اتوار 17 مئی، 2026



مضمون۔ فانی اور لافانی

SubjectMortals And Immortals

سنہری متن: زبور 31 باب 14، 15 آیات

اے خداوند! میرا توکل تجھ پر ہے۔ مَیں نے کہا تْو میرا خدا ہے۔ میرے ایام تیرے ہاتھ میں ہیں۔



Golden Text: Psalm 31 : 14, 15

I trusted in thee, O Lord: I said, Thou art my God. My times are in thy hand.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: پیدائش 5 باب 1، 2، 18، 22 تا24 آیات •زبور 37 باب 37 آیت • ایوب 11 باب 17 آیت


جوابی مطالعہ: پیدائش 5 باب 1، 2، 18، 22 تا24 آیات •زبور 37 باب 37 آیت • ایوب 11 باب 17 آیت

1۔یہ آدم کا نسب نامہ ہے۔ جس دن خدا نے آدم کو پیدا کیا تو اْسے اپنی شبیہ پر بنایا۔

2۔نر اور ناری اْن کو پیدا کیا اور اْن کو برکت دی اور جس روز وہ خلق ہوئے اْن کا نام آدم رکھا۔

18۔ اور یارد ایک سو باسٹھ برس کا تھا جب اْس سے حنوک پیدا ہوا۔

22۔ اور متوسالح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اْس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

23۔ اور حنوک کی کْل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی۔

24۔ اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اْسے اٹھا لیا۔

37۔ کامل آدمی پر نگاہ کر اور راستباز کو دیکھ کیونکہ صلح دوست آدمی کے لئے اجر ہے۔

17۔اور تیری زندگی دوپہر سے زیادہ روشن ہو گی اور اگر تاریکی ہوئی تو وہ صبح کی طرح ہو گی۔

Responsive Reading: Genesis 5 : 1, 2, 18, 22-24  •  Psalm 37 : 37  •  Job 11 : 17

1.     This is the book of the generations of Adam. In the day that God created man, in the likeness of God made he him;

2.     Male and female created he them; and blessed them.

18.     And Jared lived an hundred sixty and two years, and he begat Enoch.

22.     And Enoch walked with God after he begat Methuselah three hundred years, and begat sons and daughters:

23.     And all the days of Enoch were three hundred sixty and five years:

24.     And Enoch walked with God: and he was not; for God took him.

37.     Mark the perfect man, and behold the upright: for the end of that man is peace.

17.     And thine age shall be clearer than the noonday; thou shalt shine forth, thou shalt be as the morning.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زبور 92 باب 1، 2، 10 (میرا)، 12 تا14 آیات

1۔ کیا ہی بھلا ہے خداوند کا شکر کرنا اور تیرے نام کی مدح سرائی کرنا اے حق تعالیٰ!

2۔ صبح کو تیری شفقت کا اظہار کرنا اور رات کو تیری وفاداری کا۔

10۔۔۔۔لیکن تو نے میرے سینگ کو جنگلی سانڈ کے سینگ کی مانند بلند کیا ہے۔ مجھ پر تازہ تیل ملا گیا ہے۔

12۔ صادق کجھور کے درخت کی مانند سر سبز ہوگا۔ وہ لبنان کے دیودار کی مانند بڑھے گا۔

13۔ وہ خداوند کے گھر میں لگائے گئے ہیں وہ ہمارے خداکی بارگاہوں میں سر سبز ہوں گے۔

14۔ وہ بڑھاپے میں بھی برومند ہوگا۔ وہ ترو تازہ اور سر سبز رہیں گے۔

1. Psalm 92 : 1, 2, 10 (my), 12-14

1     It is a good thing to give thanks unto the Lord, and to sing praises unto thy name, O most High:

2     To shew forth thy lovingkindness in the morning, and thy faithfulness every night,

10     …my horn shalt thou exalt like the horn of an unicorn: I shall be anointed with fresh oil.

12     The righteous shall flourish like the palm tree: he shall grow like a cedar in Lebanon.

13     Those that be planted in the house of the Lord shall flourish in the courts of our God.

14     They shall still bring forth fruit in old age; they shall be fat and flourishing;

2 . ۔ زبور 139 باب 1 تا4، 13 تا18 آیات

1۔ اے خداوند! تْو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔

2۔ تْو میرا اْٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تْو میرے خیال کو دور سے سمجھ لیتا ہے۔

3۔تْو میرے راستہ کی اور میری خوابگاہ کی چھان بین کرتا ہے۔ اور میری سب روشوں سے واقف ہے۔

4۔ دیکھ! میری زبان پر کوئی ایسی بات نہیں جسے تْو اے خداوند! پورے طور پر نہ جانتا ہو۔

13۔ کیونکہ میرے دل کو تْو ہی نے بنایا۔ میری ماں کے پیٹ میں تْو ہی نے مجھے صورت بخشی۔

14۔ مَیں تیرا شکر کروں گا کیونکہ مَیں عجیب و غریب طور سے بنا ہوں۔ تیرے کام حیرت انگیز ہیں۔ میرا دل اِسے خوب جانتا ہے۔

15۔ جب مَیں پوشیدگی میں بن رہا تھا اور زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مرتب ہو رہا تھا تو میرا قالب تجھ سے چھِپا نہ تھا۔

16۔ تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادے کو دیکھا۔

17۔ اے خدا! تیرے خیال میرے لئے کیسے بیش بہا ہیں۔ اْن کا مجموعہ بڑا ہے!

18۔اگر میں اْن کو گِنوں تو وہ شمار میں ریت سے بھی زیادہ ہیں۔ جاگ اْٹھتے ہی تجھے اپنے ساتھ پاتا ہوں۔

2. Psalm 139 : 1-4, 13-18

1     O Lord, thou hast searched me, and known me.

2     Thou knowest my downsitting and mine uprising, thou understandest my thought afar off.

3     Thou compassest my path and my lying down, and art acquainted with all my ways.

4     For there is not a word in my tongue, but, lo, O Lord, thou knowest it altogether.

13     For thou hast possessed my reins: thou hast covered me in my mother’s womb.

14     I will praise thee; for I am fearfully and wonderfully made: marvellous are thy works; and that my soul knoweth right well.

15     My substance was not hid from thee, when I was made in secret, and curiously wrought in the lowest parts of the earth.

16     Thine eyes did see my substance, yet being unperfect; and in thy book all my members were written, which in continuance were fashioned, when as yet there was none of them.

17     How precious also are thy thoughts unto me, O God! how great is the sum of them!

18     If I should count them, they are more in number than the sand: when I awake, I am still with thee.

3 . ۔ عبرانیوں 7 باب 1 (یہ)تا 4، 15، 16 آیات

1۔۔۔۔ اور یہ ملکِ صِدق سالم کا بادشاہ۔ خدا تعالیٰ کا کاہن ہمیشہ کاہن رہتا ہے۔جب ابراہام بادشاہوں کو قتل کر کے واپس آتا تھا تو اْس نے اْس کا استقبال کیا اور اْس کے لئے برکت چاہی۔

2۔ اِسی کو ابراہا م نے سب چیزوں کی دہ یکی دی۔ اول تو اپنے نام کے معنی کے موافق راستبازی کا بادشاہ ہے اور پھر سالم یعنی صلح کا بادشاہ ہے۔

3۔ یہ بے باپ بے ماں بے نسب نامہ ہے۔ نہ اْس کی عمر کا شروع نہ زندگی کا آخر بلکہ خدا کے بیٹے کے مشابہ ٹھہرا۔

4۔ پس غور کرو کہ یہ کیسا بزرگ تھا جس کو قوم کے بزرگ ابراہام نے لْوٹ کے عمدہ سے عمدہ مال کی دہ یکی دی۔

15۔ اور جب ملکِ صدق کی مانند ایک اور ایسا کاہن پیدا ہونے والا تھا۔

16۔ جو جسمانی احکام کی شریعت کے موافق نہیں بلکہ غیر فانی زندگی کی قوت کے مطابق مقرر ہو۔

3. Hebrews 7 : 1 (this)-4, 15, 16

1     …this Melchisedec, king of Salem, priest of the most high God, who met Abraham returning from the slaughter of the kings, and blessed him;

2     To whom also Abraham gave a tenth part of all; first being by interpretation King of righteousness, and after that also King of Salem, which is, King of peace;

3     Without father, without mother, without descent, having neither beginning of days, nor end of life; but made like unto the Son of God; abideth a priest continually.

4     Now consider how great this man was, unto whom even the patriarch Abraham gave the tenth of the spoils.

15     And it is yet far more evident: for that after the similitude of Melchisedec there ariseth another priest,

16     Who is made, not after the law of a carnal commandment, but after the power of an endless life.

4 . ۔ یوحنا 9 باب 1 تا7 آیات

1۔ پھر اْس نے جاتے وقت ایک شخص کو دیکھا جو جنم کا اندھا تھا۔

2۔اور اْس کے شاگردوں نے اْس سے پوچھا اے ربی! کس نے گناہ کیا تھا جو یہ اندھا پیدا ہوا۔ اس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟

3۔ یسوع نے جواب دیا کہ نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے یہ اِس لئے ہوا کہ خدا کے کام اْس میں ظاہر ہوں۔

4۔ جس نے مجھے بھیجا ہے ہمیں اْس کے کام دن ہی دن میں کرنا ضرور ہے۔ وہ رات آنے والی ہے جس میں کوئی شخص کام نہیں کر سکتا۔

5۔ جب تک مَیں دنیا میں ہوں دنیا کا نور ہوں۔

6۔یہ کہہ کر اْس نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مِٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر

7۔اْس سے کہا جا شیلوخ (جس کا ترجمہ ”بھیجا ہوا“ ہے) کے حوض میں دھو لے۔ پس اْس نے جا کر دھویا اور بِینا ہو کر واپس آیا۔

4. John 9 : 1-7

1     And as Jesus passed by, he saw a man which was blind from his birth.

2     And his disciples asked him, saying, Master, who did sin, this man, or his parents, that he was born blind?

3     Jesus answered, Neither hath this man sinned, nor his parents: but that the works of God should be made manifest in him.

4     I must work the works of him that sent me, while it is day: the night cometh, when no man can work.

5     As long as I am in the world, I am the light of the world.

6     When he had thus spoken, he spat on the ground, and made clay of the spittle, and he anointed the eyes of the blind man with the clay,

7     And said unto him, Go, wash in the pool of Siloam, (which is by interpretation, Sent.) He went his way therefore, and washed, and came seeing.

5 . ۔ مرقس 7 باب 31 تا35 آیات

31۔ اور وہ پھر صور کی سرحدوں سے نکل کر صیدا کی راہ سے دکپلس کی سرحدوں سے ہوتا ہوا گلیل کی جھیل پر پہنچا۔

32۔ اور لوگوں نے ایک بہرے کو جو ہکلا بھی تھا اْس کے پاس لا کر اْس کی منت کی کہ اپنا ہاتھ اْس پر رکھ۔

33۔ وہ اْس کو بھیڑ میں سے الگ لے گیا اور اپنی انگلیاں اْس کے کانوں میں ڈالیں اور تھوک کر اْس کی زبان چھوئی۔

34۔ اور آسمان کی طرف نظر کر کے ایک آہ بھری اور اْس سے کہا اِفتح یعنی کھل جا۔

35۔ اور اْس کے کان کھل گئے اور اْس کی زبان کی گِرہ کھل گئی اور وہ صاف بولنے لگا۔

5. Mark 7 : 31-35

31     And again, departing from the coasts of Tyre and Sidon, he came unto the sea of Galilee, through the midst of the coasts of Decapolis.

32     And they bring unto him one that was deaf, and had an impediment in his speech; and they beseech him to put his hand upon him.

33     And he took him aside from the multitude, and put his fingers into his ears, and he spit, and touched his tongue;

34     And looking up to heaven, he sighed, and saith unto him, Ephphatha, that is, Be opened.

35     And straightway his ears were opened, and the string of his tongue was loosed, and he spake plain.

6 . ۔ لوقا 8 باب 41، 42 (تاپہلی۔)، 49 تا55 آیات

41۔ اور دیکھو یائیر نام ایک شخص جو عبادتخانے کا سردار تھا آیا اور یسوع کے قدموں پر گر کر اْس کی منت کی کہ میرے گھر چل۔

42۔ کیونکہ اْس کی اکلوتی بیٹی جو بارہ برس کی تھی مرنے کو تھی۔

49۔ وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عبادتخانہ کے سردار کے ہاں سے کسی نے آکر کہا تیری بیٹی مرگئی۔استاد کو تکلیف نہ دے۔

50۔ یسوع نے سن کر اْسے جواب دیا خوف نہ کر فقط اعتقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی۔

51۔ اور گھر میں پہنچ کر پطرس اور یوحنا اور یعقوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سوا کسی کو اپنے ساتھ اندر نہ جانے دیا۔

52۔ اور سب اْس کے لئے رو پیٹ رہے تھے مگر اْس نے کہا ماتم نہ کرو۔ وہ مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔

53۔ وہ اْس پر ہنسنے لگے کیونکہ جانتے تھے کہ وہ مر گئی ہے۔

54۔ مگر اْس نے اْس کا ہاتھ پکڑا اور پکار کر کہا اے لڑکی اْٹھ۔

55۔ اْس کی روح پھر آئی اور وہ اْسی دم اْٹھی۔ پھر یسوع نے حکم دیا کہ لڑکی کو کچھ کھانے کو دو۔

6. Luke 8 : 41, 42 (to 1st .), 49-55

41     And, behold, there came a man named Jairus, and he was a ruler of the synagogue: and he fell down at Jesus’ feet, and besought him that he would come into his house:

42     For he had one only daughter, about twelve years of age, and she lay a dying.

49     While he yet spake, there cometh one from the ruler of the synagogue’s house, saying to him, Thy daughter is dead; trouble not the Master.

50     But when Jesus heard it, he answered him, saying, Fear not: believe only, and she shall be made whole.

51     And when he came into the house, he suffered no man to go in, save Peter, and James, and John, and the father and the mother of the maiden.

52     And all wept, and bewailed her: but he said, Weep not; she is not dead, but sleepeth.

53     And they laughed him to scorn, knowing that she was dead.

54     And he put them all out, and took her by the hand, and called, saying, Maid, arise.

55     And her spirit came again, and she arose straightway: and he commanded to give her meat.

7 . ۔ 1 کرنتھیوں 15 باب 51، 53، 58 آیات

51۔ دیکھو میں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

58۔ پس اے میرے عزیز بھائیو! ثابت قدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزائش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہو کہ تمہاری محنت خداوند میں بے فائدہ نہیں ہے۔

7. I Corinthians 15 : 51, 53, 58

51     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

58     Therefore, my beloved brethren, be ye stedfast, unmoveable, always abounding in the work of the Lord, forasmuch as ye know that your labour is not in vain in the Lord.



سائنس اور صح


1 . ۔ 81 :17۔18

جیسا کہ سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے انسان خدا کی صورت پر ہوتے ہوئے لافانی ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔

1. 81 : 17-18

Man in the likeness of God as revealed in Science cannot help being immortal.

2 . ۔ 76: 18 (دْکھوں)۔31

دْکھوں کے، گناہوں کے، مردہ عقائد غیر حقیقی ہیں۔ جب الٰہی سائنس عالمگیر طور پر سمجھی جاتی ہے، تو انسان پر اْن کا کوئی اختیار نہیں ہوگا، کیونکہ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

بے گناہ خوشی، زندگی کی کامل ہم آہنگی اور لافانیت، ایک بھی جسمانی تسکین یا درد کے بِنا لامحدود الٰہی خوبصورتی اور اچھائی کی ملکیت رکھتے ہوئے، اصلی اور لازوال انسان تشکیل دیتی ہے، جس کا وجود روحانی ہوتا ہے۔ وجودیت کی یہ حالت سائنسی ہے اور برقرار ہے، یعنی ایسی کاملیت جو محض اْن لوگوں کے لئے قابل فہم ہے جنہیں الٰہی سائنس میں مسیح کی حتمی سمجھ ہے۔ موت وجودیت کی اس حالت کو کبھی تیز نہیں کر سکتی کیونکہ لافانیت کے ظاہر ہونے سے قبل موت پر فتح مند ہونا چاہئے نہ کہ اْس کے سپرد ہونا چاہئے۔

2. 76 : 18 (Suffering)-31

Suffering, sinning, dying beliefs are unreal. When divine Science is universally understood, they will have no power over man, for man is immortal and lives by divine authority.

The sinless joy, — the perfect harmony and immortality of Life, possessing unlimited divine beauty and goodness without a single bodily pleasure or pain, — constitutes the only veritable, indestructible man, whose being is spiritual. This state of existence is scientific and intact, — a perfection discernible only by those who have the final understanding of Christ in divine Science. Death can never hasten this state of existence, for death must be overcome, not submitted to, before immortality appears.

3 . ۔ 280: 1۔8

عقل کی لامحدودیت میں، مادہ یقیناً گمنام ہوگا۔مخالفت اور تباہی کی علامات اور عناصر لامحدود، کامل اور ابدی کْل کی مصنوعات نہیں ہیں۔ محبت میں سے اور اْس روشنی اور ہم آہنگی میں سے جس کا مسکن روح ہے، صرف اچھائی کی کرنیں نکل سکتی ہیں۔ تمام تر خوبصورت اور بے ضرر چیزیں عقل کے خیالات ہیں۔ عقل انہیں خلق کرتی اور انہیں بڑھاتی ہے، اور یہ پیداوار ذہنی ہوتی ہے۔

3. 280 : 1-8

In the infinitude of Mind, matter must be unknown. Symbols and elements of discord and decay are not products of the infinite, perfect, and eternal All. From Love and from the light and harmony which are the abode of Spirit, only reflections of good can come. All things beautiful and harmless are ideas of Mind. Mind creates and multiplies them, and the product must be mental.

4 . ۔ 281: 14۔17، 20۔ 24

ایک خودی، ایک عقل یا روح جسے خدا کہا جاتا ہے لامتناہی انفرادیت ہے، جو سب روپ اور خوبصورتی دستیاب کرتا ہے اور جو انفرادی روحانی انسان اور چیزوں میں حقیقت اور الوہیت کی عکاسی کرتا ہے۔

جب ہم سچ کے لئے جھوٹ کے احساس کو ترک کر دیتے ہیں، اور دیکھتے ہیں کہ گناہ اور موت کا نہ تو اصول ہے اور نہ ہی مستقبل، تو ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ گناہ اور موت کا کوئی اصل یا صحیح وجود نہیں ہے۔

4. 281 : 14-17, 20-24

The one Ego, the one Mind or Spirit called God, is infinite individuality, which supplies all form and comeliness and which reflects reality and divinity in individual spiritual man and things.

When we put off the false sense for the true, and see that sin and mortality have neither Principle nor permanency, we shall learn that sin and mortality are without actual origin or rightful existence.

5 . ۔ 283: 1۔7

جونہی بشر روح کو سمجھنا شروع کرتے ہیں، وہ یہ ایمان رکھنا ترک کرتے ہیں کہ خدا کے علاوہ بھی کوئی حقیقی وجودیت ہے۔

عقل تمام تر حرکات کا منبع ہے، اور اِس کے متواتر اور ہم آہنگ عمل کو پرکھنے یا اس پر مزاحمت کرنے والی کسی قسم کی سستی نہیں پائی جاتی۔ عقل ”کل، آج اور ابد تک“ زندگی، محبت اور حکمت کے ساتھ یکساں ہے۔

5. 283 : 1-7

As mortals begin to understand Spirit, they give up the belief that there is any true existence apart from God.

Mind is the source of all movement, and there is no inertia to retard or check its perpetual and harmonious action. Mind is the same Life, Love, and wisdom "yesterday, and to-day, and forever."

6 . ۔ 246 :23۔31

لافانی حکمران کے ماتحت انسان ہمیشہ خوبصورت اور عظیم ہوتا ہے۔ ہر آنے والا سال حکمت، خوبصورتی اور پاکیزگی کو عیاں کرتا ہے۔

زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔

6. 246 : 23-31

Man, governed by immortal Mind, is always beautiful and grand. Each succeeding year unfolds wisdom, beauty, and holiness.

Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.

7 . ۔ 247: 13۔27

لافانیت، عمر اور فنا پذیری سے مستثنیٰ ہو تے ہوئے، اپنا جلال آپ،یعنی روح کی چمک رکھتی ہے۔غیر فانی مرد اور خواتین روحانی حس کا نمونہ ہوتے ہیں جو کامل عقل سے اور پاکیزگی کے اْن بلند نظریات کی عکاسی کرنے سے بنائے جاتے ہیں جو مادی حس سے بالا تر ہوتے ہیں۔

خوش مزاجی اور فضل مادے سے آزاد ہیں۔ انسانی سمجھ میں آنے سے پہلے ہستی میں اِس کی اپنی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ خوبصورتی زندگی کی ایک چیز ہے، جو ہمیشہ سے ابدی عقل میں بستی ہے اور یہ اظہار، صورت، خاکے اور رنگ میں اْس کی نیکی کی دلکشی کی عکاسی کرتی ہے۔یہ محبت ہی ہے جو پنکھڑی میں ہزار ہا رنگ بھرتی، سورج کی کرن میں چمک بھرتی، بادل پر خوبصورتی کی کمان سے نشانہ باندھتی، رات کو ستاروں کے جواہرات سے آراستہ کرتی اور زمین کو حسن سے نوازتی ہے۔

7. 247 : 13-27

Immortality, exempt from age or decay, has a glory of its own, — the radiance of Soul. Immortal men and women are models of spiritual sense, drawn by perfect Mind and reflecting those higher conceptions of loveliness which transcend all material sense.

Comeliness and grace are independent of matter. Being possesses its qualities before they are perceived humanly. Beauty is a thing of life, which dwells forever in the eternal Mind and reflects the charms of His goodness in expression, form, outline, and color. It is Love which paints the petal with myriad hues, glances in the warm sunbeam, arches the cloud with the bow of beauty, blazons the night with starry gems, and covers earth with loveliness.

8 . ۔ 210: 11۔ 18

یہ جانتے ہوئے کہ جان اور اْس کی خصوصیات ہمیشہ کے لئے انسان کے وسیلہ ظاہر کی جاتی رہی ہیں، مالک نے بیمار کو شفا دی، اندھے کو آنکھیں دیں، بہرے کو کان دئیے، لنگڑے کو پاؤں دئیے، یوں وہ انسانی خیالوں اور بدنوں پر الٰہی عقل کے سائنسی عمل کو روشنی میں لایااور انہیں جان اور نجات کی بہتر سمجھ عطا کی۔یسوع نے ایک ہی اور یکساں مابعد لاطبیعی مرحلے کے ساتھ گناہ اوربیماری کو ٹھیک کیا۔

8. 210 : 11-18

Knowing that Soul and its attributes were forever manifested through man, the Master healed the sick, gave sight to the blind, hearing to the deaf, feet to the lame, thus bringing to light the scientific action of the divine Mind on human minds and bodies and giving a better understanding of Soul and salvation. Jesus healed sickness and sin by one and the same metaphysical process.

9 . ۔ 211: 24۔31

اگر یہ سچ ہے کہ اعصاب میں حواس ہے، کہ مادے میں عقل ہے، کہ مادی جسم آنکھ کو دیکھنے اور کانوں کو سننے کا سبب بنتا ہے، تو جب جسم کی مادیت ختم ہو جاتی ہے،تو اِن جسمانی صلاحتیوں کو بھی ختم ہوجانا چاہئے، کیونکہ ان کی لافانیت روح میں نہیں ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف غیر مادیت اور فکر کی روحانیت کے وسیلہ ہی ان صلاحیتوں کو لافانی تصور کیا جا سکتا ہے۔

9. 211 : 24-31

If it is true that nerves have sensation, that matter has intelligence, that the material organism causes the eyes to see and the ears to hear, then, when the body is dematerialized, these faculties must be lost, for their immortality is not in Spirit; whereas the fact is that only through dematerialization and spiritualization of thought can these faculties be conceived of as immortal.

10 . ۔ 213: 7۔10 (تا،)، 16۔ 19، 8۔ 30

اس فانی اور مادی تصور کے علاوہ لافانی اور روحانی حقائق موجود ہیں۔ خدا، اچھا، خود موجود اور خود ظہور پذیرہے،

آواز ایک ذہنی تاثر ہے جو فانی عقیدے کے لئے دیا جاتا ہے۔ حقیقت میں کان نہیں سنتا۔ الٰہی سائنس آواز کو روح کے حواس کے وسیلہ بیان کیاہوا ظاہر کرتی ہے، یعنی روحانی فہم کے وسیلہ۔

اس سے قبل کہ انسانی علم چیزوں سے متعلق جھوٹے فہم میں گہرا غرق ہوتا، یعنی اْن مادی اصلیتوں میں جو واحد عقل اور ہستی کے حقیقی وسیلہ کو خارج کردیتی ہیں، یہ ممکن ہے کہ سچائی سے نکلنے والے تاثرات آواز کی مانند واضح ہوتے اور یہ کہ وہ تاریخی انبیاء پربطور آواز نازل ہوئے۔ اگر سننے کا وسیلہ مکمل طور پر روحانی ہے تو یہ عام اور لازوال ہے۔

اگر حنوک کے ادراک کو اْس کے مادی حواس سے قبل ثبوت تک محدود کردیا جاتا، تو وہ کبھی ”خدا کے ساتھ نہ چل“ پاتا، نہ ہی اْسے ابدی زندگی کے اظہار کی جانب ہدایت دی جاتی۔

10. 213 : 7-10 (to ,), 16-19, 30-8

Immortal and spiritual facts exist apart from this mortal and material conception. God, good, is self-existent and self-expressed,

Sound is a mental impression made on mortal belief. The ear does not really hear. Divine Science reveals sound as communicated through the senses of Soul — through spiritual understanding.

Before human knowledge dipped to its depths into a false sense of things, — into belief in material origins which discard the one Mind and true source of being, — it is possible that the impressions from Truth were as distinct as sound, and that they came as sound to the primitive prophets. If the medium of hearing is wholly spiritual, it is normal and indestructible.

If Enoch's perception had been confined to the evidence before his material senses, he could never have "walked with God," nor been guided into the demonstration of life eternal.

11 . ۔ 214 :7۔26

ایک احساس کتنا عارضی ہوتا ہے جب ریٹنا پر زخم روشنی اور عینک کی طاقت کو ختم کر سکتا ہے! لیکن اصل بینائی یا احساس گم نہیں ہوتا۔ نہ عمر اور نہ ہی حادثہ روح کے حواس کے ساتھ مداخلت کر سکتا ہے، اور اِن کے علاوہ کوئی حقیقی حواس نہیں ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ بطور مادہ بدن کا اپنا کوئی احساس نہیں ہے، اور جان اور اِس کی لیاقتوں کے لئے کوئی فراموشی نہیں ہے۔ روح کے حواس درد سے مبرا ہیں، اور وہ ہمیشہ سکون میں رہتے ہیں۔کوئی چیز بھی اْن سے تمام تر چیزوں کی ہم آہنگی اور سچائی کی طاقت اور استقلال کو چھپا نہیں سکتی۔

اگر روح، جان، گناہ کر سکتی ہے یا کھو سکتی ہے، تو ہستی اور لافانیت بھی عقل کی صلاحیتیوں کے ہمراہ ختم ہوجائیں گی۔ لیکن جب تک خدا کا وجود ہے ہستی ختم نہیں ہو سکتی۔

11. 214 : 26-7

How transient a sense is mortal sight, when a wound on the retina may end the power of light and lens! But the real sight or sense is not lost. Neither age nor accident can interfere with the senses of Soul, and there are no other real senses. It is evident that the body as matter has no sensation of its own, and there is no oblivion for Soul and its faculties. Spirit's senses are without pain, and they are forever at peace. Nothing can hide from them the harmony of all things and the might and permanence of Truth.

If Spirit, Soul, could sin or be lost, then being and immortality would be lost, together with all the faculties of Mind; but being cannot be lost while God exists.

12 . ۔ 215 :11۔14

روحانی بصیرت ریاضیاتی بلندی کے ماتحت نہیں ہے۔ جو کچھ بھی خدا کی حکمرانی میں ہوتا ہے، وہ کبھی بھی ایک لمحے کے لئے ذہانت اور زندگی کی روشنی اور طاقت سے محروم نہیں ہوتا۔

12. 215 : 11-14

Spiritual vision is not subordinate to geometric altitudes. Whatever is governed by God, is never for an instant deprived of the light and might of intelligence and Life.

13 . ۔ 490 :14۔18

انسانی نظریات انسان کو ہم آہنگ یا لافانی بنانے میں بے بس ہیں، کیونکہ وہ کرسچن سائنس کے مطابق پہلے سے ہی ایسے ہیں۔ ہماری ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم اسے جانیں اور حقیقی انسان کے الٰہی اصول، محبت پر کم عمل کریں۔

13. 490 : 14-18

Human theories are helpless to make man harmonious or immortal, since he is so already, according to Christian Science. Our only need is to know this and reduce to practice the real man's divine Principle, Love.

14 . ۔ 248: 26۔29

ہمیں خیالات میں کامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔

14. 248 : 26-29

We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives.

15 . ۔ 249 :1۔10

آئیے سائنس کو قبول کریں، عقلی گواہی پر مشتمل تمام نظریات کو ترک کریں، ناقص نمونوں اور پْر فریب قیاس آرائیوں سے دست بردار ہوں؛ اور آئیے ہم ایک خدا، ایک عقل، اور اْس واحد کامل کو رکھیں جو فضیلت کے اپنے نمونوں کو پیدا کررہا ہے۔

خدا کی تخلیق کے ”آدم اور عورت“ کو سامنے آنے دیں۔ہمارے لئے زندگی میں جدت لاتی محسوس کرتے ہوئے اور کسی فانی یا مادی طاقت کو تباہی لانے کے قابل نہ سمجھتے ہوئے،آئیے روح کی قوت کو محسوس کریں۔تو آئیں ہم شادمان ہوں کہ ہم ”ہونے والی الٰہی قوتوں“ کے تابع ہیں۔ ہستی کی حقیقی سائنس ایسی ہی ہے۔

15. 249 : 1-10

Let us accept Science, relinquish all theories based on sense-testimony, give up imperfect models and illusive ideals; and so let us have one God, one Mind, and that one perfect, producing His own models of excellence.

Let the "male and female" of God's creating appear. Let us feel the divine energy of Spirit, bringing us into newness of life and recognizing no mortal nor material power as able to destroy. Let us rejoice that we are subject to the divine "powers that be." Such is the true Science of being.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔