اتوار 10 مئی، 2026
اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔
“For as in Adam all die, even so in Christ shall all be made alive.”
1۔ اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تْو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا۔
3۔ جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تْو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔
4۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تْو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تْو اْس کی خبر لے؟
5۔ کیونکہ تْو نے اْسے خدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اْسے تاجدار کرتا ہے۔
6۔ تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔
15۔ پر مَیں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کروں گا۔ مَیں جب جاگوں گا تو تیری شباہت سے سیر ہوں گا۔
1. O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth! who hast set thy glory above the heavens.
3. When I consider thy heavens, the work of thy fingers, the moon and the stars, which thou hast ordained;
4. What is man, that thou art mindful of him? and the son of man, that thou visitest him?
5. For thou hast made him a little lower than the angels, and hast crowned him with glory and honour.
6. Thou madest him to have dominion over the works of thy hands; thou hast put all things under his feet.
15. As for me, I will behold thy face in righteousness: I shall be satisfied, when I awake, with thy likeness.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
15۔ تم خداوند کی طرف سے مبارک ہو جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔
15 Ye are blessed of the Lord which made heaven and earth.
1۔ خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔
2۔ اور زمین ویران اور سْنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔
26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپائیوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔
27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر اور ناری اْن کو پیدا کیا۔
28۔اور خدا نے اْن کو برکت دی۔
31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔
1 In the beginning God created the heaven and the earth.
2 And the earth was without form, and void; and darkness was upon the face of the deep. And the Spirit of God moved upon the face of the waters.
26 And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.
27 So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.
28 And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it: and have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over every living thing that moveth upon the earth.
31 And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.
1۔ سو آسمان اور زمین اور اْن کے کْل لشکر کا بنانا ختم ہوا۔
6۔ بلکہ زمین سے کْہر اٹھتی تھی اور تمام روئے زمین کو سیراب کرتی تھی۔
7۔ اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اْس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھْونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔
21۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اْس نے اْس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا اور اْس کی جگہ گوشت بھر دیا۔
22۔ اور خداوند خدا اْس پسلی سے جو اْس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اْسے آدم کے پاس لایا۔
1 Thus the heavens and the earth were finished, and all the host of them.
6 But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.
7 And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul.
21 And the Lord God caused a deep sleep to fall upon Adam, and he slept: and he took one of his ribs, and closed up the flesh instead thereof;
22 And the rib, which the Lord God had taken from man, made he a woman, and brought her unto the man.
1۔ اور آدم اپنی بیوی حوا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اْس کے قائن پیدا ہوا۔ تب اْس نے کہا مجھے خداوند سے ایک مرد ملا۔
2۔ پھر قائن کا بھائی ہابل پیدا ہوا اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائن کسان تھا۔
8۔ اور قائن نے اپنے بھائی ہابل کو کچھ کہا اور جب وہ دونوں کھیت میں تھے تو یوں ہوا کہ قائن نے اپنے بھائی ہابل پر حملہ کیا اور اْسے قتل کر ڈالا۔
9۔ تب خداوند نے قائن سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہاں ہے؟ اْس نے کہا مجھے معلوم نہیں۔ کیا مَیں اپنے بھائی کا محافظ ہوں؟
10۔ پھر اْس نے کہا تْو نے کیا کِیا؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھ کو پکارتا ہے۔
11۔ اب تْو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا۔ جس نے اپنا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے۔
16۔ سو قائن خداوند کے حضور سے نکل گیا اور عدن کے مشرق کی طرف نور کے علاقہ میں جا بسا۔
1 And Adam knew Eve his wife; and she conceived, and bare Cain, and said, I have gotten a man from the Lord.
2 And she again bare his brother Abel. And Abel was a keeper of sheep, but Cain was a tiller of the ground.
8 And Cain talked with Abel his brother: and it came to pass, when they were in the field, that Cain rose up against Abel his brother, and slew him.
9 And the Lord said unto Cain, Where is Abel thy brother? And he said, I know not: Am I my brother’s keeper?
10 And he said, What hast thou done?
11 And now art thou cursed from the earth,
16 And Cain went out from the presence of the Lord, and dwelt in the land of Nod, on the east of Eden.
1۔ جاگ جاگ اے صیون اپنی شوکت سے ملبس ہو! اے یروشلیم مقدس شہر۔
2۔ اپنے اوپر سے گرد جھاڑ دے، اٹھ بیٹھ اے یروشلیم! اے اسیر دخترِ صیون! اپنی گردن کے بندھن کو کھول ڈال۔
3۔ کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ تم مفت بیچے گئے اور تم بے زر ہی آزاد کئے جاؤ گے۔
1 Awake, awake; put on thy strength, O Zion; put on thy beautiful garments, O Jerusalem, the holy city:
2 Shake thyself from the dust; arise, and sit down, O Jerusalem: loose thyself from the bands of thy neck, O captive daughter of Zion.
3 For thus saith the Lord, Ye have sold yourselves for nought; and ye shall be redeemed without money.
3۔ یقینا خداوند صیون کو تسلی دے گا۔ وہ اْس کے تمام ویرانوں کی دل داری کرے گا۔ وہ اْس کا بیابان عدن کی مانند اور اْس کا صحرا خداوند کے باغ کی مانند بنائے گا۔ خوشی اور شادمانی اْس میں پائی جائے گی۔ شکر گزاری اور گانے کی آواز اْس میں ہو گی۔
3 For the Lord shall comfort Zion: he will comfort all her waste places; and he will make her wilderness like Eden, and her desert like the garden of the Lord; joy and gladness shall be found therein, thanksgiving, and the voice of melody.
21۔ پھر یسوع وہاں سے نکل کر صور اور صیدا کے علاقہ کو روانہ ہوا۔
22۔ اور دیکھو ایک کنعانی عورت اُن سرحدوں سے نکلی اور پکار کر کہنے لگی اے خداوند ابن داؤد مجھ پر رحم کر۔ ایک بد روح میری بیٹی کو بہت ستاتی ہے۔
23۔ مگر اْس نے اْسے کچھ جواب نہ دیا اور اْس کے شاگردوں نے اْس کے پاس آکر اْس سے یہ عرض کی کہ اْسے رخصت کر دے کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چِلاتی ہے۔
24۔ اُس نے جواب میں کہا کہ مَیں اِسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کِسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔
25۔ مگر اُس نے آ کر اُسے سجدہ کیا اور کہا اَے خداوند میری مدد کر۔
26۔ اُس نے جواب میں کہا لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینا اچھا نہیں۔
27۔ اُ س نے کہا ہاں خداوند کیونکہ کتے بھی اُن ٹکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو اُن کے مالکوں کی میز سے گرتے ہیں۔
28۔ اِس پر یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اے عورت تیرا ایمان بہت بڑا ہے۔ جیسا تُو چاہتی ہے تیرے لئے ویسا ہی ہو اور اُس کی بیٹی نے اُسی گھڑی شفا پائی۔
21 Then Jesus went thence, and departed into the coasts of Tyre and Sidon.
22 And, behold, a woman of Canaan came out of the same coasts, and cried unto him, saying, Have mercy on me, O Lord, thou Son of David; my daughter is grievously vexed with a devil.
23 But he answered her not a word. And his disciples came and besought him, saying, Send her away; for she crieth after us.
24 But he answered and said, I am not sent but unto the lost sheep of the house of Israel.
25 Then came she and worshipped him, saying, Lord, help me.
26 But he answered and said, It is not meet to take the children’s bread, and to cast it to dogs.
27 And she said, Truth, Lord: yet the dogs eat of the crumbs which fall from their masters’ table.
28 Then Jesus answered and said unto her, O woman, great is thy faith: be it unto thee even as thou wilt. And her daughter was made whole from that very hour.
46۔ جب وہ بھیڑ سے یہ کہہ رہا تھا اْس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اْس سے بات کرنا چاہتے تھے۔
47۔ کسی نے اْس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔
48۔ اْس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہاکون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟
49۔ اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔
50۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور میری ماں ہے۔
46 While he yet talked to the people, behold, his mother and his brethren stood without, desiring to speak with him.
47 Then one said unto him, Behold, thy mother and thy brethren stand without, desiring to speak with thee.
48 But he answered and said unto him that told him, Who is my mother? and who are my brethren?
49 And he stretched forth his hand toward his disciples, and said, Behold my mother and my brethren!
50 For whosoever shall do the will of my Father which is in heaven, the same is my brother, and sister, and mother.
2۔ جس طرح گوریا آوارہ پھرتی اور ابابیل اْڑاتی رہتی ہے اْسی طرح بے سبب لعنت بے محل ہے۔
2 As the bird by wandering, as the swallow by flying, so the curse causeless shall not come.
22۔۔۔۔کتابِ مقدس نے سب کو گناہ کے ماتحت کر دیا تاکہ وہ وعدہ جو یسوع مسیح پر ایمان لانے پر موقوف ہے ایمانداروں کے حق میں پورا کیا جائے۔
27۔ اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔
28۔ نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی۔ نہ کوئی غلام نہ آزاد۔ نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم سب مسیح یسوع میں ایک ہو۔
29۔ اور اگر تم مسیح کے ہو تو ابرہام کی نسل اور وعدہ کے مطابق وارث ہو۔
22 …the scripture hath concluded all under sin, that the promise by faith of Jesus Christ might be given to them that believe.
27 For as many of you as have been baptized into Christ have put on Christ.
28 There is neither Jew nor Greek, there is neither bond nor free, there is neither male nor female: for ye are all one in Christ Jesus.
29 And if ye be Christ’s, then are ye Abraham’s seed, and heirs according to the promise.
6۔ اور چونکہ تم بیٹے ہو اس لئے خدا نے اپنے بیٹے کا روح ہمارے دلوں میں بھیجا جو ابا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتا ہے۔
7۔ پس اب تْو غلام نہیں بیٹا ہے اورجب بیٹا ہوا تو خدا کے وسیلہ سے وارث بھی ہوا۔
6 And because ye are sons, God hath sent forth the Spirit of his Son into your hearts, crying, Abba, Father.
7 Wherefore thou art no more a servant, but a son; and if a son, then an heir of God through Christ.
انسان۔ لا محدود روح کا مرکب خیال؛ خدا کی روحانی صورت اور شبیہ؛ عقل کا مکمل نمائندہ کار۔
Man. The compound idea of infinite Spirit; the spiritual image and likeness of God; the full representation of Mind.
پیدائش 1 باب 1 آیت۔ خدا نے ابتدا میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔
تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔ کائنات خدا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خالق اور ایک تخلیق کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ تخلیق روحانی خیالات اور اْن کی شناختوں کے ایاں ہونے پر مشتمل ہے، جو لامحدود عقل کے دامن سے جڑے ہیں اور ہمیشہ منعکس ہوتے ہیں۔ یہ خیالات محدود سے لامحدود تک وسیع ہیں اور بلند ترین خیالات خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
Genesis i. 1. In the beginning God created the heaven and the earth.
The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation. This creation consists of the unfolding of spiritual ideas and their identities, which are embraced in the infinite Mind and forever reflected. These ideas range from the infinitesimal to infinity, and the highest ideas are the sons and daughters of God.
عقل کی زندگی دینے والی خصوصیت روح ہے، نہ کہ مادہ۔ مثالی انسان تخلیق کے ساتھ، ذہانت کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ الٰہی سائنس میں ہمارے پاس خدا کو مذکر سمجھنے کا ویسا ہی اختیار نہیں ہے جیسا اْسے مونث سمجھنے کا نہیں ہے،کیونکہ محبت دیوتا کا واضح ترتصور پیش کرتی ہے۔
The life-giving quality of Mind is Spirit, not matter. The ideal man corresponds to creation, to intelligence, and to Truth. The ideal woman corresponds to Life and to Love. In divine Science, we have not as much authority for considering God masculine, as we have for considering Him feminine, for Love imparts the clearest idea of Deity.
مسیحی سائنسدان سمجھتے ہیں کہ مذہبی لحاظ سے، اِن کے پاس اپیلی ماں کے لئے وہی اختیار ہے، جیسا کہ بھائی اور بہن کے لئے۔ یسوع نے کہا: ”کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور ماں ہے۔“
Christian Scientists understand that, in a religious sense, they have the same authority for the appellative mother, as for that of brother and sister. Jesus said: "For whosoever shall do the will of my Father which is in heaven, the same is my brother, and sister, and mother."
پیدائش 2 باب 21، 22 آیات۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اْس نے اْس کی پسلیوں میں ایک کو نکال لیا اور اْس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا اْس پسلی سے جو اْس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اْسے آدم کے پاس لایا۔
یہاں جھوٹ، غلطی، سچائی یعنی خدا کو کریڈٹ دیتے ہیں، آدم میں نیند یا سموہن کی کیفیت پیدا کر کے اس پر جراحی کا آپریشن کیا جائے اور اس طرح عورت پیدا کی جائے۔ یہ مقناطیسیت کا پہلا ریکارڈ ہے۔ تخلیق کا آغاز روشنی کے بجائے تاریکی سے، مادی طور پر روحانی کے بجائے، غلطی اب سچائی کے کام کی نقل کرتی ہے، محبت کا مذاق اڑاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ غلطی نے کیا عظیم کام کیا ہے۔ اپنے خوب کی تخلیقات کو دیکھ کر اور انہیں حقیقی اور خدا داد کہتے ہوئے، آدم عرف غلطی - انہیں نام د یتا ہے۔ اس کے بعد وہ بنیاد بننے والا ہے۔ عورت اور اْس کی اپنی نوعیت کی تخلیق - انہیں انسان کہتے ہیں، یعنی ایک قسم کا مرد۔
لیکن اس حکایت کے مطابق، سرجری پہلے ذہنی طور پر اور آلات کے بغیر تھی۔ اور یہ میڈیکل فیکلٹی کے لیے ایک مفید اشارہ ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں انسانی تاریخ میں جب نمونہ پھل اپنی نوعیت کا پھل لا رہا تھا تو اس طریقہ کا ر میں تبدیلی کی تجویز آئی کہ مرد عورت سے پیدا ہونا چاہیے، عورت کو دوبارہ مرد سے نہیں لینا چاہیے۔ یہ بھی سامنے آیا کہ انسانوں کی پیدائش میں مدد کے لیے آلات کی ضرورت تھی۔ تجویزی پر سوتی کا پہلا نظام بدل گیا ہے۔ ایک اور تبدیلی انسان کی فطرت اور ابتدا کے بارے میں آئے گی، اور یہ انکشاف وجود کے خواب کو تباہ کر دے گا، حقیقت کو بحال کر دے گا، سائنس اور تخلیق کی شاندار حقیقت کا آغاز کرے گا، کہ مرد اور عورت دونوں خدا کی طرف سے آگے بڑھتے ہیں اور اس کے ابدی بچے ہیں، جن کا تعلق والدین سے کم نہیں ہے۔
Genesis ii. 21, 22. And the Lord God [Jehovah, Yawah] caused a deep sleep to fall upon Adam, and he slept: and He took one of his ribs, and closed up the flesh instead thereof; and the rib, which the Lord God [Jehovah] had taken from man, made He a woman, and brought her unto the man.
Here falsity, error, credits Truth, God, with inducing a sleep or hypnotic state in Adam in order to perform a surgical operation on him and thereby create woman. This is the first record of magnetism. Beginning creation with darkness instead of light, — materially rather than spiritually, — error now simulates the work of Truth, mocking Love and declaring what great things error has done. Beholding the creations of his own dream and calling them real and God-given, Adam — alias error — gives them names. Afterwards he is supposed to become the basis of the creation of woman and of his own kind, calling them mankind, — that is, a kind of man.
But according to this narrative, surgery was first performed mentally and without instruments; and this may be a useful hint to the medical faculty. Later in human history, when the forbidden fruit was bringing forth fruit of its own kind, there came a suggestion of change in the modus operandi, — that man should be born of woman, not woman again taken from man. It came about, also, that instruments were needed to assist the birth of mortals. The first system of suggestive obstetrics has changed. Another change will come as to the nature and origin of man, and this revelation will destroy the dream of existence, reinstate reality, usher in Science and the glorious fact of creation, that both man and woman proceed from God and are His eternal children, belonging to no lesser parent.
تمام انسانی علم اور مادی احساسات جسمانی حواسِ خمسہ سے حاصل کئے جانے چاہئیں۔ اگر اِس علم کا پہلا پھل کھانے سے موت آئی، تو کیا یہ علم محفوظ ہے؟۔۔۔ آدم اور اْس کی اولاد پر لعنت کی گئی،نہ کہ برکت دی گئی؛ اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ الٰہی روح، یا باپ، مادی انسان کی مذمت کرتا ہے اور اسے خاک میں ملا دیتا ہے۔
All human knowledge and material sense must be gained from the five corporeal senses. Is this knowledge safe, when eating its first fruits brought death? … Adam and his progeny were cursed, not blessed; and this indicates that the divine Spirit, or Father, condemns material man and remands him to dust.
یہوواہ نے یہ اعلان کیا کہ زمین ملعون تھی؛ اور اس زمین سے، یا مادے سے آدم نے جنم لیا، اس کے باوجود خدا نے ”انسان کی خاطر“ زمین کو برکت دی۔اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آدم وہ مثالی انسان نہیں تھا جس کے لئے زمین کو برکت دی گئی تھی۔مثالی انسان اپنے وقت پر ظاہر کیا گیا، اور اْسے بطور یسوع مسیح جانا جاتا تھا۔
Jehovah declared the ground was accursed; and from this ground, or matter, sprang Adam, notwithstanding God had blessed the earth "for man's sake." From this it follows that Adam was not the ideal man for whom the earth was blessed. The ideal man was revealed in due time, and was known as Christ Jesus.
کوئی بھی شخص جو خدا کے خیال اور بیچاری انسانیت کے مابین عدم مطابقت کو سمجھنے کے قابل ہے، اْسے خدا کے انسان، جو اْس کی صورت پر بنایا گیا ہے، اور آدم کی گناہ کرنے والی نسل کے مابین امتیاز کو(جو کرسچن سائنس نے کیا) سمجھنے کے قابل ہونا چاہئے۔
”خدا کے تصور کی تعلیم دینا، یا اِس سے بیماری کا علاج کرنا“، یہ کرسچن سائنس کا مقصد نہیں ہے، جیسا کہ ایک نقاد نے الزام لگایا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ ایسی تنقید انسان اور آدم میں الجھاؤ پیدا کرتی ہے۔ انسان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کی صورت پر خلق کیا گیا ہے، تو یہ ایک گناہ آلودہ اور بیمار فانی انسان نہیں ہے بلکہ ایک مثالی انسان ہے جو خدا کی صورت کی عکاسی کرتا ہے، جس کا حوالہ دیا جا رہا ہوتا ہے۔
Anybody, who is able to perceive the incongruity between God's idea and poor humanity, ought to be able to discern the distinction (made by Christian Science) between God's man, made in His image, and the sinning race of Adam.
It is not the purpose of Christian Science to "educate the idea of God, or treat it for disease," as is alleged by one critic. I regret that such criticism confounds man with Adam. When man is spoken of as made in God's image, it is not sinful and sickly mortal man who is referred to, but the ideal man, reflecting God's likeness.
خدا کا انسان، جسے روحانی طور پر خلق کیا گیا ہے، مادی یا فانی نہیں ہے۔
تمام تر انسانی اختلاف کی ولدیت آدم کا خواب تھا، گہری نیند، جس میں زندگی اور اْس ذہانت کا بھرم پیدا ہوا جو مادے سے اخذ ہوا اور گزرا۔یہ مشرکانہ غلطی، یا نام نہاد سانپ ابھی بھی سچائی کے مخالف سے اصرار کرتا اور کہتا ہے، ”تم خدا کی مانند ہو جاؤ گے؛“ یعنی، میں غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی اور ابدی بنا دوں گا۔
God's man, spiritually created, is not material and mortal.
The parent of all human discord was the Adam-dream, the deep sleep, in which originated the delusion that life and intelligence proceeded from and passed into matter. This pantheistic error, or so-called serpent, insists still upon the opposite of Truth, saying, "Ye shall be as gods;" that is, I will make error as real and eternal as Truth.
سچائی کے انفرادی نمونے کے طور پر، یسوع مسیح ربونی غلطی اور تمام گناہ، بیماری اور موت کو رد کرنے آیا، تاکہ سچائی اور زندگی کی راہ ہموار کرے۔روح کے پھلوں اور مادی فہم، سچائی اور غلطی کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے، یہ نمونہ یسوع کی پوری زمینی زندگی کے دوران ظاہر ہوتا رہا۔
As the individual ideal of Truth, Christ Jesus came to rebuke rabbinical error and all sin, sickness, and death, — to point out the way of Truth and Life. This ideal was demonstrated throughout the whole earthly career of Jesus, showing the difference between the offspring of Soul and of material sense, of Truth and of error.
مریم کا اْسے حمل میں لینا روحانی تھا، کیونکہ صرف پاکیزگی ہی سچائی اور محبت کو منعکس کرسکتی ہے، جو واضح طور پر نیک اور پاک مسیح یسوع میں مجسم ہوتی ہے۔
Mary's conception of him was spiritual, for only purity could reflect Truth and Love, which were plainly incarnate in the good and pure Christ Jesus.
بشر اْس سے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ بدی سے کیسے بچا جائے۔ حقیقی انسان کا سائنس کی بدولت اپنے خالق سے تعلق استوار کرتے ہوئے، بشر کو صرف گناہ سے دور ہونے اور مسیح، یعنی حقیقی انسان اور خدا کے ساتھ اْس کے تعلق کو پانے اور الٰہی فرزندگی کو پہچاننے کے لئے فانی خودی سے نظر ہٹانے کی ضرورت ہے۔ مسیح یعنی سچائی یسوع کے وسیلہ ظاہر ہوئی، بدن پر روح کی طاقت کو ثابت کرنے کے لئے اور یہ دکھانے کے لئے کہ سچائی بیمار کی کو شفا دیتے اور گناہ کو تباہ کرتے ہوئے انسانی عقل اور بدن پر اس کے اثرات کی بدولت ظاہر ہوتی ہے۔
From him mortals may learn how to escape from evil. The real man being linked by Science to his Maker, mortals need only turn from sin and lose sight of mortal selfhood to find Christ, the real man and his relation to God, and to recognize the divine sonship. Christ, Truth, was demonstrated through Jesus to prove the power of Spirit over the flesh, — to show that Truth is made manifest by its effects upon the human mind and body, healing sickness and destroying sin.
مادیت کے روحانی مخالف کی فراست کے وسیلہ، حتیٰ کہ مسیح، سچائی کے وسیلہ، انسان بہشت کے دروازوں کو الٰہی سائنس کی چابیوں سے دوبارہ کھولے گا جن سے متعلق انسان سمجھتا ہے کہ وہ بند ہو چکے ہیں، اور خود کو بے گناہ، راست، پاک اور آزاد پائے گا۔
Through discernment of the spiritual opposite of materiality, even the way through Christ, Truth, man will reopen with the key of divine Science the gates of Paradise which human beliefs have closed, and will find himself unfallen, upright, pure, and free,
مادی زندگی کے عقیدے اور خواب سے مکمل طور پر منفرد، الٰہی زندگی ہے، جو روحانی فہم اور ساری زمین پر انسان کی حکمرانی کے شعور کو ظاہرکرتی ہے۔یہ فہم غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے، اوراِس کے ساتھ آپ ”صاحب اختیار کی مانند“ بات کر سکتے ہیں۔
Entirely separate from the belief and dream of material living, is the Life divine, revealing spiritual understanding and the consciousness of man's dominion over the whole earth. This understanding casts out error and heals the sick, and with it you can speak "as one having authority."
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔