اتوار 23 اگست، 2026



مضمون۔ عقل

SubjectMind

سنہری متن: 1 کرنتھیوں 2 باب 12 آیت

مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔



Golden Text: I Corinthians 2 : 12

Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: کلسیوں 2 باب 6 تا 10 آیات


6۔ پس جس طرح تم نے مسیح یسوع خداوند کو قبول کیا اْسی طرح اْس میں چلتے رہو۔

7۔ اور اْس میں جڑ پکڑتے اور تعمیر ہوتے جاؤ اور جس طرح تم نے تعلیم پائی اْسی طرح ایمان میں مظبوط رہو اور خوب شکر گزاری کیا کرو۔

8۔ خبردار کوئی تم کو اْس فلسفی اور لاحاصل فریب سے شکار نہ کرلے جو انسانوں کی روایت اور دنیوی ابتدائی باتوں کے موافق ہیں نہ کہ مسیح کے موافق۔

9۔ کیونکہ الوہیت کی ساری معموری اْسی میں مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔

10۔ اورتم اْسی میں معمور ہو گئے ہو جو ساری حکومت اور اختیار کا سر ہے۔

Responsive Reading: Colossians 2 : 6-10

6.     As ye have therefore received Christ Jesus the Lord, so walk ye in him:

7.     Rooted and built up in him, and stablished in the faith, as ye have been taught, abounding therein with thanksgiving.

8.     Beware lest any man spoil you through philosophy and vain deceit, after the tradition of men, after the rudiments of the world, and not after Christ.

9.     For in him dwelleth all the fulness of the Godhead bodily.

10.     And ye are complete in him, which is the head of all principality and power.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ فلپیوں 2 باب 5، 12، 13 آیات

5۔ ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح یسوع کا تھا۔

12۔ اس لیے، اے میرے عزیزو! جس طرح تم ہمیشہ سے فرمانبرداری کرتے آئے ہو اْسی طرح اب بھی نہ صرف میری حاضری میں بلکہ اْس سے بہت زیادہ میری غیر حاضری میں ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام کرتے جاؤ۔

13۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔

1. Philippians 2 : 5, 12, 13

5     Let this mind be in you, which was also in Christ Jesus:

12     Wherefore, my beloved, as ye have always obeyed, not as in my presence only, but now much more in my absence, work out your own salvation with fear and trembling.

13     For it is God which worketh in you both to will and to do of his good pleasure.

2 . ۔ متی 2 باب 1 (یسوع) (تا پہلی،) آیت

1۔ جب یسوع ہیرودیس بادشاہ کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت الحم میں پیدا ہوا،

2. Matthew 2 : 1 (Jesus) (to 1st ,)

1     Jesus was born in Bethlehem of Judæa in the days of Herod the king,

3 . ۔ لوقا 2 باب 40 تا 43، 46، 47، 52 آیات

40۔ اور وہ لڑکا بڑھتا اور قوت پاتا گیا اور حکمت سے معمور ہوتا گیا اور خداکا فضل اْس پر تھا۔

41۔ اْس کے ماں باپ ہر برس عیدِ فسح کو یروشلیم جایا کرتے تھے۔

42۔ اور جب وہ بارہ برس کا ہوا تو وہ عید کے دستور کے موافق یروشلیم کو گئے۔

43۔ جب وہ اْن دنوں کو پورا کر کے لوٹے تو وہ لڑکا یسوع یروشلیم میں رہ گیااوراْس کے ماں باپ کو خبر نہ ہوئی۔

46۔ اور تین روز کے بعد ایسا ہوا کہ اْنہوں نے اْسے ہیکل میں اْستادوں کے بیچ میں بیٹھے اْن کی سْنتے اور اْن سے سوال کرتے ہوئے پایا۔

47۔ اور جتنے اْس کی سن رہے تھے اْس کی سمجھ اور اْس کے جوابوں سے دنگ تھے۔

52۔اور یسوع حکمت اور قدو قامت میں اور خدا کی اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا۔

3. Luke 2 : 40-43, 46, 47, 52

40     And the child grew, and waxed strong in spirit, filled with wisdom: and the grace of God was upon him.

41     Now his parents went to Jerusalem every year at the feast of the passover.

42     And when he was twelve years old, they went up to Jerusalem after the custom of the feast.

43     And when they had fulfilled the days, as they returned, the child Jesus tarried behind in Jerusalem; and Joseph and his mother knew not of it.

46     And it came to pass, that after three days they found him in the temple, sitting in the midst of the doctors, both hearing them, and asking them questions.

47     And all that heard him were astonished at his understanding and answers.

52     And Jesus increased in wisdom and stature, and in favour with God and man.

4 . ۔ متی 11 باب1 آیت

1۔ جب یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو حکم دے چکا تو ایسا ہوا کہ وہاں سے چلا گیا تاکہ اْن کے شہروں میں تعلیم دے اور منادی کرے۔

4. Matthew 11 : 1

1     And it came to pass, when Jesus had made an end of commanding his twelve disciples, he departed thence to teach and to preach in their cities.

5 . ۔ متی 12 باب 22 تا 28 آیات

22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟

24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشای تمہارے پاس آ پہنچی۔

5. Matthew 12 : 22-28

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

6 . ۔ لوقا 8 باب 22 (تا:)، 26 تا 35 (تا:) آیات

22۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اور اْس کے شاگرد کشتی میں سوار ہوئے اور اْس نے اْن سے کہا کہ آؤ جھیل کے پار چلیں۔

26۔ پھروہ اسینیوں کے علاقہ میں جا پہنچے جو اْس پار گلیل کے سامنے ہے۔

27۔ جب وہ کنارے پر اترا تو اُس شہر کا ایک مرد اُسے ملا جس میں بد روحیں تھیں اور اُس نے بڑی مدت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔

28۔وہ یسوع کو دیکھ کر چلایا اور اُس کے آگے گر کر بلند آواز سے کہنے لگا اے یسوع! خدا تعالیٰ کے بیٹے مجھے تجھ سے کیا کام؟ مَیں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے عذاب میں نہ ڈال۔

29۔ کیونکہ وہ اُس ناپاک روح کو حکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نکل جا۔ اِس لئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہرچند لوگ اُسے زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابو میں رکھتے تھے تو بھی وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بد روح اُس کو بِیابانوں میں بھگائے پھرتی تھی۔

30۔یسوع نے اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بہت سے بد روحیں تھیں۔

31۔اور وہ اُس کی منت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حکم نہ دے۔

32۔وہاں پہاڑ پر سوروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی منت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے۔ اُس نے اُنہیں جانے دیا۔

33۔اور بد روحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سوروں کے اندر گئیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جھیل میں جا پڑا اور ڈوب مرا۔

34۔ یہ ماجرہ دیکھ کر چرانے والے بھاگے اور جاکر شہر اور دیہات میں خبر دی۔

35۔ لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نکلے اور یسوع کے پاس آ کر اُس آدمی کو جس میں سے بد روحیں نکلی تھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یسوع کے پاؤں کے پاس بیٹھے پایا اور ڈر گئے۔

6. Luke 8 : 22 (to :), 26-35 (to :)

22     Now it came to pass on a certain day, that he went into a ship with his disciples:

26     And they arrived at the country of the Gadarenes, which is over against Galilee.

27     And when he went forth to land, there met him out of the city a certain man, which had devils long time, and ware no clothes, neither abode in any house, but in the tombs.

28     When he saw Jesus, he cried out, and fell down before him, and with a loud voice said, What have I to do with thee, Jesus, thou Son of God most high? I beseech thee, torment me not.

29     (For he had commanded the unclean spirit to come out of the man. For oftentimes it had caught him: and he was kept bound with chains and in fetters; and he brake the bands, and was driven of the devil into the wilderness.)

30     And Jesus asked him, saying, What is thy name? And he said, Legion: because many devils were entered into him.

31     And they besought him that he would not command them to go out into the deep.

32     And there was there an herd of many swine feeding on the mountain: and they besought him that he would suffer them to enter into them. And he suffered them.

33     Then went the devils out of the man, and entered into the swine: and the herd ran violently down a steep place into the lake, and were choked.

34     When they that fed them saw what was done, they fled, and went and told it in the city and in the country.

35     Then they went out to see what was done; and came to Jesus, and found the man, out of whom the devils were departed, sitting at the feet of Jesus, clothed, and in his right mind:

7 . ۔ رومیوں 8 باب 1 تا 7، 11، 14 تا 17 (تا دوسری) آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں،جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اورموت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

3۔اس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خدا نے کیا یعنی اْس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلود جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا۔

4۔تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پورا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

5۔کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

6۔اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

7۔ اِس لئے کہ جسمانی نیت خدا کی دشمنی ہے کیونکہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔

11۔ لیکن اگر اْسی کا روح تم میں بسا ہوا ہے جس نے یسوع کو مردوں میں سے جلایا تو جس نے مسیح یسوع کو مردوں میں سے جلایا وہ تمہارے فانی بدنوں کو بھی اپنے اْس روح کے وسیلہ زندہ کرے گا جو تم میں بسا ہوا ہے۔

14۔ اِس لئے کہ جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بیٹے ہیں۔

15۔ کیونکہ تم کو غلامی کی روح نہیں ملی جس سے پھر ڈر پیدا ہو بلکہ لے پالک ہونے کی روح ملی جس سے ہم ابا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتے ہیں۔

16۔ روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔

17۔ اور اگر فرزند ہیں تو وارث بھی ہیں یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث۔

7. Romans 8 : 1-7, 11, 14-17 (to 2nd ;)

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

3     For what the law could not do, in that it was weak through the flesh, God sending his own Son in the likeness of sinful flesh, and for sin, condemned sin in the flesh.

4     That the righteousness of the law might be fulfilled in us, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

5     For they that are after the flesh do mind the things of the flesh; but they that are after the Spirit the things of the Spirit.

6     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.

7     Because the carnal mind is enmity against God: for it is not subject to the law of God, neither indeed can be.

11     But if the Spirit of him that raised up Jesus from the dead dwell in you, he that raised up Christ from the dead shall also quicken your mortal bodies by his Spirit that dwelleth in you.

14     For as many as are led by the Spirit of God, they are the sons of God.

15     For ye have not received the spirit of bondage again to fear; but ye have received the Spirit of adoption, whereby we cry, Abba, Father.

16     The Spirit itself beareth witness with our spirit, that we are the children of God:

17     And if children, then heirs; heirs of God, and joint-heirs with Christ;



سائنس اور صح


1 . ۔ 591 : 16 (عقل)۔ 19 (تا؛)

عقل۔ واحد مَیں، یا ہم؛ واحد روح، ہستی، الٰہی اصول، اصل، زندگی، حق، محبت؛ خدائے واحد، وہ نہیں جو انسان میں ہے، بلکہ الٰہی اصول یا خدا، انسان جس کا مکمل اور کامل اظہار ہے،

1. 591 : 16 (Mind)-19 (to ;)

Mind. The only I, or Us; the only Spirit, Soul, divine Principle, substance, Life, Truth, Love; the one God; not that which is in man, but the divine Principle, or God, of whom man is the full and perfect expression;

2 . ۔ 256: 3۔ 23

لامحدود عقل خالق ہے، اور تخلیق اس عقل سے نکلنے والی لامحدود شبیہ یا خیال ہے۔اگر عقل تمام چیزوں کا باطن اور ظاہر ہے، تو پھر سب کچھ عقل ہی ہے؛ اور یہ تعریف سائنسی ہے۔

2. 256 : 32-3

Infinite Mind is the creator, and creation is the infinite image or idea emanating from this Mind. If Mind is within and without all things, then all is Mind; and this definition is scientific.

3 . ۔ 302: 19۔ 24

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

3. 302 : 19-24

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

4 . ۔ 507: 8۔ 15

روح کی کائنات الٰہی اصول یا زندگی کی تخلیقی قوت کی عکاسی کرتی ہے جو عقل کی کثیر اشکال کو دوبارہ جنم دیتی اور مشترکہ تصوریعنی انسان کے اجماع پر حکمرانی کرتی ہے۔درخت اور جڑی بوٹی خود کی کسی افزائشی قوت کی وجہ سے پھل پیدا نہیں کرتے، بلکہ عقل کی وجہ سے جس میں سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ایک مادی دنیا فانی عقل اور انسان ایک خالق کے معنی پیش کرتے ہیں۔سائنسی الٰہی تخلیق فانی عقل اور کائنات کو خدا کی تخلیق کردہ ظاہر کرتی ہے۔

لا متناہی عقل ابدیت کے ذہنی مالیکیول کی طرف سے سب کو خلق کرتی اور اْن پر حکومت کرتی ہے۔ سب کا یہ الٰہی اصول اْس کی تخلیق کی پوری سائنس اور آرٹ اور انسان اور کائنات کی لافانیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تخلیق ہمیشہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور اسے اپنے لازوال ذرائع کی فطرت کے باعث ظاہر ہونا جاری رکھنا چاہئے۔ بشری فہم اس ظہور کو الٹ کر دیتا ہے اور خیالات کو مادی کہتا ہے۔ لہٰذہ غلط تشریح کے ساتھ الٰہی خیال انسانی یا مادی عقیدے کے معیار تک گرتا دکھائی دیتا ہے، جسے مادی انسان کہا جاتا ہے۔لیکن بیج اس کے اندر ہی ہے،محض ایسے ہی جیسے الٰہی عقل سب کچھ ہے اور سب کچھ پیدا کرتی ہے، جیسے عقل کثیر کرنے والی ہے، اورعقل کا لامتناہی خیال، انسان اور کائنات پیداوار ہے۔ واحد ذہانت یا سوچ کا مواد، ایک بیج یا ایک پھول خدا ہے، جو اس کا خالق ہے۔عقل سب کی روح ہے۔ عقل وہ زندگی، سچائی اور محبت ہے جو سب پر حکومت کرتی ہے۔

4. 507 : 15-8

The universe of Spirit reflects the creative power of the divine Principle, or Life, which reproduces the multitudinous forms of Mind and governs the multiplication of the compound idea man. The tree and herb do not yield fruit because of any propagating power of their own, but because they reflect the Mind which includes all. A material world implies a mortal mind and man a creator. The scientific divine creation declares immortal Mind and the universe created by God.

Infinite Mind creates and governs all, from the mental molecule to infinity. This divine Principle of all expresses Science and art throughout His creation, and the immortality of man and the universe. Creation is ever appearing, and must ever continue to appear from the nature of its inexhaustible source. Mortal sense inverts this appearing and calls ideas material. Thus misinterpreted, the divine idea seems to fall to the level of a human or material belief, called mortal man. But the seed is in itself, only as the divine Mind is All and reproduces all — as Mind is the multiplier, and Mind's infinite idea, man and the universe, is the product. The only intelligence or substance of a thought, a seed, or a flower is God, the creator of it. Mind is the Soul of all. Mind is Life, Truth, and Love which governs all.

5 . ۔ 204: 23۔ 29

جھوٹے اور خود پسندانہ خیالات نے گناہگاروں کو یہ سوچ دی ہے کہ وہ ایسی چیز پیدا کر سکتے ہیں جو خدا نہیں کر سکتا، یعنی وہ، الٰہی عقل کے سایے اور شبیہ کی اصل فطرت کے نام پر قبضہ کرتے ہوئے، خدا کی شبیہ پر گناہگار بشر ہیں۔

5. 204 : 23-29

False and self-assertive theories have given sinners the notion that they can create what God cannot, — namely, sinful mortals in God's image, thus usurping the name without the nature of the image or reflection of divine Mind; but in Science it can never be said that man has a mind of his own, distinct from God, the all Mind.

6 . ۔ 216: 11۔ 18

یہ فہم کہ انا عقل ہے، اور یہ کہ ماسوائے ایک عقل یا ذہانت کے اور کچھ نہیں، فانی حس کی غلطیوں کو تباہ کرنے اور فانی حس کی سچائی کی فراہمی کے لئے ایک دم شروع ہو جاتا ہے۔یہ فہم بدن کو ہم آہنگ بناتا ہے؛ یہ ا عصاب، ہڈیوں، دماغ وغیرہ کو غلام بناتا ہے نہ کہ مالک بناتا ہے۔ اگر انسان پر الٰہی عقل کے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، تو اْس کا بدن ہمیشہ کی زندگی اور سچائی اور محبت کے سپرد ہے۔

6. 216 : 11-18

The understanding that the Ego is Mind, and that there is but one Mind or intelligence, begins at once to destroy the errors of mortal sense and to supply the truth of immortal sense. This understanding makes the body harmonious; it makes the nerves, bones, brain, etc., servants, instead of masters. If man is governed by the law of divine Mind, his body is in submission to everlasting Life and Truth and Love.

7 . ۔ 151: 20۔ 30

حقیقی انسان کا ہر عمل الٰہی فہم کی نگرانی میں ہے۔ انسانی سوچ قتل کرنے یا علاج کرنے کی کوئی قوت نہیں رکھتی، اور اس کا خدا کے بشر پر کوئی قابو نہیں ہے۔الٰہی عقل جس نے انسان کو بنایا خود کی صورت اور شبیہ کو قائم رکھتی ہے۔ انسانی عقل خدا کی مخالف ہے اور اسے ملتوی ہونا چاہئے جیسا کہ مقدس پولوس واضح کرتا ہے۔ وہ سب جو در حقیقت موجود ہے وہ الٰہی عقل اور اس کا خیال ہے، اور اس عقل میں تمام ہستی ہم آہنگ اور ابدی پائی جاتی ہے۔سیدھا اور تنگ راستہ اس حقیقت کو دیکھنا اور تسلیم کرنا، اس طاقت کو ماننا اور سچائی کی راہنمائی پر چلنا ہے۔

7. 151 : 20-30

Every function of the real man is governed by the divine Mind. The human mind has no power to kill or to cure, and it has no control over God's man. The divine Mind that made man maintains His own image and likeness. The human mind is opposed to God and must be put off, as St. Paul declares. All that really exists is the divine Mind and its idea, and in this Mind the entire being is found harmonious and eternal. The straight and narrow way is to see and acknowledge this fact, yield to this power, and follow the leadings of truth.

8 . ۔ 234: 3۔ 31

برے خیالات اور ارادے کسی شخص کے ایمان کی اجازت سے زیادہ آگے نہیں جاتے اور نہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر فضیلت اور سچائی مضبوط دفاع قائم کریں تو برے خیالات، شہوت اور بدخواہی پر مبنی مقاصد آگے نہیں بڑھ سکتے، اور منتشر ہونے والے زردانوں کی مانند ایک انسانی ذہن سے دوسرے میں غیر متوقع مسکن کی تلاش میں نہیں رہتے۔

8. 234 : 31-3

Evil thoughts and aims reach no farther and do no more harm than one's belief permits. Evil thoughts, lusts, and malicious purposes cannot go forth, like wandering pollen, from one human mind to another, finding unsuspected lodgment, if virtue and truth build a strong defence.

9 . ۔ 180: 25۔ 30

جب خدا، ازلی فہم جو سب باتیں سمجھتا ہے، انسان پر حکومت کرتا ہے تو انسان جانتا ہے کہ خدا کے لئے سب کچھ ممکن ہے۔ اِس زندہ سچائی کو جاننے کا واحد راستہ، جو بیمار کو شفا دیتی ہے، الٰہی فہم کی سائنس میں پایا جاتا ہے کیونکہ یہ مسیح یسوع کے وسیلہ سے سکھائی گئی اور ظاہر ہوئی۔

9. 180 : 25-30

When man is governed by God, the ever-present Mind who understands all things, man knows that with God all things are possible. The only way to this living Truth, which heals the sick, is found in the Science of divine Mind as taught and demonstrated by Christ Jesus.

10 . ۔ 143: 5۔ 26

عقل ہی سب سے بڑا خالق ہے، اور ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جو عقل سے اخذ نہ کی گئی ہو۔اگر عقل تاریخی طور پر پہلے تھی، طاقت کے اعتبار سے بھی پہلے ہے، ابدیت کے لحاظ سے بھی پہلے ہے، تو اْس کے پاک نام کے موافق عقل کو جلال، عزت، اقتدار اور طاقت دیں۔کمتر یا غیر روحانی شفائیہ طریقہ کار عقل اور دوائی کو یکجا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن یہ دونوں سائنسی طور پر یکجا نہیں ہوں گے۔ہم اِن دونوں کے ساتھ ایسا کیوں کرنا چاہیں گے، جبکہ اس میں سے کوئی اچھائی نہیں نکلے گی؟

اگر عقل سب سے پہلے اور برتر ہے،تو آئیے ہم عقل پر انحصار کرتے ہیں،جسے نِچلی طاقتوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔ چاہے یہ نام نہاد طاقتیں حقیقی ہوں۔

10. 143 : 26-5

Mind is the grand creator, and there can be no power except that which is derived from Mind. If Mind was first chronologically, is first potentially, and must be first eternally, then give to Mind the glory, honor, dominion, and power everlastingly due its holy name. Inferior and unspiritual methods of healing may try to make Mind and drugs coalesce, but the two will not mingle scientifically. Why should we wish to make them do so, since no good can come of it?

If Mind is foremost and superior, let us rely upon Mind, which needs no cooperation from lower powers, even if these so-called powers are real.

11 . ۔ 231: 2۔ 30

انسان، اپنے خالق کی حکمرانی میں، کسی اور عقل کی تابعداری نہ کرتے ہوئے، کسی مبشر کے اِس بیان پر قائم رہتے ہوئے کہ،”سب چیزیں اْس ]خدا کے کلام[کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں؛ اور جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز اْس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی“، وہ گناہ، بیماری اور موت پر فتح پا سکتا ہے۔

11. 231 : 30-2

Man, governed by his Maker, having no other Mind, — planted on the Evangelist's statement that "all things were made by Him [the Word of God]; and without Him was not anything made that was made," — can triumph over sin, sickness, and death.

12 . ۔ 191: 4۔ 13

جب بشر اِس وہم کو ترک کردیتے ہیں کہ عقل ایک سے زیادہ ہے، خدا ایک سے زیادہ ہے، تو انسان خدا کی شبیہ میں سامنے آئے گا، اور یہ ابدی انسان اِ س شبیہ میں کوئی مادی عنصر شامل نہیں کرے گا۔

بطور مادا، نظریاتی زندگی کی بنیاد وجودیت کی غلط فہمی سمجھی گئی ہے، یعنی انسان کا وہ روحانی اور الٰہی اصول جو انسانی سوچ پر نازل ہوتا ہے اور اِسے وہاں لے جاتا ہے ”جہاں چھوٹا بچہ تھا،“ حتیٰ کہ جدید پرانے خیال کی پیدائش پر ہستی کے روحانی فہم اوروہاں تک جسے زندگی میں شامل کیا گیا ہو۔

12. 191 : 4-13

As mortals give up the delusion that there is more than one Mind, more than one God, man in God's likeness will appear, and this eternal man will include in that likeness no material element.

As a material, theoretical life-basis is found to be a misapprehension of existence, the spiritual and divine Principle of man dawns upon human thought, and leads it to "where the young child was," — even to the birth of a new-old idea, to the spiritual sense of being and of what Life includes.

13 . ۔ 276: 1۔ 11

ایک خدا، ایک عقل کو ماننا اْس قوت کو ایاں کرتا ہے جو بیمار کو شفا دیتی اور کلام کے ان اقوال کو پورا کرتی ہے کہ، ”مَیں خداوند تیرا شافی ہوں“ اور ”مجھے فدیہ مل گیا ہے۔“جب الٰہی احکامات کو سمجھ لیا جاتا ہے تو وہ شراکت کی اْس بنیاد کو ایاں کرتے ہیں جس میں ایک عقل دوسری کے ساتھ جنگ نہیں کرتی، بلکہ سب میں ایک روح، خدا، ایک ذہین وسیلہ ہوتا ہے، جو کلام کے اِس حکم سے مطابقت رکھتا ہے کہ: ”ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح کا تھا۔“انسان اور اْس کا خالق الٰہی سائنس میں باہمی شراکت رکھتے ہیں، اور حقیقی شعور صرف خدا کی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

13. 276 : 1-11

Having one God, one Mind, unfolds the power that heals the sick, and fulfils these sayings of Scripture, "I am the Lord that healeth thee," and "I have found a ransom." When the divine precepts are understood, they unfold the foundation of fellowship, in which one mind is not at war with another, but all have one Spirit, God, one intelligent source, in accordance with the Scriptural command: "Let this Mind be in you, which was also in Christ Jesus." Man and his Maker are correlated in divine Science, and real consciousness is cognizant only of the things of God.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔