اتوار 18 اکتوبر، 2026
دیکھو میں دنیا کے آ خر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔ “ _مسیح یسوع
“Lo, I am with you alway, even unto the end of the world. Amen.”— Christ Jesus
1۔ اے خداوند! تْو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔
2۔ تْو میرا اْٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تْو میرے خیال کو دور سے سمجھ لیتا ہے۔
3۔تْو میرے راستہ کی اور میری خوابگاہ کی چھان بین کرتا ہے۔ اور میری سب روشوں سے واقف ہے۔
4۔ دیکھ! میری زبان پر کوئی ایسی بات نہیں جسے تْو اے خداوند! پورے طور پر نہ جانتا ہو۔
7۔ مَیں تیری روح سے بچ کر کہاں جاؤں۔ یا تیری حضوری سے کدھر بھاگوں؟
8۔ آسمان پر چڑھ جاؤں تو تْو وہاں ہے۔ اگر مَیں پاتال میں بستر بچھاؤں تو دیکھ! تْو وہاں بھی ہے۔
9۔ اگر میں صبح کے پر لگا کر سمندر کی انتہا میں بسوں۔
10۔تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کرے گا۔ اور تیرا داہناہاتھ مجھے سنبھالے گا۔
1. O Lord, thou hast searched me, and known me.
2. Thou knowest my downsitting and mine uprising, thou understandest my thought afar off.
3. Thou compassest my path and my lying down, and art acquainted with all my ways.
4. For there is not a word in my tongue, but, lo, O Lord, thou knowest it altogether.
7. Whither shall I go from thy spirit? or whither shall I flee from thy presence?
8. If I ascend up into heaven, thou art there: if I make my bed in hell, behold, thou art there.
9. If I take the wings of the morning, and dwell in the uttermost parts of the sea;
10. Even there shall thy hand lead me, and thy right hand shall hold me.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
10۔ تْو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراساں نہ ہو کیونکہ مَیں تیرا خدا ہوں مَیں تجھے زور بخشوں گا۔مَیں یقیناً تیری مدد کروں گا اور مَیں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھ سے تجھے سنبھالوں گا۔
10 Fear thou not; for I am with thee: be not dismayed; for I am thy God: I will strengthen thee; yea, I will help thee; yea, I will uphold thee with the right hand of my righteousness.
10۔ اور یعقوب بیر سبح سے نکل کر حاران کی طرف چلا گیا۔
11۔اور ایک جگہ پہنچ کر ساری رات وہیں رہا کیونکہ سورج ڈوب گیا تھا اور اْس نے اْس جگہ کے پتھروں میں سے ایک اْٹھا کر اپنے سرہانے دھر لیا اور اْسی جگہ سونے کو لیٹ گیا۔
12۔اور خواب میں کیا دیکھتا ہے کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے۔ اور اْس کا سِرا آسمان تک پہنچا ہوا ہے اور خدا کے فرشتے اْس پر سے چڑھتے اْترتے ہیں۔
13۔ اور خداوند اْس کے اوپر کھڑا کہہ رہا ہے کہ میں خداوند تیرے باپ ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا ہوں۔ مَیں یہ زمین جس پر تو لیٹا ہے تجھے اور تیری نسل کو دوں گا۔
15۔ اور دیکھ مَیں تیرے ساتھ ہوں اور ہر جگہ جہاں کہیں تو جائے تیری حفاظت کروں گا اور تجھ کو اِس ملک میں پھر لاؤں گا اور جو مَیں نے تجھ سے کہا ہے جب تک اْسے پورا نہ کر لوں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔
16۔ تب یعقوب جاگ اْٹھا اور کہنے لگا کہ یقیناخداوند اِس جگہ ہے اور مجھے معلوم نہ تھا۔
17۔ اور اْس نے ڈر کر کہا یہ کیسی بھیانک جگہ ہے! سو یہ خدا کے گھر اور آسمان کے آستانہ کے سوا اور کچھ نہ ہو گا۔
18۔ اور یعقوب صبح سویرے اْٹھا اور اْس پتھر کو جسے اْس نے اپنے سرہانے دھرا تھا لے کر ستون کی طرح کھڑا کیا اور اْس کے سِرے پر تیل ڈالا۔
19۔ اور اْس جگہ کا نام بیت ایل رکھا لیکن پہلے اْس بستی کا نام لْوز تھا۔
20۔ اور یعقوب نے منت مانی اور کہا کہ اگر خدا میرے ساتھ رہے اور جو سفر مَیں کر رہا ہوں اور اِس میں میری حفاظت کرے اور مجھے کھانے کو روٹی اور پہننے کو کپڑا تیار رہے۔
21۔اور مَیں اپنے باپ کے گھر سلامت لوٹ آؤں تو خداوند میرا خدا ہو گا۔
10 And Jacob went out from Beer-sheba, and went toward Haran.
11 And he lighted upon a certain place, and tarried there all night, because the sun was set; and he took of the stones of that place, and put them for his pillows, and lay down in that place to sleep.
12 And he dreamed, and behold a ladder set up on the earth, and the top of it reached to heaven: and behold the angels of God ascending and descending on it.
13 And, behold, the Lord stood above it, and said, I am the Lord God of Abraham thy father, and the God of Isaac:
15 And, behold, I am with thee, and will keep thee in all places whither thou goest, and will bring thee again into this land; for I will not leave thee, until I have done that which I have spoken to thee of.
16 And Jacob awaked out of his sleep, and he said, Surely the Lord is in this place; and I knew it not.
17 And he was afraid, and said, How dreadful is this place! this is none other but the house of God, and this is the gate of heaven.
18 And Jacob rose up early in the morning, and took the stone that he had put for his pillows, and set it up for a pillar, and poured oil upon the top of it.
19 And he called the name of that place Beth-el:
20 And Jacob vowed a vow, saying, If God will be with me, and will keep me in this way that I go, and will give me bread to eat, and raiment to put on,
21 So that I come again to my father’s house in peace; then shall the Lord be my God:
1۔ اور یعقوب نے بھی اپنی راہ لی اور خدا کے فرشتے اُسے ملے۔
2۔ اور یعقوب نے اْن کو دیکھ کر کہا کہ یہ خدا کا لشکر ہے۔
3۔ اور یعقوب نے اپنے آگے آگے قاسدوں کو ادوم کے ملک کو جو شعیر کی سر زمین میں ہے اپنے بھائی عیسو کے پاس بھیجا۔
6۔ پس قاصد یعقوب کے پاس لوٹ کر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تیرے بھائی عیسو کے پاس گئے تھے۔ وہ چار سو آدمیوں کو ساتھ لے کر تیری ملاقات کو آرہا ہے۔
24۔ اور یعقوب اکیلا رہ گیا اور پوپھٹنے کے وقت تک ایک شخص وہاں اُس سے کشتی لڑتا رہا۔
25۔ اُس نے دیکھا کہ وہ اُس پر غالب نہیں ہوتا تو اسکی ران کو اندر کی طرف چھوا اور یعقوب کی ران کی نس اُسکے ساتھ کشتی کرنے پر چڑھ گئی۔
26۔ اور اُس نے کہا مجھے جانے دے کیونکہ پوپھٹ چلی۔ یعقوب نے کہا کہ جب تک تُو مجھے برکت نہ دے میں تجھے جانے نہیں دونگا۔
27۔تب اُس نے اُس سے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے جواب دیا یعقوب۔
28۔اُس نے کہا کہ تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہوگا کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب ہوا۔
29۔ تب یعقوب نے اُس سے کہا کہ میں تیری منت کرتا ہوں تو مجھے اپنا نام بتا دے۔ اُس نے کہا کہ تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اور اُس نے اُسے وہاں برکت دی۔
30۔ اور یعقوب نے اُس جگہ کا نام فنی ایل رکھا اور کہا کہ میں نے خدا کو روبرو دیکھا تو بھی میری جان بچی رہی۔
1 And Jacob went on his way, and the angels of God met him.
2 And when Jacob saw them, he said, This is God’s host:
3 And Jacob sent messengers before him to Esau his brother unto the land of Seir, the country of Edom.
6 And the messengers returned to Jacob, saying, We came to thy brother Esau, and also he cometh to meet thee, and four hundred men with him.
7 Then Jacob was greatly afraid and distressed:
24 And Jacob was left alone; and there wrestled a man with him until the breaking of the day.
25 And when he saw that he prevailed not against him, he touched the hollow of his thigh; and the hollow of Jacob’s thigh was out of joint, as he wrestled with him.
26 And he said, Let me go, for the day breaketh. And he said, I will not let thee go, except thou bless me.
27 And he said unto him, What is thy name? And he said, Jacob.
28 And he said, Thy name shall be called no more Jacob, but Israel: for as a prince hast thou power with God and with men, and hast prevailed.
29 And Jacob asked him, and said, Tell me, I pray thee, thy name. And he said, Wherefore is it that thou dost ask after my name? And he blessed him there.
30 And Jacob called the name of the place Peniel: for I have seen God face to face, and my life is preserved.
76۔اْس کلام کے مطابق جو تْو نے اپنے بندوں سے کیاتیری شفقت میری تسلی کا باعث ہو۔
77۔تیری رحمت مجھے نصیب ہو تاکہ مَیں زندہ رہوں۔ کیونکہ تیری شریعت میری خوشنودی ہے۔
80۔ میرا دل تیرے آئین ماننے میں کامل رہے تاکہ میں شرمندگی نہ اْٹھاؤں۔
76 Let, I pray thee, thy merciful kindness be for my comfort, according to thy word unto thy servant.
77 Let thy tender mercies come unto me, that I may live: for thy law is my delight.
80 Let my heart be sound in thy statutes; that I be not ashamed.
9۔کیونکہ ہم خدا کے ساتھ کلام کرنے والے ہیں۔ تم خدا کی کھیتی اور خدا کی عمارت ہو۔
10۔ مَیں نے اْس توفیق کے موافق جو خدا نے مجھے بخشی دانا معمار کی طرح نیو رکھی اور دوسرا اْس پر عمارت اْٹھاتا ہے۔ پس ہر ایک خبردار رہے کہ وہ کیسی عمارت اْٹھاتا ہے۔
11۔کیونکہ سوا اْس نیو کے جو پڑی ہوئی ہے اور وہ یسوع مسیح ہے کوئی شخص دوسری نہیں رکھ سکتا۔
16۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم خدا کے مقدس ہو اور خدا کا روح تم میں بسا ہوا ہے؟
21۔ پس آدمیوں پر کوئی فخر نہ کرے کیونکہ سب چیزیں تمہاری ہیں۔
23۔ اور تم مسیح کے ہو اور مسیح خدا کا ہے۔
9 For we are labourers together with God: ye are God’s husbandry, ye are God’s building.
10 According to the grace of God which is given unto me, as a wise masterbuilder, I have laid the foundation, and another buildeth thereon. But let every man take heed how he buildeth thereupon.
11 For other foundation can no man lay than that is laid, which is Jesus Christ.
16 Know ye not that ye are the temple of God, and that the Spirit of God dwelleth in you?
21 Therefore let no man glory in men. For all things are yours;
23 And ye are Christ’s; and Christ is God’s.
16۔ اور خدا کے مقدِس کو بتوں سے کیا مناسبت ہے؟ کیونکہ ہم زندہ خدا کا مقدِس ہیں۔ چنانچہ خدا نے فرمایا ہے کہ میں اْن میں بسوں گا اور اْن میں چلوں پھروں گا اور میں اْن کا خدا ہوں گا اور وہ میری امت ہوں گے۔
17۔ اِس واسطے خداوند فرماتا ہے کہ اْن میں سے نکل کر الگ رہو اور ناپاک چیز کو نہ چھوؤ تو مَیں تم کو قبول کر لوں گا۔
18۔ اور تمہارا باپ ہوں گا اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہوگے۔ یہ خداوند قادر مطلق کا قول ہے۔
16 And what agreement hath the temple of God with idols? for ye are the temple of the living God; as God hath said, I will dwell in them, and walk in them; and I will be their God, and they shall be my people.
17 Wherefore come out from among them, and be ye separate, saith the Lord, and touch not the unclean thing; and I will receive you,
18 And will be a Father unto you, and ye shall be my sons and daughters, saith the Lord Almighty.
1۔ برادرانہ محبت قائم رہے۔
2۔مسافر پروری سے غافل نہ رہو کیونکہ اسی کی وجہ سے بعض نے بے خبری میں فرشتوں کی مہمانداری کی ہے۔
5۔زر کی دوستی سے خالی رہو اور جو تمہارے پاس ہے اْسی پر قناعت کرو کیونکہ اْس نے خود فرمایا ہے کہ میں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا۔
6۔اس واسطے ہم دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ خداوند میرا مددگار ہے۔
20۔ خدا اطمینان کا چشمہ جو بڑے چرواہے یعنی ہمارے خداوند یسوع مسیح کو ابدی عہد کے خون کے باعث مردوں میں سے زندہ کر کے اٹھا لایا۔
21۔ تم کو ہر نیک بات میں کامل کرے تاکہ تم اْس کی مرضی پوری کرو اور جو کچھ اْس کے نزدیک پسندیدہ ہے یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم میں پیدا کرے جس کی تمجید ابد الا آباد ہوتی رہے۔
1 Let brotherly love continue.
2 Be not forgetful to entertain strangers: for thereby some have entertained angels unawares.
5 Let your conversation be without covetousness; and be content with such things as ye have: for he hath said, I will never leave thee, nor forsake thee.
6 So that we may boldly say, The Lord is my helper, and I will not fear what man shall do unto me.
20 Now the God of peace, that brought again from the dead our Lord Jesus, that great shepherd of the sheep, through the blood of the everlasting covenant,
21 Make you perfect in every good work to do his will, working in you that which is wellpleasing in his sight, through Jesus Christ; to whom be glory for ever and ever. Amen.
خدا کی خاصیتیں انصاف، رحم، حکمت، نیکی وغیر وغیرہ ہیں۔
اصول اور اْس کا خیال ایک ہے، اور وہ ایک خدا، قادر مطلق، ہمہ دانی اور ہمہ جائی ہستی ہے، اور اْس کا سایہ انسان اور کائنات ہے۔ اومنی لاطینی اسمِ صفت سے اخذ کیا گیا ہے جو کْل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پس خدا کْل طاقت یا توانائی، کْل سائنس یا حقیقی علم، ہمہ جائیت کو ملاتا ہے۔
The attributes of God are justice, mercy, wisdom, goodness, and so on.
Principle and its idea is one, and this one is God, omnipotent, omniscient, and omnipresent Being, and His reflection is man and the universe. Omni is adopted from the Latin adjective signifying all. Hence God combines all-power or potency, all-science or true knowledge, all-presence.
خود کی صورت اور شبیہ کے بغیر خدا عدم یا غیر ظاہری عقل ہوتاہے۔ وہ خود کی فطرت کے ثبوت یا گواہی سے مبرا ہوتاہے۔ روحانی انسان خدا کی شبیہ یا خیال ہے، ایسا خیال جو گم ہو سکتا اور نہ ہی اپنے الٰہی اصول سے جدا ہو سکتا ہے۔جب گواہی نے مادی حواس کے سامنے روحانی فہم کو قبول کیا تو رسول نے یہ بیان دیا کہ کوئی اْسے خدا سے، شیریں فہم اور زندگی اور سچائی کی حضوری سے الگ نہیں کر سکتا۔
یہ مادی فہم کی چیزوں کی بنیاد پر قائم جہالت اور جھوٹا عقیدہ ہے جو روحانی خوبصورتی اور اچھائی کو چھپاتا ہے۔ اسے سمجھتے ہوئے پولوس نے کہا، ”خدا کی محبت سے ہم کو نہ موت، نہ زندگی۔۔۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں، نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق جدا کرسکے گی۔“یہ کرسچن سائنس کا عقیدہ ہے: کہ الٰہی محبت اپنے اظہار یا موضوع سے عاری نہیں ہوسکتی، کہ خوشی غم میں تبدیل نہیں ہو سکتی کیونکہ غمی خوشی کی مالک نہیں ہے؛ کہ اچھائی بدی کو کبھی پیدا نہیں کرسکتی؛ کہ مادا کبھی عقل کو پیدا نہیں کر سکتا نہ ہی زندگی کبھی موت کا نتیجہ موت ہو سکتی ہے۔ کامل انسان، خدایعنی اپنے کامل اصول کے ماتحت، گناہ سے پاک اور ابدی ہے۔
God, without the image and likeness of Himself, would be a nonentity, or Mind unexpressed. He would be without a witness or proof of His own nature. Spiritual man is the image or idea of God, an idea which cannot be lost nor separated from its divine Principle. When the evidence before the material senses yielded to spiritual sense, the apostle declared that nothing could alienate him from God, from the sweet sense and presence of Life and Truth.
It is ignorance and false belief, based on a material sense of things, which hide spiritual beauty and goodness. Understanding this, Paul said: "Neither death, nor life, ... nor things present, nor things to come, nor height, nor depth, nor any other creature, shall be able to separate us from the love of God." This is the doctrine of Christian Science: that divine Love cannot be deprived of its manifestation, or object; that joy cannot be turned into sorrow, for sorrow is not the master of joy; that good can never produce evil; that matter can never produce mind nor life result in death. The perfect man — governed by God, his perfect Principle — is sinless and eternal.
خدا، انسان کا الٰہی اصول، اور خدا کی شبیہ پر بناانسان غیر منفک، ہم آہنگ اورابدی ہیں۔ ہستی کی سائنس کاملیت کے اصول کو سجاتی ہے اور لافانیت کو روشنی میں لاتی ہے۔ خدا اور انسان ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ الٰہی سائنس کی ترتیب میں،خدا اور انسان ایک ساتھ رہتے ہیں اور ابدی ہوتے ہیں۔ خدا ولدیت کی عقل ہے اور انسان خدا کی روحانی اولاد ہے۔
God, the divine Principle of man, and man in God's likeness are inseparable, harmonious, and eternal. The Science of being furnishes the rule of perfection, and brings immortality to light. God and man are not the same, but in the order of divine Science, God and man coexist and are eternal. God is the parent Mind, and man is God's spiritual offspring.
ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ انسان کیسے جسم پر حکمرانی کرتا ہے،آیا کہ حفظان صحت یا ادویات پر بھروسہ کرنے سے یا اپنی قوت ارادی کے باعث۔ ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ آیا وہ بیماری اور موت، گناہ اور معافی کی ضرورت پر بھرو سہ کرنے سے حکمرانی کرتے ہیں یا اس بلند سمجھ سے حکمرانی کرتے ہیں کہ الٰہی عقل کامل بناتی ہے، سچائی کے وسیلہ نام نہاد انسانی سوچ ہر عمل کرتی ہے، انسانی سوچ کو تمام تر غلطی کو ترک کرنے کی ہدایت دیتی ہے، تاکہ وہ الٰہی عقل کو ہی واحد عقل اور گناہ، بیماری اور موت سے شفا دینے والا تسلیم کرے۔ بلند روحانی فہم کا یہ مرحلہ انسان کو سدھارے گا جب تک کہ غلطی غائب نہ ہو جائے، اور ایسا کچھ باقی نہیں بچتا جسے ہلاک کیا جا سکے یا سزا دی جا سکے۔
We must learn how mankind govern the body, — whether through faith in hygiene, in drugs, or in will-power. We should learn whether they govern the body through a belief in the necessity of sickness and death, sin and pardon, or govern it from the higher understanding that the divine Mind makes perfect, acts upon the so-called human mind through truth, leads the human mind to relinquish all error, to find the divine Mind to be the only Mind, and the healer of sin, disease, death. This process of higher spiritual understanding improves mankind until error disappears, and nothing is left which deserves to perish or to be punished.
جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔
When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.
روح سے معمور بزرگوں نے سچائی کی آواز سنی، اور انہوں نے خدا کے ساتھ ویسے ہی بات کی جیسے انسان انسانوں کے ساتھ بات کرتا ہے۔
یعقوب تنہا، غلطی کے ساتھ لڑ رہا تھا، زندگی، مواد اور ذہانت کی فانی حس کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا، جیسے کہ یہ سب مادے کے ساتھ اِس کی جھوٹی تسکینوں اور تکالیف کے ساتھ موجود ہوتے ہیں،جب ایک فرشتہ، سچائی اور محبت کی جانب سے ایک پیغام، اْس پر ظاہر ہوا اور اْس نے اْسے، یا اْس کی طاقت کو یا اپنی غلطی کو مارا، جب تک کہ اْس نے اِس کی غیر حقیقت کو نہ دیکھا، اور وہاں ادراک میں آتے ہوئے، سچائی نے الٰہی سائنس کے اِس فنی ایل میں اْسے روحانی قوت بخشی۔
The Soul-inspired patriarchs heard the voice of Truth, and talked with God as consciously as man talks with man.
Jacob was alone, wrestling with error, — struggling with a mortal sense of life, substance, and intelligence as existent in matter with its false pleasures and pains, — when an angel, a message from Truth and Love, appeared to him and smote the sinew, or strength, of his error, till he saw its unreality; and Truth, being thereby understood, gave him spiritual strength in this Peniel of divine Science.
پس یعقوب کی جدوجہد کا نتیجہ نکلا۔ اْس نے روح اور روحانی قوت کے فہم کے ساتھ مادی غلطی کو فتح کیا۔ اس نے اْس آدمی کو بدل کر رکھ دیا۔ اْسے مزید یعقوب نہ کہا گیا، بلکہ اسرائیل، خدا کا شہزادہ، یا خدا کا سپاہی کہا گیا جس نے اچھی لڑائی لڑی تھی۔ اْسے اْن کا باپ بننا تھا، جو نہایت سنجیدہ کوشش سے مادی حواس پر روح کی طاقت کے اظہار کی پیروی کررہے تھے؛ اور زمین کے وہ فرزند جنہوں نے اْس کے نمونے کی پیروی کی وہ اسرائیل کی نسل کہلائے، جب تک مسیحا اْنہیں نیا نام نہ دیتا۔
The result of Jacob's struggle thus appeared. He had conquered material error with the understanding of Spirit and of spiritual power. This changed the man. He was no longer called Jacob, but Israel, — a prince of God, or a soldier of God, who had fought a good fight. He was to become the father of those, who through earnest striving followed his demonstration of the power of Spirit over the material senses; and the children of earth who followed his example were to be called the children of Israel, until the Messiah should rename them.
ترقی تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ فانی انسان کی پختگی ہے، جس کے وسیلہ لافانی کی خاطر فانی بشر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خواہ یہاں یا اس کے بعد، تکالیف یا سائنس کو زندگی اور عقل کے حوالے سے تمام تر فریب نظری کو ختم کر دینا چاہئے، او ر مادی فہم اور خودی کو از سرے نو پیدا کرنا چاہئے۔ انسانیت کو اْس کے اعمال کے ساتھ منسوخ کر دینا چاہئے۔ کوئی بھی نفس پرستی یا گناہ آلود چیز لافانی نہیں ہے۔یہ مادے کی موت نہیں بلکہ جھوٹے مادی فہم اور گناہ کی موت ہی ہے جسے انسان اور زندگی ہم آہنگ، حقیقی اور ابدی ظاہر کرتے ہیں۔
مادے کی نام نہاد لذتیں اور درد نیست ہو جاتے ہیں اور انہیں سچائی کے شعلہ، روحانی فہم، اور ہستی کی حقیقت کے ماتحت چلنا ہوگا۔فانی عقیدے کو غلطی اور گناہ سے چھٹکارہ پانے کے لئے ان میں پائی جانے والی تمام تر تسکین کو ختم کرنا ہوگا۔
فانی عقل مادی حواس کی گواہی کا فیصلہ کرتی ہے، یہاں تک کہ سائنس اس جھوٹی گواہی کو مٹا دیتی ہے۔ ایک بہتر عقیدہ غلطی میں سے نکلا ہوا پہلا قدم ہے، اور اگلا قدم اْٹھانے اور کرسچن سائنس کی صورتحال کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔
Progress is born of experience. It is the ripening of mortal man, through which the mortal is dropped for the immortal.
The so-called pleasures and pains of matter perish, and they must go out under the blaze of Truth, spiritual sense, and the actuality of being. Mortal belief must lose all satisfaction in error and sin in order to part with them.
An improved belief is one step out of error, and aids in taking the next step and in understanding the situation in Christian Science.
غلط عقیدہ سچائی سے مٹ جاتا ہے۔ ثبوت بدل جائے تو وہ چیز غائب ہوجاتی ہے جو اِس غلط عقیدے کے نزدیک پہلے حقیقی معلوم ہوتی تھی، اور انسانی شعور بلندی کی جانب گامزن ہوتا ہے۔ اس طرح ہستی کی حقیقت حاصل ہوتی ہے اور انسان لافانی ثابت ہوتا ہے۔ کسی بھی مادی تصور کے بارے میں واحد حقیقت یہ ہے کہ نہ تو وہ سائنسی ہے اور نہ ہی ابدی، بلکہ وہ تبدیلی اور تحلیل کے تابع ہے۔
Erroneous belief is destroyed by truth. Change the evidence, and that disappears which before seemed real to this false belief, and the human consciousness rises higher. Thus the reality of being is attained and man found to be immortal. The only fact concerning any material concept is, that it is neither scientific nor eternal, but subject to change and dissolution.
یہ جسمانی مادی ذہنیت، عقل کے نام کا غلط استعمال، فانی ہے۔اس لئے انسان فنا ہو جائے گا، جو حقیقی روحانی انسان کے اپنے خدا کے ساتھ ناقابل تسخیر رابطے کی جانب اشارہ ہے جسے یسوع روشنی میں لایا۔
This carnal material mentality, misnamed mind, is mortal. Therefore man would be annihilated, were it not for the spiritual real man's indissoluble connection with his God, which Jesus brought to light.
کرسچن سائنس سارے اسباب کو جسمانی نہیں بلکہ ذہنی قرار دیتی ہے۔یہ جان اور بدن سے خفیہ پردہ ہٹاتی ہے۔ یہ انسان کا خدا کے ساتھ سائنسی تعلق بیان کرتی ہے، ہستی کے ملے جلے ابہام کو جْدا کرتی ہے، اور غلامانہ سوچ کو آزاد کرتی ہے۔الٰہی سائنس میں، کائنات بشمول انسان روحانی، ہم آہنگ اور ابدی ہے۔
Christian Science explains all cause and effect as mental, not physical. It lifts the veil of mystery from Soul and body. It shows the scientific relation of man to God, disentangles the interlaced ambiguities of being, and sets free the imprisoned thought. In divine Science, the universe, including man, is spiritual, harmonious, and eternal.
آئیے ہم اِس عقیدے سے پیچھا چھڑائیں کہ انسان خدا سے الگ ہے اور صرف الٰہی اصول، زندگی اور محبت کی فرمانبرداری کریں۔ یہاں پوری حقیقی روحانی ترقی کے لئے روانگی کا بڑا نقطہ آتا ہے۔
Let us rid ourselves of the belief that man is separated from God, and obey only the divine Principle, Life and Love. Here is the great point of departure for all true spiritual growth.
حقیقی انسان کا سائنس کی بدولت اپنے خالق سے تعلق استوار کرتے ہوئے، بشر کو صرف گناہ سے دور ہونے اور مسیح، یعنی حقیقی انسان اور خدا کے ساتھ اْس کے تعلق کو پانے اور الٰہی فرزندگی کو پہچاننے کے لئے فانی خودی سے نظر ہٹانے کی ضرورت ہے۔
The real man being linked by Science to his Maker, mortals need only turn from sin and lose sight of mortal selfhood to find Christ, the real man and his relation to God, and to recognize the divine sonship.
۔۔۔ انسان خداکا سایہ ہے تو انسان کو اچانک خدا سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذہ سائنس انسان کی وجودیت کے برقرار ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
…man cannot be separated for an instant from God, if man reflects God. Thus Science proves man's existence to be intact.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔