اتوار 3 مئی ، 2026



مضمون۔ دائمی سزا

SubjectEverlasting Punishment

سنہری متن: یوحنا 3 باب17 آیت

کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اْس کے وسیلہ سے نجات پائے۔



Golden Text: John 3 : 17

For God sent not his Son into the world to condemn the world; but that the world through him might be saved.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: زبور 62: 1، 2، 5، 7، 8 آیات


1۔ میری جان کو خدا ہی کی آس ہے۔ میری نجات اْسی سے ہے۔

2۔ وہی اکیلا میری چٹان اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اْونچا برج ہے۔ مجھے زیادہ جنبش نہ ہوگی۔

5۔ اے میری جان خدا ہی کی آس رکھ کیونکہ اْسی سے مجھے امید ہے۔

7۔ میری نجات اور میری شوکت خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ہی میری قوت کی چٹان اور میری پناہ ہے۔

8۔ اے لوگو! ہر وقت اْس پر توکل کرو۔ اپنے دل کا حال اْس کے سامنے کھول دو۔ خدا ہماری پناہ گاہ ہے۔

Responsive Reading: Psalm 62 : 1, 2, 5, 7, 8

1.     Truly my soul waiteth upon God: from him cometh my salvation.

2.     He only is my rock and my salvation; he is my defence; I shall not be greatly moved.

5.     My soul, wait thou only upon God; for my expectation is from him.

7.     In God is my salvation and my glory: the rock of my strength, and my refuge, is in God.

8.     Trust in him at all times; ye people, pour out your heart before him: God is a refuge for us.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زبور 107:1تا6آیات

1۔ خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے اور اْس کی شفقت ابدی ہے۔

2۔ خدا وند کے چھْڑائے ہوئے یہی کہیں۔ جن کو اْس نے فدیہ دے کر مخالف کے ہاتھ سے چھْڑا لیا۔

3۔ اور اْن کو ملک ملک سے جمع کیا۔ پورب سے پچھم سے۔ اْتر سے اور دکھن سے۔

4۔ وہ بیابان میں صحرا کے راستے پر بھٹکتے پھرے۔ اْن کو بسنے کے لئے کوئی شہر نہ ملا۔

5۔ وہ بھوکے اور پیاسے تھے اور اْن کا دل بیٹھا جاتا تھا۔

6۔ تب اپنی مصیبت میں اْنہوں نے فریاد کی۔ اور اْس نے اْن کو اْن کے دکھوں سے رہائی بخشی۔

1. Psalm 107 : 1-6

1     O give thanks unto the Lord, for he is good: for his mercy endureth for ever.

2     Let the redeemed of the Lord say so, whom he hath redeemed from the hand of the enemy;

3     And gathered them out of the lands, from the east, and from the west, from the north, and from the south.

4     They wandered in the wilderness in a solitary way; they found no city to dwell in.

5     Hungry and thirsty, their soul fainted in them.

6     Then they cried unto the Lord in their trouble, and he delivered them out of their distresses.

2 . ۔ 2کرنتھیوں 6باب1، 2 آیات

1۔ اور ہم جو اْس کے ساتھ کام میں شریک ہیں یہ بھی تم سے التماس کرتے ہیں کہ خدا کا فضل جو تم پر ہوا ہے بے فائدہ نہ رہنے دو۔

2۔ کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ میں نے قبولیت کے وقت تیری سن لی اور نجات کے دن تیری مدد کی۔ دیکھو اب قبولیت کا وقت ہے۔ دیکھو یہ نجات کا دن ہے۔

2. II Corinthians 6 : 1, 2

1     We then, as workers together with him, beseech you also that ye receive not the grace of God in vain.

2     (For he saith, I have heard thee in a time accepted, and in the day of salvation have I succoured thee: behold, now is the accepted time; behold, now is the day of salvation.)

3 . ۔ فلپیوں 2باب12، 13آیات

12۔ اس لیے، اے میرے عزیزو! جس طرح تم ہمیشہ سے فرمانبرداری کرتے آئے ہو اْسی طرح اب بھی نہ صرف میری حاضری میں بلکہ اْس سے بہت زیادہ میری غیر حاضری میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام کرتے جاؤ۔

13۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔

3. Philippians 2 : 12, 13

12     Wherefore, my beloved, as ye have always obeyed, not as in my presence only, but now much more in my absence, work out your own salvation with fear and trembling.

13     For it is God which worketh in you both to will and to do of his good pleasure.

4 . ۔ 2 سلاطین 5 باب1تا4، 9تا16 آیات

1۔ اور شاہ ارام کے لشکر کا سردار نعمان اپنے آقا کے نزدیک معزز و مکرم تھا کیونکہ خداوند نے اْس کے وسیلہ سے ارام کو فتح بخشی تھی وہ زبردست سورما بھی تھا لیکن کوڑھی تھا۔

2۔ اور ارامی دَل باندھ کر نکلے تھے اور اسرائیل کے ملک میں سے ایک چھوٹی لڑکی کو اسیر کر کے لے آئے تھے۔ وہ نعمان کی بیوی کی خدمت کرتی تھی۔

3۔ اْس نے اپنی بی بی سے کہا کاش میرا آقا اْس نبی کے ہاں ہوتا جو سامریہ میں ہے تو وہ اْسے اْس کے کوڑھ سے شفا دے دیتا۔

4۔ سو کسی نے اندر جا کر اپنے مالک سے کہا وہ چھوکری جو اسرائیل کے ملک کی ہے ایسا ایسا کہتی ہے۔

9۔ سو نعمان اپنے گھوڑوں اور رتھوں سمیت آیا اور الیشع کے دروازے پر کھڑا ہوا۔

10۔ اور الیشع نے ایک قاصد کی معرفت کہلا بھیجا کہ جا اور یردن میں سات بار غوطہ مار تو تیرا جسم پھر بحال ہو جائے گا اور تْو پاک صاف ہوگا۔

11۔ پر نعمان ناراض ہو کر چلا گیا اور کہنے لگا مجھے گْمان تھا کہ وہ نکل کر ضرور میرے پاس آئے گا اور کھڑا ہو کر خداوند اپنے خدا سے دعا کرے گا اور اْس جگہ کے اوپر اپنا ہاتھاادھر اْدھر ہلا کر کوڑھی کو شفا دے گا۔

12۔کیا دمشق کے دریا ابانہ اور فر فر اسرائیل کی سب ندیوں سے بڑھ کر نہیں ہے۔ کیا مَیں اْن میں نہا کر پاک صاف نہیں ہو سکتا؟سو وہ مْڑا اور بڑے قہر میں چلا گیا۔

13۔ تب اْ س کے ملازم اْس کے پاس آکر یوں کہنے لگے اے ہمارے باپ اگر وہ نبی کوئی بڑا کام کرنے کا تجھے حکم دیتا تو کیا تْو اْسے نہ کرتا؟ پس جب وہ کہتا ہے کہ نہا لے اور پاک صاف ہو جا تو کتنا زیادہ اْسے ماننا چاہئے؟

14۔ تب اْس نے اتر کر مردِ خدا کے کہنے کے مطابق یردن میں سات غوطے مارے اور اْس کا جسم چھوٹے بچے کے جسم کی مانند ہوگیا اور وہ پاک صاف ہوگیا۔

15۔ پھر وہ اپنی جلو کے سب لوگوں کے ساتھ مردِ خدا کے پاس لوٹا اور اْس کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا دیکھ اب مَیں نے جان لیا کہ اسرائیل کو چھوڑ اور کہیں روئے زمین پر کوئی خدا نہیں اِس لئے اب کرم فرما کر اپنے خادم کا ہدیہ قبول کر۔

16۔ لیکن اُس نے جواب دیا خُداوند کی حیات کی قسم جس کے آگے میں کھڑا ہوں میں کچھ نہیں لونگا اور اُس نے اُس سے بہت اصرار کیا کہ لے پر اُس نے انکار کیا۔

4. II Kings 5 : 1-4, 9-16

1     Now Naaman, captain of the host of the king of Syria, was a great man with his master, and honourable, because by him the Lord had given deliverance unto Syria: he was also a mighty man in valour, but he was a leper.

2     And the Syrians had gone out by companies, and had brought away captive out of the land of Israel a little maid; and she waited on Naaman’s wife.

3     And she said unto her mistress, Would God my lord were with the prophet that is in Samaria! for he would recover him of his leprosy.

4     And one went in, and told his lord, saying, Thus and thus said the maid that is of the land of Israel.

9     So Naaman came with his horses and with his chariot, and stood at the door of the house of Elisha.

10     And Elisha sent a messenger unto him, saying, Go and wash in Jordan seven times, and thy flesh shall come again to thee, and thou shalt be clean.

11     But Naaman was wroth, and went away, and said, Behold, I thought, He will surely come out to me, and stand, and call on the name of the Lord his God, and strike his hand over the place, and recover the leper.

12     Are not Abana and Pharpar, rivers of Damascus, better than all the waters of Israel? may I not wash in them, and be clean? So he turned and went away in a rage.

13     And his servants came near, and spake unto him, and said, My father, if the prophet had bid thee do some great thing, wouldest thou not have done it? how much rather then, when he saith to thee, Wash, and be clean.

14     Then went he down, and dipped himself seven times in Jordan, according to the saying of the man of God: and his flesh came again like unto the flesh of a little child, and he was clean.

15     And he returned to the man of God, he and all his company, and came, and stood before him: and he said, Behold, now I know that there is no God in all the earth, but in Israel: now therefore, I pray thee, take a blessing of thy servant.

16     But he said, As the Lord liveth, before whom I stand, I will receive none. And he urged him to take it; but he refused.

5 . ۔ لوقا 19باب1تا10آیات

1۔ وہ یریحو میں داخل ہو کر جا رہا تھا۔

2۔ اور دیکھو زکائی نام ایک آدمی تھا جو محصول لینے والوں کا سردار اور دولتمند تھا۔

3۔ وہ یسوع کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن بھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا۔ اس لئے کہ اْس کا قد چھوٹا تھا۔

4۔پس اْسے دیکھنے کے لئے آگے دوڑ کر ایک گولر کے پیڑ پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اْسی راہ سے جانے کو تھا۔

5۔ جب یسوع اْس جگہ پہنچا تو اوپر نگاہ کر کے اْس سے کہا اے زکائی جلد اْتر آ کیونکہ آج مجھے تیرے گھر رہنا ضرور ہے۔

6۔ وہ جلد اْتر کر خوشی سے اْس کو اپنے گھر لے گیا۔

7۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بڑبڑا کر کہنے لگے یہ تو ایک گناہگار شخص کے ہاں جا اْترا۔

8۔ اور زکائی نے کھڑے ہو کر خداوند سے کہا اے خداوند دیکھ میں اپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہوں اور اگر کسی کا کچھ ناحق لے لیا ہے تو اْس کو چوگْنا ادا کرتا ہوں۔

9۔ یسوع نے اْس سے کہا آج اِس گھر میں نجات آئی ہے۔ اِس لئے کہ یہ بھی ابراہام کا بیٹا ہے۔

10۔ کیونکہ ابن آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔

5. Luke 19 : 1-10

1     And Jesus entered and passed through Jericho.

2     And, behold, there was a man named Zacchæus, which was the chief among the publicans, and he was rich.

3     And he sought to see Jesus who he was; and could not for the press, because he was little of stature.

4     And he ran before, and climbed up into a sycomore tree to see him: for he was to pass that way.

5     And when Jesus came to the place, he looked up, and saw him, and said unto him, Zacchæus, make haste, and come down; for to day I must abide at thy house.

6     And he made haste, and came down, and received him joyfully.

7     And when they saw it, they all murmured, saying, That he was gone to be guest with a man that is a sinner.

8     And Zacchæus stood, and said unto the Lord; Behold, Lord, the half of my goods I give to the poor; and if I have taken any thing from any man by false accusation, I restore him fourfold.

9     And Jesus said unto him, This day is salvation come to this house, forsomuch as he also is a son of Abraham.

10     For the Son of man is come to seek and to save that which was lost.

6 . ۔ زبور 46: 1، 2 (تا پہلی)، 4، 5 (تا:)، 10، 11 (تا پہلی) آیات

1۔ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مْستعد مددگار۔

2۔ اس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اْلٹ جائے۔ اور پہاڑ سمندر کی تہہ میں ڈال دئیے جائیں۔

4۔ ایک ایسا دریا ہے جس کی شاخوں سے خدا کے شہر کو یعنی حق تعالیٰ کے مقدس مسکن کو فرحت ہوتی ہے۔

5۔ خدا اْس میں ہے۔ اْسے کبھی جْنبش نہ ہوگی۔ خدا صبح سویرے اْس کی کْمک کرے گا۔

10۔ خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خدا ہوں۔ مَیں قوموں کے درمیان سر بلند ہوں گا۔

11۔ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔

6. Psalm 46 : 1, 2 (to 1st ,), 4, 5 (to :), 10, 11 (to 1st .)

1     God is our refuge and strength, a very present help in trouble.

2     Therefore will not we fear,

4     There is a river, the streams whereof shall make glad the city of God, the holy place of the tabernacles of the most High.

5     God is in the midst of her; she shall not be moved:

10     Be still, and know that I am God: I will be exalted among the heathen, I will be exalted in the earth.

11     The Lord of hosts is with us; the God of Jacob is our refuge.

7 . ۔ زبور 91 :1تا3 آیات

1۔ جو حق تعالیٰ کے پردے میں رہتا ہے وہ قادر مطلق کے سایہ میں سکونت کرے گا۔

2۔ مَیں خداوند کے بارے میں کہوں گا وہی میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔ وہ میرا خدا ہے جس پر میرا توکل ہے۔

3۔ کیونکہ وہ تجھے صیاد کے پھندے سے اور مہلک وبا سے چھڑائے گا۔

7. Psalm 91 : 1-3

1     He that dwelleth in the secret place of the most High shall abide under the shadow of the Almighty.

2     I will say of the Lord, He is my refuge and my fortress: my God; in him will I trust.

3     Surely he shall deliver thee from the snare of the fowler, and from the noisome pestilence.

8 . ۔ یسعیاہ 10 باب24 (تا پہلی) آیت

24۔ لیکن خداوند رب الافواج فرماتا ہے،

8. Isaiah 10 : 24 (to 1st ,)

24     Therefore thus saith the Lord God of hosts,

9 . ۔ زبور91: 14تا16 آیات

14۔ چونکہ اْس نے مجھ سے دل لگایا ہے اِس لئے مَیں اْسے چھڑاؤں گا۔ مَیں اْسے سرفراز کروں گا کیونکہ اْس نے میرا نام پہچانا ہے۔

15۔ وہ مجھے پکارے گا اور مَیں اْسے جواب دوں گا۔ مَیں مصیبت میں اْس کے ساتھ رہوں گا۔ مَیں اْسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔

16۔ مَیں اْسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا۔ اور اپنی نجات اْسے دکھاؤں گا۔

9. Psalm 91 : 14-16

14     Because he hath set his love upon me, therefore will I deliver him: I will set him on high, because he hath known my name.

15     He shall call upon me, and I will answer him: I will be with him in trouble; I will deliver him, and honour him.

16     With long life will I satisfy him, and shew him my salvation.



سائنس اور صح


1 . ۔ 444 :10۔12

وہ جو اْس پر بھروسہ رکھتے ہیں قدم بہ قدم یہ جانیں گے کہ ”خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مستعد مددگار۔“

1. 444 : 10-12

Step by step will those who trust Him find that "God is our refuge and strength, a very present help in trouble."

2 . ۔ 22: 11۔12

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔

2. 22 : 11-12

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you.

3 . ۔ 593: 20۔22

نجات۔ زندگی، سچائی اور محبت کو سب پر اعلیٰ سمجھا اور ظاہر کیا گیا؛ پاپ، بیماری اور موت کو نیست کیا گیا۔

3. 593 : 20-22

Salvation. Life, Truth, and Love understood and demonstrated as supreme over all; sin, sickness, and death destroyed.

4 . ۔ 394: 17۔27

تجربے نے مصنف کے لئے عام طور پر مادی نظاموں کی غلط فہمی کو ثابت کیا ہے، کہ ان کے نظریات بعض اوقات نقصان دہ ہوتے ہیں، اور ان کے انکار ان کے اثبات سے بہتر ہوتے ہیں۔ کیا آپ ایک آدمی کو برائیوں پر قابو پانے کا حکم دیں گے، اسے یقین دلاتے ہوئے کہ تمام بد بختی خدا کی طرف سے ہے، جس کے خلاف انسانوں کو نہیں لڑنا چاہیے؟ کیا آپ بیماروں کو بتائیں گے کہ ان کی حالت نا اْمید ہے، جب تک کہ اسے دوا یا آب و ہوا سے مدد نہ ملے؟ کیا مادی ذرائع مہلک امکانات سے واحد پناہ گاہ ہیں؟ کیا ہر قسم کے اختلاف کو ہم آہنگی، حق اور سچ کے ساتھ فتح کرنے کی کوئی خدائی اجازت نہیں ہے؟

4. 394 : 17-27

Experience has proved to the author the fallacy of material systems in general, — that their theories are sometimes pernicious, and that their denials are better than their affirmations. Will you bid a man let evils overcome him, assuring him that all misfortunes are from God, against whom mortals should not contend? Will you tell the sick that their condition is hopeless, unless it can be aided by a drug or climate? Are material means the only refuge from fatal chances? Is there no divine permission to conquer discord of every kind with harmony, with Truth and Love?

5 . ۔ 240: 18۔26

جیسے جیسے وقت گزرتا ہے بشر نیکی یا بدی کی طرف مائل ہوتے جاتے ہیں۔اگر بشر آگے بڑھنے والے نہیں ہیں، تو گزشتہ ناکامیاں تب تک دوہرائی جاتی رہیں گی جب تک کہ تمام تر غلط کام ختم نہیں ہوجاتے یا ٹھیک نہیں ہوجاتے۔اگر فی الحال غلط کام سے مطمین ہیں، تو ہمیں اِس سے نفرت کرنا سیکھنا ہوگا۔ اگر فی الحال سْستی سے مطمئن ہیں، تو ہمیں اِس سے غیر مطمئن ہونا ہوگا۔یاد رکھیں کہ انسان جلد یا بدیر، خواہ دْکھوں کی بدولت یا سائنس کی بدولت، غلطی پر آمادہ ہو جائیں گے کہ اِسے زیر ہونا ہے۔

5. 240 : 18-26

Mortals move onward towards good or evil as time glides on. If mortals are not progressive, past failures will be repeated until all wrong work is effaced or rectified. If at present satisfied with wrong-doing, we must learn to loathe it. If at present content with idleness, we must become dissatisfied with it. Remember that mankind must sooner or later, either by suffering or by Science, be convinced of the error that is to be overcome.

6 . ۔ 37: 27۔9

اِن ناگزیر احکامات کو سنیں: ”پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے!“ ”تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو!“ ”بیمار کو شفا دو!“

اس مسیحیت نے انسانوں کو مسیحی کو ششوں کے لئے متحرک کرنے کے لئے اتنے کم الہام کا مطالبہ کیوں کیا ہے؟ کیونکہ انسانوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ حکم صرف ایک خاص مدت اور پیروکاروں کی مخصوص تعداد کے لئے تھا۔ یہ تعلیم پرانے نظریے کی پیش بندی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے، چند کا انتخاب بچایا جائے، جبکہ باقی ملعون ہیں۔ اور اس طرح اس پر غور کیا جائے گا، جب انسانوں کے بنائے ہوئے عقائد کی وجہ سے انسانوں کی سستی، الٰہی سائنس کے تقاضوں سے ٹوٹ جاتی ہے۔

6. 37 : 27-9

Hear these imperative commands: "Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect!" "Go ye into all the world, and preach the gospel to every creature!" "Heal the sick!"

Why has this Christian demand so little inspiration to stir mankind to Christian effort? Because men are assured that this command was intended only for a particular period and for a select number of followers. This teaching is even more pernicious than the old doctrine of foreordination, — the election of a few to be saved, while the rest are damned; and so it will be considered, when the lethargy of mortals, produced by man-made doctrines, is broken by the demands of divine Science.

7 . ۔ 31: 12۔17

مسیحی فرائض کی فہرست میں سب سے پہلا فرض جواْس نے اپنے پیروکاروں کوسکھایا وہ سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت ہے۔ اْس نے بے جان رسموں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ زندہ مسیح، عملی سچائی ہی ہے جو مسیح کو اْن سب کے لئے ”قیامت اور زندگی“ بناتا ہے جو کاموں میں اْس کی پیروی کرتے ہیں۔

7. 31 : 12-17

First in the list of Christian duties, he taught his followers the healing power of Truth and Love. He attached no importance to dead ceremonies. It is the living Christ, the practical Truth, which makes Jesus "the resurrection and the life" to all who follow him in deed.

8 . ۔ 39: 1۔ 25

عاجزی کے ساتھ ہمارے مالک نے اپنی غیر تسلیم شدہ عظمت کا مذاق اڑایا۔جیسی ملامت اْس نے اْٹھائی، اْس کے پیروکار مسیحیت کی آخری فتح تک برداشت کریں گے۔اْس نے ابدی اجر حاصل کئے۔اْس نے دنیا، بدن اور ساری غلطی پر قابو پایا، یوں اْن کے عدم کو ثابت کیا۔وہ گناہ، بیماری اور موت سے مکمل نجات لایا۔ ہمیں ”مسیح، اور اْس کے مصلوب ہونے“ کی ضرورت ہے۔ہمیں مشکلات اور خود انکاریوں کے ساتھ ساتھ خوشیاں اور کامیابیاں حاصل کرنی چاہئیں، جب تک کہ ساری غلطی نیست نہیں ہو جاتی۔

تعلیم دیا گیا عقیدہ کہ جان بدن میں انسانوں کو موت سے بطور دوست بننے کا سبب بنتا ہے، یعنی لافانیت اورنعمت میں سے فانیت سے اخذ کیا گیا راستے کا پتھر۔بائبل موت کو دشمن کہتی ہے، اور یسوع انہیں قبول کرنے کی بجائے موت اور قبر پر فتح مند ہوا۔

رسول نے پکارا، ”اب یہ قبولیت کا وقت ہے۔ دیکھو یہ نجات کا دن ہے“، مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اب انسان کو مستقبل کی دنیا کی نجات یا حفاظت کے لئے تیاری کرنی چاہئے، بلکہ یہ کہ اب اِس نجات کا روح اور زندگی میں تجربہ کرنے کا وقت ہے۔اب وقت ہے نام نہاد مادی تکلیفوں اور مادی خوشیوں کو ترک کرنے کا، کیونکہ دونوں غیر حقیقی ہیں، اس لئے کہ دونوں سائنس میں ناممکن ہیں۔ اِس زمینی جادو کو ختم کرنے کے لئے، بشر کو اْس سب کے حقیقی تصور اور الٰہی اصول کو سمجھنا چاہئے جو ہم آہنگی کے ساتھ کائنات میں وجود رکھتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے۔اِس خیال کو آہستہ آہستہ سمجھا جاتا ہے،اور شکوک اور ناکامیوں اِس کے علاوہ فتوحات کے ساتھ اِس کے حصول کو ممکن بنانے سے پیشتر اِس کے دو حصے کئے جاتے ہیں۔

8. 39 : 1-25

Meekly our Master met the mockery of his unrecognized grandeur. Such indignities as he received, his followers will endure until Christianity's last triumph. He won eternal honors. He overcame the world, the flesh, and all error, thus proving their nothingness. He wrought a full salvation from sin, sickness, and death. We need "Christ, and him crucified." We must have trials and self-denials, as well as joys and victories, until all error is destroyed.

The educated belief that Soul is in the body causes mortals to regard death as a friend, as a stepping-stone out of mortality into immortality and bliss. The Bible calls death an enemy, and Jesus overcame death and the grave instead of yielding to them. He was "the way." To him, therefore, death was not the threshold over which he must pass into living glory.

"Now," cried the apostle, "is the accepted time; behold, now is the day of salvation," — meaning, not that now men must prepare for a future-world salvation, or safety, but that now is the time in which to experience that salvation in spirit and in life. Now is the time for so-called material pains and material pleasures to pass away, for both are unreal, because impossible in Science.

9 . ۔ 30: 30۔32

ہم خود اِس کا انتخاب نہیں کر سکتے، مگر ہماری نجات کے لئے ہمیں ویسے ہی کام کرنا چاہئے جیسے یسوع نے ہمیں سکھایا ہے۔

9. 30 : 30-32

We cannot choose for ourselves, but must work out our salvation in the way Jesus taught.

10 . ۔ 98: 31۔29

وہ راہ جس سے لافانیت اور زندگی کی تعلیم پائی جاتی ہے وہ کلیسیائی نہیں بلکہ مسیحی، انسانی نہیں الٰہی، جسمانی نہیں مابعد الطبیعاتی، مادی نہیں بلکہ سائنسی طور پر روحانی ہے۔انسانی فلسفہ، اخلاقیات اور توہم اْس قابل اثبات الٰہی اصول کو برداشت نہیں کرتے جس کی بدولت بشر گناہ سے فرار ہو سکیں؛ تاہم گناہ سے فرار، بائبل کا مطالبہ ہے۔ رسول کہتا ہے، ”ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام کرتے جاؤ،“ اوروہ برائے راست یہ بات شامل کرتا ہے کہ،”کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے،“ (فلپیوں 2 باب12، 13آیات)۔ سچائی نے بادشاہت کی کنجی تیار کر لی ہے، اور اِس کنجی کی بدولت کرسچن سائنس نے انسانی فہم کا دروازہ کھول لیا ہے۔ کوئی بھی تالہ نہیں اٹھا سکتا اور نہ ہی کسی دروازے سے داخل ہو سکتا ہے۔ عام تعلیمات مادی ہیں نہ کہ روحانی۔ کرسچن سائنس صرف وہی سکھاتی ہے جو روحانی اور الٰہی ہے، انسانی نہیں۔ کرسچن سائنس بے ربط اور الٰہی ہے۔ چیزوں کا انسانی احساس غلط ہے کیونکہ یہ انسان ہے۔

وہ افراد جو تھیوسفی، روحانیت، یا ہپناٹزم کو اپناتے ہیں، ان کی فطرت کچھ دوسروں سے بڑھ کر ہو سکتی ہے جو اپنے غلط عقائد سے بچتے ہیں۔ اس لیے میرا مقابلہ فرد سے نہیں باطل انسان سے ہے۔ میں بنی نوع انسان سے محبت کرتا ہوں اور محنت کرتا رہوں گا اور برداشت کرتا رہوں گا۔

سچی روحانیت کے پْر سکون، مضبوط دھارے، جن کے اظہار صحت، پاکیزگی اور خود کار قربانی ہیں، اِنہیں اْس وقت انسانی تجربے کو گہرا کرنا چاہئے جب تک مادی وجودیت کے عقائد واضح مسلط ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور گناہ، بیماری اور موت روحانی الوہیت کے سائنسی اظہاراور خدا کے روحانی، کامل انسان کو جگہ فراہم نہیں کرتے۔

10. 98 : 31-29

The way through which immortality and life are learned is not ecclesiastical but Christian, not human but divine, not physical but metaphysical, not material but scientifically spiritual. Human philosophy, ethics, and superstition afford no demonstrable divine Principle by which mortals can escape from sin; yet to escape from sin, is what the Bible demands. "Work out your own salvation with fear and trembling," says the apostle, and he straightway adds: "for it is God which worketh in you both to will and to do of His good pleasure" (Philippians ii. 12, 13). Truth has furnished the key to the kingdom, and with this key Christian Science has opened the door of the human understanding. None may pick the lock nor enter by some other door. The ordinary teachings are material and not spiritual. Christian Science teaches only that which is spiritual and divine, and not human. Christian Science is unerring and Divine; the human sense of things errs because it is human.

Those individuals, who adopt theosophy, spiritualism, or hypnotism, may possess natures above some others who eschew their false beliefs. Therefore my contest is not with the individual, but with the false system. I love mankind, and shall continue to labor and to endure.

The calm, strong currents of true spirituality, the manifestations of which are health, purity, and self-immolation, must deepen human experience, until the beliefs of material existence are seen to be a bald imposition, and sin, disease, and death give everlasting place to the scientific demonstration of divine Spirit and to God's spiritual, perfect man.

11 . ۔ 264: 24۔31

روحانی زندگی اور برکت ہی واحد ثبوت ہیں جن کے وسیلہ ہم حقیقی وجودیت کو پہچان سکتے اور ناقابل بیان امن کو محسوس کرتے ہیں جو سب جذب کرنے والی روحانی محبت سے نکلتا ہے۔

جب ہم کرسچن سائنس میں راستہ جانتے ہیں اور انسان کی روحانی ہستی کو پہچانتے ہیں، ہم خدا کی تخلیق کو سمجھیں اور دیکھیں گے،سارا جلال زمین اور آسمان اور انسان کے لئے۔

11. 264 : 24-31

Spiritual living and blessedness are the only evidences, by which we can recognize true existence and feel the unspeakable peace which comes from an all-absorbing spiritual love.

When we learn the way in Christian Science and recognize man's spiritual being, we shall behold and understand God's creation, — all the glories of earth and heaven and man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔