کے لئے بھی نہیں ہوسکتے ہیں ، لیکن یہ فرض کرنا متناسب ہے کہ آپ ہیں ، چونکہ اس سے آپ بہتر کام کرنے میں جلدی کر رہے ہیں۔

اگر آپ کو آگر دیا جاتا اور آپ کو یہ بتایا جاتا کہ اس سے کسی بھی قسم کی لکڑی میں چھید ہوجائے گا ، تو آپ کو عملی طور پر معلوم ہوگا کہ بعض اوقات کسی قسم میں اتنی گانٹھ ہوتی ہے کہ آپ سوراخ نہیں بناسکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کے بارے میں ہماری تفہیم بیماروں کو شفا بخشتی ہے۔ پھر بھی کسی مریض کی فکر کفر ، یا دل کی سختی کی گرہوں سے بھری ہوئی ہے۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’اگر آپ کے پاس کوئی مریض ہے جو جواب نہیں دیتا ہے تو ، کیا آپ کہیں گے ، ’میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی ،‘اور ہار مان لی؟ نہیں ، یہ موقع ہے کہ وہ اونچی ہوکر مطالبہ کو پورا کرے۔‘‘‘

پینٹ ہٹانے والا ہمیشہ پینٹ کو ہٹا دے گا۔ لیکن آپ سے مطالبہ کیا جاسکتا ہے کہ اسے اس جگہ پر استعمال کریں جو قریب قریب قابل دست تھا۔ کسی مریض کی غلطی پر سچائی کا اطلاق کرنے کے لئے کسی پریکٹیشنر کی مہارت کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، کیوں کہ راستہ کھولنا ہوتا ہے تاکہ غلطی بے نقاب ہوجاتی ہے۔ پھر سچائی کا اطلاق ایک سادہ سی بات ہے۔




316۔ دیکھنا کہ جب آپ انسان کو اس چینل سے تعبیر کرتے ہیں جس کے ذریعہ الہی محبت بہتی ہے ، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ جو محبت بہتی ہے وہ بھی انسان ہے۔ ایسے طلباء ہیں جو اصطلاح ، چینل کے استعمال پر اعتراض کرتے ہیں ، لیکن اگر انسان کو یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ چینل ہے اور جو اس کے ذریعے رواں دواں ہے ، تو وہ اس اصطلاح کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔




317۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ حوصلہ شکنی کا شکار ہوجاتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے فٹ پاتھ پر پتے صاف کرنے میں آپ کے کام سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ، کیونکہ اگلی صبح آپ کے لئے ایک تازہ انتظار ہے۔ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ جب تک درختوں کے سارے پتے نہ نکل جائیں تب تک خوشی سے اپنی جھاڑو جاری رکھیں گے۔

آپ کی پریشانی کا ثبوت ایک ہی دن کے بعد لگ سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنا کام ہر دن وفاداری کے ساتھ کرتے ہیں تو ، آپ نے وہی کیا جو خدا آپ سے چاہتا ہے اور غلطی سے نمٹا جاتا ہے۔ اگر کل وہی ثبوت سامنے آجائے تو ، اسے خوف کی تازہ فصل کے طور پر سمجھو ، اور نہ کہ پرانے کو جو کل آپ نے سنبھالا تھا۔ تب آپ کو یقین ہے کہ جب تک غلطی کا درخت ننگا نہ ہوجائے ، حوصلہ شکنی کے بغیر کام کریں گے۔

اگر آپ نے کسی ایسے دشمن کو گولی مار دی جو آپ کے گھر کے قریب پہنچ گیا ، اور اگلے دن وہ دوبارہ پیش ہوا تو آپ یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ آپ کا مقصد ناقص تھا۔ آئیے ہم فرض کریں کہ یہ ایک سو دن تک جاری رہتا ہے ، یہاں تک کہ آپ اپنی بندوق ، یا اس کو نشانہ بنانے کی اپنی صلاحیت پر پورا یقین نہیں کھو لیتے ہیں۔ پھر ایک صبح کوئی دشمن ظاہر نہیں ہوتا ہے۔ آپ صرف سو مردہ مردوں کو تلاش کرنے کے لئے آگے بڑھے ہیں۔ ہر شاٹ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ ہر دن دشمن ایک نیا تھا ، لیکن اس نے حوصلہ شکنی پیدا کرنے کے لئے ، پرانے کے کپڑے پہنے۔ ماسٹر نے کہا ، ’’جو آخر تک برداشت کرے گا ، وہی نجات پائے گا۔‘‘




318۔ دیکھنا کہ آپ غلطی کے تمام مراحل کو نقالی بناتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک طالب علم غیر معمولی بیماری میں متنازعہ ہوسکتا ہے ، جبکہ اس نے کسی اور غلطی کی ذاتی حیثیت اختیار کی ، جیسے دنیا کو جنگ میں ڈوبنے کے ذمہ داران یا کیتھولک درجہ بندی کے ذریعہ یہ ظاہر ہوتا ہے۔

کیلے کے چھلکے لگانے پر آپ باہر کا کوٹ اتار دیتے ہیں ، بغیر اس کے کہ اس کو خوردنی بنایا جائے۔ ہم انسان سے غلطی کو الگ کرتے ہیں ، اسی وقت محتاط رہنا کہ تیل اور شراب کو تکلیف نہ پہنچائے ، جیسا کہ بائبل کا کہنا ہے۔ ذاتی غلطی ایک عقیدہ یا افسانہ ہے۔ کسی شخص کو غلطی سمجھنا غلط ہے۔ پھر بھی یہ وہی ہے جو ایک دفعہ ایک طالب علم کو احساس کیے بغیر ہی لپیٹ میں آتی تھی ، جب وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کسی ریستوران سے باہر چلی گئی ، محض اس وجہ سے کہ ایک کیتھولک پادری اندر چلا گیا۔

جب مسز ایڈی نے اعلان کیا کہ وہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ سے پیار کرتی ہیں ، چونکہ وہ خدا سے محبت کرتے تھے ، وہ یہ اعلان نہیں کررہی تھیں کہ وہ غلطی سے محبت کرتی ہیں ، لیکن اصل آدمی ، چونکہ یہ حقیقی آدمی ہی ہے جو ہمیشہ خدا سے محبت کرتا ہے - وہ ایسا کرنے میں مدد نہیں کرسکتا ہے۔ انسان سے اس کی گہری محبت جو چیزوں کی مادی سطح کے نیچے گھس گئی ، اس سائنسی عمل کو عملی جامہ پہنایا جو غلطی اور فرد کے درمیان الگ ہوکر انسان کی موت کو شفا بخشتا ہے۔ کیتھولک سے محبت کرتے ہوئے ، مسز ایڈی سائنسی طور پر رومن ازم کے دعوے کو نبھانے کے لئے اپنی فٹنس ثابت کررہی تھیں۔ یقینا اگر کیتھولک ہمارے دشمن ہیں ، ہمیں بھی ان سے نفرت کرتے ہیں ، تو پھر ایپسکوپالیوں کو بھی اسی طرح ہونا چاہئے ، کیونکہ مسز ایڈی نے ایک بار مسٹر میک لیلن کو لکھا تھا کہ کیتھولک اور ایپیسوسیسی روح اور غلطی سے ایک تھے۔ تاہم ، سائنس میں ہمارا دشمن کوئی مذہبی فرق نہیں ہے۔ یہ فانی عقل ہے اور اس میں سب کچھ شامل ہے۔

اگر آپ کو کسی دوست سے خسرہ ہو جاتا ہے تو کیا آپ اس سے نفرت کریں گے؟ اب آپ کو کسی کاہن سے نفرت نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ وہ کیتھولک مذہب کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ نہ تو خسرہ اور نہ ہی کیتھولک انسان کا کبھی حصہ بن جاتا ہے۔ بائبل ہمیں خبردار کرتی ہے کہ وہ خود کو دنیا سے بے خبر رکھے۔ کیا ہمیں اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہئے کہ ہمیں انسان کے اپنے احساس کو کسی بھی فانی ذہنیت سے روکے رکھنا چاہئے؟




319۔ دیکھنا کہ آپ کو یاد ہے کہ خوف اس کی بیل کا پھل ہے جس کی فخر بہار ہے۔ ایک چھوٹا لڑکا جو گھر سے بھاگتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی دیکھ بھال کرنے میں خود کو اہل محسوس کرتا ہے ، اور اس وجہ سے کہ وہ اپنے والدین کے اختیار میں مزید کام نہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔ جب یہ رات آتی ہے اور وہ بھوکا اور ٹھنڈا ہوتا ہے تو یہ فخر ، جلد ہی خوف کی طرف مائل ہوتا ہے۔

جب تک وہ اپنے آپ کو دیکھ بھال کرنے کے لئے مناسب محسوس کریں تو خدا سے علیحدگی کے اعتقاد کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن یہ فخر جلد ہی خوف کا پھل پیدا کرتا ہے ، جب کچھ ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ کرنے میں ان کی طاقت سے باہر لگتا ہے۔

فخر انسانوں کی پیدائش میں شریک ہوتا ہے ، جبکہ خوف ان کی موت سے گھرا ہوا ہے۔ فخر کا کہنا ہے کہ ، ’’میں کر سکتا ہوں ،‘‘ اس خوف کے برخلاف جو کہتا ہے ، ’’میں نہیں کر سکتا۔‘‘خدا فرماتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی حق کا بیان نہیں ہے۔ صحیح رویہ یہ جاننا ہے کہ جو کچھ ذہن کی عکاسی کرتا ہے اس کے لئے ساری چیزیں ممکن ہیں۔

بائبل کہتی ہے کہ فخر زوال سے پہلے ہی جاتا ہے۔ اسکائروکیٹ مہذب خوبصورتی کی عظمت میں طلوع ہوتی ہے ، صرف گرنے کے لئے ، خالی جلا ہوا شیل۔ قابل فخر اطمینان بخش اطمینان کے لئے سزا دینے والے انسانوں کو خوف کا عذاب ہے۔ خدا سے علیحدگی کا عقیدہ جو فخر کے ساتھ آتا ہے ، جلد ہی خوف کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لہذا ، خوف وہ مکتبہ ماسٹر ہے جس کا صحیح تجزیہ کرنے پر ، انسانوں کو خدا سے علیحدگی کے اعتقاد کی غلطی کا درس ملتا ہے ، اور اس حقیقت کو اس حقیقت کے ذریعہ سے انسان کو خدا سے جدا نہیں کیا جاتا ہے۔ لہذا ایسی کوئی چیز نہیں جس میں سے انسان فخر کرے ، اور اسے ڈرنے کے لئے کچھ نہیں۔




320۔ دیکھنا کہ آپ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ بائبل کے اس سوال کا جواب ، "اے قبر ، تیری فتح کہاں ہے ،" ولادت کے اعتقاد کی قبولیت کو ملنا ہے۔ سائنس اور صحت ہمیں بتاتی ہے کہ جس کا آغاز ہوتا ہے اس کا بھی خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ جب آپ پیدائش کے عقیدہ ، یا کسی آغاز کو قبول کرتے ہیں ، تو اس مقام پر قبر ، یا انسان کے اختتام پذیر ، اپنی فتح حاصل کرلیتا ہے ، کیونکہ یہ ایک لازمی نتیجہ کے طور پر آتا ہے ، اس بشر کو مرنا ضروری ہے۔ پیدائش کو قبول کرنا موت کو قبول کرنا ہے ، جیسا کہ غرور کو قبول کرنا خوف کو قبول کرنا ہے۔ پیدائش اور غرور خدا سے علیحدگی کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا مطلب ہے انجام۔ جب بجلی کی بیٹری جنریٹر سے الگ ہوجاتی ہے جو اس کو چارج کرتا رہتا ہے ، تو یہ ایک محدود اسٹوریج کی بیٹری بن جاتا ہے۔




321۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ کرسچن سائنس میں شفا یابی کے بیان میں ، آپ خدا کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اکثر طلبا کہیں گے ، ’’میں نے اس یا اس غلطی کو ننگا کرکے یا اس یا اس سچائی کو بھانپ کر اس مریض کو شفا بخشی۔‘‘ خدا تصویر میں کہاں آتا ہے؟ بلکہ انہیں ہمیشہ اس بات کی نشاندہی کرنی چاہئے کہ مریض کو شفا بخشنے کے لئے حقیقت میں طغیانی آتی ہے ، کیونکہ انہوں نے خدا کے راستے سے ہٹ کر اپنے آپ کو ایک چینل بنایا ہے۔ آپ کا کوئلہ بن بھرنے میں ، تین چیزیں ایسی ہیں جو ضروری ہیں۔ کوئلہ کا بوجھ ، ایک چھوٹی اور تہھانے میں داخل ہونا۔ سائنس میں پریکٹیشنر اپنے آپ کو خدا کا چینل بنا دیتا ہے۔ پھر وہ مریض کی سوچ کو کھولنے کے لئے ایک مظاہرے کرتا ہے ، تاکہ یہ سچائی کی مانند ہو۔ پھر حقیقت میں سیلاب آ جاتا ہے اور اسے شفا بخش دیتا ہے۔




322۔ دیکھنا کہ آپ کے اعتقاد کو درست کرنے میں کہ آپ کے بارے میں دوسروں کی غلط سوچ آپ کو بیمار کرنے کی طاقت رکھتی ہے ، جب تک کہ آپ اپنی حفاظت نہیں کریں گے ، آپ اس کو معکوس کردیں گے ، اور احساس کریں گے کہ یہ آپ کی بھلائی کرتا ہے اور آپ کو بہتر بناتا ہے ، جس کی وجہ سے آپ خدا کے قریب ہوجاتے ہیں۔ نیز آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ دوسروں کے بارے میں صرف وہی تصور ہوسکتا ہے جو حقیقی ہے۔

کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ سائنسی طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ دوسروں کی سوچ آپ کو متاثر کرنے کے قابل نہیں ہے اور اسی طرح ہے۔ لیکن بائبل اشارہ کرتی ہے کہ زمین نے عورت کی مدد کی۔ لہذا ، کیونکہ ہمیں یہ خدشہ ہے کہ دوسروں کے خیالات ہمیں نقصان پہنچانے اور بیمار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ، لہذا ، صحیح سمت میں ایک قدم یہ جاننا ہے کہ الٹ کے قانون کے مطابق ، دوسروں کی سوچ ہمیں صرف اچھی کام کرتی ہے ، کہ ہم اس کے ذریعہ بہتر بن گئے ہیں ، اور یہ کہ ہمارے آس پاس کے ہر شخص ہمیں اسی طرح دیکھتا ہے جیسے خدا نے ہمیں خالص ، کامل اور لافانی بنایا ہے۔

3اکتوبر 1906کو ، مسز ایڈی نے کرسچن سائنس انورسٹی بورڈ آف ڈائریکٹرز کو مندرجہ ذیل خط لکھا: ’’مسٹر فرلو کو یہ بتائے بغیر معلوم کریں کہ یہ کون ہے جو میرے بارے میں جھوٹ کی خبر دیتا ہے۔ اس کے بعد کمیٹی بنائیں۔ بزنس پر ان منحرف مضامین کے ساتھ سلوک کریں تاکہ وہ مجھ سے متعلق اپنے جھوٹے احساس کو حقیقی معنوں میں بدل سکیں ... انہوں نے میرے بارے میں جھوٹ بولا ہے اور ان جھوٹوں پر یقین کیا ہے۔ آپ جو کچھ کرسکتے ہیں وہ ہے اس یقین کو اس عقیدہ کو ختم کرنا۔ ‘‘ مسز ایڈی نے محض کاروباری کمیٹی کو یہ جاننے کے لئے کیوں ہدایت نہیں کی کہ دوسروں کے خیالات میں ان کے رکھے ہوئے غلط احساس کو اس پر یا کسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت نہیں ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے یہ کیا ، لیکن مظاہرے میں ایک قدم یہ جاننا تھا کہ ان سوالوں پر غور کرنے والے افراد ہی ان کا تصور کرسکتے ہیں۔ یہ احساس انسان کے قہر کو اس کی تعریف کا سبب بنائے گا۔




323۔ دیکھنا کہ آپ ایمان اور سائنس کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ اعتقاد میں بدلاؤ جسمانی تبدیلی کا سبب بنے گا ، جو انسان کو شفا بخش قرار دے سکتا ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ اعتقاد کو قابو میں رکھتا ہے۔ سائنس خدا کو قابو میں رکھتی ہے۔

مسز ایڈی نے ایک بار اس فرق کا اظہار اس طرح کیا: "ایک تو شفا بخشتا ہے خدا کو جانتا ہے دوسرا جسمانی طور پر شفا بخش دیتا ہے۔ ایمان شفا صحیح معنوں میں نہیں ہے ، ورنہ مریض خدا کے ساتھ ہوتا ہے۔ لہذا یہ نہ سوچیں کہ آپ صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ ، آپ ایک مسیحی سائنس دان ہیں جیسا کہ ادویات حواس کے حوالے سے ٹھیک کرتی ہیں ، اور اسی طرح غلطی بھی ہوتی ہے۔ ایک کرسچن سائنس سائنس دان اخلاقی اور جسمانی کو بھی ٹھیک کرتا ہے۔




324۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کسی چیز کو جاننے یا سمجھنے کی بجائے کسی چیز کو ظاہر کرنے کے عمل کے طور پر بیماروں کو شفا دینے کے عمل کو سمجھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’اعلامیہ مظاہرے ہے۔ یہ خدا کا قانون ہے ، انسانی دعوی نہیں ‘‘لیکن انہوں نے اس اعلامیے کا حوالہ دیا کہ وہ کسی کے اعتراف کی گہرائیوں سے کیا دعوی کرتا ہے ، اور کوشش کرنے کے عمل کو نہیں اس حقیقت کو یہ بتانے سے شفا بخشی کہ کسی نے سیکھ لیا ہے ، جبکہ کسی کے اعتقادات بنیادی اور انسانیت ہیں۔بعض طلباء حقائق کے بیانات پر گویا گویا ان بیانات میں بیمار کو شفا بخشنے کی طاقت رکھتے ہیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ خود ہی ان کا کیا مانتے ہیں۔

ایک بار مسز ایڈی نے اعلان کیا ، ’’وقت آنے والا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت جلد ہی آجائے گا ، جب کرسچن سائنس سائنسدانوں کو کرسچن سائنس زندگی کی مستقل خواہش اور کوشش کے ذریعہ علاج کروانے میں شعوری کوشش نہیں کرنی پڑے گی ، تو ان کا شعور حاصل ہوگا اتنے پاکیزگی سے پاک ہوجائیں ، کہ ان سے فطری طور پر شفا بخش پھولوں کی خوشبو نکل آئے گی جیسے پھولوں سے خوشبو ان کے لئے تیار ہے۔ ‘‘




325۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ سوال کرتے ہیں کہ آیا غلطی کو نقالی طور پر نہیں نپٹایا جانا چاہئے ، جب آپ ابتدائی دنوں کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں ، جب مسز ایڈی نے اسے ذاتی نوعیت کا بنایا تھا اور اس کا نام تجدید طلبہ کے ذریعہ کیا تھا ، اور طلباء کو ان کے خلاف کام کرنے کی ترغیب دی تھی ، گویا یہاں انسانی شکل میں غلطی موجود ہے۔

یہ ممکن ہے کہ اس وقت طلباء کو ان کے خلاف کام کرنے کے لئے ذاتی دشمنوں کی ضرورت ہو تاکہ ان کی پوری کوشش کی جاسکے۔ پھر بھی وقت آتا ہے جب طلبا ذہانت اور کامیابی کے ساتھ غیر معمولی غلطی کے خلاف کام کر سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر یہ افراد کے خلاف کام کرنا ایک پسماندہ اقدام ہوگا ، جیسا کہ ابتدائی طلبہ کرتے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے نوجوان طلباء کو جانوروں کے مقناطیسیت نامی غیر معمولی دشمن کے خلاف کام کرنے کے ساکھ پر ٹیکس لگایا ، جسے وہ دیکھ ، محسوس نہیں کرسکتے اور نہ ہی چھوا سکتے تھے۔ مسز ایڈی نے اعتراف کیا کہ ان دنوں انھیں یقین تھا کہ غلطی پر ذاتی طور پر حملہ کرنا ضروری تھا ، تاکہ کسی کو اس سے بچایا جاسکے۔

کرسچن سائنس جرنل ، جلد 6 ، صفحہ 562 میں ، ہمیں مسز ایڈی کا مندرجہ ذیل بیان ملتا ہے ، "کیا میں ناجائز میسمرج کے لئے ذاتی طور پر سلوک کرنے کی توثیق کرتا ہوں مجرم بدکاری کو ، یہاں تک کہ جب خرابی کرنے والے کسی کو قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور سائنس دان اسے جانتے ہیں ’’کیا وہ مجرم کے ساتھ ذاتی طور پر سلوک کریں گے؟ میں جواب دیتا ہوں ، اگر وہ ایسا سلوک کرتے ہیں تو وہ اپنا کام بڑھا دیتے ہیں۔ کرسچن سائنس کی اونچائی قادر مطلق ہے۔ حقیقت اس مقصد کے لئے ہمیں دی گئی ہے ، - تاکہ غلطی کو ختم کیا جا تااور انسان کو مسیح میں غیر اخلاقی طور پر آزاد کیا جا تا ۔‘‘

ایک طبیعیات دان لیبارٹری میں انسان سے بنی آسمانی بجلی کا مطالعہ صرف اتنا کرتا ہے کہ وہ آسمان میں رونما ہونے والے اس غیر معمولی مظاہر کا عمل سیکھ سکتا ہے۔ ایک بار جب اس نے مؤخر الذکر کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا تو اسے سابقہ کے پاس واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسز ایڈی نے پہلے تو یہ جان کر برے عمل کو سیکھا اور سکھایا کہ یہ افراد کے ذریعہ کیسے چلتا ہے۔ جب اس نے اپنے دعوؤں ، اس کے امکانات ، اس کے اثرات اور انسانوں کو کس طرح بے ہوشی کے جال میں پھنسے تو اس نے ہمیشہ کے لئے اس کی ذاتی حیثیت کرلی ، اور طلباء کو ہدایت کی کہ وہ کبھی بھی کسی کو ذاتی طور پر نہ اٹھائے۔




326۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ مسز ایڈی کے ابتدائی دنوں میں اس کے تجربے میں برائی کے آپریشن کی تشخیص کی درستگی پر سوال اٹھاتے ہیں ، جب اس نے افراد پر برے اثرات اور اثرات کا پتہ لگایا۔ اگرچہ اس کی روحانی صلاحیت پر غلطی کا پتہ لگانے کے بارے میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ، لیکن امکان موجود ہے کہ مثال کے طور پر جب اس نے طلباء کو کینیڈی یا ووڈبری کے خلاف کام کرنے کی ہدایت کی تو اس سے اس میں کوئی خاص فرق نہیں آیا کہ اس کی تشخیص کیا ہے۔ غلطی صرف اس میں ہمارا یقین ہے۔ اس کے غیر حقیقت کے سوا ہم جس کے بارے میں بھی یقین کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ تو اس فرق کو درست کرنا ، شفا بخش ہے۔

سائنس اور صحت کے صفحہ412 پر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم سچائی کے بارے میں اپنے ذہن میں پوری طرح قائل ہوں گے جس کے بارے میں ہم سوچتے ہیں یا بولتے ہیں اور ہم فاتح ہوں گے۔ اس سے ہم یہ جمع کرتے ہیں کہ ذہنی استقامت مطلوبہ مقصود ہے ، اور جب ہم تشخیص کے کسی ایسے نقطہ پر پوری طرح قائل ہوجائیں گے جو اس عقیدہ کو اپنے خیالات کے مطابق پیش کرتا ہے تو ہم فاتح ہوں گے۔

بظاہر مسز ایڈی نے اپنے طریقوں سے غلطی کی تشخیص کرکے اپنے طالب علموں کو ذہنی قابلیت حاصل کرنے میں مدد کی کوشش کی ، جو آج ہمارے کانوں کو عجیب لگ رہے ہیں۔ 26،1903 مئی کو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ، ’’اگر آپ آرسنک لیتے ہیں تو 1903 میں زیادہ تر معاملات میں آپ اسے ماریں گے۔‘‘جب مسز ایڈی نے اپنے طلبا کو غلطی کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے لئے کہا ، تو اس کی وجہ سے کیا فرق پڑا ، بشرطیکہ اس کی وجہ سے وہ ایک متحرک مزاحمت کریں اور پوری یقین کے ساتھ سچائی کے بارے میں سوچنے یا بولنے کا سبب بنے۔ اگر ابتدائی دنوں میں مسز ایڈی نے طلبہ کو یہ احساس دلانے کا سبب بنا کہ انسان کی شکل میں شیطان ان کی مدد سے ہے تو ، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی پوری کوشش کو آگے بڑھانا یہ طریقہ ضروری تھا۔ لیکن آج ، جب ہمارے پاس برائی کے آپریشن کے بارے میں واضح فہم ہے تو ، ہم اپنی ایڑیوں پر ذاتی نوعیت کی غلطی کے احساس کے بغیر ، زیادہ سائنسی اور نقالی طور پر کام کرنے کے اہل ہیں۔




327۔ دیکھنا کہ آپ قانون اور انبیاء کے مابین تعلقات کا صحیح تصور برقرار رکھیں۔ خدا کی شریعت موت کے خواب میں کوئی حقیقت نہیں ، اور نہ ہی کوئی بشر انسان جس کی مدد کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف پیشگوئی وہ عمل ہے جس کے تحت انسان کی مدد کی ضرورت ہے ، وہ ایک متوقع قائم کرسکتا ہے ، تاکہ جنت ، جس کو حاصل کرنے کے لئے وہ کام کر رہا ہے ، کو جنت کے حصول کی کوشش میں استعمال کیا جاسکے۔

علمی الہیات انسان کے لئے بہت کم عملی مددگار رہا ہے کیونکہ اس نے انبیاء کو پیش کیے بغیر ، جنت کو قانون یا مقصد کے طور پر پیش کیا ہے ، یا جنت کو حاصل کرنے میں عملی طور پر جنت کو استعمال کرنے کا طریقہ ہے۔ اس کے علاج معالجے کی توقع ہوتی ہے۔ لہذا ، پیشن گوئی ، جو متوقع پیدا کرتی ہے ، کو قانون کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا ، جو کسی انسانی ضرورت کو تسلیم نہیں کرتا ہے ، چونکہ اس اتحاد میں توقعات کا احساس ہوتا ہے اور مستقل طور پر نیکی میں قائم ہوجاتی ہے۔




328۔ دیکھنا کہ آپ اپنے مقصد کو اپنے مریض کو ’’عملے‘‘کی شفا یابی کے بجائے ’’مجسمہ‘‘دیتے ہیں۔ یہ برعکس 2 سلاطین 4 سے نکالا گیا ہے ، جہاں الیشع کے خادم کو بتایا گیا تھا کہ بعد کے عملے کو سونامائٹ خاتون کے مردہ بیٹے کے چہرے پر رکھنا ، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تب الیشع نے اپنے آپ کو لڑکے پر پھینک دیا اور اسے بحال کیا۔ کیا نوکر نے اپنے لئے مجسم بنائے بغیر ، الیشع سے خط کا حق سیکھا تھا؟ اس حقیقت سے کہ اس نوکر نے الیشع کا عملہ استعمال کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ الیشع کے مظاہرے پر جھکا ہوا تھا۔

الیشع اپنے آپ کو بچے پر پھینک رہی ہے ، منہ سے منہ ، آنکھ سے آنکھ ، وغیرہ ، جس طرح سے کمبل سے آگ لگ جاتی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہیں۔ کمبل آکسیجن کی فراہمی کو مکمل طور پر ختم کردیتا ہے جو اسے جلتا ہوا بناتا ہے۔ ایک کمبل یا "مجسمہ" علاج ، لہذا ایسا ہوتا ہے جو اس غلطی کو ختم کرنے کی کوشش سے زیادہ کام کرتا ہے جس سے مریض دوچار ہے۔ اس کو لازمی طور پر مریض کو مادے کے احساس سے آزاد کر کے ، یا کسی مادی ذہن میں یقین سے ، پوری تصویر کو روحانی بنانے کی کوشش کی علامت ہے۔




329۔ دیکھنا کہ آپ غلطی کو ایتھر کی حیثیت سے سمجھتے ہیں ، جو اس وقت تک بخارات نہیں بنے گا جب تک کہ یہ بوتل میں مضبوطی سے کارک جاتا ہے۔ اسے بے پردہ کریں اور یہ ایک ہی وقت میں غائب ہو جائے۔ متفرق تحریروں کے صفحہ 210 پر ہم نے پڑھا ہے کہ نقائص کو چھپایا گیا ہے کہ وہ دو جہتی تباہ ہوچکی ہے ، اور باقی تیسرا خود ہی ہلاک ہوجاتا ہے۔ ہمارا حصہ یہ ہے کہ غلطی کو ننگا کرنے کے لئے سچائی کا استعمال کیا جائے ، اور اس کے بعد باقی ایک تہائی کو خود تباہ ہونے کی قسمت پر چھوڑ دیں۔




330۔ دیکھنا کہ آپ خدا ، ہمارے قائد اور کرسچن سائنس کے درمیان خدا کے درمیان درج ذیل تعلقات کو ذہن میں رکھیں۔ اس کاز کو ایک جسم سمجھا جاسکتا ہے جس کا خدا ہیڈ ہے ، اور مسز ایڈی دل ، جیسا کہ اس نے ایک بار کیلون فرائی سے کہا تھا۔

جب مسز ایڈی نے کہا ، ’’مجھ کو صرف اسی طرح پیروی کرو جیسے میں مسیح کی پیروی کرتا ہوں‘‘ ، وہ چاہتی تھیں کہ ہم یقین کریں اگر وہ خدا نے غلط کہا تو وہ غلط ہے۔ لیکن اس نے کبھی نہیں کیا۔ اس وقت کے منتظر جب ہم براہ راست خدا کے پاس جاسکیں گے ، وہ چاہتی تھیں کہ ہم خدا کی آواز کے طور پر اس کی بات سنیں اور بغیر کسی سوال کے اس کی پیروی کریں۔

اگر خدا ہیڈ ہے تو ہمیں اسے تمام طاقت اور ذہانت کا سرچشمہ سمجھنا چاہئے۔ اگر مسز ایڈی ہی دل تھیں ، تو پھر ان کا فعال مظاہرہ خدا کی طرف سے حاصل کردہ سبھی کی اطلاق ، گردش اور عمل تھا۔ اس نہ ختم ہونے والی اور محبت کرنے والی کوشش کے ذریعہ ، ستھرے ہوئے اور بیمار لوگوں کے لئے صحت کو تقویت ملی۔ اس محبت کا جو اس نے مظاہرہ کیا وہ سب کے لئے مار پیٹ کرتا ہے۔ خدا کی محبت ہونے کی وجہ سے ، وہ کبھی نہیں مر سکتا۔

حقیقی وفاداری میں خدا ، ہمارے قائد اور اسباب سے وفاداری شامل ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی کوئی طالب علم اس ٹرائیڈ میں سے کسی سے منہ موڑتا ہے تو ، وہ دوسرے دو سے بے وفائی کرکے ختم ہوتا ہے۔ لہذا ، اگر کوئی طالب علم یہ اعلان کرے کہ وہ خدا کی طرف سے ، مسز ایڈی اور اس کی تعلیمات سے وفادار ہے ، اور پھر بھی اپنی ذاتی وجوہات کی بناء پر اس تنظیم کی مذمت یا تنقید کرتا ہے تو ، اس کو پہچانا جانا چاہئے کہ وہ غلطی سے نمٹا گیا ہے۔




331۔ دیکھنا کہ آپ ذہن میں رکھیں اور متفرق تحریروں کے صفحہ 66پر مسز ایڈی کے ذریعہ کی گئی تفریق کو سمجھنے کی کوشش کریں ، "بیماری جس سے گناہ کی وجہ سے زیادتی ہوتی ہے وہ زیادہ جسمانی بیماری کی طرح شفا نہیں مل سکتی۔" گناہ کی ایک مددگار تعریف بدنیتی ہے جو ایک ایسا قانون بنائے گی کہ کرسچن سائنسدان بیماری یا گناہ سے خود کو ٹھیک نہیں کرسکتے ہیں۔ کتنے طلباء ، جب وہ اپنی یا دوسروں کی مدد کرنے میں ناکام رہتے ہیں ، پھرتا ہے اور گناہ کو بدنیتی پر مبنی روک تھام کرتا ہے جو اس طرح کا قانون بنانے کا دعوی کرے گا؟

ایک گھوڑا جس نے کبھی باڑ سے چھلانگ لگانے کی کوشش نہیں کی ، وہ ایسے بشر کی طرح ہوگا جس نے کبھی بھی اپنے آپ کو اموات سے بچانے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔ ایک دن گھوڑا باڑ کودنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں اس کا مالک اس کی ٹانگوں پر کھردری ڈال دیتا ہے۔ جب ایک بشر موت کی موت کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے ، وہ گناہ کے خلاف ، یا جانوروں کی مقناطیسیت کے خلاف آجاتا ہے جو اس کی کوشش کو ناکام بنا دیتا ہے۔ اس کو تسلیم کرنا اور سنبھالنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص کسی غلطی کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے ، بغیر یہ پہچان لیا کہ بدنیتی پر مبنی بد سلوکی نے ایک ایسا قانون بنایا ہے جو وہ نہیں کرسکتا ہے تو اسے اس حقیقت کو پہچاننا ہوگا اور اس نام نہاد قانون کو توڑنا ہوگا۔ تب اسے اپنی کامیابی کا راستہ ملے گا۔

جانوروں کی مقناطیسیت ، یا گناہ ، جو طلباء کے اچھے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا ، کو بے نقاب کرنا چاہئے۔ یہ کبھی طاقت نہیں ہوتا ، لیکن میسمرزم کے تحت اس کے دلائل حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار طلبہ کو ہدایت کی کہ اگر وہ زیادہ نہیں تو دن میں تین بار غیرجانبدارانہ دلیل اٹھائیں ، ’’آپ مجھے یہ یقین دلانے کے لئے نہیں کر سکتے ہیں کہ میں ٹھیک نہیں کرسکتا ، اور نہ ہی آپ مجھے شفا بخش ہونے سے روک سکتے ہیں۔‘‘

اگر ہمارے رہنما نے یہ استدلال استعمال کیا تو ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے غلطی کی غلط تجاویز کو تسلیم کیا تھا اور ان سے ملنے کے لئے چوکس تھا۔ ایک بار جب اسے غلطی کی ایک دلیل معلوم ہوئی جو یہ دعوی کررہی تھی کہ سچائی ایک دوسرے سے نہیں گزر سکتی ہے ، تو اس نے غلطی سے کہا ، ’’آپ سچ کو ایڈی سے کیلون اور کیلون سے ایڈی تک اپنے آپ کو ظاہر کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں۔‘‘ ایک اور وقت میں انہوں نے زور سے تصدیق کی کہ جھوٹے عقیدے کی اس طرح کی دلیلیں صرف خرافات تھیں ، اور جن لوگوں نے اس کو یا طالب علموں کے سامنے اس طرح کے دلائل کو حقیقی بنانے کی کوشش کی تھی ، وہ انھیں صرف اپنے لئے حقیقی بناتے ہیں۔




332۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ تم خدا کے نزدیک تمباک تمباکو استعمال کرنے والے ہو۔ سگریٹ نوشی کی غلطی پوری طرح سے محتاط سوچ کے ساتھ ، انسانی احساس راحت سے لطف اندوز ہونا ہے۔ طالب علم خدا کی نظر میں تمباکو نوشی کرتا ہے ، اگر وہ غیر منظم عقلی عدم استحکام کے ادوار میں عادت رہتا ہے۔ حقیقت میں یہ تمباکو استعمال کرنے والے سے زیادہ خراب ہے ، کیوں کہ مؤخر الذکر کے پاس اپنی ظاہری غلطی کی نشاندہی کرنے کے لئے ظاہری علامت ہوتی ہے ، جبکہ جو شخص انسانی ہم آہنگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے ذہنی طور پر راحت دیتا ہے ، اسے اپنی غلطی سے متنبہ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا ہے۔

عادات عقلی جڑتا کی نشاندہی کرتی ہیں۔ جب تک سچائی ریلیز نہیں کرتی ہے ، کسی بھی عادت پر قابو نہیں پایا جاتا ہے کیونکہ ظاہری قوت وصیت کے ذریعہ تبدیل کردی جاتی ہے۔ سگریٹ نوشی جھکا ہوا ہے - رہائش اور خوشی کے معاملے پر انحصار کرتے ہوئے۔ جب کوئی قوت ارادے کے ذریعہ اس پر قابو پا لیتا ہے ، تو وہ ایک جھکاؤ پایا جاتا ہے اور زیادہ خود انحصاری کرتا ہے۔ اس سے انسان کا ذہن اس کی گرفت کو مضبوط بناتا ہے۔ سگریٹ نوشی پر قابو پانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مادے کی بجائے روح پر جھکاؤ لگائیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح سے محبت کے غلط خیالات ، یا غیر اخلاقیات پر قابو پانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کم سے کم محبت کرنا نہیں ، بلکہ زیادہ سے زیادہ محبت کرنا ہے ، اس بات کا یقین کر کے کہ کسی کی محبت خدا اور اس کے خیال سے ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے سرزنش ہے جو اپنے آپ کو محبت کے جھوٹے احساس سے بچانے کے لئے سردی اور سختی میں پناہ لیتے ہیں۔




333۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ ’’تھپڑ سے خوش‘‘ رہیں۔ اس اصطلاح کو رنگ میں لڑنے والے کی نشاندہی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جسے پیٹا جاتا ہے اور کون نہیں جانتا ہے۔ وہ خیالی فتح پر خوش ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جانوروں کے مقناطیسیت کو ہم پر فتح حاصل ہو ، اور پھر ہمیں یہ یقین کرنے میں مبتلا کرنا پڑے گا کہ ہم جیت چکے ہیں ، یا جیت رہے ہیں ، اور لہذا ہم خوش ہیں۔

ایک بار جب ایک طالب علم یہ سمجھتا تھا کہ وہ رومن مذہب کے نقصان دہ دعوؤں سے بہت زیادہ جاگتا ہے ، اور ان پر فتح حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے اس پر اثر انگیز دلائل کا استعمال کیا کہ رومن کیتھولک ، پوپل کی طاقت پر اندھے عقیدے کے ذریعہ ، مسیحی سائنسدانوں پر لعنت بھیجنے یا برائی کا باعث نہیں بن سکتا ہے۔ کہ روم میں پوپ کو کرسچن سائنس پر لعنت بھیجنے کی کوئی طاقت نہیں ہے ، یہ کہ پوپل لعنت کی طاقت میں لاکھوں انسانوں کا جاہل عقیدہ اس قسم کی لعنت کو کوئی طاقت نہیں دے سکتا ہے ، اور نہ ہی کرسچن سائنسدانوں کو تباہ کرنے کی سوچی سمجھی طاقت بنا سکتا ہے۔

اس طالب علم نے محسوس کیا کہ وہ رومن کیتھولک کہلانے والے عظیم دشمن پر فتح یاب ہورہا ہے ، جب حقیقت میں اسے اس کے ذریعہ سنبھالا گیا تھا ، چونکہ اس کے دلائل کو اس انداز میں پیش کیا گیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسے یقین ہے کہ وہ ایک بہت ہی خطرناک بوگ بیئر سے مل رہا ہے ، یعنی رومن ازم کی لعنت۔

یہ خطرہ جو طالب علم کا سامنا کرتا ہے وہ کبھی بھی دشمن نہیں ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اسے یہ یقین نہیں کیا جائے کہ اس کا دشمن ہے اور اس سے ڈرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ حقیقت سے لڑتا ہے۔ مزید برآں ، کرسچن سائنس میں دلائل ، چاہے وہ کتنے ہی سیکھے اور پیچیدہ ہوں ، ، قطعی طور پر سائنسی نہیں ہیں جب تک کہ وہ جھوٹ کے سراسر شے کی ادائیگی کے ساتھ اختتام پذیر نہیں ہوجاتے ، چونکہ خدا ہی سب کچھ لامحدود ہے۔

ایک بار ہمارے پاس گیس کی فرنس لگ گئی۔ جب کام مکمل ہو گیا تھا اور مزدور رخصت ہوئے تھے ، تو ہم نے محسوس کیا کہ انہوں نے ضروری کنکشن کو چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے یہ کام چل پائے گا! طلباء اکثر ضروری نکتے کو چھوڑتے ہوئے ذہین انداز میں بحث کرتے ہیں ، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جس غلطی کو پورا کررہے ہیں اس کی قطعی شے کے ساتھ فکر کو متاثر کردیں۔




334۔ دیکھنا کہ آپ بیماری کو زیادہ سے زیادہ مثبت حالت کے طور پر نہیں سمجھتے ہیں ، بلکہ خدمت کے خاتمے کے اشارے کے طور پر۔ اس طرح آپ اصلاح کو کیا ہے اس کو ذہن میں رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ صحت کو بیماری کے لئے تریاق سمجھا نہیں جانا چاہئے ، کیونکہ بیماری کا نتیجہ ہے کیونکہ کسی نے خدا کے لئے اپنے کام کو نظرانداز کیا ہے۔ جب یہ کام دوبارہ شروع کیا جاتا ہے تو ، صحت سروس کے بطور مصنوعہ کے طور پر چلتی ہے۔




335۔ دیکھنا کہ آپ نے ہر مظاہرے میں پیٹا ہوا نقص شامل کیا ہے۔ بہت سی ترکیبیں پیٹا ہوا انڈا طلب کرتی ہیں۔ جب ہم مظاہرہ کررہے ہیں تو آئیے اس حقیقت کو شامل کریں کہ غلطی پہلے ہی پیٹ چکی ہے۔ تب ہم غلطی کو مات دینے کے لئے کام نہیں کریں گے ، لیکن اس احساس کو پہنچیں گے کہ یہ پہلے سے کچھ بھی نہیں ہے ، اور ہم کچھ بھی نہیں پیٹ رہے ہیں۔




336۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کسی دوسرے کے بارے میں جاننے والی غلطی کا سبب بنتے ہیں جس کا آپ کو اپنا ذہنی نقصان ہوتا ہے۔ جب بھی ہم غلطی کو حقیقی سمجھتے ہیں تو ہم ذہنی طور پر گر جاتے ہیں ، خواہ وہ خود ہی ہو یا کسی اور میں۔ جب ہمارے سامنے غلطی پیش کی جائے تو آئیے ہم اسے کسی چیز کی حیثیت سے نہیں سمجھتے ہیں اور اسے اعلی مقام تک پہنچنے کے موقع کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔




337۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ یسوع کا تقاضا ہے ، کہ یہ آپ کی اپنی مظاہرے کی کمی ہے ، اگر آپ پر کوئی اور غلط سلوک ہوتا ہے ، یا آپ کے خلاف کچھ ہوتا ہے۔ کیا اس نے ہمیں اپنے بھائی سے صلح کرنے کو نہیں کہا ، اگر ہم اپنا تحفہ قربان گاہ پر لائیں اور وہاں یاد آئے کہ اس نے ہمارے خلاف کچھ کیا ہے؟ انسانی عقل کا کہنا ہے کہ ، "دوسروں کے بارے میں میرے بارے میں سوچنے والے میں کس طرح مدد کرسکتا ہوں؟" سائنس میں ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے بھائی کو ہمیں اسی طرح دیکھتے ہوئے دیکھ کر ، استعاراتی طور پر غلطی کو درست کرسکتے ہیں۔ پچھلے پیراگراف میں مسز ایڈی نے بزنس سے متعلق کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ کچھ لوگ اس کے تصور کو بدلنے کے لئے کام کریں ، جھوٹے احساس سے سچ تک۔ ایک اور وقت میں ، انہوں نے طالب علموں کو یہ جاننے کی ہدایت کی کہ ’’دوسروں کے ذہن میں بد سلوکی میرے بارے میں کوئی جعلی تصور نہیں تشکیل دے سکتی ہے۔‘‘




338۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو لگتا ہے کہ معاملہ اٹھانا آپ کا فرض ہے ، جب تک کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی مریض سے علاج معالجے میں کوئی اچھائی محسوس ہورہی ہے۔ اس موقع پر خدا کی ہدایت کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس بات کا تعین کرنے کے کہ یہ جاری رکھنا درست ہے یا نہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار کہا تھا ، ’’اگر مریض طاقت اور حوصلہ ہارتا رہا تو ، یہ کہتے ہوئے کہ ‘‘ مجھے دستبردار ہونا چاہئے ’’اور آپ اسے روک نہیں سکتے ہیں ، معاملہ ترک کردیں ، پوری زمین کو عبور کرنے کے بعد۔‘‘




339۔ دیکھنا کہ جب آپ کسی جسمانی دعوے کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کی اصلیت کو ظاہر نہیں کرسکتے ہیں ، تو آپ یہ نہیں بھولتے کہ یہ جانوروں کی مقناطیسیت کی لطیف دلیل ہوسکتی ہے جو آپ کو ناکارہ بنانا ہے ، تاکہ آپ دنیا کے لئے بڑا کام کرنا چھوڑ دیں ، آپ کو جنون بنانے میں غیر اہم مسئلہ۔ یہ آپ کے جسمانی آرام کو برقرار رکھنا ہے۔ ایک طالب علم کو اس کی اپنی مادی ہم آہنگی کے بارے میں زیادہ فکر کرنے کی آزمائش ہوسکتی ہے ، تاکہ وہ خدا کے لئے بڑے کام کرنے میں بھول جائے یا نظرانداز کرے۔ اس میں بہت ساری ذمہ داریاں شامل ہیں ، جیسے قوموں کا امن اور خوشحالی ، کاز آف کرسچن سائنس کی توسیع ، نیز کھانے ، نیند اور اس طرح کی دعوے۔ ایک انتباہ طالب علم بائبل اور سائنس اور صحت کے لئے روزانہ کام کرے گا ، یہ جاننے کے لئے کہ یہ کتابیں عقل کی شفا بخش قوت رکھتی ہیں۔




340۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ کے برانچ چرچ میں اختلاف کی غلطی معلوم ہوتی ہے ، ہوسکتا ہے کہ خدا مہیا کررہا ہو ، جس پر روحانی روشنی کے میچ کو کھرچنا ہو۔ تمام شراکت آپ کی نمائشی صلاحیت کو استعمال کرنا سیکھنے کے لئے ایک موقع کی نمائندگی کرتی ہے۔ کرسچن سائنس میں جاننے کی ایک اچھی تعریف سائنسی استدلال ہے جو دباؤ میں ہے اور اب بھی سائنسی ہے۔

ایک چرچ جو بہت آسانی سے چلتا ہے شاید اندھیروں کی طاقتوں کو چیلنج کرنے کے لئے خدا کی موجودگی کا کافی مظاہرہ نہیں کررہا ہے ، اور اس طرح سے انسانوں کے عقل کو کیمیائی بناتا ہے۔ ایک میچ کو کسی کھردری سطح کی ضرورت ہوتی ہے جس پر بھڑک اٹھتی ہے۔ بعض اوقات ممبر اختلاف کی وجہ سے رکنیت سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔ اس ایکٹ میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ تنظیم کے الٰہی مقصد کے بارے میں انھیں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ مسز ایڈی نے ایک بار ایک طالب علم سے پوچھا کہ اس کے برانچ چرچ کا کام کیسے چل رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ سب کچھ بہت آسانی سے چل رہا ہے۔ اس نے جواب دیا ، ’’یہ بہت خراب ہے۔ اگر آپ ترقی کر رہے ہوتے تو ، معاملات اتنے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔‘‘




341۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو ہمارے لیڈر سائنس پر شک ہے ، جب آپ پڑھتے ہیں کہ بعض اوقات اس نے طلباء کو درج ذیل کی طرح دلائل اٹھانے کی ہدایت کی تھی: "آرسینک زہر کا انتظام کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اسے سردی سے لینے ، سیوریج گیس ، کے غیر متوقع جھوٹ کے پیچھے نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ یا اس کو چھپانے کے لئے کوئی اور جھوٹ ۔آرسنک کو چھپایا نہیں جاسکتا۔آرسنک قتل نہیں کرسکتی۔ الہٰی کا اعلان - اعلامیہ ہے - ہتھیاروں سے متعلق زہر آلودگی کے قوانین پر قابو پاتا ہے اور اسے ختم کرتا ہے۔ اس کا کوئی خوف نہیں ہوسکتا ہے ۔آرسنک زہر ذہنی بے حسی پیدا نہیں کرسکتا۔

اگر سارے اثرات فانی عقلوں سے آتے ہیں تو ، ہم یہ سیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے بشر ذہن اپنے ماد ے کے اعتقاد سے آزاد ہونا شروع ہوتا ہے ، اس کا دعویٰ ہے کہ ذہنی طور پر وہ تمام اثرات مرتب کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جو پہلے اس کے لئے مادے کی ایجنسی کو پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ مسز ایڈی کو معلوم ہوا کہ جان لیوا ذہن یہ دعوی کررہا تھا کہ وہ آرسینک کے دعوے کو انجیکشن کرسکتا ہے جہاں کسی نے آرسنک نہیں لیا تھا۔ جب ڈاکٹر ایڈی کی موت ہوگئی تو ، اس نے عوامی طور پر بیان کیا کہ ’’یہ زہر تھا جس نے اسے مارا - مادی زہر نہیں ، بلکہ مسمری زہر۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یہ ’’ہتھیاروں کا زہر تھا ، ذہنی طور پر زیر انتظام تھا۔‘‘

جس طرح ایک ماں اپنے لڑکے کو کسی حکمران سے گھما سکتی ہے ، یا اس کے بغیر ، اسی طرح انسانیت عقل ، جس نے انسانوں کو مادے سے زہر دے دیا ہے ، نے دریافت کیا ہے کہ وہ انہیں ذہنی طور پر زہر دے سکتی ہے۔ مسز ایڈی نے طلبا کو خوفزدہ کرنے کے لئے نہیں ، بلکہ خدائی علاج کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کے لئے اس رجحان کو بے نقاب کیا۔ یہ علاج ایک ہی ہے ، چاہے اس کا اطلاق کسی ایسے معاملے پر کیا جائے جہاں کسی کو مادی یا ذہنی طور پر زہر دیا گیا ہو۔ یہ علم جو تمام زہر افزا سے ہوتا ہے ، یہاں تک کہ جب یہ معاملہ کے ذریعہ آتا ہے ، ہر ایک کو ایک ماسٹر بنا دیتا ہے ، جب کہ ڈاکٹر ذہنی زہر آلودگی کے معاملے کا مقابلہ کرنے میں بے بس ہوتا ہے۔

جب مسز ایڈی کو جسمانی بیماری کو شفا بخشنے کے لئے کرسچن سائنس کے طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے گوشت اور خون کے خلاف کام کرنے والی ایک طالب علم کو مل گیا ، تو اس نے آرسنک یا کسی اور قسم کا زہر لینے کی ہدایت کرکے ایسی کوشش کو درست کرنے کی کوشش کی۔ کسی کو حیرت ہوسکتی ہے کہ اس کی کیا مدد ہوگی۔ لیکن اس کا اثر اسے اپنے کام میں ذہن سے دھیان سے ڈالنا ہوگا ، کیونکہ اسے معلوم ہوگا کہ مریض کو کسی بھی طرح سے آرسنک نہیں لیا گیا تھا۔ صرف کٹوتی یہ ہوگی کہ اسے میسمرزم کو سنبھالنا ہوگا۔ اس طرح سے اسے سیدھے راستے پر ڈال دیا جائے گا ، یعنی ذہنی کاز اور اثر۔

مسز ایڈی نے کیوں کہا کہ عام سردی کے پیچھے آرسنک چھپا سکتا ہے؟ یہ احساس اس طالب علم کی مدد کرسکتا ہے جو جسمانی علامات کے خلاف کام کر رہا ہو ، اسے ذہنی نقطہ نظر سے پوری طرح کام کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، جو مسز ایڈی کو تمام معاملات میں مطلوب تھی۔

آج ہمیں مدد کی اس شکل کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے ، کیوں کہ ہر معاملے کی ذہنی نوعیت طالب علم کو سمجھتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر ظاہری علامت ایک ذہنی کیفیت کا اظہار ہے ، اور اگر وہ ذہن خدا نہیں ہے تو پھر وہ ہر شکل میں فانی قانون کے تابع ہے۔ پھر بھی جب کسی کو جسمانی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ، اسے ہمیشہ یہ یقین کرنے کے لئے ایک بہت بڑی فتنہ پایا جاتا ہے کہ اس کی مخصوص غلطی کوئی جسمانی ہے ، اور اس وجہ سے اس کے کام کو مقصد کی بجائے اثر انداز کرنا ہے۔ لہذا جو کچھ بھی خود کو سوچا اصلاح پر پوری طرح سے عمل درآمد کرنے میں مدد کرتا ہے ، وہ قابل قدر بن جاتا ہے۔




342۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ جانوروں کی مقناطیسیت اور اس کے تباہ کن سے بدلہ لینے سے خوفزدہ رہتے ہیں ، جب صرف خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں آپ جھوٹ کے ذریعہ دھوکہ میں نہ آئیں۔ ایک بار مسز ایڈی نے اپنے طلباء کو یہ اعلان کرنے کے لئے کہا ، ’’محبت کے بپتسمہ لینے کے بعد نفرتوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔ غلطی اپنے مابعد کو تباہ کرنے والا نہیں بنا سکتی ہے۔‘‘

اگر آپ نے سونے والے مسئلے پر زہر رکھا ہے تو ، اس کے مرنے سے پہلے وہ پہلے سرگرمی میں بیدار ہوجائے گا۔ لہذا جب ہم خدائی محبت کے ادراک کے ذریعہ نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ، نفرت کا بدلہ لینے کے لئے پیدا ہوتا ہے۔ یہ ناانصافی ہوگی کہ جب کوئی سائنسدان عاجزی سے خدائی محبت کی عکاسی کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، تو اسے نفرت کی صورت میں اس طرح کی جارحانہ غلطی کا سامنا کرنا چاہئے۔ لیکن اگر آقا اور ہمارے قائد نے شکایت نہیں کی ، تو ہمیں بھی نہیں کرنا چاہئے۔ واشنگٹن میں کاپی رائٹس میں لیمن پاول کی مسز ایڈی کی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے ، کلارا شینن کا اس تاثر کا ایک اشارہ ہے کہ جب لن میں رہتے ہوئے ، جب مسز ایڈی بوسٹن چلی گئیں ، انہیں جلد گھر واپس آنا پڑا ، کیوں کہ اس کے بعد اس کا پیچھا مختلف تھا۔ ’’رات کے وقت کئی بار مردوں کے ذریعہ ڈور بیل بجائی جاتی تھی ، جو ایک کے بعد ایک آتے تھے ، اور گلی میں پولیس اہلکار گھر پر نگاہ رکھے ہوئے تھے۔‘‘یہ بات عیاں ہے کہ مسز ایڈی نے خدا کی طرف سے عظمت کی عکاسی کرتے ہوئے اس کی ترجمانی کی تھی فانی عقل کے ساتھ اس کا جسمانی ہونا اور اس کا گھر شاید بدنیتی کا گھر تھا۔ اس سے روحانی آئیڈیا کی پیروی کرنے سے نفرت کی کیا نشاندہی ہوتی ہے؟ ان لوگوں نے مسز ایڈی کی محبت کو محسوس کیا ، اور انسانی سطح کے مطابق اس میں دخل اندازی کی۔ سوچئے کہ ہمارے قائد کے لئے یہ کیا صلیب تھا! یہ اس کی روحانی محبت کی وجہ سے تھی جو اس کی عکاسی کرتی ہے کہ اسے مخالف منافرت کا سامنا کرنا پڑا ، اور اس کو تباہ کرنے والے سے اس کا انتقام لیا گیا۔ پھر بھی اس طرح کے تجربات کے ذریعہ اس نے یہ سیکھا کہ اسے کبھی بھی کسی غلطی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جس کا انکشاف ہوا۔ اس نے ہمیں یہ جاننا سیکھایا کہ گناہ کا بدلہ ہمیں کبھی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کا واحد اثر ہمیں اونچائی پر جانے پر مجبور کرنا ہے۔




343۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ خدا کی گہری باتوں کو سمجھنے کے لئے بے لگام جوش ، ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ کوئی بھی واقعی اس کے سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس کا مظاہرہ کیا کرسکتا ہے ، اور اگر آپ آگے دیکھنے کے خواہشمند ہیں تو ، آپ جو کچھ پہلے ہی جانتے ہو اس کا مظاہرہ کرنے میں کوتاہی کر سکتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ نشوونما کا انتظار کریں ، اور اس مسئلے کو مجبور کرنے کی کوشش نہ کریں ، اور نہ ہی کسی غلطی کی خواہش کے ساتھ آگے بڑھیں گے ، جس سے قوت ارادہ ظاہر ہوگا۔

ایک بار مسز ایڈی نے ایک طالب علم کو جو اپنے آپ کو بڑھنے سے کہیں زیادہ دیکھنے کے لئے مجبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا ، غیر واضح تصور کے سلسلے میں ، ’’اب ، میں آپ پر الزام عائد کرتا ہوں ، اس مضمون کو اپنی سوچ سے دور کردیں۔ اس کے بارے میں مزید سوچنے کی اجازت نہیں دیں۔ اس بیج کو جو میں نے اب تک جھوٹ بولا ہے یہاں تک کہ آپ کٹائی کے لئے تیار ہوجائیں ... اب اگر آپ آرام کریں گے تو ، اس سوال پر ہلچل مچا نہ ہوں گے ، خدا آپ کو واضح طور پر دکھائے گا کہ مقررہ وقت میں میرا کیا مطلب ہے۔ ‘‘




344۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ غلطی آپ کو مندرجہ ذیل طریقے سے جوڑتی ہے۔ پہلے ، آپ کو یہ یقین دلانے کے لئے ، جب تک کہ آپ ہر لمحہ سچائی کا اعلان نہیں کرتے ، غلطی آپ پر جھکنے کو تیار ہے۔ دوسرا ، یہ تجویز کرنا کہ آپ نے ذہنی طور پر خود کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ کسی اور سائنسی فکر کا اعلان نہیں کرسکتے ہیں۔ غلطی کبھی بھی مسمارکی تجویز سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔ ہم اس کے تیر اپنے خوف اور عقیدے سے باندھتے ہیں۔ ورنہ وہ بے ضرر زمین پر گر جاتے ہیں۔

ہمیں کچھ بھی نہیں بنانے کے لئے غلطی کے خلاف بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ یہ پہلے سے کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں اس کی خفیہ کارروائی کو ننگا کرنا ہوگا اور دیکھنا چاہئے کہ ہم اس کے جھوٹ پر یقین کریں گے اور اس کی تجاویز کو اپنے خیالات کی حیثیت سے قبول کریں گے۔ ہمیں خدا کو ساری طاقت دے کر ، اسے طاقت نہیں دینے کی جدوجہد کرنی چاہئے۔ اس تجویز سے کہ غلطی آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے ، جب تک کہ آپ اس کے خلاف ہر وقت بحث نہیں کرتے ، خوف کی ایک قسم ہے جس کی حقیقی طاقت نہیں ہے۔ سائنس میں ، ہم کبھی بھی کسی چیز کے خلاف لڑتے نہیں ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں ہم اس یقین کو قبول نہ کریں کہ خدا کے سوا کچھ موجود ہے۔

اگر آپ کے ہاتھ میں کوئی میچ ہے تو ، آپ خوف زدہ اور ڈھٹائی سے فائر ڈیپارٹمنٹ کو فون نہیں کریں گے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ شاید نادانستہ طور پر آپ اسے بھڑکائیں۔ یہ مشورہ کہ آپ برائی کے حوصلے پست کر رہے ہیں جب تک کہ آپ ہر لمحہ حق پر بحث نہیں کرتے ہیں۔ جب آپ یہ سیکھتے ہیں کہ دو بار دو چار ہیں تو کیا آپ کو خود کو اس غلطی سے بچانے کے لئے سارا دن بار بار اس حقیقت کو ظاہر کرنا ہوگا؟

سائنس میں ہم خود کو دلائل کی بے جا تکرار سے باز رکھنے کے لئے ذہنی سرگرمی کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ غلطی کی تجاویز فطرت میں سموہن ہیں ، اس لئے وہ اس ذہنیت پر خود کو حقیقی طور پر متاثر کرتے ہیں جو اس طرح کی نفیس اور بے حس کیفیت میں کم ہوچکی ہے ، جو اس میں آنے والی ہر چیز کو خوشی سے قبول کرتا ہے اور اس پر یقین کرتا ہے۔ اس کو جانتے ہوئے ، ہم محتاط اور زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس لئے نہیں کہ ہم کسی جھوٹ سے ڈرتے ہیں ، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمیں جھوٹ پر یقین کرنے کا خطرہ ہے ، جب ہم خود کو ذہنی بے حسی کا شکار ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ ہم اس کوشش میں نہیں تھک سکتے۔




345۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ بعض اوقات اعلی درجے کے طلبہ اپنی صحت سے محروم ہونے کی طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں ، جب وہ اس بیماری کے معاملات سامنے نہیں لاتے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان طلبا قابل ہیں۔ ایک ایسا واقعہ ہے جس کو سمجھنا ضروری ہے ، اس کا خدشہ ہے کہ سائنس میں ایک نوجوان طالب علم جسمانی ہم آہنگی کی تبدیلی پر اثر انداز کر سکتا ہے ، جس کے ساتھ شاید ہمارے آقا ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں!

اس کو سمجھنے کے لئے ، کسی کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر بشر کے ذہنی دروازے پر کوئی سرپرست موجود ہے۔ بعض اوقات یہ سرپرست حقیقت کے جدید انداز میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے ، اگر یہ کافی حد تک ہیومینائزڈ ہو۔ اگرچہ حقیقت زیادہ مضبوط ہوتی تو یہ کیمیکل کاری کرکے دروازہ بند کردیتی تھی۔

ایک نوجوان طالب علم کے پاس حقیقت کا احساس اتنا چھوٹا ہے جو ہمارے آقا کے مجسم مقابلے میں اس قدر چھوٹا ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہ کسی بیمار شخص کے ذہنی سرپرست کے ذریعہ داخل ہو ، جب کہ افہام و تفہیم کے ذریعہ لائی جانے والی تیز روشنی کو روکا جائے گا۔ روشنی سے بے نیاز آنکھیں سورج کی روشنی سے چوٹ لیتی ہیں ، جبکہ وہ موم بتی کی روشنی کو برداشت کرسکتے ہیں۔

جیسے جیسے ایک طالب علم افہام و تفہیم میں ترقی کرتا ہے ، اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ مشکل سے زیادہ مشکل مقدمات تک پہونچنے اور انکا علاج کرنے کے قابل ہے ، لیکن ضروری نہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہوں! دراصل وہ تعداد جو وہ کم کر سکتی ہے۔ جب کچھ نوجوان طلباء کی کامیابی کو دیکھتے ہیں تو ، کچھ اعلی درجے کی طلبہ کی حوصلہ شکنی کو روکنے کے لئے یہ نقطہ نظر ضروری ہے۔ انہیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ ابتدائیوں کی زیادہ تر کامیابی عقل کا علاج ہے۔ اگرچہ دل کی سختی ، یا انتہائی مریض کی لچک پن جو مؤخر الذکر تک پہونچ سکتی ہے ، ہوسکتا ہے کہ لاشعوری طور پر اور خود بخود ہمارے آقا نے اس روحانی فکر کے داخلے کی مخالفت کی کیونکہ یہ گناہ کی گہرائیوں میں داخل ہے۔

ایک بار مسز ایڈی کے ایک طالب علم کی والدہ کو کرسچن سائنس کی روحانی نوعیت کی وضاحت سے کیمیکل بنایا گیا اور اس کا مخالف ہو گیا تھا جو اس کے بیٹے نے اس سے کیا تھا۔ جبکہ ایک دوست جو اس مضمون کے بارے میں بہت کم جانتا تھا ، اس تعصب سے گزر رہا تھا جو اس کی فکر کے داخلی راستے کی حفاظت کرتا ہے ، اس سیدھے سادہ بیان کے ساتھ ، ’’آپ ایک حیرت انگیز شفا عطا فرمائیں گے۔‘‘




346۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کا خون ، یا خیال ، ناپاک ہے اور اسے پاک کرنے کی ضرورت ہے (جب آپ کو کچھ اختلاف پیدا ہوجاتا ہے)۔ ناپاک خون ، یا حتی کہ نجس سوچ کو پاک کرنے کی کوشش میں کوئی سائنس ملوث نہیں ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ یہ سمجھیں کہ آپ کی سوچ اور آپ کا خون دونوں ہی پاک ہیں کیونکہ خدا نے انہیں ایسا کیا ہے۔ لہذا آپ کو یہ دیکھنا چاہئے کہ کوئی بھی تجویز آپ کو اس یقین پر یقین نہیں دیتی ہے کہ یہ خیال ، یا خون ناپاک ہوگیا ہے۔ سائنس میں ہم فکر ، یا خون کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہم اپنے غلط غلط مشورے سے اپنا دفاع کرتے ہیں کہ یہ ناپاک ہے ، یہ ناپاک ہوچکا ہے ، یا یہ کبھی ناپاک ہوسکتا ہے۔

ایک بار مسز ایڈی نے کہا ، ’’خون سوچا جاتا ہے اور آپ کا خون خالص سوچ ، صحت بخش ، زندگی بخش فکر ہے ، اور کوئی بھی ناپاک اس فکر میں داخل نہیں ہوسکتا؛ یہ بالکل پاک ہے۔ آپ جسم میں نہیں ہیں۔ آپ نہیں ہیں۔ مادے سے حکومت کی جاتی ہے کوئی بات نہیں لیکن آپ الہی عقل کے ذریعہ حکومت کرتے ہیں اور حکومت کرتے ہیں۔ ‘‘




347۔ دیکھنا کہ آپ کو احساس ہے کہ وہ سارے اثرات جو برے اثرات سے آتے ہیں ، محض ان لوگوں کی طرف سے آتے ہیں جو برائی کو حقیقی مانتے ہیں ، جب ایسا نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگسٹا اسٹیٹسن نے اپنے طلباء کو بدعنوانی کی دھمکی دی ، اگر وہ اس کے استاد کی حیثیت سے ان سے منہ موڑ گئیں۔ اسے شاید یہ محسوس ہوا ہوگا کہ یہ جائز ہے کیونکہ اس نے واقعی اس دھمکی کو کبھی پورا نہیں کیا۔ پھر بھی اس دھمکی نے اسے بدنیتی کا نشانہ بنا ڈالا ، چونکہ بدتمیزی ایک انسان پر انسانیت کا اعتقاد ہے اور بدنیتی سے خوفزدہ ہے ، اور اثرات اس اعتقاد کی پیروی کرتے ہیں۔

نوکری میں ہم نے پڑھا کہ جس چیز کا ہمیں بہت خوف تھا وہ ہم پر آگیا ہے۔ یا تو بہلانے یا ذہنی طور پر خوف دلانا بیماری میں خوف کے ثمرات لانا ہے۔ ایسا کرنے سے خوف کے لئے ایک ذمہ دار بن جاتا ہے۔




348۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ آپ حق کی بات کرنے کی کوشش کو ضرورت کے نقطہ نظر سے باہر رکھتے ہیں۔ مکھن صاف ہونے پر ، کسی کو مکھن کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، جب مکھن ظاہر ہوتا ہے۔ جب کوئی روحانی بلندی پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ مطلق حق کو گمراہی پر گرا سکتا ہے ، اسے کچلنے کے ل، ، اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ اونچائی کے ل. کوشش کرے۔ ہم بحث کرتے ہیں کیونکہ ہم عادت کے ساتھ غلطی کی سطح پر رہتے ہیں ، اس سے پہلے کہ ہم اس پر سچائی ڈالنے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں۔ لیکن اگر کوئی بہت زیادہ بحث کرتا ہے تو ، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو یقین ہے کہ اس کے دلائل کام کرتے ہیں ، جب وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ تمام حقیقی معالجہ ماحول کی شفا ہے۔




349۔ دیکھنا کہ آپ مسز ایڈی کی اپنی زندگی سے سائنس اور صحت کے تعلقات کے بارے میں واضح نظریہ رکھتے ہیں۔ ایک خط ، اور دوسرا روح۔ جب ہم نے 1942 کی جنگ کے دوران انگلینڈ کو ہوائی جہاز بھیجے تھے تو ہمیں طیارے تیار کرنے تھے اور پھر انہیں بحفاظت ان کی منزل پر بھیجنا تھا۔ سائنس اور صحت کے توسط سے ہم اپنے طیاروں کی تعمیر کا طریقہ سیکھتے ہیں ، اور مسز ایڈی کی اپنی زندگی سے ہی ہم سیکھتے ہیں کہ انہیں کیسے اور کہاں اڑانا ہے۔ ہمیں خط کا اچھی طرح سے مطالعہ کرنا چاہئے اور پھر روح کو تحویل میں لینا چاہئے۔

مسز ایڈی نے سائنس اور صحت میں اپنی زندگی اور تجربے کو شامل کرنے سے کیوں منع کیا؟ شاید یہ ابتدائی لوگوں کو اس کی زبردست مزاحمت پر غور کرنے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ اگر کسی کو عملی پرواز میں شامل مشکلات کو جلد ہی سیکھنا چاہئے تو ، وہ اپنے ہوائی جہاز کی تعمیر کے کام کا آغاز بھی نہیں کرسکتا ہے۔ ایک بار جب یہ تعمیر ہوجاتا ہے ، تو ، وہ اس کے پائلٹ کے لئے دوسرے تجربے کے ذریعے یہ جان کر خوش ہوتا ہے۔

سائنس اور صحت کی خوبصورت سچائیاں سیکھنے میں طالب علم کو اس کا بہت کم فائدہ ہے ، اگر وہ اس افہام و تفہیم کا تحفظ اور اسے استعمال کرنے کا طریقہ سیکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ خدا کے ، اس کے قانون اور طاقت کے بارے میں اعلی علم حاصل کرنا ایک دانشورانہ حصول ہے۔ پھر ضرورت کا مظاہرہ کرنے اور اس اعلی احساس کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ کسی کے علم کو اس مقام تک پہنچانے میں بھی مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ انسانیت کے لئے قابل قبول اور قابل فہم ہوجائے ، تاکہ وہ اس کی خواہش میں مبتلا ہوجائیں۔ مسز ایڈی کی زندگی اور مظاہرہ ہی ان اہم نکات کی روح کو ظاہر کرتا ہے۔

سائنس اور صحت نیویگیشن میں انسٹرکشن دستی کی طرح ہے۔ عملی پہلو صرف تجربے کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے ، کسی ایک کی طرف سے اور کسی دوسرے شخص سے جس نے کامیابی کے ساتھ طوفانوں اور پوشیدہ چٹانوں کو توڑا ہے۔ ہمارے قائد نے سائنس کا جہاز لیا ، جسے اس نے خدا کی ہدایت پر بنایا تھا ، اور اسے کامیابی کے ساتھ امن کے بندرگاہ میں روانہ کیا۔ اس کی زندگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ، تاکہ کوئی مسیح کی پیروی کرتے ہوئے اس کی پیروی کرے ، کیونکہ روح جس نے اسے متحرک کیا وہ خدا تھا۔




350۔ دیکھنا ایسا نہ ہو کہ صرف اس وقت جب آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ مادے ، عقلی ذہنوں پر فتح حاصل کر رہے ہیں ، اور لگتا ہے کہ یہ آپ کو پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہونے لگتا ہے ، آپ مایوس ہوجاتے ہیں۔ شاید آپ کسی الہی آزمائش کا سامنا کررہے ہیں ، یا تقویت پا رہے ہیں۔

جب کوئی پودا اپنا چھوٹا سر زمین سے اوپر اٹھاتا ہے ، تو عقلمند مالی اس پر زمین کا بیلچہ ڈال سکتا ہے۔ وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں ابھی تک مضبوط نہیں ہیں۔ وہ زبردستی کی جڑوں کو بڑھنے پر مجبور کرنے کا یہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اس کارکردگی کو کئی بار دہرا سکتا ہے ، جب تک کہ پودوں نے یہ ثابت نہیں کیا کہ اس کی جڑیں مضبوط اور گہری ہیں ، تاکہ جو بھی طوفان آئے اس کو برداشت کر سکے۔ پلانٹ حوصلہ شکنی کا شکار ہوسکتا ہے اگر اس کو کیا ہو رہا ہے اس کے پیچھے کا مقصد سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ خدا حکیم باغبان ہے جو ہماری ہر ضرورت کو جانتا ہے ، اور اس ضرورت کو پورا کرتا ہے ، یہاں تک کہ جب ہم دیکھ نہیں سکتے کہ ضرورت کیا ہے۔