اتوار 15 نومبر ، 2026
اور مجھ کو یقین ہے کہ سب کچھ جو خدا کرتا ہے ہمیشہ کے لئے ہے۔ اِس میں کچھ کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔
“I know that, whatsoever God doeth, it shall be for ever: nothing can be put to it, nor any thing taken from it.”
6۔اِس لئے کہ خدا ہی ہے جس نے فرمایا کہ تاریکی میں سے نور چمکے اور وہی ہمارے دلوں میں چمکا تاکہ خداکے جلال کی پہچان کا نور یسوع مسیح کے چہرے سے جلوہ گر ہو۔
15۔ اِس لئے کہ سب چیزیں تمہارے واسطے ہیں تاکہ بہت سے لوگوں کے سبب سے فضل زیادہ ہوکر خدا کے جلال کے لئے شکر گزاری بھی بڑھائے۔
16۔ اِس لئے ہم ہمت نہیں ہارتے بلکہ گو ہماری ظاہری انسانیت زائل ہوتی جاتی ہے پھر بھی ہماری باطنی انسانیت روز بروز نئی ہوتی جاتی ہے۔
17۔ کیونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مصیبت ہمارے لئے از حد بھاری اور ابدی جلال پیدا کرتی جاتی ہے۔
18۔ جس حال میں کہ ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں مگر اندیکھی چیزیں ابدی ہیں۔
6. For God, who commanded the light to shine out of darkness, hath shined in our hearts, to give the light of the knowledge of the glory of God in the face of Jesus Christ.
15. For all things are for your sakes, that the abundant grace might through the thanksgiving of many redound to the glory of God.
16. For which cause we faint not; but though our outward man perish, yet the inward man is renewed day by day.
17. For our light affliction, which is but for a moment, worketh for us a far more exceeding and eternal weight of glory;
18. While we look not at the things which are seen, but at the things which are not seen: for the things which are seen are temporal; but the things which are not seen are eternal.
درسی وعظ
درسی وعظ
بائبل
13۔ اس لئے خدا وند خدا یوں فرماتا ہے
18۔۔۔۔تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو کیونکہ دیکھو میں یروشلیم کو خوشی اور اُس کے لوگوں کو خرمی بناؤں گا۔
22۔۔۔۔ کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت کے ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُٹھا ئیں گے۔
23۔ اْن کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔
13 Therefore thus saith the Lord God,
18 …be ye glad and rejoice for ever in that which I create: for, behold, I create Jerusalem a rejoicing, and her people a joy.
22 …for as the days of a tree are the days of my people, and mine elect shall long enjoy the work of their hands.
23 They shall not labour in vain, nor bring forth for trouble; for they are the seed of the blessed of the Lord, and their offspring with them.
1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔
1 And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,
18۔اورکسی سردار نے اْس سے یہ سوال کیا کہ اے نیک اْستاد! مَیں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟
19۔ یسوع نے اْس سے کہا تْو مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔
20۔ تْو حکموں کو تو جانتا ہے۔ زنا نہ کر۔ خون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ جھوٹی گواہی نہ دے۔ اور اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کر۔
21۔ اْس نے کہا مَیں نے لڑکپن سے ان سب پر عمل کیا ہے۔
22۔ یسوع نے یہ سْن کر اْس سے کہا ابھی تک تجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اپنا سب کچھ بیچ کر غریبوں میں بانٹ دے تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آکر میرے پیچھے ہو لے۔
23۔ یہ سْن کر وہ بڑا غمگین ہوا کیونکہ بہت دولتمند تھا۔
24۔ یسوع نے اْس کو دیکھ کر کہا کہ دولتمند کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کیسا مشکل ہے!
25کیونکہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔
26۔ سننے والوں نے کہا تو پھر کون نجات پا سکتا ہے؟
27۔ اْس نے کہا جو انسان سے نہیں ہو سکتا وہ خدا سے ہو سکتا ہے۔
28۔ پطرس نے اْس سے کہا دیکھ ہم تو اپنا گھر بار چھوڑ کر تیرے پیچھے ہو لئے ہیں۔
29۔ اْس نے اْن سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی نہیں جس نے گھر یا بیوی یا بھائیوں یا ماں باپ یا بچوں کو خدا کی بادشاہی کی خاطر چھوڑ دیا ہو۔
30۔ اور اِس زمانہ میں کئی گْنا زیادہ نہ پائے اور آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زندگی۔
18 And a certain ruler asked him, saying, Good Master, what shall I do to inherit eternal life?
19 And Jesus said unto him, Why callest thou me good? none is good, save one, that is, God.
20 Thou knowest the commandments, Do not commit adultery, Do not kill, Do not steal, Do not bear false witness, Honour thy father and thy mother.
21 And he said, All these have I kept from my youth up.
22 Now when Jesus heard these things, he said unto him, Yet lackest thou one thing: sell all that thou hast, and distribute unto the poor, and thou shalt have treasure in heaven: and come, follow me.
23 And when he heard this, he was very sorrowful: for he was very rich.
24 And when Jesus saw that he was very sorrowful, he said, How hardly shall they that have riches enter into the kingdom of God!
25 For it is easier for a camel to go through a needle’s eye, than for a rich man to enter into the kingdom of God.
26 And they that heard it said, Who then can be saved?
27 And he said, The things which are impossible with men are possible with God.
28 Then Peter said, Lo, we have left all, and followed thee.
29 And he said unto them, Verily I say unto you, There is no man that hath left house, or parents, or brethren, or wife, or children, for the kingdom of God’s sake,
30 Who shall not receive manifold more in this present time, and in the world to come life everlasting.
24۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو میرا کلام سنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے اور اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔
25۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مردے خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سنیں گے وہ جیئں گے۔
24 Verily, verily, I say unto you, He that heareth my word, and believeth on him that sent me, hath everlasting life, and shall not come into condemnation; but is passed from death unto life.
25 Verily, verily, I say unto you, The hour is coming, and now is, when the dead shall hear the voice of the Son of God: and they that hear shall live.
14۔ اچھا چرواہا مَیں ہوں۔ جس طرح باپ مجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہوں۔
27۔ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔
28۔ اور مَیں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔
29۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دیں ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔
14 I am the good shepherd, and know my sheep, and am known of mine.
27 My sheep hear my voice, and I know them, and they follow me:
28 And I give unto them eternal life; and they shall never perish, neither shall any man pluck them out of my hand.
29 My Father, which gave them me, is greater than all; and no man is able to pluck them out of my Father’s hand.
1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اوراپنی آنکھیں آسمان کی طرف اْٹھا کر کہا اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔
2۔ چنانچہ تْو نے اْسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تْو نے اْسے بخشا ہے اْن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے۔
3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔
22۔ اور وہ جلال جو تْو نے مجھے دیا ہے مَیں نے اْنہیں دیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔
1 These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:
2 As thou hast given him power over all flesh, that he should give eternal life to as many as thou hast given him.
3 And this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.
22 And the glory which thou gavest me I have given them; that they may be one, even as we are one:
50۔ اے بھائیو! میرا مطلب یہ ہے کہ گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارث ہو سکتی ہے۔
51۔ دیکھو میں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔
52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اْٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔
53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔
54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہو گئی۔
50 Now this I say, brethren, that flesh and blood cannot inherit the kingdom of God; neither doth corruption inherit incorruption.
51 Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,
52 In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.
53 For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.
54 So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.
1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارا خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔
2۔ چنانچہ ہم اس میں کراہتے ہیں اور بڑی آرزو رکھتے ہیں کہ اپنے آسمانی گھر سے ملبس ہو جائیں۔
3۔ تاکہ ملبس ہونے کے باعث ننگے نہ پائے جائیں۔
4۔ کیونکہ ہم اس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ لباس اتارنا چاہتے ہیں بلکہ اس پر اور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہو جائے۔
5۔ اور جس نے ہم کو اِس بات کے لئے تیار کیا وہ خدا ہے اور اسی نے ہمیں روح بیعانہ میں دیا۔
6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔
7۔ (کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔)
8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہوکر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔
1 For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.
2 For in this we groan, earnestly desiring to be clothed upon with our house which is from heaven:
3 If so be that being clothed we shall not be found naked.
4 For we that are in this tabernacle do groan, being burdened: not for that we would be unclothed, but clothed upon, that mortality might be swallowed up of life.
5 Now he that hath wrought us for the selfsame thing is God, who also hath given unto us the earnest of the Spirit.
6 Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:
7 (For we walk by faith, not by sight:)
8 We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.
8۔ پس ہمارے خداوند کی گواہی دینے سے۔۔۔ شرم نہ کر بلکہ خدا کی قدرت کے موافق خوشخبری کی خاطر میرے ساتھ دکھ اٹھا۔
9۔ جس نے ہمیں نجات دی اور پاک بلاوے سے بلایا ہمارے کاموں کے موافق نہیں بلکہ اپنے خاص ارادہ اور اْس کے فضل کے موافق جو مسیح یسوع میں ہم پر ازل سے ہوا۔
10۔ مگر اب ہمارے منجی مسیح یسوع کے ظہور سے ظاہر ہوا جس نے موت کو نیست اور زندگی اور بقا کو اْس خوشخبری کے وسیلہ روشن کر دیا۔
8 Be not thou therefore ashamed of the testimony of our Lord, … but be thou partaker of the afflictions of the gospel according to the power of God;
9 Who hath saved us, and called us with an holy calling, not according to our works, but according to his own purpose and grace, which was given us in Christ Jesus before the world began,
10 But is now made manifest by the appearing of our Saviour Jesus Christ, who hath abolished death, and hath brought life and immortality to light through the gospel:
زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔
Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.
۔۔۔ کرسچن سائنس میں حقیقی انسان پر خدا یعنی اچھائی حکومت کرتی ہے نہ کہ بدی، اور اسی لئے وہ فانی نہیں بلکہ لافانی ہے۔
...in Christian Science the true man is governed by God — by good, not evil — and is therefore not a mortal but an immortal.
ہستی کی سائنس انسان اور لافانیت کو روح پر مبنی ظاہر کرتی ہے۔جسمانی حس فانی انسان کو مادے پر مبنی واضح کرتی ہے، اور اِس بنیاد پر جسم کی لافانیت کا نتیجہ نکالتی ہے۔
The Science of being reveals man and immortality as based on Spirit. Physical sense defines mortal man as based on matter, and from this premise infers the mortality of the body.
مَیں نے عمر کو اپنے کھوئے ہوئے دو عناصر، نظر اور دانت، دوبارہ حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ایک پچاسی سالہ خاتون، جسے میں جانتی تھی، اْس کی نظر بحال ہوگئی۔ ایک اور نوے سالہ خاتون کے نئے دانت، سامنے والے دانت، نوکیلے دانت، چوٹی والے دانت اور داڑھ واپس آگئے۔ایک ساٹھ سالہ شخص کو اْس کے اوپر والے اور نیچے والے دانت بغیر خراب ہوئے دوبارہ مل گئے۔
لافانیت، عمر اور فنا پذیری سے مستثنیٰ ہو تے ہوئے، اپنا جلال آپ،یعنی روح کی چمک رکھتی ہے۔غیر فانی مرد اور خواتین روحانی حس کا نمونہ ہوتے ہیں جو کامل عقل سے اور پاکیزگی کے اْن بلند نظریات کی عکاسی کرنے سے بنائے جاتے ہیں جو مادی حس سے بالا تر ہوتے ہیں۔
I have seen age regain two of the elements it had lost, sight and teeth. A woman of eighty-five, whom I knew, had a return of sight. Another woman at ninety had new teeth, incisors, cuspids, bicuspids, and one molar. One man at sixty had retained his full set of upper and lower teeth without a decaying cavity.
Immortality, exempt from age or decay, has a glory of its own, — the radiance of Soul. Immortal men and women are models of spiritual sense, drawn by perfect Mind and reflecting those higher conceptions of loveliness which transcend all material sense.
جوان عمری اور بلوغت کے ایام میں مردوں اور عورتوں کو تاریکی یا اداسی میں ناکام ہونے کی بجائے صحت اور فانیت میں بالغ ہونا چاہئے۔ لافانی عقل، سوچ کی خوبصورت تصویریں مہیا کرتے ہوئے اور فہم کے اْن دشمنوں کو فنا کرتے ہوئے جو ہر روز اِسے قبر کے قریب لے جاتے ہیں، بدن کو مافوق الفطری تازگی اور حْسن کی خوراک دیتی ہے۔
ایک مجسمہ ساز اپنے تصور کو کامل بنانے کے لئے پتھر کو اپنے نمونے میں ڈھالتا ہے۔ہم سب مجسمہ ساز ہیں، جو مختلف اشکال میں کام کرتے ہیں، خیالات کو ڈھالتے اور تراشتے ہیں۔ فانی عقل کے سامنے نمونہ کیا ہے؟ کیا یہ غیر کاملیت، خوشی، دْکھ، گناہ، تکلیف ہے؟ کیا آپ نے فانی نمونے کو قبول کر لیا ہے؟ کیا آپ اِسے دوبارہ جنم دے رہے ہیں؟ توآپ شیطانی بت پرستی اور نفرت انگیز صورتوں کے وسیلہ آسیب زدہ کئے جارہے ہیں۔ کیا آپ غیر کامل نمونے کی ساری مخلوق سے نہیں سنتے؟ دنیا اِسے پکڑے ہوئے ہے اِس سے قبل کہ آپ مسلسل اِس کو دیکھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ اِن نچلے طریقہ ہائے کار کی پیروی کرنے، اپنی زندگی کے کامو ں کو محدود کرنے اور اپنے تجربے میں مادے کے نمونوں کے گوشہ دار خاکے اور بد نمائی کو قبول کر نے کے قابل ہیں۔
اِس کا اعلاج کرنے کے لئے، ہمیں سب سے پہلے درست سمت میں دیکھنا چاہئے اور پھر اِس جانب چلنا چاہئے۔ ہمیں خیالات میں کامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔ ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔
Men and women of riper years and larger lessons ought to ripen into health and immortality, instead of lapsing into darkness or gloom. Immortal Mind feeds the body with supernal freshness and fairness, supplying it with beautiful images of thought and destroying the woes of sense which each day brings to a nearer tomb.
The sculptor turns from the marble to his model in order to perfect his conception. We are all sculptors, working at various forms, moulding and chiseling thought. What is the model before mortal mind? Is it imperfection, joy, sorrow, sin, suffering? Have you accepted the mortal model? Are you reproducing it? Then you are haunted in your work by vicious sculptors and hideous forms. Do you not hear from all mankind of the imperfect model? The world is holding it before your gaze continually. The result is that you are liable to follow those lower patterns, limit your life-work, and adopt into your experience the angular outline and deformity of matter models.
To remedy this, we must first turn our gaze in the right direction, and then walk that way. We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives. Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.
اگر ہم خیالات کو فانی پوشاک میں ترتیب دیتے ہیں تو یہ لافانی فطرت کو ضرور کھو دیتے ہیں۔
اگر ہم بدن کو لذت کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم درد پاتے ہیں، زندگی کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم موت پاتے ہیں، سچائی کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم غلطی پاتے ہیں، روح کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم اس کے مخالف، مادے، کو پاتے ہیں۔ اب اِس عمل کو الٹا کریں۔ بدن سے ہٹ کر سچائی اور محبت، ساری خوشی، ہم آہنگی اور لافانیت کے اصول کو دیکھیں۔ برداشت، اچھائی اور سچائی کو مضبوطی سے تھام لیں تو آپ انہیں اپنے خیالات کے قبضے کے تناسب سے اپنے تجربات میں لائیں گے۔
If we array thought in mortal vestures, it must lose its immortal nature.
If we look to the body for pleasure, we find pain; for Life, we find death; for Truth, we find error; for Spirit, we find its opposite, matter. Now reverse this action. Look away from the body into Truth and Love, the Principle of all happiness, harmony, and immortality. Hold thought steadfastly to the enduring, the good, and the true, and you will bring these into your experience proportionably to their occupancy of your thoughts.
بے گناہ خوشی، زندگی کی کامل ہم آہنگی اور لافانیت، ایک بھی جسمانی تسکین یا درد کے بِنا لامحدود الٰہی خوبصورتی اور اچھائی کی ملکیت رکھتے ہوئے، اصلی اور لازوال انسان تشکیل دیتی ہے، جس کا وجود روحانی ہوتا ہے۔ وجودیت کی یہ حالت سائنسی ہے اور برقرار ہے، یعنی ایسی کاملیت جو محض اْن لوگوں کے لئے قابل فہم ہے جنہیں الٰہی سائنس میں مسیح کی حتمی سمجھ ہے۔ موت وجودیت کی اس حالت کو کبھی تیز نہیں کر سکتی کیونکہ لافانیت کے ظاہر ہونے سے قبل موت پر فتح مند ہونا چاہئے نہ کہ اْس کے سپرد ہونا چاہئے۔
The sinless joy, — the perfect harmony and immortality of Life, possessing unlimited divine beauty and goodness without a single bodily pleasure or pain, — constitutes the only veritable, indestructible man, whose being is spiritual. This state of existence is scientific and intact, — a perfection discernible only by those who have the final understanding of Christ in divine Science. Death can never hasten this state of existence, for death must be overcome, not submitted to, before immortality appears.
انسانی پیدائش، بالیدگی، بلوغت اورزوال اْس گھاس کی مانند ہیں جو سبز پتوں کے ساتھ مٹی میں سے اگتی ہے، تاکہ بعد میں مرجھا ئے اور اپنے آبائی عدم میں لوٹ جائے۔ یہ فانی اظہار عارضی ہے، یہ لافانی ہستی میں کبھی ضم نہیں ہوتا، بلکہ بالاآخر ختم ہو جاتا ہے، اور فانی انسان، روحانی اور ابدی، حقیقی انسان ہی سمجھا جاتا ہے۔
Human birth, growth, maturity, and decay are as the grass springing from the soil with beautiful green blades, afterwards to wither and return to its native nothingness. This mortal seeming is temporal; it never merges into immortal being, but finally disappears, and immortal man, spiritual and eternal, is found to be the real man.
یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔ لہٰذہ یسوع نے تعلیم دی کہ خدا برقرار اور عالمگیر ہے اور یہ کہ انسان پاک اور مقدس ہے۔
Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick. Thus Jesus taught that the kingdom of God is intact, universal, and that man is pure and holy.
زندگی حقیقی ہے، اور موت بھرم ہے۔ یسوع کی راہ میں روح کے حقائق کا ایک اظہار مادی فہم کے تاریک ادراک میں ہم آہنگی اور لافانیت کو حل کرتا ہے۔اس مقتدر لمحے میں انسان کی ترجیح اپنے مالک کے ان الفاظ کو ثابت کرنا ہے: ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ جھوٹے بھروسوں اور مادی ثبوتوں کے خیالات کو ختم کرنے کے لئے، تاکہ شخصی روحانی حقائق سامنے آئیں، یہ ایک بہت بڑا حصول ہے جس کی بدولت ہم غلط کو تلف کریں گے اور سچائی کو جگہ فراہم کریں گے۔ یوں ہم سچائی کی وہ ہیکل یا بدن تعمیر کرتے ہیں، ”جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے“۔
ایک بڑی روحانی حقیقت سامنے لائی جانی چاہئے کہ انسان کامل اور لافانی ہوگا نہیں بلکہ ہے۔ ہمیں وجودیت کے شعور کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے اور جلد یا بدیر، مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ گناہ اور موت پر حاکم ہونا چاہئے۔ جب مادی عقائد کو ترک کیا جاتا ہے اورہستی کے غیر فانی حقائق کو قبول کر لیا جاتا ہے تو انسان کی لافانیت کی شہادت مزید واضح ہو جاتی ہے۔
Life is real, and death is the illusion. A demonstration of the facts of Soul in Jesus' way resolves the dark visions of material sense into harmony and immortality. Man's privilege at this supreme moment is to prove the words of our Master: "If a man keep my saying, he shall never see death." To divest thought of false trusts and material evidences in order that the spiritual facts of being may appear, — this is the great attainment by means of which we shall sweep away the false and give place to the true. Thus we may establish in truth the temple, or body, "whose builder and maker is God."
The great spiritual fact must be brought out that man is, not shall be, perfect and immortal. We must hold forever the consciousness of existence, and sooner or later, through Christ and Christian Science, we must master sin and death. The evidence of man's immortality will become more apparent, as material beliefs are given up and the immortal facts of being are admitted.
ترقی تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ فانی انسان کی پختگی ہے، جس کے وسیلہ لافانی کی خاطر فانی بشر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خواہ یہاں یا اس کے بعد، تکالیف یا سائنس کو زندگی اور عقل کے حوالے سے تمام تر فریب نظری کو ختم کر دینا چاہئے، او ر مادی فہم اور خودی کو از سرے نو پیدا کرنا چاہئے۔ انسانیت کو اْس کے اعمال کے ساتھ منسوخ کر دینا چاہئے۔ کوئی بھی نفس پرستی یا گناہ آلود چیز لافانی نہیں ہے۔یہ مادے کی موت نہیں بلکہ جھوٹے مادی فہم اور گناہ کی موت ہی ہے جسے انسان اور زندگی ہم آہنگ، حقیقی اور ابدی ظاہر کرتے ہیں۔
Progress is born of experience. It is the ripening of mortal man, through which the mortal is dropped for the immortal. Either here or hereafter, suffering or Science must destroy all illusions regarding life and mind, and regenerate material sense and self. The old man with his deeds must be put off. Nothing sensual or sinful is immortal. The death of a false material sense and of sin, not the death of organic matter, is what reveals man and Life, harmonious, real, and eternal.
سائنس اْس لافانی انسان کے جلالی امکانات کو ظاہر کرتی ہے جو ہمیشہ کے لئے فانی حواس کی طرف سے لامحدود ہوتا ہے۔
Science reveals the glorious possibilities of immortal man, forever unlimited by the mortal senses.
روز مرہ کے فرائ
منجاب میری بیکر ایڈ
روز مرہ کی دعا
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔
مقاصد اور اعمال کا ایک اصول
نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔
فرض کے لئے چوکس
اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔
چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔