اتوار 6 ستمبر، 2026



مضمون۔ انسان

SubjectMan

سنہری متن: متی 26 باب 41 آیت

جاگو اور دعا کروتاکہ آزمائش میں نہ پڑو۔



Golden Text: Matthew 26 : 41

Watch and pray, that ye enter not into temptation.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں



جوابی مطالعہ: زبور 8 باب 1، 3 تا 6 آیات


1۔ اے خداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تْو نے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا۔

3۔ جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تْو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔

4۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تْو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تْو اْس کی خبر لے؟

5۔ کیونکہ تْو نے اْسے خدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اْسے تاجدار کرتا ہے۔

6۔ تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔

Responsive Reading: Psalm 8 : 1, 3-6

1.     O Lord our Lord, how excellent is thy name in all the earth! who hast set thy glory above the heavens.

3.     When I consider thy heavens, the work of thy fingers, the moon and the stars, which thou hast ordained;

4.     What is man, that thou art mindful of him? and the son of man, that thou visitest him?

5.     For thou hast made him a little lower than the angels, and hast crowned him with glory and honour.

6.     Thou madest him to have dominion over the works of thy hands; thou hast put all things under his feet.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ یعقوب 1 باب 2 تا 4، 8، 12 تا 14 آیات

2۔اے میرے بھائیو! جب تم طرح طرح کی آزمائشوں میں پڑو۔

3۔ تو اِس کو یہ جان کر کمال خوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے۔

4۔ اور صبر کو اپنا پورا کام کرنے دو تاکہ تم پورے اور کامل ہو جاؤ اور تم میں کسی بات کی کمی نہ رہے۔

8۔ وہ شخص دودلا ہے اور اپنی سب باتوں میں بے قیام ہے۔

12۔ مبارک ہے وہ شخص جو آزمائش کی برداشت کرتا ہے کیونکہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ حاصل کرے گا جس کا خداوند نے اپنے محبت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے۔

13۔ جب کوئی آزمایا جائے تو یہ نہ کہے کہ میری آزمائش خدا کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے۔

14۔ ہاں ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔

1. James 1 : 2-4, 8, 12-14

2     My brethren, count it all joy when ye fall into divers temptations;

3     Knowing this, that the trying of your faith worketh patience.

4     But let patience have her perfect work, that ye may be perfect and entire, wanting nothing.

8     A double minded man is unstable in all his ways.

12     Blessed is the man that endureth temptation: for when he is tried, he shall receive the crown of life, which the Lord hath promised to them that love him.

13     Let no man say when he is tempted, I am tempted of God: for God cannot be tempted with evil, neither tempteth he any man:

14     But every man is tempted, when he is drawn away of his own lust, and enticed.

2 . ۔ 1 کرنتھیوں 10 باب 13 آیت

13۔ تم کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑے جو انسان کی برداشت سے باہر ہواور خدا سچا ہے۔وہ تم کو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمائش میں نہ پڑنے دے گا بلکہ آزمائش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کرے گا تاکہ تم برداشت کر سکو۔

2. I Corinthians 10 : 13

13     There hath no temptation taken you but such as is common to man: but God is faithful, who will not suffer you to be tempted above that ye are able; but will with the temptation also make a way to escape, that ye may be able to bear it.

3 . ۔ پیدائش 39 باب 1 تا 12 آیات

1۔ اور یوسف کو مصر میں لائے اور فوطیفار مصری نے جو فرعون کا ایک حاکم اور جلوداروں کا سردار تھا اْس کو اسمعٰیلیوں کے ہاتھ سے جو اْسے وہاں لے گئے تھے خرید لیا۔

2۔ اور خداوند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ اقبالمند ہوا اور اپنے مصری آقا کے گھرمیں رہتا تھا۔

3۔اور اْس کے آقا نے دیکھا کہ خداوند اْس کے ساتھ ہے اور جس کام کو وہ ہاتھ لگاتا ہے خداوند اْس میں اْسے ا قبالمند کرتا ہے۔

4۔ چنانچہ یوسف اْسکی نظر میں مقبول ٹھہرا اور وہی اْس کی خدمت کرتا تھا اور اْس نے اْسے اپنے گھر کا مختار بنا کر سب کچھ اْسے سونپ دیا۔

5۔ اور جب اْس نے اْسے گھر کا اور سارے مال کا مختار بنایا تو خداوند نے اْس مصری کے گھر میں یوسف کی خاطر برکت بخشی اور اْس کی سب چیزوں پر جو گھر میں اور کھیت میں تھیں خداوند کی برکت ہونے لگی۔

6۔ اور اْس نے اپنا سب کچھ یوسف کے ہاتھ میں چھوڑدیا اور سِوا روٹی کے جسے وہ کھا لیتا اْسے اپنی کسی چیز کا ہوش نہ تھا اور یوسف خوب

صورت اور حسین تھا۔

7۔ اِن باتوں کے بعد ایسا ہوا کہ اْس کے آقا کی بیوی کی آنکھ یوسف پر لگی اور اْس نے اْس سے کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو۔

8۔ لیکن اْس نے انکار کیا۔

9۔ اس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں اور اْس نے تیرے سوا کوئی چیز مجھ سے باز نہیں رکھی کیونکہ تو اْس کی بیوی ہے سو بھلا میں کیوں ایسی بری بدی کروں اور خدا کا گنہگار ہوں؟

10۔ اور وہ چند روز یوسف کے سر ہوتی رہی پر اْس نے اْس کی بات نہ مانی کہ اْس سے ہم بستر ہونے کے لئے اْس کے ساتھ لیٹے۔

11۔ اور ایک دن یوں ہوا کہ وہ اپنا کام کرنے کے لئے گھر میں گیااور گھر کے آدمیوں میں سے کوئی بھی اندر نہ تھا۔

12۔ تب اْس عورت نے اْس کا پیراہن پکڑ کر کہا میرے ساتھ ہم بستر ہو۔ وہ اپنا پیراہن اْس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔

3. Genesis 39 : 1-12

1     And Joseph was brought down to Egypt; and Potiphar, an officer of Pharaoh, captain of the guard, an Egyptian, bought him of the hands of the Ishmeelites, which had brought him down thither.

2     And the Lord was with Joseph, and he was a prosperous man; and he was in the house of his master the Egyptian.

3     And his master saw that the Lord was with him, and that the Lord made all that he did to prosper in his hand.

4     And Joseph found grace in his sight, and he served him: and he made him overseer over his house, and all that he had he put into his hand.

5     And it came to pass from the time that he had made him overseer in his house, and over all that he had, that the Lord blessed the Egyptian’s house for Joseph’s sake; and the blessing of the Lord was upon all that he had in the house, and in the field.

6     And he left all that he had in Joseph’s hand; and he knew not ought he had, save the bread which he did eat. And Joseph was a goodly person, and well favoured.

7     And it came to pass after these things, that his master’s wife cast her eyes upon Joseph; and she said, Lie with me.

8     But he refused, and said unto his master’s wife, Behold, my master wotteth not what is with me in the house, and he hath committed all that he hath to my hand;

9     There is none greater in this house than I; neither hath he kept back any thing from me but thee, because thou art his wife: how then can I do this great wickedness, and sin against God?

10     And it came to pass, as she spake to Joseph day by day, that he hearkened not unto her, to lie by her, or to be with her.

11     And it came to pass about this time, that Joseph went into the house to do his business; and there was none of the men of the house there within.

12     And she caught him by his garment, saying, Lie with me: and he left his garment in her hand, and fled, and got him out.

4 . ۔ 1 یوحنا 5 باب 18 تا 21 آیات

18۔ ہم جانتے ہیں کہ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ گناہ نہیں کرتا بلکہ اُس کی حفاظت وہ کرتا ہے جو خدا سے پیدا ہواا اور وہ شریر اسے چھونے نہیں پاتا۔

19۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا سے ہیں اور ساری دنیا اْس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔

20۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اْس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اْس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اْس میں جو حقیقی ہے یعنی اْس کے بیٹے خداوند یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا او رہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔

21۔ اے بچو! اپنے آپ کو بتوں سے بچائے رکھو۔

4. I John 5 : 18-21

18     We know that whosoever is born of God sinneth not; but he that is begotten of God keepeth himself, and that wicked one toucheth him not.

19     And we know that we are of God, and the whole world lieth in wickedness.

20     And we know that the Son of God is come, and hath given us an understanding, that we may know him that is true, and we are in him that is true, even in his Son Jesus Christ. This is the true God, and eternal life.

21     Little children, keep yourselves from idols. Amen.

5 . ۔ متی 3 باب 16، 17 آیات

16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اْس کے لئے آسمان کھل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اْترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔

17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں۔

5. Matthew 3 : 16, 17

16     And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:

17     And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.

6 . ۔ متی 4 باب 1 تا 11 آیات

1۔ اْس وقت روح یسوع کو جنگل میں لے گیا تاکہ ابلیس سے آزمایا جائے۔

2۔ اور چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اْسے بھوک لگی۔

3۔ اور آزمانے والے نے پاس آکر اْس سے کہا اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتھر روٹیاں بن جائیں۔

4۔ اْس نے جواب میں کہا کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔

5۔ تب ابلیس اْسے مقدس شہر میں لے گیا اور ہیکل کے کنگرے پر کھڑا کر کے اْس سے کہا

6۔ اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو اپنے تائیں نیچے گرادے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا اور وہ تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔

7۔ یسوع نے اْس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا کی آزمائش نہ کر۔

8۔ پھر ابلیس اْسے ایک بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی سب سلطنتیں اور سب شان و شوکت اْسے دکھائیں۔

9۔ اور اْسے کہا اگر تْو جھْک کر مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دوں گا۔

10۔ یسوع نے اْس سے کہا اے شیطان دور ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور صرف اْسی کی عبادت کر۔

11۔ تب ابلیس اْس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آکر اْس کی خدمت کرنے لگے۔

6. Matthew 4 : 1-11

1     Then was Jesus led up of the Spirit into the wilderness to be tempted of the devil.

2     And when he had fasted forty days and forty nights, he was afterward an hungred.

3     And when the tempter came to him, he said, If thou be the Son of God, command that these stones be made bread.

4     But he answered and said, It is written, Man shall not live by bread alone, but by every word that proceedeth out of the mouth of God.

5     Then the devil taketh him up into the holy city, and setteth him on a pinnacle of the temple,

6     And saith unto him, If thou be the Son of God, cast thyself down: for it is written, He shall give his angels charge concerning thee: and in their hands they shall bear thee up, lest at any time thou dash thy foot against a stone.

7     Jesus said unto him, It is written again, Thou shalt not tempt the Lord thy God.

8     Again, the devil taketh him up into an exceeding high mountain, and sheweth him all the kingdoms of the world, and the glory of them;

9     And saith unto him, All these things will I give thee, if thou wilt fall down and worship me.

10     Then saith Jesus unto him, Get thee hence, Satan: for it is written, Thou shalt worship the Lord thy God, and him only shalt thou serve.

11     Then the devil leaveth him, and, behold, angels came and ministered unto him.

7 . ۔ متی 5 باب 1، 2 آیات

1۔وہ اْس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان ہوکر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

7. Matthew 5 : 1, 2

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

8 . ۔ متی 6 باب 9(تا؛)، 13 آیات

9۔ پس تم اِس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ تْو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک مانا جائے۔

13۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ برائی سے بچا۔کیونکہ بادشاہی اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین۔

8. Matthew 6 : 9 (to :), 13

9     After this manner therefore pray ye:

13     And lead us not into temptation, but deliver us from evil: For thine is the kingdom, and the power, and the glory, for ever. Amen.



سائنس اور صح


1 . ۔ 470: 23۔ 24

انسان خدا کی ہستی کا ظہور ہے۔

1. 470 : 23-24

Man is the expression of God's being.

2 . ۔ 475: 28(دی)۔ 31

حقیقی انسان پاکیزگی سے الگ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خدا، جس سے انسان نشوونما پاتا ہے، گناہ کے خلاف قوت یا آزادی پیدا کرسکتا ہے۔

2. 475 : 28 (The)-31

The real man cannot depart from holiness, nor can God, by whom man is evolved, engender the capacity or freedom to sin.

3 . ۔ 387: 27۔ 32

مسیحت کی تاریخ اْس آسمانی باپ، قادرِمطلق فہم، کے عطا کردہ معاون اثرات اور حفاظتی قوت کے شاندار ثبوتوں کو مہیا کرتی ہے جو انسان کو ایمان اور سمجھ مہیا کرتا ہے جس سے وہ خود کو بچا سکتا ہے نہ صرف آزمائش سے بلکہ جسمانی دْکھوں سے بھی۔

3. 387 : 27-32

The history of Christianity furnishes sublime proofs of the supporting influence and protecting power bestowed on man by his heavenly Father, omnipotent Mind, who gives man faith and understanding whereby to defend himself, not only from temptation, but from bodily suffering.

4 . ۔ 192: 17۔ 31

اخلاقی اور روحانی شاید روح سے تعلق رکھتے ہیں، جو ”ہوا کو اپنی مٹھی“ میں جمع کر لیتا ہے؛ اور یہ تعلیم سائنس اور ہم آہنگی کے ساتھ یکجا ہوتی ہے۔ سائنس میں، خدا کے مخالف آپ کوئی قوت نہیں رکھ سکتے، اور جسمانی احساسات کو ان کی جھوٹی گواہی سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ نیکی کے لئے آپ کے رسوخ کا انحصار اس وزن پر ہے جو آپ درست سکیل پر ڈالتے ہیں۔ جو نیکی آپ کرتے ہیں اور ظاہری جسم آپ کو محض قابلِ حصول قوت فراہم کرتے ہیں۔ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔ یہ طاقت کا تمسخر ہے جوجلد ہی اپنی کمزوری کو دھوکہ دیتا اور کبھی نہ اٹھنے کے لئے گر جاتا ہے۔

الٰہی مابعد الطبیعات کے فہم میں ہم ہمارے مالک کے نمونے کی پیروی کرتے ہوئے محبت اور سچائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔مسیحت حقیقی شفا کی بنیاد ہے۔بے لوث محبت کے معاملے میں انسانی سوچ جو کچھ بھی اپناتی ہے وہ براہ راست الٰہی قوت پا لیتی ہے۔

4. 192 : 17-31

Moral and spiritual might belong to Spirit, who holds the "wind in His fists;" and this teaching accords with Science and harmony. In Science, you can have no power opposed to God, and the physical senses must give up their false testimony. Your influence for good depends upon the weight you throw into the right scale. The good you do and embody gives you the only power obtainable. Evil is not power. It is a mockery of strength, which erelong betrays its weakness and falls, never to rise.

We walk in the footsteps of Truth and Love by following the example of our Master in the understanding of divine metaphysics. Christianity is the basis of true healing. Whatever holds human thought in line with unselfed love, receives directly the divine power.

5 . ۔ 170 :8۔ 28 (تا چوتھی)

انسان سے متعلق تفصیل بطور خالصتاً جسمانی، یا بطور دونوں مادی اور روحانی، مگر کسی بھی صورت میں اْس کی جسمانی بناوٹ پرانحصار کرتے ہوئے، ایک ایسا پینڈورا بکس ہے، جس میں سے ساری بیماریاں، خصوصاً پریشانی، نکل چْکی ہیں۔مادہ جو خود اپنے ہاتھوں میں اپنی طاقت رکھتا ہے اور ایک خالق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں ایسے معاشرے کی طرف سے غیر قومیت اور شہوت کو بہت توثیق ملتی ہے جس میں انسانیت اپنے اخلاقی مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔

مادیت کے روحانی مخالف کی فراست کے وسیلہ، حتیٰ کہ مسیح، سچائی کے وسیلہ، انسان بہشت کے دروازوں کو الٰہی سائنس کی چابیوں سے دوبارہ کھولے گا جن سے متعلق انسان سمجھتا ہے کہ وہ بند ہو چکے ہیں، اور خود کو بے گناہ، راست، پاک اور آزاد پائے گا۔

5. 170 : 28-8 (to 4th ,)

The description of man as purely physical, or as both material and spiritual, — but in either case dependent upon his physical organization, — is the Pandora box, from which all ills have gone forth, especially despair. Matter, which takes divine power into its own hands and claims to be a creator, is a fiction, in which paganism and lust are so sanctioned by society that mankind has caught their moral contagion.

Through discernment of the spiritual opposite of materiality, even the way through Christ, Truth, man will reopen with the key of divine Science the gates of Paradise which human beliefs have closed, and will find himself unfallen, upright, pure, and free,

6 . ۔ 67: 18۔ 24

جب ہم یہ یاد کرتے ہیں کہ روحانی عروج کے وسیلہ ہمارے خداوند یا مالک نے بیمار کو شفا دی، مردے کو زندہ کیا اور حتیٰ کہ ہواؤں اور لہروں کو اْس کی تابعداری کرنے کا حکم دیا تویہ عام تصور کہ حیوانی فطرت کسی کردار کو قوت فراہم کر سکتی ہے نہایت مضحکہ خیز ہے۔فضل اور سچائی دیگر سبھی ذرائع اور طریقہ کاروں سے زیادہ قوی ہیں۔

6. 67 : 18-24

The notion that animal natures can possibly give force to character is too absurd for consideration, when we remember that through spiritual ascendency our Lord and Master healed the sick, raised the dead, and commanded even the winds and waves to obey him. Grace and Truth are potent beyond all other means and methods.

7 . ۔ 234 :3۔ 25

گناہ اور بیماری پر اِن کے اظہار سے قبل توجہ دی جانی چاہئے۔آپ کو چاہئے کہ برے خیالات کو پہلی فرصت میں قابو کر لیں، ورنہ دوسری مرتبہ یہ آپ کو قابو کر لیں گے۔ یسوع نے واضح کیا تھا کہ ممنوع چیزوں کا لالچ کرنا ایک اخلاقی حکم کو توڑنا تھا۔ اْس نے انسانی عقل کے اْس عمل پر بہت زور دیاجو حواس کے لئے غیبی ہو۔

برے خیالات اور ارادے کسی شخص کے ایمان کی اجازت سے زیادہ آگے نہیں جاتے اور نہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر فضیلت اور سچائی مضبوط دفاع قائم کریں تو برے خیالات، شہوت اور بدخواہی پر مبنی مقاصد آگے نہیں بڑھ سکتے، اور منتشر ہونے والے زدانوں کی مانند ایک انسانی ذہن سے دوسرے میں غیر متوقع مسکن کی تلاش میں نہیں رہتے۔

7. 234 : 25-3

Sin and disease must be thought before they can be manifested. You must control evil thoughts in the first instance, or they will control you in the second. Jesus declared that to look with desire on forbidden objects was to break a moral precept. He laid great stress on the action of the human mind, unseen to the senses.

Evil thoughts and aims reach no farther and do no more harm than one's belief permits. Evil thoughts, lusts, and malicious purposes cannot go forth, like wandering pollen, from one human mind to another, finding unsuspected lodgment, if virtue and truth build a strong defence.

8 . ۔ 56: 3۔ 15

شادی کے عہد سے بے وفائی نسلِ انسانی میں معاشرتی لعنت بن چکی ہے، ”وہ وبا جو اندھیرے میں چلتی ہے،۔۔۔وہ ہلاکت جو دوپہر کو ویران کرتی ہے۔“ یہ حکم کہ ”تو زنا نہ کر“ اِس حکم سے کم ناگزیر نہیں ہے کہ ”تو خون نہ کر“۔

پاک دامنی تہذیب اور ترقی کا سیمنٹ ہے۔ اِس کے بغیر معاشرے میں استحکام نہیں اور اِس کے بغیر کوئی شخص زندگی کی سائنس نہیں پا سکتا۔

8. 56 : 15-3

Infidelity to the marriage covenant is the social scourge of all races, "the pestilence that walketh in darkness, ... the destruction that wasteth at noonday." The commandment, "Thou shalt not commit adultery," is no less imperative than the one, "Thou shalt not kill."

Chastity is the cement of civilization and progress. Without it there is no stability in society, and without it one cannot attain the Science of Life.

9 . ۔ 407: 6۔ 16

انسان کی نہایت ہمدردی، خودغرضی، حسد، نفرت اور بدلے جیسے بے رحم آقاؤں کے ہاتھوں غلامی کو محض ایک مضبوط جدوجہد سے ہی فتح کیا جا تا ہے۔ تاخیر کا ہر لمحہ اس جدوجہد کو اور شدید بنا دیتا ہے۔ اگر انسان احساسات پر فتح مند نہیں ہوتا، تو وہ خوشی، صحت اور مردانگی کو کچل دیتے ہیں۔یہاں بشری عقل کی کمزوری کو طاقت مہیا کرتے ہوئے، یعنی وہ طاقت جو لافانی اور قادر مطلق عقل سے ملتی ہے، اور انسانیت کو پاکیزہ ترین خواہشات میں، حتیٰ کہ روحانی طاقت اور انسان کے لئے خیر سگالی میں بھی، خود سے بلند درجہ دیتے ہوئے کرسچن سائنس خود مختار اکسیرِ اعظم ہے۔

9. 407 : 6-16

Man's enslavement to the most relentless masters — passion, selfishness, envy, hatred, and revenge — is conquered only by a mighty struggle. Every hour of delay makes the struggle more severe. If man is not victorious over the passions, they crush out happiness, health, and manhood. Here Christian Science is the sovereign panacea, giving strength to the weakness of mortal mind, — strength from the immortal and omnipotent Mind, — and lifting humanity above itself into purer desires, even into spiritual power and good-will to man.

10 . ۔ 404: 17۔ 28

معتدل اصلاح، جسے ہماری پوری دھرتی پر محسوس کیا گیا ہے، مابعد الطبعیاتی شفا کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے،جو ہر اْس درخت کو کاٹ پھینکتی ہے جو اچھا پھل نہیں لاتا۔ یہ احساس کہ گناہ میں حقیقی خوشی نہیں ہے، کرسچن سائنس کی الٰہیات کے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہے۔ گناہ کے اس نئے اور حقیقی منظر کو گناہگار پر اجاگر کریں، اْس پر ظاہر کریں کہ گناہ کوئی اطمینان نہیں بخشتا، اور یہ علم اْس کی اخلاقی ہمت کو مضبوط کرتا ہے اور بدی پر فتح پانے اور اچھائی سے محبت کرنے کی اْس کی قابلیت کو فروغ دیتا ہے۔

بیمار کو شفا دینا اور گناہگار کی اصلاح کرنا کرسچن سائنس میں ایک ہی بات ہے۔دونوں شفاؤں کے لئے ایک ہی طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے اور دونوں سچائی میں غیر مْنفک ہیں۔

10. 404 : 17-28

The temperance reform, felt all over our land, results from metaphysical healing, which cuts down every tree that brings not forth good fruit. This conviction, that there is no real pleasure in sin, is one of the most important points in the theology of Christian Science. Arouse the sinner to this new and true view of sin, show him that sin confers no pleasure, and this knowledge strengthens his moral courage and increases his ability to master evil and to love good.

Healing the sick and reforming the sinner are one and the same thing in Christian Science. Both cures require the same method and are inseparable in Truth.

11 . ۔ 327: 3۔ 23

غلط کے ساتھ ملنے اور درست کی تشہیر کرنے کے لئے اخلاقی جراٗت کی ضرورت ہے۔ لیکن ہم اس انسان کی اصلاح کیسے کریں گے جس میں اخلاقی حوصلے سے زیادہ حیوانی حوصلہ ہے، اور جسے اچھائی کا حقیقی تصور تک نہیں؟ انسانی شعور کے وسیلہ سے، مادے کی تلاش میں اس کی غلطی کی فانیت کو قائل کرنے سے مراد شادمانی حاصل کرنا ہے۔ وجہ سب سے زیادہ فاعل انسانی ذہنی صلاحیت ہے۔ اسے جذبات کو آگاہ کرنے دیں اور انسان کی اخلاقی ذمہ داری کے ا حساس کو بیدار ہونے دیں، اور درجات کے ذریعے وہ خوشی کے انسانی احساس کے عدم وجود اورروحانی احساس کی عظمت اورفرحت کو سیکھے گا، جو مادی یاجسمانی چیزوں کو خاموش کر دیتی ہے۔پھر وہ نہ صرف نجات یافتہ ہوگا بلکہ وہ نجات یافتہ ہے۔

11. 327 : 23-3

Moral courage is requisite to meet the wrong and to proclaim the right. But how shall we reform the man who has more animal than moral courage, and who has not the true idea of good? Through human consciousness, convince the mortal of his mistake in seeking material means for gaining happiness. Reason is the most active human faculty. Let that inform the sentiments and awaken the man's dormant sense of moral obligation, and by degrees he will learn the nothingness of the pleasures of human sense and the grandeur and bliss of a spiritual sense, which silences the material or corporeal. Then he not only will be saved, but is saved.

12 . ۔ 495: 14۔ 20

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔

12. 495 : 14-20

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not.

13 . ۔ 371: 26۔ 32

انسانیت سائنس اور مسیحت کے وسیلہ فروغ پائے گی۔دوڑ کو تیز کرنے کی ضرورت اس حقیقت کا باپ ہے کہ عقل یہ کر سکتی ہے؛ کیونکہ عقل آلودگی کی بجائے پاکیزگی، کمزوری کی بجائے طاقت، اور بیماری کی بجائے صحتمندی بخش سکتی ہے۔ یہ پورے نظام میں قابل تبدیل ہے، اور اسے ”ہر ذرے تک“ بنا سکتی ہے۔

13. 371 : 26-32

Mankind will improve through Science and Christianity. The necessity for uplifting the race is father to the fact that Mind can do it; for Mind can impart purity instead of impurity, strength instead of weakness, and health instead of disease. Truth is an alterative in the entire system, and can make it "every whit whole."

14 . ۔ 17: 8۔ 15

اور ہمیں آزمائش نہ پڑنے دے بلکہ برائی سے بچا؛

اور خدا ہمیں آزمائش میں نہیں ڈالتا، بلکہ ہمیں گناہ، بیماری اور موت سے بچاتا ہے۔

کیونکہ بادشاہت، قدرت اور جلال ہمیشہ تک تیرے ہیں۔

کیونکہ خدا لامحدود، قادر مطلق، بھر پور زندگی، سچائی، محبت، ہر ایک پر اور سب پر حاکم ہے۔

14. 17 : 8-15

And lead us not into temptation, but deliver us from evil;

And God leadeth us not into temptation, but delivereth us from sin, disease, and death.

For Thine is the kingdom, and the power, and the glory, forever.

For God is infinite, all-power, all Life, Truth, Love, over all, and All.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔